Surat Hood

Surah: 11

Verse: 25

سورة هود

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾

And We had certainly sent Noah to his people, [saying], " Indeed, I am to you a clear warner

یقیناً ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کر دینے والا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Nuh and His Conversation with His People Allah, the Exalted tells; وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ ... And indeed We sent Nuh to his people (and he said): Allah, the Exalted, informs about Prophet Nuh. He was the first Messenger whom Allah sent to the people of the earth who were polytheists involved in worshipping idols. Allah mentions that he (Nuh) said to his people, ... إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ I have come to you as a plain warner. meaning, to openly warn you against facing Allah's punishment if you continue worshipping other than Allah. Thus, Nuh said,

آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلا نبی؟ سب سے پہلے کافروں کی طرف رسول بنا کر بت پرستی سے روکنے کے لیے زمین پر حضرت نوح علیہ السلام ہی بھیجے گئے تھے ۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں اگر تم غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑو گے تو عذاب میں پھنسو گے ۔ دیکھو تم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو ۔ اگر تم نے خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن کے دردناک سخت عذابوں میں مجھے تمہارے لینے کا خوف ہے ۔ اس پر قومی کافروں کے رؤسا اور امراء بول اُٹھے کہ آپ کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں ہم جیسے ہی انسان ہیں ۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم سب کو چھوڑ کر تم ایک ہی کے پاس وحی آئے ۔ اور ہم اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ایسے رذیل لوگ آپ کے حلقے میں شامل ہوگئے ہیں کوئی شریف اور رئیس آپ کا فرماں بردار نہیں ہوا اور یہ لوگ بےسوچے سمجھے بغیر غور و فکر کے آپ کی مجلس میں آن بیٹھے ہیں اور ہاں میں ہاں ملائے جاتے ہیں ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس نئے دین نے تمہیں کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچایا کہ تم خوش حال ہوگئے ہو تمہاری روزیاں بڑھ گئی ہوں یا خلق و خلق میں تمہیں کوئی برتری ہم پر حاصل ہو گئی ہو ۔ بلکہ ہمارے خیال سے تم سب سے جھوٹے ہو ۔ نیکی اور صلاحیت اور عبادت پر جو وعدے تم ہمیں آخرت ملک کے دے رہے ہو ہمارے نزدیک تو یہ سب بھی جھوٹی باتیں ہیں ۔ ان کفار کی بےعقلی تو دیکھئے اگر حق کے قبول کرنے والے نچلے طبقہ کے لوگ ہوئے تو کیا اس سے حق کی شان گھٹ گئی؟ حق حق ہی ہے خواہ اس کے ماننے والے بڑے لوگ ہوں خواہ چھوٹے لوگ ہوں ۔ بلکہ حق بات یہ ہے کہ حق کی پیروی کرنے والے ہی شریف لوگ ہیں ۔ چاہے وہ مسکین مفلس ہی ہوں اور حق سے روگردانی کرنے والے ہیں ذلیل اور رذیل ہیں گو وہ غنی مالدار اور امیر امراء ہوں ۔ ہاں یہ واقع ہے کہ سچائی کی آواز کو پہلے پہل غریب مسکین لوگ ہی قبول کرتے ہیں اور امیر کبیر لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں ۔ فرمان قرآن ہے کہ تجھ سے پہلے جس جس بستی میں ہمارے انبیاء آئے وہاں کے بڑے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے آپ باپ دادوں کو جس دین پر یایا ہے ہم تو انہیں کی خوشہ چینی کرتے رہیں گے ۔ شاہ روم ہرقل نے جو ابو سفیان سے پوچھا تھا کہ شریف لوگوں نے اس کی تابعداری کی ہے یا ضعیف لوگوں نے؟ تو اس نے یہی جواب دیا تھا کہ ضعیفوں نے جس پر ہرقل نے کہا تھا کہ رسولوں کے تابعدار یہی لوگ ہوتے ہیں ۔ حق کی فوری قبولیت بھی کوئی عیب کی بات نہیں ، حق کی وضاحت کے بعد رائے فکر کی ضرورت ہی کیا ؟ بلکہ ہر عقل مند کا کام یہی ہے کہ حق کو ماننے میں سبقت اور جلدی کرے ۔ اس میں تامل کرنا جہالت اور کند ذہنی ہے ۔ اللہ کے تمام پیغمبر بہت واضح اور صاف اور کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ میں نے جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اس میں کچھ نہ کچھ جھجھک ضرور پائی سوائے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کہ انہوں نے کوئی تردد و تامل نہ کیا واضح چیز کو دیکھتے ہی فوراً بےجھجھک قبول کرلیا ان کا تیسرا اعتراض ہم کوئی برتری تم میں نہیں دیکھتے یہ بھی ان کے اندھے پن کی وجہ سے ہے اپنی ان کی آنکھیں اور کان نہ ہوں اور ایک موجود چیز کا انکار کریں تو فی الواقع اس کا نہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا ۔ یہ تو نہ حق کو دیکھیں نہ حق کو سنیں بلکہ اپنے شک میں غوطے لگاتے رہتے ہیں ۔ اپنی جہالت میں ڈبکیاں مارتے رہتے ہیں ۔ جھوٹے مفتری خالی ہاتھ رذیل اور نقصانوں والے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] سیدنا نوح کا قصہ پہلے سورة اعراف کے رکوع نمبر ٨ میں بھی گذر چکا ہے لہذا وہ حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔ [٣١] یعنی تمہیں صاف صاف بتارہا ہوں کہ کن باتوں اور کاموں کے ارتکاب سے تم پر عذاب آنے کا اندیشہ ہے اور اس عذاب سے بچنے کے ذرائع کیا ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ : جن حالات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے، وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) کو پیش آ چکے تھے، اس لیے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء کا ذکر کیا جا رہا ہے اور باقی سورت تقریباً اسی تذکرے سے بھری ہوئی ہے، تاکہ ایک طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہمت بندھے، آپ کو اور مسلمانوں کو تسلی ہو کہ انجام کار اللہ کے رسولوں اور اہل حق کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقیناً مدد ہوتی ہے اور دوسری طرف پہلی قوموں کے اعتراضات اور ان کے انبیاء کے جوابات آپ کے لیے نمونہ بنیں اور آپ کی قوم کو پہلے کفار کے انجام سے ڈرایا جائے۔ آدم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، وہ اور ان کی اولاد سب موحد اور دین حق پر تھے، پھر شیطان کے بہکانے سے بزرگوں کی پوجا بت پرستی کی صورت میں شروع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر سب سے پہلے رسول نوح (علیہ السلام) بھیجے گئے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے اور بت پرستی کے آغاز کی تفصیل سورة نوح میں آئے گی۔ نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں ٤٣ بار آیا ہے۔ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ : نوح (علیہ السلام) نے صرف ڈرانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ان کی قوم نے سمع و طاعت کا اظہار ہی نہیں کیا کہ انھیں خوش خبری دی جاتی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary When Sayyidna Nuh علیہ السلام invited his people to believe, they responded with some doubts and objections against the veracity of his mission as a prophet and messenger of Allah. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) with the will and permission of Allah, answered their questions. Many primary and subsidiary religious rulings relating to honesty and social living emerge from here as a corollary. This dialogue forms the core of the subject taken up in these verses.

