Surat Hood

Surah: 11

Verse: 117

سورة هود

وَ مَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾

And your Lord would not have destroyed the cities unjustly while their people were reformers.

آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکوکار ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And your Lord would never destroy the towns wrongfully, while their people were doers of good. Allah informs that he does not destroy any town, except that it has wronged itself. No correctional punishment or torment comes to any town, except that its people were wrongdoers. This is as Allah says, وَمَا ظَلَمْنَـهُمْ وَلَـكِن ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ We wronged them not, but they wronged themselves. (11:101) Allah also says, وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ And your Lord is not at all unjust to (His) servants. (41:46)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٠] اہل خیر کی موجودگی میں اللہ کا عذاب نہیں آتا :۔ یعنی ایسی صورت میں کبھی عذاب نہیں آتا کہ اس قوم میں اہل خیر موجود بھی ہوں اور وہ اصلاح کی کوششوں میں بھی لگے ہوں۔ خواہ وہ تھوڑے ہی ہوں ایسے لوگوں کی وجہ سے مجرم بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔ عذاب تو صرف اس وقت آتا ہے جب سرتاسر برائی پھیل جائے، کیونکہ اللہ کو خواہ مخواہ لوگوں کو عذاب دینے کا شوق نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ ۔۔ : یعنی اگر وہ لوگ مجرم ہونے کے بجائے مصلح ہوتے، پھر انھیں عذاب کے ساتھ ہلاک کیا جاتا تو یہ صاف ظلم تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی ایسا ظلم نہیں کرتا کہ کسی بستی والے لوگ فساد نہ کریں بلکہ اصلاح کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے، کیونکہ یہ ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ بعض اہل علم نے ظلم سے مراد شرک لے کر یہ معنی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بستی کو صرف شرک کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا، جب کہ اس کے رہنے والے زمین میں فساد نہ کرتے ہوں، بلکہ آپس کے تعلقات میں اصلاح رکھتے ہوں۔ ہلاک اسی وقت کرتا ہے جب وہ حد سے بڑھ کر زمین میں فساد پھیلانے لگیں، مگر پہلا معنی زیادہ درست ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It was said in the fourth verse (117) that Allah does not destroy towns and habitations unjustly while people living there are good in their ways, that is, they are believing Muslims. The sense is that the probability of injustice and oppression does not exist with Allah Ta` ala. Those destroyed deserve being destroyed. Some early commentators have said that the word: ظُلُم ` zulm& (injustice) in this verse means shirk (ascribing of partners in the pristine divinity of Allah) and مُصلِحُون ` muslihun& (people good in their ways) refers to people who, de-spite being Mushriks and Kafirs, are good in morals and dealings, do not hurt and cause pain to anyone, do not lie and do not cheat. Thus, the sense of the verse comes to be that the punishment of the world does not fall on a people simply because of their being Mushriks and Kafirs - unless they were to spread disorder in the land by their very deeds and morals. The cause of all punishments that came upon the past peoples was but their particular evil deeds. The people of Sayyidna Nub (علیہ السلام) caused him all sorts of pains. The people of Sayyidna Shu&aib (رض) spread disorder by weighing and measuring short. The people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) ، took to the worst type of evil act. The people of Sayyidna Musa and ` Isa (علیہما السلام) oppressed their prophets. The Holy Qur&an says that these very misdeeds were the reason why punish¬ment came upon them. Divine punishment does not come in this world because of bland Kufr and Shirk. The everlasting punishment of the fire of Hell is its punishment. Therefore, some ` Ulama& have said that countries and governments can survive with Kufr and Shirk, but they cannot survive with injustice and oppression.

