Surat Hood

Surah: 11

Verse: 87

سورة هود

قَالُوۡا یٰشُعَیۡبُ اَصَلٰوتُکَ تَاۡمُرُکَ اَنۡ نَّتۡرُکَ مَا یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِیۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ اِنَّکَ لَاَنۡتَ الۡحَلِیۡمُ الرَّشِیۡدُ ﴿۸۷﴾

They said, "O Shu'ayb, does your prayer command you that we should leave what our fathers worship or not do with our wealth what we please? Indeed, you are the forbearing, the discerning!"

انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلاۃ تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں تو تو بڑا ہی با وقار اور نیک چلن آدمی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Response of Shu`ayb's People Allah tells; قَالُواْ يَا شُعَيْبُ ... They said: "O Shu`ayb! They said to Shu`ayb, in mockery, ... أَصَلَتُكَ ... Does your Salah, Al-A`mash said, "This means your reading." ... تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ابَاوُنَا ... command you that we give up what our fathers used to worship, meaning the idols and statues. ... أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَ وُ ا ... or that we give up doing what we like with our property, This means, "Should we abandon our practice of lightening the scales because of your statement This is our wealth and we will do with it as we please." Al-Hasan said concerning Allah's statement, أَصَلَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ابَاوُنَا (Does your Salah command you that we give up what our fathers used to worship) "By Allah, this means that his prayer commanded them to abandon what their fathers used to worship." At-Thawri said concerning Allah's statement, أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَ وُ ا (or that we give up doing what we like with our property), "They were speaking in reference to the paying of Zakah (charity)." ... إِنَّكَ لاََنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ Verily, you are the forbearer right-minded! Ibn Abbas, Maymun bin Mihran, Ibn Jurayj, Ibn Aslam, and Ibn Jarir all said, "These enemies of Allah were only saying this in mockery. May Allah disfigure them and curse them from ever receiving His mercy. And verily, He did so."

پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار حضرت اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے ۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے حکم دیا کہ ہم باپ دادوں کی روش کو چھوڑ کر اپنے پرانے معبودوں کی عبادت سے دست بردار ہو جائیں ۔ یہ اور بھی لطف ہے کہ ہم اپنے مال کے بھی مالک نہ رہیں کہ جس طرح جو چاہیں اس میں تصرف کریں کسی کو ناپ تول میں کم نہ دیں ۔ حضرت حسن فرماتے ہیں واللہ واقعہ یہی ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی نماز کا حکم یہی تھا کہ آپ انہیں غیر اللہ کی عبادت اور مخلوق کے حقوق کے غصب سے روکیں ۔ ثوری فرماتے ہیں کہ ان کے اس قول کا مطلب کہ جو ہم چاہیں ، اپنے مالوں میں کریں یہ ہے کہ زکوٰۃ کیوں دیں؟ نبی اللہ کو ان کا حلیم و رشید کہنا ازراہ مذاق و حقارت تھا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

87۔ 1 صَلَوٰۃً سے مراد عبادت دین یا تلاوت ہے۔ 87۔ 2 اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک زکوٰۃ و صدقات ہیں، جس کا حکم ہر آسمانی مذہب میں دیا گیا ہے اللہ کے حکم سے زکوٰ ۃ و صدقات کا اخراج، اللہ کے نافرمانوں پر نہایت شاق گزرتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم اپنی محنت و لیاقت سے مال کماتے ہیں تو اس کے خرچ کرنے یا نہ کرنے میں ہم پر پابندی کیوں ہو۔ اور اس کا کچھ حصہ ایک مخصوص مد کے لیے نکالنے پر ہمیں مجبور کیوں کیا جائے ؟ اسی طریقے سے کمائی اور تجارت میں حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی پابندی بھی ایسے لوگوں پر نہایت گراں گزرتی ہے، ممکن ہے ناپ تول میں کمی سے روکنے کو بھی انہوں نے اپنے مالی تصرفات میں دخل درمعقولات سمجھا ہو۔ اور ان الفاظ میں اس سے انکار کیا ہو۔ دونوں ہی مفہوم اس کے صحیح ہیں۔ 87۔ 3 حضرت شعیب (علیہ السلام) کے لئے یہ الفاظ انہوں نے بطور استہزا کہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] ٹھیک طرح سے نماز ادا کرنے کے اثرات :۔ نماز اگر فی الواقع سوچ سمجھ کر اور خشوع و خضوع سے ادا کی جائے تو فی الواقع وہی باتیں سکھلاتی ہے جن کی قوم شعیب کو سمجھ آگئی تھی۔ مگر افسوس ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان باتوں کی بھی سمجھ نہیں آتی جو مدین والے سمجھ گئے تھے نماز انسان میں تقویٰ پیدا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو ہر طرح کی اعتقادی، اخلاقی اور معاشرتی برائیوں سے بچاتا ہے۔ غور فرمائیے کہ جو انسان ایک دن میں بیسیوں دفعہ سوچ سمجھ کر ( اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۝ۭ ) 1 ۔ الفاتحة :5) پڑھے گا وہ مشرک رہ سکتا ہے جو انسان دن میں بیسیوں دفعہ اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے وہ کیا اپنے کام کاج اور کاروبار کے وقت اللہ کو یاد نہ رکھے گا اور بددیانتیاں ترک نہ کردے گا اور حرام و حلال کی تمیز اسے ملحوظ نہ رہے گی ؟ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا : (اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ 45؀) 29 ۔ العنکبوت :45) اور فحشاء اور منکر کے الفاظ کے مفہوم میں اتنی وسعت ہے کہ ہر طرح کی برائیاں ان میں آجاتی ہیں بالفاظ دیگر نماز کی صحت کا معیار ہی یہ ہے کہ انسان میں تقویٰ پیدا ہو وہ ہر طرح کی برائیاں چھوڑ دے اور نیکی کے کاموں کی طرف راغب ہو اور کسی شخص میں نماز ایسا اثر پیدا نہیں کرتی تو سمجھ لیجئے کہ وہ نماز ادا نہیں کرتا بلکہ بےگار کاٹتا ہے۔ [ ٩٨] کیا نماز اور عبادت اللہ اور بندے کا پرائیویٹ معاملہ ہے ؟ ان لوگوں کا اپنے مال میں تصرف کا مطلب یہ تھا کہ ہم جن جائز اور ناجائز ذرائع سے مال کمائیں یا جن کاموں میں ہم چاہیں خرچ کریں ہم پر کچھ پابندی نہ ہونا چاہیے اگر تم نمازیں پڑھتے ہو تو پڑھو مگر ہمیں کیوں اس سلسلہ میں تنگ کرتے ہو کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھلاتی ہے کہ اسے دوسروں پر بھی لاگو کرو۔ تم تو اچھے بھلے سمجھ دار آدمی ہو یہ دوسروں کے معاملات میں دخل دینا بھلا کون سی عقل مندی ہے گویا عبادات کے متعلق ان لوگوں کا نظریہ وہی تھا جو آج کل کی اس دنیا کا ہے جسے مہذب سمجھا جاتا ہے یعنی عبادت بندے اور خدا کا ذاتی اور پرائیویٹ معاملہ ہے اور اسے دنیوی معاملات میں اثر انداز نہ ہونا چاہیے گویا وہی پرانی جاہلیت پھر سے نئی روشنی کی صورت میں عود کر آئی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ ۔۔ : یعنی کیا تو اپنی نماز کا دائرۂ عمل اس قدر وسیع سمجھتا ہے کہ دوسروں کے مذہبی اور مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگا ہے۔ ہماری مرضی ہے جس کی چاہیں پوجا اور جس کی چاہیں بندگی کریں اور یہ مال جو ہمارے اپنے ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں، جائز و ناجائز جیسے چاہیں کمائیں، کوئی ہمیں کیوں ٹوکے ! یہ وہی سیکولر سوچ ہے جو آج کل بھی چل رہی ہے کہ نماز اور دین ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ مملکت اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے ہم پابند نہیں۔ بیشک دین سود سے روکتا ہے مگر ساری دنیا کی معیشت اس پر چل رہی ہے، دین کا اس میں کیا دخل ؟ پھر کوئی شرک کرے، کفر کرے یا موحد ہو، اللہ تعالیٰ کو مانے یا نہ مانے، کسی کو اس سے کیا غرض۔ بس مملکت کے جو قانون خود لوگوں نے اکثریت سے بنائے ہیں، ان کی پابندی لازم ہے، باقی کسی پر کوئی پابندی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی بغاوت ہے کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا نہ ہوتی کہ یا اللہ ! میری امت (دعوت و اجابت) کو عام عذاب سے ہلاک نہ کرنا تو کب کا عذاب آچکا ہوتا۔ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ : اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تم تو خاندان میں بڑے بردبار اور نہایت سمجھ دار سمجھے جاتے ہو، تمہیں کیا ہوگیا کہ ایسی اکھڑی اکھڑی باتیں کرنے لگے ہو۔ دوسرا یہ کہ دراصل وہ انھیں ٹھٹھے اور مذاق سے یہ کہہ رہے تھے، مقصد ان کا انھیں نہایت بےحوصلہ اور نادان کہنا تھا۔ صاحب کشاف نے اس کی مثال دی کہ جیسے کوئی شخص کسی سخت بخیل آدمی کو کہے کہ تمہاری سخاوت کا کیا کہنا، اگر تمہیں حاتم طائی دیکھے تو وہ بھی تمہارے آگے سر جھکا دے۔ ایک معنی یہ ہے کہ بس تو ہی ایک عقل مند اور نیک چلن رہ گیا ہے ؟ باقی ہم اور ہمارے باپ دادا جاہل اور احمق ہی رہے ؟ یہ بھی استہزا اور تمسخر کی ایک صورت تھی۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکوں کے کام آپ نہ کرسکیں تو انھی کو لگیں چڑانے، یہی خصلت ہے کفر کی۔ “ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It means if they were not to listen to him, let them remember that he was not responsible for the eventuality that they may be seized by some punishment. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said about Sayyidna Shu&aib that he was an orator among prophets. His eloquence was exceptional. He went to its farthest limits in order to make his people understand his message and take to the right path. But, even after having listened to him, the response of his people was different from that given by ig¬norant diehards to their reformers. They threw taunts at him, made fun of him, and said: أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُ‌كَ أَن نَّتْرُ‌كَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ الْحَلِيمُ الرَّ‌شِيدُ 0 Shu&aib, does your salah (prayer) command you that we should give up what our fathers used to worship or that we give up doing with our wealth whatever we wish? You are pro¬venly the man of wisdom and guidance - 87. The salah (prayer) of Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) was well known among his people as he was constantly devoted to it. Therefore, they referred to it tauntingly in the sense that (God forbid) his salah taught him to say all those &wild& things. From what they said we learn that they too thought that religion is restricted to acts of worship, and that it had nothing to do with material dealings. Let everyone earn and spend one&s wealth at will. Placing any restriction on that is no job of religion - as many people, even in this time of ours, generally believe, in total ignorance of the real fact.

