Surat Hood

Surah: 11

Verse: 62

سورة هود

قَالُوۡا یٰصٰلِحُ قَدۡ کُنۡتَ فِیۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ ہٰذَاۤ اَتَنۡہٰنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیۡ شَکٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ مُرِیۡبٍ ﴿۶۲﴾

They said, "O Salih, you were among us a man of promise before this. Do you forbid us to worship what our fathers worshipped? And indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."

انہوں نے کہا اے صالح! اس سے پہلے تو ہم تجھ سے بہت کچھ امیدیں لگائے ہوئے تھے ، کیا تو ہمیں ان کی عبادتوں سے روک رہا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ، ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Conversation between Salih and the People of Thamud Allah says; قَالُواْ يَا صَالِحُ ... They said: "O Salih! Allah, the Exalted, mentions what transpired in the discussion between Salih and his people. Allah informs of their ignorance and obstinacy in their statement, ... قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَـذَا ... You have been among us as a figure of good hope till this! They were saying in this, "We had hope in your strong intellect before you began saying what you have said." ... أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ابَاوُنَا ... Do you (now) forbid us the worship of what our fathers have worshipped, "what those who were before us were upon." ... وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ But we are really in grave doubt as to that which you invite us. This alludes to the great amount of doubt that they had.

باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں حضرت صالح علیہ السلام اور آپ کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال ۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ اُمیدیں تجھ سے وابستہ تھیں ، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھر دیا ۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا ۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے ۔ آپ نے فرمایا سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں ۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے ، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے ۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کرو اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کر سکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آسکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو ۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

62۔ 1 یعنی پیغمبر اپنی قوم میں چونکہ اخلاق و کردار اور امانت و دیانت میں ممتاز ہوتا ہے اس لئے قوم کی اس سے اچھی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اسی اعتبار سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی ان سے یہ کہا۔ لیکن دعوت توحید دیتے ہی ان کی امیدوں کا یہ مرکز، ان کی آنکھوں کا کانٹا بن گیا اور اس دین میں شک کا اظہار کیا جس طرف حضرت صالح (علیہ السلام) انھیں بلا رہے تھے یعنی دین توحید

