Surat Hood

Surah: 11

Verse: 90

سورة هود

وَ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ رَحِیۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴿۹۰﴾

And ask forgiveness of your Lord and then repent to Him. Indeed, my Lord is Merciful and Affectionate."

تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو ، یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَاسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ... And ask forgiveness of your Lord, from the previous sins. ... ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ ... and turn unto Him in repentance. In whatever evil actions you may encounter in the future. Concerning his statement, ... إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ Verily, my Lord is Most Merciful, Most Loving. to those who repent.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٢] تمہارے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ میری باتوں پر مشتعل ہونے اور چڑنے کے بجائے اللہ سے اپنے پہلے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ ایسے کام نہ کرنے کا اللہ سے عہد کرو۔ پھر صرف یہی نہیں کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا بلکہ تم سے خوش ہوگا اور تم سے محبت بھی کرنے لگے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ : یعنی میرا رب اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے، اسی لیے اس نے تمہیں پہلے خبردار کرنے کا انتظام فرمایا کہ تم آئندہ کے لیے باز آجاؤ اور پچھلے کی معافی مانگو اور اپنے اعمال کے انجام بد سے بچ جاؤ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْہِ۝ ٠ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ۝ ٩٠ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٠) لہذا اپنے رب سے توحید کے ذریعے اپنے گناہوں کو معاف کراؤ اور توبہ واخلاص کے ساتھ اسی کی طرف رجوع کرو اور میرا پروردگار اپنے مومن بندوں پر بڑا ہی رحم کرنے والا اور بذریعہ مغفرت وثواب کے ان پر بڑا ہی شفقت کرنے والا ہے یا یہ کہ بڑا ہی محبت والا ہے اور طاعت کو قبول کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٠ (وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ) اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اور اس کی طرف پلٹ آؤ۔ اس کی عبادت اور اطاعت شعاری اختیار کرو تو تم اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پاؤ گے۔ وہ انتہائی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے محبت رکھنے والا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

101. God is neither callous nor merciless. He has no enmity towards His own creatures. It cannot even be conceived that God would want to punish people just for the fun of it. It is only when people exceed all reasonable limits and exercise no restraint in their wickedness that God punishes them, and then only reluctantly. He is so prone to forgiveness that no matter how sinful a person may have become, God's mercy encompasses him if only he sincerely repents and turns to God. For God's love and compassion for His creatures is simply immense. The Prophet (peace be on him) fully illustrated this by two examples. One is that of a man who had a camel carrying his food and water provisions. The camel strays away in a dreary desert. The person continues to search for the camel until he retires under the shade of a tree in utter despair. Then, suddenly, he finds the camel standing right in front of him. When a sinner repents and turns to God, He is even more joyous than the owner of the camel who suddenly finds his lost beast in a moment of total despair. (See Muslin-, al-Tawbah, Bab fi al-Hadd 'ala al-Tawbah, traditions 1-8.) The second example is perhaps even more moving. 'Umar narrated that once a few prisoners of war were brought to the Prophet (peace be on him). One of them was a woman whose infant child had been left behind. Her motherly compassion overwhelmed her to such an extent that she would grab any baby she could lay her hands on, would clasp him to her bosom, and start suckling him. When the Prophet (peace be on him) saw that woman in such a state of mind he asked the Companions whether they thought she would cast her children into fire. The Companions replied in the negative. They said that rather than throw her children into a fire, she would make every possible effort lest they slide into it. The Prophet (peace be on him) added: 'God is even more merciful to His servants than this woman is to her child.' (Muslim, al-Tawbah, Bab Sa'at Rahmat Allah - Ed.) A little reflection may help one appreciate that it is God Who has created compassion in the hearts of parents for their children. Had God not created this compassion for children, their parents may, in fact, have been quite inimical to them. For a child is indeed one of the greatest causes of parents' discomfort and annoyance. If one remembers that it is God Who planted love and compassion for children in the hearts of parents it is quite easy to grasp the extent of God's love and compassion for His creatures.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :101 یعنی اگر اللہ کی خواہش یہ ہوتی کہ اس کی زمین میں صرف اطاعت گزار و فرمانبردار ہی بسیں اور کفر و نافرمانی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو تو اس کے لیے نہ یہ مشکل تھا کہ وہ تمام اہل زمین کو مومن و مطیع پیدا کر تا اور نہ یہی مشکل تھا کہ سب کے دل اپنے ایک ہی نکوینی اشارے سے ایمان و اطاعت کی طرف پھیر دیتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:90) ودود۔ صیغہ مبالغہ، محبت کرنے والا۔ ثواب دینے والا۔ الود۔ کے معنی ہیں کسی چیز سے محبت کرنا اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا۔ ودیود (سمع) ود و مودۃ مصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ یعنی اپنے بندوں سے اسی لئے تمہیں پہلے سے خبردار کرنے کا انتظام فرمایا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو وعظ و نصیحت یاد دہانی اور تخویف اور اچھے انجام کی یقین دہانی اور تمام دوسرے ذرائع سے راہ راست پر لانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں کہ ان کے دل نرم ہوجائیں۔ ان کے اندر خدا خوفی پیدا ہوجائے۔ لیکن ان لوگوں کے دل انتہائی درجے تک بگاڑ اور فساد میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ان کا تصور حیات ہی غلط تھا ، اس لیے ان کی روش بھی غلط تھی۔ چناچہ وہ ان کی پرسوز گفتگو کے نتیجے میں سرکشی کی راہ میں مزید آگے بڑھ جاتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

90 اور تم اپنے رب سے انے گناہ بخشوائو اور کفرو شرک سے توبہ کرو پھر آئندہ بھی عبادت کے ساتھ اسی کی طرف متوجہ ہو بلاشبہ میرا رب نہایت مہربان بڑی محبت کرنے والا ہے۔