چوتھی آیت میں فرمایا کہ آپ کا رب شہروں اور بستیوں کو ظلم سے ہلاک نہیں کرتا جبکہ ان کے بسنے والے نیکوکار یعنی مسلمان ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے یہاں ظلم و جور کا کوئی امکان نہیں، جن کو ہلاک کیا جاتا ہے وہ اسی کے مستحق ہوتے ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے اور مصلحون سے مراد وہ لوگ ہیں جو باوجود مشرک کافر ہونے کے معاملات اور اخلاق اچھے رکھتے ہیں، کسی کو نقصان و ایذاء نہیں پہنچاتے، جھوٹ نہیں بولتے، دھوکہ نہیں دیتے، اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ دنیا کا عذاب کسی قوم پر محض ان کے مشرک کافر ہونے کی وجہ سے نہیں آتا جب تک کہ وہ اعمال و اخلاق میں بھی ایسے کام نہ کرنے لگیں جن سے زمین میں فساد پھیلتا ہے، پچھلی جتنی قوموں پر عذاب آئے ان کے خاص خاص اعمال بد اس کا سبب بنے، نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں، قوم شعیب (علیہ السلام) نے ناپ تول میں کمی کرکے فساد پھیلایا، قوم لوط (علیہ السلام) نے بد ترین قسم کی بدکاری کو شیوہ بنایا، قوم موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) نے اپنے پیغمبروں پر ظلم ڈھائے، قرآن کریم نے دنیا میں ان پر عذاب آنے کا سبب انہی اعمال و افعال کو بتلایا ہے، نرے کفر و شرک کی وجہ سے دنیا میں عذاب نہیں آتا اس کی سزا تو جہنم کی دائمی آگ ہے، اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ ملک و سلطنت کفر و شرک کے ساتھ چل سکتے ہیں مگر ظلم و جور کے ساتھ نہیں چل سکتے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُہْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا مُصْلِحُوْنَ۝ ١١٧ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

خدا ظلم نہیں کرتا قول باری ہے وما کان ربک لیھلک القری بظلم واھلحا مصلحون ۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی چھوٹے ظلم پر جوان کی طرف سے سرزد ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں کسی بڑے ظلم پر جو ان کے ایک چھوٹے سے طبقے کی طرف سے ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ان اللہ لایھلک العامۃ بذنوب الخاصۃ اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ ظالم بن کر انہیں ہلاک نہیں کرتا جس طرح یہ قول باری ہے ان اللہ لا یظلم الناس شیئا ً ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرا برابر بھی ظلم نہیں کرتا ۔ زیر بحث آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بستیوں والوں کو ناحق تباہ نہیں کرتادرآنحالی کہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہیں۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے وان من قدیہ الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیامۃ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ لوگ قیامت کے قریب خرابی اور فساد کی انتہا پر پہنچ چکے ہوں گے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرے گا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد لا تقوم الساعۃ الا علی شرار الخلق ۔ قیامت خلق خدا میں سے بد ترین لوگوں پر آئے گی کا بھی یہی مصداق ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٧) اور آپ کا پروردگار ایسا نہیں کہ بستی والوں کو ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کرڈالے جب کہ ان میں ایسے حضرات بھی ہوں جو کہ دوسروں کو نیکیوں کا حکم دے رہے ہوں اور برائیوں سے روک رہے ہوں۔ یا مطلب یہ ہے کہ آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستی والوں کو کفر کی وجہ سے جب کہ وہاں کے بعض لوگ اصلاح کی فکر میں ہوں اور اطاعت خداوندی پر قائم ہوں اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٧ (وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ ) ایسا نہیں ہوتا کہ کسی علاقے کسی ملک یا شہر میں اچھے کردار کے حامل اپنی اور دوسروں کی اصلاح میں سرگرم لوگوں کی اکثریت ہو اور اللہ پھر بھی اس بستی پر عذاب بھیج دے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

115. These verses bring out, in a significantly instructive manner, the real factors which caused the destruction of those nations whose history has been narrated earlier (see verse 36 ff. above). Reviewing that history, the Qur'an points out the single common denominator of all those nations which met their doom in the past. All those nations had formerly been favoured with God's blessings. But drunk with affluence, they resorted to mischief on earth. Their collective conscience was also completely vitiated. The result was that no righteous person was left among them to prevent them from committing evils. And if any such person did exist, their number was either too small, or their voice too feeble to prevent evils from predominating. This situation eventually invited God's wrath upon them. Had they not been so evil, there was no reason why God should punish them. After all, He bears no such grudge against His creatures that would prompt Him to punish people even when they act righteously. The above statement is intended to underscore three points. Firstly, that it is imperative that there should always be a good number of righteous people in every society; those who would invite people to righteousness and prevent them from evil. For God likes to see that there is righteousness in the world. And if God does tolerate the existence of evil in human society, He does so since the potential for righteousness continues to exist in that society. But such tolerance endures only as long as that potential remains. However, if the condition of a community deteriorates, rendering it altogether devoid of good people, or if the good people in that community become an insignificant minority, too weak to prevent it from proceeding along its evil ways, then God's chastisement begins to loom large over it. That much can be said for sure. However, it is difficult to say with any precision when God's chastisement will actually smite that community and destroy it. Secondly, a community that is prepared to put up with everything except a group of righteous people in its midst - people that call men to do good and forbid them from doing evil - is certainly destined for self-destruction. The attitude of that community clearly shows that it cherishes all that would lead to its destruction, and that it is intolerant of all that would ensure its survival. Thirdly, God's final decision whether to punish a community or not depends on the extent to which that community is possessed of the elements that would enable it to respond to the call of truth. If it has such people in good numbers that would suffice to extirpate evil and establish a righteous order, such a community is spared the kind of chastisement which embraces whole communities and totally destroys them. If it is subjected to some partial rather than an all-embracing chastisement, the purpose of it is to enable its righteous elements to mend their ways. It is possible, however, that in spite of continued efforts, the community will be unable to throw up a sufficient number of good people needed to bring about its reform. It is also possible that the community will demonstrate by its action that it is full of corrupt people and altogether bereft of virtuous ones. The community, in such a case, has obviously become a heap of coal in which no diamonds are left. When such a stage is reached God causes a fire to erupt, a fire that reduces this heap of coal to a heap of ashes. (For further elaboration see al-Dhariyat 51, n. 34.)