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٣] یعنی تمہیں عقل مند، ہونہار اور دیانتدار سمجھ کر ہم نے تم سے اپنی بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کہ تم باپ دادا کا نام روشن کرو گے تم نے تو الٹا باپ دادا کے دین سے سرکشی اختیار کرلی ہے۔ بلکہ ہمیں بھی اس سے روک رہے ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد سب کے سب غلط کار ہی تھے۔ [٧٤] نبی کی دعوت سے کافروں میں خلجان کی وجہ :۔ انبیاء کی دعوت کے ان کی قوم کے افراد پر دوگونہ اثرات مترتب ہوتے ہیں جو لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں ان میں قلبی اطمینان و سکون پیدا ہوجاتا ہے اور یہی قلبی سکون ہی ان میں مخالفین کے شدائد کو برداشت کرنے کی جرأت پیدا کردیتا ہے اور منکروں میں یہی دعوت خلجان اور قلبی اضطراب کا باعث بن جاتی ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ نبی جو دعوت پیش کرتا ہے دلائل کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اس کی اپنی سابقہ زندگی اس دعوت کا بڑا ثبوت ہوتی ہے لیکن منکرین کے پاس تقلید آباء کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی اور اس دلیل میں جتنا وزن ہے وہ سب کو معلوم ہے کہ ان کے کسی بزرگ نے ایک غلط رسم ڈالی جو اس کی اولاد میں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی گئی جسے بعد میں آنے والوں نے عصبیت کی بنا پر مذہب کا لبادہ پہنا دیا۔ لہذا ایسے لوگوں کا خلجان آہستہ آہستہ بڑھتاہی چلا جاتا ہے۔ اس خلجان کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ کافروں کے کسی گھرانا سے اگر ایک شخص مسلمان ہوجاتا ہے تو اس کے لواحقین اسے دکھ دیتے اور اس سے برسرپیکار ہوجاتے ہیں۔ اسلام لانے والے کو تو ان کے شدائد سہنے کے باوجود قلبی اطمینان میسر آتا ہے لیکن تشدد کرنے والے تشدد کرنے کے باوجود پریشان اور سخت مضطرب رہتے ہیں اور چونکہ اسلام لانے والا بھی ایک شخص نہیں بلکہ متعدد افراد ہوتے ہیں لہذا کافروں کے سب گھرانوں میں ایک عام اضطراب اور بےچینی کی فضا طاری رہتی ہے جو انھیں مزید تشدد پر برانگیختہ کئے رکھتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ ۔۔ : یعنی ہم تو تمہاری ذہانت اور عقل مندی سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کیے بیٹھے تھے۔ کیوں نہ کرتے، نبی نبوت ملنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی زیر نگرانی نہایت امین، صادق، عفیف، باوقار، حلیم اور تمام اوصاف حسنہ سے متصف ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی اس شخص نے جس کے اوصاف حسنہ سب کے نزدیک مانے ہوئے تھے، ان کی خواہش نفس اور جاہلی عقائد و رواج کے خلاف بات کی تو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا اور وہی دانا شخص ان کے نزدیک عقل و فکر سے خالی ٹھہرا اور ان کے پاس کفر و شرک کے درست ہونے کی اور صالح (علیہ السلام) سے امیدیں ٹوٹنے کی دلیل کیا تھی ؟ صرف یہ کہ ہمارے آبا و اجداد جن کی عبادت کرتے تھے، یہ ان کی عبادت سے منع کرتا ہے۔ تمام گمراہ اقوام کی دلیل یہی تقلید رہی ہے، کیونکہ یہ بلا نہ کسی کی بات سننے دیتی ہے، خواہ کتنی صحیح ہو اور نہ خود سوچنے سمجھنے کی طرف آنے دیتی ہے۔ دیکھیے سورة ملک (١٠) ۔ وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ : ” شک “ ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ ” مُرِيْبٍ “ ” أَرَابَ یُرِیْبُ إِرَابَۃً “ ( رَیْبٌ سے باب افعال ) بےچین کردینا، بےقرار رکھنا۔ ” مُرِيْبٍ “ بےچین رکھنے والا۔ یہاں انھوں نے اپنی حقیقی حالت بیان کی ہے۔ صالح (علیہ السلام) کی دلیل اور حجت پر مبنی دعوت نے ان کے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی تھی اور اگرچہ انھوں نے اسے نہیں مانا مگر اس دعوت نے انھیں اپنے بارے میں ایک بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا کردیا تھا۔ اگر تقلید آباء کی شامت نہ ہوتی تو وہ لوگ چند لمحوں میں ہر طرح کے شک اور بےچینی سے نکل کر ایمان و یقین کی ٹھنڈک اور اطمینان سے سرفراز ہوچکے ہوتے۔ مگر دیکھیے کتنی بڑی حماقت تھی کہ شرک پر نہ تو مطمئن تھے اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہی تھی، مگر پھر بھی آبائی تقلید کی وجہ سے شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

As part of this event, the people of Sayyidna Salih (علیہ السلام) have been reported to have said to him: قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْ‌جُوًّا قَبْلَ هَـٰذَا ( O Salih, we had hopes in you before this - 62). It means that, before he claimed to be a prophet and started telling them to shun idol-worship, they had great hopes in him. They thought he would rise to be a great reformer and leader of their people. The reason is that Allah Ta` a1a nurtures and grooms his prophets from their childhood in a way that they become models of good morals and habits. Whoever looks at them, loves and respects them. This is what happened in the case of the Last Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Before he declared that he has been sent as a prophet, the whole Arabia called him al-amin (the trustworthy one) and took him to be true and righteous. It was only when he announced his prophet-hood and prohibited idol-worship that everyone turned hostile to him.

