Surat ul Kausar

Surah: 108

Verse: 3

سورة الکوثر

اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ ٪﴿۳﴾  33

Indeed, your enemy is the one cut off.

یقیناً تیرا دشمن ہی لا وارث اور بے نام و نشان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

For he who hates you, he will be cut off. meaning, `indeed he who hates you, O Muhammad, and he hates what you have come with of guidance, truth, clear proof and manifest light, he is the most cut off, meanest, lowliest person who will not be remembered. Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr and Qatadah all said, "This Ayah was revealed about Al-As bin Wa'il. Whenever the Messenger of Allah would be mentioned (in his presence) he would say, `Leave him, for indeed he is a man who is cut off having no descendants. So when he dies he will not be remembered.' Therefore, Allah revealed this Surah." Shamir bin `Atiyah said, "This Surah was revealed concerning `Uqbah bin Abi Mu`ayt." Ibn `Abbas and `Ikrimah have both said, "This Surah was revealed about Ka`b bin Al-Ashraf and a group of the disbelievers of the Quraysh." Al-Bazzar recorded that Ibn Abbas said, "Ka`b bin Al-Ashraf came to Makkah and the Quraysh said to him, `You are the leader of them (the people). What do you think about this worthless man who is cut off from his people He claims that he is better than us while we are the people of the place of pilgrimage, the people of custodianship (of the Ka`bah), and the people who supply water to the pilgrims.' He replied, `You all are better than him.' So Allah revealed, " إِنَّ شَانِيَكَ هُوَ الاٌّبْتَرُ (For he who hates you, he will be cut off.)" This is how Al-Bazzar recorded this incident and its chain of narration is authentic. It has been reported that Ata' said, "This Surah was revealed about Abu Lahab when a son of the Messenger of Allah died. Abu Lahab went to the idolators and said, `Muhammad has been cut off (i.e., from progeny) tonight.' So concerning this Allah revealed, " إِنَّ شَانِيَكَ هُوَ الاٌّبْتَرُ (For he who hates you, he will be cut off.)" As-Suddi said, "When the male sons of a man died the people used to say, `He has been cut off.' So, when the sons of the Messenger of Allah died they said, `Muhammad has been cut off.' Thus, Allah revealed, " إِنَّ شَانِيَكَ هُوَ الاٌّبْتَرُ (For he who hates you, he will be cut off.)" So they thought in their ignorance that if his sons died, his remembrance would be cut off. Allah forbid! To the contrary, Allah preserved his remembrance for all the world to see, and He obligated all the servants to follow his Law. This will continue for all of time until the Day of Gathering and the coming of the Hereafter. May the blessings of Allah and His peace be upon him forever until the Day of Assembling. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Kawthar, and all praise and blessings are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 ابتر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر ہی اس کی نسل کا خاتمہ ہوجائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابتر کہا، جس پر اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہونگے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بغض وعناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] کفار مکہ کے اخلاف :۔ شانئ۔ شَنأ۔ شناء سے مصدر شَنَاٰنُ اور اسم فاعل شانیئ ہے اور اس سے مراد ایسا دشمن ہے جو بدخواہ بھی ہو اور کینہ پرور بھی۔ یعنی عداوت بھی رکھتا ہو اور بغض بھی اور یہ دشمنی کا تیسرا اور انتہائی درجہ ہے قریش مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایسے ہی دشمن تھے۔ بالخصوص ان کے سردار اور معتبر لوگ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دوسرا بیٹا (جسے طیب بھی کہتے ہیں اور طاہر بھی) بھی فوت ہوگیا تو یہ سب لوگ بہت خوش ہوئے اور تالیاں بجانے لگے اور ایک دوسرے کو مبارک کے طور پر کہنے لگے۔ بتر محمد اور بتر کا لفظ کسی جانور کے دم کاٹنے سے مخصوص ہے اور معنوی لحاظ سے مقطوع یا لاولد کو کہتے ہیں یا جس کا ذکر خیر کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی نرینہ اولاد تو رہی نہیں۔ اس کا معاملہ بس اس کی اپنی زندگی تک ہی محدود ہے۔ اس کے بعد اس کا کوئی نام لیوا نہ رہے گا۔ اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَبْتَرْ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں بلکہ آپ کے دشمن ہیں۔ ان دشمنوں میں سے اکثر تو جنگ بدر میں مارے گئے اور اگر ان کی نسل کہیں بچی بھی ہے تو ان کی اولاد میں کوئی بھی اپنے ایسے اسلاف کا نام لینا اور اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا گوارا تک نہیں کرتا۔ ان کا ذکر خیر کرنا تو بڑی دور کی بات ہے۔ سب لوگ ان پر لعنت ہی بھیجتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو شان و عظمت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر خیر کو جو بقا بخشی ہے وہ لازوال ہے۔ دنیا کے اربوں مسلمان ہر روز کئی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل پر درود بھیجتے ہیں۔ اذانوں اور نمازوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ تاقیامت بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ پھر میدان محشر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو درجات عطا کیے جائیں گے اور مقام محمود عطا کیا جائے گا ان کے ذکر سے قرآن اور حدیث کی کتب بھری پڑی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ان شانئک ھوالابتر :” شانی “” شنئۃ شنئا “ (س ، ف) (بروزن فلس)” وشنئاناً “ (نون کے فتحہ اور سکون کے ساتھ) سے اسم فاعل ہے، اس کا معنی ”’ شمنی رکھنے اولا “ ہے۔ ” الابتر “ جس کی اولاد نہ ہو۔ اصل میں یہ ” بترہ “ سے مشتق ہے، جس کا معنی ہے ” قطعہ “ اس نے اسے کاٹ دیا۔ ” حمار ابتر “ وہ گدھا جس کی دم کٹی ہوئی ہو۔ دم کٹے سانپ کو بھی ” ابتر “ کہتے ہیں۔ (٢)” ھو “ ضمیر لانے کے علاوہ ” الابتر “ پر الف لام لانے سے کلام میں مزید حصر پیدا ہوگیا ، یعنی دشمن ہی لاولد ہے، آپ نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمن کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) اکیلے ہیں، ان کی اولاد نہیں ، مرگئے تو کوئی نام لینے والا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ کے نام لینے والے بیشمار ہوں گے اور قیامت تک رہیں گے۔ کلمہ پڑھتے وقت، اذان میں، اقامت میں نماز میں درد میں غرض آپ کا ذکر ہمیشہ رہے گا۔ آپ کی نسبت پر لوگ فخر کریں گے۔ اولاد بھی بہت ہوگی، مگر آپ کے دشمن کا کوئی نام لیوا نہیں ہوگا۔ اگر ان کی نسل چلی بھی تو اسے اپنے کافر باپ کی طرف منسوب ہونے پر کوئی فخر نہیں ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Enemy of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is Cut Off Verse [ 108:3] إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ‌ (Surely, it is your enemy whose traces are cut off.) The word shani& as used in the original is derived from sha&n and means &one who hates, traducer, insulter&. This verse was revealed in connection with the unbelievers who used to taunt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and referred to him as &abtar&. Most narratives identify the traducer as ` As Ibn Wa&il, others identify him as &Uqbah and yet others identify him as Ka&b Ibn Ashraf. Allah granted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the Kauthar, that is, abundant goodness which includes a multitude of children. How wonderful are the works of Allah! There is no scarcity of lineal children of the holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Furthermore, a Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the spiritual father of his entire Ummah which comprises his spiritual children. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the spiritual father of his entire Ummah till the end of time and as such will have the largest number of spiritual children compared to the Ummahs of the previous Prophets (علیہم السلام) . In this way, the enemy has been rebutted, on the one hand, and, on the other hand, their argument has been rebuffed that it is not the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but his enemies are, &abtar& or cut off. Note Imagine how Allah has raised the name of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and exalted his reputation in every nook and corner of the world since the inception of his prophet-hood till today, and it will continue to be so until the end of time. His blessed name is recited along with Allah&s name five times a day from the minarets. In the Hereafter, he