Surat Hood

Surah: 11

Verse: 91

سورة هود

قَالُوۡا یٰشُعَیۡبُ مَا نَفۡقَہُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡنَا ضَعِیۡفًا ۚ وَ لَوۡ لَا رَہۡطُکَ لَرَجَمۡنٰکَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡنَا بِعَزِیۡزٍ ﴿۹۱﴾

They said, "O Shu'ayb, we do not understand much of what you say, and indeed, we consider you among us as weak. And if not for your family, we would have stoned you [to death]; and you are not to us one respected."

انہوں نے کہا اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہم تو تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Response of Shu`ayb's People Allah tells, قَالُواْ يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ ... They said: "O Shu`ayb! We do not understand, This means that we do not comprehend. ... كَثِيرًا ... much, `most of what you say'. ... مِّمَّا تَقُولُ .. what you say, Ath-Thawri said, "He (Shu`ayb) was called the orator of the Prophets." .... وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ... and we see you weak among us. As-Suddi said, "They meant, `You are only one person."' Abu Rawq said, "They meant, `You are despised, because your tribe is not upon your religion."' ... وَلَوْلاَ رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ... Were it not for your family, you would have been stoned, This means, your people. Were it not for their powerful position over the people of Madyan, they would have stoned him to death. Some said that this means with rocks. It has also been said that; this means that they would have cursed and insulted him verbally. ... وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ and you are not powerful against us. This means, "You have no position of power over us." Shu`ayb's Refutation of His People He (Shu`ayb) said,

قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں ۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں ۔ سعید و غیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی ۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے ، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا ۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے ۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی ۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے ۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کر دیتے ۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے ۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت ، رفعت وعزت نہیں ۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا بھائیو تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑ تے ہو ۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا ۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی ۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

91۔ 1 یہ یا تو انہوں نے بطور مذاق تحقیر کہا درآنحالیکہ ان کی باتیں ان کے لئے ناقابل فہم نہیں تھیں۔ اس صورت میں یہاں فہم کی نفی مجازا ہوگی۔ یا ان کا مقصد ان باتوں کے سمجھنے سے معذوری کا اظہار ہے جن کا تعلق غیب سے ہے۔ مثلا بعث بعدالموت، حشر نشر، جنت و دوزخ وغیرہ اس لحاظ سے، فہم کی فنی حقیقتا ہوگی۔ 91۔ 2 یہ کمزوری جسمانی لحاظ سے تھی، جیسا کہ بعض کا خیال ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بینائی کمزور تھی یا وہ نحیف و لاغر جسم کے تھے یا اس اعتبار سے انھیں کمزور کہا کہ وہ خود بھی مخالفین سے تنہا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ 91۔ 3 حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قبیلہ کہا جاتا ہے کہ ان کا مددگار نہیں تھا، لیکن وہ قبیلہ چونکہ کفر و شرک میں اپنی ہی قوم کے ساتھ تھا، اس لئے اپنے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے اس قبیلے کا لحاظ، بہرحال حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے اور انھیں نقصان پہنچانے میں مانع تھا۔ 