Surat Hood

Surah: 11

Verse: 6

سورة هود

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾

And there is no creature on earth but that upon Allah is its provision, and He knows its place of dwelling and place of storage. All is in a clear register.

زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالٰی پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی ، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah is Responsible for the Provisions of All Creatures Allah says; وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الاَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book. Allah, the Exalted, informs that He is responsible for the provisions of all the creatures that dwell in the earth, whether they are small, large, sea-dwelling or land-dwelling. He knows their place of dwelling and their place of deposit. This means that He knows where their journeying will end in the earth and where they will seek shelter when they wish to nest. This place of nesting is also considered their place of deposit. Ali bin Abi Talhah and others reported from Ibn Abbas that he said concerning the statement, رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ (And He knows its dwelling place), it means where it resides. In reference to the statement, مُسْتَقَرَّهَا (and its deposit), he (Ibn Abbas) said; it means where it will die. ... كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ All is in a Clear Book. Allah informs us that all of this is written in a Book with Allah that explains it in detail. This is similar to Allah's statement, وَمَا مِن دَابَّةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ طَايِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ There is not a moving creature on earth, nor a bird that flies with its two wings, but are communities like you. We have neglected nothing in the Book, then unto their Lord they (all) shall be gathered. (6:38) and, وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَأ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ And with Him are the keys of the Ghayb (all that is hidden and unseen), none knows them but He. And He knows whatever there is in the land and in the sea; not a leaf falls, but he knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record. (6:59)

ہر مخلوق کا روزی رساں ہر ایک چھوٹی بڑی ، کشکی تری کی مخلوق کا روزی رساں ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ وہی ان کے چلنے پھرنے آنے جانے ، رہنے سہنے ، مرنے جینے اور ماں کے رحم میں قرار پکڑنے اور باپ کی پیٹھ کی جگہ کو جانتا ہے ۔ امام بن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں فاللہ اعلم ۔ یہ تمام باتیں اللہ کے پاس کی واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں جسے فرمان ہے ( وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۭمَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ 38؀ ) 6- الانعام:38 ) یعنی زمین پر چلنے والے جانور اور اپنے پروں پر اڑنے والے پرند سب کے سب تم جیسی ہی امتیں ہیں ، ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی ، پھر سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے ۔ اور فرمان ہے ( وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ۭ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 59؀ ) 6- الانعام:59 ) یعنی غیب کی کنجیاں اسی اللہ کے پاس ہیں ۔ انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ خشکی تری کی تمام چیزوں کا اسے علم ہے جو پتہ جھڑتا ہے اس کے علم میں ہے کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو واضح کتاب میں نہ ہو

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یعنی وہ کفیل اور ذمے دار ہے۔ زمین پر چلنے والی ہر مخلوق، انسان ہو یا جن، چرند ہو یا پرند، چھوٹی ہو یا بڑی، بحری ہو یا بری۔ ہر ایک کو اس کی ضروریات کے مطابق وہ خوراک مہیا کرتا ہے۔ 6۔ 2 مستقر اور مستودع کی تعریف میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک منتہائے سیر (یعنی زمین میں چل پھر کر جہاں رک جائے) مستقر ہے اور جس کو ٹھکانا بنائے وہ مستودع ہے۔ بعض کے نزدیک رحم مادر مستقر اور باپ کی صلب مستودع ہے اور بعض کے نزدیک زندگی میں انسان یا حیوان جہاں رہائش پذیر ہو وہ اس کا مستقر ہے اور جہاں مرنے کے بعد دفن ہو وہ مستودع ہے تفسیر ابن کثیر امام شوکانی کہتے ہیں مستقر سے مراد رحم مادر اور مستودع سے وہ حصہ زمین ہے جس میں دفن ہو اور امام حاکم کی ایک روایت کی بنیاد پر اسی کو ترجیح دی ہے بہرحال جو بھی مطلب لیا جائے آیت کا مفہوم واضح ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک کے مستقر ومستودع کا علم ہے اس لیے وہ ہر ایک کو روزی پہنچانے پر قادر ہے اور ذمے دار ہے اور وہ اپنی ذمے داری پوری کرتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] اللہ کی رزاقیت :۔ یعنی صرف انسانوں کا نہیں بلکہ زمین پر چلنے والے جانوروں حتیٰ کہ کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے اور یہ اللہ کی ذمہ داری ہے کہ ہر جاندار کو رزق اسے اس کے مقام پر پہنچائے۔ اس آیت سے جہاں اللہ کی کمال رزاقیت کا اندازہ ہوتا ہے وہاں اس کے وسعت علم کا بھی اندازہ ہوتا ہے اللہ کے رزق کی فراہمی کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ آسمان سے بارش برساتا ہے جس سے زمین میں سے ہر طرح کی نباتات اگتی ہیں۔ پھر اسی نباتات، فصلوں اور پھلوں وغیرہ سے ہر جاندار کو بالواسطہ یا بلاواسطہ روزی مہیا ہوتی ہے اور ہر جاندار کی جملہ ضروریات زندگی اسی زمین سے مہیا ہو رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ جتنی بھی مخلوق پیدا فرماتا ہے تو اس کے مطابق زمین بھی اپنے نئے سے نئے خزانے اگلتی جارہی ہے اور آئندہ بھی اگلتی چلی جائے گی۔ لیکن اس رزق کے حصول کے لیے اس نے اسباب و وسائل اختیار کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے اور جب کوئی انسان یا جاندار اسباب اختیار کرنے سے عاجز ہو تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسباب بھی مہیا فرما دیتا ہے۔ محکمہ خاندانی منصوبہ بندی کی ناکامی اور قحط کے اسباب :۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر رزق کی فراہمی اللہ کے ذمے ہے تو قحط سے یا بعض دوسری وجوہ سے انسان ہزاروں کی تعداد میں مر کیوں جاتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قحط تو اللہ کا عذاب ہے جو لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے انسانوں پر مسلط کیا جاتا ہے اور دوسری وجوہ بعض انسانوں کی دوسروں پر ظلم و زیادتی اور معاشی وسائل کی ناہموار تقسیم کی بنا پر ایسے حادثات وجود میں آتے ہیں اور یہ سب کچھ انسانوں کے کسب اعمال کا ہی نتیجہ ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانداروں کے رزق میں کمی یا کوتاہی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ماہرین معاشیات کی کوتاہ بینی :۔ آج عالمی سطح پر یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وسائل رزق اس کا ساتھ نہیں دے رہے لہذا خاندانی منصوبہ بندی اور اولاد پر کنٹرول ضروری ہے اس سلسلہ میں آج کے ماہر معاشیات کی کوتاہ فہمی اور فطرت سے جنگ کے نتیجہ میں ان کی ناکامی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں ایسے محکمے قائم کیے جارہے ہیں شرح پیدائش نسبتاً بڑھتی جارہی ہے اور عجیب اتفاق ہے کہ لوگ بھی پہلے سے زیادہ آسودہ اور خوشحال ہیں جس کا اندازہ ہر شخص اپنی پچاس سال پہلے کی زندگی سے کرسکتا ہے ان مادہ پرست ماہرین کے فکر کی اصل وجہ محض اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر عدم توکل ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو آبادی کی افزائش کے ساتھ ساتھ زمین کے خزانوں میں اضافہ فرما رہا ہے صدیوں سے بنجر پڑی ہوئی زمینیں آباد ہو رہی ہیں زمین سال میں دو کی بجائے چار چار فصلیں دینے لگی ہے کہیں تیل دریافت ہو رہا ہے کہیں جلانے کی گیسیں اور کہیں دوسری معدنیات نیز انسان حصول رزق کے نئے سے نئے وسائل بھی دریافت کر رہا ہے اور سب باتیں اس آیت کا جیتا جاگتا مصداق ہیں۔ مادہ پرست ماہرین معاشیات یہ تو اندازہ کرلیتے ہیں کہ اتنے سال بعد موجودہ شرح پیدائش کے مطابق دنیا کی آبادی اتنی ہوجائے گی لیکن اس دوران اللہ تعالیٰ جو نئے نئے وسائل رزق مہیا کرتا ہے اس کا وہ کچھ اندازہ نہیں کرسکتے لہذا ان کے اکثر اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں اس مادہ پرستی اور محض مادی وسائل پر نظر رکھنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اللہ پر توکل اٹھ جاتا ہے جو اس آیت کا مقصود اصلی ہے۔ اللہ پر توکل کی فضیلت :۔ چناچہ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں && (ترمذی، ابو اب الزہد۔ باب ماجاء فی قلۃ الطعام) [٩] قرآن کے الفاظ ہیں مستقر (قرار گاہ) اور مستودع (سونپے جانے کی جگہ) اور مستودع اس گودام کو بھی کہتے ہیں جہاں کوئی چیز ذخیرہ کی جاتی ہے یا امانتیں بطور حفاظت رکھی جاتی ہیں ان دونوں الفاظ کی تعبیر میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے ان میں سے ہم ابن عباس (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مستقر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں کسی نے اس دنیا میں زندگی (کا اکثر حصہ) بسر کیا ہو اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ دفن ہوا اور ہر جاندار کے ان دونوں مقامات کا اللہ کو پوری طرح علم ہے۔ [١٠] لوح محفوظ ہی کتاب مبین ہے :۔ کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ عمران بن حصین کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا &&: اللہ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اس کا عرش پانی پر تھا پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی && (بخاری، کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی المائ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ ۔۔ :” دَاۗبَّةٍ “ ” دَبَّ یَدِبُّ دَبِیْبًا “ سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی آہستہ چلنا ہے۔ ہر جان دار خواہ مذکر ہو یا مؤنث، عاقل ہو یا غیر عاقل، سب پر ” دَاۗبَّةٍ “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَاۗبَّةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي بَطْنِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي رِجْلَيْنِ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰٓي اَرْبَعٍ ) [ النور : ٤٥] ” اور اللہ نے ہر چلنے والا (جان دار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے پیٹ پر یا دو یا چار ٹانگوں پر چلنے والے تمام جانداروں کو ” دَابَّۃٍ “ فرمایا۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور احاطے کا بیان تھا کہ انسان کے ظاہر اور پوشیدہ احوال ہی نہیں، وہ تو دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ اس آیت میں اسی پر دلیل پیش کی ہے کہ ہر جان دار کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے روزی پہنچ رہی ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا علم وسیع نہ ہوتا تو روزی کا یہ بندوبست کیسے ممکن تھا ؟ مگر اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رزق اللہ کے ذمے ہے تو انسان اس کی کمائی اور تلاش کے لیے محنت نہ کرے، بلکہ رزق کے تمام خزانے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، مگر انسان کو محنت کا حکم ہے اور اسے وہ اسباب اختیار کرنا لازم ہے جن سے رزق حاصل ہوتا ہے، لیکن اس محنت اور ان اسباب پر بھروسا جائز نہیں، تمام اسباب مہیا کرنے کے بعد بھی بھروسا اور توکل صرف اللہ پر لازم ہے، کیونکہ وہ نہ چاہے تو تمام اسباب کے باوجود بندہ رزق سے محروم رہتا ہے اور اگر وہ چاہے تو بندہ کوئی سبب بھی مہیا نہ کرسکے تو وہ اسباب کے بغیر بھی روزی دے سکتا ہے۔ مگر حکم یہی ہے کہ رزق کی تلاش میں نکلو۔ عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا ) [ ترمذی، الزہد، باب فی التوکل علی اللّٰہ : ٢٣٤٤ ] ” اگر تم اللہ پر توکل (بھروسا) کرو جیسا اس پر توکل کا حق ہے تو یقیناً تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے، وہ صبح نکلتے ہیں تو خالی پیٹ ہوتے ہیں، شام کو آتے ہیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ “ اس حدیث میں صبح نکلنا کسب ہے اور یہ فکر نہ کرنا کہ کل کو کیا کھائیں گے، توکل ہے۔ بہرحال اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اِعْقِلْھَا وَ تَوَکَّلْ ) [ ترمذی، صفۃ القیامۃ، باب حدیث اعقلھا و توکل۔۔ : ٢٥١٧، عن أنس (رض) ]” اونٹنی کا گھٹنا باندھ اور توکل کر۔ “ ابو امامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ رُوْحَ الْقُدْسِ نَفَثََ فِیْ رَوْعِيْ أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوْتَ حَتَّی تَسْتَکْمِلَ أَجَلَھَا وَتَسْتَوْعِبَ رِزْقَھَا فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَأَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ وَلَا یَحْمِلَنَّ أَحَدَکُمُ اسْتِبْطَاء الرِّزْقِ أَنْ یَّطْلُبَہُ بِمَعْصِیَۃِِ اللّٰہِ فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَا یُنَالُ مَا عِنْدَہٗ إِلاَّ بِطَاعَتِہٖ ) [ صحیح الجامع : ٢٠٨٥ ] ” بیشک روح القدس (جبریل (علیہ السلام ) نے میرے دل میں وحی کی کہ کوئی جان اس وقت تک فوت نہیں ہوگی جب تک اپنی مقررہ مدت پوری نہ کرلے اور اپنا پورا رزق حاصل نہ کرلے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور (رزق کی) تلاش میں اچھا طریقہ اختیار کرو اور رزق ملنے میں دیر ہوجانا تم میں سے کسی کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ وہ اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ (نعمت اور جنت) ہے وہ اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ “ یہ ذہن بھی غلط ہے کہ تلاش اور کوشش کے بغیر رزق نہیں ملتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی مخلوق وہ ہے جسے اسباب اختیار کیے بغیر رزق مل رہا ہے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (٦٠) ۔ وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا : یہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم ہی کا مزید بیان ہے۔ ” مُسْتَقَرٌّ“ اور ” مُسْتَوْدَعٌ“ کی تفسیر اگرچہ لوگوں نے مختلف بیان کی ہے، مگر الفاظ کے پیش نظر واضح مطلب یہی نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام جگہیں بھی جانتا ہے جہاں انسان نے کچھ مدت کے لیے ٹھہرنا ہے، خواہ باپ کی پشت ہو یا ماں کا رحم، یا زمین کا کوئی حصہ جہاں اس نے زندگی میں ٹھہرنا ہے اور اللہ تعالیٰ وہ جگہیں بھی جانتا ہے جن کے سپرد انسان نے مرنے کے بعد ہونا ہے، خواہ وہ زمین میں کھودی ہوئی جگہ ہو یا کسی جانور کا پیٹ یا جو جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس کے سپرد ہونے کے لیے لکھی ہے اور وہ سب کچھ اس کے لیے قبر ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو موت اور قبر دینے کا ذکر فرمایا ہے : (ۙثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ) [ عبس : ٢١ ] ” پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں رکھوایا۔ “ پھر قیامت کو زندہ ہو کر اسے دوزخ کے سپرد ہونا ہے یا جنت کے، یہ سب اس کے لیے ” مُسْتَوْدَعٌ“ (سونپے جانے کی جگہ) ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جان دار کی زندگی کے ہر حال کو بھی جانتا ہے اور موت کے بعد کے تمام حالات کو بھی۔ ” کِتٰبْ مُّبِیْن “ سے مراد لوح محفوظ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Mentioned in the previous verse was the all-encompassing knowl¬edge of Allah Ta` ala from whom nothing is hidden, nothing from the ti¬niest particle of the universe down to the secrets of the hearts. It is in consonance with it that the first verse (6) mentions a great favor be-stowed on human beings - that Allah Ta` ala has Himself taken the responsibility of providing their sustenance. Then, this is not restricted to human beings alone. It extends to every living form that walks over the earth. Its sustenance reaches it where it lives or goes to. That be¬ing the state of affairs, the intentions and efforts of disbelievers and hypocrites to hide things from Allah Ta` ala are nothing but ignorance and senselessness. Then, taken in a general sense, it would include all beasts, birds, insects and all animals of the land and the sea. To inten¬sify this generality, the word: مِن (min) has been added and the text reads: وَمَا مِن دَابَّةٍ (and there is no creature). Dabbah is any creature that moves on earth. Birds are also included there because their nests are also located somewhere on the land. That creatures living in water have also a connection with the surface of the earth is no secret. Allah Ta` ala has taken the responsibility of providing sustenance for all these life forms and has put it in words which give the impression of a duty imposed on someone. It was said: عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا (its sustenance is on Allah). It is obvious that there is no power that could put a liability on Allah Ta` ala. What really happened is that Allah Ta` ala himself has made this promise out of his grace and mercy. But, this promise comes from One who is True and Merciful. There is no probability of things happening otherwise, counter to the promise. This is a matter of certitude. It is to express this element of certitude that the word: علی (` ala: on) has been introduced at this place - a word used to describe duties, although, Allah Ta` ala takes no orders from anyone, nor is He respon¬sible for something as obligated or necessary. Lexically, رِزِق rizq (sustenance, provision or livelihood) means something from which a creature procures its food and through which the body grows and the soul survives. According to the lexical meaning of the word رِزِق &rizq&, it is not neces¬sary that whoever has it should also be its owner - because, رِزِق rizq is giv¬en to all animals, but they are not its owners. They are not cut out for ownership. Similarly, infants are not the owners of their رِزِق rizq, but it is given to them. In terms of this general sense of رِزِق rizq, ` Ulama& have said that رِزِق rizq could be halal (lawful) and it could also be Haram (unlawful), because for a person who eats up what belongs to the other person, that prop¬erty, no doubt, becomes his food, but so it becomes only unlawfully. Had this person not used unfair means blinded by his greed, he would have received the halal حلال (lawful) رِزِق rizq reserved and appointed for him. Removal of a doubt against the Divine Responsibility of Rizq رِزِق A question arises at this stage. When