Surat Hood

Surah: 11

Verse: 69

سورة هود

وَ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ بِالۡبُشۡرٰی قَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِیۡذٍ ﴿۶۹﴾

And certainly did Our messengers come to Abraham with good tidings; they said, "Peace." He said, "Peace," and did not delay in bringing [them] a roasted calf.

اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغامبر ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے اور سلام کہا انہوں نے بھی جواب میں سلام دیا اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Coming of the Angels to Ibrahim and Their Glad Tidings to Him of Ishaq and Yaqub Allah, the Exalted, says, وَلَقَدْ جَاءتْ رُسُلُنَا ... And verily, there came Our messengers, The word "messengers" here means angels. ... إِبْرَاهِيمَ بِالْبُـشْرَى ... to Ibrahim with the glad tidings. It has been said that the word "the glad tidings" means, "Receive the glad tidings of Ishaq." Others have said that it means, "The destruction of the people of Prophet Lut." The proof of the correctness of the first view is in Allah's statement, فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَهِيمَ الرَّوْعُ وَجَأءَتْهُ الْبُشْرَى يُجَـدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ Then when the fear had gone away from (the mind of) Ibrahim, and the glad tidings had reached him, he began to plead with Us for the people of Lut. (11:74) ... قَالُواْ سَلَمًا قَالَ سَلَمٌ ... They said: "Salaman." He answered, "Salamun." This means, "Upon you." The scholars of explanation have said, "Ibrahim's reply of `Salamun' was better than that with which they had greeted him with, because the subjective case (Salamun instead of Salaman) alludes to affirmation and eternity. " ... فَمَا لَبِثَ أَن جَاء بِعِجْلٍ حَنِيذٍ and he hastened to entertain them with a roasted calf. This means that he (Ibrahim) left with haste in order to bring them food, as a host. The food that he brought was a calf. The word Hanidh means roasted upon heated stones. This meaning has been reported from Ibn Abbas, Qatadah and others. This is as Allah has said in other verses, فَرَاغَ إِلَى أَهْلِهِ فَجَأءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلاَ تَأْكُلُونَ Then he turned to his household, and brought out a roasted calf. And placed it before them (saying): "Will you not eat!" (51:26-27) This verse contains many aspects of the etiquettes of hosting guests.

ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس وہ فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور حضرت ابراہیم کے ہاں فرزند ہو نے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں ۔ وہ آکر سلام کرتے ہیں ۔ آپ ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں ۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے ۔ سلام کے بعد ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں ۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا ، لاتے ہیں ۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں ، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہوگئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے حضرت سدی فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی ، جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے ، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں ۔ ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے ۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے ۔ آپ نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے ، آپ نے فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر الحمد اللہ کہنا یہی اس کی قیمت ہے ۔ اس وقت حضرت جبرائیل نے حضرت میکائیل کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بناۓ ۔ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ کے دل میں طرح طرح کے خیالات گذرنے لگے ۔ حضرت سارہ نے دیکھا کہ خود حضرت ابراہیم ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں ، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بےساختہ ہنسی آگئی ۔ حضرت ابراہیم کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے ۔ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں ۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں ۔ حضرت سارہ کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا ۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا ۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے ، وہ پوری غفلت میں ہے ۔ الغرض فرشتوں نے آپ کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہو نے کی بشارت دی ۔ اور پھر اسحاق کے ہاں یعقوب کے ہو نے کی بھی ساتھ ہی خوش خبری سنائی ۔ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے ۔ کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہو نے کی بشارت دی گئی تھی ۔ یہ سن کر حضرت سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی ؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے ۔ فرشتوں نے کہا امر اللہ میں کیا حیرت ؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے ۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے ، اے نبی کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں ، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے ۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 یہ دراصل حضرت لوط اور ان کی قوم کے قصے کا ایک حصہ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی بحرہ، میت کے جنوب مشرق میں تھی، جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں مقیم تھے۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ تو ان کی طرف سے فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے قوم لوط (علیہ السلام) کی طرف جاتے ہوئے راستے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ٹھہرے اور انھیں بیٹے کی بشارت دی۔ 69۔ 2 یعنی سلمنا سلاما علیک ہم آپ کو سلام عرض کرتے ہیں۔ 69۔ 3 جس طرح پہلا سلام ایک فعل مقدر کے ساتھ منصوب تھا۔ اس طرح یہ سالم مبتدا یا خبر ہونے کی بنا پر مرفوع ہے عبادت ہوگی : اَمْرُکُمْ سَلَا م، ُ یا عَلَیْکُمْ سَلَام، ُ ۔ 69۔ 4 حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) بڑے مہمان نواز تھے وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ فرشتے ہیں جو انسانی صورت میں آئے ہیں اور کھانے پینے سے معزور ہیں، بلکہ انہوں نے انھیں مہمان سمجھا اور فورا مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لا کر ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہمان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں بلکہ جو موجود ہو حاضر خدمت کردیا جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٠] فرشتوں کا ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق کی خوشخبری لے کر جانا :۔ اس سورة میں بھی انبیاء کے قصص کی ترتیب وہی ہے جو پہلے سورة اعراف میں گذر چکی ہے یعنی ثمود کے بعد قوم لوط کی تباہی کا ذکر ہے یہاں ضمناً جو ابراہیم کا ذکر آیا ہے تو بطور تمہید آیا ہے کیونکہ جو فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے مامور کیے گئے تھے وہ پہلے سیدنا ابراہیم کے پاس ہی ایک بیٹے کی خوشخبری دینے آئے تھے یہ فرشتے انسانی شکل میں آئے اور آکر سلام کیا سیدنا ابراہیم نے سلام کا جواب دیا پھر ان کی مہمان نوازی میں مشغول ہوگئے اور تھوڑی دیر میں ایک بچھڑا بھون کرلے آئے اور کھانے کے لیے ان کے سامنے رکھ دیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بالْبُشْرٰي : ” رُسُلُنَآ “ ہمارے بھیجے ہوئے سے مراد فرشتے ہیں جو انسانی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے اور پوتے اسحاق اور یعقوب کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ ان کی تعداد بعض نے تین بیان کی، جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل، بعض نے نو (٩) اور بعض نے تیرہ (١٣) ، مگر قرآن و سنت سے ان کی تعداد کا ذکر ہمیں نہیں ملا۔ سورة حجر (٤٩، ٥٠) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے غفور و رحیم ہونے اور اپنے عذاب کے عذاب الیم ہونے کی خبر دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) کے یہ واقعات ذکر فرمائے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کی ایک ہی جماعت ایک کے لیے خوش خبری اور دوسری قوم کے لیے عذاب لے کر آئی تھی۔ چناچہ ان کے آنے سے اللہ تعالیٰ کی دونوں صفات کا اظہار ہوا تھا۔ یہاں ان فرشتوں کے آنے کو ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے خوش خبری لانے والے فرمایا ہے، کیونکہ اگر ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بیٹے اور پوتے کی خبر خوش خبری ہے تو لوط (علیہ السلام) کی ملعون قوم کی بربادی کی خبر بھی ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) دونوں کے لیے خوش خبری ہے، البتہ قوم لوط کے لیے بری خبر ہے۔ قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ : پہلا ” سَلٰمًا “ منصوب ہے، یہ جملہ فعلیہ ہے : ” نُسَلِّمُ سَلاَمًا “ ” ہم سلام کہتے ہیں۔ “ دوسرا ” سَلٰمٌ“ مرفوع ہے، یعنی ” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ ” تم پر سلام ہو۔ “ معلوم ہوا کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کیا جس میں کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کہنے کا حکم ہے۔ دیکھیے سورة نور (٢٧) بلکہ ابن عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا ہے : ( اَلسَّلَامُ قَبْلَ السُّؤَالِ فَمَنْ بَدَأَکُمْ بالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِیْبُوْہٗ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : ١؍٤٥٨، ح : ٨١٦ ] ” سلام سوال سے پہلے ہے، جو تم سے سلام سے پہلے سوال کرے، اسے جواب مت دو ۔ “ اور ایک روایت میں فرمایا : ( مَنْ بَدَأَ بالْکَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِیْبُوْہٗ ) [ صحیح الجامع : ٦١٢٢ ] ” جو سلام سے پہلے بات کرے اسے جواب مت دو ۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے بہتر جواب دیا جو سورة نساء (٨٦) میں ہے، کیونکہ جملہ فعلیہ کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے جب کہ جملہ اسمیہ میں استمرار یعنی ہمیشگی پائی جاتی ہے، یعنی تم پر ہمیشہ سلامتی ہو۔ ” سَلٰمًا “ کے جواب میں ” َسلٰمٌ‘ بہتر جواب ہے۔ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ : اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ فرشتے انسانی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ حدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ معروف حدیث جبریل (علیہ السلام) میں فرشتے کا ایک اعرابی کی شکل میں آنا بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [ بخاری : ٤٧٧٧۔ مسلم : ٨] دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) اولو العزم پیغمبر ہو کر بھی مہمانوں کو پہچان نہ سکے، ورنہ وہ کھانے کا اہتمام نہ کرتے، کیونکہ فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) علم غیب نہیں رکھتے تھے تو پھر ان لوگوں کی کیا اوقات ہے جو نہ نبی ہیں اور نہ ان کے اصلی حالات اللہ کے سوا کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کیا حیثیت ہے ؟ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) بیحد مہمان نواز تھے۔ یہ وصف ہر نبی خصوصاً ابراہیم (علیہ السلام) اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بہت پایا جاتا تھا۔ ہماری ماں خدیجہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلی وحی کے موقع پر آپ کے اوصاف میں اس وصف کا خصوصی ذکر فرمایا : ( وَتَقْرِی الضَّیْفَ ) [ بخاری : ٣ ] ” آپ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تربیت یافتہ صحابہ کا یہ حال تھا کہ نافع (رض) بیان کرتے ہیں : ( کَانَ ابْنُ عُمْرَ لَا یَأْکُلُ حَتَّی یُؤْتٰی بِمِسْکِیْنٍ یَأْکُلُ مَعَہٗ ) ” عبد اللہ بن عمر (رض) اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مسکین ان کے ساتھ کھانے کے لیے نہ لایا جاتا۔ “ [ بخاری، الأطعمۃ، باب المؤمن یأکل في معی واحد : ٥٣٩٣ ] پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے والد ماجد ابراہیم (علیہ السلام) کی فیاضی کا کیا حال ہوگا۔ چوتھی بات یہ معلوم ہوئی کہ مہمان نوازی میں دیر نہیں کرنی چاہیے، نہ ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ سورة ذاریات میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) چپکے سے گھر گئے اور کھانا لے آئے۔ وقت کی مناسبت سے جو حاضر ہو پیش کردیا جائے، مہمان کی خواہش ہے تو کھالے، ورنہ اس کی مرضی۔ پانچویں یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دنیوی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا فضل تھا، ورنہ بھنا ہوا بچھڑا تھوڑی دیر میں لا کر پیش کردینا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ چھٹی یہ کہ وہ احادیث جن میں گائے کے گوشت کو بیماری کہا گیا ہے، بظاہر اچھی سند کی بھی ہوں تو شاذ ہیں، کیونکہ قرآن میں گائے کے گوشت کو بطور انعام ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی قربانی اور مختلف موقعوں پر ذبح کرنا قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیماری والی چیز کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں ؟ ساتویں یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) ، ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام انبیاء بشر تھے اور کھانا کھاتے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ یا اس کا کوئی جزو تھے اور نہ فرشتے، بلکہ وہ انسان تھے، کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (دیکھیے فرقان : ٢٠) اور ان کی بیویاں تھیں اور اولادیں بھی۔ (دیکھیے رعد : ٣٨) جب کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے ان سب سے پاک ہیں۔ آٹھویں یہ کہ صوفیاء جو جان دار یا اس سے نکلنے والی چیزیں اپنے خود ساختہ وظیفوں اور چلّوں کے دوران میں یا ہمیشہ کے لیے کھانا ترک کردیتے ہیں وہ ملت ابراہیمی کے نہیں بلکہ ہندو مذہب کے پیروکار ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In these five verses, an event relating to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) has been mentioned. Allah Ta` ala sent some angels to give him the good news of a birth in his family because Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) had no children from his wife, Sayyidah Sarah (رض) and he wished he had. But, they were much advanced in years. Obviously, there was no hope. Then, Allah Ta` ala sent the good news through the angels and that too of the nature that the new born would be a male child and even proposed the name of the child as Ishaq. Then, he was also told that he would live, have children and that the name of his son will be Ya` qub, and both of them would be the messenger and prophet of Allah. Since these angels had come in human form, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) took them to be normal guests and lost no time in offering his hospitality. He placed a dish of roasted calf before them. But, they were really angels, free of eating and drinking. Therefore, despite the food being before them, they did not extend their hands towards it. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) noticed this, he was concerned. They did not look like guests, may be they had come to create some problem for him. The angels scented his concern and disclosed their identity. They told him that they were angels of Allah Ta` ala. There was no need for him to be frightened. They had been sent to give him the good news of a birth in his family, as well as to accomplish another mission, the mission of bringing Divine punishment on the people of Lut (علیہ السلام) . Sayyidah Sarah (رض) ، the wife of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was listening to this con¬versation from behind a curtain. When she found out that they were angels, not human beings, there was no need for the otherwise essen¬tial hi jab. She laughed at the good news of the birth of a child in old age and said, ` shall I give birth to a child while I am an old woman and my husband, an old man?& The angels said as to why would she marvel at the command of Allah Ta` a1a who has everything within His power. Was it not that, as a member of the prophet&s family, she has been wit¬nessing that this was a family on which extraordinary Divine mercy and blessing descends all the time, which is mostly above and beyond the obvious chain of causes? So, what was there to wonder about? This was a gist of the event. Let us now go to details as they appear in the text of the verses cited above. The first verse (69) tells us that these angels had come to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) with some good news. The good news has been men¬tioned later in the third verse (71 فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ (so, We gave her the good news about Ishaq). Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) said that the three angels were Ji¬bra&il, Mika&il and Israfil (علیہم السلام) . (Qurtubi) They came in human form and greeted Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) with ` salam.& Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) responded to their salam greeting and, taking them to be hu¬man, offered the usual hospitality. Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) is the first human being who introduced the custom of honoring guests by offering hospitality to them. (Qurtubi) It was his routine that he would never eat alone. Instead, when came the time for meals, he would be looking out for a guest so that he could eat with him. Al-Qurtubi has reported from Isra&ili narratives that, on a certain day, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) started looking for a guest at the time for meals. The man he met was a stranger. When he sat down to eat, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) said to him, ` say: I& begin with the name of Allah.& He said, ` I do not know Allah. Who and what is He?& Sayyidna Ibrahim علیہ السلام asked him to leave the dining-spread on the floor. When he went out, Sayyidna Jibra&il (علیہ السلام) came in and said, ` Allah Ta` ala says: As for him, We gave sustenance to him throughout his life despite his disbelief and as for you, you were stingy about giving him even one morsel of food.& Hearing this, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) went after him and called him back. He said, ` unless you tell me the reason why you turned me out first and why are you asking me to come in again, I will not go with you.& When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) told him the episode, the episode itself became the reason for his becoming a believer. He said, ` the Lord who made you do this is very noble. I believe in Him.& Then he went in with Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) behaved like a true believer and ate his food after having recited Bismillah first. So, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) true to his habit of entertaining guests, welcomed angels who had come in human form. Naturally, to him they were human, and guests. The host did his most, lost no time and placed a roasted calf before them. In the second verse (70), it was stated that the angels had, though, come in the human form and it was also possible that they could have been given human characteristics of eating and drinking at that par¬ticular time. But, the wiser choice for them was no other but that they should not eat so that the secret that they were angels comes out in the open. Therefore, their angelic characteristics were allowed to remain, even in their human form, because of which they did not extend their hands towards the food. According to some reports, they had some arrows in their hands. They started poking the heads of their arrows into the roasted meat. When they acted in that manner, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) apprehended them to be his enemies, because, according to the social custom known to him, if a guest refused to eat, it was a sign of mischief to be made from his side. (Qurtubi) His apprehension was quashed when the angels themselves disclosed their identity and said that they were an-gels, therefore, they do not eat. So, there was no danger for him to bother about. Injunctions and Rules Many injunctions and important rules of guidance regarding social living appear in the verses under study. Imam al-Qurtubi has dis¬cussed them in detail in his Tafsir. The Sunnah of Salam The words of verse 69 قَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ (They said, |"Salim.|" He said, |"Salam.|" ) - teach us that it is a Sunnah for Muslims that, when they meet each other, they should offer Salim. The guest coming in should say it first while others should respond. That people say some words to greet each other when they meet is a custom found in all communities. But, the teaching of Islam is unique in this matter for the masnun word of salam is السلام علیکم : As-Salamu &Alaikum. It carries the name of Allah with it. So it is both a Dhikr of Allah, and a prayer for peace and protection from Him - in addition to being a guarantee of the protection of life, property and honor from one&s own side. (When we equate As-Sal amu Alaikum with ` peace on you& we go by the anatomy and leave the spirit that is essential to it - tr.) At this place in the Qur&an, it has been said that the angels said سلاما (salam) and Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) responded with سلام (salam). Obviously, here it was not considered necessary to mention salam in its complete form - as customary in usage when it is said that a person said salam to someone where it is presupposed that he said the whole greeting of As-Sala-mu Alaikum. Similarly, at this place, salam stands for the full masnun greeting which has been taught to his community by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) through his word and deed, that is, saying: السلام علیکم (As-Sal amu ` Alaikum) at the beginning of salam, and: (علیہ السلام) و رحمۃ اللہ (wa alaikumu-s-salam, or wa ` alaikumu-s-salamu wa rahmatu-l-l ah to be more generous) while responding to the salam. Some Rules for Guests and Hosts It has been said in the last sentence of verse 69: فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ (Then he made no delay in bringing a roasted calf). This tells us a few things: 1. It is a part of the etiquette of hospitality that the host should, soon after the arrival of the guest, bring out something to eat, or drink, something he has on hand and which could be offered quickly and conveniently. Then, if the host is a man of means, he can arrange for additional hospitality later. (Qurtubi) 2. A host should not worry about making too many formal arrange¬ments for a guest. Anything good available easily is good enough. Let him put it before the guest. Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) had some domestic animals at home. Therefore, he slaughtered a calf, had it roasted quickly and offered it to his guests. (Qurtubi) 3. Receiving guests and offering hospitality to them is a part of the essential etiquette of Islam, in fact, a hallmark of high morals. This is the blessed habit of prophets and the righteous. Is it necessary (wajib) to entertain guests? Or, is it not? ` Ulama& have difference of opinion in this matter. According to the majority of them, it is a sunnah, and de¬sirable, but not wajib (necessary, obligatory). Some of them say that it is wajib on village people that they should offer hospitality to a person who stays in their village because a stranger has no arrangement for his meals there. Since such arrangements are possible through a hotel in cities, therefore, it is not wajib on those who live in cities. Al-Qurtubi has reported all these different views in his Tafsir.

