Surat Hood

Surah: 11

Verse: 50

سورة هود

وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰﴾

And to 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah ; you have no deity other than Him. You are not but inventors [of falsehood].

اور قوم عاد کی طرف سے ان کے بھائی ہود کو ہم نے بھیجا ، اس نے کہا میری قوم والو! اللہ ہی کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تم تو صرف بہتان باندھ رہے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Prophet Hud and the People of `Ad Allah, the Exalted, says, وَ ... And, This is an introductory to what is implied: "Verily, We sent." ... إِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ... to the `Ad (people) their brother Hud. ... قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ He said, "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, you do nothing but invent lies! Hud came to them commanding them to worship Allah alone, without any associates. He forbade them from worshipping the idols which they made up, inventing names as gods.

قوم ہود کی تاریخ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا ، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی ۔ اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا ۔ اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے ۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں ۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا ۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا ۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے ۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں ۔ تم استغفار میں لگ جاؤ ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو ۔ اور توبہ کرو ، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے ۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے ۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے ۔ سنو ایسا کرنے سے تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گے ۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے ، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

50۔ 1 بھائی سے مراد انہی کی قوم کا ایک فرد۔ 50۔ 2 یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٦] قوم عاد کا بیان پہلے سورة اعراف کی آیت نمبر ٦٥ تا ٧٢ میں گذر چکا ہے لہذا وہ حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔ [٥٧] یعنی اپنے معبودوں کے متعلق جو عقائد تم نے خود ہی گھڑ رکھے ہیں ان کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں عقائد کے علاوہ ان معبودوں کے مجسمے بھی تمہارے خود ساختہ ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ ۔۔ : ” هُوْدًا “ عطف بیان ہے ” اَخَاهُمْ “ سے۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٦٥) اے مشرکو ! اے کافرو ! کے بجائے ” يٰقَوْمِ “ (اے میری قوم ! ) سے مخاطب کرنے سے ان کے ساتھ اپنا تعلق اور خیر خواہی ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ : ” مُفْتَرُوْنَ “ ” فَرَیْ “ سے باب افتعال (اِفْتِرَاءٌ) کا اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ افترا یعنی جان بوجھ کر ایسا جھوٹ بولنا جس کے متعلق بولنے والے کو بھی معلوم ہو کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یعنی اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی ہے ہی نہیں، تمہارا کسی غیر کو معبود بنانا محض افترا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Mentioned in the first eleven verses (50-60) from the ones cited above are the events of the revered prophet of Allah, Sayyidna Hud by whose name this Surah is identified. Appearing in this Surah, there are events related to seven blessed prophets and their peo¬ples from Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to Sayyidna Musa (علیہ السلام) described in the unique style of the Holy Qur&an. They have such flashes of lesson and advice that no one with a responsive and discerning heart can remain unaffected by them. Apart from their instructive aspects, they contain many principals and subsidiaries of faith and good deed as well as guidance one can make use of in comparable situations. As for stories and events taken up here, they relate to seven proph¬ets, but the Surah has been identified with the name of Sayyidna Hud which shows that the story of Sayyidna Hud (علیہ السلام) has a particular significance in it. Allah Ta` ala had sent Sayyidna Hud (علیہ السلام) as a prophet to the people of ` Ad. They were known for their physical build, strength and bravery. Sayyidna Hud (علیہ السلام) was also one of them - as indicated in: أَخَاهُمْ هُودًا (their brother, Hud - 50). How regrettable that a people so strong and brave had lost their reason to the extent that they had tak¬en to worshipping gods they had carved out of stones with their own hands. Three basic principles of the call of faith Sayyidna Hud (علیہ السلام) pre¬sented before his people have been mentioned in the first three verses (50-52). One: Belief in Tauhid (Oneness of Allah) and that taking some-one or something else worthy of worship other than Allah is nothing but a lie and fabrication. Two: He was a Messenger of Allah. He had come with the call of Tauhid for them. This was the mission of his life. He was working hard against heavy odds to convey the message to them. Why would he do that? If they thought about it, they would see that he was not asking them to pay for his services, nor did he receive any material benefits from them. If he did not honestly believe it to be the will and command of Allah, and right and true, why would he go to all that trouble of inviting them to believe and live a better life?

