| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
تَبَّ |
يَتِبُّ |
تِبَّ/اِتْبِبْ |
تَابّ |
- |
تَبّ/تَبَاب |
اَلتَّبُّ وَالتَّبَابُ (ض) کے معنی مسلسل خسارہ میں رہنے کے ہیں، کہا جاتا ہے تَبًّالَّہٗ (اﷲ اسے خائب و خاسر کرے) تَبَّ لَہٗ وَتَبَّبْتُہٗ کسی سے ’’تَبًّا لَّکَ‘‘ کہنا قرآن پاک میں ہے: (تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ ) (۱۱۱:۱) ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں یعنی وہ ہمیشہ خسارے میں رہے۔ یہی مفہوم (ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ) (۲۲:۱۱) میں پایا جاتا ہے۔ (وَ مَا زَادُوۡہُمۡ غَیۡرَ تَتۡبِیۡبٍ ) (۱۱:۱۰۱) نقصان میں ڈالنے (یعنی تباہ کرنے) کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے۔ (وَ مَا کَیۡدُ فِرۡعَوۡنَ اِلَّا فِیۡ تَبَابٍ ) (۴۰:۳۷) اور فرعون کی تدبیر تو بیکار تھی۔
Surah:11Verse:101 |
ہلاکت کے۔ سوائے بردباری میں
ruin
|