(آیت) اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤ ُ ا ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ ، یعنی کیا تمہاری نماز تمہیں یہ بتلاتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے آبا و اجداد کرتے چلے آئے ہیں، اور یہ کہ ہم اپنے مملوک اموال میں خود مختار نہ رہیں کہ جس طرح ہمارا جی چاہے معاملہ کریں بلکہ اپنے معاملات بھی آپ سے پوچھ پوچھ کر کیا کریں کہ کیا حلال ہے کہ حرام ؟ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نماز پوری قوم میں معروف تھی کہ بکثرت نوافل و عبادت میں لگے رہتے تھے اس لئے ان کے ارشادات کو بطور استہزاء کے نماز کی طرف منسوب کیا کہ تمہاری یہ نماز ہی تمہیں ( معاذ اللہ) ایسی غلط باتیں بتاتی ہے، ان کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ بھی یوں سمجھتے تھے کہ دین و شریعت کا کام صرف عبادات تک محدود ہے معاملات میں اس کا کیا دخل ہے، ہر شخص اپنے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے، اس پر کوئی پابندی لگانا دین کا کام نہیں جیسے اس زمانہ میں بھی بہت سے بےسمجھ لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں۔ قوم نے خالص ہمدردی، دلسوزی اور نصیحت کا جواب اس قدر تلخ دیا مگر حضرت شعیب (علیہ السلام) شان پیغمبری رکھتے ہیں، یہ سب کچھ سننے کے بعد بھی اسی ہمدردی کے ساتھ مخاطب ہو کر مزید فہمائش کے لئے فرمانے لگے :۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا۝ ٠ ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ۝ ٨٧ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم ، ولیس الحلم في الحقیقة هو العقل، لکن فسّروه بذلک لکونه من مسبّبات العقل وقد حَلُمَ وحَلَّمَهُ العقل وتَحَلَّمَ ، وأَحْلَمَتِ المرأة : ولدت أولادا حلماء قال اللہ تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] ، ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ کیا عقلیں ان کو ۔۔۔ سکھاتی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ احلام سے عقیں مراد ہیں اصل میں ھلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے حلم بردبار ہونا ۔ عقل نے اسے برد بار رہنا دیا ۔ عورت کا حلیم بچے جننا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے ۔ رشد الرَّشَدُ والرُّشْدُ : خلاف الغيّ ، يستعمل استعمال الهداية، يقال : رَشَدَ يَرْشُدُ ، ورَشِدَ «5» يَرْشَدُ قال : لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [ البقرة/ 186] ( ر ش د ) الرشد والرشد یہ غیٌ کی ضد ہے اور ہدایت کے معنی استعمال ہوتا ہے اور یہ باب نصرعلم دونوں سے آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [ البقرة/ 186] تاکہ وہ سیدھے رستے پر لگ جائیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے انہیں نماز کی حالت میں یہ بات بتائی ہو جسے سن کر انہوں نے کہا ہو کہ کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے ۔ حسن سے مروی ہے کہ آیا تیرا دین تجھے اس کا حکم دیتا ہے ؟ یعنی کیا ان باتوں کا حکم تیرے دین کے اندر ہے ؟

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٧) ان کی قوم کہنے لگی اے شعیب (علیہ السلام) کیا تمہاری نمازوں کی کثرت تمہیں اس بات کی تعلیم دے رہی ہے کہ ہم ان بتوں کی پوجا چھوڑ دیں یا ہم ناپ تول میں کمی کرنے کو چھوڑ دیں اور بطور مذاق بولے آپ واقعی ہیں بڑے عقل مند دین پر چلنے والے یعنی نعوذ باللہ بیوقوف بےراہ ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٧ (قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ) اگرچہ حضرت شعیب کی گفتگو میں ان کے شرک کا تذکرہ نہیں ہے ‘ مگر ان کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ بنیادی طور پر اس مرض شرک میں بھی مبتلا تھے جو تمام گمراہ قوموں کا مشترک مرض رہا ہے۔ (اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا) یعنی ہماری ملکیت میں جو سامان اور مال ہے کیا ہم اس کے استعمال میں بھی اپنی مرضی نہیں کرسکتے ؟ یہ وہی تصور ہے جو آج کے جدید زمانے میں sacred right of ownership کے خوبصورت الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ اسلام میں ملکیت کا ایسا تصور نہیں ہے۔ اسلام کی رو سے ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور دنیا کا یہ مال اور ساز و سامان انسانوں کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘ جس میں اللہ کی مرضی کے خلاف تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لہٰذا اسلام ملکیت کے کسی ” مقدس حق “ کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ : ایں امانت چند روزہ نزد ماست درحقیقت مالک ہر شے خدا ست یعنی یہ مال و دولت ہمارے پاس چند دن کی امانت ہے ‘ ورنہ حقیقت میں ہر شے کا مالک حقیقی تو اللہ ہی ہے۔ بہر حال جب انسان خود کو مالک سمجھتا ہے تو پھر وہ وہی کچھ کہتا ہے جو حضرت شعیب کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارا مال ہے ہم جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں ! (اِنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ ) قوم کا حضرت شعیب کو حلیم اور رشید کہنا کسی تعظیم اور تکریم کے لیے نہیں تھا بلکہ طعن اور استہزا کے طور پر تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