خلاصہ تفسیر اور ہم نے ( قوم) عاد کی طرف ان کے (برادری یا وطن کے) بھائی (حضرت) ہود (علیہ السلام) کو ( پیغمبر بنا کر) بھیجا، انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم ( صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں تم (اس بت پرستی کے اعتقاد میں) محض مفتری ہو ( کیونکہ اس کا باطل ہونا دلیل سے ثابت ہے) اے میری قوم (میری نبوت جو دلائل سے ثابت ہے اس کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ) میں تم سے ( تبلیغ) پر کچھ معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اس ( اللہ) کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو (عدم محض سے) پیدا کیا پھر کیا تم ( اس کو) نہیں سمجھتے ( کہ دلیل نبوت موجود ہے اور اس کے خلاف کوئی وجہ شبہ کی نہیں پھر نیوت میں شبہ کی کیا وجہ) اور اے میری قوم تم اپنے گناہ ( کفر و شرک وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ اور) پھر ( ایمان لاکر) اس کی طرف ( عبادت سے) متوجہ ہو ( یعنی عمل صالح کرو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے) وہ تم پر خوب بارش برسا دے گا ( درمنثور میں ہے کہ قوم عاد پر تین سال متواتر قحط پڑا تھا اور ویسے بارش خود بھی مطلوب ہے) اور ( ایمان و عمل کی برکت سے) تم کو قوت دے کر تمہاری قوت ( موجودہ) میں ترقی کردے گا (پس ایمان لے آؤ اور مجرم رہ کر) ( ایمان سے) اعراض مت کرو، ان لوگوں نے جواب دیا کہ اے ہود آپ نے ہمارے سامنے ( اپنے رسول من اللہ ہونے کی) کوئی دلیل تو پیش نہیں کی ( یہ قول ان کا عناد تھا) اور ہم آپ کے ( صرف) کہنے سے تو اپنے معبودوں) ( کی عبادت) کو چھوڑنے والے ہیں نہیں اور ہم کسی طرح آپ کا یقین کرنے والے نہیں ( اور) ہمارا قول تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے آپ کو کسی خرابی میں ( مثل جنون وغیرہ کے) مبتلا کردیا ہے ( چونکہ آپ نے ان کی شان میں گستاخی کی انہوں نے باولا کردیا اس لئے ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو کہ خدا ایک ہے میں نبی ہوں) ہود ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ ( تم جو کہتے ہو کہ کسی بت نے مجھ کو باولا کردیا ہے تو) میں (علی الاعلان) اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی ( سن لو اور) گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے ( بالکل) بیزار ہوں جن کو تم خدا کے سوا شریک (عبادت) قرار دیتے ہو، سو ( میری عداوت اول تو پہلے سے ظاہر ہے اور اب اس اعلان براءت سے اور زیادہ مؤ کد ہوگئی تو اگر ان بتوں میں کچھ قوت ہے تو تم ( اور وہ) سب مل کر میرے ساتھ ( ہر طرح کا) داؤ گھات کرلو ( اور) پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو ( اور کوئی کسر نہ چھوڑو) دیکھوں تو سہی میرا کیا کرلیں گے اور جب وہ مع تمہارے کچھ نہیں کرسکتے تو اکیلے تو کیا خاک کرسکتے ہیں اور میں یہ دعوی اس لئے دل کھول کر کر رہا ہوں کہ بت تو محض عاجز ہیں ان سے تو اس لئے نہیں ڈرتا، رہ گئے تم، سو گو تم کو کچھ قدرت طاقت حاصل ہے لیکن میں تم سے اس لئے نہیں ڈرتا کہ) میں نے اللہ پر توکل کرلیا ہے جو میرا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی چوٹی اس نے پکڑ رکھی ہے ( یعنی سب اس کے قبضے میں ہیں، بے اس کے حکم کے کوئی کان نہیں ہلا سکتا اس لئے میں تم سے بھی نہیں ڈرتا اور اس تقریر سے ایک نیا معجزہ بھی ظاہر ہوگیا کہ ایک شخص تن تنہا ایسے بڑے بڑے زور آور لوگوں سے ایسی مخالفانہ باتیں کرے اور وہ اس کا کچھ نہ کرسکیں پس وہ جو کہتے تھے (آیت) مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ ، اس سے اس کا بھی ایک جواب ہوگیا کہ اگر معجزہ سابقہ سے قطع نظر کی جاوے تو لو یہ دوسرا معجزہ ہے پس نبوت پر دلیل قائم ہوگئی اور اس میں جو منشا اشتباہ تھا (آیت) اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ ، اس کا بھی جواب ہوگیا، پس نبوت ثابت ہوگئی، اس سے توحید کا وجوب بھی ثابت ہوگیا جس کی طرف میں دعوی کرتا ہوں اور تمہارا کہنا (آیت) مَا نَحْنُ بِتَارِكِيْٓ اٰلِهَتِنَا الخ باطل ہوگیا اور صراط مستقیم یہی ہے اور) یقینا میرا رب صراط مستقیم پر ( چلنے سے ملتا) ہے ( پس تم بھی اس صراط مستقیم کو اختیار کرو تاکہ مقبول و مقرب ہوجاؤ پھر اگر ( اس بیان بلیغ کے بعد بھی) تم ( راہ حق سے) پھرے رہو گے تو میں تو ( معذور سمجھا جاؤں گا کیونکہ) جو پیغام دے کر مجھ کو بھیجا گیا تھا وہ تم کو پہنچا چکا ہوں ( لیکن تمہاری کمبختی آوے گی کہ تم کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے گا) اور تمہاری جگہ میرا رب دوسرے لوگوں کو اس زمین میں آباد کردے گا ( سو تم اس اعراض و کفر میں اپنا ہی نقصان کر رہے ہو) اور اس کا تم کچھ نقصان نہیں کر رہے ( اور اگر اس ہلاک میں کسی کو یہ شبہ ہو کہ خدا کو کیا خبر کہ کون کیا کر رہا ہے تو خوب سمجھ لو کہ) بالیقین میرا رب ہر شے کی نگہداشت کرتا ہے ( اس کو سب خبر رہتی ہے، غرض ان تمام حجتوں پر بھی ان لوگوں نے نہ مانا) اور ( سامان عذاب شروع ہوا سو) جب ہمارا حکم (عذاب کے لئے) پہنچا ( اور ہوا کے طوفان کا عذاب نازل ہوا تو) ہم نے ہود ( علیہ السلام) کو اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت سے ( اس عذاب سے بچا لیا) اور ان کو ہم نے ایک بہت ہی سخت عذاب سے بچا لیا ( آگے اوروں کو عبرت دلانے کے لئے فرماتے ہیں) اور یہ ( جن کا ذکر ہوا) قوم عاد تھی جنہوں نے اپنے رب کی آیات (یعنی دلائل اور احکام) کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کا کہنا نہ مانا اور تمام تر ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو ظالم (اور) ضدی تھے اور ( ان افعال کا یہ نتیجہ ہوا کہ) اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے ساتھ ساتھ رہے گی چناچہ دنیا میں اس کا اثر عذاب طوفان سے ہلاک ہونا تھا اور آخرت میں دائمی عذاب ہوگا) خوب سن لو، قوم عاد نے رب کے ساتھ کفر کیا، خوب سن لو ( اس کفر کا یہ خمیازہ ہوا کہ) رحمت سے دوری ہوئی ( دونوں جہاں میں) عاد کو جو کہ ہود ( علیہ السلام) کی قوم تھی، اور ہم نے ( قوم) ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے ( اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم ( صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ( ہونے کے قابل) نہیں ( اس کا تم پر یہ انعام ہے کہ) اس نے تم کو زمین ( کے مادہ سے) پیدا کیا اور تم کو اس ( زمین) میں آباد کیا ( یعنی ایجاد و ابقاء دونوں نعمتیں عطا فرمائیں جس میں سب نعمتیں آگئیں، جب وہ ایسا منعم ہے) تو تم اپنے گناہ ( شرک کفر وغیرہ) اس سے معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ اور) پھر ( ایمان لا کر) اس کی طرف ( عبادت سے) متوجہ رہو ( یعنی عمل صالح کرو) بیشک میرا رب ( اس شخص سے) قریب ہے ( جو اس کی طرف متوجہ ہو اور اس شخص کی عرض) قبول کرنے والا ہے ( جو اس سے گناہ معاف کراتا ہے) وہ لوگ کہنے لگے اے صالح تم تو اس کے قبل