will be granted the (Al-Maqam Al-Mahmud) Praised Station where he will make the Grand Intercession on behalf of the entire progeny of &Adam (علیہ السلام) . On the contrary, ask the world history: Where are the children of ` As Ibn Wa&il? Where are the children of Ka&b Ibn Ashraf? where are the children of &Uqbah, and what happened to their families? Their very own names have been lost to the world. No one cares to remember them. They have become unknown who thought that soon the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) will become unknown. They have left this world and the strings of their lineage have been cut off. Their names have been preserved in Islamic traditions only for purposes of interpretation of relevant verses. فَاعْتَبِرُ‌وا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ‌ |"So, 0 People of insight, take note !|" [ 59:2]. Al-Hamdulillah The Commentary on Surah Al-Kauthar Ends here

ان شانئک ھوالابتر لفظ شانی کے معنے بغض رکھنے والے عیب لگانے والے کے ہیں یہ آیت ان کفار کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابتر مقطوع النسل ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔ اکثر روایات میں عاص بن وائل، بعض میں عقبہ، بعض میں کعب بن اشرف اس کے مصداق ہیں۔ حق تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوثر بیعنی خیر کثیر عطا کی جس میں اولاد کثیر بھی داخل ہے آپ کے لئے اولاد کی کثرت اس لحاظ سے ہے کہ نسبی اولاد بھی آپ کی ماشاء اللہ کچھ کم نہیں اور پیغمبر چونکہ پوری امت کا باپ ہوتا ہے اور پوری امت اس کی اولاد روحانی اور آپ کی امت پچھلے تمام انبیاء کی امتوں سے تعداد میں زیادہ ہوگی ایک طرف تو ان دشمنوں کی بات کو اس طرح خاک میں ملا دیا دوسری طرف یہ بھی فرما دیا کہ جو لوگ آپ کو ابتر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں وہ ہی ا بتر ہیں۔ عبرت :۔ اب غور کیجئے کہ رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر کو حق تعالیٰ نے کیسی رفعت اور عظمت فرمائی کہ آپ کے عہد مبارک سے آج تک پوری دنیا کے چپہ چپہ پر آپ کا نام مبارک پانچ وقت اللہ کے نام کے ساتھ میناروں پر پکارا جاتا ہے اور آخرت میں آپ کو شفاعت کبریٰ کا مقام محمود حاصل ہوگا، اس کے بالمقابل دنیا کی تاریخ سے پوچھئے کہ عاص بن وائل، عقبہ، کب کی اولاد کہاں اور ان کا خاندان کیا ہوا، خود ان کا نام بھی اسلامی روایات سے تفسیر آیات کے ذیل میں محفوظ ہوگی اور نہ دنیا میں آج ان کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں ہے۔ فاعتبروا یا اولی الاصبار

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ شَانِئَكَ ہُوَالْاَبْتَرُ۝ ٣ ۧ شنأ شَنِئْتُهُ : تقذّرته بغضا له . ومنه اشتقّ : أزد شَنُوءَةَ ، وقوله تعالی: لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ [ المائدة/ 8] ، أي : بغضهم، وقرئ : شَنْأَنُ فمن خفّف أراد : بغیض قوم، ومن ثقّل جعله مصدرا، ومنه : إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ [ الکوثر/ 3] . ( ش ن ء ) شنیئۃ ( ف س ) کے معنی بغض کی وجہ سے کسی چیز سے نفرت کرنے کے ہیں ۔ اسی سے أزدشَنُوءَةَ مشتق ہے جو ایک قبیلہ کا نام ہے اور آیت کریمہ : لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ [ المائدة/ 8] لوگوں کی دشمنی ۔ میں شنان کے معنی بغض اور دشمنی کے ہیں ایک قرات میں شنان بسکون نون ہے پس تخفیف ( یعنی سکون نون ) کی صورت میں اسم اور فتح نون کی صورت میں مصدر ہوگا اور اسی سے فرمایا : إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ [ الکوثر/ 3] کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا ۔ بتر البَتَر يقارب ما تقدّم، لکن يستعمل في قطع الذّنب، ثم أجري قطع العقب مجراه . فقیل : فلان أَبْتَر : إذا لم يكن له عقب يخلفه، ورجل أَبْتَر وأَبَاتِر : انقطع ذكره عن الخیر ورجل أَبَاتِر : يقطع رحمه، وقیل علی طریق التشبيه : خطبة بَتْرَاء لما لم يذكر فيها اسم اللہ تعالی. وذلک لقوله عليه السلام : «كلّ أمر لا يبدأ فيه بذکر اللہ فهو أبتر» . وقوله تعالی: إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ [ الکوثر/ 3] أي : المقطوع الذکر، وذلک أنهم زعموا أنّ محمدا صلّى اللہ عليه وسلم ينقطع ذكره إذا انقطع عمره لفقدان نسله، فنبّه تعالیٰ أنّ الذي ينقطع ذكره هو الذي يشنؤه، فأمّا هو فکما وصفه اللہ تعالیٰ بقوله : وَرَفَعْنا لَكَ ذِكْرَكَ [ الشرح/ 4] وذلک لجعله أبا للمؤمنین، وتقييض من يراعيه ويراعي دينه الحق، وإلى هذا المعنی أشار أمير المؤمنین رضي اللہ عنه بقوله : «العلماء باقون ما بقي الدّهر، أعيانهم مفقودة، وآثارهم في القلوب موجودة» هذا في العلماء الذین هم تبّاع النبي عليه الصلاة والسلام، فكيف هو وقد رفع اللہ عزّ وجل ذكره، وجعله خاتم الأنبیاء عليه وعليهم أفضل الصلاة والسلام ؟ ! ( ب ت ر ) البتر ۔ یہ قریبا بتک کے ہم معنی ہے مگر خاص کر دم کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ پھر مجازا قطع نسل کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہی ۔ اور ایتر اس شخص پر بولا جاتا ہے جس کی موت کے بعد اس کا خلف نہ ہو اور ابتریا اباتر وہ جس کا ذکر خیر باقی نہ رہے نیز رجل اباتئر ۔ قاطع رحم ۔ اور جس خطبہ کے شروع میں حمد ثنا نہ ہوا سے بھی مجازا خطبۃ بتراء کہا جاتا ہے چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ۔ کل امر لا یبدء فیہ بذکراللہ فھوا ابتر ہر وہ کام جس کے شروع میں اللہ کا نام نہ لیا جائے ہو ابتر ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ } ( سورة الکوثر 3) میں ابتر کے معنی یہ ہیں کہ تیرے مخالف کا ذکر خیر باقی نہیں رہے گا ۔ جب کفار نے طعنہ دیا کہ محمد کے ساتھ ہی اس کا نام ونشان منقطع ہوجائے گا ۔ کیونکہ اس کی نسل ( اولاد ) نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا کہ تمہارا بد اندیش ہی مقطوع النسل رہے گا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو اللہ تعالیٰ نے وَرَفَعْنا لَكَ ذِكْرَكَ [ الشرح/ 4] کا مقام بخشا ہے کیونکہ جملہ مومنین آپ کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ کے اور آپ کے دین کے محافظ مقرر کردیا ہے ۔ چناچہ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علی نے فرمایا ہے العلماء باقون مابقی الدھر ، اعیانھم مفقودۃ وآثارھم فی القلوب موجود ۃ ۔ علما ، تاقیامت باقی رہیں گے ان کے اجسام مفقود ہوتے جاتے ہیں ۔ مگر ان کے آثار لوگوں کے دلون پر ثبت رہتے ہیں ۔ جب علماء کو یہ فضیلت حاصل ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبعین سے ہیں تو آنحضرت کی شان تو اس سے کہیں بلند سے اور کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رفع ذکر ، ، کا شرف بخشا ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء قرار دیا ہے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افضل الصلاۃ والسلام

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣{ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَالْاَبْـتَرُ ۔ } ” یقینا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دشمن ہی جڑ کٹا ہوگا۔ “ شَانِِیٔ بغض و عداوت رکھنے والے دشمن کو کہتے ہیں۔ اَبْـتَر : بتر سے ہے ‘ یعنی کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ منقطع کردینا۔ اہل عرب دُم کٹے جانور کو ابتر کہتے ہیں۔ عرفِ عام میں اس سے ایسا آدمی مراد لیا جاتا ہے جس کی نرینہ اولاد نہ ہو اور جس کی نسل آگے چلنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ یہ لفظ مشرکین مکہ نے (معاذ اللہ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے استعمال کیا تھا ‘ جس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ (رض) کے بطن سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ اولادپیدا ہوئی : قاسم ‘ پھر زینب ‘ پھر عبداللہ ‘ پھر اُم کلثوم ‘ پھر فاطمہ ‘ پھر رقیہ۔ (رض) اجمعین۔ پہلے قاسم کا انتقال ہوا۔ پھر عبداللہ (جن کا لقب طیب و طاہر ہے) داغِ مفارقت دے گئے۔ اس پر مشرکین نے خوشیاں منائیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دونوں فرزند فوت ہوگئے ہیں اور باقی اولاد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ بھی ہیں بس اپنی زندگی تک ہی ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل آگے چلے گی اور نہ ہی کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیوا ہوگا۔ اس پس منظر میں یہاں ان لوگوں کو سنانے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا نام اور ذکر تو ہم بلند کریں گے ‘ جس کی وجہ سے آپ کے نام لیوا تو اربوں کی تعداد میں ہوں گے ۔ البتہ آپ کے یہ دشمن واقعی ابتر ہوں گے جن کا کوئی نام لیوا نہیں ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 The word shani' as used, in the original is derived from sha 'n, which means the hatred and spite because of which a person may start ill-treating another. At another place in the Qur'an it has been said: "(And O Muslims,) the enmity of any people should not so provoke you as to turn you away from justice." (AI-Ma'idah: 8) . Thus, shani aka implies every such person who blinded by his enmity of the Holy Prophet (upon whom be peace) should bring false accusations against him, slander and defame him and vent his personal spite against him by taunting and scoffing at him in every possible way. 4 Huwa'/ abtar: "He himself is abtar", i.e. though he calls you abtar he in fact himself is abtar. Some explanations of abtar have already been given in the Introduction to the Surah. It is derived from batar which means to cut off, but idiomatically it is used in a comprehensive meaning. In the Hadith, the rak ah of the Prayer which is not coupled with another rak'ah is called butaira', i.e. the lonely rak ah. According to another Hadith "Every piece of work, which is in any way important, is abtar if it is started without the glorification and praise of Allah", implying that it is cut off from the root, It has no stability, and it is doomed to failure. A man who fails to achieve his object is abtar as also the one who is deprived of all means and resources. A person who is left with no hope of any good and success in life is also abtar. A person who has been cut off from his family, brotherhood, associates And helpers is also abtar. The word abtar is also used for the man who has no male child, or whose male child or children have died, for after him there remains no one to remember him and he is lost to posterity . after death. In almost alI these meanings the disbelieving Quraish called the Holy Prophet (upon whom be peace) abtar. At this, Allah said: "O Prophet, not you but your enemies are abtar." This was not merely a "reprisal", but a prophecy out of the most important prophecies of the Qur'an, which literally proved true. when it was made, the people regarded the Holy Prophet as abtar, and no one could imagine how the big chiefs of the Quraish would become abtar, who were famous not only in Makkah but throughout Arabia, who were successful in life, rich in worldly wealth and children, who had their associates and helpers everywhere in the country, who enjoyed intimate relations with all the Arabian tribes, being monopolists in trade and managers of Hajj But not long afterwards the conditions altogether changed. There was a time when on the occasion of the Battle of the Trench (A.H. 5) the Quraish had invaded Madinah with the help of many Arabian and Jewish tribes, and the Holy Prophet being besieged had to resist the enemy by digging a trench around the city. After only three years, in A.H. 8, when he attacked Makkah, the Quraish had no helper and they had to surrender helplessy. After this within a year or so the whole Arabia came under his control, deputations of tribes from all over the country began to visit him to take the oaths of allegiance and his enemies were left utterly helpless and resourceless. Then they were so lost to posterity that even if their children survived, none of them today knows that he is a descendent of Abu Jahl, Abu Lahab, `As bin Wail, or `Uqbah bin Abi Mu`ait, the enemies of lslam, and even if he knows it, he is not prepared to claim that his ancestors were those people. On the contrary, blessings are being invoked on the children of the Holy Prophet (upon whom be peace) throughout the world; millions and millions of Muslims take pride in bearing relationship to him; hundreds of thousands of people regard it as a mark of honour and prestige to have descended not only from him but from his family and even the families of his Companions. Thus, some one is a Sayyid, another an 'Alavi, and `Abbasi, a Hashmi, a Siddiqi, a Faruqi, an `Uthmani, a Zubairi, or an Ansari, but no one is an Abu Jahli or Abu Lahabi. History has proved that not the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) but his enemies were, and are, abtar.

