Surat Hood

Surah: 11

Verse: 112

سورة هود

فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ وَ مَنۡ تَابَ مَعَکَ وَ لَا تَطۡغَوۡا ؕ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱۲﴾

So remain on a right course as you have been commanded, [you] and those who have turned back with you [to Allah ], and do not transgress. Indeed, He is Seeing of what you do.

پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں ، خبردار تم حد سے نہ بڑھنا ، اللہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to Stand Firm and Straight Allah says; فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلاَ تَطْغَوْاْ ... So stand (ask Allah to make) you firm and straight as you are commanded and those who turn in repentance with you, and transgress not. Allah, the Exalted, commands His Messenger and His believing servants to be firm and to always be upright. This is of the greatest aid for gaining victory over the enemy and confronting the opposition. Allah also forbids transgression, which is to exceed the bounds (of what is allowed). Verily, transgression causes destruction to its practitioner, even if the transgression was directed against a polytheist. ... إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ Verily, He is All-Seer of what you do. Allah informs that He is All-Seer of the actions of His servants. He is not unaware of anything and nothing is hidden from Him. Concerning Allah's statement,

استقامت کی ہدایت استقامت اور سیدھی راہ پر دوام ، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے ۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے ۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو ۔ پرودگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو ۔ شرک کی طرف نہ جھکو ۔ مشرکین کے اعمال پر رضامندی کا اظہار نہ کرو ۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو ۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی ۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو ۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

112۔ 1 اس آیت میں نبی اور اہل ایمان کو ایک تو استقامت کی تلقین کی جا رہی ہے، جو دشمن کے مقابلے کے لئے ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ دوسرے حد سے بڑھ جانے سے روکا گیا ہے، جو اہل ایمان کی اخلاقی قوت اور رفعت کردار کے لئے بہت ضروری ہے۔ حتٰی کہ یہ تجاوز، دشمن کے ساتھ معاملہ کرتے وقت بھی جائز نہیں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٤] یعنی آپ خود بھی اور آپ کے متبعین بھی مخالفین کی باتوں کی قطعاً پروا نہ کریں اور اللہ کے حکم بجالانے کے لیے مضبوطی سے ڈٹ جائیں اور اس کی قائم کردہ حدود کا پورا پورا خیال رکھیں، ان سے تجاوز نہ کریں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایک ایک فرد سے اور تمہارے تمام تر اعمال سے پوری طرح خبردار ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكًَ : ” فَاسْتَقِمْ “ میں سین اور تاء کا اضافہ یا تو طلب کے لیے ہے، معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح سیدھا اور قائم رہنے کی درخواست کرتا رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اور یہ اضافہ مبالغے اور تاکید کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ قرطبی نے فرمایا، استقامت دائیں یا بائیں طرف جائے بغیر ایک طرف کو سیدھے چلتے چلے جانا ہے۔ یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے۔ پہلا معنی بھی درست ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ہی ہم ہر رکعت میں صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔ استقامت کا معنی باطل کے دونوں کناروں افراط اور تفریط (زیادتی اور کمی) سے بچ کر ان کے عین درمیان سیدھا رہنا ہے۔ یہ نہایت مشکل کام ہے۔ پہلے تو ہر وقت اس کا خیال رکھنا ہی مشکل ہے کہ عین صحیح راستہ کیا ہے ؟ پھر اس پر قائم رہنا اس سے بھی مشکل ہے۔ رازی نے اسے ایک مثال سے سمجھایا ہے کہ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان ایک جگہ ہے۔ اس کا معلوم کرنا اور ہر وقت اس کا خیال رکھنا کس قدر مشکل ہوگا۔ اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا تھا : ( شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ ) [ ترمذی : ٣٢٩٧] ” مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔ “ اس کا سبب انبیاء ( علیہ السلام) کی قوموں پر عذاب کے واقعات کے بجائے یہ حکم ہے : (فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ ) ” فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ “ سے معلوم ہوا کہ سیدھا راستہ جس پر خوب ثابت رہنے کا حکم ہے، صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی فرمایا۔ یہاں استقامت کا حکم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان تمام لوگوں کو ہے جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ اہل ایمان میں داخل ہوئے، مگر سب کو کس چیز پر استقامت کا حکم ہے، صرف اس پر جسے ” فاستقم “ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یعنی صرف اس پر جس کا حکم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ کی طرف سے امر صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہوا ہے، آپ کے سوا ابوبکر (رض) سے لے کر امت کے آخری شخص تک ایک بھی شخص ایسا نہیں جو مامور من اللہ ہو اور جسے وحی کے ذریعے سے حکم ملتا ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کی رائے اللہ کا حکم یا دین ہو، جس پر امت کو قائم رہنے کا حکم ہو۔ اس سے تمام تقلیدی گروہوں کا استقامت سے ہٹ جانا ثابت ہوا۔ نجات چاہتے ہیں تو تمام لوگوں کی رائے، قیاس اور تقلیدی گروہ بندی چھوڑ کر صرف کتاب و سنت کو لازم پکڑنا ہوگا۔ استقامت (اللہ کے حکم پر پوری طرح قائم رہنا) ایک نہایت جامع لفظ ہے، جس میں پوری شریعت آجاتی ہے۔ عقائد میں اللہ کی صفات پر اس طرح ایمان جس طرح اس نے حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نہ کسی صفت کا انکار کرنا (تعطیل) ، نہ اسے مخلوق کی صفات جیسا سمجھنا (تشبیہ) بلکہ جیسا اللہ کی شان کے لائق ہے۔ اعمال میں نہ کسی حکم پر عمل چھوڑنا (نافرمانی) اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے بڑھنا یا آپ سے الگ راستہ نکالنا (رہبانیت اور بدعت) ۔ اخلاق میں، مثلاً نہ بخل کرنا نہ بےجا خرچ کرنا۔ غرض ہر چیز میں عین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحیح راستہ معلوم کرکے اس پر قدم بہ قدم چلنا استقامت ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے ؟ فرمایا : ( قُلْ آمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) ” کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر خوب ثابت قدم رہ۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام : ٣٨ ] استقامت کے اجر اور فضیلت کے لیے دیکھیے سورة حٰم السجدہ (٣٠) اور احقاف ( ١٣) ۔ وَلَا تَطْغَوْا : ” طَغٰی یَطْغَی طُغْیَانًا “ حد سے بڑھنا، یعنی شریعت کی اطاعت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو حدیں مقرر کردی ہیں اپنے آپ کو انھی کے اندر رکھو، ان سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کرو۔ زندگی کے کسی معاملے میں بھی ان سے تجاوز حرام ہے۔ انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے بارے میں پوچھ رہے تھے، جب انھیں بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے : ( وَأَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَدْ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ أَحَدُھُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّيْ أُصَلِّي اللَّیْلَ أَبَدًا، وَ قَالَ آخَرُ أَنَا أَصُوْمُ الدَّھْرَ وَلاَ أُفْطِرُ ، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ إِلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَ کَذَا ؟ أَمَا وَاللّٰہِ ! إِنِّيْ لَأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَتْقَاکُمْ لَہٗ لٰکِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ ، وَ أُصَلِّيْ وَأَرْقُدُ ، وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ ) [ بخاری، النکاح، باب الترغیب في النکاح : ٥٠٦٣ ] ” ہماری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا نسبت ؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پہلے پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں۔ “ ان میں سے ایک نے کہا : ” میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔ “ دوسرے نے کہا : ” میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔ “ تیسرے نے کہا : ” میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔ “ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو آپ نے فرمایا : ” تم لوگوں نے اس اس طرح کہا ہے ؟ یاد رکھو، اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ کی خشیت رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں، لیکن میں تو روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو شخص میری سنت (میرے طریقے) سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔ “ رہے روزانہ ایک ہزار رکعتیں پڑھنے والے، چالیس سال تک عشاء اور فجر ایک وضو سے پڑھنے والے، بارہ سال بھوکے جنگل میں عبادت کرنے والے حضرات، تو یا تو صاف ان پر جھوٹ باندھا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کے بس کی بات ہی نہیں، یا پھر وہ اسی طغیانی کا شکار تھے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ (نعوذ باللہ) اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ : یعنی استقامت اختیار کرو یا طغیانی، اللہ تعالیٰ تمہارا عمل سب دیکھ رہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Events relating to past prophets and their peoples, from Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to Sayyidna Musa, have been mentioned in Surah Hud in a fair enough order and detail with many wise counsels, injunctions and directives. At the end of the description of these events, it is by ad-dressing the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم that his entire community has been exhorted to draw their essential lessons from them. It was said: ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَ‌ىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (That is a part of the stories of the towns that We narrate to you. Some of them are standing, and (some) harvested - 100). It means that some of the habitations that were visited by Divine punishment still have their ruins standing while some others have been erased like harvested fields with no signs of what was there in the past. After that it was said that Allah did not wrong them, rather, they had wronged themselves (101, 102) in that they abandoned their creator and sustainer and took to idols and other things as their gods. Finally, when the Divine punishment came, their self-made gods did not come to their rescue in any way. The lesson to learn was that the grip of Al¬lah is painful and severe. When He seizes heedless wrongdoers doing what they do, this is what happens invariably. Then, to turn them round to the concern of the Hereafter, it was said (103-105) that these events carry in them great lessons and signs for those who fear the punishment of the Hereafter, a day when all hu¬man beings will be gathered together, with everyone present there. That will be a day of such awe that no one present there shall dare utter a word without Divine permission. Six verses later, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was addressed again by saying: فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْ‌تَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‌ So, stand firm - as you have been commanded - you, and those who have repented [ from kufr and are ] with you, and do not cross the limits. Surely, He is watchful of what you do - 112. The Sense of Istiqimah (Standing Firm): Some related problems and their solutions Istiqamah means to stand straight without the least tilt one way or the other (hence expressed in English as straightforwardness, straightness, directness, rectitude etc.) As obvious, it is not something easy to do. If we were dealing with a vertical object cast in iron, rock or some other material, our expert engineers could make it stand straight at the very outset in a way that it stands on perfect right angles from all sides without the least tilt on any side. But, having a moving object stand straight at all times and under all conditions in this perfect state is certainly something extremely difficult. For discerning people, this is no secret. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and all Muslims have been com¬manded in this verse that they should stand firm under all conditions in everything they do. Istiqamah is a small word but in its sense it extends to many areas of application in a very unusual manner. The very meaning of this act of standing firm is that one has to move straight-forwardly, as commanded by Allah, on the straight path identified by Him, remaining within the limits set by Him. This has to be in all matters of beliefs, acts of worship, personal and collective transac¬tions, morals, social dealings, economic pursuits inclusive of all chan¬nels of income and expenditure. In the event, there occurs the slightest tilt, or decrease or increase, or shortcoming or excess, under any condi¬tion, and in any deed, in any of these areas of activity, Istiqamah be-comes the first casualty. Errors in thinking and practice that show up around us are an out-come of this deviation from the command to stand firm. When people do not stand firm in beliefs (` aqa’ id), they start with self-invented prac¬tices in religion (bid&at) and end up into the extremes of kufr (disbelief) and shirk (associating others with Allah). The principles of Allah&s Oneness (Tauhid) and His Being (Dhat) and Attributes (Sifat) conveyed to us by the Holy Prophet u are moderate and sound. People who commit any act of excess and deficiency or addition and deletion in them - even if they may be doing so with good intentions on their part - shall be considered astray and in error. As for those who belittle and lessen the limits set for having regard and love for the blessed prophets, everyone knows that they are astray and audacious. Similar¬ly, those who commit the excess of assigning a prophet proprietary rights in Divine attributes and powers also cross those limits and fall into an error of this nature. The Jews and the Christians lost them-selves into this error. The methods of worshipping Allah and seeking nearness to Him determined by the Glorious