خلاصہ تفسیر اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ( بشکل بشر) ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس (ان کے فرزند اسحاق (علیہ السلام) کی) بشارت لے کر آئے ( گو مقصود اعظم ان کے آنے کا قوم لوط پر عذاب واقع کرنا تھا، لقولہ تعالیٰ فما خطبکم الج) اور ( آنے کے وقت) انہوں نے سلام کیا، ابراہیم ( علیہ السلام) نے بھی سلام کیا ( پہچانا نہیں کہ یہ فرشتے معمولی مہمان سمجھے) پھر دیر نہیں لگائی کہ ایک تلا ہوا ( فربہ لقولہ تعالیٰ سمین) بچھڑا لائے ( اور ان کے سامنے رکھ دیا، یہ تو فرشتے تھے کیوں کھانے لگے تھے) سو جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کھانے تک نہیں بڑھتے تو ان سے متوحش ہوئے اور ان سے دل میں خوف زدہ ہوئے ( کہ یہ مہمان تو نہیں کوئی مخالف نہ ہوں کہ بارادہ فاسد آئے ہوں اور میں گھر میں ہوں احباب و اصحاب پاس نہیں یہاں تک کہ بےتکلفی سے اس کو زبان سے بھی ظاہر کردیا لقولہ تعالیٰ (آیت) قال انا منکم وجلون) وہ فرشتے کہنے لگے ڈرو مت ( ہم آدمی نہیں ہیں فرشتے ہیں آپ کے پاس بشارت لے کر آئے ہیں کہ آپ کے ایک فرزند پیدا ہوگا اسحاق اور اس کے پیچھے ایک فرزند ہوگا یعقوب، اور بشارت اس لئے کہا کہ اول تو اولاد خوشی کی چیز ہے، پھر ابراہیم (علیہ السلام) بوڑھے ہوگئے تھے بی بی بھی بہت بوڑھی تھیں امید اولاد کی نہ رہی تھی، آپ نے نور نبوت سے توجہ کرکے پہچان لیا کہ واقعی فرشتے ہیں، لیکن فراست نبوت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس کے سوا اور بھی کسی بڑے کام کے لئے آئے ہیں اس لئے اس کی تعیین کے ساتھ سوال کیا (آیت) فما خطبکم یعنی کس کام کے لئے آئے ہیں ؟ اس وقت انہوں نے کہا کہ) ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ( کہ ان کو سزا کفر میں ہلاک کریں، ان میں تو یہ گفتگو ہو رہی تھی) اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی بی بی ( حضرت سارہ کہیں) کھڑی ( سن رہی) تھیں پس ( اولاد کی خبر سن کر جس کی ان کو بعد اس کے کہ اسماعیل (علیہ السلام) بطن ہاجرہ سے تولد ہوئے تمنا بھی تھی، خوشی سے) ہنسیں ( اور بولتی پکارتی آئیں اور تعجب سے ماتھے پر ہاتھ مارا، لقولہ تعالیٰ (آیت) فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا) سو ہم نے (یعنی ہمارے فرشتوں نے) ان کو ( مکرر) بشارت دی اسحاق ( کے پیدا ہونے) کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی ( جو کہ اسحاق کے فرزند ہوں گے جس سے معلوم ہوگیا کہ تمہارے ہاں فرزند ہوگا اور زندہ رہے گا یہاں تک کہ وہ بھی صاحب اولاد ہوگا، اس وقت) کہنے لگیں کہ ہائے خاک پڑے اب میں بچہ جنوں گی بڑھیا ہو کر اور یہ میرے میاں ( بیٹھے) ہیں باکل بوڑھے، واقعی یہ بھی عجیب بات ہے، فرشتوں نے کہا کہ کیا ( خاندان نبوت میں رہ کر اور ہمیشہ معجزات و معاملات عجیبہ کی ( خاص) تم خدا کے کاموں میں تعجب کرتی ہو ( اور خصوصاً ) اس خاندان کے لوگوں پر تو اللہ تعالیٰ کی ( خاص) رحمت اور اس کی ( انواع و اقسام کی برکتیں ( نازل ہوتی رہتی) ہیں بیشک وہ (اللہ تعالیٰ ) تعریف کے لائق ( اور بڑی شان والا ہے ( وہ بڑے سے بڑا کام کرسکتا ہے، پس بجائے تعجب کے اس کی تعریف اور شکر میں مشغول ہو ) ۔ معارف و مسائل ان پانچ آتیوں میں حضرت خلیل اللہ ابراہیم (علیہم السلام) کا ایک واقعہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چند فرشتوں کو ان کے پاس اولاد کی بشارت دینے کے لئے بھیجا کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ سے کوئی اولاد نہ تھی اور ان کو اولاد کی تمنا تھی مگر دونوں کا بڑھاپا تھا بظاہر کوئی امید نہ تھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ خوشخبری بھیجی اور وہ بھی اس شان کی کہ نرینہ اولاد ہوگی اور ان کا نام بھی اسحاق تجویز فرما دیا اور پھر یہ بھی بتلا دیا کہ وہ زندہ رہیں گے اور وہ بھی صاحب اولاد ہوں گے ان کے لڑکے کا نام یعقوب ہوگا اور دونوں اللہ تعالیٰ کے رسول و پیغمبر ہوں گے، یہ فرشتے چونکہ بشکل انسانی آئے تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو عام مہمان سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی، بھونا ہوا گوشت لا کر سامنے رکھا، مگر وہ تو حقیقتہ فرشتے تھے کھانے پینے سے پاک، اس لئے کھانا سامنے ہونے کے باوجود اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ دیکھ کر اندیشہ لاحق ہوا کہ یہ مہمان نہیں معلوم ہوتے ممکن ہے کسی فساد کی نیت سے آئے ہوں، فرشتوں نے ان کا یہ اندیشہ معلوم کر کے بات کھول دی اور بتلا دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں آپ گھبرائیں نہیں، ہم آپ کو اولاد کی بشارت دینے کے علاوہ ایک اور کام کے لئے بھی بھیجے گئے ہیں کہ قوم لوط پر عذاب نازل کریں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ، محترمہ حضرت سارہ پس پردہ یہ گفتگو سن رہی تھیں، جب معلوم ہوگیا کہ یہ انسان نہیں فرشتے ہیں تو پردہ کی ضرورت نہ رہی، بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری سن کر ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ کیا میں بڑھیا ہو کر اولاد جنوں گی، اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں، فرشتوں نے جواب دیا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر تعجب کرتی ہو جس کی قدرت میں سب کچھ ہے، خصوصاً تم خاندان نبوت میں رہ کر اس کا مشاہدہ بھی کرتی رہتی ہو کہ اس خاندان پر اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی رحمت و برکت نازل ہوتی رہتی ہے جو اکثر سلسلہ اسباب ظاہری سے بالاتر ہوتی ہے پھر تعجب کی کیا بات ہے۔ یہ اس واقعہ کا خلاصہ ہے آگے آیات مذکورہ کی پوری تفصیل دیکھئے، پہلی آیت میں بتلایا ہے کہ یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس کوئی خوشخبری لے کر آئے تھے اس خوشخبری کا ذکر آگے تیسری آیت میں ہے فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ یہ تین فرشتے، جبریل، میکائیل اور اسرافیل تھے ( قرطبی) انہوں نے بشکل انسان آکر ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور ان کو انسان سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے وہ انسان ہیں جنہوں نے دنیا میں مہان نوازی کی رسم جاری فرمائی ( قرطبی) ان کا معمول یہ تھا کہ کبھی تنہا کھانا نہ کھاتے بلکہ ہر کھانے کے وقت تلاش کرتے تھے کہ کوئی مہمان آجائے تو اس کے ساتھ کھائیں۔ قرطبی نے بعض اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ ایک روز کھانے کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مہمان کی تلاش شروع کی تو ایک اجنبی آدمی ملا جب وہ کھانے پر بیٹھا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بسم اللہ کہو، اس نے کہا کہ میں جانتا نہیں اللہ کون اور کیا ہے ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو دسترخوان سے اٹھا دیا، جب وہ باہر چلا گیا تو جبریل امین آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو اس کو کفر کے باوجود ساری عمر اس کو رزق دیا اور آپ نے ایک لقمہ دینے میں بھی بخل کیا، یہ سنتے ہی ابراہیم (علیہ السلام) اس کے پیچھے دوڑے اور اس کو واپس بلایا، اس نے کہا کہ جب تک آپ اس کی وجہ نہ بتلائیں کہ پہلے کیوں مجھے نکالا تھا اور اب پھر کیوں بلا رہے ہیں میں اس وقت تک آپ کے ساتھ نہ جاؤں گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے واقعہ بتلا دیا تو یہی واقعہ اس کے مسلمان ہونے کا سبب بن گیا، اس نے کہا کہ وہ رب جس نے یہ حکم بھیجا ہے بڑا کریم ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ گیا اور مومن ہو کر باقاعدہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی عادت مہمان نوازی کے مطابق بشکل انسان آنے والے فرشتوں کو انسان اور مہمان سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی اور فوراً ہی ایک تلا ہوا بچھڑا سامنے لا کر رکھ دیا۔ دوسری آیت میں بتلایا گیا کہ آنے والے فرشتے اگرچہ بشکل انسانی آئے تھے اور یہ بھی ممکن تھا کہ اس وقت ان کو بشری خواص کھانے پینے کے بھی عطا کردیئے جاتے مگر حکمت اسی میں تھی کہ یہ کھانا نہ کھائیں تاکہ ان کے فرشتے ہونے کا راز کھلے اس لئے شکل انسانی میں بھی ان کے ملکی خواص کو باقی رکھا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے کھانے پر ہاتھ نہ بڑھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ تیر تھے ان کی نوک اس تلے ہوئے گوشت میں لگانے لگے ان کے اس عمل سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے عرف کے مطابق یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ شاید یہ کوئی دشمن ہوں کیونکہ ان کے عرف میں کسی مہمان کا کھانے سے انکار کرنا ایسے ہی شر و فساد کی علامت ہوتا تھا۔ (قرطبی) فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں اس لئے نہیں کھاتے، آپ کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔ احکام و مسائل : آیات مذکورہ میں معاشرت سے متعلق بہت سے احکام اور اہم ہدایات آئی ہیں جن کو امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں تفصیل سے لکھا ہے۔ سنت سلام : (آیت) قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ، اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لئے سنت ہے کہ جب آپس میں ملیں تو سلام کریں، آنے والے مہمان کو اس میں پیش قدمی کرنا چاہئے اور دوسروں کو جواب دینا چاہئے۔ یہ تو ہر قوم و ملت میں پائی جاتی ہے کہ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو خوش کرنے کیلئے کچھ کلمات بولتے ہیں مگر اسلام کی تعلیم اس معاملہ میں بھی بےنظیر اور بہترین ہے کیونکہ سلام کا مسنون لفظ السلام علیکم اللہ کے نام پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ذکر اللہ بھی ہے اور مخاطب کے لئے اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی دعا بھی اور اپنی طرف سے اس کی جان و مال و آبرو کیلئے سلامتی کی ضمانت بھی۔ قرآن کریم میں اس جگہ فرشتوں کی طرف سے صرف سَلٰمًا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے جواب میں سَلٰمٌ ذکر کیا گیا ہے بظاہر یہاں پورے الفاظ سلام کے ذکر کرنے کی ضرورت نہ سمجھی، جیسے عرف و محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے فلاں کو سلام کیا، مراد یہ ہوتی ہے کہ پورا کلمہ السلام علیکم کہا، اسی طرح یہاں لفظ سلام سے پورا کلمہ مسنونہ سلام کا مراد ہے جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قول و عمل سے لوگوں کو بتلایا ہے، یعنی ابتداء سلام میں السلام علیکم اور جواب سلام وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ مہمانی اور مہمان داری کے چند اصول : (آیت) فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ ، یعنی نہیں ٹھہرے ابراہیم (علیہ السلام) مگر صرف اس قدر کہ لے آئے تلا ہوا بچھڑا۔ اس سے چند باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ مہمان نوازی کے آداب میں سے یہ ہے کہ مہمان کے آتے ہی جو کچھ کھانے پینے کی چیز میسر ہو اور جلدی سے مہیا ہوسکے وہ لا رکھے، پھر اگر صاحب وسعت ہے تو مزید مہمانی کا انتظام بعد میں کرے (قرطبی) دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مہمان کے لئے بہت زیادہ تکلفات کی فکر میں نہ پڑے، آسانی سے جو اچھی چیز میسر ہوجائے وہ مہمان کی خدمت میں پیش کردے، حضرت ابراہیم کے یہاں گائے بیل رہتے تھے، اس لئے بچھڑا ذبح کرکے فوری طور پر اس کا گوشت تل کر سامنے لا رکھا ( قرطبی ) ۔ تیسرے یہ کہ آنے والوں کی مہمانی کرنا آداب اسلام اور مکارم اخلاق میں سے ہے، انبیاء و صلحاء کی عادت ہے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ مہمانی کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ جمہور علماء اس پر ہیں کہ واجب نہیں، سنت اور مستحسن ہے۔ بعض نے فرمایا کہ گاؤں والوں پر واجب ہے کہ جو شخص ان کے گاؤں میں ٹھہرے اس کی مہمانی کریں کیونکہ وہاں کھانے کا کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوسکتا اور شہر میں ہوٹل وغیرہ سے اس کا انتظام ہوسکتا ہے، اس لئے شہر والوں پر واجب نہیں ( قرطبی) نے اپنی تفسیر میں یہ مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا۝ ٠ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ۝ ٦٩ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ سلام السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها [ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وصحّة بلا سقم، كما قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : السلام ة، قال : وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ [يونس/ 25] ، وقال تعالی: يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَهُ سُبُلَ السَّلامِ [ المائدة/ 16] ، يجوز أن يكون کلّ ذلک من السّلامة . وقیل : السَّلَامُ اسم من أسماء اللہ تعالیٰ «1» ، وکذا قيل في قوله : لَهُمْ دارُ السَّلامِ [ الأنعام/ 127] ، والسَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ [ الحشر/ 23] ، قيل : وصف بذلک من حيث لا يلحقه العیوب والآفات التي تلحق الخلق، وقوله : سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ [يس/ 58] ، سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ [ الرعد/ 24] ، سلام علی آل ياسین «2» كلّ ذلک من الناس بالقول، ومن اللہ تعالیٰ بالفعل، وهو إعطاء ما تقدّم ذكره ممّا يكون في الجنّة من السّلامة، وقوله : وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً [ الفرقان/ 63] ، أي : نطلب منکم السّلامة، فيكون قوله ( سلاما) نصبا بإضمار فعل، وقیل : معناه : قالوا سَلَاماً ، أي : سدادا من القول، فعلی هذا يكون صفة لمصدر محذوف . وقوله تعالی: إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقالُوا سَلاماً قالَ سَلامٌ [ الذاریات/ 25] ، فإنما رفع الثاني، لأنّ الرّفع في باب الدّعاء أبلغ «3» ، فكأنّه تحرّى في باب الأدب المأمور به في قوله : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها [ النساء/ 86] ، ومن قرأ سلم «4» فلأنّ السّلام لمّا کان يقتضي السّلم، وکان إبراهيم عليه السلام قد أوجس منهم خيفة، فلمّا رآهم مُسَلِّمِينَ تصوّر من تَسْلِيمِهِمْ أنهم قد بذلوا له سلما، فقال في جو ابهم : ( سلم) ، تنبيها أنّ ذلک من جهتي لکم كما حصل من جهتكم لي . وقوله تعالی: لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلاماً سَلاماً [ الواقعة/ 25- 26] ، فهذا لا يكون لهم بالقول فقط، بل ذلک بالقول والفعل جمیعا . وعلی ذلک قوله تعالی: فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 91] ، وقوله : وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] ، فهذا في الظاهر أن تُسَلِّمَ عليهم، وفي الحقیقة سؤال اللہ السَّلَامَةَ منهم، وقوله تعالی: سَلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ [ الصافات/ 79] ، سَلامٌ عَلى مُوسی وَهارُونَ [ الصافات/ 120] ، سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ [ الصافات/ 109] ، كلّ هذا تنبيه من اللہ تعالیٰ أنّه جعلهم بحیث يثنی __________ عليهم، ويدعی لهم . وقال تعالی: فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ [ النور/ 61] ، أي : ليسلّم بعضکم علی بعض . ( س ل م ) السلم والسلامۃ کے معنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک اور محفوظ رہنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] پاک دل ( لے کر آیا وہ بچ جائیگا یعنی وہ دل جو دغا اور کھوٹ سے پاک ہو تو یہ سلامت باطن کے متعلق ہے اور ظاہری عیوب سے سلامتی کے متعلق فرمایا : مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها[ البقرة/ 71] اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو ۔ پس سلم یسلم سلامۃ وسلاما کے معنی سلامت رہنے اور سلمۃ اللہ ( تفعیل ) کے معنی سلامت رکھنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] لیکن خدا نے ( تمہیں ) اس سے بچالیا ۔ ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ان میں سلامتی اور ( خاطر جمع ) سے داخل ہوجاؤ ۔ اسی طرح فرمایا :۔ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ ۔۔۔ اترآؤ ۔ اور حقیقی سلامتی تو جنت ہی میں حاصل ہوگی جہاں بقائ ہے ۔ فنا نہیں ، غنا ہے احتیاج نہیں ، عزت ہے ذلت نہیں ، صحت ہے بیماری نہیں چناچہ اہل جنت کے متعلق فرمایا :۔ لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ۔ وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ [يونس/ 25] اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے ۔ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَهُ سُبُلَ السَّلامِ [ المائدة/ 16] جس سے خدا اپنی رضامندی پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے ۔ ان تمام آیات میں سلام بمعنی سلامتی کے ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں السلام اسمائے حسنیٰ سے ہے اور یہی معنی آیت لَهُمْ دارُ السَّلامِ [ الأنعام/ 127] میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اور آیت :۔ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ [ الحشر/ 23] سلامتی امن دینے والا نگہبان ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصف کلام کے ساتھ موصوف ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جو عیوب و آفات اور مخلوق کو لاحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے ۔ اور آیت :۔ سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ [يس/ 58] پروردگار مہربان کی طرف سے سلام ( کہاجائیگا ) سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ [ الرعد/ 24] اور کہیں گے ) تم رحمت ہو ( یہ ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے ۔ سلام علی آل ياسین «2» کہ ایسا پر سلام اور اس مفہوم کی دیگر آیات میں سلام علیٰ آیا ہے تو ان لوگوں کی جانب سے تو سلامتی بذریعہ قول مراد ہے یعنی سلام علی ٰ الخ کے ساتھ دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلامتی بالفعل مراد ہے یعنی جنت عطافرمانا ۔ جہاں کہ حقیقی سلامتی حاصل ہوگی ۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اور آیت :۔ وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً [ الفرقان/ 63] اور جب جاہل لوگ ان سے ( جاہلانہ ) گفتگو کرتے ہیں ۔ تو سلام کہتے ہیں ۔ مٰیں قالوا سلاما کے معنی ہیں ہم تم سے سلامتی چاہتے ہیں ۔ تو اس صورت میں سلاما منصوب اور بعض نے قالوا سلاحا کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ اچھی بات کہتے ہیں تو اس صورت میں یہ مصدر مخذوف ( یعنی قولا ) کی صٖت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقالُوا سَلاماً قالَ سَلامٌ [ الذاریات/ 25] جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا ۔ انہوں نے بھی ( جواب میں ) سلام کہا ۔ میں دوسری سلام پر رفع اس لئے ہے کہ یہ باب دعا سے ہے اور صیغہ دعا میں رفع زیادہ بلیغ ہے گویا اس میں حضرت ابراہیم نے اس اد ب کو ملحوظ رکھا ہے جس کا کہ آیت : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها [ النساء/ 86] اور جب تم کوئی دعا دے تو ( جواب میں ) تم اس سے بہتر ( کا مے) سے ( اسے ) دعا دو ۔ میں ھکم دیا گیا ہے اور ایک قرآت میں سلم ہے تو یہ اس بنا پر ہے کہ سلام سلم ( صلح) کو چاہتا تھا اور حضرت ابراہیم السلام ان سے خوف محسوس کرچکے تھے جب انہیں سلام کہتے ہوئے ۔ ستاتو اس کو پیغام صلح پر محمول کیا اور جواب میں سلام کہہ کر اس بات پر متنبہ کی کہ جیسے تم نے پیغام صلح قبول ہو ۔ اور آیت کریمہ : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلاماً سَلاماً [ الواقعة/ 25- 26] وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے ار نہ گالی گلوچ ہاں ان کا کلام سلام سلام ( ہوگا ) کے معنی یہ ہیں کہ یہ بات صرف بذیعہ قول نہیں ہوگی ۔ بلکہ اور فعلا دونوں طرح ہوگئی ۔ اسی طرح آیت :: فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 91] تو ( کہا جائیگا کہ ) تم پر پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام میں بھی سلام دونوں معنی پر محمول ہوسکتا ہے اور آیت : وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] اور سلام کہدو ۔ میں بظارہر تو سلام کہنے کا حکم ہے لیکن فی الحققیت ان کے شر سے سللامتی کی دعا کرنے کا حکم ہے اور آیات سلام جیسے سلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ [ الصافات/ 79]( یعنی ) تمام جہان میں نوح (علیہ السلام) پر سلام کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ۔ ۔ سَلامٌ عَلى مُوسی وَهارُونَ [ الصافات/ 120] ابراہیم پر سلام ۔ سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ [ الصافات/ 109] میں اس بات پر تنبیہ ہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء ابراہیم کو اس قدر بلند مرتبہ عطا کیا تھا کہ لوگ ہمیشہ ان کی تعریف کرتے اور ان کے لئے سلامتی کے ساتھ دعا کرتے رہیں گے اور فرمایا : فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ [ النور/ 61] اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے ( گھر والوں ) کو سلام کیا کرو ۔ یعنی تم ایک دوسرے کو سلام کہاکرو ۔ لبث لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ، ( ل ب ث ) لبث بالمکان کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔ عِجْلُ ( بچهڑا) : ولد البقرة لتصوّر عَجَلَتِهَا التي تعدم منه إذا صار ثورا . قال : عِجْلًا جَسَداً [ الأعراف/ 148] ، وبقرةٌ مُعْجِلٌ: لها عِجْلٌ. العجلۃ بچھڑے کو کہتے ہیں کیونکہ اس میں پھرتی پائی جاتی ہے جو بیل کی عمر تک پہنچنے پر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ عِجْلًا جَسَداً [ الأعراف/ 148] ایک بچھڑا ( بنالیا وہ ایک جسم تھا : ۔ اور وہ گائے جس کے ساتھ اس کا بچھڑ ہوا سے معجل کہا جاتا ہے ۔ حنذ قال تعالی: جاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ [هود/ 69] ، أي : مشويّ بين حجرین، وإنّما يفعل ذلک لتتصبّب عنه اللّزوجة التي فيه، وهو من قولهم : حَنَذْتُ الفرس : استحضرته شوطا أو شوطین، ثم ظاهرت عليه الجلال ليعرق وهو محنوذ وحَنِيذ، وقد حَنَذَتْنَا الشّمسُ ولمّا کان ذلک خروج ماء قلیل قيل : إذا سَقَيْتَ الخَمْرَ فَأَحْنِذْ أي : قلّل الماء فيها، کالماء الذي يخرج من العرق والحنیذ . ( ح ن ذ) الحنیذ ( بھونا ہوا ) قرآن میں ہے :۔ جاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ [هود/ 69] کہ ایک بھونا ہوا بچھڑا لے آئے ۔ یعنی وہ بچھڑا جو دو گرم پھتروں کے درمیان رکھ کر کباب کیا گیا تھا اور یہ اس لئے کرتے تھے تاکہ اس سے لزوجت بہ کر نکل جائے ۔ یہ حنذت الفرس سے ماخوذ ہے جس کے معنی پسینہ لانے کے لئے گھوڑے کو ایک دو چکر دوڑا کر اس پر جھول ڈال دینے کے ہیں ۔ ایسے گھوڑے کو محنوذ اور حنیذ کہا جاتا ہے ۔ حنذتنا الشمس ہمیں سور ج نے جھلس دیا ۔ اور پسینہ سے چونکہ معمولی سا پانی نکلتا ہے ۔ اس لئے جب کوئی شراب پلائے تو اس سے کہا جاتا ہے احنذ یعنی اس میں تھوڑا سا پانی ملا لو یعنی پسینہ کی مقدار میں یا اس رطوبت کی طرح جو حنیذ یعنی کباب کئے ہوئے گوشت سے نکلتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے قالوا سلاما ً قال سلام کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پہلے سلام کے معنی سلمت سلاما ً میں نے سلام کیا کے ہیں اسی بنا پر یہ منصوب ہے اور دوسرا سلام اس کا جواب ہے یعنی علیکم سلام اسی بنا پر یہ مرفوع ہے ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے تا ہم اعراب کے لحاظ میں ان سے اس واسطے فرق رکھا گیا تا کہ کسی گمان کرنے والے کو حکایت اور نقل کا گمان نہ پیدا ہوجائے اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ لفظ سلام اہل اسلام کی تحیت یعنی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا ذریعہ تھا نیز یہی لفظ فرشتوں کے سلام کا بھی ذریعہ تھا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٩) جبریل امین (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ بارہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اور اس کے بیٹے حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، کی بشارت لے کر آئے اور آتے ہی انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا، ابراہیم (علیہ السلام) نے انکو سلام کیا اور اگر بغیر الف کے سلم پڑھا جائے تو مقصود سلامتی اور عافیت ہوئی، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فورا ایک پکا ہوا فربہ بچھڑا لائے اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اب ان آیات میں حضرت ابراہیم کا ذکر آ رہا ہے ‘ مگر آپ کا ذکر انباء الرسل کے طور پر نہیں بلکہ بالکل مختلف انداز میں ہے۔ یہاں رسولوں کے ذکر میں ایک خوبصورت تقسیم کو مد نظر رکھیں کہ اس سورت میں پہلے تین رسول جن کا زمانہ حضرت ابراہیم سے پہلے کا ہے (حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح) ان کا ذکر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم کا ذکر مختصراً قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے اور آپ کے ذکر کے بعد پھر تین رسولوں کا تذکرہ ہے جو آپ ہی کی نسل میں سے تھے ‘ بلکہ ان میں سے حضرت لوط تو آپ کے بھتیجے اور ہم عصر بھی تھے۔ یہاں پر حضرت لوط کا ذکر انباء الرسل کے انداز میں آیا ہے اور اسی کے ذیل میں حضرت ابراہیم کا ذکر ہے۔ جب حضرت لوط کی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو عذاب کے فرشتے براہ راست حضرت لوط کے پاس جانے کے بجائے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس گئے اور وہاں نہ صرف قوم لوط ( علیہ السلام) پر عذاب کے بارے میں ان کا حضرت ابراہیم کے ساتھ مکالمہ ہوا بلکہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری بھی دی ۔ یاد رہے کہ سورة الاعراف میں بھی جب ان چھ رسولوں کا تذکرہ انباء الرسل کے انداز میں ہوا تو وہاں بھی حضرت ابراہیم کا ذکر نہیں کیا گیا اور جب سورة الانعام (جو سورة الاعراف کی جڑواں سورت ہے) میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ آیا تو انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح کہیں بھی نہیں آیا کہ آپ کو اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہو آپ نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی ہو ‘ قوم اس دعوت سے منکر ہوئی ہو اور پھر اس پر عذاب بھیج دیا گیا ہو۔ (قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ ) مہمانوں کی آمد کے فوراً بعد حضرت ابراہیم نے ان کی ضیافت کے لیے ایک بچھڑا ذبح کیا اور اسے بھون کر ان کے سامنے پیش کردیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

75. This shows that the angels visited Prophet Abraham (peace be on him) in human form and that initially they did not disclose their identity. Prophet Abraham (peace be on him), therefore, thought that they were strangers, and immediately arranged a good meal for them.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :75 اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں انسانی صورت میں پہنچے تھے اور ابتداء انہوں نے اپنا تعارف نہیں کرایا تھا ۔ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خیال کیا کہ یہ کوئی اجنبی مہمان ہیں اور ان کے آتے ہی فورا ان کی ضیافت کا انتظام فرمایا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

39: اللہ تعالیٰ نے یہ فرشتے دو کاموں کے لئے بھیجے تھے، ایک یہ کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ خوشخبری دیں کہ ان کے یہاں ایک بیٹا ہوگا، یعنی حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوں گے اور ان کا دوسرا کام یہ تھا کہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کریں، چنانچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دینے کے بعد وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی طرف جانے والے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٩۔ ٧٣۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تمہید کے طور پر لوط (علیہ السلام) کے قصے سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بھائی تھے جن کا نام ہاران تھا انہیں کے بیٹے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہی سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔ نوح (علیہ السلام) سے دو ہزار چھ سو بیالیس برس کے بعد یہ بھیجے گئے تھے ان کی عمر ایک سو پچھتر برس کی ہوئی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو اسی برس کی ہوئی اور ابراہیم کے پوتے یعقوب بن اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو پنتالیس سال کی ہوئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین ایک ملک ہے وہاں رہتے تھے اور لوط (علیہ السلام) ملک شام کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ فرشتوں کو خدا نے حکم دیا کہ لوط کی قوم پر عذاب لے کر جاؤ صحیح قول کے مطابق تین فرشتے تھے۔ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل۔ یہ تنیوں خوبصورت لڑکوں کی صورت بن کر پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشی سنانے کو آئے اور آتے ہی سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کا جواب دیا مگر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہیں۔ مہمان سمجھا اور اپنی عادت کے موافق کہ جب کوئی مہمان آجاتا تو خاطر تواضع کرتے تھے ان کے کھانے پینے کا بھی انتظار کرنے لگے اور ایک جوان گائے ذبح کر کے اس کے کباب لگائے۔ حنیذ کے معنے مفسروں نے یہ لکھے ہیں کہ گرم پتھر پر گوشت کے کباب لگانا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے آگے کھانا رکھا تو ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھے کیونکہ فرشتوں کی غذا خدا کی تسبیح ہے دنیا کی کھانے پینے سے ان کو کچھ رغبت نہیں اور نہ دنیا کا کھانا پینا ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے جب ان مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) دل میں بہت ڈرے کہ یہ کیسے مہمان ہیں جو کھانا نہیں کھاتے اور ان کی قوم میں یہ دستور بھی تھا کہ جب کوئی مہمان آئے اور کھانا نہ کھائے تو ڈرتے تھے کہ خدا خیر کرے یہ کسی برے ارادے سے آیا ہے کیوں کہ اس زمانہ کے لوگ جس کا نمک کھالیتے تھے اس کے ساتھ پھر کچھ دغا نہیں کرتے تھے اور جس کے ساتھ دغا کا ارادہ ہوتا تھا اس کا نمک نہیں کھاتے تھے اس لئے اس کے گھر کے کھانے سے بچتے تھے۔ غرض جب ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں خوف ہوا تو قیاس یا خدا کے حکم سے ان فرشتوں نے سمجھ لیا اور کہا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) تم ڈرو نہیں ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک کنیز تھیں ہاجرہ نام جن سے اسمعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے اور ان کی بیوی جن کا نام سارہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا ہارون کی بیٹی تھیں ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی یہ پردے کی آڑ میں کھڑی تھی کہ مہمانوں کی تواضع جو مجھ سے متعلق ہوگی وہ میں بھی کروں گی جب انہوں نے یہ سنا کہ یہ فرشتے ہیں اور لوط کی قوم پر عذاب لے کر چلے ہیں تو ہنسیں۔ اب مفسروں نے کئی سبب ان کی ہنسی کے بیان کئے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ اس بات پر ہنسی تھیں کہ جس قوم پر یہ عذاب لے کر جارہے ہیں انہیں اب تک اس کی خبر بھی نہیں ہے کسی نے کہا ہے کہ ان کے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو پر ہنس پڑیں کسی نے کہا ہے کہ اپنے شوہر کے خوف پر ہنسی تھیں کہ یہ مہمان تو صرف تین ہی شخص ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تو بہت سے آدمی ہیں کوئی کہتا ہے کہ بڑھاپے میں اولاد کی بشارت سن کر تعجب سے ہنس دیں۔ غرض کہ ان کو بشارت دی گئی کہ تمہارے بطن سے حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوں گے اور ان کے بعد یعقوب (علیہ السلام) تمہارے پوتے پیدا ہوں گے یہ سن کر ان کو بہت تعجب ہوا اور کہا یہ تو بڑی خرابی کی بات ہے۔ میں بوڑھی ہوگئی میری عمر قریب نوے بانوے برس کی ہوگئی اور میرے شوہر بالکل بو ڑھے سو برس کی عمر کے ہیں اس عمر میں لڑکا ہونا بہت ہی اچنبے کی بات ہے ان فرشتوں نے جواب دیا کیا تم خدا کی باتوں سے تعجب کرتی ہو خدا کے کارخانہ میں سب کچھ ہے اس کی قدرت تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تو کوئی تعجب کی بات نہیں ١ ؎ اے گھر والو خدا کی رحمت تم پر ہے اور برکت بھی ہے کہ اسحاق کے بعد تم اپنے پوتے اسحاق کے بیٹے کو بھی دیکھو گے وہ خدا بڑا تعریف اور بزرگی کے قابل ہے تفسیر ابن منذر وغیرہ میں عمرو بن دینار (رض) اور عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جب فرشتوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کیا بات ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھانا بلا قیمت نہیں کھاتے ہیں جس کا جواب ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ اس کھانے کی یہی قیمت ہے اور ان کے پوچھنے پر بتلایا کہ اس کی قیمت یہ ہے کہ کھانے سے پہلے بسم اللہ کی جائے اور کھانے کے بعد خدا کا شکر اس جواب کو سن کر جبرئیل نے میکائیل (علیہ السلام) کی طرف دیکھ کر کہا کیوں نہ ہو ایسے شخص کو خدا کا خلیل بنایا جائے۔ بالکل برحق ٢ ؎ ہے۔ یہ روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں بھی تفسیر سدی کے حوالہ سے ہے۔ ان اسمعیل بن عبد الرحمن سدی کو امام احمد نے ثقہ کہا ہے۔ ان اسمعیل سدی کی تفسیر اسباط بن نصر ہمدانی نے جمع کی ہے اور ان کو ابن معین نے ثقہ کہا ہے غرض یہ روایت معتبر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابی شریح خزاعی سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر ایماندار شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے اور یہ بھی فرمایا کہ دعوت کی حد تین دن تک ہے جن میں ایک رات دن کے کھانے میں زیادہ خاطر داری کی جاوے ان ابی شریح کا مشہور نام خویلد بن عمرو ہے۔ مدنی صحابی ہیں۔ ٦٨ میں انہوں نے وفات پائی اوپر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی کا جو تذکرہ تھا یہ حدیث انس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرع محمدی میں اس مسئلہ کو ایمان کی نشانی قرار دیا۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٥٢ ج ٢۔ ٢ ؎ تفسیر الدرالمنثور ص۔ ٣٤ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:69) ابراہیم۔ ای الی ابراہیم۔ منصوب بوجہ غیر منصرف ہونے کے (عجمہ اور معرفہ ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے) ۔ بشری۔ خوشخبری۔ ایسی خبر جس کو سن کر بشرہ (چہرہ) پر مست اور خوشی کے آثار نمایاں ہوجائیں ۔ قالوا سلما۔ سلاما کے نصب کی حسب ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) یہ بطور مصدر استعمال ہوا ہے اور اس کا فعل محذوف ہے ای نسلم علیک سلاما ہم تجھ کو سلام کہتے ہیں۔ (2) سلاما۔ قالوا کا مفعول ہے انہوں نے سلام کہا۔ قال سلام۔ سلام مبتدا ہے اس کی خبر محذوف ۔ تقدیر یہ ہے۔ سلام علیکم۔ لبث۔ ماضی واحد مذکر غائب (سمع) وہ رہا۔ وہ ٹھہرا رہا۔ قرآن مجید میں ہے قال کم لبثتم (23:113) خدا تعالیٰ پوچھے گا۔ تم کتنے برس رہے۔ ما لبث ان جائ۔ لفظی ترجمہ ہوگا وہ نہ ٹھہرا کہ آگیا۔ یعنی جلدی ہی آگیا۔ حینذ۔ بریاں۔ تلا ہوا۔ بھونا ہوا۔ حنذ سے بروزن فعیل بمعنی مفعول صفت مشبہ ہے۔ جیسے حمید بمعنی محمود ہے۔ عجل۔ بچھڑا۔ گائے کا بچہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ ان فرشتوں کی آمد کا مقصد حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنا تھا۔ راستے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی بستی سے گزرے جس سے مقصد خوشخبری سنانا تھا اور وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے حسب عادت مہمان نوازی کرنا چاہی۔ یہاں ” بشری “ خوشخبری سے مراد حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کی بیوی سارہ کو بیٹے کی خوشخبیر ہے۔ (شوکانی وغیرہ) ۔ 2 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں انسانی شکل میں پہنچے تھے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے خیال کیا کہ پردیسی مہمان ہیں اس لئے انہوں نے مہمانی کا اہتمام کیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٦٩ تا ٨٣ اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر قوم میں ملاقات کے وقت چند خوشگوار کلمات کاتبادلہ تو ہوتا ہے جیسے اسلام نے ہر دور میں سلامتی کی دعا اور جواب دعا کے طور پر مقرر کیا ہے ۔ ایسے ہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طفیل بھی عطا ہوا ہے کہ السلام علیکم اور جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہاجائے یہ نہ صرف دعا ہے بلکہ ملنے والے ایک دوسرے کو اپنے سے سلامتی کی ضمانت بھی دیتے ہیں کہ مجھ سے تمہیں نقصان کا اندیشہ نہ ہونا چاہیئے اور دوسرے آداب مہمان داری میں ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق مہمان کی تواضع کرنا سنت انبیاء ہے بغیر کسی تکلیف میں پڑے جو کچھ ممکن ہو اچھی طرح سے حاضر کردے ۔ اطلاع من الغیب اور عقدہ بھی کھلا کہ انبیاء اپنے علم کی وسعت کے باوجود ہر آن اللہ کے دربار میں ہی امیدوار کرم رہتے ہیں اور وہی جانتے ہیں جو وہ بتاتا ہے کہ فرشتے تھے انھوں نے کھانا تو نہ کھانا تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہچان نہ سکے اور انسان سمجھ کر تو اضع کی لیکن جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ گھبراگئے کہ عرب اور فلسطین کا دستور تھا کہ دشمن کا کھانا نہ کھاتے تھے آپ نے سمجھا کہ شاید کوئی دشمن ہوں مگر فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور اللہ نے قوم لوط کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے تو ان کی بیوی ہنس دیں۔ غالیا اسی بات سے کہ کس قدر جلدی فرمائی بچھڑا ذبح کیا مجھ سے پکوایا اور اب پتہ چلا کہ یہ تو فرشتے ہیں انھیں کھانے پینے سے غرض نہیں ۔ تو انھوں نے اس نیک بخت خاتون کو اسحاق (علیہ السلام) اور پھر ان کی اولا دمیں یعقوب (علیہ السلام) کے ہونے کی خوشخبری دی ، یعنی علوم غیبیہ بر اللہ کی طرف سے مطلع فرمادیا تو وہ بہت حیران ہوئیں کہ عمر رسیدہ تھیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی بوڑھے ہوچکے تھے تو فرمانے لگیں اب میری اولاد ہوگی ؟ اس عمر میں جس میں تو عادتا بھی خواتین اولاد کے قابل نہیں رہتیں اور پھر یہ میرے شوہر یہ بھی تو بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب ہم لوگ اولاد کے قابل کہاں یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے تو فرشتوں نے عرض کیا اللہ کے کاموں میں کیا تعجب ؟ وہ تو اسباب کا محتاج نہیں بلکہ خود اسباب بھی اس کی ذات کے محتاج ہیں اور پھر آپ کی عمر تو خاندان نبوت میں بسرہوئی کس قدرعجائبات آپ نے زندگی بھردیکھے اور کتنے انقلاب آپ کی نگاہوں کے سامنے گزرگئے کہ اسباب خلاف تھے مگر نتیجہ حق میں نکلا۔ آگ گلزار بن گئی حکمرانوں کو منہ کھاناپڑی اور بےگھر ہوکرنکلے تو گھر نصیب ہوگیا بلکہ ساری انسانیت کے لئے اللہ کا گھر بنائیں گے لہٰذا آپ کو حیرت کرنے کی ضرورت نہیں کہ اللہ جو چاہے اور جب چاہے اپنی رحمت کے اظہار کا سبب بنادے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ تو جب ابرا ہیم (علیہ السلام) سے یہ خطرہ دور ہوا کہ دشمن نہیں بلکہ اللہ کے فرشتے ہیں اور بڑھا پے میں اولاد اور اپنے بچوں کے نبی ہونے کی خبرسنی تو بہت مسرور ہوئے مگر آپ بہت ہی حلیم الطبع اور نرم دل تھے اب قوم لوط کی سفارش فرمانے لگے کہ اگر ہوسکے تو یہ تباہی سے بچ جائیں اور اس پر اس قدر اصرار فرمایا کہ اللہ کریم فرماتے ہیں یجادلنا فی قوم لوط کہ ابراہیم تو لوط کے حق میں ہم سے جھگڑنے لگے ۔ سبحان اللہ ! کس طرح اپنے بندوں کے نازاٹھاتا ہے بات ہی میں کس قدرلطف ہے۔ فرمایا اے میرے خلیل ! اے ابراہیم ! اب یہ بات بعد ازوقت ہے ۔ اب ان کے تائب ہونے کی امید نہ رکھیں کہ ان کی بدکاری کے باعث ان پر اللہ کا فیصلہ نافذ ہوچکا اور اب ان پر ایسا عذاب آئے گا جسے کوئی لوٹا نہیں سکتا تباہی ان کا مقدربن چکی ہے ۔ قوم لوط ہی وہ پہلی قوم تھی نے ہم جنسی کی عادت بدجاری کی اور اس فعل شنیع کا نام ہی لواطت پڑگیا ، اس میں اس قدر بےحیا ہوچکے تھے کہ بستی میں آنے والے مسافر بھی ان کی آوارگی سے محفوظ نہ رہتے ۔ اللہ کریم نے فرشتوں کو خوبصورت نوعمر لڑکوں کی شکل میں وہاں بھیجا جب وہ لوط (علیہ السلام) کے گھر گئے تو انھوں نے بھی مہمان ہی سمجھا اور بہت گھبرائے کہ یہ لوگ تو انھیں معاف نہ کریں گے اور یہ بہت بری بات ہے کہ مہان میرے گھر آئے اور اس کی یوں توہین ہو۔ ساتھ مصیبت یہ تھی کہ ان کی بیوی بھی غیرمسلموں سے رابطہ رکھتی تھی اور آپ کی نبوت پر ایمان نہ لائی تھی ۔ چناچہ اس نے لوگوں کو خبر کردی کہ آج ہمارے ہاں بہت خوبصورت لڑکے مہمان ہیں تو لوگ چڑھ دوڑے کہ وہ تو اس بےحیائی کے عادی ہوچکے تھے اور یہ ان کے قومی کردار کا حصہ بن چکی تھی اور جو بھی بدعادت پوری قوم کا وطیرہ بن جائے پھر اس پر لوگ جھجک محسوس نہیں کرتے ۔ چناچہ وہ آکر آپ سے مطالبہ کرنے لگے کہ یہ لڑکے ہمارے سپردکریں ۔ خواتین بھی تماشادکھنے جمع ہوگئیں تو آپ نے فرمایا کہ قوم کی یہ لڑکیاں جو میری بیٹیاں ہیں اور تمہاری منکوحہ جب اللہ نے تم پر انھیں حلال کردیا اور تمہارے لئے ان کو جائز قرار دیا تو پھر ایسا کیوں کرتے ہو ؟ کچھ خوف خدا کرو اور مجھے میرے مہمانوں کے سامنے شرمندہ نہ کرد اور میری توہین کرکے یرے مہمانوں کو پریشان کرکے مجھے دکھ نہ دو ۔ وہ کہنے لگے ہمیں تو عورت میں کوئی دلچپسی ہی نہیں اور آپ کو بھی اس کا بخوبی علم ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں تو آپ ہمارا رارستہ نہ روکیں ورنہ ہم زبردستی کریں گے۔ انھیں بہت دکھ پہنچا فرمانے لگے کاش میں تمہارے ساتھ لڑسکتا کاش ! آج میرے ساتھ بھی میری قوم یا متبعین کی جماعت ہوتی تو میں ظلم کو روکنے اور مٹانے کے لئے میدان میں تمہیں جواب دیتا تو آپ کا یہ اضطراب دیکھ کر فرشتوں نے عرض کیا اللہ اپنے بندوں کو رسوا نہیں ہونے دیتا ہم ہی آپ کی جماعت ہیں اور آپ بےفکر ہوکردرمیان سے ہٹ جائیں اب یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑسکیں گے بلکہ تیاری کریں اور اپنے سارے متبعین کو لے کر رات کو آبادی سے نکل جائیں سوائے آپ کی اہلیہ کے جو بیوی ہونے کے باوجود ایمان نہیں رکھتی لہٰذاجو قوم جیسا عقیدہ رکھتی ہے انہی کے ساتھ نتائج بھی بھگتے گی اور ذرارات ڈھلتی دیکھیں کہ ان پر صبح کیسے اور کس حال میں طلوع ہوتی ہے کیا صبح قریب نہیں ؟ یعنی رات بھر آخرکتنا وقت ہوتا ہے اور صبح تو ہونے والی ہے۔ چنانچہ ان پر عذاب وارد ہوا اور اوپر کی طرف کو پلٹ کرنیچے کردیا گیا یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کی بستیاں جو چار بڑے بڑے شہروں پہ مشتمل تھیں زمین سمیت اکھیڑلیں اٹھا کر آسمان کے قریب لے گئے اور وہاں سے الٹ دیا اور ان پر خاص قسم کے پتھر برسائے گئے جس نے ساری زمین سمیت ہر شے کو کچل دیا ایسے پتھر جو انہی کے نام پر نشان کردہ تھے جن کے خطاجانے کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ قانون الٰہی ہے کہ کفار اور ظالموں سے عذاب الٰہی کبھی دور نہیں ہوتا ۔ جیسا کسی کا عمل ہوتا ہے ویسی ہی اس پر عذاب کی صورت مرتب ہوجاتی ہے لہٰذا اب بھی کفر اور ظلم اختیار کرنے والوں کو خود کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھنا چاہیئے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ) یجادلنا (وہ ہم سے جھگڑنے لگا ) حلیم (بہت برداشت کرنے والا) اواہ (نرم دل) منبی (بہت رجوع کرنے والا) اعرض (در گذر کرو، جانے دو ) غیر مردود (ہٹنے والا نہیں ہے) تشریح : آیت نمبر 69 تا 76 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح، حضرت ھود اور حضرت صالح اور ان کی قوموں کے واقعات کو بیان فرمان کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے دو واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرمایا ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق جے سو فرزند کی خوشخبری اور حضرت لوط کی قوم کی نافرمانی کے سبب قوم لوط پر عذاب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے جو آپ کے ساتھ عراق سے ہجرت کر کے تشریف لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کو نبی بنا کر بھیجا جو شام و فلسطین کے علاقے میں بسنے والی قوم کی اصلاح فرماتے رہے۔ موجودہ دور میں اسرائیل اور اردن کے درمیان بحرمیت (DEAD SEA) کے نام سے ایک سمندر ہے جس کے لئے یہ مشہور ہے کہ اس سمندر میں گہرائی کے باوجود کوئی چیز ڈوبتی نہیں اور نہ اس میں کسی طرح کے جان دار زندہ رہ سکتے ہیں کسی وقت یہ سمندر نہیں بلکہ انسانوں کی جیتی جاگتی بستیاں تھیں جو کو سدوم اور عامورہ کی بستیاں کہا جاتا تھا۔ جب قوم لوط کی مسلسل نافرمانیوں اور غیر فطری اعمال کی وجہ سے اس قوم پر عذاب نازل کیا گیا تب یہ بستیاں زلزلوں کے جھٹکوں کی وجہ سے تباہ و برباد کردی گئیں۔ نہ صرف یہ بستیاں الٹ دی گئیں بلکہ سطح سمندر سے چار سو میٹر نیچے چلی گئیں۔ یہ سمندر جو کہ وادی غوار میں واقع ہے جس کو بحرمیت کہا جاتا ہے آج بھی ساری دنیا کے لئے نشان عبرت ہے۔ قوم لوط میں بدترین بےحیائیوں اور بےشرمیوں کا اس طرح رواج ہوگیا تھا کہ پوری قوم کے نزدیک ” عمل لواطت “ ایک فیشن بن گیا تھا وہ عورتوں کے بجائے لڑکوں اور مردوں سے اختلاط رکھتے تھے۔ حضرت لوط نے اپنی قوم کو اس برے اور بدترین عمل سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن یہ قوم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی اور آخر کار اس قوم پر وہ عذاب نازل ہوا جو اس سے پہلے کسی قوم پر نازل نہ ہوا تھا۔ ان پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور ان کی بستیوں کو اس طرح الٹ دیا گیا کہ آج ان کے شہر اور ان کی بستیاں سمندر کے نیچے چلی گئیں اور غرق کردی گئیں۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو تباہ و برباد کرنا چاہا تو چند فرشتوں کو لڑکوں کی شکل میں بھیجا ۔ یہ وہ فرشتے تھے جو سب سے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی پیداش کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس پہنچے تو آپ ان کو اجنبی مہمان سمجھ کر فوراً گھر کی طرف تشرفی لے گئے ایک بچھڑا تھا اس کو ذبح کر کے اور اس کو بھون کر مہمانوں کے پاس لے آئے اور فرمایا کہ یہ کھانا کھا لیجیے۔ جب حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ وہ اجنبی مہمان کھانے کی طرف اپنا ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں تب ان کو اندیشہ ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ کیونکہ اس زمانہ میں رواج یہ تھا کہ جب کوئی کسی کا دشمن ہونا تھا تو وہ اس کے گھر کھانا نہیں کھاتا تھا۔ حضرت ابراہیم اس سوچ میں تھے کہ اس دوران اجنبی مہمانوں نے حضرت ابراہیم کو بتایا کہ وہ کھانا اس لئے نہیں کھا رہے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے ہیں جو آپ کو حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) کی خوش خبری دینے اور قوم لوط کو برباد کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ بیٹے کی خوش خبری سن کر حضرت ابراہیم اور آپ کی بیوی حضرت سارہ حیران رہ گئے۔ حضرت سارہ اس تصور سے ہنس پڑیں کہ حضرت ابراہیم تو بوڑھے ہوچکے ہیں اور میں بانجھ ہوں جس کے ہاں اولاد ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ فرشتوں نے کہا کہ اے اہل بیت رسول کیا تمہیں اللہ کی رحمت واقع ہونے میں تعجب ہو رہا ہے حالانکہ اس کی قدرت سے تو کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے ادھر حضرت ابراہیم اس تصور سے افسردہ ہوگئے کہ قوم لوط نے توبہ نہیں کی اور بالآخر ان کا بھیانک انجام سامنے آگیا ہے۔ حضرت ابراہیم جو نہایت حلیم الطیع اور نرم مزاج تھے اللہ کے سامنے فریاد کرنے لگے تاکہ قوم لوط پر عذاب کا جو فیصلہ کرلیا ہے وہ ٹل جائے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمایا گیا کہ اب اس قوم پر عذاب کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کو ٹلایا نہیں جاسکتا اور یہ عذاب آ کر رہے گا۔ اس موقع پر قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والوں کے ذہن میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ جب اللہ کے فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس آئے کیا ان کو اس بات کا علم تھا کہ یہ فرشتے ہیں ؟ اگر علم تھا تو بھنا وہا بچھڑا کیوں لے کر آئے اسی طرح جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے پاس پہنچے ہیں کیا ان کو اس بات کا علم تھا کہ یہ فرشتے ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کو جتنا علم عطا فرماتے ہیں ان کو اتنا ہی علم حاصل ہوتا ہے۔ اللہ ہی کی ذات ہے جو عالم الغیب وا لشھادہ ہے جو موجود اور غیب کا جاننے والا ہے اللہ کے سوا کسی کو عالم الغیب کہنا قرآن تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود کی تباہی کے بعد قوم لوط کا واقعہ مگر اس کے بیان کرنے سے پہلے ضمناً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک واقعہ کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے۔ قوم لوط کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے فرشتے بھیجے گئے۔ مگر پہلے ان کو حکم دیا گیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں۔ انہیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائیں۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے سلام عرض کیا۔ جواباً سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بھی ملائکہ کو سلام کہتے ہیں۔ خیرو عافیت پوچھنے کے بعد کوئی تاخیر کیے بغیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا پیش کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا کہ مہمان کھانے کی طرف ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ دیکھ کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہوئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کیفیت بھانپ کر ملائکہ اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے تسلی دیتے ہیں کہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم اللہ کی طرف سے قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں اور اپنے بھیجے جانے کا مقصد بیان کیا کہ اس قوم کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ملائکہ سے خوفزدہ ہونے کے بارے میں اہل علم نے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ ١۔ اس زمانے میں چوروں اور ڈاکوؤں میں بھی یہ اخلاق ہوا کرتا تھا کہ جس گھر میں نقب لگانا ہوتی۔ اس کا پانی تک نہیں پیا کرتے تھے تاکہ نمک حرامی نہ ہوجائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ یہ مہمان کی بجائے ڈاکو ہیں۔ ٢۔ مہمانوں کی شکل میں ملائکہ کچھ دیر کے بعد قوم لوط کو تباہ کرنے والے تھے۔ اس لیے ان کے چہروں پر تلخی نمایاں تھی اور انہوں نے اب تک اپنا تعارف بھی نہیں کروایا تھا۔ جس وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے خوفزدہ ہوئے۔ یہ مفسر کا اپنا استنباط ہے۔ جس کے ساتھ اتفاق کرنا اس لیے مشکل ہے کہ یہ فرشتے نہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان بن کر آئے بلکہ وہ انہیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری بھی سناتے ہیں۔ اس لیے ان کے چہروں پر تلخی کے آثار نمایاں ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ ٣۔ ایک مفسّر کا استدلال ہے کیونکہ ملائکہ نے ابھی تک انہیں خوشخبری نہیں سنائی تھی اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خوفزدہ ہوئے کہ تین ملائکہ کا جڑ کر آنا کسی خطرے کے سوا نہیں ہوسکتا۔ یہ استدلال اس لیے بےجوڑ نظر آتا ہے کہ قرآن مجید نے فرشتوں کا اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خوفزدہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اسی بناء پر فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو اپنا تعارف کرواتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ہمارے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے آپ کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مہمانوں کے کھانانہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) شاید اس لیے خوفزدہ ہوئے تھے ممکن ہے کہ ہماری مہمان نوازی میں کوئی فرق رہ گیا ہو۔ کیونکہ کھانا چننے کے بعد اگر مہمان کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو میزبان کو خواہ مخواہ تشویش لاحق ہوجاتی ہے۔ یہی حالت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہوگی جس کے پیش نظر ملائکہ نے انہیں اپنا تعارف کرواتے ہوئے تسلی دی کہ کسی قسم کے فکر اور ہم سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ نوری مخلوق ہونے کی وجہ سے ہم کھانے پینے سے بےنیاز ہیں۔ اس واقعہ سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ کے پیغمبر بھی غیب نہیں جانتے۔ اگر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) غیب جانتے ہوتے کہ یہ ملائکہ ہیں اور ہمیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے ہیں تو انہیں ڈرنے کی بجائے خوش ہونا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود ایک مفسر نے اس بات کو یوں توڑ مروڑ کر بیان کیا ہے۔ بعض صاحبان اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس آیت سے حضرت ابراہیم کی بےعلمی پر استدلال کرنے لگتے ہیں کہ دیکھو انہیں پتہ نہ چلا کہ یہ فرشتے ہیں۔[ ضیاء القرآن : ج ٢، ص ٣٧٧] مہمان نوازی کی اہمیت : (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلَا یُؤْذِ جَارَہٗ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوِلْیَصْمُتْ وَفِیْ رِوَایَۃٍ بَدْلَ الْجَارِ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ ) [ رواہ البخاری : باب اکرام الضیف وخدمتہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف میں مبتلا نہ کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ایک روایت میں پڑ وسی کے بجائے یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے۔ “ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتے خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ ٢۔ سلام کا جواب سلام سے دینا چاہیے۔ ٣۔ مہمان نوازی کرنا انبیاء ( علیہ السلام) کی سنت ہے۔ ٤۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرشتوں کو نہ پہچان سکے۔ ٥۔ نوری مخلوق کھانے پینے اور انسانی حاجات سے پاک ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا : ١۔ حضرت ابراہیم کو فرشتوں کے متعلق علم نہ ہوسکا۔ (ھود : ٦٩) ٢۔ حضرت لوط فرشتوں کو نہ پہچان سکے۔ (ھود : ٧٧) ٣۔ نبی اکرم نے فرمایا اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : ١٨٨) ٤۔ حضرت نوح نے فرمایا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ (ھود : ٣١) ٥۔ جنات غیب نہیں جانتے۔ (سبا : ١٤) ٦۔ اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ (الانعام : ٥٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٠٢ ایک نظر میں اب حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور کے بعد ، دوسرے ادوار میں کاروان تاریخ اسلامی میں داخل ہوتا ہے ، اب منصہ تاریخ پر کچھ اور بابرکت اقوام آتی ہیں اور کچھ اور ایسی اقوام آتی ہیں جنہیں عاد وثمود کی طرح ہلاک کیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کے ایک پہلو کو یہاں لیا جاتا ہے۔ آپ کے قصے میں خیر و برکت کا جو پہلو ہے اس پر ایک نظر ڈال کر ہمیں تاریخ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بڑھ جاتی ہے جو مستحق عذاب ٹھہری اور جسے سخت عذاب دیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصص میں اللہ کا وہ وعدہ حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے جو اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کیا تھا۔ کہا گیا تھا۔ قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ (١١ : ٤٨) “ کہا گیا اے نوح ، ہماری جانب سے سلامتی کے ساتھ اتر جا اور برکتوں کے ساتھ تم پر اور ان اقوام پر جو تمہارے ساتھ ہیں۔ اور ان اقوام پر جن کو ہم عنقریب متاع دیں گے اور اس کے بعد ان کو ہماری جانب سے عذاب الیم پکڑلے گا ”۔ برکات کے مستحق تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد ہوئی اور آپ کی اولاد حضرت اسحٰق اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے انبیاء آئے اور حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے آخر میں آئے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بعض مستحق عذاب بھی ہوئے۔ درس نمبر ١٠٢ تشریح آیات ٦٩۔۔۔۔ تا ----٨٣

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ فلسطین میں آباد ہوگئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے بھتیجے تھے وہ بھی ساتھ آگئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی تھی نیز حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے نوازا تھا۔ شام ہی کے علاقہ میں حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم آباد ہوئی تھی جہاں آج کل بحرمیت ہے ان کی قوم نے بڑی سرکشی کی اور بیہودگی اور بد فعلی اور بدکاری کو اپنا مقصد زندگی بنا رکھا تھا جب ان کی قوم پر عذاب بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا تو فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے جو انسانی صورتوں میں تھے انھوں نے آکر سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا اور جلدی سے اندر تشریف لے گئے اور بھنا ہوا بچھڑے کا گوشت ان کے لیے مہمانی کے طور پر لے آئے۔ یہ بچھڑا فربہ اور موٹا تازہ تھا جیسا کہ سورة الذریات میں فرمایا ہے (بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ ) حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے مہمانی کی (اول الناس ضیف الضیف کما فی المشکوٰۃ ص ٣٨٥) آنے والے مہمان فرشتے تھے وہ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ گوشت سامنے رکھا ہوا ہے لیکن ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ ماجرا دیکھا تو خوف زدہ ہوگئے کہ یہ کون ہیں عجیب سے لوگ معلوم ہوتے ہیں کھانا سامنے رکھا ہے کھاتے نہیں ہیں ‘ نہ صرف دل سے خوف زدہ ہوئے بلکہ زبان سے بھی کہہ دیا اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ (کہ ہمیں تم سے ڈر لگ رہا ہے) فرشتوں نے کہا کہ ڈرو نہیں ہم تمہیں ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو صاحب علم ہوگا ‘ بیٹا ہونے کی بشارت دی اور اس کے ساتھ ہی پوتا ہونے کی بھی بشارت دے دی یہ بیٹا اسحاق اور پوتا یعقوب ( علیہ السلام) تھے بیٹے کی بشارت سنی تو کہنے لگے۔ (اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰی اَنْ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ ) (کیا تم مجھے اس حالت میں بشارت دے رہے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا آچکا ہے سو کس چیز کی بشارت دے رہے ہو) (قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بالْحَقِّ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْقَانِطِیْنَ ) (انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بشارت دی ہے سو تم ناامید ہوجانے والوں میں سے مت بنو) نیز ان فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں (تاکہ ان پر عذاب لے کر آئیں) وہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اہلیہ بھی کھڑی تھیں انہیں ہنسی آگئی ‘ ہنسی کس بات پر آئی اس کے بارے میں صاحب معالم التنزیل نے کئی قول نقل کئے ہیں اس میں سے ایک قول یہ ہے کہ چونکہ فرشتوں نے یوں بھی کہہ دیا تھا کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) کی طرف بھیجے گئے ہیں اس لئے مومنہ خاتون کو ان کی غفلت پر ہنسی آگئی کہ دیکھو وہ لوگ کیسے غافل ہیں عذاب قریب آچکا اور وہ اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں ‘ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کو بھی بشارت دی اور کہا کہ تم سے لڑکا پیدا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا اور پھر اس لڑکے کا لڑکا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا وہ کہنے لگیں ہائے خاک پڑے (عورتیں تعجب کے وقت یہ لفظ بولا کرتی ہیں) کیا میں اب جنوں گی جب بڑھیا ہوچکی ہوں اور نہ صرف یہ کہ میں بڑھیا ہوں میرے یہ شوہر جو بیٹھے ہیں یہ بھی بوڑھے ہیں ‘ بوڑھے مرد بوڑھی عورت سے اولاد پیدا ہو یہ تو عجیب بات ہے ‘ فرشتوں نے اللہ کی رحمت اور اس کی برکتوں کی دعا دی اور کہا کہ (رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرََکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ) (کہ اے ابراہیم کے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں) (اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمام تعریفوں کا مستحق ہے اور بزرگ ہے) ۔ اس کے بعد اسی بیوی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) رکھا گیا اور بعد میں اس صاحبزادہ کا لڑکا پیدا ہوا ‘ جس کا نام یعقوب ( علیہ السلام) رکھا گیا۔ اس بیوی کا نام سارہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کی لڑکی تھی اور ہجرت کر کے ہمراہ آئی تھی۔ دوسری بیوی کا نام ہاجرہ تھا اس سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ ہاجرہ اور اسماعیل ( علیہ السلام) وہی دونوں ماں بیٹے ہیں جنہیں ابراہیم (علیہ السلام) مکہ معظمہ کے چٹیل میدان میں چھوڑ گئے تھے جس کا واقعہ سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ (انوار البیان جلد اول) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خوف جاتا رہا تو اب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ شانہ سے یہ دعا مانگنے لگے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے کیونکہ ان کے اندر لوط (علیہ السلام) موجود ہیں ‘ اس کو یُجَادِلُنَا سے تعبیر فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ جدال فرشتوں سے تھا کیونکہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے تھے اس لئے یوں فرمایا کہ وہ ہم سے جدال کرنے لگے ‘ سورة عنکبوت میں ہے کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں تو اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (اِنَّ فِیْھَا لُوْطًا) (اس بستی میں لوط موجود ہیں) اس پر فرشتوں نے جواب دیا (نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْھَا) ہمیں ان سب کا خوب علم ہے جو اس بستی میں ہیں۔ (لَنُنَجِّیَنَّہٗ وَاَھْلَہٗ اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ) (ہم لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دے دیں گے بجز اس کی بیوی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خواہش تھی کہ عذاب نہ آئے انہوں نے عذاب رکوانے کے لیے وہاں لوط (علیہ السلام) کے موجود ہونے کو رحم لانے کے لیے پیش کیا ان کے اسی جذبہ کو بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ لَحِلیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ) (کہ بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) برد بار رحم دل تھے اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے) اللہ کی طرف سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور اسی لئے فرشتے آئے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ اس بات کو جانے دو تمہارے رب کا فیصلہ ہوچکا ہے ان پر عذاب ضرور آئے گا جو ہٹنے اور واپس ہونے والا نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

62:۔ یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتے بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے وہ چونکہ انسانی شکلوں میں تھے اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انہیں نہ پہچان سکے اور یہی سمجھا کہ ان کے پاس کوئی آدم زاد مہمان آگئے ہیں اس لیے فورًا تشریف لے گئے اور بچھڑے کا گوشت تل بھون کرلے آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت خلیل اللہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ بآن شان خلت غیب داں نہ تھے اگر غیب داں ہوتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ یہ فرشتے ہیں اور فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ نَکِرَھُمْ یعنی ان کو نہ پہچانا اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرشتوں کو نہ پہچان سکنے کی صراحت ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ فرشتے بھی عالم الغیب نہیں ورنہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا تیار کرانے سے روک دیتے۔ فرشتوں کو بھی علم نہ ہوسکا کہ وہ گھر کس لیے جا رہے ہیں۔ قال الطیبی لو عرفھم بانھم ملائکۃ لم یحضر بین ایھدیم الطعام (روح ج 12 ص 96) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

69 اور بیشک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے خوشخبری لیکر آئے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کو سلام کیا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بغیر کسی تاخیر کے ایک تلا ہوا بچھڑا لے آئے خوشخبری لائے حضرت اسحق (علیہ السلام) کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے مہمان ہیں حالانکہ وہ فرشتے تھے انسانی شکل میں آئے تھے جیسا کہ آگے معلوم ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وے کئی فرشتے تھے قوم لوط پر جاتے تھے ہلاک لیکر اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور بشارت دی بیٹے کی ان کی بی بی سے بیٹا نہ تھا اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہچانا کہ فرشتے ہیں کھانا لے آئے 12 بچھڑا تلا ہوا تھا یا دستور کے موافق گرم پتھر پر اس کا گوشت بھونا گیا تھا۔