ہم میں ہونہار ( معلوم ہوتے) تھے ( یعنی ہم کو تم سے امید تھی کہ اپنی لیاقت و وجاہت سے فخر قوم اور ہمارے لئے مایہ ناز اور ہماے لئے سرپرست بنو گے، افسوس اس وقت جو باتیں کر رہے ہو ( اس سے تو ساری امیدیں خاک میں ملتی نظر آتی ہیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں ( یعنی تم ان سے منع مت کرو) اور جس دین کی طرف تم ہم کو بلا رہے ہو ( یعنی توحید) واقعی ہم تو اس کی طرف سے ( بھاری) شبہ میں ہیں جس نے ہم کو تردد میں ڈال رکھا ہے ( کہ مسئلہ توحید ہمارے خیال ہی میں نہیں آتا) آپ نے (جواب میں) فرمایا کہ میری قوم ( تم جو کہتے ہو کہ تم توحید کی دعوت اور بت پرستی سے ممانعت مت کرو تو) بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر ( قائم) ہوں ( جس سے اس توحید کی دعوت کا میں مامور ہوں) سو ( اس حالت میں) اگر میں خدا کا کہنا نہ مانوں (اور دعوت توحید کو ترک کردوں جیسا تم کہتے ہو) تو ( یہ بتلاؤ کہ) پھر مجھ کو خدا ( کے عذاب) سے کون بچا لے گا تو تم تو ( ایسا برا مشورہ دے کر) سراسر میرا نقصان ہی کر رہے ہو ( یعنی اگر خدانخواستہ قبول کرلوں تو بجز نقصان کے اور کیا ہاتھ آوے گا اور چونکہ انہوں نے معجزہ کی بھی ثبوت رسالت کے لئے درخواست کی تھی اس لئے آپ نے فرمایا) اور اے میری قوم (تم جو معجزہ چاہتے ہو سو) یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ( بنا کر ظاہر کی گئی) ہے ( اور اسی لئے اللہ کی اونٹنی کہلائی کہ اللہ کی دلیل ہے) سو ( علاوہ اس کے یہ بوجہ معجزہ ہونے کے میری رسالت پر دلیل ہے خود اس کے بھی کچھ حقوق ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں ( گھاس چارہ) کھاتی پھرا کرے ( اسی طرح اپنی باری کے دن پانی پیتی رہے جیسا دوسری آیت میں ہے) اور اس کو برائی ( اور تکلیف دہی) کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کبھی تم کو فوری عذاب آپکڑے ( یعنی دیر نہ لگے) سو انہوں نے ( باوجود اس اتمام حجت کے) اس ( اونٹنی) کو مار ڈالا تو صالح ( علیہ السلام) نے فرمایا ( خیر) تم اپنے گھروں میں تین دن اور صبر کرلو ( تین دن کے بعد عذاب آتا ہے ( اور) یہ ایسا وعدہ ہے جس میں ذرا جھوٹ نہیں (کیونکہ من جانب اللہ ہے) سو ( تین دن گزرنے کے بعد) جب ہمارا حکم ( عذاب کے لئے) آپہنچا ہم نے صالح ( علیہ السلام) کو اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت سے ( اس عذاب سے) بچا لیا اور (ان کو کیسی چیز سے بچا لیا) اس دن کی بڑی رسوائی سے بچا لیا (کیونکہ قہر الہٰی میں مبتلا ہونے سے بڑھ کر کیا رسوائی ہوگی) بیشک آپ کا رب ہی قوت والا غلبہ والا ہے (جس کو چاہے سزا دیدے جس کو چاہے بچا لے) اور ان ظالموں کو ایک لغرہ نے آ دبایا ( کہ وہ آواز تھی جبریل (علیہ السلام) کی) جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (اور ان کی یہ حالت ہوگئی) جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، خوب سن لو (قوم) ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، خوب سن لو (اس کفر کا یہ خمیازہ ہوا کہ) رحمت سے ثمود کو دوری ہوئی۔ معارف و مسائل سورة ہود کی مذکورہ پہلی گیارہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کے نام سے یہ سورت موسوم ہے، اس صورت میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک قرآن کریم کے خاص طرز میں سات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے واقعات مذکور ہیں، جن میں عبرت و موعظت کے ایسے مظاہر موجود ہیں کہ جس دل میں ذرا بھی حیات اور شعور باقی ہو وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، عبرت کے علاوہ ایمان اور عمل صالح کے بہت سے اصول و فروع اور انسان کے لئے بہترین ہدایات موجود ہیں۔ قصص و واقعات تو اس میں سات پیغمبروں کے درج ہیں مگر سورت کا نام حضرت ہود (علیہ السلام) کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کے قصہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہود (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے قوم عاد میں مبعوث فرمایا، یہ قوم اپنے ڈیل ڈول اور قوت و شجاعت کے اعتبار سے پورے عالم میں ممتاز سمجھی جاتی تھی، حضرت ہود (علیہ السلام) بھی اسی قوم کے فرد تھے لفظ اَخَاهُمْ هُوْدًا میں اسی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، مگر یہ اتنی قوی اور بہادر قوم افسوس کہ اپنے عقل و فکر کو کھو بیٹھی تھی اور اپنے ہاتھوں سے تراشی ہوئی پتھروں کی مورتیوں کو اپنا خدا اور معبود بنا رکھا تھا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے جو دعوت دین اپنی قوم کے سامنے پیش کی اس کی تین اصولی باتیں ابتدائی تین آیتوں میں مذکور ہیں : اول دعوت توحید اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو لائق عبادت سمجھنا جھوٹ اور افتراء ہے، دوسرے یہ کہ میں جو یہ دعوت توحید لے کر آیا ہوں اور اس کیلئے اپنی زندگی کو وقف کر رکھا ہے تم یہ سوچو سمجھو کہ میں نے یہ مشقت و محنت کیوں اختیار کر رکھی ہے، نہ میں تم سے اس خدمت کا کوئی معاوضہ مانگتا ہوں نہ مجھے تمہاری طرف سے کوئی مادی فائدہ پہنچتا ہے اگر میں اس کو اللہ تعالیٰ کا فرمان اور حق نہ سمجھتا تو آخر ضرورت کیا تھی کہ تمہیں دعوت دینے اور تمہاری اصلاح کرنے میں اتنی محنت برداشت کرتا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا۝ ٠ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝ ٠ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ۝ ٥٠ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ هود الْهَوْدُ : الرّجوع برفق، ومنه : التَّهْوِيدُ ، وهومشي کالدّبيب، وصار الْهَوْدُ في التّعارف التّوبة . قال تعالی: إِنَّا هُدْنا إِلَيْكَ [ الأعراف/ 156] أي : تبنا، وهُودٌ في الأصل جمع هَائِدٍ. أي : تائب وهو اسم نبيّ عليه السلام . ( ھ و د ) الھود کے معنی نر می کے ساتھ رجوع کرن ا کے ہیں اور اسی سے التھدید ( تفعیل ) ہے جسکے معنی رینگنے کے ہیں لیکن عرف میں ھو د بمعنی تو بۃ استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے . : إِنَّا هُدْنا إِلَيْكَ [ الأعراف/ 156] ھود اصل میں ھائد کی جمع ہے جس کے معنی تائب کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ایک پیغمبر کا نام ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] الٰہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٠) اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بنی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجاؤ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں جس پر تمہیں ایمان لانے کا حکم دیا جائے تم بتوں کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرتے ہو کیوں کہ تمہیں ان کی عبادت کا حکم نہیں دیا گیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٠ (وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا) قوم عاد حضرت سام کی نسل سے تھی۔ یہ قوم اپنے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ لق ودق صحرا ہے۔ (قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ ) یہ جو تم نے مختلف ناموں سے معبود گھڑ رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ تم محض افترا کر رہے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

