The Response of Shu`ayb's People
Allah tells,
قَالُواْ يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ
...
They said: "O Shu`ayb! We do not understand,
This means that we do not comprehend.
...
كَثِيرًا
...
much,
`most of what you say'.
...
مِّمَّا تَقُولُ
..
what you say,
Ath-Thawri said,
"He (Shu`ayb) was called the orator of the Prophets."
....
وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا
...
and we see you weak among us.
As-Suddi said,
"They meant, `You are only one person."'
Abu Rawq said,
"They meant, `You are despised, because your tribe is not upon your religion."'
...
وَلَوْلاَ رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ
...
Were it not for your family, you would have been stoned,
This means, your people. Were it not for their powerful position over the people of Madyan, they would have stoned him to death.
Some said that this means with rocks.
It has also been said that;
this means that they would have cursed and insulted him verbally.
...
وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ
and you are not powerful against us.
This means, "You have no position of power over us."
Shu`ayb's Refutation of His People
He (Shu`ayb) said,
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب
قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں ۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں ۔ سعید و غیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی ۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے ، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا ۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے ۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی ۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے ۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کر دیتے ۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے ۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت ، رفعت وعزت نہیں ۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا بھائیو تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑ تے ہو ۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا ۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی ۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا ۔