Qur&an, and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) are great benchmarks. Any slicing, undercutting or shortcoming in these drags one down from the desired level of standing firm and, similarly, any addition to these from one&s own side ruins one&s chances of standing firm by his indulgence in self-innovated ways in established religion. Unfortunately, such a person honestly thinks that he is pleasing Allah while, in fact, it is precisely the very cause of His displeasure. Therefore, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has very emphatically prohibited his community from indulging in self-innovated ways in established religion (bid&at and muhdathat) and has declared that to be acute error and straying. Therefore, before one does something as an act of worship (` ibadah) for the pleasure of Allah and His Rasul (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he must first investigate and ensure fully as to the nature of his action. He must find out whether or not what he is going to do stands proved from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his noble Sahabah in the same state and form. If it does not, let him not waste his good time and energy in this pursuit. Similarly, there are matters relating to transactions, morals and social dealings. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has followed the princi¬ples given by the Qur&an in his practical teachings through which he has marked out a moderate and sound way of conducting ourselves in our lives. It has provided the Muslims with a moderate and straight course of action in the matters of friendship, enmity, softness and strictness, anger and forbearance, miserliness and generosity, econom¬ic activity and monasticism, trust in Allah and use of possible material means, finding what is necessary and relying on the Prime Mover of all causes. These are different things, yet they have been fused into one, a straight path of moderation, and a virtual gift to Muslims not to be found elsewhere in the whole world. So, the key is to act in accor¬dance with these teachings and become perfect human beings. When people do not stand firm and tilt one way or the other, the society goes bad inevitably. In short, the concept of standing firm is comprehensive. It covers all parts and pillars of religion. When acted upon correctly, it becomes its eloquent demonstration. Sufyan ibn ` Abdullah Thaqafi asked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ` please tell me something so comprehensive about Islam that I need not ask anyone anything after you.& He said, قُل اٰمَنتُ بِاللہِ ثُمَّ استقِم : Say: I believe in Allah. Then, stand firm on it.& (Reported by Muslim, as quoted by al Qurtubi) ` Uthman ibn ` Abdullah al-Azdi said that once he went to the famous Sahabi and the commentator, Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) and requested him for some words of advice. He said, علیکَ بِتَقوٰی اللہِ وَ الاِستِقَامَۃِ اِتَّبِع والا تبتَدِع & (Reported by a1-Darimi in his Musnad, as quoted by al-Qurtubi). It means that he should make the fear of Allah essential for him, and also that he should stand firm in his faith. The method of doing so was to follow the percepts of the Shari` ah in all religious matters and not to invent and introduce any bid&ah in it from his own side. Out of the many tough jobs handled in this world, the toughest is nothing but to stand firm. Therefore, Sufi authorities have said that standing firm is a station much superior to the working of miracles (karamah). It means that a person who is holding on firmly to the as¬signments of his religion is a saint in his own right - even though, no miracle has issued forth from him throughout his life. Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) ، said that no verse revealed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the entire Qur&an was harder and more trying than this (112). And he said that once the Companions no¬ticing some gray strands of hair in his blessed beard sorrowfully re-marked, ` old age is approaching you much earlier.& Thereupon, he said, ` Surah Hud has made me old.& The events of severe punishments that came upon past communities as described in Surah Hud could also be the reason for it, but Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) said that this verse alone is its reason. Tafsir al-Qurtubi reports from Abu ` Ali Sirriy that he, on seeing the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in a dream asked him, ` have you said some-thing like |"Surah Hud has made me old|"?& He said, ` yes.& Abu ` Ali asked again, ` had the subject of punishments that came upon the peoples of the past prophets made you old?& He said, ` no, in fact, this saying of Allah Ta` ala did: فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْ‌تَ (So, stand firm - as you have been commanded - 112) &. As for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) it is obvious that he had graced this world as the blessed substantiation of the perfect universal man. Standing firm was his natural habit. But then, why was it that he felt its weight to be so conspicuous and telling upon him? Perhaps, it was because the verse did not ask him to stand firm in an absolute sense, instead, asked him that this act of standing firm should be as commanded by Allah. How overwhelming is the fear and awe prophets have of their creator and master is well recognized. It must have been the effect of this fear and awe that, despite having his perfect stance of firmness, he was still concerned whether or not he had been able to come up with the kind of firmness and rectitude expected by his mas¬ter, the most exalted Allah. And it is also possible that he was not that concerned about his personal stance of firmness, because he, by the grace of Allah, had it in him. But, there was something else to it. In this verse, the command given to him was also given to the entire Muslim Ummah. So, it was his realization that his Ummah may find it difficult to stand firm as commanded that made him sad. After the command to stand firm, it was said: وَلَا تَطْغَوْا is (and do not cross the limits). This word is a derivation from the verbal noun: طغیان (tughy an) which means to cross limits, and which is the opposite of standing firm. It will be noticed that the positive statement to stand firm in the verse has not been considered sufficient, rather, its nega¬tive aspect, that of its prohibition, was clarified expressly. This estab¬lishes the sense of the verse: ` do not cross the limits set by Allah and His Rasul - in beliefs, acts of worship, transactions, morals etc. - for it was the outlet of all disorder and corruption in material and religious life.