اس واقعہ میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے ان سے کہا (آیت) قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ، یعنی آپ کے دعوائے نبوت اور بت پرستی کو منع کرنے سے پہلے ہم کو آپ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ آپ ہماری قوم کے لئے بڑے مصلح اور رہنما ثابت ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء کی پرورش بچپن ہی سے نہایت پاکیزہ اخلاق و عادات میں کرتے ہیں جس کو دیکھ کر سبھی ان سے محبت کرتے اور عظمت سے پیش آتے ہیں جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اعلان نبوت سے پہلے سارا عرب امین کا خطاب دیتا اور سچا اور صالح اعتقاد رکھتا تھا، نبوت کے دعوی اور بت پرستی سے ممانعت کرنے پر یہ سب مخالف ہوگئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْہٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْہِ مُرِيْبٍ۝ ٦٢ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد :إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عواملووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا کا و قروں سے اٹھا دیا ۔ میں بعض مفسرین نے اس کے معنی لاتخافون کہئے ہیں یعنی کیوں نہیں ڈرتے ہوجیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( طویل) (177) وجالفھا فی بیت نوب عواسل جب اسے مکھی ڈنگ مارتی ہے تو وہ اس کے ڈسنے سے نہیں ڈرتا ۔ اور اس نے شہد کی مکھیوں سے معاہد کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ خوف ورجاء باہم متلازم ہیں لوجب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی ۔ ساتھ ہی اس کے تضیع کا اندیشہ بھی دامن گیر رہے گا ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں کہ اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے ) قرآن میں ہے :َوَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] اور تم کو خدا سے وہ وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں ۔ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ شكك الشَّكُّ : اعتدال النّقيضين عند الإنسان وتساويهما، والشَّكُّ : ضرب من الجهل، وهو أخصّ منه، لأنّ الجهل قد يكون عدم العلم بالنّقيضين رأسا، فكلّ شَكٍّ جهل، ولیس کلّ جهل شكّا، قال اللہ تعالی: وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] ( ش ک ک ) الشک کے معنی دونقیضوں کے ذہن میں برابر اور مساوی ہونے کے ہیں ۔ الشک : شک جہالت ہی کی ایک قسم ہے لیکن اس سے اخص ہے کیونکہ جہل میں کبھی سرے سے نقیضیں کا علم ہی نہیں ہوتا ۔ پس ہر شک جھل ہے مگر ہر جہل شک نہیں ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] وہ تو اس سے قوی شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ريب فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ، ( ر ی ب ) اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہوا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٢) قوم ثمود کہنے لگی اے صالح تم تو ہمارے آباء کے دین کے علاوہ دوسرے دین کی دعوت دینے سے پیشتر ہم میں سے ہونہار اور لیاقت والے تھے کیا تم ہمیں ان بتوں کی پوجا سے روکتے ہو ہم تو تمہارے دین کے متعلق بہت مشکوک ہیں جس نے ہمیں تردد میں ڈال رکھا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٢ (قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ہٰذَآ) یعنی آپ تو اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے پوری قوم کی امیدوں کا مرکز تھے۔ ہمیں تو توقع تھی کہ آپ اپنی صلاحیتوں کے سبب اپنے آباء و اَجداد اور پوری قوم کا نام روشن کریں گے ‘ مگر آپ نے یہ کیا کیا ؟ آپ نے تو اپنے باپ دادا کے دین اور ان کے طور طریقوں پر ہی تنقید شروع کردی۔ آپ کی ان باتوں سے تو پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ (اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ ) آپ کی اس دعوت توحید کے بارے میں ہمیں سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال دیا ہے۔ ہمارا دل آپ کی اس دعوت پر مطمئن نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