96. This, in fact, is a taunting remark. Remarks which are expressive of the same spirit are heard today among every group of people who are heedless of God and who are engrossed in sin and evil. Prayer is obviously the first and the most obvious symbol of man's religious orientation. That orientation is not simply considered a dangerous disease, but the most dangerous one by irreligious people. Hence, Prayer is looked upon by these people as a manifestation of mental derailment rather than what it actually is - an act of worship. Irreligious people are also aware that those who become religiously committed are not content merely with self-reform. Such people are wont to go a step further and strive to reform others. Not only that, but it even becomes difficult for such people to refrain from criticizing attitudes opposed to religion and morality. Hence, irreligious people feel jittery because they fear that Prayer is not simply performed as a religious ritual but that it is the precursor of endless sermonizing on religion and morality. In addition, it may even lead to scathing criticisms of every aspect of social life. It is for this reason that Prayer is often singled out for every kind of taunt and reproach. Moreover, if those who observe Prayer criticize the evils rampant in their society and urge people to act righteously, this inspires opponents of religion to direct every possible invective against Prayer and to lash out at it as the source of every conceivable evil. 97. This is a full-blooded expression of the world-view of Ignorance (Jahiliyah) as distinguished from that of Islam. The Islamic view is that all worship except the worship of God is erroneous. It is erroneous because worshipping any other than the One True God is supported by nothing - neither reason, knowledge, nor revelation. Moreover, God should not only be worshipped in the limited sphere of life called 'religion'. God's worship should extend to all aspects of life - social, cultural, economic and political. For all that man has in the world belongs only to God. Man, therefore, has no right to consider any aspect of his life to be independent of God's guidance. The contrary of this is Jahiliyah. According to this view, man ought to observe the customs and usages he inherits from his ancestors, and he ought to do so merely because they come down from the past. This world-view considers religion to be confined to the domain of ritual; the ritual of worship. As for the ordinary affairs of worldly life, man ought to act as he pleases. It is thus quite clear that there is nothing so 'modern' about the tendency of driving a wedge between the religious and secular spheres of life. For some three and a half thousand years ago the nation of Shu'ayb was as emphatically insistent on bifurcating life into two water-tight compartments - the secular and the religious - as Westerners and their Eastern disciples of our time are wont to do. There seems little justification, therefore, to characterize the attitude of the present-day secularists as something altogether novel, as an attitude that has emerged in modern times as a result of the cumulative intellectual progress of mankind. Far from it, the new-fangled ideology which is being played up everywhere for its freshness and newness is, in fact, the same stale, old-fashioned obscurantism which characterized Jahiliyah several thousand years ago. Likewise, the Islamic defiance of, and opposition to, Jahiliyah is also a perennial reality of human history.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :96 یہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر دراصل بات ان لوگوں کو سنانی مقسصود ہے جو آپ کی دعوت میں شک کر رہے تھے ۔ اور اہل کتاب کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ عرب کے عوام تو آسمانی کتابوں کے علم سے بے بہرہ تھے ، ان کے لیے یہ آواز ایک نئی آواز تھی ، مگر اہل کتاب کے علماء میں جو لوگ متدین اور منصف مزاج تھے وہ اس امر کی تصدیق کر سکتے تھے کہ جس چیز کی دعوت قرآن دے رہا ہے یہ وہی چیز ہے جس کی دعوت تمام پچھلے انبیا دیتے رہے ہیں ۔ سورہ هُوْد حاشیہ نمبر :97 یعنی یہ قول کہ جو لوگ خود طالب حق نہیں ہوتے ، اور جو اپنے دلوں پر ضد ، تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائےرکھتے ہیں اور جو دنیا کے عشق میں مدہوش اور عاقبت سے بے فکر ہوتے ہیں انہیں ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

