Surat Hood

Surah: 11

Verse: 60

سورة هود

وَ اُتۡبِعُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا لَعۡنَۃً وَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا کَفَرُوۡا رَبَّہُمۡ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ ہُوۡدٍ ﴿٪۶۰﴾  5

And they were [therefore] followed in this world with a curse and [as well] on the Day of Resurrection. Unquestionably, 'Aad denied their Lord; then away with 'Aad, the people of Hud.

دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی ، دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا ہود کی قوم عاد پر دوری ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأُتْبِعُواْ فِي هَـذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ... And they were pursued by a curse in this world and (so they will be) on the Day of Resurrection. ... أَلا إِنَّ عَادًا كَفَرُواْ رَبَّهُمْ ... No doubt! Verily, `Ad disbelieved in their Lord. ... أَلاَ بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ So away with `Ad, the people of Hud.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

60۔ 1 لَعْنَہ کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری، امور خیر سے محرومی اور لوگوں کی طرف سے ملامت و بیزاری۔ دنیا میں یہ لعنت اس طرح کہ اہل ایمان میں ان کا ذکر ہمیشہ ملامت اور بیزاری کے انداز میں ہوگا اور قیامت میں اس طرح کہ وہاں علٰی رؤوس الشہاد ذلت اور رسوائی سے دو چار اور عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے۔ 60۔ 2 بُعْد کا یہ لفظ رحمت سے دوری اور لعنت اور ہلاکت کے معنی کے لئے ہے، جیسا کہ اس سے قبل بھی وضاحت کی جا چکی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٨] یعنی جب بھی ان کا ذکر ہوگا بھلے الفاظ میں نہیں ہوگا اور یہ لعنت قیامت کے دن بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑے گی۔ [٦٩] یعنی عاد اولیٰ تو اس طرح تباہ ہوئے پھر ان کے بعد قوم ثمود دنیا میں نامور ہوئی جسے عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے اور جن کی طرف صالح (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا تھا آگے اسی قوم کا ذکر آرہا ہے اس سلسلہ میں سورة اعراف آیت نمبر ٧٣ سے ٧٩ تک کے حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : لعنت کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کردینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں عذاب اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم کردینا ہے اور انسان کی طرف سے لعنت کا مطلب اس کے لیے یہ بددعا کرنا ہے۔ (راغب) یعنی دنیا میں آنے والا ہر پیغمبر اور مومن ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کرتا رہے گا اور آخرت میں وہ سب کے سامنے رسوا اور مبتلائے عذاب ہوں گے۔ اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۔۔ : ” اَلَآ “ کے ساتھ خبردار اس لیے کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ ان بےچاروں پر زیادتی ہوئی۔ فرمایا، سن لو ! یہ لوگ تمام جرائم سے بڑے جرم رب تعالیٰ کے کفر کے مرتکب تھے۔ پھر دوبارہ فرمایا، سن لو ! عاد کے لیے ہر قسم کی خیر اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے، جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ یاد رہے کہ ” کَفَرَ “ کے بعد عام طور پر باء آتی ہے، مثلاً ” کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ “ جس کا مطلب رب کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار ہوتا ہے۔ باء کے بغیر ” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “ کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے سرے ہی سے اپنے رب کا انکار کردیا، جیسے دہریے رب تعالیٰ کو نہیں مانتے۔ ” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “ ” کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ “ سے بھی بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق ” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “ میں یہ بھی ممکن ہے کہ ” کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ “ میں سے تخفیف کے لیے باء حذف کردی گئی ہو اور دونوں کا معنی ایک ہی ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاُتْبِعُوْا فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا لَعْنَۃً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ۭ اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّہُمْ۝ ٠ۭ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ہُوْدٍ۝ ٦٠ۧ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی ش قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے خص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجر ات/ 11]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٠) اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ رہی کہ آندھی کے ذریعے ہلاک کردیے گئے اور دوسری لعنت دوزخ ہے سن لو کہ قوم عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:60) اتبعوا۔ اتباع (افتعال) سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کے پیچھے لگا دیا گیا۔ ان کے پیچھے لگا دی گئی۔ بعدا۔ دوری۔ ہلاکت ۔ بربادی۔ (ملاحظہ ہو 11:44) قوم ھود۔ (ہود کی قوم) عطف بیان ۔ اپنے متبوع عاد کی وضاحت کے لئے آیا ہے یعنی وہ قوم عاد جو لعنت دارین کی مستحق ہوئی۔ قوم عاد دو قبیلوں سے منسوب ہے عاد اولیٰ جو حضرت ہود کی قوم تھی۔ اور عاد ثانی جو عمالقی تھے۔ یہ دونوں شاخیں عاد بن عوص ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ یعنی قیامت کے دن یوں پکاریں گے۔ (موضح) ۔ سری سے روایت ہے کہ قوم عاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے عاد پر لعنت کی۔ یا ” اتبعوا “ کے معنی یہ ہیں۔ ” ان پر دنیا میں بھی لعنت اور آخرت میں بھی۔ “ (شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ چناچہ دنیا میں اس کا آخر عذاب ہلاک تھا۔ اور آخرت میں عذاب مخلد ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

60 اس نافرمانی کا انجام یہ ہوا کہ اس دنیا میں بھی لغت ان کے پیچھے لازم کردی گئی اور ان کے ساتھ رب کی نافرمانی کا ارتکاب کیا خوب سن لو رحمت سے دور کردئیے گئے۔ عاد جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے یعنی یہ عاد جن کا ذکر ہوا یہ لوگ ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے جو ہمیشہ کے لئے رحمت سے دور کردئیے گئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت کو یوں پکاریں گے 12 آٹھویں پارے میں بھی حضرت ہود (علیہ السلام) کے قصے کی تفصیل گزر چکی ہے۔