70 The people of Salih (peace be on him) centred many expectations around him. On account of his wisdom, intelligence, maturity, and dignified personality they expected Salih to rise to great heights. They also believed that he would not only achieve personal greatness and prosperity, but would also assist his people in their bid to excel against other tribes and nations in terms of worldly benefits. However, no sooner had Salih begun to teach his people that they are obligated to exclusively worship and serve the One True God and pay due heed to the Hereafter than they became altogether disenchanted with him. It may be recalled that the predicament of the Makkan unbelievers was no different from that of the people of Salih (peace be on him). The Makkans also recognized that Muhammad (peace be on him) was a person of outstanding qualities. They were confident that he would grow into a very successful merchant and that they would also benefit from his trading acumen. But then they found that the Prophet (peace be on him), contrary to their expectations, began to invite them to serve and worship the One True God. He also began to urge (hem to pay heed to the Next Life and to observe moral excellence. They were instantly disappointed and became totally averse to him. They even began to give vent to the idea that the Prophet (peace be on him) who for so long had been a perfectly normal person, was now seized by some strange mental disease. In their view it was because of this mental derailment that he had ruined his own life and also threw cold water on the hopes and expectations of his people. 71. This was the main reason which the unbelievers advanced to support their view, the rationale they offered for the worship of the deities in which they believed. The simple reason was, as stated here and elsewhere in the Qur'an, that their ancestors had also worshipped them! This brings into sharp relief the fundamental difference between the rationale offered by Islam and that offered by jahiliyah. Salih (peace be on him) had said that none but God deserves to be worshipped. He argued that since God had created human beings and had enabled them to settle on earth, they, therefore, ought to worship Him. The unbelievers responded by saying that their deities also deserved to be worshipped, indeed had been worshipped by their ancestors and so they could not just forsake them. In other words, they proclaimed their commitment to follow in the footsteps of their ancestors even if those ancestors had been altogether ignorant and stupid. 72. The Qur'an does not specify the 'disquieting doubt' to which the unbelievers were subjected. The reason for this is that although all of them had doubts, the doubt entertained by each was different. It may even be said that whenever people are asked to accept the truth, all those who believe in one kind of falsehood or the other feel disturbed. The complacent faith which they had before they became acquainted with the truth is simply gone, and a 'disquieting doubt' creeps in and begins to agitate them. Although each of them may feel this differently, an amount of disquiet is nevertheless common to all unbelievers. Before the unbelievers were invited to the truth, they may never have felt the need to critically examine their position. But after the call to the truth has been made such an attitude can no longer persist. This is so because the trenchant criticism of jahiliyah made by the Prophet of the day together with his weighty arguments in support of his teachings is bound to have its effect. Moreover, his lofty morals, his firmness, his forbearance, his grace and dignity, his straightforward and honest ways, and his wisdom and sagacity create a certain respect for him even among his staunchest enemies. Not only that but the people concerned cannot help but notice that the best elements in the society of the day are continually drawn to the call of the truth. They also observe that as a result of embracing the truth the lives of these people are perceptibly transformed. Taken together, all these factors agitate the minds of those who wish to cling to and even promote the old jahiliyah even after the truth has been made known to them.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :70 یعنی تمہاری ہوشمندی ، ذکاوت ، فراست ، سنجیدگی و متانت اور پروقار شخصیت کو دیکھ کر ہم یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ بڑے آدمی بنو گے ۔ اپنی دنیا بھی خوب بناؤ گے اور ہمیں بھی دوسری قوموں اور قبیلوں کے مقابلے میں تمہارے تدبر سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا ۔ مگر تم نے یہ توحید اور آخرت کا نیا راگ چھیڑ کر تو ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ یاد رہے کہ ایسے ہی کچھ خیالات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آپ کے ہم قوموں میں پائے جاتے تھے ۔ وہ بھی نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین قابلیتوں کے معترف تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ یہ شخص ایک بہت بڑا تاجر بنے گا اور اس کی بدار مغزی سے ہم کو بھی بہت کچھ فائدہ پہنچے گا ۔ مگر جب ان کی توقعات کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید وآخرت اور مکارم اخلاق کی دعوت دینی شروع کی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ صرف مایوس ، بلکہ بیزار ہو گئے اور کہنے لگے کہ اچھا خاصا کام کا آدمی تھا ، خدا جانے اسے کیا جنون لاحق ہو گیا کہ اپنی زندگی بھی برباد کی اور ہماری امیدوں کو بھی خاک میں ملا دیا ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :71 یہ گویا دلیل ہے اس امر کی کہ یہ معبود کیوں عبادت کے مسحق ہیں اور ان کی پوجا کس لیے ہوتی رہنی چاہیے ۔ یہاں جاہلیت اور اسلام کے طرز استدلال کا فرق بالکل نمایاں نظر آتا ہے ۔ حضرت صالح علیہ السلام نے کہا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے ، اور اس پر دلیل یہ دی تھی کہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا اور زمین میں آباد کیا ہے ۔ اس کے جواب میں ان کی مشرک قوم کہتی ہے کہ ہمارے یہ معبود بھی مستحق عبادت ہیں اور ان کی عبادت ترک نہیں کی جا سکتی کیونکہ باپ دادا کے وقتوں سے ان کی عبادت ہوتی چلی آرہی ہے ۔ یعنی مکھی پر مکھی صرف اس لیے ماری جاتی رہنی چاہیے کہ ابتدا میں کسی بے وقوف نے اس جگہ مکھی مار دی تھی اور اب اس مقام پر مکھی مارتے رہنے کے لیے اس کے سوا کسی معقول وجہ کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ یہاں مدتوں سے مکھی ماری جا رہی ہے ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :72 یہ شبہہ اور یہ خلجان کس امر میں تھا ؟ اس کی کوئی تصریح یہاں نہیں کی گئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلجان میں تو سب پڑ گئےتھے ، مگر ہی ایک خلجان الگ نوعیت کا تھا ۔ یہ دعوت حق کی خصوصیات میں سے ہے کہ جب وہ اٹھتی ہے تو لوگوں کا اطمینان قلب رخصت ہو جاتا ہے اور ایک عام بےکلی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اگر چہ ہر ایک کے احساسات دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں مگر اس بےکلی میں سے سب کو کچھ نہ کچھ حصہ ضرور مل کر رہتا ہے ۔ اس سے پہلے جس اطمینان کے ساتھ لوگ اپنی ضلالتوں میں منہمک رہتے تھے اور کبھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس ہی نہ کرتے تھے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ، وہ اطمینان اس دعوت کے اٹھنے کے بعد باقی نہیں رہتا اور نہیں رہ سکتا ۔ نظام جاہلیت کی کمزوریوں پر داعی حق کی بے رحم تنقید ، اثبات حق کے لے اس کے پرزور اور دل لگتے دلائل ، پھر اس کے بلند اخلاق ، اس کا عزم ، اس کا حلم ، اس کی شرافت نفس ، اس کا نہایت کھرا اور راستبازانہ رویہ اور اس کی وہ زبردست حکیمانہ شان جس کا سکہ بڑے سے بڑے ہٹ دھرم مخالف کے دل پر بھی بیٹھ جاتا ہے ، پھر وقت کی سوسائٹی میں سے بہترین عناصر کا اس سے متاثر ہوتے چلے جانا اور ان کی زندگیوں میں دعوت حق کی تاثیر سے غیر معمولی انقلاب رونما ہونا ، یہ ساری چیزیں مل جل کر ان سب لوگوں کے دلوں کو بے چین کر ڈالتی ہیں جو حق آجا نے کے بعد بھی پرانی جاہلیت کا بول بالا رکھنا چاہتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