91۔ 4 لیکن چونکہ تیرے قبیلے کی حیثیت بہرحال ہمارے دلوں میں موجود ہے، اس لئے ہم درگزر سے کام لے رہے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] حرام خور کو حلال کمانا بہت مشکل ہوتا ہے :۔ یعنی یہ جو تم کاروبار میں سچائی، راست بازی اور دیانتداری کی باتیں کرتے ہو اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا سارا کاروبار ہی مندا پڑجائے گا۔ مارکیٹ میں مقابلہ بڑا سخت ہے اگر ہم یہ کام نہ کریں گے تو کمائیں گے کیا اور کھائیں گے کیا ؟ لہذا یہ نصیحتیں تم اپنے پاس ہی رکھو ہم اگر ایسی دیانتداری سے کام لیں جیسی تم کہتے ہو تو ہمارا تو سارا کاروبار ہی ٹھپ ہوجائے گا اور ایک دن بھی نہ چل سکے گا۔ تمہاری یہ باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ اور واقعہ ہے بھی یہی کہ جب انسان حرام ذرائع سے مال کمانے کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کے لیے حلال ذریعہ سے مال کمانا اتنا ہی دشوار نظر آتا ہے جتنا کسی بلند پہاڑ پر چڑھنا۔ یہاں حسب حال مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ہے ایک گوالے کا بیٹا کچھ دین کا علم پڑھ گیا۔ لڑکا نیک تھا ایک دن اپنے باپ سے کہنے لگا : && ابا ! دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دو اور بیشک دودھ کچھ مہنگا بیچ لیا کرو۔ باپ نے بیٹے کو تلخ لہجے میں جواب دیا چل دفع ہو تم تو کسی گوالے کے بیٹے ہی نہیں ہو && اس مختصر سے واقعہ سے ایک حرام خور کی پوری ذہنیت سمجھ میں آجاتی ہے۔ یہی ذہنیت شعیب کی قوم کی تھی جنہوں نے اپنے پیغمبر کو یوں جواب دیا تھا کہ && تمہاری ان باتوں کی ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی && [ ١٠٤] سیدنا شعیب کو دھمکی :۔ تمہاری برادری کا ہمیں پاس ہے جو ہمارے ہی ہم خیال ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو تم تو ایک کمزور سے آدمی ہو جس طرح تم نے ہمیں ستا رکھا ہے کب کا ہم نے تمہیں سنگسار کردیا ہوتا۔ تمہیں ہم اپنے مقابلے میں کیا سمجھتے ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ ۔۔ : ” فَقِہَ یَفْقَہُ “ (ع) متکلم کی بات کا مطلب سمجھنا۔ یہ بات انھوں نے استہزا اور تحقیر، یعنی شعیب (علیہ السلام) اور ان کے کلام کو بےوقعت قرار دینے کے لیے کہی، یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے تھے کہ شعیب (علیہ السلام) کی سیدھی باتیں بھی واقعتا ان کے ذہن میں نہیں آتی تھیں، حالانکہ شعیب (علیہ السلام) نہ کسی غیر زبان میں گفتگو کرتے تھے اور نہ ان کا انداز بیان ہی پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا، بلکہ شعیب (علیہ السلام) کی گفتگو سے صاف پتا چل رہا ہے کہ وہ کتنے بڑے فصیح اللسان خطیب تھے۔ مفسر ابوالسعود کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ بات کہ ” ہم تیری بات کا مطلب ہی نہیں سمجھتے “ اس وقت کہی جب وہ بہترین اور بلیغ ترین طریقے سے شعیب (علیہ السلام) سے حق اور اس کے ایسے واضح دلائل سن چکے جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اب اس سے آگے ان کے پاس کوئی بات باقی ہی نہ تھی جو وہ کہہ سکتے، تو جس طرح کوئی بندہ لاجواب ہو کر بدزبانی، گالی گلوچ اور دھمکیوں پر اتر آتا ہے، یہی کام انھوں نے کیا۔ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا : یعنی نہ تیرے پاس فوج ہے، نہ حکومت اور نہ کرو فر۔ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ : جو ہمارے دین پر ہیں، لیکن تیری پشت پناہی کر رہے ہیں۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ : ” عَزِیْزٌ“ معزز، محبوب اور قوی، یعنی تو ہم پر کسی طرح بھی عزیز نہیں ہے، نہ ہم تمہاری کچھ عزت سمجھتے ہیں، نہ ہمیں تجھ سے کوئی محبت ہے اور نہ تو ہم سے طاقت میں بڑھ کر ہے۔ غرض تجھے سنگسار کرنا ہمیں کچھ بھی مشکل نہیں، اگر تیرے قبیلے کے لوگ جو ہمارے ہی دین پر ہیں، تیری پشت پر نہ ہوتے تو ہم ضرور تجھے سنگسار کردیتے۔ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئیں بالکل وہی صورت حال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ معظمہ میں درپیش تھی۔ قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور ہر ممکن طریقے سے آپ کی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے، لیکن چونکہ بنو ہاشم آپ کی پشت پر تھے اور خاص طور پر آپ کے چچا ابوطالب آپ کی پوری طرح حفاظت کر رہے تھے، اس لیے قریش کو آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوسکی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَہُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا۝ ٠ۚ وَلَوْلَا رَہْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ۝ ٠ۡوَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ۝ ٩١ فقه الفِقْهُ : هو التّوصل إلى علم غائب بعلم شاهد، فهو أخصّ من العلم . قال تعالی: فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] ( ف ق ہ ) الفقہ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہچنچنے کے ہیں اور یہ علم سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ ضعف والضَّعْفُ قد يكون في النّفس، وفي البدن، وفي الحال، وقیل : الضَّعْفُ والضُّعْفُ لغتان . قال تعالی: وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] ( ض ع ف ) الضعف اور الضعف رائے کی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے اور بدن اور حالت کی کمزوری پر بھی اور اس میں ضعف اور ضعف ( ولغت ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کس قدر کمزور ی ہے ۔ رهط الرَّهْطُ : العصابة دون العشرة، وقیل : يقال إلى الأربعین، قال : تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ [ النمل/ 48] ، وقال : وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْناكَ [هود/ 91] ( رھ ط ) الرھط دس آدمیوں سے کم جماعت کو رھط کہتے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کا اطلاق چالیس آدمیوں تک کی جماعت پر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ [ النمل/ 48] نو آدمی تھے جو ملک میں فساد کرتے ۔ وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْناكَ [هود/ 91] اگر تیری بر اور ی کے لوگ نہ ہوتے تو ہم ےتجھے سنگسار کردیتے ہیں۔ رجم الرِّجَامُ : الحجارة، والرَّجْمُ : الرّمي بالرِّجَامِ. يقال : رُجِمَ فهو مَرْجُومٌ ، قال تعالی: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] ، أي : المقتولین أقبح قتلة، وقال : وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْناكَ [هود/ 91] ، إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] ، ويستعار الرّجم للرّمي بالظّنّ ، والتّوهّم، وللشّتم والطّرد، نحو قوله تعالی: رَجْماً بِالْغَيْبِ وما هو عنها بالحدیث المرجّم «7» وقوله تعالی: لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] ، أي : لأقولنّ فيك ما تكره والشّيطان الرَّجِيمُ : المطرود عن الخیرات، وعن منازل الملإ الأعلی. قال تعالی: فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] ، وقال تعالی: فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] ، وقال في الشّهب : رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ( ر ج م ) الرجام ۔ پتھر اسی سے الرجیم ہے جس کے معنی سنگسار کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے رجمۃ ۔ اسے سنگسار کیا اور جسے سنگسار کیا گیا ہوا سے مرجوم کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] کہ تم ضرور سنگسار کردیئے جاؤ گے ۔ إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] کیونکہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری خبر پائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے ۔ پھر استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ جھوٹے گمان تو ہم ، سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے رَجْماً بِالْغَيْب یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل کے تکے چلاتے ہیں ۔ (176) ، ، وماھو عنھا بالحدیث المرکم ، ، اور لڑائی کے متعلق یہ بات محض انداز سے نہیں ہے ۔ اور شیطان کو رجیم اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ خیرات اور ملائم اعلیٰ کے مراتب سے راندہ ہوا ہے قرآن میں ہے :۔ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] تو شیطان مردود کے وسواس سے خدا کی پناہ مانگ لیاکرو ۔ فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] تو بہشت سے نکل جا کہ راندہ درگاہ ہے ۔ اور شھب ( ستاروں ) کو رجوم کہا گیا ہے قرآن میں ہے :۔ رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ان کی شیاطین کے لئے ایک طرح کا زوبنایا ہے ۔ رجمۃ ورجمۃ ۔ قبر کا پتھر جو بطور نشان اس پر نصب کیا جاتا ہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩١) وہ کہنے لگے اے شعیب ! (علیہ السلام) بہت سی باتیں تمہاری کہی ہوئی ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تو آپ کی بینائی میں کمی دیکھ رہے ہیں اور اگر آپ کی قوم کا پاس نہ ہوتا تو ہم آپ کو قتل کر ڈالتے اور ہماری نظر میں تمہاری کچھ وقعت اور عزت نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩١ (قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ ) جب ذہنوں کے سانچے بگڑ جائیں اور سوچوں کے زاویے بدل جائیں تو پھر سیدھی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ (وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ ) یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ جس زمانے میں جو سورت نازل ہوئی ہے اس میں نبی اکرم اور آپ کے صحابہ کرام کو پیش آنے والے معروضی حالات کے ساتھ تطابق پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی گزشتہ اقوام کے واقعات جو مختلف سورتوں میں تواتر کے ساتھ بار بار آئے ہیں یہ تکرار محض نہیں ہے ‘ بلکہ حضور کی دعوت و تحریک کو جس دور میں جن مسائل کا سامنا ہوتا تھا اس خاص دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں ان مسائل کی مناسبت سے پچھلی اقوام کے حالات و واقعات سے وہ باتیں نمایاں کی جاتی تھیں جن میں حضور اور اہل ایمان کے لیے راہنمائی اور دلجوئی کا سامان موجود ہوتا۔ چناچہ آیت زیر نظر میں حضرت شعیب کے خاندان اور قبیلے کی حمایت کی بات اس لیے ہوئی ہے کہ ادھر مکہ میں حضور کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ اس زمانے میں بنو ہاشم کے سردار آپ کے چچا ابو طالب تھے جنہیں حضور سے بہت محبت تھی اور آپ نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ ان کے سایہ عاطفت میں گزارا تھا۔ انہی کی وجہ سے آپ کو پورے قبیلہ بنی ہاشم کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اگر اس وقت بنوہاشم کی سرداری کہیں ابولہب کے پاس ہوتی تو آپ کو اپنے خاندان اور قبیلہ کی یہ حمایت حاصل نہ ہوتی اس طرح مشرکین مکہ کو آپ کے خلاف (معاذ اللہ) کوئی انتہائی اقدام کرنے کا موقع مل جاتا۔ لہٰذا یہاں حالات میں تطابق اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آج مکہ میں بنو ہاشم کی حمایت سے محمد رسول اللہ کو ایک محفوظ قلعہ مہیا فرما دیا ہے ‘ بالکل اسی نوعیت کی حفاظت اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو ان کے خاندان کی حمایت کی صورت میں بھی عطا فرمائی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are overpowered by their lusts, or begin to move vehemently in one particular intellectual direction, they hardly have the patience to give ear to any idea which is different from their own. But even if they were to listen to any unfamiliar idea, it would only sound to them as gibberish, as something coming to them from some other planet. 