Surat Hood

Surah: 11

Verse: 30

سورة هود

وَ یٰقَوۡمِ مَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اِنۡ طَرَدۡتُّہُمۡ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳۰﴾

And O my people, who would protect me from Allah if I drove them away? Then will you not be reminded?

میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلے میں میری مدد کون کر سکتا ہے ؟ کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Surely, they are going to meet their Lord, but I see that you are a people that are ignorant. And O my people! Who will help me against Allah, if I drove them away! Will you not then give a thought!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 گویا ایسے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا، اللہ کے غضب اور ناراضگی کا باعث ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 30؀ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) اور اگر تمہارے کہنے کے مطابق میں ان کو نکال بھی دوں تو عذاب الہی سے مجھے کون بچائے گا کیا میری ان باتوں سے بھی نصیحت نہیں حاصل کرتے کہ ایمان لے آؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّہُمْ ) یہ سب سچے مؤمنین ‘ اللہ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعائیں مانگنے والے لوگ ہیں۔ اگر میں تمہارے کہنے پر ان کو دھتکار دوں تو اللہ کی ناراضگی سے مجھے کون بچائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٠۔ جس طرح نوح (علیہ السلام) کے قوم کے مالدار لوگوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے یہ جھگڑا کیا کہ اے نوح (علیہ السلام) اگر تم ان کم عزت اور مفلس لوگوں کو اپنی مجلس میں آنے سے روک دو گے تو ہم مالدار اور عزت دار لوگ کبھی کسی وقت تمہاری مجلس میں آکر کچھ تمہاری نصیحت سنیں گے اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جواب دیا جس جواب کا ذکر اس آیت میں ہے سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ قریش میں عزت دار اور مالدار لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی خواہش کو پورا کرنے سے منع فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر قیامت تک آخر شیطان تو ایک ہی ہے جو ہر زمانہ کے لوگوں کو بہکاتا ہے اس واسطے ہر ایک زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں اس ظالم نے ایک ہی طرح کے وسوسے ڈالے ہیں اور ہر وقت کے منکر لوگوں نے ہر زمانہ کے رسول سے ایک ہی طرح کے ملتے جلتے جھگڑے کئے ہیں اور ایک مدت دراز سے ان جھگڑوں کا رواج ہر زمانہ کے منکر لوگوں میں چلا آیا ہے لیکن خواہ کسی قدر مدت دراز کا رواج ہو شریعت الٰہی میں بغیر حکم الٰہی اور سند شرعی کے کوئی رواج معتبر نہیں ہے اس لئے ہر زمانہ کی شریعت نے اس رواج کو نامعتبر ٹھہرایا اور توڑا یہ رواج تو اللہ کے رسولوں سے جھگڑا کرنے کا ایک بدعات کا رواج تھا۔ ظاہر میں اگر کوئی بات نیک معلوم ہوتی ہو اور سند شرعی سے اس بات کی تائید نہ ہوتی ہو تو اس طرح کی نیک بات کا رواج بھی شریعت میں جائز نہیں ہے۔ صحیحین کی حضرت انس (رض) کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے صحابیوں نے خلاف سنت ہمیشہ روزہ رکھنے اور بعضوں نے ہمیشہ مجرور رہنے کا عہد کیا تھا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان صحابہ پر خفا ہوئے اور فرمایا کہ جو شخص میری سنت کے خلاف کوئی کام کرے گا وہ میری پیروی کرنے والے گروہ سے خارج ہے۔ ١ ؎ { انھم ملاقوا ربھم ولکنی اراکم قوما تجھلون } اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب دیندار لوگ ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اس لئے نیک عمل کرتے ہیں تم لوگ جاہل ہو جو ایسے لوگوں سے دوری ڈھونڈتے ہو آگے جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مشرک لوگوں کو جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میں ان غریب دیندار لوگوں کو بلا قصور اپنی مجلس کے آنے سے روک دوں گا تو یہ بڑی نا انضافی ہے پھر تم ہی لوگ دھیان کرو کہ اگر اس ناانصافی کی پرسش اللہ کی طرف سے ہوگی تو میں کیا جواب دوں گا۔ سورة انعام میں اللہ تعالیٰ نے یہی ہدایت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمائی ہے۔ اگر تم ان مشرکوں کے کہنے سے غریب دیندار لوگوں کو اپنی مجلس کے آنے سے روک دو گے تو تم ناانصاف ٹھہرو گے اس سبب سے سورة انعام کی آیتیں نوح (علیہ السلام) کے اس جواب کی گویا تفسیر ہیں۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٢٧ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