36: اس سے صاف واضح ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام کو پوری قوم بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم نے انہیں اپنا سردار یا بادشاہ بنانے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٢۔ ٦٣ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا جواب ہے جب حضرت صالح نے ان کو خدا کا پیغام پہنچایا کہ تم خالص خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پوج سے باز آؤ تو یہ جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم لوگوں کو تجھ سے بڑی بڑی امیدیں تھیں ہم سمجھتے تھے تو بڑا ہونہار لڑکا ہے باپ دادا کے دین کو ترقی دے گا اور تجھ سے ہر ایک بات میں ہم کو مدد ملے گی۔ افسوس ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں تو ہم لوگوں کو باپ دادا کے قدیم راہ و رسم سے روکنے لگا۔ ہمارے باپ دادا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ان کو کیوں کر ہم چھوڑ سکتے ہیں ہمیں تو تیری طرف سے شک ہوگیا ہے اور جس بات کی تو ہمیں نصیحت کرتا ہے اور جس کی طرف تو بلاتا ہے اس پر ہم لوگوں کا اطمینان نہیں ہے۔ پھر صالح (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیا کہ اچھا تم بتلا دو کہ خدا نے تو مجھے طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے کر اور رسول بنا کر تمہارے پاس بھیجا اگر میں تم لوگوں کا لحاظ اور پاس کر کے خدا کا پیغام پہنچانے سے کسی طرح دریغ کروں اور تمہیں اس کی طرف بلانے میں سستی کروں تو پھر کون میری مدد کرے گا اور کون خدا قہار کے عذاب سے نجات دے گا اس لئے میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا کیوں تم سے گھاٹے اور نقصان کے سوا اور کچھ بھی نہیں حاصل ہوگا۔ قوم ہود کے جواب کی تفسیر میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث جو گزری وہی حدیث اس جواب کی بھی گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:62) مرجوا۔ اسم مفعول حالت نصب رجو ناقص وادی۔ (باب نصر) سے اصل میں مفعول کے وزن پر مرجوا تھا۔ دو واؤ اکٹھے ہوئے ایک کو دوسرے میں مدغم کیا مرجو ہوگیا۔ حالت نصب میں مرجوا۔ رجا یرجوا رجاء ورجو۔ امیدوار رہنا۔ امید کرنا۔ خوف کرنا۔ مرجو۔ وہ جس سے امیدیں وابستہ ہوں۔ (حضرت صالح کی شرافت۔ متانت۔ ذہانت و فطانت کو دیکھ کر ان کو امیدیں تھیں کہ وہ سیادت و قیادت و مشاورت میں سرمایہ قوم ثابت ہوگا اور ان کے دین سے موافقت کرکے اس کے عروج کا باعث بنے گا۔ لیکن جب انہوں نے خدا کی وحدانیت پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ تو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا) ۔ اتنھنا۔ الف استفہامیہ تنھی واحد مذکر حاضر نا ضمیر جمع متکلم ۔ کیا تو ہم کو منع کرتا ہے ہم کو روکتا ہے نھی (باب نصر، فتح، ضرب) روکنا۔ منع کرنا۔ تدعونا۔ تو ہم کو بلاتا ہے۔ تو ہم کو پکارتا ہے دعاء سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ دعو مادہ۔ مریب۔ اسم فاعل ارابۃ (باب افعال) ریب مادہ۔ متردد بنانے والا ۔ تردد میں ڈالنے والا۔ بےچین کردینے والا۔ یہاں شک کی صفت ہے فی شک مریب (ہم) ایک ایسے شک میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ جو بےچین کردینے والا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ یعنی تمہاری عقلمندی اور ذہانت سے تو ہم بڑی بڑی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے تھے مگر تم نے تو توحید اور آخرت کا نیا راگ الاپ کر ہماری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ 4 ۔ یعنی بت پرستی اور شرک پر اصرار کی اگر کوئی دلیل تھی تو وہ صرف یہ کہ ان کے باپ دادا ان کی پوجا کرتے رہے تھے۔ 5 ۔ یہ کس قدر حماقت تھی کہ شرک پر نہ تو مطمئن تھے اور نہ ان کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہی نہ تھی مگر پھر بھی آبائی تقلید کی وجہ سے شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت صالح (علیہ السلام) سے مکالمہ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنے پیغمبر جلوہ گر فرمائے ہیں وہ حسن و جمال، سیرت اور لیاقت کے اعتبار سے بچپن میں ہی اپنی قوم میں منفرد اور ممتاز ہوا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں ہر حوالے سے ممتاز اور منفرد تھے۔ اس بنا پر قوم ان کے بارے میں بڑی توقعات رکھتی تھی۔ لیکن حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب انہیں ان کے طریقہ عبادت سے منع کیا اور فرمایا کہ تم بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے بلاواسطہ اس کی عبادت کرو اور براہ راست اس سے مانگا کرو۔ قوم نے اس سیدھے اور صحیح طریقے کو اپنانے کی بجائے ان سے کہا کہ ہمیں تو تجھ پر بڑی توقعات اور اعتماد تھا کہ تم ہم میں اتحاد کی علامت اور ہماری دینی اور دنیوی ترقی کا ذریعہ بنو گے۔ لیکن تو نے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور ہماری توقعات کے خلاف طرز عمل اختیار کرلیا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے طریقہ عبادت کو چھوڑ دیں۔ ہمیں تو تیری دعوت اور عقیدہ کے بارے میں تردُّد ہے۔ اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں اس دعوت کے بارے میں کسی تردد اور شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میرے رب نے مجھ پر کرم فرما کر مجھے اپنا رسول منتخب کیا ہے اور میں تمہیں اپنے رب کی طرف سے ٹھوس اور واضح دلائل کے ساتھی یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔ لیکن قوم نے صحیح طریقہ سے عبادت اپنانے کی بجائے حضرت صالح (علیہ السلام) پر ہر طرف سے دباؤ ڈالا کہ تمہیں اس دعوت سے دستکش ہوجانا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس دباؤ کے جواب میں فرمایا کہ اگر میں دعوت توحید کو چھوڑ دوں تو یہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوگی۔ بلکہ تم مجھے ناقابل تلافی نقصان میں ڈال دو گے۔ اگر میں ایسا کروں تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا ؟ قوم ثمودنے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جب انہیں صالح (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں میں تمہارے لیے ایک امین رسول ہوں لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں تم سے اس کام کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے۔ کیا تم اسی طرح چھوڑ دیے جاؤ گے ان باغات، چشموں، کھیتوں، اور کھجوروں میں جن کے خوشے بہت ملائم ہیں اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے گزرنے والوں کی اطاعت نہ کرو جو ملک میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح کا کام نہیں کرتے۔ کفار کے پاس حضرت صالح (علیہ السلام) کے دلائل کے مقابلہ میں اس کے سوا کوئی بات نہ تھی کہ ہم اپنے والدین کے طرز زندگی اور طریقہ عبادت کو تیرے کہنے پر کس طرح چھوڑ سکتے ہیں۔ دراصل یہی وہ بہانہ ہے جس کو لوگ مختلف الفاظ میں بزرگوں کے نام پر پیش کرتے آرہے ہیں جس کو مذہبی لوگ آئمہ کی تقلید کا نام دیتے ہیں۔ جس کا قرآن مجید نے ایک موقعہ پر یہ جواب دیا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تم اس بات کی اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے۔ یہ کہتے ہیں ہم تو اس طریقہ پر چلیں گے جس پہ اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔ اگرچہ ان کے آباؤ اجداد دین کے بارے میں سمجھ اور ہدایت نہ رکھنے والے ہوں۔ تب بھی یہ ان کے راستے پر چلتے رہیں گے ؟ مسائل ١۔ معبودان باطل کی عبادت سے روکنا مشرکین کو ناگوار گزرتا ہے۔ ٢۔ انبیاء (علیہ السلام) اللہ کے سوا کسی کو مددگار نہیں سمجھتے تھے۔ ٣۔ انبیاء ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلائل لے کر آتے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ تفسیر بالقرآن تقلید آباء پر اصرار : ١۔ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباء کرتے رہے ہیں۔ (ھود : ٦١) ٢۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں ہمارے آباء و اجداد کافی ہیں۔ (المائدۃ : ١٠٤) ٣۔ جب قرآن کی طرف بلایا جاتا ہے کہتے ہیں ہم اپنے آباء کی پیروی کریں گے۔ (لقمان : ٢١) ٤۔ جب انہیں قرآن کی پیروی کے لیے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں باپ دادا کافی ہیں۔ (البقرۃ : ١٧٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ہماری امیدیں تم سے وابستہ تھیں۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ تمہارعلم ، تمہاری عقلمندی ، تمہاری سچائی اور تمہار حسن تدبیر یہ سب صلاحیتیں ہمارے لیے مفید ثابت ہوں گی لیکن یہ امیدیں سب کی سب اکارت گئیں اور ہم لوگ مایوسی کا شکار ہوگئے۔ أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا (١١ : ٢٦) “ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ”۔ یہ تو ایک تباہ کن بات ہے ، ہم ہر بات برادشت کرسکتے ہیں مگر یہ بات برداشت نہیں کرسکتے اور ہمیں تم سے یہ توقع ہر گز نہ تھی کہ یہ بات تمہارے منہ سے نکلے گی ، تم سے ہمیں جو بلند توقعات تھیں ، وہ ڈھیر ہوگئیں ۔ اس پر مزید یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ جو بات تم کرتے ہو اس سے ہم گہرے شک میں ہیں۔ یہ شک اس قدر قوی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں ایک مستقل خلجان بیٹھا ہوا ہے۔ إِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ (١١ : ٦٢) “ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔ ” اس طرح یہ لوگ ایک ایسے معاملے میں تعجب کر رہے تھے جس میں تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی بلکہ وہ ایک لازمی اور فرض بات کو ایک ناپسندیدہ امر تصور کرتے تھے۔ ان کو اپنے بھائی سے محض اس لیے وحشت ہونے لگی کہ وہ انہیں صرف ایک خدا کی بندگی کی طرف بلا رہے تھے اور جو وحشت انہیں کسی دلیل کی بناء پر نہ تھی ، نہ انہوں نے اس معاملے پر کوئی تحقیق یا غور و فکر کیا تھا بلکہ محض اس لیے تھی کہ ان کے آباء و اجداد متعدد الٰہوں کی پوجا اور پرستش کرتے تھے۔ آباؤ اجداد کے رسم و رواج پر چلتے چلتے لوگوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ جمود کا شکار ہوجاتے ہیں اور ثابت شدہ اور واضح سچائی پر تعجب کرنے لگتے ہیں ، عقائد پر دلیل وبرہان پیش کرنے کی بجائے عقائد کو اپنے آباؤ اداد کے عمل سے ثابت کرتے ہیں۔ ان تمام آیات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عقیدہ توحید دراصل ذہنی جمود کے خلاف بغاوت ہے اور یہ عقیدہ انسان کو فکری آزادی عطا کرتا ہے اور یہ ہدایت کرتا ہے کہ عقل انسانی کو آباؤ اجداد کے رسوم وقیود سے آزاد کیا جائے۔ اسی طرح وہم و خرافات سے بھی عقل انسانی کو نجات دی جائے اور ایسے عقائد کو قبول کیا جائے جسے عقل تسلیم کرتی ہو اور جس پر کوئی سند موجود ہو۔ اہل ثمود نے صالح کو جو کہا۔ قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا (٢٦ : ١١) “ انہوں نے کہا ’ “ اے صالح ” اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ ” یہی توقعات اہل قریش در حقیقت حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وابستہ کیے ہوئے تھے۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بتایا کہ اللہ کے سواء کوئی الٰہ نہیں ہے تو ان لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی ہی وحشت کا اظہار کیا جس طرح قوم صالح نے حضرت صالح علیہ والسلام سے کیا۔ جس طرح انہوں نے کہا کہ تو ساحر ہے اور افترا باندھنے والا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بھی یہی کہا اور شہادت حق دینے سے انکار کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جاہلیت کا ہمیشہ ایک ہی مزاج ہوتا ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں پیغمبر اور احیائے اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا گیا۔ اور پھر پیغمبروں نے بھی پوری تاریخ میں ایک ہی بات کی۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی بات بالکل ایک ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

85: ہر قوم نے اپنے پیغمبر کو نئے سے نیا طعن دیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب قوم کے سامنے مسئلہ توحید پیش کیا جو ان کے بگڑے ہوئے مزاج کے خلاف تھا تو وہ بول اٹھے کہ اے صالح ! ہم تو تمہیں بڑا اچھا اور لائق سمجھتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ تم اپنی لیاقت و قابلیت سے قوم کو بام عروج پر پہنچا دو گے اور ہم تو تمہارے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے مگر تم نے خلاف توقع اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا اور ہمیں بھی کہتا ہے کہ ہم بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیں۔ اَنْ نَّعْبُدَ ای عن ان نعبد۔ مَایَعْبُدُ موصولہ سے مراد معبودان باطلہ۔ مَاتَدْعُوْنَا موصولہ سے مسئلہ توحید مراد ہے۔ ماتدعونا الیہ من التوحید (مدارک ج 2 ص 149) یعنی کیا تو ہمیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ ہم اپنے ان معبودوں کی عبادت کریں جن کی ہمارے آباء و اجداد عبادت کیا کرتے تھے۔ صاف بات ہے مسئلہ توحید جس کی تو ہمیں دعوت دیتا ہے اس کے بارے میں ہمارے دلوں میں بہت شکوک و شبہات ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

62 ان کی قوم کے افراد نے جواب دیا اے صالح اس سے پہلے تو ایسا تو ہونہار اور ہوشیار تھا کہ ہم کو تجھ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کیا تو ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا اور بڑے بوڑھے کرتے چلے آئے ہیں اور جس دین کی طرف تو ہم کو بلا رہا ہے اس دین کی طرف ہم بڑے تردد انگیز شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تجھ سے ہم کو امید تھی یعنی ہونہار لگتا تھا کہ باپ دادا کی راہ روشن کرے گا تو لگا مٹانے 12 خلاصہ یہ کہ شروع شروع میں تو بہت اچھا معلوم ہوتا تھا اور تجھ سے امیدیں وابستہ تھیں مگر تو جوان ہونے کے بعد نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا اور بڑوں کی رسموں کو مٹانے لگا تو ایسا نہ کر