54: یہ در حقیقت وہ سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے کہ جو کچھ مال ہے، وہ ہماری مکمل ملکیت میں ہے، اس لئے ہمیں پورا پورا اختیار حاصل ہے کہ اس میں جو چاہیں، تصرف کریں، کسی کو اس میں رُکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اس کے برعکس قرآنِ کریم کا ارشاد یہ ہے کہ ہر مال پر اصل ملکیت اﷲ تعالیٰ کی ہے، البتہ اس نے اپنے فضل و کرم سے اِنسان کو عارضی ملکیت عطا فرمائی ہے۔( دیکھئے سورۂ یس آیت ۳۶:۷۱) لہٰذا اسی کو یہ حق ہے کہ وہ اس ملکیت پر کچھ پابندیاں عائد کرے۔ (دیکھئے سورۂ قصص آیت ۲۸:۷۷) اور جہاں مناسب سمجھے، وہاں خرچ کرنے کا حکم دے۔ (دیکھئے سورۂ نور آیت ۲۴:۳۳) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ پابندیاں اس لئے عائد کی جاتی ہیں، تاکہ ہر شخص اپنی دولت کا حصول اور خرچ ایسے صحت مند طریقے پر کرے کہ معاشرے میں ہر ایک کو یکساں مواقع حاصل ہوں، کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے، اور معاشرے میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہوسکے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ’’اسلام کا نظام تقسیمِ دولت‘‘ از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ 55: یہ جملہ انہوں نے طنز کے طور پر بولا تھا۔ البتہ بعض مفسرین نے اسے حقیقی معنوں میں قرار دے کر اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تم تو ہمارے درمیان ایک عقل مند اور نیک چلن آدمی کی حیثیت سے مشہور ہو۔ تم نے ایسی باتیں کیوں شروع کردی ہیں؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٧۔ خازن میں عبد اللہ بن عباس (رض) کا اور ابن عساکر میں اخنف میں قیس کا قول ہے کہ شعیب (علیہ السلام) پہلے رسولوں میں سے زیادہ نماز پڑہا کرتے ١ ؎ تھے۔ اسی واسطے ان کی قوم نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری نماز نے یہ باتیں سکھلائی ہیں جو تم ہم کو بتوں کی عبادت اور پورا ناپنے تولنے کی تاکید کرتے ہو۔ یہ اخنف بن قیس ثقہ تابعی ہیں اور سب حدیث کی کتابوں میں ان کی روایتیں ہیں بعضے سلف نے لکھا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے نماز کا طعنہ اس لئے دیا کہ نماز دین کے کل رکنوں سے زیادہ مرتبہ رکھتی ہے اس لئے نماز سے مقصود گویا دین ہے بہر حال شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو یہ جواب دیا کہ یہ سب تمہاری نماز کا اثر ہے جو تم ہم لوگوں کو ہر بات سے منع کرتے ہو ایسا کب ممکن ہے کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے اور اپنے مال کے بھی ہم مختار ہیں جس طرح چاہیں گے الٹ پھیر کریں گے تم کون منع کرنے والے پھر بطور طعن کے یہ بات کہی کہ تم بڑے بردبار اور نیک بخت ہو کہ ہماری عادتوں کو برا جانتے ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے اگرچہ شعیب (علیہ السلام) کو حلیم و رشید کہا مگر اس سے مراد ان کی یہ تھی کہ تم بڑے بیوقوف ہو کیوں کہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ کسی کو کہا جائے آپ بڑے عقل مند ہیں مگر اس سے یہ مراد لی جائے کہ آپ نرے بیوقوف ہیں بعض مفسروں نے یہ بھی کہا ہے کہ فی الحقیقت شعیب (علیہ السلام) ان لوگوں کے نزدیک بردبار اور نیک بخت تھے جب ہی ان لوگوں نے کہا مگر مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ تم اس صفت کے آدمی ہو کر باپ دادا کے قدیم دین و آئین سے ہم کو پھیرتے ہو۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی یہ حدیث جو اوپر گزری کہ جو لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں ٢ ؎ اس حدیث سے ان لوگوں کے اس سرکشی کے جواب کا سب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ ١ ؎ تفسیر خازن ص ٣٦٣ ج ٢ و تفسیر الدر المنثور ص ٣٤٦ ج ٣۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٧٣٨ ج ٢ تفسیر سورة واللیل اذا یغنشی

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:87) اصلوتک تامرک (مخول سے کہتے ہیں کیا) تمہاری نماز میں تمہیں یہی حکم دیتی ہے ۔ او ان نفعل فی اموالنا ما نشؤ۔ ای اوان نترک فعلنا فی اموالنا ما نشؤ۔ (کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑدیں۔ الکشاف ذیلی نوٹ نمبر 3) انک لانت الحلیم الرشید۔ الحلیم۔ بردباد ۔ تحمل والا۔ باوقار۔ الحلم سے جس کے معنی ہیں نفس و طبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑک نہ اٹھے۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع احلام ہے۔ آیت ام تأمرہم احلامہم (52:32) میں بعض کے نزدیک عقلیں مراد ہیں۔ اصل میں حلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے۔ آیت ہذا میں اکثر مفسرین نے حلیم کے معنی عقل مند دانا لیا ہے گو بعض نے اس کے اصلی معنوں میں لیا یعنی بردبار۔ تحمل والا۔ جو دوسروں کے گناہ اور غلطیوں کو تحمل کے ساتھ برداشت کرے۔ الرشید۔ نیک چال ۔ راست باز۔ شائستہ۔ رشد سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ الرشد والرشد۔ غی کی ضد ہے۔ اور ہدایت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے باب نصر۔ سمع۔ دونوں سے آتا ہے۔ اس جملہ کا لفظی ترجمہ یوں ہے۔ تحقیق تو بڑا عقلمند اور راستباز دیندار ہے۔ لیکن یہ الفاظ استہزاء کہے گئے ہیں مراد ان کی ان صفات کی ضد ہے یعنی تم تو بڑے احمق اور کج راہ ہو یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی کنجوس مکھی چوس کو کہیں کہ کیا کہنے تمہاری سخاوت کے اگر حاتم طائی بھی تمہیں دیکھ لے تو تمہارے آگے سجدہ میں گرپڑے۔ یا یہ کہ تم تو اچھے بھلے سمجھ دار اور دیندار آدمی ہو تم سے ایسی باتوں کی امید نہ تھی۔ کہ طعن و تشنیع کا نشانہ ہمیں ہی بنائو۔ یا یہ کہ تم تو بردباد حلیم الطبع اور راست رو آدمی ہو جو دوسروں کی غلطیاں دیکھ کر تحمل سے کام لیتا ہے لیکن تم ہو کہ ان صفات سے متصف ہوتے ہوئے بھی ہمیں نکتہ چینی کا ہدف بناتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ یعنی کیا تو اپنی نماز کا دائرہ عمل اس قدر وسیع سمجھتا ہے کہ دوسروں کے مذہبی و مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگا ہے۔ ہماری مرضی ہے جس کی چاہیں پوجا اور جس کی چاہیں بندگی کریں اور یہ مال جو ہمارے اپنے ہیں ان میں جس طرح چاہیں تصر فکریں۔ جائز ناجائز جیسے چاہیں کمائیں۔ کوئی ہمیں کیوں ٹوکے ؟ 6 ۔ پھر تو ایسی نادانی کی باتیں کرنے لگا ہے ؟ یا بس تو ہی ایک عقلمند اور نیک چلن آدمی رہ گیا ہے۔ باقی ہم اور ہمارے باپ دادا جائل اور احمق ہی رہے ! یہ بات انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) سے استہزا اور تمسخر کے انداز میں کہی۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکیوں کے کام آپ نہ کرسکیں تو انہیں کو لگیں چڑانے، یہی خصلت ہے کفر کی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی جن باتوں سے ہم کو منع کرتے ہو ان میں کوئی برائی نہیں حلیم ورشد تمسخر سے کہا جیسے بددینوں کی عادت ہوتی ہے دین داروں کے ساتھ۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم کا جواب۔ مشرکوں اور سچائی کے منکروں کا شروع سے یہ رویہ رہا ہے کہ وہ توحید کو قبول اور حق کو تسلیم کرنے کی بجائے عقیدہ توحید اور حق کے جواب میں نہ صرف انبیاء اور مصلحین پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے ہیں بلکہ وہ انبیاء اور مصلحین کے نیک کاموں کو طعنہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہ روّیہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی سبق سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ عبادت اور ان کے طرز زندگی کو چھوڑ دیں اور تیری وجہ سے ہم اپنا کاروبار اپنی مرضی اور طریقہ کے مطابق نہ کریں۔ یہ باتیں تجھے زیب نہیں دیتیں کیونکہ ہم تجھے بردبار اور نیک سمجھتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے قوم ! کیا آپ غور نہیں کرتے کہ میں جن کاموں سے تمہیں روکتا ہوں ان سے روکنے کا حکم اور دلائل میرے رب نے مجھے عطا فرمائے ہیں۔ کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں ان برائیوں سے منع کروں۔ پھر تم یہ بھی غور کرو کہ مجھے تمہارے کاروبار کے ساتھ کوئی حسد اور رشک نہیں۔ کیونکہ میرے رب نے مجھے فراوانی کے ساتھ رزق حلال دے رکھا ہے۔ میں تمہیں کسی کاروباری رقابت یا ذاتی مفاد کی خاطر ان کاموں سے نہیں روکتا۔ بلکہ میرا مقصد تو اپنی ہمت کے مطابق اور محض اللہ کی توفیق سے تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ اس کام کے ردّعمل پر میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا ہوں۔ قوم شعیب کا آپ کو نمازوں کا طعنہ دینا اور آپ کی تعریف کرنا اس لیے تھا کہ ایک شریف آدمی کو دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے اور اسے عبادات کو اپنی ذات کی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہی وہ غلط فہمی اور پراپیگنڈہ ہے جو جرائم پیشہ لوگ ابتدا ہی سے کرتے آرہے ہیں۔ کہ جب بھی انہیں سمجھایا جائے تو وہ سمجھانے والے کے اچھے کاموں کا اسے طعنہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دین کو کاروبار اور سیاست میں دخل انداز نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح تو دینوی اور سیاسی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ گویا کہ ان کے نزدیک دین ان کی ترقی میں حائل ہوتا ہے۔ جس بناء پر بالآخر حکمران سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جس کے پردے میں مادر پدر آزاد ہونے کے سوا کوئی بات نہیں ہوتی۔ رزقًا حسنًا : الحسنۃ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انتہائی خوبصورت ہو اور اس کی طرف انسان کا دل مائل ہوجائے یہ دنیا کی کوئی بھی نعمت ہوسکتی ہے اور یہ لفظ نیکی اور خیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ نیکی سے بڑھ کر نیک آدمی کو کوئی چیز مرغوب نہیں ہوتی۔ قوم کے طعنے کے جواب میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے جواب میں نہایت حکیمانہ طریقے سے چھ باتیں ارشاد فرمائیں جوہر مبلغ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ ١۔ میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں۔ ٢۔ میرے رب نے مجھے بہترین رزق عنایت فرمایا ہے۔ ٣۔ میں مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر تمہیں برائی سے منع نہیں کرتا۔ ٤۔ میرا مقصد اپنی ہمت کے مطابق تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ ٥۔ میں ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ٦۔ میں ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ مسائل ١۔ بدکار لوگ نیکو کاروں کو نیکیوں کا طعنہ دیتے ہیں۔ ٢۔ برے لوگ نیک لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو دلائل عطا فرماتا ہے۔ ٤۔ اللہ ہی رزق عطا فرمانے والا ہے۔ ٥۔ اپنی ہمت کے مطابق لوگوں کی اصلاح کرتے رہنا چاہیے۔ ٦۔ نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ ٧۔ انسان کو اللہ پر توکل اور اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے : ١۔ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ھود : ٨٨) ٢۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : ٣) ٣۔ مومن کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (آل عمران : ١٢٢) ٤۔ ایمان والے اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : ٣٦) ٥۔ آپ کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ (الاحزاب : ١٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ جواب نہایت ہی توہین آمیز اور خود سری پر مبنی ہے۔ ایک جاہل اور بگاڑ میں مبتلا اور مسخ شدہ فطرت پر مبنی جاہل شخص کا جواب ہے اور جواب دینے والا مخاطب کے ساتھ سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہے ، ذرا غور کیجئے۔ قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ (٨٧ : ١١) “ انہوں نے جواب دیا ، “ اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ ” وہ اس بات کو نہیں سمجھتے یا اس بات کو وہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ نماز اسلامی نظریہ حیات اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اللہ کی پرستش اور بندگی کا متعین طریقہ ہے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ کوئی عقیدہ و نظریہ ، عقیدہ توحید کے بغیر حق نہیں ہو سکتا اور کوئی نظام اس کے سوا درست نہیں ہو سکتا کہ آباؤ اجداد کے تمام غلط طریقوں کی کلی نفی کردی جائے۔ نیز اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسلامی شریعت قائم نہ کردی جائے اور اسلامی شریعت بھی زندگی کے تمام شعبوں میں نہ نافذ کردی جائے۔ تجارت اور مالی معاملات میں زندگی کے انفرادی معاملات میں اور زندگی کے اجتمائی معاملات میں۔ کیونکہ عقیدہ و عمل اسلامی نظامی میں ایک ہی مجموعہ ہیں۔ ان میں تفریق نہیں ہو سکتی اور نہ عمل کے بغیر محض خالی خولی نعرے کی اسلام میں کوئی اہمیت ہے۔ اس سے قبل کہ ہم دین و معاملات کے درمیان افتراق کے اس احمقانہ تصور کی تردید میں مزید بحث کریں۔ یہاں اس بات کو نوٹ کرنا ضروری ہے کہ آج کی جاہلیت کے عمل برادار اس سلسلے میں وہی کچھ سوچتے ہیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی سوچ تھی۔ اور دور جدید کی جاہلیت نے اس غلط سوچ کے لیے قوم شعیب (علیہ السلام) سے برھ کر آگے کوئی دلائل فراہم نہیں کیے۔ جس طرح اس معاملے میں قوم شعیب مشرک تھی ، جدید جاہلیت کے پیروکار بھی اس شرک میں مبتلا ہیں۔ چاہے وہ یہودی ہوں ، چاہے عیسائی ، چاہے وہ آج کے نام نہاد مسلمان ہوں کیونکہ یہ سب لوگ دور جدید میں امیان و عقیدے اور اعمال وشعائر کے درمیان افتراق کرتے ہیں ، شریعت اور عمل کو جدا کرتے ہیں ، یہ لوگ عقائد و عبادات کو اللہ کے لیے مخصوص کرتے ہیں اور معاملات اور دنیاوی امور اپنے دوسرے مبعودوں اور لیڈروں کے احکام کے مطابق سر انجام دیتے ہیں اور یہی ہے حقیقی اور اصلی شرک۔ ہاں ، اس بات کا اعتراف کرنا بےجا نہ ہوگا کہ جو لوگ یہودی عقائد کے پیروکار ہیں اور ان کے عقائد بار ہا کی تحر یفات کے عمل سے بھی گزرے ہیں ، لیکن اس کے باوجود ان کی اسمبلی میں جب یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ان کے بحری جہاز بعض مسافروں کو غیر شرعی حرام کھانا پیش کرتے ہیں تو ان کی اسمبلی نے ایسے جہازوں کو حکم دے دیا کہ جس قدر خسارہ بھی ہو ، ان کو چاہیے کہ ہر مسافر کو اسرائیلی شریعت کے مطابق صرف حلال کھانا پیش کیا جائے۔ اب ذرا ان لوگوں کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو دعوائے مسلمانی کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ آن ہم میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں ، جو مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ اخلاقی نیز معاشی اور معاملات کے میدان میں شریعت کی پابندی نہیں کرتے۔ اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کی ڈگریاں ہیں ، یہ لوگ نہایت ہی تعجب سے پوچھتے ہیں اسلام کو ہمارے ذاتی اور انفرادی معاملات سے کیا تعلق ہے۔ اسلام کو اس بات سے کیا تعلق ہے کہ کوئی ساحلوں پر ننگا پھرتا ہے یا باپردہ۔ اسلام کو اس سے کیا تعلق ہے کہ کوئی عورت گلیوں میں پھرتے ہوئے کیسا لباس زیب تن کرتی ہے۔ پھر اسلام کو اس سے کیا واسطہ کہ کوئی اپنی جنسی قوت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ پھر اگر کوئی اپنا مزاج درست کرنے کے لیے شراب پیتا ہے تو اسلام کو کیا تکلیف ہے ، پھر اس جدید دور کے تقاضے ہیں اور کچھ لوگ ان تقاضوں کو پورا کرتے ہیں تو اسلام کو کیا تکلیف ہے ؟ یہ سوالات اور قوم شعیب کے اس سوال میں فرق کیا ہے ؟ (اَصَلَوتٰک تَاْمُرُکَ ) “ کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے ان تمام معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پوجا ہمارے آباء کرتے چلے آئے ہیں۔ ” پھر وہ دوسرا سوال بڑی شدت اور استکار سے کرتے ہیں کہ اسلام کو اقتصادی تعلقات میں دخل دے یا ہمارے لیے اقتصادی اخلاقیات کا کوئی نظام وضع کرے۔ دین کا سودی لین دین کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین کو اس سے کیا لگی کہ اگر کوئی مہارت اور دھوکے سے لوگوں سے مال جمع کرتا ہے تو وہ ایسا نہ کرے بشرطیکہ یہ چالاکی و عیاری انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کے دائرے کے اندر ہو ، بلکہ یہ لوگ بڑھی ڈھٹائی سے یہاں تک کہتے ہیں کہ جب بزنس میں اخلاق دخل اندازی کرے تو بزنس تباہ ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ بعض مغربی مفکرین کے اخلاقی نظام اقتصاد کو بھی برا سمجھتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ ہمارے دور کے بعض مخلصین کا مغالطہ ہے۔ قدیم جاہلیت کے علم بردار اہل مدین کی مذمت میں ہمیں بہت آگے نہیں بڑھنا چاہیے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دور جدید کی جاہلیت اس کے مقابلے میں کہیں آگے بڑھ گئی ہے۔ اگر چہ جدید جاہلیت علم ، ترقی اور تہذیب کی مدعی ہے اور یہ جاہلیت ان لوگوں کو رجعت پسندی اور جہالت جمود اور تعصب کا الزام دیتی ہے جو لوگ یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایمان ، شخصی طرز عمل اور بازار کے مادی اور اقتصادی طرز عمل کو باہم مربوط کردیا جائے۔ کوئی شخص اس وقت تک صحیح موحد نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے شخصی معاملات کو اپنے اجتماعی معالمات کو اپنے عقیدے کے ساتھ منسلک نہ کرے ، کیونکہ اگر کوئی ایسا نہ کرے تو وہ مشرک ہے اور مشرک اور توحید ایک دل میں کسی طرح جمع ہو سکتے ہیں یاد رہے کہ شرک کی کئی قسمیں اور کئی رنگ ہیں ایک رنگ اس کا وہ ہے جو آج کل رائج ہے اور ہم اس کے اندر زندگی بسر کر رہے ہیں اور اصل اور حقیقی شرک کی طرح اس پر بھی تمام مشرکین کا اتفاق ہے ، جدید ہوں کہ قدیم۔ جس دور میں ہوں اور جس مقام پر ہوں۔ ذرا ملاحظہ کیجئے اہل مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ کیسا طنز کرتے ہیں اور یہی حرکت آج کے مدعیان توحید بھی کرتے ہیں۔ إِنَّكَ لأنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ (١١ : ٨٧) “ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راست باز آدمی رہ گیا ہے ؟ ان کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو فی الواقعہ راست باز سمجھتے تھے ، بلکہ وہ اس کے برعکس سمجھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک دانش مندی اور راست بازی یہ تھی کہ وہ ان بتوں کی پوجا کریں جن کی پوجا ان کے آباؤ اجداد کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کام بغیر سوچے سمجھے کیا جائے اور یہ کہ عبادت کے دائرے سے تجارت و معاملات کو آزاد رکھا جائے۔ اور یہی تنازعہ آج نام نہاد ترقی پسندوں اور دنام رجعت پسندوں کے درمیان اسی انداز سے چل رہا ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ایک ایسے داعی حق کی طرح جیسے اپنی سچائی پر پورا پورا یقین ہو ، ان کے ساتھ نہایت ہی نرمی سے ہم کلام ہوتے ہیں وہ ان کے اس مذاق کو سنجیدگی کے ساتھ نظر انداز کردیتے ہیں۔ اور ان کی جہالت اور ان کے قصور کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آپ ان کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف سے پوری شہادت رکھتے ہیں اور ان کو اپنے مشن کے بارے میں شرح صدر حاصل ہے اور یہ کہ ان کو وہ علم نبوت دیا گیا ہے جس سے یہ لوگ محروم ہیں ، نیز جب یہ اپنے معاملات کو اسلامی طریقہ کار کے مطابق استوار کریں گے تو ان کو جلد ہی اسلامی نظام معیشت کے فوائد کا علم ہوجائے گا۔ جیسا کہ خود حضرت شعیب (علیہ السلام) اس پر عمل پیرا ہیں اور صاحب مال و تجارت ہیں ، کیونکہ وہ اس دعوت پر ان سے کسی ذاتی مفاد کے طلب گار نہیں ہیں اور نہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو اچھے طرز عمل کی تلقین کر کے خود برے اعمال پر عمل پیرا ہوں اور بازار کو خالی پا کر خود مفاد سمیٹ لیں ان کی دعوت تو ان لوگوں کے لیے اور عوام الناس سب کے لیے عام ہے اور اس میں ان کے لیے کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔ یہ محض ایک وہم ہے کہ معیشت میں اسلامی ہدایات کے نفاد سے شاید ان کو نقصان ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76: مَایَعْبُدُ معبودانِ باطلہ اَنْ نَفْعَلَ فِیْ اَمْوَالِنَا یہ مَایَعْبُدُ پر معطوف ہے یا اس کا عطف اَنْ نَّتْرُکَ پر ہے اس صورت میں حرف نفی مقدر ہوگا۔ ای اَصَلٰوتُکَ تَامُرُکَ ان لا نفعل الخ اِنَّکَ لَانْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ بطور استہزاء کہا یا حقیقت میں بھی وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو حلیم ورشید و (بردبار یا دانا اور سوجھ بوجھ والا) سمجھتے تھے یعنی تو تو بڑا دانا اور سوجھ بوجھ ولاا ہے اور پھر ہمیں آبائی دین سے روکتا ہے اور اپنے اموال میں اپنی مرضی سے تصرف کرنے سے منع کرتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

87 یہ سن کر قوم کے لوگوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیرے نماز پڑھنے اور تیری عبادت نے تجھ کو یہی سکھایا ہے کہ جن کو ہمارے بڑے بوڑھے اور باپ دادا پوجا کرتے تھے اور جن چیزوں کی پرستش کیا کرتے تھے ان چیزوں کی پرستش ہم چھوڑ دیں اور ان معبودوں کی عبادت کو ترک کردیں یا تمہاری نماز نے تم کو یہ سکھایا ہے کہ ہم اپنے مال می اپنے حسب دل خواہ تصرف کرنا چھوڑ دیں اور جس طرح ہم چاہیں اپنے مال میں تصرف کرنے سے باز آجائیں۔ بے شک آپ ہی تو بڑے باوقار اور نیک چال والے تھے یعنی آپ کی عبادت نے آپ کو اچھا سبق پڑھایا ہے کہ جو بات قدیم سے ہوتی چلی آرہی ہے اس کو چھوڑ بیٹھیں اور جو ہمارا مال ہے اس میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں کیا خوب آپ ہی تو بڑے عقلمند اور دین دار واقع ہوئے ہیں۔