Surat Hood

Surah: 11

Verse: 111

سورة هود

وَ اِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُمۡ رَبُّکَ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱۱﴾

And indeed, each [of the believers and disbelievers] - your Lord will fully compensate them for their deeds. Indeed, He is Acquainted with what they do.

یقیناً ان میں سے ہر ایک جب ان کے روبروجائے گا تو آپ کا رب اسے اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ۔ بیشک وہ جو کر رہے ہیں ان سے وہ باخبر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And verily, to each of them your Lord will repay their works in full. Surely, He is All-Aware of what they do. This means that He is All-Knower of all of their deeds. This includes their honorable deeds and their despicable deeds, their small deeds and their great deeds. There are many different modes of recitation for this verse, yet all of their meanings agree with what we have mentioned. This is similar to Allah's statement, وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ And surely, all - everyone of them will be brought before Us. (36:32)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ ۔۔ :” كُلًّا “ میں تنوین عوض کی ہے، یعنی اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اصل میں تھا ” کُلُّھُمْ “ یا ” کُلُّ ھٰؤُلَاءِ “ (یہ سب لوگ) ” لَمَّا “ کا معنی ” جب “ ہے، یہ حرف شرط ہے جس کی شرط محذوف ہے۔ ” لَيُوَفِّيَنَّهُمْ “ اس کی جزا ہے۔ وہ محذوف شرط ” لَمَّا “ کے معنی کے مطابق نکالی جائے گی، یعنی ” لَمَّا جَاءَ أَجَلُھُمْ “ یعنی بیشک یہ سب لوگ (جب ان کا وقت آئے گا) تو یقیناً انھیں ان کا رب ان کے اعمال کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کے منکر تھے، اس لیے اس جملے میں کئی طرح سے تاکید آئی ہے۔ ” اِنَّ “ ، لام تاکید اور نون ثقیلہ۔ ” لَّمَّا “ کا مابعد حذف کرنے سے بھی ایک ہیبت پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ خود لفظ ” لَّمَّا “ میں وقت کا مفہوم شامل ہے، یعنی جب وہ وقت آئے گا۔ ( ” اِنَّ كُلًّا لَّمَّا “ کی یہ سب سے واضح اور آسان توجیہ ہے) دیکھیے تفسیر الشعراوی۔ تفسیر نسفی میں ہے : ” قَالَ صَاحِبُ الإِْیْجَازِ ” لَمَّا “ فِیْہِ مَعْنَی الظَّرْفِ وَقَدْ دَخَلَ فِی الْکَلاَمِ اخْتِصَارٌ کَأَنَّہُ قِیْلَ ” وَإِنَّ کُلاًّ لَّمَّا بُعِثُوْا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ “ مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، البتہ انھوں نے ” لَمَّا جَاءَ أَجَلُھُمْ “ کے بجائے ” لَمَّا بُعِثُوْا “ محذوف نکالا ہے۔ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ : اس میں اعمال کی جزا پوری پوری دینے کی وجہ بیان کی ہے کہ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، اس لیے عمل نیک ہو یا بد اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّہُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَہُمْ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۝ ١١١ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ وُفِّيَتْ وتَوْفِيَةُ الشیءِ : ذله وَافِياً ، واسْتِيفَاؤُهُ : تناوله وَافِياً. قال تعالی: وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور توفیتہ الشیئ کے معنی بلا کسی قسم کی کمی پورا پورادینے کے ہیں اور استیفاء کے معنی اپنا حق پورا لے لینے کے ۔ قرآن پا ک میں ہے : ۔ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے خبیر والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، ( خ ب ر ) الخبر کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١١) اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کو آپ کا پروردگار ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا، نیکی کا ثواب کے ساتھ اور برائی کا عذاب کے ساتھ وہ خیر وشر ثواب و عذاب سے پوری طرح واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:111) کلا۔ تمام ۔ سارے۔ ہر ایک۔ کلا کا نصب بوجہ عمل ان اور تنوین بعوض مضاف الیہ ہے۔ اسی ان کل المختلفین المؤمنین والکافرین۔ لما۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ (ا) (1) یہ اصل میں لمن ما تھا۔ نون کو میم سے بدلا گیا۔ لمما ہوگیا تین میم جمع ہوگئے پہلے میم کو حذف کیا گیا۔ لما ہوگیا۔ (2) یہ لم سے لم یلم (باب نصر) لما مصدر ہے بمعنی جمع کرنا۔ تنوین کے عوض تخفیف کے لئے الف آگیا۔ لما ہوگیا۔ اس صورت میں معنی ہوگا۔ ان کلا جمیعا۔ (ب) لما میں لام لام قسم ہے۔ ما زائدہ ہے لیوفینھم۔ جواب قسم ۔ اور تقدیر کلام یوں ہے وان جمیعہم واللہ لیوفینھم۔ خدا کی قسم ہے وہ ان سب کو ضرور پورا پورا معاوضہ دیگا پس صدیقین کو ان کی تصدیق و یقین کا بدلہ جنت ملے گا۔ اور مکذبین کو ان کی تکذیب کے بدلہ میں جہنم ملے گی۔ (ج) اکثر قراء نے لما کو مخفف پڑھا ہے۔ ان مخفف پڑھا جائے تو ان نافیہ اور لما تشدید میم کے ساتھ استثنائیہ ہوگا۔ نہیں ہے کوئی مگر تیرا رب اس کے اعمال کا بدلہ ضرور دے گا۔ لیوفینہم۔ میں لام برائے تاکید۔ یوفین مضارع واحد مذکر غائب میں ن ثقیلہ برایء تاکید۔ وفی یوفی توفیۃ (تفعیل) سے وفی مادہ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ضرور ہی ان کو پورا پورا دے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (١١ : ١١١) “ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ ” اس میں اس قدر تاکیدی انداز تعبیر اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی مہلت اور تاخیر کی وج کہ سے پوری پوری جزاء و سزا میں شک نہ کرنے لگے۔ کوئی یہ شک نہ کرے کہ اہل مکہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہے اور اس کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے یہ شرک ہے اور یہ شرکیہ دین اس سے پہلے بھی کئی اقوام نے اختیار کیا ہے۔ یہاں یہ تاکیدی انداز اختیار کرنے کا پس منظر بھی تھا ، اس وقت تحریک اسلامی کے حالات واقعات یہ تھے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کفر ایک معاند قوت کی طرح کھڑے تھے ، وہ رسول اللہ کے راستے کو ہر طرف سے روک رہے تھے ، مسلمان قلیل تعداد میں تھے اور ان پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے ، دعوت کا پھیلاؤ تقریبا منجمد ہوگیا تھا اور خدا کی طرف سے عذاب کا آنا بھی قیامت تک ملتوی ہوگیا تھا۔ مومنین کو ہر طرح کی اذیت دی جا رہی تھی اور ان کے دشمن بظاہر کامیاب جا رہے تھے۔ ایسے حالات میں بعض کمزور قسم کے دل متزلزل ہو سکتے تھے نیز ثابت قدم لوگ بھی بہرحال پریشانی کا شکار ہو سکتے تھے ، لہذا تحریک اسلامی کو اس قسم کی تسلی اور ہمت بندھانے کی ضرورت تھی ، اس سے زیادہ مسلمانوں کے دل کسی اور چیز سے حوصلہ نہیں پاتے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن بتلا دے اور یہ اعلان کر دے کہ بلا شک و بلا ریب و باطل پر ہیں۔ معرکے میں حصہ لیتا ہے اور کس طرح صحابہ کرام کو موقع بموقع نشانات راہ بتلاتا جاتا ہے۔ یہ تاکیدی بیان کہ اللہ کے دشمنوں کا یہ انجام ہو کر رہے گا ، نفس کے اندر قدرتی طور پر یہ بات بٹھاتا ہے کہ سنت الہیہ اس کی مخلوق میں جاری وساری ہے اس کا دین بھی اس کی سنت کے مطابق غالب ہوگا اس کا وعدہ بھی اور اس کی دھمکی بھی سنت الہیہ کے مطابق روبعمل ہوگی ، لہذا جو لوگ اس دین کو قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس دین کی دعوت دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مسنون طریقے کے مطابق دعوت دیتے رہیں جس طرح کہ ان کو حکم دیا گیا ہے ، نہ اس میں کمی کریں ، نہ اس میں زیادتی کریں نہ ظالموں کے سامنے جھکیں ، اگر چہ وہ جبار ہوں ، وہ غیر اللہ کے دین کو قبول نہ کریں ، اگر چہ راستہ طویل ہوجائے ، وہ مشکلات راہ کے لیے تیاریاں کریں اور اس وقت تک صبر کریں جب تک اللہ وہ کام نہیں کرتا جو وہ چاہتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا۔ (وَاِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَھُمْ ) (اور بیشک آپ کا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دے گا) (اِنَّہٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) (بیشک وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے) طاعات اور عاصی کی سب تفصیلات اسے معلوم ہیں۔ اس کے علم سے کسی کا کوئی علم باہر نہیں وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا اور سزا دے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ کے مصاحبین کو خطاب فرمایا (فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ) (سو آپ استقامت پر رہیں) صحیح طور پر قائم رہنے کو استقامت کہا جاتا ہے اور سیدھے راستہ کو (صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمَ ) کہتے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مؤمن بندوں کو اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے بتایا ہے۔ اور اس پر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے متبعین چلتے رہے ہیں صراط مستقیم کو پوری طرح پکڑ لینا اور تمام احکام الٰہیہ کو پوری طرح بجا لانا ادھر ادھر مائل نہ ہونا اور برابر آخر دم تک اس پر چلتے رہنا استقامت ہے اس آیت میں سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے بالکل اسی طرح اہتمام اور پابندی کے ساتھ چلتے رہیں اور ساتھ ہی (وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ) بھی فرمایا کہ جن لوگوں نے شرک وکفر سے توبہ کی ہے اور ایمان کو قبول کیا وہ لوگ بھی استقامت کے ساتھ چلتے رہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو بااستقامت تھے ہی پھر بھی آپ کو اس کا تاکیدی حکم فرما دیا اور آپ کے ساتھیوں کو بھی مامور فرمایا کہ استقامت اختیار کریں ہمیشہ پابندی سے معمولات پر عمل کریں اور منہیات سے بچیں۔ قال صاحب الروح (ص ١٥٣ ج ١٢) وھی کلمۃ جامعۃ لکل ما یتعلق بالعلم والعمل وسائر الاخلاق فتشمل العقائد والاعمال المشترکۃ بینہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وبین سائر المومنین والامور الخاصۃ بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) من تبلیغ الاحکام والقیام بوظائف النبوۃ و تحمل اعباء الرسالۃ وغیر ذلک۔ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یہ استقامت کا لفظ علم وعمل اور اخلاق کے تمام متعلقات کو جامع ہے پس یہ عقائد اور اعمال جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مؤمنین میں مشترک ہیں ان کو بھی شامل ہے اور احکام کی تبلیغ اور نبوت کے وظائف اور رسالت کی ذمہ داریوں جیسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخصوص امور کو بھی شامل ہے) درحقیقت استقامت بہت بڑی چیز ہے اور کام بھی سخت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف جو لوگ بڑھتے ہیں اور استقامت کو چاہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوجاتی ہے ہر مؤمن بندہ کو اس کے لئے فکر مند رہنا چاہئے۔ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے دین اسلام سے متعلق کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ مجھے آپ کے بعد کسی اور سے دریافت کرنا نہ پڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) کہ تو آمنت باللہ کہہ دے (یعنی اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دے) پھر اپنی اس بات پر استقامت رکھ یعنی اس پر مضبوطی کے ساتھ جمارہ اور اسلام کے تقاضوں کو پورا کرتا رہ (رواہ مسلم) ۔ سوال بھی مختصر تھا اور جواب بھی مختصر ‘ لیکن اختصار کے ساتھ اس میں سارا دین بیان فرما دیا۔ در منثور (ص ٣٥١ ج ٣) میں ہے کہ حضرت حسن نے بیان فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شمّروا شمّروا (تیار ہوجاؤ تیار ہوجاؤ) نیز حضرت حسن نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد ہنستے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔ سنن ترمذی میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بوڑھے ہوگئے (یعنی آپ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے) آپ نے فرمایا سورة ہود اور سورة واقعہ اور سورة والمرسلات اور سورة عم یتساء لون اور سورة اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٥٨) ان سورتوں میں قیامت کے احوال مذکور ہیں۔ ان احوال کی فکر مندی نے آپ کو اتنا متاثر کیا۔ روح المعانی میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس آیت سے زیادہ شدید کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ بعض اکابر سے اس سلسلہ میں ایک خواب بھی نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا ہے کہ مجھے سورة ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا سورة ہود میں ایسی کون سی بات ہے جس کی وجہ سے آپ بوڑھے ہوگئے آپ نے فرمایا اس میں جو استقامت کا حکم ہے اس نے مجھے بوڑھا کردیا (راجع حاشیۃ المشکوٰۃ) یہ خواب اس کے معارض نہیں ہے کہ سورة ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں میں جو قیامت کے دن کے احوال واھوال مذکور ہیں ان کی وجہ سے بڑھاپا آگیا کیونکہ وہ سب امور اور امر بالاستقامت سب بڑھاپے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خشیت الٰہی کا غلبہ تھا استقامت کے باوجود آپ کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے استقامت کا حکم دیا ہے وہ پوری نہیں ہوئی اس فکر مندی نے آپ کی صحت کو متاثر کردیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

92: یہ تخویف اخروی ہے۔ اس کی دو ترکیبیں ہیں۔ (1) کَلَّا اسم اِنّ اور لما کی شرط محذوف ہے ای یبعثھم اور لَیُوَفِّیَنَّھُمْ جزا ہے اور شرط و جزا مجموعہ اِنَّ کی خبر ہے اور مطلب یہ ہے کہ بیشک جب ہر ایک کو اللہ اٹھائے گا تو ان کو پوری پوری جزا دے گا۔ (2) لَیُوَفِّیَنَّھُمْ شرط اور اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ اس کی جزا ہے اور مجموعہ شرط و جزا اِنَّ کی خبر ہے یعنی بیشک ہر ایک کو جب اللہ جزا دے گا تو وہ ان کے اعمال سے خبردار ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 1 1 اور بیشک وقت آنے پر ان سب کو آپ کا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلے دے گا بلاشبہ خدا تعالیٰ ان کے سب اعمال سے باخبر ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں یعنی جب سب اعمال کا علم ہے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے تو بدلہ بھی سب ہی کا ملنا ہے۔