خلاصہ تفسیر جس طرح کہ آپ کو حکم ہوا ہے ( راہ دین پر) مستقیم رہیے اور وہ لوگ بھی (مستقیم رہیں) جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ ہیں اور دائرہ (دین) سے ذرا مت نکلو یقینًا وہ تم سب کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے اور ( اے مسلمانو ! ان) ظالموں کی طرف (یا جو ان کی مثل ہوں ان کی طرف دلی دوستی سے یا اعمال و احوال میں مشارکت و مشابہت سے) مت جھکو، کبھی تم کو دوزخ کی آگ لگ جاوے اور ( اس وقت) خدا کے سوا تمہارا کوئی رفاقت کرنے والا نہ ہو پھر تمہاری حمایت کسی طرف سے بھی نہ ہو ( کیونکہ رفاقت تو حمایت سے سہل ہے جب رفاقت کرنے والا بھی کوئی نہیں تو حمایت کرنے والا کون ہوتا ) ۔ معارف و مسائل سورة ہود میں انبیاء سابقین اور ان کی قوموں کے واقعات نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک خاصی ترتیب و تفصیل سے ذکر کئے گئے ہیں جن میں سینکڑوں مواعظ و حکم اور احکام و ہدایات ہیں، ان واقعات کے ختم پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرکے امت محمدیہ کو ان سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی، فرمایا (آیت) ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ، یعنی یہ ہیں پہلے شہروں اور بستیوں کے واقعات جو ہم نے آپ کو سنائے ہیں، یہ بستیاں جن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب آئے ان میں سے بعض کے تو ابھی کچھ عمارات یا کھنڈرات موجود ہیں اور بعض بستیاں ایسی کردی گئی ہیں جیسے کھیتی کاٹنے کے بعد زمین ہموار کردی جائے پچھلی کھیتی کا نشان تک نہیں رہتا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کو چھوڑ کر بتوں اور دوسری چیزوں کو اپنا خدا بنا بیٹھے، جس کا انجام یہ ہوا کہ جب خدا تعالیٰ کا عذاب آیا تو ان خود ساختہ خداؤں نے ان کی کوئی مدد نہ کی، اور اللہ تعالیٰ جب بستیوں کو عذاب میں پکڑتے ہیں تو ان کی گرفت ایسی ہی سخت اور درد ناک ہوا کرتی ہے۔ اس کے بعد ان کو آخرت کی فکر میں مشغول کرنے کے لئے فرمایا کہ ان واقعات میں ان لوگوں کیلئے بڑی عبرت اور نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں، جس دن تمام اولاد آدم ایک جگہ جمع اور موجود ہوگی، اس دن کا حال یہ ہوگا کہ کسی شخص کی مجال نہ ہوگی کہ بغیر اجازت خداوندی ایک حرف بھی زبان سے بول سکے۔ اس کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکرر خطاب کرکے ارشاد فرمایا (آیت) فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۭ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ، یعنی آپ دین کے راستہ پر اسی طرح مستقیم رہے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی مستقیم رہیں جو کفر سے توبہ کرکے آپ کے ساتھ ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود سے نہ نکلو کیونکہ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔ استقامت کا مفہوم اور اہم فوائد و مسائل : استقامت کے معنی سیدھا کھڑا رہنے کے ہیں، جس میں کسی طرف ذرا سا جھکاؤ نہ ہو، ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں، کسی لوہے پتھر وغیرہ کے عمود کو ماہر انجینئر ایک مرتبہ اس طرح کھڑا کرسکتے ہیں کہ اس کے ہر طرف زاویہ قائمہ ہی رہے کسی طرف ادنی میلان نہ ہو لیکن کسی متحرک چیز کا ہر وقت ہر حال میں اس حالت پر قائم رہنا کس قدر مشکل ہے وہ اہل بصیرت سے مخفی نہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مسلمانوں کو اس آیت میں اپنے ہر کام میں ہر حال میں استقامت پر رہنے کا حکم فرمایا گیا ہے، استقامت لفظ تو چھوٹا سا ہے مگر مفہوم اس کا ایک عظیم الشان وسعت رکھتا ہے کیونکہ معنی اس کے یہ ہیں کہ انسان اپنے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، کسب معاش اور اس کی آمد و صرف کے تمام ابواب میں اللہ جل شانہ کی قائم کردہ حدود کے اندر اس کے بتلائے ہوئے راستہ پر سیدھا چلتا رہے، ان میں سے کسی باب کے کسی عمل اور کسی حال میں کسی ایک طرف جھکاؤ یا کمی، زیادتی ہوجائے تو استقامت باقی نہیں رہتی۔ دنیا میں جتنی گمراہیاں اور عملی خرابیاں آتی ہیں وہ سب اسی استقامت سے ہٹ جانے کا نتیجہ ہوتی ہیں، عقائد میں استقامت نہ رہے تو بدعات سے شروع ہو کر کفر و شرک تک نوبت پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات کے متعلق جو معتدل اور صحیح اصول رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائے اس میں افراط وتفریط یا کمی بیشی کرنے والے خواہ نیک نیتی ہی سے اس میں مبتلا ہوں گمراہ کہلائے گی، انبیاء (علیہم السلام) کی عظمت و محبت کی جو حدود مقرر کردی گئی ہیں ان میں کمی کرنے والوں کا گمراہ و گستاخ ہونا تو سب ہی جانتے ہیں، ان میں زیادتی اور غلو کرکے رسول کو خدائی صفات و اختیارات کا مالک بنادینا بھی اسی طرح کی گمراہی ہے، یہود و نصاری اسی گمراہی میں کھوئے گئے، عبادات اور تقرب الی اللہ کے لئے جو طریقے قرآن عظیم اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعین فرما دیئے ہیں، ان میں ذرا سی کمی کوتاہی جس طرح انسان کو استقامت سے گرا دیتی ہے اسی طرح ان میں اپنی طرف سے کوئی زیادتی بھی استقامت کو برباد کرکے انسان کو بدعات میں مبتلا کردیتی ہے، وہ بڑی نیک نیتی سے یہ سمجھتا رہتا ہے کہ میں اپنے رب کو راضی کر رہا ہوں اور وہ عین ناراضگی کا سبب ہوتا ہے اسی لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو بدعات و محدثات سے بڑی تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے اور اس کو شدید گمراہی قرار دیا ہے، اس لئے انسان پر لازم ہے کہ جب وہ کوئی کام عبادت اور اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا جوئی کے لئے کرے تو کرنے سے پہلے اس کی پوری تحقیق کرلے یہ کام رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام سے اس کیفیت و صورت کے ساتھ ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت نہیں تو اس میں اپنا وقت اور توانائی ضائع نہ کرے۔ اسی طرح معاملات اور اخلاق و معاشرت کے تمام ابواب میں قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی عملی تعلیم کے ذریعہ ایک معتدل اور صحیح راستہ قائم کردیا ہے جس میں دوستی، دشمنی، نرمی، گرمی، غصہ اور بردباری، کنجوسی اور سخاوت، کسب معاش اور ترک دنیا، اللہ پر توکل اور امکانی تدبیر، اسباب ضروریہ کی فراہمی اور مسبب الاسباب پر نظر، ان سب چیزوں میں ایک ایسا معتدل صراط مستقیم مسلمانوں کو دیا ہے کہ اس کی نظیر عالم میں نہیں مل سکتی، ان کو اختیار کرنے سے ہی انسان کامل بنتا ہے اس میں استقامت سے ذرا گرنے ہی کے نتیجہ میں معاشرہ کے اندر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ استقامت ایک ایسا جامع لفظ ہے کہ دین کے تمام اجزاء و ارکان اور ان پر صحیح عمل اس کی تفسیر ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے اسلام کے معاملہ میں کوئی ایسی جامع بات بتلا دیجئے کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے، آپ نے فرمایا قل امنت باللہ ثم استقم، یعنی اللہ پر ایمان لاؤ اور پھر اس پر مستقیم رہو، ( رواہ مسلم۔ از قرطبی) اور عثمان بن حاضر ازدی فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ عباس کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے، آپ نے فرمایا علیک بتقوی اللہ والاستقامۃ اتبع ولا تبتدع ( رواہ الدارمی فی مسندہ۔ از قرطبی) یعنی تم تقوی اور خوف خدا کو لازم پکڑو اور استقامت کو بھی، جس کا طریقہ یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں شریعت کا اتباع کرو، اپنی طرف سے کوئی بدعت ایجاد نہ کرو۔ اس دنیا میں سب سے زیادہ دشوار کام استقامت ہی ہے اسی لئے محققین صوفیاء نے فرمایا ہے کہ استقامت کا مقام کرامت سے بالاتر ہے، یعنی جو شخص دین کے کاموں میں استقامت اختیار کئے ہوئے ہے، اگرچہ عمر بھر اس سے کوئی کرامت صادر نہ ہو، وہ اعلی درجہ کا ولی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ پورے قرآن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس آیت سے زیادہ سخت اور شاق کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، اور فرمایا کہ جب صحابہ کرام نے ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لحیہ مبارک میں کچھ سفید بال دیکھ کر بطور حسرت و افسوس کے عرض کیا کہ اب تیزی سے بڑھاپا آپ کی طرف آرہا ہے تو فرمایا کہ مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا، سورة ہود میں جو پچھلی قوموں پر سخت و شدید عذاب کے واقعات مذکور ہیں وہ بھی اس کا سبب ہوسکتے ہیں مگر ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیت ہی اس کا سبب ہے۔ تفسیر قرطبی میں ابو علی سری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے خو اب میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کی تو عرض کیا کہ کیا آپ نے ایسا فرمایا ہے کہ مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اس سورت میں جو انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اور ان کی قوموں کے عذاب کا ذکر ہے اس نے آپ کو بوڑھا کیا ؟ تو فرمایا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس رشاد نے (آیت) فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ ! یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو انسان کامل کی مثالی صورت بن کر اس دنیا میں تشریف لائے تھے اور فطری طور پر استقامت آپ کی عادت تھی مگر پھر اس قدر بار یا تو اس لئے محسوس فرمایا کہ آیت میں مطلق استقامت کا حکم نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ امر الہٰی کے مطابق استقامت ہونا چاہئے، انبیاء (علیہم السلام) پر جس قدر خوف و خشیت الہٰی کا غلبہ ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے، اس خشیت ہی کا یہ اثر تھا کہ باوجود کامل استقامت کے یہ فکر لگ گئی کہ اللہ جل شا نہ کو جیسی استقامت مطلوب ہے وہ پوری ہوئی یا نہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنی استقامت کی تو زیادہ فکر نہ تھی کیونکہ وہ بحمداللہ حاصل تھی مگر اس آیت میں پوری امت کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے، امت کا استقامت پر قائم رہنا دشوار دیکھ کر یہ فکر و غم طاری ہوا۔ حکم استقامت کے بعد فرمایا وَلَا تَطْغَوْا، یہ لفظ مصدر طغیان سے بنا ہے، اس کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں جو ضد ہے استقامت کی، آیت میں استقامت کا حکم مثبت انداز میں صادر فرمانے پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ اس کے منفی پہلو کی ممانعت بھی صراحۃ ذکر کردی کہ عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق وغیرہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود سے باہر نہ نکلو کہ یہ ہر فساد اور دینی و دنیوی خرابی کا راستہ ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۝ ٠ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝ ١١٢ الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] الاستقامۃ ( استفعال ) کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سداھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان کی استقامت کے معنی سیدھی راہ پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] جس لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا پے پھر وہ اس پر قائم رہے أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٢) سو اطاعت خداوندی پر جیسا کہ آپ کو قرآن حکیم میں حکم ہوا ہے مستقیم رہیے اور وہ حضرات بھی جو کفر وشرک سے توبہ کرکے آپ کی ہمراہی میں آچکے ہیں، آپ کے ساتھ مستقیم رہیں اور کفر وشرک نہ کرو اور قرآن کریم میں جو حلال و حرام کے بارے میں