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :115 ان آیات میں نہایت سبق آموز طریقے سے ان قوموں کی تباہی کے اصل سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کی تاریخ پچھلے چھ رکوعوں میں بیان ہوئی ہے ۔ اس تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ صرف انہی قوموں کو نہیں ، بلکہ پچھلی انسانی تاریخ میں جتنی قومیں بھی تباہ ہوئی ہیں ان سب کو جس چیز نے گرایا وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالی نے انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کا اجتماعی خمیر اس درجہ بگڑ گیا کہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو برائیوں سے روکتے ، یا اگر کچھ لوگ ایسے نکلے بھی تو وہ اتنے کم تھے اور ان کی آواز اتنی کمزور تھی کہ ان کے روکنے سے فساد نہ رک سکا ۔ یہی چیز ہے جس کی بدولت آخرکار یہ قومیں اللہ تعالی کے غضب کی مستحق ہوئیں ، ورنہ اللہ کو اپنے بندوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ وہ تو بھلے کام کر رہے ہوں اور اللہ ان کو خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کر دے ۔ اس ارشاد سے یہاں یہ تین باتیں ذہن نشین کرنی مقصود ہیں ۔ ایک یہ کہ ہر اجتماعی نظام میں ایسے نیک لوگوں کا موجود رہنا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دینے والے اور شر سے روکنے والے ہوں ۔ اس لیے کہ خیر ہی وہ چیز ہے جو اصل میں اللہ کو مطلوب ہے ، اور لوگوں کے شرور کو اگر اللہ برداشت کرتا بھی ہے تو اس خیر کی خاطر کرتا ہے جو ان کے اندر موجود ہو ، اور اسی وقت تک کرتا ہے جب تک ان کے اندر خیر کا کچھ امکان باقی رہے ۔ مگر جب کوئی انسانی گروہ اہل خیر سے خالی ہو جائے اور اس میں صرف شریر لوگ ہی باقی رہ جائیں ، یا اہل خیر موجود ہوں بھی تو کوئی ان کی سن کر نہ دے اور پوری قوم کی قوم اخلاقی فساد کی راہ پر بڑھتی چلی جائے ، تو پھر خدا کا عذاب اس کے سر پر اس طرح منڈلانے لگتا ہے جیسے پورے دنوں کی حاملہ کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کب وضع حمل ہوجائے ۔ دوسرے یہ کہ جو قوم اپنے درمیاں سب کچھ برداشت کرتی ہو مگر صرف انہی چند گنے چنے لوگوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو جو اسے برائیوں سے روکتے اور بھلائیوں کی دعوت دیتے ہوں ، تو سمجھ لو کہ اس کے برے دن قریب آگئے ہیں ، کیونکہ اب وہ خود ہی اپنی جان کی دشمن ہوگئی ہے ۔ اسے وہ سب چیزیں تو محبوب ہیں جو اس کی ہلاکت کی موجب ہیں اور صرف وہی ایک چیز گوارا نہیں ہے جو اس کی زندگی کی ضامن ہے ۔ تیسرے یہ کہ ایک قوم کے مبتلائے عذاب ہونے یا نہ ہونے کا آخری فیصلہ جس چیز پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں دعوت خیر پر لبیک کہنے والے عناصر کس حد تک موجود ہیں ۔ اگر اس کے اندر ایسے افراد اتنی تعداد میں نکل آئیں جو فساد کو مٹانے اور نظام صالح کو قائم کرنے کے لیے کافی ہو تو اس پر عذاب عام نہیں بھیجا جاتا بلکہ ان صالح عناصر کو اصلاح حال کا موقع دیا جاتا ہے ، لیکن اگر پیہم سعی وجہد کے باوجود اس میں سے اتنے آدمی نہیں نکلتے جو اصلاح کے لیے کافی ہو سکیں ، اور وہ قوم اپنی گود سے چند ہیرے پھنک دینے کے بعد اپنے طرز عمل سے ثابت کر دیتی ہے کہ اب اس کے پاس کوئلے ہی کوئلے باقی رہ گئے یہں ، تو پھر کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ وہ بھٹی سلگا دی جاتی ہے جو ان کوئلوں کو پھونک کر رکھ دے ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الذاریات ، حاشیہ 34 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