Allah Ta` ala has taken the re¬sponsibility of providing food for every creature, why is it that there are many animals and human beings who die of hunger and thirst for the reason that they do not get food or water? The ` Ulama& have given several answers. One possible answer is that the responsibility of rizq is there until comes the appointed time, that is, until comes the end of the years of life. When these years are over, one has to die, pass away from this world, the common causes of which are diseases, or accidents like burning, drowning, injury and wounds. Similarly, there could also be the reason that the رِزِق rizq for the incumbent was stopped and which caused death. Imam al-Qurtubi, under his comments on this verse, has mentioned an event related to Abu Musa, Abu Malik and some others from their tribe of Banu al-Ash&ar. When these people reached the blessed city of Madinah after their Hijrah, the wherewithal of their journey was all used up. They sent one of their men to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the hope that he would make some arrangement for their meals. When this person reached his door, he heard the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reciting the verse: وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا (And there is no creature on earth whose sustenance is not on Allah - 6). Hearing this verse, the person, thought that Allah has Himself taken the responsi¬bility of providing رِزِق rizq for all life forms, human or non-human, then, we Ash&arites too would not be any worse than the animals in the sight of Allah. He shall, most certainly, give us our رِزِق rizq. With this thought in his mind, he turned from the door and left. He simply said nothing to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about why he was there. After having returned to his tribe, he said, ` Rejoice, my friends. The help of Allah is coming for you.& His Ash&ari companions took his words in a different sense. They thought that their emissary sent to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was talking about the success of his visit and that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had promised to make arrangements for what they needed. Naturally, they found the news good and felt satisfied. Hardly had they sat down when they saw two men bringing a trench¬er, a large wooden tray, full of meat and bread. The carriers gave all this food to the Ash&arites who ate it to their fill. When food was still left, they thought it would be nice to send the rest of the food to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he could use it as he deemed fit. They had two of their men carry this food to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Later they all presented themselves before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and told him, ` Ya Rasulallah, the food you sent was very nice and very delicious.& He said, ` As for me, I never sent any food.& Then, they told him the whole story that they had sent one of their men to him, the reply that he gave led them to believe that the food was sent by him. Hearing this, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, ` not by me, this was sent by the Most Sacred Being who has taken the re¬sponsibility of providing رِزِق rizq to every living creature.& According to some Hadith reports, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) reached the Mount of Tur in search of fire, what he found there was not fire but Divine light. He was made a prophet and asked to go to Egypt so that the Pharaoh and his people could be brought on the right path. At that hour, it occurred to him that he had left his wife in a wilderness all alone - who would take care of her? To remove this scruple from his heart, Allah Ta` ala asked Sayyidna Musa (علیہ السلام) to strike his rod at the rock in front of him. When he did what he was asked to do, the rock split and out came yet another rock. He was asked to strike his rod at that too. He did that, the rock split and out came the third rock from it. He was asked to strike his rod at that too. It split and coming out from it he saw a creature holding a green leaf in his mouth. No doubt, Sayyidna Musa (علیہ السلام) believed in the perfect power of Allah Ta` ala even before, but what one sees with one&s eyes has an ef¬fect of its own. So, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) saw this, he took off for Egypt right from that spot. He did not even stop to tell his wife that he had been commanded to leave for Egypt and that he was going there. Rizq رِزِق for All: The Divine System is Unique After having made the promise in this verse that Allah Ta` ala has taken the responsibility of providing the rizq of every living creature, things have not been left at that. Instead, to put human beings further at ease, it was said: وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا (and He knows its permanent and its temporary place - 6). Different explanations of the words: مُستقر (mustaqarr) and مُستودع (mustawda& ) have been reported but, lexically, what Tafsir al-Kashshaf carries is the closest. It says that mustaqarr is the place someone makes a permanent residence, or home; and mus¬tawda& is a place where one stays temporarily to take care of some-thing (as it appears in the translation of the text). The sense being driven home is that the responsibility of Allah Ta` ala should not be taken on the analogy of responsibilities as as¬sumed by peoples and governments of the world of our experience. Here in this world, let us assume that there is a person or institution that would take the responsibility of delivering your رِزِق &rizq& to you. In that case, if you were going somewhere, you would inform that individ¬ual or institution that you were leaving your permanent place to go somewhere else. Then, you will have to give a firm itinerary that you will be living in such and such city or village, from such and such date to such and such date, and that you wanted your provider to deliver your rizq there! But, when things are ` on Allah& and under His respon¬sibility, you do not have to take even this much of trouble because He knows when you move and He knows when you do not and He knows what you are doing in this or that state. He knows where you live per¬manently and He knows where you live temporarily. He needs no ap¬plication, or advice or address to take care of your رِزِق rizq. It is just deliv¬ered wherever you are. In view of the all-encompassing knowledge and perfect power of Al¬lah Ta` ala, only His will would have been sufficient to make everything come out right - without the need to maintain a log book or master file of work done. But, the only analogy weak man has is the analogy of the system he is used to, therefore, he could have apprehensions of possible errors and omissions. So, for his peace of mind, it was said: كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِين (Everything is in a clear book). This ` clear book& means the Preserved Tablet (al-lawh al-mahfuz) which has a universal coverage with full details of the sustenance, age, deed and things like that and which are entrusted with concerned angels as and when needed. As narrated by Sayyidna ` Abdullah ibn ` Umar (رض) and reported in the Sahih of Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, ` Allah Ta` ala had written the destinies of all His creation fifty thousand years even before the creation of the heavens and the earth.& A lengthy Hadith narrated by Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) appearing in al-Bukhari and Muslim, reports the saying of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which is summarized as follows: ` Man goes through different stages before his birth. When the parts of his body are formed completely, Allah Ta` ala commands an angel who writes down four things about him. One: Deeds he will do. Two: Years of life. Even recorded there is the month, day, minute and breath count. Three: Death: Where would he die and where would he be buried? Four: Rizq: How much is his sustenance and how and where does it have to reach him?& (And that it stands written in the Preserved Tablet (al-lawh al-mahfuz) even before the creation of the heavens and the earth is not contrary to this).