احکامات ہیں ان کی نافرمانی نہ کرو، اللہ تعالیٰ خیر وشر کو خوب دیکھتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٢ (فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ) آپ کے ساتھ وہ لوگ بھی صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں جو شرک سے باز آئے ہیں جنہوں نے کفر کو چھوڑا ہے اور آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔ (وَلاَ تَطْغَوْا) تجاوز کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ منکرین حق پر جلد عذاب لے آنے کی خواہش کریں اور یہ بھی کہ چاروں طرف سے ان لوگوں کی مخالفت کے سبب کسی لمحے غصے میں آجائیں اور حلم و بردباری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔ (اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال بھی دیکھ رہا ہے اور جو کچھ تمہارے مخالفین کر رہے ہیں ان کی تمام حرکتیں بھی اس کے علم میں ہیں۔ اس لیے اس کے ہاں سے تمہیں تمہارا اجر وثواب ملے گا اور ان لوگوں کو ان کے کرتوتوں کی سزاملے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١٢۔ ١١٣۔ اگرچہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھہرایا ہے لیکن اس حکم میں آپ کی کل امت اول سے آخر تک سب شامل ہے حکم یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا حکم ہوا ہے اس پر قائم رہو یہ آیت جب اتری تو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا کہ مستعد ہوجاؤ مستعد ہوجاؤ اور پھر آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہی وہ آیت ہے جس سے شرح کے کل احکام نکلتے ہیں کیونکہ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح پر حکم ہوا ہے اس پر جمے رہو کسی طرح کی کمی بیشی نہ ہونے پائے اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچتے رہو اور جن کاموں کا حکم کیا گیا ہے ان پر مستعدی سے عمل کرتے رہو ذرا بھی فرق نہ ہونے پائے یہی وہ حکم ہے جس سے کوئی حکم الٰہی سخت نہیں ہے کیوں کہ بالکل حکم کے مطابق کرنا سوائے معصوم دل انبیاء کے دوسرے سے دشوار ہے اسی بنا پر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے سورت ہود نے بوڑھا کردیا۔ اس حکم کے بعد اللہ جل شانہ نے حد سے بڑھنے کو منع فرمایا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جس امر کا حکم ہوا ہے اس کو بڑھا کرنا جیسے روزہ رکھنے کا حکم سارے دن کا ہے اس میں یوں حد سے بڑھا جاوے کہ رات کو بھی روزہ رکھا جائے یا افطار کے وقت سے دیر کر کے روزہ افطار کیا جائے تو یہ طغیان ہوجائے گا پھر طغیان کرنے والوں کے لئے یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ تمہارے عملوں کو دیکھ رہا ہے وہ اس کا ویسا ہی بدلہ دے گا۔ پھر یہ حکم ہوا کہ ظالم اور مشرکوں سے میل جول نہ رکھو اگر ایسا کرو گے تو تمہیں دوزخ کی آگ جلائے گی ظلموا کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت کے زمانہ کے جو مشرک تھے انہیں کے ساتھ میل جول نہ رکھنے کا حکم ہوا ہے اور بعضے کہتے ہیں کہ ہر ظالم اس میں داخل ہے خواہ مسلمان ہو خواہ کافر و مشرک کسی سے بھی میل نہ کرو اگر تم ظالموں کا ساتھ دو گے تو اللہ کی مدد تم میں سے اٹھ جاوے گی کیوں کہ اللہ ظلم کو دوست نہیں رکھتا اور جب اللہ کی مدد اٹھ گئی تو پھر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر مشرکوں اور یہود کا ذکر فرمایا کہ ان آیتوں میں مسلمانوں کو شریعت الٰہی کے سیدھے راستہ پر قائم اور ثابت قدم رہنے اور مشرکوں اور یہود کی عادتوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ ہر مسلمان وحدانیت کا اقرار کر کے پھر اس پر ثابت قدم رہے کوئی بات ظاہری شرک یا ریاکاری کی ایسی نہ کرے جس سے اس اقرار میں فرق آجاوے اور اس اقرار کو سچا کرنے کے لئے نیک عملوں میں حتیٰ المقدور لگا رہے کیوں کہ شریعت میں نیک عمل آدمی کے نیک ہونے کی نشانی قرار دی گئی ہیں چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ علم الٰہی میں جو شخص نیک ٹھہر چکا ہے وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسا ہی کام بھی کرتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری (رض) کی بڑی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن لوگوں کو خالص دل سے وحدانیت الٰہی کا اقرار ہے اور اس اقرار کو سچا کرنے کے لئے ان لوگوں نے کچھ نیک عمل نہیں کئے تو ایسے لوگ دوزخ سے یوں نکلیں گے کہ سب شفاعتوں کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا ١ ؎۔ ہر ایمان دار شخص کو دوزخ سے بچنے کے لئے نیک عمل میں لگے رہنے کی جس قدر ضرورت ہے وہ اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے صحیح مسلم میں سفیان بن عبد اللہ ثقفی سے روایت ہے جس میں سفیان (رض) کہتے ہیں میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا حضرت مجھ کو دین میں کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر مجھ کو کچھ پوچھنے کی ضرورت باقی نہ رہے آپ نے فرمایا دین میں خالص دل سے جن باتوں کے ماننے کا حکم ہے ان باتوں کو مان کر پھر اس پر قائم اور ثابت قدم رہو ٢ ؎ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا قول ہے کہ دین پر ثابت قدم رہنے کا یہ مطلب ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے وقت آدمی نے جن باتوں کا عہد کیا مرتے دم تک آدمی اس پر قائم ٣ ؎ رہے یہ حدیث اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا قول ان دونوں آیتوں کی تفسیر ہے جس سے دینداری کی باتوں پر چلنے اور بےدینی کی باتوں سے بچنے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے اور یہ بھی سمجھ میں آجاتا ہے کہ دین اور دین پر قائم رہنا کیا ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ١١٠٧ ج ٢ باب وجوہ یومئذ ناصزۃ الی ربہا ناظرۃ ومشکوٰۃ ص ٤٩ باب الحوض و الشفاعۃ۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ١٢ کتاب الایمان۔ ٣ ؎ مستدرک ص ٤٤٠ ج تفسیر سورة حم السجدہ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:112) فاستقم۔ ف محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے تقدیر عبارت یوں ہے لما بین امر المختلفین فاستقم کما امرت۔ جب ہر دو امر (حق و باطل) بین طور پر واضح ہوگئے ہیں تو ہمارے حکم کے مطابق (حق پر) قائم ہوجاؤ۔ استقم۔ تو قائم رہ۔ تو ثابت قدم رہ استقامۃ سے باب افتعال سے امر و احد مذکر حاضر ۔ امرت۔ امر سے۔ ماضی مجہول واحد مذکر حاضر۔ کما امرت جیسا تجھے حکم دیا گیا ومن تاب معک۔ اور جو تائب ہوکر تیرے ہمراہ ہوگئے ہیں۔ و حرف عطف تاب معک کا عطف استقم پر ہے ای فاستقم انت ولیستقم من تاب من الکفر ورجع الی اللہ مخلصا۔ یعنی تو ثابت قدم رہ اور وہ لوگ بھی ثابت قدم رہیں جنہوں نے کفر سے توبہ کرکے خالص اللہ کی طرف رجوع کیا (اور آپ کے ہمراہ ہیں) لاتطغوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم سرکشی نہ کرو۔ تم زیادتی نہ کرو۔ طغیان مصدر طغا یطغوا (باب نصر) طغوا طغوانا ظغیانا۔ حد سے گزرنا ۔ بغی یطغی (باب سمع) طغیا وطغیانا۔ ظلم و نافرمانی میں حد سے گزر جانا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ یعنی اللہ کے حکم اور شریعت پر قائم رہیں۔ ” استقامت “ ایک نہایت ہی جامع لفظ ہے جو شریعت کے پورے نظام کی پابندی سے عبارت ہے۔ ایک صحابی (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتلا دیئے جس کے بعد مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی دوسرے سے دریافت کی ضرورت نہ رہے۔ “ فرمایا : قل امنت باللہ ثم استقم کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختیا کرو۔ (فتح البیان) یہ آیات شامل ہے عقائد و اعمال اور اخلاق کو عقائد میں استقامت یہ ہے کہ تشبیہ و تعطیل اور اہل ذریغ کی تاویل سے اجتناب کیا جائے اور اعمال میں زیادت و نقصان، بدعات اور تقلید رجال و آراء سے احتراز لازم ہے۔ اخلاق میں افراط ق تفریط سے دور رہنا ضروری ہے اور یہ پابندی نہایت کٹھن ہے۔ اسی صعوبت کی طرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کرتے کرتے فرمایا ہے۔ ” تشیبتنی ھود “ کہ سورة ہود کی اس آیت نے تو مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ (کذافی الشوکانی) ۔ 8 ۔ یعنی شریعت کی اطاعت کے لئے اللہ اور اس کے رسول ( علیہ السلام) نے جو حدیں مقرر کردی ہیں اپنے آپو کو انہی کے اندر رکھو۔ ان سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کرو۔ سارے معاملاتِ زندگی میں ان حدوں سے تجاوز کرنا حرام ہے۔ حدیث میں ہے میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، رات کو قیام کرتا ہوں اور نہیں بھی کرتا، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہٰذا جو شخص میری سنت سے بےرغبت کا اظہار کرتا ہے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے رد عمل کے مقابلہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو استقامت اختیار کرنے کا حکم۔ کفار، مشرکین اور یہود و نصاریٰ اس حد تک آپ کی مخالفت پر اتر آئے تھے کہ آپ کو صادق و امین ماننے کے باوجود آپ کو کذّاب اور جادو گر قرار دیتے تھے۔ جس کا بحیثیت انسان آپ کو بہت رنج ہوتا تھا۔ آپ کی ڈھارس بندھانے اور مستقل مزاجی کا سبق دینے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین کو مسلسل ہدایات دی گئی ہیں۔ ١۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس پر قائم رہیے۔ ٢۔ کسی حال میں بھی اللہ کی نازل کردہ وحی سے سرتابی نہیں کرنی۔ ٣۔ ہر دم یہ خیال رہنا چاہیی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ ٤۔ ظالموں کی طرف کسی حال میں بھی جھکاؤ نہیں ہونا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خیر خواہ اور مدد کرنے والا نہیں ہوتا۔ استقامت کا معنی ہے کسی طرف جھکنے کی بجائے سیدھا کھڑے رہنا۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک داعی نہ کسی قسم کے دباؤ کی پرواہ کرے اور نہ ہی کسی مفاد اور لالچ کے سامنے جھکے۔ ایسا شخص ہی صحیح معنوں میں حق کا ترجمان اور اس کا پاسبان ہوسکتا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ” وَلَاتَرْکَنُوْا “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ جس کا معنی ہے کہ دنیا کا کوئی خوف آپ اور آپ کے متبعین کو باطل کے سامنے جھکنے پر مجبور نہ کرسکے۔ اگر تم لوگ جھک گئے تو پھر تمہیں جہنم کی آگ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی تمہارا خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ ظلم سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ جس کی سزا جہنم ہوگی۔ ترکنو کا لغوی معنی ہے : محبت اور دلی میلان۔ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ظالموں کی خوشامد مت کرو۔ (ضیاء القرآن، ج : ٢۔ ص : ٣٩٦) (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ (الَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ ) قَالَ أَصْحَابُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّنَا لَمْ یَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ (إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کہنے لگے ہم میں سے کون ہے جو ظلم نہیں کرتا یعنی ہر انسان سے غلطی ہوجاتی ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ” یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ البخاری : باب الظلم ] ” حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔ “ مسائل ١۔ اللہ کے حکم پر استقامت اختیار کرنی چاہیے۔ ٢۔ حق کے داعی کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ ٤۔ ظالموں کی طرف جھکاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ ٥۔ اللہ کے علاوہ کوئی رفیق اور مدد کرنے والا نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن ظلم اور ظالم : ١۔ ظالموں کی طرف نہ جھکیں ورنہ تمہیں بھی جہنم کی آگ چھوئے گی۔ (ھود : ١١٣) ٢۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا ظالم ہے۔ ( البقرۃ : ١١٤) ٣۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ( لقمان : ١٣) ٤۔ نبی کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : ٩٣) ٥۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الاعراف : ٣٧) ٦۔ اللہ نے بستیوں والوں کو ظلم کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ (یونس : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (١١٢ : ١١) “ پس اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ” اس حکم کی مشکلات اور شدت اور ہیبت کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محسوس فرمایا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت میں آتا ہے کہ “ مجھے ہود اور اس کے ساتھی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔ ” استقامت کا مفہوم ہے کہ اعتدال سے چلو اور اسلامی منہاج کے مطابق سیدھے چلو ، کوئی انحراف نہ ہونے پائے۔ ہر وقت غور فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر وقت حدود اللہ پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ہے اور ان انسانی میلانات اور رحجانات کو ضبط کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جو کبھی زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کم ، غرض کسی بھی تحریک میں یہ ایک دائمی اور مسلسل ڈیوٹی ہے اور زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ وَلا تَطْغَوْا (١١٢ : ١١) “ اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ” یہاں اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ استقامت کے حکم کے بعد یہ نہیں اس لیے نہیں ہے کہ استقامت میں قصور نہ کرو ، بلکہ یہ نہیں طغیان اور حد سے گزرنے کی نہی ہے ، یہ اس لیے وارد ہوئی ہے کہ استقامت کے مسلسل حکم کے نتیجے میں انسان کے ذہن میں اس قدر بیداری پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس قدر حزم اور احتیاط کرنے لگتا ہے کہ وہ غلو اور مبالغے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے اور اس غلو اور مبالغے کے نتیجے میں “ الدین یسر ” بن جاتا ہے دین میں افراط وتفریط شروع ہوجاتی ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اور ایک مسلمان کو معتدل مزاج اور صراط مستقیم پر گامزن رہنا چاہیے ، غافل بھی نہیں ہونا چاہیے اور غالی بھی نہیں۔ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (١١ : ١١٢) “ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ” بصیر ، بصیرت کا لفظ یہاں پر محل ہے ، یعنی دیکھتا بھی ہے اور اس کا دیکھنا سرسری نہیں ہے۔ بصیرت اور گہرائی سے دیکھتا ہے لہذا اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم اور تمہارے ساتھی خدا سے ڈرتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن رہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حد سے آگے بڑھنے کی ممانعت : پھر فرمایا (وَلَا تَطْغَوْا) اس میں حد سے زیادہ جانے کی ممانعت فرمائی ‘ استقامت کا حکم دے کر یہ بھی بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود سے آگے بڑھو گے تو اس سے استقامت میں فرق آئے گا۔ یہ حدود سے آگے بڑھ جانا ہی تو بدعات اعتقادیہ اور بدعات اعمالیہ میں مبتلا کرتا ہے اور اس حد سے نکلنے ہی کو غلو کہا جاتا ہے اسی غلو نے تو نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خدا اور خدا کا بیٹا ہونے کے اعتقاد پر آمادہ کردیا ‘ اور بہت سے مدعیان اسلام کو اس پر آمادہ کردیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشریت کا انکار کریں جبکہ قرآن کریم میں آپ کے بشر ہونے کی تصریح ہے۔ یہ بدعت اعتقادی کی مثال ہے اور بدعات اعمالیہ بھی لوگوں میں بہت زیادہ رائج ہیں جو انہوں نے اپنی طبیعت سے وضع کی ہیں اور انہیں دین بنا کر اور دین سمجھ کر مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

93:۔ سورت میں ابتداء سے یہاں تک چاروں دعوے ذکر کرنے اور ان سے متعلق سات قصے بیان کرنے کے بعد مذکورہ بالا تمام مضامین پر پانچ امور مرتب فرمائے (1) فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ : جس طرح آپ کو اور ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے اس پر آپ اور آپ کے ساتھی استقامت سے عمل پیرا رہیں۔ (2) وَلَا تَطْغَوْا : اور اللہ کی حدود سے سر مو انحراف نہ ہونے پائے۔ (3) ۔ وَلَاتَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوْا : اللہ کی حدود کو توڑنے والوں اور اللہ کی توحید کے باغیوں کی طرف تمہارے دلوں میں ادنی سا میلان بھی نہ پایا جائے ورنہ تم بھی ان کے ساتھ شریک عذاب ہوجاؤ گے۔ وَمَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہ مِنْ اَوْلِیَاءِ جملہ فَتَمَسَّکُمْ کی ضمیر منصوب سے حال ہے۔ والواو للحال من مفعول فَتمَسَّکُمُ النّارُ (مظہری ج 5 ص 123) ۔ ظالموں کی طرف ادنی میلان کی وجہ سے تم بھی عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے حالانکہ اس وقت اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی و ناصر نہیں ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

112 سوائے پیغمبر ! جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ راہ راست پر جو دین کی راہ ہے قائم رہیے اور سیدھے چلے جائیے اور آپ کے وہ ہمراہی بھی جو کفرو شرک سے توبہ کرکے آپ کے ساتھی ہوئے ہیں وہ بھی قائم رہیں اور دین کی مقررہ حد سے آگے نہ بڑھو یقینا تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو وہ خدا کی نگاہ میں ہے اور وہ خوب دیکھ رہا ہے۔