خلاصہ تفسیر اور ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کے پاس رسول بنا کر ( یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت مت کرو ( اور جو بت تم نے قرار دے رکھے ہیں، وَدّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑ دو ، چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جا کر ان سے فرمایا کہ) میں تم کو ( درصورت عبادت غیر اللہ کے) صاف صاف ڈراتا ہوں ( اور اس ڈرانے کی تفصیل یہ ہے کہ) میں تمہارے حق میں ایک بڑے تکلیف دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں سو ان کی قوم میں جو کافر سردار تھے وہ ( جواب میں) کہنے لگے کہ ( تم جو نبوت کا دعوی کرتے ہو جیسا نذیر مبین سے معلوم ہوتا ہے تو ہمارے جی کو یہ بات نہیں لگتی کیونکہ) ہم تو تم کو اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں ( اور بشر کا نبی ہونا دور از کار ہے) اور اگر ( بعض لوگوں کے اتباع کرنے سے استدلال کیا جاوے تو وہ قابل استدلال نہیں کیونکہ) ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا اتباع انہیں لوگوں نے کیا ہے جو ہم میں بالکل رذیل ہیں ( جن کی عقل اکثر خفیف ہوتی ہے پھر) وہ ( اتباع) بھی محض سرسری رائے سے ( ہوا ہے یعنی اول تو ان کی عقل ہی صائب نہیں غور کے بعد بھی غلطی کرتے دوسرے پھر غور بھی نہیں کیا، اس لئے ایسے لوگوں کا تم کو نبی سمجھ لینا یہ کوئی حجت نہیں بلکہ بالعکس ہمارے اتباع سے مانع ہے کیوں کہ شرفاء کو رذیلوں کی موافقت سے عار آتی ہے نیز اکثر ایسے کم حوصلہ لوگوں کے اغراض بھی حصول مال یا ترفع ہوا کرتا ہے، سو یہ لوگ بھی دل سے ایمان نہیں لائے) اور ( اگر یہ کہا جاوے کہ باوجود رذیل ہونے کے ان لوگوں کو کسی خاص امر کے اعتبار سے ہم پر فضیلت ہے جس کے اعتبار سے ان کی رائے اس بات میں سائب ہے سو) ہم تم لوگوں میں ( یعنی تم میں اور مسلمانوں میں) کوئی بات اپنے سے زیادہ نہیں پاتے ( اس لئے تم مسلمانوں کی رائے کو صحیح نہیں سمجھتے) بلکہ ہم تم کو ( بالکل) جھوٹا سمجھتے ہیں، نوح ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم ( تم جو کہتے ہو کہ تمہاری نبوت جی کو نہیں لگتی تو) بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر ( قائم) ہوں ( جس سے میری نبوت ثابت ہوتی ہو) اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت ( یعنی نبوت) عطا فرمائی ہو پھر وہ ( نبوت یا اس کی حجت) تم کو نہ سوجھتی ہو تو ( میں کیا کروں محبوب ہوں) کیا ہم اس ( دعوٰی یا دلیل) کو تمہارے سر منڈھ دیں اور تم اس سے نفرت کئے چلے جاؤ مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ کہنا کہ جی کو نہیں لگتی یہ محض اس وجہ سے ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں، اور میرے پاس اس کے واقع اور صحیح ہونے کی دلیل موجود ہے یعنی معجزہ وغیرہ نہ کہ کسی کا اتباع، اس سے اس کا جواب بھی ہوگیا کہ ان کا اتباع حجت نہیں لیکن کسی دلیل کا فائدہ موقوف ہے غور و فکر پر وہ تم کرتے نہیں اور یہ میرے بس سے باہر ہے) اور ( اتنی بات اور زائد فرمائی کہ) اے میری قوم ( یہ تو سوچو کہ اگر میں نبوت کا غلط دعوٰی کرتا تو آخر اس میں میرا کچھ مطلب تو ہوتا مثلا یہی ہوتا کہ اس کے ذریعہ سے خوب مال کماؤں گا تو تم کو معلوم ہے کہ) میں تم سے اس ( تبلیغ) پر کچھ مال نہیں مانگتا، میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے ( اسی سے آخرت میں اس کا طالب ہوں اسی طرح اور اغراض بھی اگر غور کرو تو منتفی پاؤ گے پھر جب کوئی غرض نہیں پھر مجھ کو جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ تھا خلاصہ یہ ہے کہ کذب دعوی کو کوئی امر مقتضی نہیں اور صدق دعوی پر دلیل قائم ہے پھر نبوت میں کیا شبہ ہوسکتا ہے) اور ( تم جو اتباع اراذل کو اپنے اتباع سے مانع بتلاتے ہو اور صراحةً یا دلالةً یہ چاہتے ہو کہ میں ان کو اپنے پاس سے نکال دوں سو) میں تو ان ایمان والوں کو نکالتا نہیں ( کیونکہ) یہ لوگ اپنے رب کے پاس ( عزت و مقبولیت کے ساتھ) جانے والے ہیں ( اور بھلا کوئی شخص مقربان شاہی کو نکالا کرتا ہے اور اس سے اس کا بھی جواب ہوگیا کہ یہ لوگ دل سے ایمان نہیں لائے) لیکن واقعی میں تم لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ ( خواہ مخواہ کی) جہالت کر رہے ہو ( اور بےڈھنگی باتیں کر رہے ہو) اور ( بالفرض والتقدیر) اگر میں ان کو نکال بھی دوں تو ( یہ بتلاؤ کہ) مجھ کو خدا کی گرفت سے کون بچائے گا ( کیا تم میں اتنی ہمت ہے جو ایسے بیہودہ مشورے دے رہے ہو) کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے اور ( اس تقریر میں ان کے تمام شبہات کا جواب ہوگیا لیکن آگے ان سب جوابوں کا پھر تتمہ ہے یعنی جب میری نبوت دلیل سے ثابت ہے تو اول تو دلیل کے سامنے استبعاد کوئی چیز نہیں پھر یہ کہ وہ مستبعد بھی انہیں البتہ کسی امر عجیب و غریب کا اگر دعوی کرتا تو انکار واستبعاد چندان منکر و مستبعد نہ تھا گو دلیل کے بعد پھر وہ بھی مسموع نہیں البتہ اگر دلیل بھی مقتضی استبعاد کو ہو تو پھر واجب ہے لیکن میں تو کسی ایسے امر عجیب کا دعوی نہیں کرتا چنانچہ) میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ میں ( یہ کہتا ہوں کہ میں) تمام غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور ( یہ تو اپنی نبوت کے متعلق ارشاد فرمایا، آگے اپنے تابعین کے متعلق ارشاد ہے یعنی) جو لوگ تمہاری نگاہوں میں حقیر ہیں میں ان کی نسبت ( تمہاری طرح) یہ نہیں کہہ سکتا کہ ( یہ لوگ دل سے ایمان نہیں لائے اس لئے) اللہ تعالیٰ ہرگز ان کو ثواب نہ دے گا ان کے دل میں جو کچھ ہو اس کو اللہ ہی خوب جانتا ہے ( تو ممکن ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص ہو تو پھر میں ایسی بات کیونکر کہہ دوں) میں تو ( اگر ایسی بات کہہ دوں تو) اس صورت میں ستم ہی کروں ( کیونکہ بےدلیل دعوٰی کرنا گناہ ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے سب باتوں کا پورا پورا