سورة الکوثر حاشیہ نمبر : 3 اصل میں لفظ شَانِئَكَ استعمال ہوا ہے ۔ شانی شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور ایسی عداوت کے ہیں جس کی بنا پر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرنے لگے ۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۔ اور اے مسلمانو! کسی گروہ کی عداوت تمہیں اس زیادتی پر آمادہ نہ کرنے پائے کہ تم انصاف نہ کرو ( المائدہ 8 ) پس شَانِئَكَ سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور عداوت میں ایسا اندھا ہوگیا ہو کہ آپ کو عیب لگاتا ہو ، آپ کے خلاف بدگوئی کرتا ہو ، آپ کی توہین کرتا ہو ، اور آپ پر طرح طرح کی باتیں چھانٹ کر اپنے دل کا بخار نکالتا ہو ۔ سورة الکوثر حاشیہ نمبر : 4 هُوَ الْاَبْتَرُ وہی ابتر ہے فرمایا گیا ہے ، یعنی وہ آپ کو ابتر کہتا ہے ، لیکن حقیقت میں ابتر وہ خود ہے ۔ ابتر کی کچھ تشریح ہم اس سے پہلے اس سورۃ کے دیباچے میں کرچکے ہیں ۔ یہ لفظ بتر سے ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں ۔ مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ حدیث میں نماز کی اس رکعت کو جس کے ساتھ کوئی دوسری رکعت نہ پڑھی جائے بتیراء کہا گیا ہے ، یعنی اکیلی رکعت ۔ ایک اور حدیث میں ہے کل امر ذی بال لا یبدأ فیہ بحمد اللہ فھو ابتر ۔ ہر وہ کام جو کوئی اہمیت رکھتا ہو ، اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ابتر ہے ۔ یعنی اس کی جڑ کٹی ہوئی ہے ، اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہے ، یا اس کا انجام اچھا نہیں ہے ۔ نامراد آدمی کو ابتر کہتے ہیں ۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہوجانے والا بھی ابتر کہلاتا ہے ۔ جس شخص کے لیے کسی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہی ہو اور جس کی کامیابی کی سب امیدیں منقطع ہوگئی ہوں وہ بھی ابتر ہے ، جو آدمی اپنے کنبے برادری اور اعوان و انصار سے کٹ کر اکیلا رہ گیا ہو وہ بھی ابتر ہے ۔ جس آدمی کی کوئی اولاد نرینہ نہ ہو یا مرگئی ہو اس کے لیے بھی ابتر کا لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے اس کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہتا ، اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہوجاتا ہے ۔ قریب قریب ان سب معنوں میں کفار قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے نبی ، ابتر تم نہیں ہو بلکہ تمہارے یہ دشمن ابتر ہیں ۔ یہ محض کوئی جوابی حملہ نہ تھا ، بلکہ درحقیقت یہ قرآن کی بڑی اہم پیشینگوئیوں میں سے ایک پیشینگوئی تھی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی ۔ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اس وقت لوگ حضور ہی کو ابتر سمجھ رہے تھے اور کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہوجائیں گے جو نہ صرف مکہ میں بلکہ پورے عرب میں نامور تھے ، کامیاب تھے ، مال و دولت اور اولاد ہی کی نعمتیں نہیں رکھتے تھے بلکہ سارے ملک میں جگہ جگہ ان کے اعوان و انصار موجود تھے ، تجارت کے اجارہ دار اور حج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام قبائل عرب سے ان کے وسیع تعلقات تھے ۔ لیکن چند سال نہ گزرے تھے کہ حالات بالکل پلٹ گئے ۔ یا تو وہ وقت تھا کہ غزوہ احزاب ( 5ھ ) کے موقع پر قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل کو لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور کو محصور ہوکر شہر کے گرد خندق کھود کر مدافعت کرنی پڑی تھی ، یا تین ہی سال بعد وہ وقت آیا کہ 8 ھ میں جب آپ نے مکہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگار نہ تھا اور انہیں بے بسی کے ساتھ ہتھیار ڈال دینے پڑے ۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر پورا ملک عرب حضور کے ہاتھ میں تھا ، ملک کے گوشے گوشے سے قبائل کے وفود آکر بیعت کر رہے تھے ۔ اور آپ کے دشمن بالکل بے بس اور بے یارومددگار ہوکر رہ گئے تھے ۔ پھر وہ ایسے بے نام و نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو ان میں سے آج کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ ابو جہل یا ابو لہب یا عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط وغیرہ اعدائے اسلام کی اولاد میں سے ہے ، اور جانتا بھی ہو تو کوئی یہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کے اسلاف یہ لوگ تھے ۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آج دنیا بھر میں درود بھیجا جارہا ہے ۔ کروڑوں مسلمانوں کو آپ سے نسبت پر فخر ہے ۔ لاکھوں انسان آپ ہی سے نہیں بلکہ آپ کے خاندان اور آپ کے ساتھیوں کے خاندانوں تک سے انتساب کو باعث شرف سمجھتے ہیں ۔ کوئی سید ہے ، کوئی علوی ہے ، کوئی عباسی ہے ، کوئی ہاشمی ہے ، کوئی صدیقی ہے ، کوئی فاروقی ہے ، کوئی عثمانی ہے ، کوئی زبیری ہے ، اور کوئی انصاری ۔ مگر نام کو بھی کوئی ابو جہلی یا ابو لہبی نہیں پایا جاتا ۔ تاریخ نے ثابت کردیا کہ ابتر حضور نہیں بلکہ آپ کے دشمن ہی تھے اور ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: قرآنِ کریم میں اصل لفظ ’’ابتر‘‘ ہے، اس کے لفظی معنی ہیں: ’’جس کی جڑ کٹی ہوئی ہو‘‘۔ اور عرب کے لوگ اُس شخص کو ابتر کہتے تھے جس کی نسل آگے نہ چلے، یعنی جس کی کوئی نرینہ اولاد نرینہ نہ ہو۔ جب حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے بیٹے کا انتقال ہوا تو آپ کے دُشمنوں نے جن میں عاص بن وائل پیش پیش تھا، آپ کو یہ طعنہ دیا کہ معاذاللہ آپ ابتر ہیں، اور آپ کی نسل نہیں چلے گی، اس کے جواب میں اس آیت میں فرمایا ہے کہ آپ کو تو اﷲ تعالیٰ نے کوثر عطا فرمائی ہے، آپ کے مبارک ذکر اور آپ کے دین کو آگے چلانے والے تو بے شمار ہوں گے، ابتر تو آپ کا دُشمن ہے جس کا مرنے کے بعد نام ونشان بھی نہیں رہے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا تذکرہ اور آپ کی سیرت طیبہ تو الحمدللہ زندہ جاوید ہے، اور طعنے دینے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں، اور اگر کوئی اُن کا ذکر کرتا بھی ہے تو برائی سے کرتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(108:3) ان شانئک ہو الابتر : ان حرف تحقیق، مشبہ بالفعل۔ شانئک مضاف مضاف الیہ مل کر ان کا اسم ۔ ھو تاکید کے لئے ہے ۔ الابتر۔ خبر ان کی۔ یا ھو ضمیر فصل ہے اور الابتر ان کی خبر ہے۔ خبر پر ال اور مبتداء خبر کے درمیان ضمیر فصل کا لانا حصر پر دلالت کرتا ہے ۔ یعنی تمہارا دشمن ہی ابتر ہے تم ابتر نہیں ہو۔ یا ھومبتداء ہے اور الابتر اس کی خبر۔ شانی : شنا (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ بمعنی بغض رکھنے والا۔ نفرت کرنے والا۔ بدخواہ، دشمنی رکھنے والا شانی کی جمع شناء اور مؤنث شانئۃ ہے۔ الابتر : دم کٹا۔ جس کی اولاد نہ ہو۔ جس کا ذکر باقی نہ رہے۔ بتر (باب نصر) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بتر کاٹنا۔ ابتر (اللہ کا کسی کو) بےاولاد کرنا۔ ان شانئک ھو الابتر : تحقیق تمہارا بدخواہ ہی دم بریدہ ہے۔ اس کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی اسکا کوئی پیرو اور نام لیوا دینا میں نہ رہے گا۔ اس کے برعکس آپ کے کروڑوں اربوں پیر و دنیا کو آباد کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا نام بھی بلند کرتے رہیں گے۔ روایات میں ہے کہ آنحضرت کی کوئی نرینہ اولاد چونکہ زندہ نہ رہی تھی اس لئے بعض مشرکین کہا کرتے تھے کہ اس شخص کا کوئی وارث اور نام لویا نہیں رہا۔ انہی کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ خواہ ظاہری نسل اس دشمن کی چلے یا نہ چلے لیکن دنیا میں اس کا ذکر خیر باقی نہیں رہے گا، بخلاف آپ کے کہ قیامت تک آپ کی امت اور آپ کا دین اور آپ کی یاد، نیک نامی، محبت و اعتقاد کے ساتھ باقی رہے گی کہ سب عموم مفہوم کوثر میں داخل ہیں، اگر پسری اولاد کی نسل نہ ہو نہ سہی جو نسل سے مقصود ہے وہ آپ کو حاصل ہے یہاں تک کہ دنیا سے گزر کر آخرت میں بھی، اور دشمن اس سے محروم ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (رح) ٠٠٣﴾ (بےشک آپ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے) ۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ عاص بن وائل (جو کہ معظمہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک دشمن تھا) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ کرتا تھا تو کہتا تھا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑو ان کی آل و اولاد تو ہے نہیں موت کے بعد ان کا ذکر و فکر ختم ہوجائے گا اس پر سورة الکوثر نازل ہوئی اس میں بتادیا کہ آپ کا ذکر اللہ تعالیٰ بہت بڑھائے گا، جو شخص آپ سے دشمنی کرنے والا ہے وہی بےنام و نشان رہ جائے گا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کعب بن اشرف (جو مدینہ منورہ کے رہنے والے یہودیوں میں ایک مالدار شخص تھا) ایک مرتبہ مکہ معظمہ پہنچا اس سے قریش مکہ نے کہا کہ تو سردار آدمی ہے تو اس نو عمر لڑکے کو دیکھ، بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر ہے ہم لوگ حجاج کی خدمت کرتے ہیں انہیں پانی پلاتے ہیں کعبہ شریف کے متولی ہیں (کیا ہم اس سے بہتر نہیں ہیں ؟ ) اس پر کعب بن اشرف نے کہا کہ تم لوگ اس سے بہتر ہو، اس پر آیت کریمہ ﴿اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (رح) ٠٠٣﴾ نازل ہوئی۔ (رواہ البز ارقال ابن کثیر ہو اسناد صحیح) اور حضرت ابن عباس (رض) سے یوں مروی ہے کہ یہ سورت ابو لہب کے بارے میں نازل ہوئی، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صاحبزادہ کی وفات ہوگئی تو ابو لہب مشرکین کے پاس گیا اور کہا کہ ان کی نسل ختم ہوگئی۔ اب ان کا ذکر و فکر کچھ نہیں ہوگا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، آپ کے دشمنوں نے یہ خیال کیا کہ آل اولاد ہی سے انسان کا ذکر اور چرچا باقی رہتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نرینہ اولاد میں سے کوئی باقی نہیں لہٰذا ان کا ذکر تھوڑے ہی سے دن ہے یہ ان لوگوں کی جہالت اور حماقت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر خوب بلند کیا، آسمانوں میں بھی بلایا، فرشتوں میں متعارف کرایا، پوری دنیا میں آپ پر ایمان لانے والے پیدا فرمائے۔ سلام بھیجنا مشروع فرمایا، آپ پر کتاب نازل فرمائی، کروڑوں افراد کو پورے عالم میں آپ کی امت اجابت میں شامل فرمایا، ہر وقت لاکھوں کی تعداد میں آپ پر امت کا صلاۃ وسلام پہنچتا ہے اور دشمنان اسلام بھی آپ کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل (جو سیدہ فاطمہ (رض) سے ہے) لاکھوں کی تعداد میں گزر چکی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اب بھی موجود ہے اور آپ پر ایمان لانے والے کروڑوں گزر چکے ہیں اور کروڑوں موجود ہیں، جن لوگوں نے آپ سے دشمنی رکھی اور یوں کہا کہ ان کا ذکر فکر کچھ نہ رہے گا خود یہ دشمن بےنام و نشان ہوگئے آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں ہے۔ دنیا سے خود بھی گئے نسل بھی ختم ہوگئی۔ فلعنہ اللہ علی من عادی انبیاء اللہ تعالیٰ ۔ لفظ شانیٔ صیغہ اسم فاعل ہے اس کا مصدر شنئان ہے سورة مائدہ میں فرمایا ہے ﴿وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا ﴾ اور لفظ ابتر اسم تفضیل کا صیغہ ہے اس کا مادہ بتر ہے جو کاٹنے کے معنی میں آتا ہے یہاں مبتور کے معنی میں ہے جس کا ذکر منقطع ہوگیا ہو آگے پیچھے کوئی نہ رہا ہو ایسے شخص کو ابتر کہتے ہیں اردو والے اس کو بدتر کے معنی میں لیتے ہیں یہ ان کی وضع ہے عربی میں ابتر کا یہ معنی نہیں ہے۔ سقانا اللہ من حوض نبیہ المجتبیٰ ورسولہ المصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائما ابدا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” ان شانئک “ ایک دفعہ ایک مشرک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باتیں کر رہا تھا جب آپ سے جدا ہوا تو دوسرے مشرکوں نے پوچھا کس سے باتیں کر رہا تھا ؟ بولا، اس ابتر کے ساتھ، اس کا اشارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف تھا۔ کیونکہ آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہیں تھی۔ اس پر یہ آیت نزل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ مقطوع النسل نہیں ہیں۔ بلکہ یہ کفار اس صفت سے موصوف ہیں اور آپ کی روحانی اور جسمانی اولاد قیامت تک دنیا میں موجود رہے گی نیز آپ یہ مسئلہ بیان کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں کو تباہ کردے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) یقینا جو آپ کا دشمن ہے وہی دم بریدہ اور بےنام ونشان ہے کوثر کی تفسیر میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں کیونکہ لفظ خیر کثیر کثرت معنی پر دلالت کرتا ہے مثلاً قرآن عظیم نبوت کتاب حکمت آپ کے متبعین کی کثرت جنت میں حوض کوثر یا نہر کوثر حکمت کو خیر کثیر کہنا یہ قرآن کی تفسیر کے ساتھ ہے۔ ومن یوت الحکمۃ نقد اوتی خیراً کثیراً کتا ب و حکمت کے ساتھ علم شفاعت حوض الموردد، مقام محمود، ادیان باطلہ پر آپ کے دین کا غالب ہونا، فتوحات کی کثرت، دشمنوں کے مقابلے میں نصرت اور مدد بہرحال جیسا ہم کہہ چکے ہیں کہ کوثر کی تفسیر بہت طرح کی گئی ہے اور ہر قسم کی خیر کو شامل ہے مشہور یہی ہے کہ اس سے مراد وہ حوض کوثر ہے جس کا ذکر صحیح حدیث میں آتا ہے اور خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوثر کی تفسیر میں وھوحوض ترد علیہ امتی یوم القیمۃ وارد ہے۔ یہ حوض شاید میدان حشر میں ہوگا اور نہر جنت میں ہوگی اس نہر کا پانی پرنالوں سے حوض میں پڑرہا ہوگا اس لئے جن روایتوں میں نہر کا لفظ ہے وہ بھی صحیح ہے۔ حضرت قاضی عیاض (رح) نے فرمایا حوض کے بارے میں جو احادیث وارد ہیں وہ صحیح ہیں اور حوض پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) نے اپنی بعض تصنیفات میں فرمایا ہے کہ جو قرآن دنیا میں ہمارے پاس موجود ہے عالم مثال میں اس کو حوض کوثر کی شکل عنایت ہوگی۔ (واللہ اعلم) آگے اس عظیم الشان احسان کے مقابلے میں شکر بجا لانے کا حکم ہے۔ (3) بے شک آپ کا دشمن ہے بےنام ونشان یعنی آپ کو جو لوگ ابتر کہتے ہیں ان کے کہنے کال اثر قبول نہ کیجئے آپکو اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر سے نوازا ہے آپ کا نام ہمیشہ باقی رہنے والا ہے آپ کی روحانی اولاد آج بھی دنیا میں بیشمار موجود ہے اور جسمانی اولاد یعنی خاتون محشر کی اولادبھی کثرت موجود ہے لہٰذا آپ کا نام آپکی تعلیم اور آپ کی تہذیب دنیا میں رہنے والی ہے۔ دنیا میں آپ کا ذکر جمیل اور آخرت میں اجرجزیل باقی رہنے والا ہے البتہ آپ کا دشمن دم بریدہ اور بےنام ونشان ہے چناچہ آج دنیا میں نہ کہیں ان کا ذکر ہے نہ ان کا نام ونشان ہے خواہ ان کی اولاد رہی ہو یا نہ رہی ہو لیکن ان کا کوئی نام لینے والا اور ان کا ذکر خیر کہیں نہیں ہے اور ان کو بھلائی کے ساتھ یاد کرنے والا کوئی نہیں۔