افلا تذکرون۔ مضارع منفی جمع مذکر ھاضر۔ الف استفہامیہ۔ تم کیوں غور نہیں کرتے۔ تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے۔ تذکر (تفعل) سے دھیان دینا۔ نصیحت پکڑنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ اس تقریر میں ان کے تمام مشتبہات کا جواب ہوگیا لیکن آگے ان سب جوابوں کا تتمہ ہے یعنی جب نبوت میری دلیل سے ثابت ہے تو اول دلیل کے سامنے استبعاد کوئی چیز نہیں پھر یہ کہ وہ مستبعد بھی نہیں البتہ کسی امر عجیب و غریب کا اگر دعوی کرتا تو انکار واستبعاد چنداں منکر ومستبعد نہ تھا گودلیل کے بعد وہ بھی مسموع نہیں البتہ اگر دلیل بھی مقتضی استبعاد کو ہو تو پھر واجب ہے لیکن میں تو کسی امر عجیب کا دعوی نہیں کرتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ موجود ہے ، وہ فقراء کا بھی رب ہے اور اغنیاء کا بھی رب ہے۔ ضعیفوں کا بھی والی ہے اور طاقتوروں کو بھی سہارا دینے والا ہے۔ اللہ کے ہاں جو اقدار وزن رکھتی ہیں وہ اور ہیں۔ وہاں ایک ہی ترازو ہے ، ترازوئے ایمان باللہ۔ لہذا یہ لوگ جو ایمان لا چکے ہیں ، اب اپنے رب کی حفاظت میں ہیں وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ " اور اے قوم ، اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا ؟ " جب میں نے اللہ کی قائم کردہ اقدار کو پامال کردیا۔ اور اللہ کے ان بندوں پر زیادتی شروع کردی جو ایمان لے آئے ہیں اور دعوت قبول کرلی۔ یہ لوگ تو اللہ کے ہاں معزز ہیں۔ اس صورت میں تو میں در اصل تمہاری اقدار کو قائم کرنے والا بن جاؤں گا حالانکہ اللہ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہی اس لیے ہے کہ ان کھوٹی قدروں کو بدل کر رکھ دوں ، اس لیے نہیں کہ میں خود ان کی پیروی کروں۔ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ " تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی سی بات نہیں آتی "۔ تم جن اقدار کی پیروی کر رہے ہو ، وہ کھوٹی ہیں اور انہوں نے تمہیں فطری اقدار بھلا دی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مزید فرمایا (وَیَقٰوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّھُمْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ) (اے میری قوم ! میں مومنین کو اپنے پاس سے ہٹا دوں اور دور کردوں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہوجائے گا پھر اسکی ناراضگی کو کوئی دفع کرنے والا نہ ہوگا تم اپنی جہالت پر مصر ہو سمجھتے کیوں نہیں) ۔ صاحب روح المعانی (ص ٤١ ج ٢) لکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے صاف تو نہ کہا تھا کہ ان لوگوں کو ہٹا دیں لیکن ان کے کلام سے یہ مفہوم ہو رہا تھا کہ ان کو ہٹا دیا جائے تو ہم ایمان لاسکتے ہیں اس لئے ان کی اس بات کی تردید فرما دی۔ فَکَانّ ذالک التماساً منھم بطردھم وتعلیقاً لایمانھم بہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذالک انفۃً من الانتظام معھم فی سلک واحد پس سرداروں کی طرف سے غریبوں کو دور کرنے کا مطالبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سرداروں کے ایمان لانے کی شرط کے طور پر تھا اس لئے کہ وہ ان غریبوں کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ (روح المعانی ص ٤١ ج ١٢) ان لوگوں نے جو یہ کہا تھا کہ تم ہماری طرح کے آدمی ہو اور یہ کہ ہم تمہارے اندر کوئی اپنے سے زیادہ بات نہیں دیکھتے اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم نبی ہوتے تو تمہارے پاس مال بہت ہونا چاہئے تھا جو دنیا میں برتری کا ذریعہ ہے حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘ دنیا زیادہ ہونا اللہ کے یہاں فضیلت کی کوئی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پر نبوت دی جائے وہ تو اللہ کا فضل اور عطیہ ہے جسے چاے عطا فرما دے نبی کی نبوت ماننے کے لئے جو تم اس کے پاس مال تلاش کرتے ہو اللہ کے قانون میں اس کی کوئی حیثیت نہیں نبوت کا تعلق مالدار ہونے سے نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 اور اے میری قوم اگر میں ان غریب ایمان والوں کو اپنے پاس سے ن کال دوں اور ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مقابلہ میں میری کون مدد کرے گا اور مجھ کو خدا کی گرفت سے کون بچائے گا کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافروں نے مسلمانوں رزالا ٹھرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں بات سنیں فرمایا کہ دل کی بات اللہ تحقیق کرے گا جب اس سے ملیں گے میں اگر مسلمانوں کو ہانکو تو اللہ تعالیٰ سے کون چھڑوائے مجھ کو اور رذالا ٹھہرایا اس پر کہ دے کسب کرتے تھے کسب سے بہتر کمائی نہیں اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو 12