لیہلک۔ میں لام نفی کی تاکید کے لئے ہے۔ بظلم۔ اگر ظلم کو مفعول کا حال لیا جائے تو معنی ہوں گے آپ کا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ہلاک کر دے (محض) ان کی زیادتیوں (یا کفر و شرک) کے باعث درآں حالیکہ ان کے رہنے والے صلح و آشتی میں لگے ہوئے ہوں۔ اور اگر ظلم کو فاعل کا حال لیا جائے تو ترجمہ ہوگا۔ تیرا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ناحق ہلاک کر دے جب کہ ان کے رہنے والے اصلاح میں لگے ہوں۔ واہلہا۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ ) یعنی آپ کا رب ایسا نہیں ہے کہ لوگوں پر ظلم کرے وہ جو عذاب دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے اس کا سبب کفر اور شرک ہوتا ہے اور کبھی معاصی بھی ہوتے ہیں ان معاصی میں سے یہ بھی ہے کہ جو لوگ گناہوں میں مبتلا ہوں قدرت ہوتے ہوئے انہیں نہ روکا جائے جب لوگ اصلاح کے کام میں لگے ہوئے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نہیں آئے گا ورنہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جس کسی بھی قوم میں کوئی ایسا شخص ہو جو ان میں رہتے ہوئے گناہوں میں مبتلا ہو اور وہ قدرت ہوتے ہوئے اس کی حالت کو نہ بدلیں تو مرنے سے پہلے اللہ ان پر عذاب بھیجے گا۔ (رواہ ابو داؤد ‘ ص ٢٤٠ ج ٢) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی قوم میں گناہ کئے جاتے ہوں پھر وہ قدرت ہوتے ہوئے گناہگاروں کی حالت نہ بدلیں تو اللہ ان سب پر عام عذاب بھیج دے گا۔ (رواہ ابو داؤد ‘ ص ٢٤٠ ج ٢) آیت کا معنی اور مفہوم بتانے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ احقر نے جو مطلب ترجمہ و تفسیر میں اختیار کیا ہے وہ اقرب الی الفہم ہے اس آیت کا دوسرا مفہوم علامہ قرطبی (رح) نے زجاج (رح) سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں : قال الزجاج یجوز ان یکون المعنی ما کان ربک لیھک احدا وھو بظلمہ وان کان علی نھایۃ الصلاح لانہ تصرف فی ملکہ اھ (زجاج نے کہا ہے ہوسکتا ہے یہ معنی ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ہلاک کرتا ہے تو یہ ظلم نہیں ہے اگرچہ وہ آدمی انتہائی نیک ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ملکیت میں تصرف کیا ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

97:۔ تخویف دنیوی ہے دنیا میں جن قوموں کو عذاب سے تباہ کیا گیا ہے ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کیا کہ لوگ تو دنیا میں نیک کام کر رہے ہوں اور اصلاح کے درپے ہوں اور پھر بھی ان کو ہلاک کردیا ہو بلکہ جب بھی ان پر عذاب آیا ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے آیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

117 اور آپ کے پروردگار کی یہ شان نہیں کہ وہ ان بستیوں کو جن کے رہنے والے نیک ہوں اور اصلاح کرنے والے ہوں ناحق تباہ و برباد کردے یعنی خود بھی نیک ہوں اور دوسروں کی بھی اصلاح کرتے ہو بلاوجہ زبردستی ہلاک کردے یہ اسوقت ہوتا ہے جب لوگ نصیحت ترک کردیں اور اپنی اصلاح کے درپے نہ ہوں بروں کا زور ہوجائے تو ہلاک کردئیے جاتے ہیں۔