جواب دے دیا جس کا جواب پھر ان سے کچھ بن نہ پڑا تو عاجز ہوکر) وہ لوگ کہنے لگے کہ اے نوح تم ہم سے بحث کرچکے پھر اس بحث کو بڑھا بھی چکے سو ( اب بحث چھوڑو اور) جس چیز سے تم ہم کو دھمکایا کرتے ہو ( کہ عذاب آجاوے گا) وہ ہمارے سامنے لے آؤ انہوں نے فرمایا کہ ( اس کو لانے والا میں کون ہوں مجھ کو پہنچا دینے سنا دینے کا حکم تھا سو میں بجا لاچکا) اس کو تو اللہ تعالیٰ بشرطیکہ اس کو منظور ہو تمہارے سامنے لاوے گا اور ( اس وقت پھر) تم اس کو عاجز نہ کرسکو گے ( کہ وہ عذاب واقع کرنا چاہے اور تم نہ ہونے دو ) اور ( جو میرا کام تھا پہنچا دینا اور سنا دینا اس میں میں نے تمہاری پوری خیر خواہی اور دلسوزی کی لیکن) میری خیر خواہی تمہارے کام نہیں آسکتی گو میں تمہاری کیسی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں جب کہ اللہ ہی کو تمہارا گمراہ کرنا منظور ہو ( جس کی وجہ تمہارا عناد و استکبار ہے مطلب یہ کہ جب تم ہی اپنی بد قسمتی سے اپنے لئے نفع حاصل کرنا اور نقصان سے بچنا نہ چاہو تو میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے) وہی تمہارا مالک ہے ( اور تم مملوک تو تم پر اس کے تمام حقوق واجب ہیں اور تم ان کو براہ عناد ضائع کرکے مجرم ہو رہے ہو) اور اسی کے پاس تم کو جانا ہے ( وہ تمہارے اس سارے عناد و کفر کی کسر نکال دے گا) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ قرآن خود تراش لیا ہے آپ ( جواب میں) فرما دیجئے کہ اگر ( بالفرض) میں نے تراشا ہوگا تو میرا یہ جرم مجھ پر ( عائد) ہوگا ( اور تم میرے جرم سے بری الذمہ ہوگے) اور ( اگر تم نے یہ دعوی تراشا ہوگا یعنی مجھ پر بہتان لگایا ہوگا تو تمہارا یہ جرم تم پر عائد ہوگا اور) میں تمہارے اس جرم سے بری الذمہ رہوں گا۔ معارف و مسائل حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی تو قوم نے ان کی نبوت و رسالت پر چند شبہات و اعتراضات پیش کئے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے باذن اللہ ان کے جوابات دیئے جن کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل دیانت اور معاشرت کے بھی آگئے ہں، آیات مذکورہ میں یہی مکالمہ فرمایا گیا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِہٖٓ۝ ٠ۡاِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ ٢٥ ۙ نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥) حضرت نوح (علیہ السلام) جس وقت اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے کہا کہ میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے رسول بنا کر یہ پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29. It is pertinent at this stage to bear in mind Towards Understanding the Qur'an, vol. III. al-A'raf 7: 59-64. nn. 47-50, pp. 37-42.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :29 مناسب ہو کہ اس موقع پر سورہ اعراف رکوع ۸ کے حواشی پیش نظر رکھے جائیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٥۔ ٢٦۔ مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس اپنی قوم کو وہ نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد پھر زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے ١ ؎ صاحب شریعت انبیاء کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے پہلے تک کے لوگوں میں بت پرستی نہیں تھی۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے اس قوم نے بت پرستی دنیا میں شروع کی جس کی تفصیل صحیح بخاری کی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت ٢ ؎ سے سورة نوح میں آوے گی غرض حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے انبیاء اور ان کی قوم کا قصہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما کر آخر کو { وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القریٰ (١: ١٠٢)} فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عادت الٰہی یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے راہ پر لانے اور سمجھانے کو انبیاء بھیجے جاتے ہیں آسمان سے ہر طرح کی فہمائش کے احکام اتارے جاتے ہیں قوم کے جاہل لوگ نبی وقت کو جھٹلائیں یا کچھ تکلیف دیں تو نبی کو صبر کرنے اور تکلیف سہنے کا حکم ہوتا ہے قحط بیماری جانی ومالی نقصان پہلے دنیا کے ان چھوٹے چھوٹے خاص عذابوں سے قوم کی تنبیہ کی جاتی اور سرکشی دور کی جاتی ہے اس پر اگر لوگ نہ مانیں تو عام عذاب پھیل کر سب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ الغرض تاریخی پچھلے کسی حال سے آئندہ کا کوئی معاملہ ثابت کرنا یہ ایک بہت عمدہ طریقہ ہے مثلاً شاہجہان بادشاہ کے عہد میں کسی شخص کا یہ کہنا کہ جس طرح اب وزیروں میں پھوٹ پڑگئی ہے اسی طرح کی پھوٹ اکبر بادشاہ کے عہد میں تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی پھوٹ سے اکبر کی بادشاہت میں بڑی خرابی پھیلی تھی اس مقولے سے اس کہنے والے کا یہ مطلب ہے کہ تاریخی تجربہ کے قرینہ سے اس زمانہ حال کی پھوٹ کا نتیجہ بھی آئندہ ملک کی خرابی کا وہی ہوگا جو اکبر کے زمانہ میں ہوا اس تاریخی ثبوت کے ڈھنگ پر جگہ جگہ قرآن شریف میں پچھلے انبیاء اور گزشتہ امتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ظاہر میں ان قصوں کا ذکر کیا جانا خیال میں آتا ہے لیکن حقیقت میں اس سے ایک معاملہ گزشتہ کو معاملہ حال سے مطابقت کی جا کر آئندہ کا نتیجہ لوگوں کی سمجھ میں آنا مقصود ہوتا ہے یہاں آئندہ کا نتیجہ یہی مقصود ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تشفی اور تسلی دی گئی ہے کہ اے نبی برحق تم دل جمعی رکھو اگر یہ قریش باوجود فہمائش کے تمہاری نصیحت نہ مانیں گے تو جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون کی قوم تک انجام ہوا چند روز میں وہی انجام ان کا ہوگا چناچہ { وکلا نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت بہ فوادک (١١: ١٢٠)} سے اس دلجمعی کی طرف اشارہ ہے اور قریش کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر باوجود فہمائش کے تم اپنی سرکشی سے باز نہ آؤ گے تو پچھلی قوموں کی طرح ہلاک کر دئیے جاؤ گے { وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وھی ظالمۃ (١١: ١٠٢)} سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ نصیحت کی کہ اگر تم لوگ بت پرستی سے باز نہ آؤ گے تو تم پر عذاب کے آجانے کا خوف ہے۔ اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ بت پرستی کو چھوڑو اور جس اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے خالص دل سے اسی کی عبادت کرو۔ { نذیر مبین } کا یہ مطلب ہے کہ بت پرستی اللہ کو بہت ناپسند ہے اس لئے صاف لفظوں میں اس کے وبال سے تم لوگوں کو ڈرا دینا میرا کام ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ (رض) اور عبد اللہ بن مسعود (رض) کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے۔ اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے تاکہ لوگوں کو اللہ کی مرضی اور نامرضی کی باتیں معلوم ہوجاویں اور کسی کو ان باتوں کی انجانی کا عذر باقی نہ رہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نماز روزہ حلال و حرام کے احکام ضرورت کے موافق ہر ایک صاحب شریعت نبی کے زمانہ میں بدلتے رہتے ہیں ٢ ؎ اور اسی کو ہر ایک نبی کی شریعت کہتے ہیں مگر توحید جو اصل دین ہے اس سے کوئی شریعت خالی نہیں رہی ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ احکام دین کی انجانی کے سبب سے دنیا میں جب سے شرک پھیلا اس کے رفع کرنے کے لئے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے اور ہر ایک شریعت میں توحید کی تاکید قائم رکھی اور ہر ایک نبی نے عمر بھر اس تاکید کو ہر طرح پورا کیا لیکن عمل الٰہی میں جن لوگوں کا شرک کی حالت میں مرنا ٹھہر چکا تھا ان کے دل پر انبیاء کی نصیحت کا پورا اثر نہ ہوا کیونکہ بعضے نبی ایسے بھی گزرے ہیں جن کی تمام عمر کی کوشش میں فقط ایک ہی شخص راہ راست پر آیا۔ چناچہ صحیح مسلم کی انس بن مالک (رض) کی روایت میں اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن بعضے نبیوں کے ساتھ فقط ایک شخص فرمانبردار ہوگا اور باقی امت نافرمان ٣ ؎ ہوگی صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت ایک جگہ گزرچکی ہے کہ بہ نسبت اور امتوں کے امت محمدیہ کی تعداد قیامت کے دن زیادہ ہوگی اس حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ یہ قرآن کا ایک ایسا معجزہ ہے کہ قیامت کے دن اس کے پیرو اور آسمانی کتابوں کے پیروی کرنے والوں سے زیادہ ہوں گے۔ ٤ ؎ ١ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٢٦١۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٠٩ باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء الخ۔ ٣ ؎ صحیح مسلم ص ١١٢ ج ١ باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار و صحیح مسلم ص ٨٦ ج ١ باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ۔ ٤ ؎ صحیح بخاری ص ٧٤٤ ج ٢ باب کیف نزول الوحی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ جن حالات میں نبی و مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) کو پیش آچکے تھے۔ اس لئے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء ( علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ایک طرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہمت بندھے اور دوسری طرف کفار مکہ کو تہدید اور تنبیہ ہو۔ (کبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٢٥ تا ٣٥ اسرار و معارف بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔ بشریت ونبوت مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو فورا اعتراض کرنے لگے کہ بھلا آپ نبی کیونکہ ہوسکتے ہیں ؟ آپ تو ہماری طرح بشر ہیں ، ہماری طرح کھانا پینا سونا جاگنا سب تو آپ میں ہے پھر آپ کو یہ امتیازی شان کیسے نصیب ہوگئی ۔ ان کا خیال تھا کہ نبی بشر نہیں ہونا چاہیئے حالانکہ ساری مخلوق میں سے نبوت کا تاج بشریت کو نصیب ہواہاں نبی مثالی بشر اور انسان ہوتا ہے اور لوگ اپنے اور پر قیاس کریں تو بات نہیں بنتی نیزنبی کی بشریت کا انکاررداصل نبوت کا انکار ہے کہ انسانوں ہی کو برکات پہنچانے انہی کی جنس میں سے انبیاء چنے گئے اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو ماننے والے توغریب اور نادارلوگ ہیں جن کی رائے بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ ارذل کمینے آدمی کو کہا جاتا ہے تو گویا کفار کے نزدیک معیارشرافت و دانائی دولت دنیا تھی حالانکہ شرافت کا معیاران کا کردارہوتا ہے جس کی بنیاد اس کے عقائد بنتے ہیں تو اس اعتبار سے رذیل یاکمینہ وہ ہوگا جس کے عقائدخراب ہوں جیسے امام مالک (رح) سے کسی نے پوچھا کہ سب کمینہ کون ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہے کہ وہ پوری انسانیت کے محسن ہیں جن کے ذریعہ سے وین حق پہنچا۔ دنیا کی دولت تو کبھی معیار نہیں بن سکتی کہ اکثر کافر یاعملا رذیل انسان بھی حاصل کرسکتے ہیں مگر نور ایمان کسی میں رذالت یاکمینہ پن نہیں رہنے دیتا اگرچہ آج کے بگڑے ہوئے معاشرے میں پھر یہی رواج ہے کہ دولتمند ہی دست آدمی ہے اور اسی کی رائے صائب ہے مگر یہ معیار کفار کا ہے ۔ اسلامی معیاردین ہے خواہ امیر کے پاس ہو یا غریب کے سینے میں جو جس قدردیندار ہے اسی قدرعزت واحترام کا مستحق ہے ۔ مگر کفار کو یہ بات بھی ایمان سے مانع تھی کہ وہ غریب آدمیوں کے ساتھ مل کربیٹھیں یا ان جیسے عقائداختیار کرکے ان کے ساتھ مل کر عبادت کریں ۔ مگر دیکھایہ گیا ہے کہ دولت کانشہ عموما انسانی رائے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے اور غریب اکثر درست فیصلے کرپاتا ہے اسی لئے انبیاء کے پیروکار ابتدائی ایام میں غریب ہی ہوتے تھے کہ امراء اکثر دنیا کے منافع پر جمع ہوتے ہیں۔ ہرقل روم کو جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نامہ مبارک پہنچا اور اس نے تحقیق کرنا چاہی تو ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماننے والے امیرلوگ ہیں یاغربائ ؟ جب پتہ چلا کہ غرباء ہیں تو کہنے لگا یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انبیاء کو اول اول غریبوں نے ہی مانا ہے۔ تیسرے اعتراض انھیں یہ تھا کہ ایمان لانے کے باعث بظاہرتو تم لوگوں کو ہمارے مقابلے میں کوئی کامیابی نصیب ہوتی نظر نہیں کہ آتی تمہیں دولت یا اقتدار یا کوئی دنیا کی بڑی نعمت مل گئی ہو تو پھر ہم آخرکیوں ایمان لائیں ؟ بلکہ ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو آپ کہتے ہیں جھوٹ ہے۔ جیسے آج بھی بہت سے لوگوں کی سوچ یہی ہے کہ بماز روزہ اور عبادت کرنے سے آدمی شاید روزمرہ کی ضروریات سے بالاترہوجاتا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہ ہونی چاہیئے ۔ حالانکہ یہ ایک الگ نظام ہے اور ایمان وعمل ایک الگ کیفیت دیکھنا یہی ہے کہ اس نظام کائنات میں رہتے ہوئے کوئی ایمان لاتا ہے یا کفر کرتا ہے اگر ایمان لانے سے ایسا ہونے لگے جیسے عام لوگ توقع کرتے ہیں تو بھلا کافر کون رہے گا مگر پھر اس ایمان کی کیا قیمت جو اللہ کے لئے نہ تھا صرف دنیا کی غرض سے تھا۔ لہٰذا انھوں نے فرمایا ہیں جو کہتا ہوں وہ دلیل سے کہتا ہوں اور اس کی حقانیت میرے معجزات سے بھی ظاہر ہے اس پر نقلی دلائل بھی موجود اور عقلی دلائل بھی بیشمار ہیں اور اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہے نورنبوت رحمت الٰہی کا خزانہ ہے جسے ایمان نصیب ہوتا ہے اس کے دل پر رحمت کی گھٹاچھاجاتی ہے اور جو لطف جو مزے اسے نصیب ہیں بھلا تم کو ان کی خبرکہاں ؟ اگر تم نے خود ہی آنکھ بند کرلی یا تمہارے کرتوتوں کے باعث اللہ نے تمہیں یہ سب دیکھنے کی توفیق نہ دی تو کوئی زبردستی نہیں ہوسکتی کہ جن نظریات کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تم پر مسلط کئے جائیں۔ اگر خدانخواستہ میں یہ سب ڈھونگ رچاتا تو اس کا بھی کوئی تو مقصد ہوتا اور ظاہر ہے جب اللہ کے لئے نہ ہوتا تو اس کا مقصد دولت دنیا تو ہوناقدرتی بات تھی تو کیا میں نے تم سے دولت کا سوال کیا ہے ؟ یا چندے مانگتے شروع کریئے ہیں ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ میرا اجرتو اس ذات کریم کے پاس ہے جس کا میں کام کررہا ہوں اور وہی سب کو دینے والا بھی ہے اگر اس نے تمہیں زیادہ مال دیا ہے مگر تم کفر کرتے ہو اور جنہیں مال کم دیا ہے وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے تو اب کیا انھیں بھگادوں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ معیار دولت دنیا نہیں بلکہ معیار انسانیت وآدمیت کو اللہ کے ہاں قبولیت ہے اور یہ خوش نصیب نور ایمان کی بدولت فردائے قیامت شاداں وفرحاں اس کی بارگاہ میں پہنچیں گے جب کہ تم اپنی جہالت کے باعث یہ سعادت ضائع کر رہے ہو۔ اللہ کے خزانے میں نے نبوت کا دعوے کیا ہے جس پر میں دلائل دے رہا ہوں ۔ کوئی اللہ کا شریک اس کی ذات یا صفات میں نہیں بن رہا کہ میں کہدوں اللہ کے خزانے میرے ہاتھ میں ہیں اب میں جو چاہوں کروں ۔ ہرگز نہیں ! میں تو اس کا بندہ اور نبی ہوں ، وہ اپنے نظام کا خود مالک ہے۔ یہاں ان لوگوں کے وہم کی تردید بھی ہوگئی جو اولیاء اللہ کو سب خزانوں کا مالک سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اہل اللہ جو چاہیں کریں بلکہ معاملہ الٹ ہے ۔ اولیاء اللہ وہ کرتے ہیں اور اس پر راضی رہتے ہیں جو اللہ کو منظور ہو ۔ ہاں ! اس سے دعا کرنا یا دعا کا قبول فرمانا الگ بات ہے۔ علم غیب اور نہ میرایہ دعوی ہے کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ۔ علم غیب سے مرادیہ ہے وہ سب ذرائع سے غائب ہو یعنی کسی بھی ذریعے سے حاصل نہ کیا جائے اور یہ صرف اللہ کا خاصہ ہے انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ کی طرف سے اطلاع دی جاتی ہے ۔ وحی الہام یا القا ان کے جاننے کا سبب بنتا ہے لہٰذا اسے علم غیب کہنا ہی درست نہیں یہ اطلاع من الغیب کہلاتا ہے اور ولی تو نبی کی اطاعت سے پاتا ہے اور نبی ورسول کو عالم الغیب ہونا ضروری بھی نہیں کہ اس نے تو مالک کا حکم پہنچانا ہے اور مالک خود غیب دان کافی ہے۔ اولیاء بھی انسان ہوتے ہیں نہ میرا یہ دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں کہ نہ کھاؤں نہ پئوں نہ رنج ہو اور نہ راحت کا سوال بھئی ! میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ یہاں ان توہمات کی بھی تردید ہوگئی جو اولیاء اللہ کے بارے جہلا میں مشہور ہیں کہ وہ کوئی اور طرح کی مخلوق ہوتے ہیں نہ گھرگھاٹ ہوتا ہے نہ کھاتے پیتے ہیں بلکہ جنگلوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ سب خرافات ہیں بلکہ اولیاء اللہ سب سے زیادہ مناسب وموزوں زندگی بسر کرنے والے ہوتے ہیں کبھی مافوق الفطرت نہیں ہوتے اور نہ میں اس بات پہ متفق ہوسکتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں انھیں اللہ بھی کچھ نہیں دے گا وہ تو دلوں کے بھید جانتا ہے اور اجر کا معیار تو دلی کیفیات ہیں کہ کون اپنے دل کے حال سے اس کے کس قدر قریب ہے جب انھیں نور ایمان نصیب ہے تو دل کا تعلق تو ثابت ہے اب کس کا کتنا ہے یہ اللہ خود جانتا ہے اگر میں بھی تمہاری ہاں میں ہاں ملانے کو کہہ دوں کہ انھیں کچھ نہیں ملے گا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی جس کی توقع تمہیں میری ذات سے نہ رکھنا چاہیئے۔ تو ہر طرح سے لاجواب ہو کر کہنے لگے کہ بہت بحث ہوچکی اور صدیاں بیت گئیں آپ کہنے سے باز نہیں آئے اور ہم نے مان کر نہیں دیا اب فیصلہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ آپ جس عذاب سے ڈراتے ہیں اگر یہ سچ ہے تو وہ عذاب لے آیئے انھوں نے فرمایا میراکام عذاب لانا نہیں بلکہ اعمال کے کھرے کھوٹے ہونے اور اس پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کرنا ہے لیکن اگر تمہارا خیال ایسا ہی ہے اور تم نے یہی فیصلہ کرلیا تو پھر اللہ نے چاہا تو ایسا بھی ہو کر رہے گا اور تم اسے روک نہیں سکوگے ۔ چناچہ انھوں نے بددعافرمائی اور قوم پر غرق کا عذاب نازل ہوا۔ فرمایا اگر میں کوشش بھی کرتا رہوں تو میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ کی نافرمانی تم اس حدتک کرچکے ہو کہ اب اسنے تمہیں اپنے در پر آنے روک دیا ہے اور وہی تمہارا رب ہے تقاضائے ربوبیت ہے کہ ہر درخت پر اس کا مخصوص پھل لگے پھر تمہیں اسی کی بارگاہ میں جوابدہ بھی ہونا ہے تو گویا ہر فردکا ایک ذاتی رابطہ بھی اپنے رب سے ہے اگر وہی ٹوٹ گیا تو پھر اصلاح کیسی۔ رہی یہ بات کہ تمہارا خیال ہے یہ سب میں نے اپنی طرف سے گھڑلیا ہے جبکہ یہی بات مشرکین مکہ بھی دہراتے تھے اور اکثرکفار کے منہ سے وہی کافرانہ جملے ادا ہوتے ہیں جو ان سے پہلے کافروں کے منہ نکلے ہوں شایدیہ دلوں کی مشابہت کا اثرہو تو فرمایا آپ بھی انھیں وہی جواب ارشاد فرمائیے کہ اگر میں نے یہ سب اپنی طرف سے گھڑا ہے تو اس میں تمہارا تو کچھ نہیں بگڑے گا کہ تم تو قبول ہی نہیں کر رہے لہٰذا اپنی بات کا ذمہ تو میں خود لیتا ہوں مگر یادرکھو ! جو کرتوت تمہارے ہیں وہ بھی تمہی کو بھگتناہوں گے ۔ میراتم سے یا تمہارے اعمال سے کوئی سروکارنہ ہوگا۔ بدعات ورواجات تو یہ بھی ثابت ہوا کہ جو رسامات وبدعات جہلا میں پھیلی ہوئی ہیں اور جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان سے کوئی تعلق نہیں نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بارے سفارش فرمائیں گے بلکہ بنانے اور عمل کرنے والے بھگتیں گے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 30 اخاف (میں ڈرتا ہوں، اندیشہ رکھتا ہوں) الملاء (سردار) مانری (ہم نہیں دیکھتے) فضل (برتری، بڑائی) اتبعک (جو تیرے پیچھے چلا) اراذل (رذیل) معمولی حیثیت رکھنے والے بادی الرای (سوچنے سمجھنے والے نہ ہوں) عمیت (اندھا کردیا گیا جو نظر نہ آئے) نلزم (ہم مسلط کریں گے) کرھون (برا سمجھنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا ) طارد (دھکے دینے والا، نکالنے والا) طردت (میں نے نکال دیا) افلا تذکرون (کیا پھر تم اتنا غور نہیں کرتے) تشریح :- آیت نمبر 25 تا 30 اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ابتدا سے ہی لوگوں نے انسانی شرافت اور عظمت کو مال و دولت کی ترازو پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے پاس جتنی دولت ہے اس کا رتبہ اتنا ہی بڑا اور وہی عزت و شرافت کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جو شخص مفلس، غریب اور خلای ہاتھ ہے وہ اپنی تمام تر شرافتوں کے باوجود معاشرہ کی نگاہ میں بہت ہی معمولی ذلیل اور نچلے طبقہ والا سمجھا جاتا ہے۔ یہ خرابی آج سے ہزاروں سال پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے۔ لیکن تمام انبیاء کرام کو جو بھی تعلیمات عطا فرمائی گئی ہیں ان میں سے اس بات کا صاف صاف اعلان موجود ہے کہ اللہ کی نظر میں صرف وہی ہے سب سے زیادہ عزت و شرافت والا ہے جو تقویٰ اور پرہیزگاری کا پیکر ہے۔ اگر ایک شخص مفلس اور غریب ہے لیکن تقویٰ میں سب سے اونچا ہے تو وہ ایسے ہزاروں لاکھوں مال داروں سے زیادہ افضل و بہتر ہے جن میں تقویٰ کی صفات موجود نہیں ہیں۔ حضرت آدم سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک تقریباً ہر نبی سے کفار و مشرکین نے دو باتیں ضرور کہی ہیں : 1) ہم تمہیں اللہ کا نبی کیسے مان لیں جب کہ بشریت کے لحاظ سے تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا تم ہمارے جیسے انسان ہو۔ 2) دوسرے یہ کہ جو لوگ تمہارے ساتھ ہیں وہ معاشرہ کے گھٹیا اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے ہیں (نعوذ باللہ) جب تک تمہاری مجلسوں میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں ہم تمہاری مجلس میں بیٹھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ حضرت نوح پر بھی یہی دو اعتراض کئے گئے ۔ قرآن کریم میں ان دو باتوں کے تفصیلی جوابات دیئے گئے ہیں۔ مثلاً جب کفار و مشرکین نے یہ کہا کہ ” تم ہی جیسے بشر ہو “ تو اس کے جواب میں ہر نبی نے یہی فرمایا کہ بیشک ہم تم جیسے بشر ہیں لیکن ایک بہت واضح فرق ہے اور وہ یہ کہ ہماری طرف اللہ وحی بھیجتا ہے اور ہم اس کی پیروی کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اسی وحی کی پیروی کر کے دائمی نجات حاصل کرلے یعنی کسی نبی نے کفار کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ ہم بشر نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تقریباً تمام انبیاء کی زبان سے یہی کہلوایا ہے کہ اے نبی ! اس بات کا اعلان کر دو کہ ہم تم جیسے بشر ہیں لیکن ہماری طرف وحی کی جاتی ہے ۔ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو انبیاء کرام کی بشریت کا انکار کر کے جاہلوں سے ” سبحان اللہ “ کے نعرے بلند کرا کے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر انبیاء کرام بشر نہیں ہوتے تو آخر اللہ کی وہ کونسی مخلوق ہوتے ہیں جس میں وہ ان کو شامل کرتے ہیں۔ ہمیں تو قرآن کریم سے سبق ملتا ہے کہ اللہ نے اپنی ساری مخلوق میں انسان کو سب سے افضل و بہتر بنایا ہے۔ جس شیطان نے بشریت کو صرف مٹی اور گارے سے بنا ہوا پتلا سمجھا اللہ نے اس کو قیامت تک کے لئے اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور جنہوں نے بشریت کی عظمت کو پہچان لیا اور اس کی عظمت کے سامنے اپنا سر جھکا دیا وہ اللہ کے مقرب بن گئے۔ بلاشبہ انبیاء کرام بشر ہوتے ہیں مگر ایسے بشر جن پر بشریت ناز کرتی ہے۔ اور وہ انسانی عظمتوں کی یپکر ہوتے ہیں۔ انبیاء کرام پر دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ماننے والے وہ لوگ ہیں جن کا تعلق معاشرہ کے بہت چھوٹے طبقے سے ہے۔ یہ اعتراض بھی تمام انبیاء کرام پر کیا گیا جس کا جواب ان انبیاء کرام کی زبان سے دلوایا گیا۔ مثلاً حضرت نوح سے ان لوگوں نے جن کے سامنے آپ نے ایمان کی دعوت کو پیش کیا یہی کہا کہ ہم اس بات کا کیسے اقرار کرلیں جب کہ تمہارے ماننے والے وہ سطحی رائے رکھنے والے غریب لوگ ہیں جن کی رائے اور حیثیت کا معاشرہ میں اعتبار نہیں کیا جاتا۔ حضرت نوح نے ان کے اعتراض کا نہایت متانت اور سنجیدگی سے یہی جواب دیا کہ میں تم سے کسی مال و دولت کا سوال نہیں کرتا۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے اور میں ان لوگوں کو جو ایمان لا کر اللہ کے مخلص بندے بن چکے ہیں اپنی مجلس سے نہیں نکال سکتا کیونکہ اللہ کے ہاں کسی کی شرافت کا معیار دنیا کی گھٹیا دولت نہیں ہوتی بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری اور ایمان کا وہ جذبہ ہوتا ہے جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ قیامت میں وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنا اعلیٰ مقام حاصل کرلیں گے۔ اگر میں نے اللہ کے ایسے مقرب بندوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا تو کل قیامت میں میری مدد کون کے گا ؟ نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اسی طرح کے جاہلانہ سوالات کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے بھی یہی اعلان کرایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے کہ میں تم جیسا بشر ہوں لیکن میری طرف اللہ کی وحی کی جاتی ہے دوسرے یہ کہ جو غریب ، مفلس لیکن مخلص مسلمان میرے اردگرد جمع ہیں میں ان کو اگر چند سرداروں کی خوشی کے لئے نکال دوں گا تو یہ اتنا بڑا ظلم اور زیادتی ہوگی جس کو اللہ معاف نہیں کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ قرآن پاک کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھی جاچکی ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے ان سب نے اپنی دعوت کا آغاز اللہ کی توحید سمجھانے سے کیا۔ جس کا تقاضا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جن کو اوّلُ الرُّسُل بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو یہی فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ میں تمہیں اس طریقہ عبادت کے انجام سے واشگاف الفاظ میں آگاہ کررہا ہوں جس طریقہ سے تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں بلکہ اگر تم اس طریقہ عبادت سے باز نہ آئے تو تم پر اذیت ناک عذاب نازل کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے فوت شدہ انبیاء اور بزرگوں کے مجسمے بنائے ہوئے تھے۔ جنہیں سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس طرح اللہ کی عبادت کرنے کا زیادہ لطف آتا ہے اور ان کی ارواح ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے سمجھانے پر وہ لوگ سمجھنے کی بجائے یہ کہنے لگے کہ اے نوح ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ وہ لوگ ایک دوسرے کو پکا کرتے ہوئے کہتے کہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو ہرگز نہیں چھوڑنا۔ یہ اس قوم کے پانچ فوت شدہ بزرگ تھے۔ عبادت کا مفہوم : اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے۔ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو زبان سے اقرار کرے اور اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے رہا ہو۔ اے اللہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز و بےبس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے۔ دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ یہ میرا مال ہے ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔ اس عہد کو نمازی پانچ وقت تشہد میں دہراتا ہے : (اَلتَّحَیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ) ” تمام قسم کی قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ “ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم : (قُلْ إِنَّ صَلَاتِیْْ وَنُسُکِیْْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ )[ الانعام : ١٦٢۔ ١٦٣] ” کہہ دیجیے ! یقیناً میری نماز، قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اسلام لانے والا ہوں۔ “ مسائل ١۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف ڈرانے والا بناکر بھیجا گیا۔ ٢۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلایا۔ ٣۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز اللہ کی توحید سے کیا کرتے تھے : ١۔ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (ہود : ٢٦) ٢۔ حضرت ہود نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں۔ (الاعراف : ٦٥) ٣۔ حضرت صالح نے کہا اللہ کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : ٧٣) ٤۔ حضرت شعیب نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ (ہود : ٨٤) ٥۔ ہم نے ہر قوم کی طرف رسول بھیجے اور انہوں نے دعوت دی کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے بچو۔ (النحل : ٣٦) ٦۔ بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے، اسی کی عبادت کرو۔ (الزخرف : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 100 ایک نظر میں قصص انبیاء اس سورت کا مرکزی موضوع ہے۔ لیکن ، اصل مقصود بذات خود قصہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود وہ حقیقت ہے جسے ان قصص کے ذریعے ثابت کیا جا رہا ہے اور سورت کے آغاز میں مجملاً اس کا تذکرہ کردیا گیا ہے : الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (١) أَلا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (٢) وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ (٣)إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (٤): " ال ر۔ فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں ، اور بشارت دینے والا بھی۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ " سورت کے آغاز میں ان حقائق کے بارے میں متعدد اور مکرر بار تبصرہ ہوچکا ہے۔ زمین اور آسمان کے نظام ، انسانی نفس کی تخلیق اور حشر کے میدان کے مکالموں کے ذریعے ان حقائق کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب یہاں کرہ ارض کے اطراف و اکناف میں بسنے والے انسانوں اور ان کی تاریخ کے حوالے سے ان حقائق کو پیش کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کی یہ کشمکش ایک تاریخی کشمکش ہے۔ اور ابتدائے آفرینش سے یونہی چلی آرہی ہے۔ یہ قصص اس سورت میں قدرے تفصیل سے آئے ہیں ، خصوصاً حضرت نوح کا قصہ طوفان۔ اس میں وہی نظریاتی کشمکش ہے جس کا سورت کے آغاز میں ذکر ہوا۔ اور وہی حقائق اس میں موضوع جدال ہیں جن کو لے کر ہر دور میں ہر رسول آیا ہے۔ گویا موجود مکذبین بھی وہی ہیں جو حضرت نوح سے ادھر تکذیب کرتے آئے ہیں۔ ان کا مزاج ایک ہے ، ان کی سوچ ایک جیسی ہے اور پوری تاریخ انسانی میں جس طرح رسولوں کی دعوت ایک ہے ، مکذبین کا جواب بھی ایک ہے۔ اس سورت کے قصے تاریخی ترتیب کے مطابق ہیں۔ آغاز حضرت نوح سے ہوتا ہے ، پھر حضرت ہود ، پھر حضرت صالح ، کچھ اشارہ حضرت ابراہیم کی طرف اور پھر بحث حضرت لوط کی طرف چلی جاتی ہے ، پھر حضرت شعیب اور پھر حضرت موسیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات آگے بڑھ جاتی ہے اور تاریخی ترتیب کو اس لیے یہاں بحال رکھا ہے کہ مقصد پچھلوں کو اگلوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے اور یہ بتانا ہے کہ پوری انسانی تاریخ کا طرز عمل ایک جیسا ہے۔ قصہ نوح تاریخی اعتبار سے بھی مقدم ہے ، سورت میں بھی مقدم ہے تو لیجییے قصہ نوح علیہ السلام۔ ۔۔۔ درس نمبر 100 تشریح آیات 25 تا 49 ۔۔۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ : (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا۔ یہ وہی الفاظ ہیں جو آغاز سورت میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور آپ کے پیغام کے بارے میں کہے گئے ہیں کہ یہ کتاب ہے جس کی آیات پختہ ہیں اور مفصل ہیں اور ایک حکیم اور خبردار ذات کی طرف سے ہیں اور میں اس کی طرف سے نذیر اور بشیر ہوں۔ دعوت کے مفہوم اور مقصد کو ایک ہی جیسے الفاظ میں ادا کرنے سے یہ ثابت کرنا مطلوب ہے کہ تمام انبیاء کا مشن اور ان کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ ان کے نظریات ایک ہی رہے ہیں ، اسی وجہ سے انداز تعبیر بھی ایک ہی جیسا اختیار کیا گیا ہے ، یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہاں حضرت نوح کے اپنے الفاظ کو نقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کے مفہوم کو عربی میں ادا کیا گیا ہے اور یہی راجح مذہب ہے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ حضرت نوح کی زبان کیا تھی ؟ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: " (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں "۔ یہاں متن قرآن میں لفظ " اس نے کہا " نہیں لایا گیا۔ ایک تو اس لیے کہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ گویا حضرت نوح ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور ایک زندہ اور چلتا پھرتا منظر ہمارے سامنے ہے اور آپ تقریر فرما رہے ہیں اور ہم سن رہے ہیں۔ اس لیے ماضی کا بیانی اور حکایتی انداز اختیار نہیں کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ یہاں فریضہ رسالت کو نہایت ہی مختصر الفاظ میں اور مخصتر مفہوم میں بتا دیا گیا ہے کہ " میں تم کو صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں " یہ انداز سامعین کے وجدان میں مقاصد رسالت کو اچھی طرح ذہن نشین کردیتا ہے "

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28: پہلا قصہ۔ یہ پہلا قصہ ہے جو پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلے بدیں الفاط اپنی قوم کے سامنے دعوت الٰہی پیش کی۔ اِنِّیْ لَکُمْ نَذیْرٌ مُّبِیْنٌ اَنْ لّ ۔ ا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰہَ میں اللہ کی طرف سے ڈرانے والا ہوں ظاہر اور میرا پیغام یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا میں ان مفسرہ ہے اور اَرْسَلْنَا یا نَذِیْرٌ کے متعلق ہے یا ان مصدریہ ہے اور حرف جار مقدر ہے ای بان لا تعبدوا (روح) ۔ اس کے جواب میں قوم نے چار باتیں طنز و اعتراض کے طور پر کہیں اول مَا نَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا تم ہماری مانند بشر اور انسان ہو اس لیے ہم اپنے جیسے کا اتباع کیوں کریں۔ دوم وَ مَا تَرٰکَ اتَّبَعَکَ اور پھر جو لوگ لوگ تمہارے پیچھے لگے ہیں وہ معاشرہ میں گھٹیا پوزیشن والے اور کمین لوگ ہیں ارادو اتبعک اخساؤنا وسقطنا و سفلتنا (قرطبی ج 9 ص 23) ۔ ہم ایسے شرفاء نے تم کو نہیں مانا اور جن معمولی لوگوں نے تمہیں قبول کیا ہے انہوں نے بھی بغیر سوچے سمجھے اور بلا تدبر و تفکر محض اوپرے دل ہی سے مانا ہے اس لیے ان کا ایمان بھی بےحقیقت اور نا پائیدار ہے ای ات بعد فی بادی الرای ای بلا فکر او فی الظاھر لا فی الحقیقۃ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ سوم وَمَا نَرٰی لَکُمْ عَلَیْنَا الخ اور تمہارے اندر ہمیں کوئی ایسی فضیلت بھی نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے ہم تمہیں اپنا پیشوا اور رہنما تسلیم کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور ان کے متبعین کے سینے نور توحید سے منور تھے اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوسکتی تھی مگر ان کور باطنوں کو یہ فضیلت نظر نہ ٓئی۔ چہارم بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبیْنَ بلکہ تم تو سب کو جھوٹے سمجھتے ہیں۔ اے نوح تجھ کو دعوائے نبوت میں اور تیرے پیرو وں کو تیری تصدیق میں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

25 اور بلاشبہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا انہوں نے اپنی قوم سے کہا میں تم کو صاف صاف ڈرانے والا ہوں یعنی واضح اور صاف طورپر ڈراتا ہوں۔