خلاصہ تفسیر اور کوئی ( رزق کھانے والا) جاندار روئے زمین پر چلنے والا ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو ( اور رزق رسانی کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے سو) وہ ہر ایک کی زیادہ رہنے کی جگہ کو اور چند روز رہنے کی جگہ کو جانتا ہے ( اور ہر ایک کو وہاں ہی رزق پہنچاتا ہے، اور گو سب چیزیں علم الہٰی میں تو ہیں ہی مگر اس کے ساتھ ہی) سب چیزیں کتاب مبین ( یعنی لوح محفوظ) میں ( بھی منضبط و مندرج) میں ( عرض واقعات ہر طرح محفوظ ہیں، آگے تخلیق کا مع اس کی بعض حکمتوں کے بیان ہے جس سے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی بھی تائید ہوتی ہے، کیونکہ ابتدائی تخلیق دلیل ہے اس پر کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے) اور وہ ( اللہ) ایسا ہے کہ سب آسمان اور زمین کو چھ دن ( کی مقدار) میں پیدا کیا اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا ( کہ یہ دونوں چیزیں پہلے سے پیدا ہوچکی تھیں اور یہ پیدا کرنا اس لئے ہے) تاکہ تم کو آزماوے کہ ( دیکھیں) تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے ( مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کو پیدا کیا، تمہارے حوائج و منافع اس میں پیدا کئے تاکہ تم ان کو دیکھ کر توحید پر استدلال کرو اور ان سے منتفع ہو کر منعم کا شکر اور خدمت کہ عبادت ہے عمل صالح سے، بجا لاؤ سو بعض نے ایسا کیا، بعض نے نہ کیا) اور اگر آپ ( لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یقینا تم لوگ مرنے کے بعد ( قیامت کے روز دوبارہ) زندہ کئے جاؤ گے تو ( ان میں) جو لوگ کافر ہیں وہ ( قرآن کی نسبت) کہتے ہیں کہ یہ تو نرا صاف جادو ہے (جادو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ باطل ہوتا ہے مگر مؤ ثر، اسی طرح قرآن کو نعوذ باللہ باطل سمجھتے تھے لیکن اس کے مضامین کا مؤ ثر ہونا بھی مشاہدہ کرتے تھے، اس مجموعہ پر یہ حکم کیا، نعوذ باللہ منہ۔ مقصود اس سے آخرت کا انکار تھا، آگے ان کے منشاء انکار کا جواب ارشاد ہے) اور اگر تھوڑے دنوں تک ( مراد دنیوی زندگی ہے) ہم ان سے عذاب ( موعود) کو ملتوی رکھتے ہیں ( کہ اس میں حکمتیں ہیں) تو ( بطور انکار و استہزاء کے) کہنے لگتے ہیں کہ ( جب ہم تمہارے نزدیک مستحق عذاب ہیں تو) اس عذاب کو کون چیز روک رہی ہے ( یعنی اگر عذاب کوئی چیز ہوتی تو اب تک ہوچکتا جب نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں، حق تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ) یاد رکھو جس دن ( وقت موعود پر) وہ ( عذاب) ان پر آپڑے گا تو پھر کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور جس ( عذاب) کے ساتھ یہ استہزاء کر رہے تھے وہ ان کو آگھیرے گا ( مطلب یہ کہ باوجود استحقاق کے یہ تاخیر اس لئے ہے کہ بعض حکمتوں سے اس کا وقت معین ہے پھر اس وقت ساری کسر نکل جاوے گی ) ۔ معارف و مسائل پچھلی آیت میں حق تعالیٰ کے علم محیط کا ذکر تھا جس سے کائنات کا کوئی ذرہ اور دلوں کے چھپے ہوئے راز بھی مخفی نہیں، آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس مناسبت سے انسان پر ایک عظیم الشان احسان کا ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ کہ اس کے رزق کی کفالت حق تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لے لی اور نہ صرف انسان کی بلکہ زمین پر چلنے والے ہر جاندار کی، وہ جہاں کہیں رہتا ہے یا چلا جاتا ہے اس کی روزی اس کے پاس پہنچتی ہے، تو کفار کے یہ ارادے کہ اپنے کسی کام کو اللہ تعالیٰ سے چھپا لیں جہالت اور بےوقوفی کے سوا کچھ نہیں، پھر اس کے عموم میں جنگل کے تمام درندے، پرندے اور حشرات الارض، دریا اور خشکی کے تمام جانور داخل ہیں اس عموم کی تاکید کے لئے لفظ من کا اضافہ کرکے وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فرمایا ہے دابہ ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو زمین پر چلے، پرندے جانور بھی اس میں داخل ہیں کیونکہ ان کا آشیانہ بھی کہیں زمین ہی پر ہوتا ہے، دریائی جانوروں کا بھی تعلق زمین سے ہونا کچھ مخفی نہیں، ان سب جانداروں کے رزق کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے کر ایسے الفاظ سے اس کو بیان کیا ہے جیسے کوئی فریضہ کسی کے ذمہ ہو، ارشاد فرمایا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا یعنی اللہ کے ذمہ ہے اس کا رزق، یہ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری حق تعالیٰ پر ڈالنے والی کوئی اور طاقت نہیں بجز اس کے کہ اسی نے اپنے فضل سے یہ وعدہ فرما لیا، مگر وعدہ ایک صادق کریم کا ہے جس میں خلاف ورزی کا کوئی امکان نہیں، اسی یقین کو ظاہر کرنے کے لئے اس جگہ لفظ علی لایا گیا ہے جو فرائض کے بیان کے لئے استعمال ہوتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نہ کسی حکم کا پا بند ہے نہ اس کے ذمہ کوئی چیز فرض یا واجب ہے، رزق لغت میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے جاندار اپنی غذا حاصل کرے اور جس کے ذریعہ اس کی روح کی بقاء اور جسم میں نما یعنی فربہی اور بڑھوتری ہوتی ہے۔ رزق کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جس کا رزق ہے وہ اس کا مالک بھی ہو، کیونکہ تمام جانوروں کو رزق دیا جاتا ہے مگر وہ اس کے مالک نہیں ہوتے ان میں مالکیت کی صلاحیت ہی نہیں، اسی طرح چھوٹے بچے اپنے رزق کے مالک نہیں ہوتے مگر رزق ان کو ملتا ہے۔ رزق کے اس عام معنی کے اعتبار سے علماء نے فرمایا کہ رزق حلال بھی ہوسکتا ہے حرام بھی کیونکہ جو شخص کسی دوسرے کا مال ناجائز طور پر لے کر کھالے تو یہ مال غذا تو اس شخص کی بن گیا مگر حرام طور پر بنا، اگر یہ اپنی حرص میں اندھا ہو کر ناجائز طریقے استعمال نہ کرتا تو جو رزق اس کے لئے مقرر تھا وہ جائز طور پر اس کو ملتا۔ رزق کی خدائی ذمہ داری پر ایک سوال اور جواب : یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر جاندار کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے تو پھر ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں کہ بہت سے جانور اور انسان غذا نہ ملنے کے سبب بھوکے پیاسے مرجاتے ہیں، اس کے جواب علماء نے متعدد لکھے ہیں۔ ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رزق کی ذمہ داری اسی وقت تک ہے جب تک اس کی اجل مقدر یعنی عمر پوری نہیں ہوجاتی، جب یہ عمر پوری ہوگئی تو اس کو بہرحال مرنا ہے اور اس جہان سے گزرنا ہے جس کا عام سبب امراض ہوتے ہیں کبھی جلنا یا غرق ہونا یا چوٹ اور زخم بھی سبب ہوتا ہے، اسی طرح ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا رزق بند کردیا گیا، اس سے موت واقع ہوئی۔ امام قرطبی نے اس آیت کے تحت ابو موسیٰ اور ابو مالک وغیرہ قبیلہ اشعریین کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچے تو جو کچھ توشہ اور کھانے پینے کا سامان ان کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا، انہوں نے اپنا ایک آدمی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس غرض کے لئے بھیجا کہ ان کے کھانے وغیرہ کا کچھ انتظام فرما دیں، یہ شخص جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازہ پر پہنچا تو اندر سے آواز آئی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آیت پڑھ رہے ہیں وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا اس شخص کو یہ آیت سن کر خیال آیا کہ جب اللہ نے سب جانداروں کا رزق اپنے ذمہ لے لیا ہے تو پھر ہم اشعری بھی اللہ کے نزدیک دوسرے جانوروں سے گئے گزرے نہیں وہ ضرور ہمیں بھی رزق دیں گے، یہ خیال کرکے وہیں سے واپس ہوگیا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا کچھ حال نہیں بتلایا، واپس جاکر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ خوش ہوجاؤ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد آرہی ہے، اس کے اشعری ساتھیوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا کہ ان کے قاصد نے حسب قرارداد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی حاجت کا ذکر کیا ہے اور آپ نے انتظام کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے وہ یہ سمجھ کر مطمئن بیٹھ گئے، اور ابھی بیٹھے ہی تھے کہ دیکھا کہ دو آدمی ایک ( قصعہ) گوشت اور روٹیوں سے بھرا ہوا اٹھائے لا رہے ہیں، قصعہ ایک بڑا برتن ہوتا ہے جیسے تشلہ یا سینی، لانے والوں نے یہ کھانا اشعریین کو دے دیا، انہوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی بچ رہا تو ان لوگوں نے یہ مناسب سمجھا کہ باقی کھانا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیج دیں تاکہ اس کو آپ اپنی ضرورت میں صرف فرمادیں، اپنے دو آدمیوں کو یہ کھانا دے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیج دیا۔ اس کے بعد یہ سب حضرات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تو کوئی کھانا نہیں بھیجا۔ تب انہوں نے پورا واقعہ عرض کیا کہ ہم نے اپنے فلاں آدمی کو آپ کے پاس بھیجا تھا، اس نے یہ جواب دیا، جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ نے کھانا بھیجا ہے، یہ سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ میں نے نہیں بلکہ اس ذات قدوس نے بھیجا ہے جس نے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمہ لیا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچے اور وہاں آگ کے بجائے تجلیات الہٰی سامنے آئیں اور ان کو نبوت و رسالت عطا ہو کر فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لئے مصر جانے کا حکم ملا تو خیال آیا کہ میں اپنی زوجہ کو جنگل میں تنہا چھوڑ کر آیا ہوں اس کا کون متکفل ہوگا، اس خیال کی اصلاح کے لئے حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ سامنے پڑی ہوئی پتھر کی چٹان پر لکڑی ماریں، انہوں نے تعمیل حکم کی تو یہ چٹان پھٹ کر اس کے اندر سے ایک دوسرا پتھر برآمد ہوا، حکم ہوا اس پر بھی لکڑی ماریں، ایسا کیا تو وہ پتھر پھٹا اور اندر سے تیسرا پتھر برآمد ہوا، اس پر بھی لکڑی مارنے کا حکم ہوا تو یہ شق ہوا اور اندر سے ایک جانور برآمد ہوا جس کے منہ میں ہرا پتہ تھا۔ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا یقین تو موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے بھی تھا مگر مشاہدہ کا اثر کچھ اور ہی ہوتا ہے، یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہیں سے سیدھے مصر کو روانہ ہوگئے، زوجہ محترمہ کو یہ بتلانے بھی نہ گئے کہ مجھے مصر جانے کا حکم ہوا ہے، وہاں جارہا ہوں۔ ساری مخلوق کو رزق رسانی کا عجیب و غریب نظام قدرت : اس آیت میں حق تعالیٰ نے صرف اس پر اکتفا نہیں فرمایا کہ ہر جاندار کا رزق اپنے ذمہ لے لیا بلکہ انسان کے مزید اطمینان کے لئے فرمایا (آیت) وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا، اس آیت میں مُسْتَــقَرَّ اور مُسْـتَوْدَعَ کی مختلف تفسیریں منقول ہیں مگر لغت کے اعتبار سے وہ اقرب ہے جس کو کشاف نے اختیار کیا ہے کہ مستقر اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی شخص مستقل طور پر جائے قیام یا وطن بنالے اور مستودع اس جگہ کو جہاں عارضی طور پر کسی ضرورت کے لئے ٹھہرے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری کو دنیا کے لوگوں اور حکومتوں کی ذمہ داری پر قیاس نہ کرو، دنیا میں اگر کوئی شخص یا کوئی ادارہ آپ کے رزق کی ذمہ داری لے لے تو اتنا کام بہرحال آپ کو کرنا پڑے گا کہ اگر اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جانا ہو تو اس فرد یا ادارہ کو اطلاع دیں کہ میں فلاں تاریخ سے فلاں تک فلاں شہر یا گاؤں میں رہوں گا، رزق کے وہاں پہنچنے پہنچانے کا انتظام کیا جائے، مگر حق تعالیٰ کی ذمہ داری میں آپ پر اس کا بھی کوئی بار نہیں کیونکہ وہ آپ کی ہر نقل و حرکت سے باخبر ہے، آپ کے مستقل جائے قیام کو بھی جانتا ہے اور عارضی اقامت کی جگہ سے بھی واقف، بغیر کسی درخواست اور نشان دہی کے آپ کا راشن وہاں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت مطلقہ کے پیش نظر صرف اس کا ارادہ فرما لینا تمام کاموں کے سرانجام ہونے کے لئے کافی تھا کسی کتاب یا رجسٹر میں لکھنے لکھانے کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر مسکین انسان جس نظام کا خوگر ہوتا ہے اس کو اس نظام پر قیاس کرکے بھول چوک کا کھٹکا ہوسکتا ہے اس لئے اس کے مزید اطمینان کے لئے فرمایا (آیت) كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ ، یعنی یہ سب کچھ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے، اس واضح کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں تمام کائنات کی روزی، عمر، عمل وغیرہ کی پوری تفصیلات لکھی ہوئی ہیں جو حسب موقع و ضرورت متعلقہ فرشتوں کے سپرد کردی جاتی ہیں۔ صحیح مسلم میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمان اور زمین کی پیدائش سے بھی پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں۔ اور بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک طویل حدیث میں فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے انسان اپنی پیدائش سے پہلے مختلف دور سے گزرتا ہے، جب اس کے اعضاء کی تکمیل ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو حکم کرتے ہیں جو اس کے متعلق چار چیزیں لکھ لیتا ہے اول اس کا عمل جو کچھ وہ کرے گا، دوسرے اس کی عمر کے سال، مہینہ، دن اور منٹ اور سانس تک لکھ لئے جاتے ہیں، تیسرے اس کو کہاں مرنا اور کہاں دفن ہونا ہے، چوتھے اس کا رزق کتنا اور کس کس طریقے سے پہنچنا ہے، ( اور لوح محفوظ میں آسمان زمین کی پیدائش سے بھی پہلے لکھا ہونا اس کے منافی نہیں ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَامِنْ دَاۗبَّۃٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللہِ رِزْقُہَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّہَا وَمُسْـتَوْدَعَہَا۝ ٠ ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۝ ٦ دب الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] ( د ب ب ) دب الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] اور زمین پر چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو مستقر قَرَّ في مکانه يَقِرُّ قَرَاراً ، إذا ثبت ثبوتا جامدا، وقوله : فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ [ الأنعام/ 98] ، قال ابن مسعود : مُسْتَقَرٌّ في الأرض ومستودع في القبور وقال ابن عبّاس : مستقرّ في الأرض ومستودع في الأصلاب . وقال الحسن : مستقرّ في الآخرة ومستودع في الدّنيا . وجملة الأمر أنّ كلّ حال ينقل عنها الإنسان فلیس بالمستقرّ التّامّ. ( ق ر ر ) قرر فی مکانہ یقر قرار ا ( ض ) کے معنی کسی جگہ جم کر ٹھہر جانے کے ہیں اصل میں یہ فر سے ہے جس کے معنی سردی کے ہیں جو کہ سکون کو چاہتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ [ الأنعام/ 98] تمہاری لئے ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپر د ہونے کی ۔ میں ابن مسعود کے نزدیک مستقر سے مراد زمین میں ٹھہرنا ہے اور مستودع سے مراد قبر میں ہیں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ مستقر سے مراد تو زمین ہی ہے لیکن مستودع سے مراد دنیا ہے ۔ الحاصل ہر وہ حالت جس سے انسان منتقل ہوجائے وہ مستقر تام نہیں ہوسکتا ہے ۔ كتب) حكم) قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، وقوله : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتابِ اللَّهِ [ التوبة/ 36] أي : في حكمه . ويعبّر عن الإيجاد بالکتابة، وعن الإزالة والإفناء بالمحو . قال : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] نبّه أنّ لكلّ وقت إيجادا، وهو يوجد ما تقتضي الحکمة إيجاده، ويزيل ما تقتضي الحکمة إزالته، ودلّ قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] علی نحو ما دلّ عليه قوله : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وقوله : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ اور نحو سے کسی چیز کا زائل اور فناکر نامراد ہوتا ہے چناچہ آیت : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] میں تنبیہ ہے کہ کائنات میں ہر لمحہ ایجاد ہوتی رہتی ہے اور ذات باری تعالیٰ مقتضائے حکمت کے مطابق اشیاء کو وجود میں لاتی اور فنا کرتی رہتی ہے ۔ لہذا اس آیت کا وہی مفہوم ہے ۔ جو کہ آیت كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے اور آیت : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] میں اور اس کے پاس اصل کتاب ہے کا ہے اور آیت : وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتاباً مُؤَجَّلًا[ آل عمران/ 145] اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے ( اس نے موت کا ) وقت مقرر کرکے لکھ رکھا ہے ۔ میں کتابا موجلا سے حکم الہی مراد ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦) سب کے رزق کا ذمہ دار اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کی رات کو آرام کرنے کی جگہ اور مرنے کے بعد دفن ہونے کی جگہ سب جانتا ہے ہر ایک جاندار کا رزق اور اس کی موت وزندگی سب لوح محفوظ میں معینہ مدت تک محفوظ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ (وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ الاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا) اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر تقسیم رزق کا جو نظام وضع کیا ہے اس میں اس نے ہر جاندار کے لیے اس کی ضروریات زندگی فراہم کردی ہیں۔ بچے کی پیدائش بعد میں ہوتی ہے مگر اس کے لیے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ اللہ کے اس نظام اور اس کے قوانین کو پس پشت ڈال کر کوئی ایسا نظام یا ایسے قوانین وضع کرے جن کے تحت ایک فرد کے حصے کا رزق کسی دوسرے کی جھولی میں چلا جائے ‘ تو رزق یا دولت کی تقسیم کا خدائی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس لوٹ کھسوٹ کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کہیں دولت کے بےجا انبار لگیں گے اور کہیں بیشمار انسان فاقوں پر مجبور ہوجائیں گے۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی رزق کی تقسیم میں کوئی کمی بیشی نظر آئے تو سمجھ لو کہ اس کا ذمہ دار خودانسان ہے۔ (وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَمُسْتَوْدَعَہَا) مُستَقَر اور مستودَع دونوں الفاظ کی تشریح سورة الانعام کی آیت ٩٨ میں تفصیل کے ساتھ ہوچکی ہے۔ وہاں ان الفاظ کے بارے میں تین مختلف اقوال بھی زیر بحث آ چکے ہیں۔ (کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) وہی روشن اور واضح کتاب جو علم الٰہی کی کتاب ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6. God is, on the one hand, All-Knowing. He knows exactly where each of His creatures is, be it the nest of a small bird or the hole of a tiny worm. On the other hand, God provides sustenance to all, and provides for them wherever they might be. He is aware at all times of where His creatures spend their lives and where they will breathe their last. It would be sheer stupidity if someone were to think that by resorting to methods such as covering one's face, or closing one's eyes one would be able to escape God's punishment. Even if someone succeeds in eluding the Prophet's observation it is to no avail. For no one can escape God's observation. Nor should anyone entertain the illusion that God is unaware of the fact that the Prophet (peace be on him) was doing his best to communicate the truth to the unbelievers, and that the latter were trying their utmost to clog their ears lest the truth reached them.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :6 یعنی جس خدا کے علم کا حال یہ ہے کہ ایک ایک چڑیا کا گھونسلہ اور ایک ایک کیڑے کا بِل اس کو معلوم ہے اور وہ اسی کی جگہ پر اس کو سامان زیست پہنچا رہا ہے ، اور جس کو ہر آن اس کی خبر ہے کہ کونسا جاندار کہاں رہتا ہے اور کہاں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دیتا ہے ، اس کے متعلق اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ اس طرح منہ چھپا چھپا کر یا کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر یا آنکھوں پر پردہ ڈال کر تم اس کی پکڑ سے بچ جاؤ گے تو سخت نادان ہو ۔ داعی حق سے تم نے منہ چھپا بھی لیا تو آخر اس کا حاصل کیا ہے؟ کیا خدا سے بھی تم چھپ گئے؟ کیا خدا یہ نہیں دیکھ رہا ہے کہ ایک شخص تمہیں امر حق سے آگاہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور تم یہ کوشش کر رہے ہو کہ کسی طرح اس کی کوئی بات تمہارے کان میں نہ پڑنے پائے؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کی جتنی مخلوق ہے خواہ خشکی کی رہنے والی خواہ دریا کی سب کو خدا روزی پہنچاتا ہے اور خدا ہر ایک مخلوق کے قرار کی جگہ جانتا ہے کہ کہاں اس کی بودو باش ہے اور کس چیز سے اس کی پیدائش اور کہاں اور کس سرزمین میں اس کی موت ہے اور یہ سب باتیں لوح محفوظ میں دنیا کی پیدائش کے پہلے سے موجود ہیں حاصل یہ ہے کہ جب اللہ پاک کا علم اتنا بڑا وسیع ہے کہ ہر ایک شخص اور ہر ایک جاندار کے رہنے کی جگہ کو جانتا ہے وہ جہاں ہوتا ہے اس کا رزق وہیں پہنچا دیتا ہے اور اس نے تمہارے دل کا حال پہلے ہی لوح محفوظ میں اپنے علم کے موافق لکھ لیا ہے تو تمہارے دلوں کی بات کو جانتا اس کے نزدیک کونسی بڑی بات ہے یہ تمہارا ہر بات کو چھپانا کچھ فائدہ مند نہیں ہے اس پر ظاہر اور پوشیدہ سب یکساں ہے جس طرح وہ کھلی ہوئی باتوں کو جانتا ہے اسی طرح چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ انس بن مالک (رض) کی حدیث جو اوپر گزری ١ ؎ وہی حدیث اس آیت کی بھی تفسیر ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی حدیث بھی گزر چکی ہے۔ ٢ ؎ کہ دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے یہ حدیث (کل فی کتاب مبین) کی گویا تفسیر ہے۔ مستقرھا ومستودعھا کی تفسر میں اگرچہ سلف کے کئی قول ہیں مگر علی بن طلحہ کی سند سے صحیح قول حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کا یہی ہے کہ مستقرھا کی تفسر بود و باش کی جگہ ہے اور مستودعھا کی تفسیر موت کی سرزمین۔ ٣ ؎ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٣٩٠ ج ٢ کتاب الفتن۔ ٥ ؎ صحیح مسلم ص ٣٣٥ ج ٢ باب حجاج آدم و موسیٰ ۔ ٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٣٥ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:6) دابۃ۔ الذب والذبیب (باب ضرب) کے معنی آہستہ چلنا اور رینگنا کے ہیں۔ یہ لفظ حشرات الارض کے متعلق زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ عرف میں خاص کر گھوڑے پر بولا جاتا ہے مگر لغۃ میں ہر حیوان ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔ دابۃ۔ ہر چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا جانور۔ اس کی جمع دوات اور مادہ دب ب ہے۔ دابۃ الارض۔ ایک غیر معروف قسم کا جانور جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قیامت کے قریب خروج کرے گا اور نشان لگا کر ایمانداروں اور منکروں کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔ چناچہ قرآن حکیم میں ہے واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم (27:82) اور جب ان کے بارے میں وعدہ (عذاب کا) پورا ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا۔ علی اللہ۔ اللہ کے ذمہ ہے۔ مستقرھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ مستقر۔ ظرف مکان ۔ استقرار (باب استفعال) سے بمعنی قرار۔ مستقر بمعنی قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع دابۃ ہے۔ مستقر سے مراد بعض کے نزدیک رحم مادر ہے۔ صاحب روح المعانی نے صلب پدر مراد لیا ہے۔ مستودعھا۔ اسم ظرف مکان ہے۔ مضاف منصوب۔ ہا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ امانت رکھنے کی جگہ ۔ ابداع امانت رکھنا خواہ اپنے پاس یا دوسرے کے پاس استیداع (استفعال) بطور امانت کسی کے پاس کچھ رکھنا۔ تودیع (تفعیل) مسافر کو الوداع کہنا۔ یا چھوڑ دینا۔ جیسے قرآن میں ہے مادہ عک ربک (93:3) (اے محمد) تمہارے پروردگار نے نہ تم کو چھوڑا ہے۔ آیہ ہذا میں امانت رکھنے کی جگہ سے مراد پشت پدر۔ قبر لیا گیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے اس سے مراد موضعھا فی الارحام (رحم مادر) لیا ہے۔ کل۔ ای کل واحد من الدوات ورزقھا ومستقرھا ومستودعھا (ہر ذی حیات جانور۔ اس کا رزق۔ اس کی قرار گاہ اور اس کی بطور امانت رکھے جانے کی جگہ) ۔ کتب مبین۔ لوح محفوظ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت و احاطہ کا بیان تھا کہ انسان کے ظاہر اور پوشیدہ احوال کیا وہ تو دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ اس آیت میں اسی پر دلیل پیش کی ہے کہ ہر جاندار کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے روزی پہنچ رہی ہے۔ پھر اگر اللہ کا علم وسیع نہ ہوتا تو یہ روزی کا بندوبست کیسے ممکن تھا۔ (رازی) ۔ اصل میں رزق کے تمام خزانے تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے مگر کسب کی حد تک انسان وسائل ِ رزق کو کام میں لاسکتا ہے بلکہ اس کا مکلف ہے۔ لیکن ان اسباب کو موثر نہ سمجھے بلکہ اصل بھروسا اللہ تعالیٰ پر ہو۔ اسی کا نام توکل ہے۔ مقصد یہ کہ رزق کے حصول کے لئے اسباب و وسائل کو کام میں لانا تو کل کے منافی نہیں ہے بلکہ حدیث میں ہے۔ اعقل و توکل کہ پہلے اونٹ کو گھٹنا باندھ دیجئے اور پھر اللہ پر تو کل کیجئے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے : ” کوئی متفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنی عمر اور رزق جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے پورا نہ کرے۔ لہٰذا تم کو چاہیے کہ کسب معاش کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جائز طریقوں سے روزی حاصل کرو “۔ اور پھر یہ ذہن بھی غلط ہے کہ طلب و سعی کے بغیر رزق نہیں ملتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی مخلوق وہ ہے جن کو مباشرت اسباب کے بغیر رزق پہنچ رہا ہے۔ (روح) ۔ 2 ۔ یہ بھی اسی دلیل کا تتمہ ہے۔ ” مستقر “ اور ” مستودع “ کی تفسیر میں علما سے مختلف اقوال مروی ہیں۔ ذہن پر انسان چلتا پھرتا ہے آخر جہاں پہنچ کر اس کی سیر کا منتہیٰ ہوگا وہ اس کا ” مستقر “ ہے اور پھر جہاں ٹھکانا کرتا ہے وہ ” مستودع “ ہے۔ (ابن کثیر) شاہ ولی اللہ (رح) لکھتے ہیں جو حالت انسان کے اختیار رہنے سہنے کی ہے اسے اس کا ” مستقر “ کہا جائے گا اور اس سے قبل جو ٹھکانے (مقر) غیر اختیاری تھے جیسیصلب پلدورحم م اور ان تمام اطوار کو اس کا ” مستودع “ کہا جائے گا۔ (فتح الرحمن) موضح میں ہے ” مستعز “ جہاں ٹھہرتا ہے یعنی بہشت و دوزخ۔ ” مستودع “ جہاں سونپا جاتا ہے اس کی قبر۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا علم انسان کی اس زندگی پر بھی حاوی ہے اور موت کے بعد کے تمام حالات بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گیارہویں پارے کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر اور خفیہ حالات سے واقف ہے اور دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا کہ وہ انسان کے مستقل ٹھہراؤ اور عارضی قیام گاہوں کو بھی جانتا ہے۔ ” دابۃ “ ہر جاندار کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں خطاب انسانوں سے کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے والی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا، پانی، خوراک اور رہن سہن کی ضروریات شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنا دسترخوان اتنا وسیع اور Mobile بنایا ہے کہ ہر کھانے والے کو اس کی خوراک مل رہی ہے گوشت کھانے والے درندے کو گوشت مل رہا ہے اور دانہ دنکا لینے والے کو دانہ دنکا صبح وشام میسر ہے۔ چند جمع کرنے والوں کے سوا باقی سب کے سب کھانے والے صبح وشام تازہ خوراک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے البتہ حکم ہے کہ اللہ کا رزق تلاش کیا کرو۔ اس کے لیے محنت ومشقت کرنا لازم ہے لیکن رزق کی کمی وبیشی کا انحصار انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق محنت کی بنیاد پر دیا جاتا تو معذور اور لاچار بھوکے مرجاتے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے مطابق ہے جس کے پیش نظر وہ لوگوں کا رزق بڑھاتا اور گھٹاتا رہتا ہے۔ اگر کہیں قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے طے شدہ اصول کے مطابق ہوتی ہے جس کا سبب بنیادی طور پر انسان ہی ہوا کرتا ہے۔ بیشک وہ قحط سالی پانی کی قلت اور بارش کی کمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ وہ بھی انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ وہ لوگوں کی مستقل قیام گاہوں اور عارضی رہائش کو جانتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کو رزق پہنچانا اور ان کے اعمال اور ضروریات سے باخبر رہنا اس کی صفت کاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر لحاظ سے باخبر رہتا ہے بلکہ اس نے انسان اور دنیا کی ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے۔ مستقرہا و مستودعہا بالترتیب ان کا معنی ہے ” مستقل قیام گاہ اور عارضی ٹھہراؤ “۔ مفسرین نے مستقرہا سے مراد بطن مادر اور مستودعہا کا معنی دنیا کی زندگی لیا ہے اور کچھ اہل علم نے مستودعھا کا معنٰی دنیا کی زندگی اور مستقرھا قبر کا قیام سمجھا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نہ صرف انسان کے ہر قول وفعل سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ اس نے انسان کی زندگی کا پورا ریکارڈ اپنے ہاں محفوظ کر رکھا ہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا) [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب فی التوکل علی اللہ ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگر تم اللہ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تم پرندوں کی طرح زرق دیے جاؤ وہ صبح خالی پیٹ ہوتے ہیں اور شام کو بھرے ہوئے پیٹ ہوتے ہیں۔ “ رزق حلال کے لیے دعا : (اَللّٰہُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ) [ رواہ الترمذی : باب اللھم اکفنی حلالک عن حرامک ] ” اے اللہ ! مجھے حرام سے بچا اور اپنے حلال کے ساتھ میری کفالت فرما اور اپنے فضل کے ساتھ مجھے بےنیاز کردے۔ “ مسائل ١۔ ہر چیز کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے ٹھکانے کو جانتا ہے۔ ٣۔ ہر چیز کتاب مبین میں درج ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سب کو رزق دیتا ہے۔ ٥۔ ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے : ١۔ ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ (ھود : ٦) ٢۔ کتنے ہی چوپائے ہیں تم ان کے رزق کا بندوبست نہیں کرتے اللہ ہی انہیں رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : ٦٠) ٣۔ بیشک اللہ بغیر حساب کے جس کو چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے۔ (آل عمران : ٣٧) ٤۔ ہم تم سے رزق کے طالب نہیں بلکہ ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں۔ (طٰہٰ : ١٣٢) ٥۔ بیشک اللہ ہی رزاق ہے اور بڑی قوت کا مالک ہے۔ (الذاریات : ٥٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ کے علم محیط کی یہ ایک دوسری شکل ہے۔ نہایت ہولناک ، ذرا زمین پر چلنے والے حیوانات اور رینگنے والے کیڑے مکوڑوں پر غور کریں ، ہر وہ چیز جو زمین پر حرکت کرتی ہے وہ دابہ ہے زمین پر حرکت کرنے والے لاتعداد اور بیشمار دواب (جانداروں) میں سے جو کچھ بھی ہے ، زمین کے اطراف و اکناف میں سے جہاں بھی ہے ، اوپر ہے یا اندر ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ صرف علم بھی نہیں بلکہ اللہ ان کو رزق بھی فراہم کرتا ہے اور اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کہاں قرار و سکون حاصل کرتے ہیں اور کہاں سونپے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ سب دواب اللہ کے علم محیط کے ضبط اور کنٹرول میں ہیں۔ یہ اللہ کے علم الہی کی نہایت ہی واضح مثال ہے۔ یہ علم ہر وقت مخلوقات کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔ جب انسان اس وسیع علم کے بارے میں سوچتا ہے اور اسے اپنے محدود تصور میں لانا چاہتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے اور اس کے تصور ہی سے عاجز آجاتا ہے۔ اب صرف علم کی بات نہیں ہے۔ دواب ارض کی اس ناقابل تصور تعداد کے ہر فرد کے لیے اللہ نے رزق کی کفالت بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس زمین میں ہر مخلوق کے لیے وسائل رزق پیدا کیے ہیں اور ہر چیز کو یہ قوت دی ہے کہ وہ بقدر ضرورت رزق حاصل کرے۔ بعض کا رزق بہت سادہ ہے۔ بعض اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں بعض مصنوعات اور مرکبات اپنے لیے تیار کرتے ہیں اور اب دور جدید میں تو ذرائع رزق بہت ہی پھیلے ہوئے اور متنوع ہیں۔ بعض مخلوق ایسی ہے کہ وہ زندہ مخلوق کے خون پر پلتی ہے مثلا مچھر اور پسو وغیرہ۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پیدا کیا اور جس طرح اس کے اوپر منوع مخلوقات کو وجود بخشا ، اسی طرح ان کے وسائل رزق بھی مہیا کیے۔ اور ہر ایک مخلوق کو اس کی تکنیک تخلیق کے مطابق استعداد اور وسائل بھی فراہم کیے۔ خصوصاً دواب ارض میں سے انسان ہماری توجہ اور مطالعہ کا زیادہ مستحق ہے جو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ جسے تحلیل و تجزیہ اور ترکیب اور صنعت کی استعداد بھی دی گئی ہے۔ وہ ترقی اور پیداوار میں بھی آگے جاسکتا ہے۔ وہ اس کرہ ارض کے چہرے کو بھی بدل سکتا ہے۔ زندگی کے رنگ ڈھنگ بدلتا رہتا ہے۔ وہ اپنے لیے متنوع وسائل رزق مہیا کرتا ہے لیکن وہ کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتا۔ اللہ نے اس زمین کے اندر جو وسائل ودیعت کردیے صرف انہی میں ردو بدل کرتا ہے اور یہ ردو بدل اور تحلیل و ترکیب بھی وہ ان قوانین فطرت کے مطابق کرتا ہے جو اللہ نے اس کائنات کے اندر وضع کیے ہیں اس طرح یہ زمین اپنے زندہ دواب کے لیے ہر قسم کی ضروریات فراہم کرتی ہے۔ اللہ کے ذمے رزق ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعی کے بغیر کسی کس کوئی رزق مل سکتا ہے یا اگر کوئی بیٹھ جائے تو بھی اسے ضرور ملے گا یا سسی اور منفی رویے سے وہ ضائع نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے غلط طور پر سمجھا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر اسباب اور وسائل اللہ نے کیوں مقرر فرمائے۔ اور یہ کیوں لازم کیا کہ اسباب کو اختیار کیا جائے اور اسباب وسائل کو قوانین قدرت کا حصہ پھر کیوں بنایا اور پھر اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں کیوں دیں اور ان وسائل و اسباب کے کام میں لانے کے سوا دنیا کی تعمیر و ترقی کیسے ممکن ہوگئی حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں تھا اور اللہ نے اس غرض کے لیے انسان کو اس کرہ ارض پر خلیفہ بنایا تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ ہر مخلوق کے لیے رزق مقرر ہے ، یہ حق ہے۔ لیکن یہ رزق اس کائنات کے اندر ودیعت شدہ ہے اور اللہ کی سنت کے مطابق ہر مخلوق کے لیے مقدر اور متعین ہے۔ اور سنت الہی یہی ہے کہ ہر شخص اپنے مقد رکے لیے جدوجہد کرے گا۔ لہذا سعی و جدوجہد کو کوئی شخص ترک نہ کرے جبکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ آسمانوں سے سونے اور چاندی کی بارش نہیں ہوا کرتی بلکہ پانی کی بارش ہوتی ہے اور ہر قسم کا رزق زمین کے اندر پوشیدہ ہے۔ اور تمام مخلوقات کے لیے یہ کافی ہے۔ بشرطیکہ یہ مخلوق خدا سنن الہیہ کے مطابق اس کی تلاش کرے اور سنن الہیہ کسی کی رو رعایت نہین کرتیں۔ دنیا میں معاملہ کسب اور عمل پر ہے۔ کسب و عمل یا طیب ہوگا یا خبیث اور گندہ ہوگا۔ دونوں کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔ دونوں کی نوعیت میں فرق ہے اور نتائج جدا جدا ہیں۔ حلال ، حلال ہے اور حرام ، حرام ہے۔ یہاں دواب کے لیے فقط رزق کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ اس سے قبل مومنین کے لیے رزق حسن کہا گیا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کے لیے سیاق میں بہترین الفاظ کا انتخاب کرنا قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب ہے۔ الفاظ کا انتخاب موقعہ و محل اور ماحول کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ دو آیات اس رب کی تعریف اور شان کے بیان کا آغاز ہیں جس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ لوگ صرف اس کی بندگی اور غلامی کریں۔ کیونکہ وہی عالم ہے ، محیط ہے ، رزاق ہے ، کوئی شخص اس کی ریاست میں بھوکا نہیں رہتا اور یہ تعریف باری تعالیٰ اور یہ حمد ربی ضروری ہے تاکہ بندے اور مخلوق اور خالق کے درمیان حقیقی تعلق پیدا ہو اور لوگ صحیح طرح علی وجہ البصیرت رب اور خالق کی اطاعت اور بندگی کریں۔ ۔۔۔۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم کو بتایا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ان آیات میں رزاقیت اور خالقیت بیان فرمائی ‘ ارشاد فرمایا کہ زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں۔ انسان ہوں یا حیوان چھوٹے ہو یا موٹے جانور ہوں ‘ کیڑے مکوڑے ہوں ان سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے ‘ یعنی ان کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لگا لیا ہے یہ اس کا فضل وکرم ہے مہربانی ہے کیونکہ اس پر کسی کا کوئی حق اور رزق واجب نہیں ہے۔ زمین پر چلنے پھرنے والے ہیں ان سب کے جو ٹھکانے ہیں اسے سب کا علم ہے اور اسے سب کے رہنے کی جگہوں کا پتہ ہے ایسا نہیں کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھول گیا ہو وہ اپنے علم کے موافق اپنی ساری مخلوق کو رزق پہنچاتا ہے۔ پہاڑوں کے اندر رہنے والے کیڑے اور زمین کے سوراخوں میں آباد ہونے والی چیونٹیاں اور دوسری مخلوق اور سمندروں کی تہوں میں رہنے والے جانور سب اس کے علم میں ہیں وہ سب کو روزی پہنچاتا ہے۔ مُسْتَقَرَّھَا وَمُسْتَوْدَعَھَا کی تفسیر : مستقر ومستودع کی تفسیر کئی طرح سے کی گئی ہے۔ ہم نے جو ترجمہ میں ان دونوں کا معنی اختیار کیا ہے وہ شان رازقیت کی توضیح سے قریب تر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر رہنے والوں کے ٹھکانے دو طرح کے ہیں کچھ تو وہ ہیں جن میں ان کا مستقل قیام ہے اور کچھ عارضی ٹھکانے ہیں جہاں تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں ٹھکانوں پر رزق پہنچاتا ہے۔ بعض چیزیں ایک برا عظم میں پیدا ہو رہی ہیں اور دوسرے براعظم کے لوگ کھا رہے ہیں یہ سب کے سامنے ہے اور یہ روزانہ کا مشاہدہ ہے صاحب روح المعانی نے بحوالہ مستدرک حاکم حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل کیا ہے کہ مستقر سے ماں کا رحم اور مستودع سے موت آنے کے مواقع مراد ہیں اور مطلب اس کا یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو ہر رزق پانے والے کی ابتدائی حالت کا علم ہے کہ اسے کس وقت سے رزق کی حاجت ہوتی ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی حاجت کب ختم ہوگی یعنی موت کے وقت رزق کی حاجت ختم ہوجائے گی اور موت کب ہوگی ‘ کہاں ہوگی اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔ رزق پانے والے کی زندگی جس جگہ ختم ہوگی اس جگہ کا اس کو علم ہے وہ اس کے وہاں پہنچنے تک اس کو رزق دیتا رہے گا۔ رزق مقدر پورا کئے بغیر کسی کو موت نہ آئے گی : اللہ تعالیٰ نے جس کے لئے جتنا رزق مقدر فرما دیا ہے اس کو پورا کئے بغیر وہ دنیا سے نہیں جاسکتا ‘ جتنا رزق مقدر ہے وہ مل کر ہی رہے گا حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میرے دل میں جبرائیل امین نے یہ بات ڈال دی ہے کہ اس وقت تک کسی شخص کو موت نہ آئے گی جب تک کہ وہ اپنارزق پورا نہ کرلے ‘ سو تم لوگ اللہ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں خوبی کا خیال رکھو اور رزق ملنے میں دیر ہوجائے تو اللہ کی نافرمانیوں کے ذریعہ طلب نہ کرو کیونکہ اللہ کا فضل اس کی نافرمانی کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ (رواہ الحاکم کما فی الترغیب ص ٥٣٥ ج ٣) حضرت ابو درداء (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ رزق بندہ کو اسی طرح طلب کرلیتا ہے جس طرح سے موت طلب کرلیتی ہے۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ والبز ار کما فی الترغیب ص ٥٣٥ ج ٢) اور حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے رزق سے بھاگے تو وہ اسے پکڑ لے گا جیسا کہ اسے موت پکڑ لے گی۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر باسناد حسن کما فی الترغیب ص ٥٣٦ ج ٢) حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی آپ نے اسے لے لیا وہیں پر ایک سائل موجود تھا وہ کھجور آپ نے اسے عطا فرما دی اور فرمایا کہ خبردار اگر تو اس کے پاس نہ آتا تو یہ تیرے پاس آجاتی۔ (رواہ الطبرانی با سناد جید کما فی الترغیب ص ٥٣٦ ج ٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9: اور زمین پر رہنے والی ہر ذی روح مخلوق کی روزی بھی اللہ ہی کے زمہ ہے اور وہی سب کا رازق ہے اللہ تعالیٰ نے محض تفضلاً سب کی روزی اپنے ذمہ لی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں۔ وَیَعْلَمُ مُستَقَرَّھَا وَ مُسْتَوْدَعَھَا اور ہر ایک کے مستقر و مستودع کو بھی جانتا ہے۔ ان دونوں لفظوں کی تفسیر میں مکتلف اقوال منقول ہیں حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں مستقر سے زندگی میں دن یا رات کو رہنے کی جگہ اور مستودع سے مرنے کے بعد فن ہونے کی جگہ مراد ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) کا قول ہے مستقر سے ماں کا رحم اور مستودع سے جائے دفن مراد ہے (خازن) کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ : ہر چیز کتاب مبین میں موجود ہے کتاب مبین سے لوح محفوظ یا علم الہی مراد ہے۔ قال الزجاج المعنی ان ذٰلک ثابت فی علم اللہ تعالیٰ ومنھم من قال فی اللوح المحفوظ (کبیر ج 17 ص 1786) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

6 اور کوئی غذا کھانے والا ذی روح اور جاندار زمین پر چلنے پھرنے والا ایسا نہیں جس کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر نہ ہو اور وہی اس کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ہر ایک چیز کتاب مبین میں لکھی ہوئی ہے یعنی لوح محفوظ میں موجود مرقوم ہے مستقر اور مستودع کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاں ٹھہرنا ہے بہشت اور دوزخ جہاں سونپا جانا ہے اس کی قبر اور روزی اس کی سو دنیا میں 12 مستقر سے رحم مادر اور مستودع سے صلب پدر بھی مجاہد نے مراد لی ہے۔