54. For a detailed account see Towards Understanding the Qur'an, vol. III, al-A'raf 7, nn. 51-6, pp. 42-5. 55. Those whom the Makkan unbelievers associated with God in His divinity actually possessed none of the attributes and powers of God. There was, therefore, no grounds whatsoever for anyone to worship them. Some people had mistakenly taken them as their deities, and looked to those deities to answer their prayers and fulfil their needs.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :54 سورہ اعراف رکوع ۵ کے حواشی پیش نظر رہیں ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :55 یعنی وہ تمام دوسرے معبود جن کی تم بندگی و پرستش کر رہے ہو حقیقت میں کسی قسم کی بھی خدائی صفات اور طاقتیں نہیں رکھتے ۔ بندگی و پرستش کا کوئی استحقاق ان کو حاصل نہیں ہے ۔ تم نے خواہ مخواہ ان کو معبود بنا رکھا ہے اور بلاوجہ ان سے حاجت روائی کی آس لگائے بیٹھے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

29: قوم عاد کا مختصر تعارف سورۃ اعراف (65:7) میں گذر چکا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٠۔ ٥٢۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا حضرت ہود کو قوم عاد کا بھائی فرمایا صرف بسبب قومیت اور قرابت کے عاد دو ہوئے ہیں۔ ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں جن کی طرف یہی حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے دوسرے عاد شداد اور لقمان اور ان کی قوم جن کا ذکر { ارم ذات العماد } ہے عاد ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ایک قبیلہ مشہور ہوگیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے آٹھ سو برس کے بعد دنیا میں آئے ان کی عمر چار سو چونسٹھ برس کی ہوئی قوم عاد ملک شام اور ملک یمن کے بیچ میں ایک ریگستان میں رہتی تھی اور تبول کی پرستش کرتی تھی اس قوم کی سرکشی کے سبب سے تین برس تک مینہ نہیں برسا تھا جس کے سبب سے ان کے کھیتوں کو سخت نقصان پہنچا اور کال پڑگیا اور تیس برس تک ان کی عورتیں بانجھ رہیں کسی کے یہاں بچہ نہ ہوا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کو خدا کی طرف بلایا کہ اے قوم میری تم اس خدا کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے تم جن بتوں کو پوجتے ہو اور ان کو اپنا شفیع سمجھتے ہو تم اس خیال میں جھوٹے ہو کوئی سند تمہارے پاس اس کی نہیں ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی معبود ہے یا کسی اور کے اختیار میں تمہارا نفع نقصان ہے کیا تمہیں اتنی سمجھ نہیں کہ یہ بت نہ تمہارا قحط دفع کرسکتے ہیں نہ تمہاری عورتوں کو اچھا کرسکتے ہیں میں جو نصیحت کرتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا ہوں یہ محض اللہ کے لئے ہے وہی اجر دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے تمہیں غور کرنا چاہیے کہ ایک شخص بلا اجرت اور مفت میں تمہاری دنیا اور آخرت کو درست کر رہا ہے اور تم اس کا کہنا نہیں مانتے اپنے سرکش سرداروں کے کہنے پر چلتے ہو اے قوم تم کو بھی ضروری ہے کہ جو کچھ تم سے گناہ ہوچکے ہیں اس کے لئے خدا سے استغفار کرو اور آئندہ کے لئے توبہ کرلو کہ اب گناہ کے پاس بھی نہ جائیں گے اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلا دہار مینہ برسائے گا تمہاری ساری کھیتیاں سرسبز ہوجائیں گی تمہارے رزق میں ترقی ہوجائے گی اور تمہاری قوتیں بھی بڑھ جائیں گیں اور نسل بھی بڑھے گی اور اگر میری نصیحت سے منہ موڑو گے تو مجرم ٹھہرو گے۔ ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہمیشہ استغفار پڑھا کیا کرتا ہے ہر ایک غم سے آزاد ہوجاتا ہے اور ہر سختی سے اس کو نجات ملتی ہے اور جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا وہاں سے اس کو روزی ١ ؎ ملتی ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ٢ ؎ یہ لوگ بت پرست تھے اس لئے یہاں استغفار سے مقصود شرک سے باز آنا ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٢٠٤ باب الاستغفار بحوالہ سنن ابن ماجہ ابو داؤد وغیرہ۔ ٢ ؎ الترغیب ص ٢٩٥ ج ١ الترغیب نے الاستغفار۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:50) والی عاد اخاہم ھودا۔ اس کا عطف ارسلنا نوحا الی قومہ (آیۃ 25) پر ہے۔ گویا آیت کی تقدیر ہے وارسلنا الی عاد اخاھم ھودا۔ اخاہم (ان کا بھائی) یعنی انہیں کے نسب سے۔ مفترون۔ جھوٹے بہتان باندھنے والے۔ اصل میں افتراء سے مفتریون تھا۔ اس کو احد مفتری ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ یہ عطف بیان ہے ” اخاھم “ سے۔ (تشریح کے لئے دیکھئے سورة اعراف آیت 56) ۔ 7 ۔ اللہ نے ہرگز انہیں اپنا شریک نہیں بنایا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٥٠ تا ٦٠ اسرار و معارف تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔ دین کی تبلیغ اور اجرت اب رہا میرا معاملہ ! تو دیکھو میں جو اپنی پوری توانائی اس بات پر صرف کررہا ہوں اور تم سے جو ڈیل ڈول اور جسمانی طاقت کے اعتبار سے مثالی قوم ہو۔ بغیر کسی خوف اور جھجک رکھتا ہوں ؟ ہرگز نہیں ! کہ انبیاء دین کی تبلیغ پر کبھی اجرت کے طالب نہیں ہوتے اور یہ تو عام عقل کی بات ہے کہ کوئی بھی شخص کسی نفع کی امید کے بغیر محنت نہیں کرتا پھر یہ جان جوکھوں کا کام کہ کفر کے مقابلہ میں حق بات کہنا اگرچہ کفار کتنے طاقت ورہوں بھلا بغیر کسی امید کے ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ! تو مجھے یہ نفع کہاں سے حاصل ہوگا۔ جبکہ انسانوں سے تو میں کسی انعام کا طالب ہی نہیں ۔ یقینا میراخالق جس نے مجھے پیدا کیا نبوت سے سرفراز فرمایا اور جس کے ارشاد کی تعمیل میں یہ سب کام کررہا ہوں مجھے اس کا بدلہ دے گا۔ عزت ووقار کے لئے توبہ و استغفار ضروری ہے اور اے قوم ! گزشتہ گناہوں پر معافی مانگو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کرو۔ یہ استغفار اور توبہ ہی وہ راستہ ہے جس پر مزید انعامات نصیب ہوتے ہیں اور آخرت کے ساتھ حیات دنیا بھی سدھرجاتی ہے اگر تم ایسا کروتو آسمان سے رحمت کی گھٹائیں برسین اور تمہارے مال اور تمہاری اولادیں بھی خوب پھلیں پھولیں اور تمہاری طاقت میں زبردست اضافہ ہو اور اللہ سے روگردانی چھوڑ دو کہ یہ آخرتباہی کا سبب بنتی ہے آج بھی اگر مسلمان قرآن کے اس ارشاد کو اپنالیں تو کفار کی عارضی اور وقتی شوکت پر غلبہ حاصل کرسکتے ہیں کہ عزت ووقار کیلئے توبہ و استغفار شرط ہے مگر یہاں بھی عقل الٹ گئی ہے اور کافروں کی دیکھادیکھی ان جیسا بننے میں ترقی تلاش کی جارہی ہے ۔ العیاذابا للہ۔ انھوں نے تمام دلائل سننے کے بعد بھی ایک ہی جواب دیا کہ آپ کوئی ایسی دلیل نہیں لائے جو قابل توجہ ہو اور ہم محض آپ کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ نہیں سکتے نہ ہی آپ کی بات قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ آپ کی یہ باتیں ہمیں الٹی سیدھی لگتی ہیں تو ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ ہمارے بتوں کو جھوٹا اور غلط کہتے ہیں تو انھوں نے آپ پر کوئی مصیبت ڈال دی ہے یا جن مسلط کردیئے ہیں جس کی وجہ سے آپ اس طرح کی بات کرتے ہیں اور یہ گناہ اثرہوتا ہے کہ حق بات الٹی نظرآتی ہے اور باطل خرافات دل کو پسند آنے لگتی ہیں ۔ چناچہ ہود (علیہ السلام) ان کی اس بات سے بہت بیزار ہوئے اور فرمایا کہ میرا اللہ بھی گواہ ہے اور تم بھی کان کھول کر سن لوگواہ رہنا کہ میں تمہارے ان مشرکانہ اعتقادات سے بالکل الگ ہوں مجھے تمہارے بتوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ معرفت باری کا اثر نیز میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم بھی جو اپنے کو بہت طاقتور سمجھتے ہو اور تمہارے یہ بت بھی جن کو تم اپنے سے بھی بہت طاقتور مانتے ہو مل کر سب زورلگاؤاور میرے ساتھ کوئی رعایت نہ برتو بلکہ جو بگاڑسکتے ہوبگاڑلو۔ یہ معرفت باری کا کمال ہوتا ہے کہ غیر اللہ سے امید بھی منقطع ہوجاتی ہے اور غیر اللہ کا خوف بھی دل میں نہیں رہتا انبیاء کی معرفت مثالی ہوتی ہے لہٰذا عمل بھی مثالی ۔ اور جو لوگ انسانوں سے ڈرکریا کسی نفع کی امید پہ ظلط بات کو درست کہنے لگتے ہیں وہ معرفت الٰہیہ سے محروم ہوتے ہیں خواہ بظاہرکتنے بڑے پیربنے ہوئے ہوں۔ فرمایا میں تو اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں جو میرا بھی رب ہے یعنی پیدا کرنے اور باقی رکھنے والا ہے اور تمہارا رب بھی وہی ہے اسی نے سب قوتیں دے رکھی ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ دے کر فارغ ہوگیا اب جو جی میں آئے کرو بلکہ جاندار کی چوٹی اس کے دست قدرت میں ہے یعنی ہر ایک پہ قادر ہے جو چاہے کرنے دے اور جو چاہے نہ کرنے دے ۔ اور یہ بھی طے ہے کہ میرارب سیدھے راستے پر ہے یعنی اس کی رضامندی حق بات اور نیک کام کے ساتھ ہے یعنی اللہ کی مدد نیکی پر نصیب ہوتی ہے تم جیسے لوگوں کو نہیں جنہوں نے برائی اختیار کررکھی ہو۔ اب بھی اگر تم بازنہ آؤتو میں بری الذمہ ہوں کہ بات پہنچا نے کا حق داد کردیا جو کچھ میرے رب نے مجھے فرمایا میں نے سب کا سب تم تک پہنچادیا اب میری حفاظت بھی میرارب ہی کرے گا کہ اتنی بڑی جابرقوم کے مقابلے میں بغیر دنیاوی اسباب کے حق بات کرنا صرف اسی کے بھروسے پہ ممکن ہے۔ عقائدواعمال کا اثر بالآ خرجب نہ مانے تو اللہ کے عذاب نے انھیں آلیا اور حضرت ہود اور ان کے متبعین کو اللہ کی رحمت نصیب ہوئی ۔ یعنی عقائد و اعمال اشیاء کے اثرکو بدل دیتے ہیں کہ وہی فضاجو کافر پر عذاب نازل کررہی ہے مومنیں پر رحمت برسارہی ہے ۔ ایک ہی وقت میں دوطبقوں کے لئے حالات کا ظہور ہورہا ہے چناچہ اسی لمحے جب بہت ہی شدید عذاب قوم عاد کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا انہی میں سے مومنیں کو اللہ کی رحمت نے ڈھانپ رکھا تھا اور عذاب کے مقابل ڈھال بن گئی تھی مفسرین کے مطابق ان پر سخت قسم کی آندھی چلی جو انسانوں اور جانوروں کو اڑاکر آسمان کی وسعتوں میں لے جاتی تھی اور فضا بھی انسانی چیخوں سے بھرگئی تھی ۔ ظالموں کا اتباع اور انکی تکریم عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے فرمایا یہی عاد تھے جنہوں نے اللہ کی آیات اور احکام کے مقابل انکار کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کے رسولوں کو نہ مانا بلکہ ظالم و جابر کی عزت کرتے اور ان کے پیچھے چلنا فخر سمجھتے تھے ۔ گویا یہ بات ثابت ہوئی کہ ظالموں کی اطاعت اختیار کرنا اور بدکاروں کی عزت و تکریم انبیاء کے فیض سے ہی محروم نہیں کرتی یہ عذاب الہی کو دعوت دینے کے برابر ہے ۔ ایسے ہی جرم کے نتیجے میں عاد کو دنیا کی بربادی کا سامنا بھی کرنا پڑا اور ان پر لعنت برسی اور قیامت کے روز بھی لعنت ہی ان کا نصیب ٹھہری ۔ لہٰذا اے نوع انسانی ! کان کھول کر سن لو کہ عاد نے اللہ سے کفر کیا اور اپنے رب کونہ مانا ، سو ان پر ہمیشہ کے لئے پھٹکار پڑی اگرچہ عاد ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی مگر کفر کی مصیبت نے انھیں ان کی برکات سے محروم کرکے ہمیشہ کے عذاب میں دھکیل دیا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57 اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ (زمین پر چلنے والا جان دار اخذ (پکڑنے والا) ناصیۃ (پیشانی، چوٹی) ابلغت (میں نے پہنچا دیا) ارسلت (میں بھیجا گیا ہوں) یستخلف (وہ قائم مقام بنا دے گا) غیرکم (تمہارے علاوہ لاتضرون (تم بگاڑ نہ سکو گے) حفیظ (حفاظت کرنے والا، نگہبان) تشریح : آیت نمبر 50 تا 57 قرآن کریم سچائی کا وہ پیغام ہے جس کے اپنانے میں کامیابی اور اس کا کفر و انکار دین و دنیا کی تباہی ہے۔ قرآن کریم میں گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت اختصار سے پیش کیا گیا ہے تاکہ عبرت و نصیحت کے تمام پہلو سامنے آسکیں۔ حضرت نوح کے عبرت انگیز واقعہ کو نہایت مختصر انداز سے سامنے رکھ کر یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک اللہ کے دین کی سچائی اور توحید کے پیغام کو ملت کے ہر فرد کے سامنے خلوص اور بےغرضی سے پیش کیا۔ جن لوگوں نے اطاعت و فرماں برداری کا طریقہ اختیار کیا وہ کشتی نوح میں محفوظ رہے لیکن جن لوگوں کو اپنی دولت، بلند عمارتوں اور تہذیب و ترقی پر ناز تھا جب اللہ کا فیصلہ آگیا اور زمین و آسمان سے پانی کا طوفان آیا تو پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ جانے والے بھی اپنے آپ کو نہ بچا سکے۔ قرآن کریم اسی بات کو ذہنوں میں تازہ کرنے کے لئے اپنے پغمبروں کے واقعات کو پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہر پہلو کو نمایاں کرتا ہے کیوں کہ سنبھل جانے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم سنبھل نہ کسی تو پھر وہ تاریخ انسانی میں ایک عبرت کا نشان بن جایا کرتی ہے۔ حضرت نوح کے بعد عاد ابن ارم کی نسل سے قوم عاد ایک زبردست قوم بن کر ابھری، وہ اپنی دنیاوی ترقیات، مال و دولت اور تجارت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتوں اور سرسبز و شاداب علاقوں کی وجہ سے ساری دنیا کے ذہن و فکر پر چھا گئی اور کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کرتی رہی۔ لیکن ایک مورخ اس بات پر حیران و پریشان ہوجاتا ہے کہ جس طرح یہ قوم ابھر کر ساری دنیا کے ذہنوں پر چھا گئی تھی اسی طرح جب وہ مٹنے پر آئی تو دنیا سے اس کا وجود اس طرح ختم ہوگیا کہ آج اس قوم کے آثار، نشانات اور کھنڈرات بھی مشکل سے ملتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کی اتنی ترقی یافتہ قوم اس طرح تاریخ میں عبرت کا نشان کیوں بن گئی ؟ وہ کونسی دیمک تھی جو اس قوم کی ترقیات کو چاٹ گئی ۔ قرآن کریم کی یہ آیات اس سوال کا بہترین جواب ہیں۔ سورة ہود میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کی زندگی کو مختصر انداز سے بین کر کے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ : 1) جن لوگوں نے انبیاء کرام کی تعلیمات کو اپنایا اور اللہ کے رسولوں کی اطاعت و فرماں برداری کی وہ قومیں کامیاب ہوگئیں لیکن جن کو دنیا کی دولت، ترقی اور بلند وبالا عمارتوں پر ناز تھا اور انہوں نے انبیاء کرام کی بات کو تسلیم نہیں کیا وہ اس طرح دنان سے مٹ گئیں کہ آج ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ 2) قوموں کی تہذیب و ترقی کو چاٹ جانے والی دوسری چیز کسی قوم کا بےجا گھمنڈ، غرور وتکبر اور کمزوروں پر ظلم و ستم ہے۔ اگر کسی کے دماغ میں دولتا ور اقتدار کا نشہ اس طرح چھا جائے کہ وہ کمزور افراد اور مجبور قوموں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے اور کسی ظلم و ستم کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرے تو یہ غرور تکبر افراد اور قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ 3) قوموں کے گرنے کا ایک سبب یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ وہ ایک اللہ کی عبادت و بندگی کے بجائے اپنے خیال اور گمان سے پتھروں کے بت بنا کر ان کو معبود کا درجہ دیدیتے ہیں اور انسانی مجسموں کو ابتداء میں عقیدت و محبت کا درجہ دیتے ہیں اور پھر ان کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں۔ 4) چوتھا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کا وسیلہ اختیار کرنے لگ جاتے ہیں اور پتھروں کے بےجان بتوں اور مٹی کے ڈھیروں سے اپنی مرادیں مانگنے لگتے ہیں۔ یوں تو اور بھی اسباب ہیں جن سے قومیں برباد ہوتی ہیں لیکن اس موقع پر ان چند اسباب کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ قوم عاد کی بربادی میں سب سے بڑے اسباب یہی تھے کہ انبیاء کرام کی تعلیمات سے انکار، غرور وتکبر، کمزوروں پر ظلم و ستم، انسانی مجسموں کو معبود کا مقام دینا اور ان کے وسیلے سے اپنی حاجتوں کو مانگنا۔ حضرت ھود نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے توحید کا یہ پیغام پوری قوم تک پہنچایا اور ان کو بتایا کہ اے لوگو ! تم نے جن بےجان پتھروں کے بتوں کو اپنا معبود سمجھ رکھا ہے وہ ایک بہت بڑا دھوکہ اور فریب ہے۔ حقیقی معبود صرف ایک اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے یہ بت قصے، کہانیوں اور افسانوں سے زیادہ کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ تم صرف اسی ایک اللہ کی بندگی کرو جس نے تم سب کو پیدا کیا ہے۔ حضرت ھود نے فرمایا کہ لوگو ! تم یہ مت سمجھنا کہ یہ سب کچھ کہنے سے میں تم سے کسی دولت یا دنیاوی عزت کا طالب ہوں بلکہ میں صاف اعلان کرتا ہوں کہ میرا اجر وثواب اللہ کے ذمے ہے میرا بھروسہ صرف اسی ذات پر ہے جو ہم سب کا معبود ہے۔ تم جن گناہوں میں مبتلا ہو ان سے معافی مانگو تاکہ خشک سالی جو تمہاری طرف بڑھتی چلی آرہی ہے وہ تمہیں اور تمہاری طاقت و قوت کو تباہ وبرباد کر کے نہ رکھ دے۔ اگر تم نے توبہ و استغفار کیا تو اللہ نہ صرف تمہارے گناہوں خطاؤں کو معاف کر دے گا بلکہ تمہاری قوت و طاقت میں اور بھی اضافہ فرما دے گا۔ اگر تم نے اللہ کی نافرمانی کو اپنا رکھا تو تم مجرم قوموں میں شامل ہو کر برے انجام سے دوچار ہو جائو گے۔ حضرت ہود نہایت خلوص، محبت، متانت و سنجیدگی سے اس پیغام کو ایک ایک گھر تک پہنچا رہے تھے مگر وہ بدقسمت قوم حضرت ہود کے اس پیغام توحید کو نہ سمجھ کسی اور کہنے لگی کہ اے ہود ہم تمہارے کہہ دینے سے ان معبودوں کو تو نہیں چھوڑ سکتے جو ہمارا سہارا ہیں جب کہ تمہارے ساتھ کوئی ایسا معجزہ بھی نہیں ہے جس کو دیکھ کر ہم اس بات کا یقین کرلیں کہ واقعی تم جو بات کہہ رہے ہو وہ سچ ہے۔ کہنے لگے کہ ہم تو یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اے ھود ! تم جو رات دن اٹھتے بیٹھتے ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو کوئی معبود تم سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے تمہارے دل و دماغ پر ایسا برا اثر ڈالا ہے کہ تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ حضرت ہود کا نہایت سادگی، متانت اور سنجیدگی کے ساتھ یہی پیغمبرانہ جواب تھا کہ اے میری قوم ! میں نے جو کچھ کہا ہے اس پر میں اللہ کی گواہی پیش کرتا ہوں وہی میرا گواہ ہے البتہ میں تمہارے کفر و شرک کے ہر انداز سے بیزار ہوں اور میں وہی سچی بات کہوں گا جس کا مجھے اللہ نے حکم دیا ہے۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے اور تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں ہے تو تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کر ڈالو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔ میرا بھروسہ تو اس ذات بےنیاز پر ہے جو تمہارے اور میرا رب ہے اور ہر چیز اس کے اس طرح قبضے میں ہے کہ اس نے ہر چیز کو اس کی چوٹی سے پکڑ کر اور تھام کر رکھا ہے۔ اس پروردگار کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے فرمایا کہ اے میری قوم ! میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اس راستے کو اپناتے ہو یا نہیں۔ بہرحال اتنی بات تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اگر تم نے اس صراط مستقیم کو نہیں اپنایا اور اسی طرح غیر اللہ کی عبادت و بندگی کرتے رہے تو دوسری قوموں کی طرح تمہیں بھی حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے گا۔ وہ اللہ جو کسی کا محتاج نہیں ہے تمہیں مٹا کر کسی دوسری قوم کو تمہاری جگہ پر لا کر آباد کر دے گا۔ تم اللہ کا تو کچھ نہ بگاڑ سکو گے کیونکہ وہ ہر چیز کا محافظ و نگراں ہے۔ البتہ تم اپنے لئے وہ خرابی ضرور پیدا کرلو گے جس کا کوئی علاج نہیں ہے اور تم اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔ آپ اس کے بعد کی آیات میں ملاحظہ فرمائیں گے کہ اللہ نے قوم عاد کو کس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور دوسری قوم کو ان کا قائم مقام بنا دیا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ قوم عاد جو دنیا کی عظیم قوموں میں سے ایک قوم تھی کس طرح اس کو اس کے برے اعمال کے سبب تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ یہی تمام اخلاق کمزوریاں تم مکہ والوں کے اندر بھی موجود ہیں اگر تم نے اپنے گناہوں سے توبہ نہ کی تو تمہارا حشر بھی قوم عاد سے مختلف نہ ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا سب سے بڑا جرم اللہ کے ساتھ شرک کرنا تھا۔ قوم عاد شرک کے گھناؤنے جرم کے ساتھ کمزور لوگوں پر ظلم ستم کرنے والے تھے۔ یہ قوم تہذیب و تمدن کے اعتبار سے اپنے زمانے کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی۔ بڑے لینڈ لارڈ، باغات کے مالک اور پہاڑ تراش تراش کر عظیم الشان گھر تیار کرتے تھے۔ (الشعراء : ١٢٨ تا ١٣٤) ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قدو قامت کے لحاظ سے دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں پیدا کیا گیا۔ سورة الفجر : ٨ حضرت ھود (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور کمزوروں پر ظلم کرنے سے باز آجاؤ۔ اے میری قوم ! میں اس کام کے بدلے تم سے کسی قسم کی ستائش اور صلہ نہیں چاہتا۔ میرا صلہ اس ذات کبریا کے پاس ہے۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ میری مخالفت کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچو ! کہ اس دعوت میں میرا کیا مفاد اور تمہارا نقصان کیا ہے ؟ میں تمہیں لوگوں پر ظلم کرنے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے سے روکتا ہوں۔ جن کو تم بلاتے اور پکارتے ہو۔ وہ تو اللہ کے سوا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ جو تم ان کے بارے میں دعوے کرتے ہو اس کی کوئی بنیاد نہیں یہ سراسر جھوٹ اور بناوٹی باتیں ہیں۔ کیا تم سوچنے کے لیے تیار ہو ؟ یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ عقیدہ کا فرق ہونے کے باوجود حضرت ھود (علیہ السلام) اور آگے چل کر حضرت صالح، حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی اقوام کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ یہ انبیاء اکرام (علیہ السلام) اپنی اپنی قوم میں سے تھے۔ یہاں اہل مکہ کو احساس دلایا گیا ہے۔ کہ جس طرح ان انبیاء کی اقوام نے اپنے انبیاء کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور برا انجام دیکھا۔ اے اہل مکہ تم بھی دیکھ لو کہ یہ نبی جو رشتہ کے اعتبار سے تمہارا بھائی لگتا ہے اس کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہو۔ یاد رکھو تمہارا انجام قوم ثمود اور قوم صالح سے مختلف نہ ہوگا۔ دوسرا سوال یہ ابھرتا ہے کہ حضرت ھود، حضرت نوح اور دیگر انبیاء ( علیہ السلام) نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعارف کیوں نہیں کرایا۔ اس کی وجہ امام رازی یہ کہہ کر بیان کرتے ہیں کیونکہ تمام اقوام اللہ کو اللہ یعنی اپنا خالق، مالک، رازق مانتے تھے۔ لیکن ایک الٰہ نہیں مانتے تھے۔ جس بنا پر انبیاء ( علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اس بات سے کیا ہے۔ جس کا وہ انکار کرتے تھے اس کے بعد امام موصوف لکھتے ہیں کہ میں ترکی اور ہند میں گیا اور وہاں دیکھا کہ یہاں کے لوگ اللہ کو ایک ماننے کے باوجود بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ یہی حالت عاد، ثمودو قوم مدین کی تھی۔ تفصیل جاننے کے لیے سورة الاعراف کے ١٦ رکوع کی تفسیر دیکھیں۔ مسائل ١۔ قوم عاد کی طرف ھود (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ ٢۔ ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت : ١۔ حضرت ھودنے فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ (ھود : ٥٠) ٢۔ حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ (ھود : ٦١) ٣۔ حضرت شعیب نے فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سواتمہارا کوئی معبود نہیں۔ (ھود : ٨٤) ٤۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ (العنکبوت : ١٦) ٥۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے اسی کی عبادت کرو۔ (مریم : ٣٦) ٦۔ ہم نے ہر جماعت میں رسول بھیجے انہوں نے لوگوں کو کہا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ (النحل : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی جن کے شہروں میں ان جیسا پیدا نہیں کیا گیا) ۔ اور سورة حٰمٓ سجدہ میں ان کے غرور اور گھمنڈ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ (فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) لیکن قوم عادنے زمین میں تکبر کیا اور انہوں نے کہا کہ زور آوری میں ہم سے زیادہ بڑھ کر کون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَھُمْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ) (کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ جس نے انہیں پیدا فرمایا ان سے بڑھ کر قوت والا ہے) حضرت ھود (علیہ السلام) قوم عاد ہی میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی ‘ توحید کی دعوت دی شرک سے باز آنے کی تلقین فرمائی اور ان سے فرمایا کہ دیکھو میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرو اسی پر ایمان لاؤ اور اسی کی عبادت کرو اور یہ جو تم نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں ان کو تم اللہ کا شریک بتاتے ہو یہ تمہارا افتراء ہے اور جھوٹ ہے۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کی نعمتیں بھی یاد دلائیں اور ان سے فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین میں بسایا ہے ان کے بعد تم زمین میں رہتے سہتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں ڈیل ڈول بھی خوب دیا ہے تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو لیکن انہوں نے کہا کہ تم تو بیوقوف آدمی ہو اور ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ (سورۂ اعراف رکوع ٩) اور انہیں نے یہ بھی کہا کہ تم ہمارے پاس کوئی دلیل وحجت تو لائے نہیں ہو جس کی وجہ سے ہم تمہیں اللہ کا رسول مانیں (یہ انہوں نے عناداً کہا) اور ہماری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ یہ جو تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی نے کچھ کردیا ہے۔ یعنی آسیب وغیرہ پہنچا کر دیوانہ بنا دیا ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بیزار ہوں اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو ‘ اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو اب تو میرے اور تمہارے درمیان کھل کر دشمنی ہوگئی تم میرے دشمن ہو اپنی دشمنی میں کوئی کسر نہ اٹھا کر رکھو مجھے دکھ پہنچانے میں تم سے جو کچھ مکر حیلہ سازی ہو سکے تم سب مل کر اس پر عمل کرو پھر مجھے ذرا سی بھی مہلت نہ دو ‘ دیکھو تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟ میں نے صرف اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تم اتنے سارے ہو قوت و شوکت والے ہو میں اکیلا ہوں اللہ کا توکل وہ چیز ہے جسے یہ چیز حاصل ہوجائے اس کے سامنے مخلوق کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا میں تمہیں کچھ نہیں سمجھتا۔ زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں ان سب کی پیشانی اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے وہ مالک ہے قادر ہے ‘ قاہر ہے تم بھی زمین پر چلتے پھرتے اس کی مخلوق ہو اور مقہورو مجبور ہو تمہیں اس سے ڈرنا چاہیے بیشک میرے رب کی رضا صراط مستقیم پر چلنے میں ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتیں بھی یاد دلائیں اور آئندہ نعمتیں ملتے رہنے کا عملی طریقہ بتایا اور وہ یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو یعنی ایمان لاؤ تمہارا گزشتہ سب کچھ معاف ہوجائے گا اس کے حضور میں توبہ بھی کرو اللہ تعالیٰ تم پر خوب بارش بھیج دے گا جو ضرورت کے وقت خوب برستی رہے گی اور تمہاری جو موجودہ قوت و طاقت وزور آوری ہے اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ بڑھا دے گا۔ صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ تین سال تک بارشیں نہیں ہوئی تھیں اور عورتیں بانجھ ہوگئی تھیں اولاد پیدا نہ ہوتی تھیں مال واولاد نہ ہونے سے قوت میں کمی ہو رہی تھی حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایمان لاؤ اور اللہ کی طرف رجوع کرو مال بھی ملے گا اور اولاد بھی ہوگی اور ان دونوں کے ذریعے تمہاری قوت میں اضافہ ہوگا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے واضح طور پر فرما دیا کہ دیکھو اگر تم رو گردانی کرو گے اور جو پیغام میں لے کر آیا ہوں اسے نہ مانو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے اور تمہارے بعد اللہ دوسری قوم کو زمین میں بسا دے گا اپنے زور وقوت پر جو تمہیں گھمنڈ ہے یہ بیجا ہے اللہ تعالیٰ عذاب بھیج دے گا تم اسے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکو گے اور یہ نہ سمجھنا کہ جب عذاب آئے گا تو سب پر آئے گا ‘ عذاب کافروں پر آئے گا اہل ایمان کو بچا لے گا۔ ان کی قوم نے کہا کہ تم ہمیں یہ پیغام دے رہے ہو کہ ہم صرف تنہا اللہ کی عبادت کریں اور اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں (یہ ہم سے نہیں ہوسکتا) تم جو یہ بار بار کہتے ہو کہ عذاب آئے گا ‘ عذاب آئے گا اگر تم سچے ہو تو عذاب لے آؤ۔ ایک تو انہوں نے کفر و شرک کو نہیں چھوڑا دوسرے اپنے منہ سے عذاب طلب کیا۔ لہٰذا حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا (قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ) (تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ نازل ہونے کا فیصلہ ہوچکا) چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان پر عذاب آیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں یعنی اللہ ایمان کو اللہ تعالیٰ نے نجات دے دی اور باقی قوم کو سخت عذاب میں مبتلا فرمایا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اللہ تعالیٰ نے سخت آندھی بھیجی جو سات رات اور آٹھ دن تک برابر چلتی رہی اور وہ ایسے رہ گئے گویا خالی کھجوروں کے تنے ہوں جیسا کہ سورة الحاقہ میں فرمایا ہے اور سورة احقاف میں فرمایا (فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیِتَھِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ رِیْحٌ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ* تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْءٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰی اِلَّا مَسٰکِنُھُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ) (سو جب انہوں نے بادل کو دیکھا جو ان کی وادیوں کے سامنے آ رہا ہے تو کہنے لگے کہ یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسانے والا ہے ‘ یہ بات نہیں کہ وہ پانی برسائے گا بلکہ وہ چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔ سو وہ لوگ صبح کے وقت اس حال میں ہوگئے کہ ان کے رہنے کے گھروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا ہم اسی طرح مجرمین کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔ سورة حمٓ سجدہ اور سورة الذریات اور سورة الحاقہ میں بھی قوم عاد پر سخت ہوا کے عذاب آنے کا ذکر ہے۔ واقعہ عذاب بتا کر ارشاد فرمایا (وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہٖ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَّیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) (اور اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی ‘ اور قیامت کے دن بھی) یعنی وہ دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی ان پر لعنت ہوگی ‘ (اَلَا اِنَّ عَادًا کَفَرُوْا رَبَّھُمْ ) (خبردار عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا) (اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ھُوْدٍ ) (خبردار اللہ کی رحمت سے قوم عاد کیلئے دوری ہے جو ہود کی قوم تھی) قوم ہود کی تکذیب اور ضدو عناد اور ہلاکت و بربادی کا واقعہ سورة اعراف رکوع نمبر ٩ میں بھی گزر چکا ہے وہاں بھی دیکھ لیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48: یہ دوسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے کے متعلق ہے حضرت ہود (علیہ السلام) نے واضح الفاظ میں اپنی قوم کو یہ پیغام دیایٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ میری قوم صرف خدائے واحد کو پوجو اور صرف اسی کو پاکرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں یعنی وحدو اللہ ولا تشرکوا معہ شیئا فی العبادۃ (خازن ج 3 ص 237) ۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ تم اپنے معبودان باطلہ کو دعاء اور پکار میں اللہ کے شریک بنا کر اللہ پر افتراء کرتے ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

50 اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں اور نہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود ہونے کے قابل ہے تم غیر اللہ کو اس کی عبادت میں شریک کرکے محض اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہو۔