103. It should be borne in mind that exactly the same situation that had obtained in the past among the people of Shu'ayb also obtained in Makka at the time these verses were revealed. The Quraysh were seething with enmity towards Prophet Muhammad (peace be on him) and wanted to put an end to his life in much the same way as Shu'ayb's people were inimical to him. The only reason which prevented the Quraysh from violently laying their hands on the Prophet (peace be on him) was that his clan, Hashim, stood firmly behind him. Thus, the story of Shu'ayb in relation to his people was exactly the same as that of Prophet Muhammad (peace be on him) in relation to the Quraysh. The story of Shu'ayb is narrated here precisely because of the obvious resemblance it bears to the predicament of Prophet Muhammad (peace be on him). Soon we will also come across (see verse 93) a very instructive statement of Shu'ayb's in response to the harsh expression of hostility (see verse 91). The implication is quite clear. The same statement would be addressed by Muhammad (peace be on him) to his own unbelieving people.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :102 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو زبردستی مومن بنانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے سے روک رہا تھا ۔ دراصل اس فقرے میں وہی اندازِی بیان اختیار کیا گیا ہے جو قرآن میں بکثرت مقامات پر ہمیں ملتا ہے ، کہ خطاب بظاہر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتا ہے مگر اصل میں لوگوں کو وہ بات سنانی مقصود ہوتی ہے جو نبی کو خطاب کر کے فرمائی جاتی ہے یہاں جو کچھ کہنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ لوگو ، حجت اور دلیل سے ہدایت و ضلالت کا فرق کھول کر رکھ دینے اور راہِ راست صاف صاف دکھا دینے کا جو حق تھا وہ تو ہمارے نبی نے پورا پورا ادا کر دیا ہے ۔ اب اگر تم خود راست رو بننا چاہتے اور تمہارا سیدھی راہ پر آنا صرف اسی پر موقوف ہے کہ کوئی تمہیں زبر دستی راہِ راست پر لائے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کے سپرد یہ کام نہیں کیا گیا ہے ۔ ایسا جبری ایمان اگر اللہ کو منظور ہوتا تو اس کے لیے اُسے نبی بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی ، یہ کام تو وہ خود جب چاہتا کر سکتا تھا ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :103 یعنی جس طرح تمام نعمتیں تنہا اللہ کے اختیار میں ہیں اور کوئی شخص کسی نعمت کو بھی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہ خود حاصل کر سکتا ہے نہ کسی دوسرے شخص کو بخش سکتا ہے ، اسی طرح یہ نعمت بھی کہ کوئی شخص صاحب ایمان ہو اور راہِ راست کی طرف ہدایت پائے اللہ کے اذن پر منحصر ہے ۔ کوئی شخص نہ اس نعمت کو اذنِ الہٰی کے بغیر خود پا سکتا ہے ، اور نہ کسی انسان کے اختیار میں یہ ہے کہ جس کو چاہے یہ نعمت عطا کردے ۔ پس نبی اگر سچے دل سے یہ چاہے بھی کہ لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا ۔ اس لیے کہ اللہ کا اذن اور اس کوتوفیق درکار ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩١۔ ٩٢۔ جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے ہی گئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) تم جس قدر ہم لوگوں کو سمجھاتے ہو ہماری سمجھ میں ایک نہیں آتا اور تم ہم لوگوں سے بہت کمزور ہو ہمیں تمہارے بھائی بندوں کا خیال ہے نہیں تو مارے پتھروں کے تم کو سنگ سار کردیتے تم ان باتوں سے اب ہم کو اچھے نہیں لگتے بعضے مفسروں نے بیان کیا ہے کہ ضعیف کے معنے یہاں نابینا کے ہیں کیوں کہ شعیب (علیہ السلام) خدا کی محبت میں اتنا روئے تھے کہ ان کی آنکھیں جاتی رہی تھیں پھر شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی بندوں کا خیال ہے وہ کیا خدا سے بھی زیادہ تمہیں عزیز ہیں ان کی عزت کا خیال کر کے مجھے چھوڑتے ہو اور خدا کو تم نے پس پشت ڈال رکھا جس کی عزت کے سامنے کسی کی بھی عزت نہیں خیر جو کچھ تم کرتے ہو اور جتنے عمل تمہارے ہیں سب کو خدا کا علم گھیرے ہوئے ہے وہ ذرہ ذرہ جانتا ہے تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کثرت گناہوں کے سبب سے آدمی کے دل پر ایک زنگ لگ جاتا ہے جس سے نیک بات اس کے دل پر اثر نہیں ١ ؎ کرتی۔ قوم شعیب (علیہ السلام) نے شعیب (علیہ السلام) سے یہ جو کہا کہ تمہاری نصیحت ہماری سمجھ میں نہیں آتی یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شرک اور کثرت گناہوں سے ان لوگوں کے دل پر زنگ چھا گیا تھا جس سے شعیب (علیہ السلام) کی نصیحت کا نہ ان کے دل پر کچھ اثر ہوتا تھا نہ وہ نصیحت ان کی سمجھ میں آتی تھی۔ ١ ؎ جامع ترمذی ص ١٦٩ ج ٢ تفسیر سورة ویل اللمطففین والترغیب ص ٢٩٦ ج ١۔ باب الاستغفار۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:91) مانفقۃ۔ مضارع منفی جمع متکلم ۔ ہم نہیں سمجھتے۔ فقہ۔ مصدر۔ فقہ یفقہ (سمع) فقہ۔ الثقۃ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہنچنے کے ہیں اور یہ علم سے اخص ہے۔ قرآن میں ہے فمال ھؤلاء القوم لایکادون یفقھون حدیثا (4:78) ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات ہی نہیں سمجھ سکتے۔ علم الفقہ احکام شریعت کے جاننے کا نام ہے۔ فقہ سمجھ۔ دانش علم ۔ فقیۃ۔ عقل مند۔ دانشور۔ عالم دین۔ سمجھ دار۔ رھطک۔ مضاف مضاف الیہ۔ تیری برادری۔ تیرے بھائی بند۔ رھط بمعنی نفر۔ شخص قبیلہ۔ برادری۔ بھائی بند۔ نفر اور شخص کے معنوں میں آیا ہے۔ تسعۃ رھط یفسدون (27:48) تو آدمی تھے جو ملک میں فساد کرتے تھے۔ برادری۔ قطیلہ۔ بھائی بند کے معنوں میں آیت ہذا۔ اور اس سے اگلی آیت (11:92) یقوم ارھطی اعز علیکم من اللہ۔ اے میری قوم ! کیا میری برادری کے لوگ تمہیں (اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہیں) ۔ اور آیت ہذا کا ترجمہ :۔ اگر تیری برادری کے لوگ نہ ہوتے تو ہم تجھے سنگسار کردیتے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔ رھط خاندان کے ان افراد کو کہتے ہیں جو کسی شخص کی تقویت کا باعث ہوں اور دکھ سکھ میں اس کے شریک ہوں۔ رھط الرجل عشیرتہ الذی یستند علیہم ویتقوی بھم۔ وما انت سلینا بعزیز۔ عزیز کے معنی محبوب۔ غالب۔ عزت والا۔ زبردست۔ قوی۔ گرامی قدر۔ سبھی ہیں۔ عزیز۔ فعیل کے وزن پر عزۃ سے بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی یہ تو ہمارا انتا لاڈلا ہے کہ ہم تیری زیادتیوں کو محبت کی خاطر برداشت کرتے رہیں۔ نہ تو ہم پر اتنا غالب اور اتنا طاقتور ہے کہ ہم اپنی کمزوری کے پیش نظر چپ رہیں۔ اور نہ تو اتنا معزز اور گرامی قدر ہے کہ ہم تیرا لحاظ کریں۔ ہم تو محض تیری برادری کی وجہ سے تیرا لحاظ کر رہے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ یہ بات انہوں نے یا استہزا اور تحقیر کے انداز میں کہی یا خدا کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے تھے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی سیدھی باتیں بھی واقعی ان کے ذہن میں نہ آتی تھیں حالانکہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نہ کسی غیر زبان میں گفتگو کرتے تھے اور نہ ان کا انداز بیان ہی پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا بلکہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اپنی فصیح البیانی کی وجہ سے ” خطیب الانبیاء ( علیہ السلام) “ کے لقب سے پکارے جاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ 4 ۔ نہ تیرے پاس فوج ہے، نہ حکومت اور نہ کرو فر۔ 5 ۔ جو ہمارے دین پر ہیں لیکن تیری پشت پناہی کر رہے ہیں۔ 6 ۔ جس زمانہ میں یہ آیات نازل ہوئیں، بالکل وہی صورت حال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ معظمہ میں درپیش تھی۔ قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور ہر ممکن طریقے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے لیکن چونکہ بنی ہاشم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پشت پر تھے اور خاص طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پوری طرح حفاظت کر رہے تھے اس لئے قریش کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوسکی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ مطلب ان کا یہ تھا کہ تم ہم کو یہ مضامین مت سناو ورنہ تمہاری جان کا خطرہ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم اور حضرت شعیب کے آپس میں سوال و جواب۔ توبہ استغفار کرنے کی بجائے قوم کے نمائندے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہنے لگے۔ اے شعیب تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ آپ ہر روز ہمیں روکتے ٹوکتے ہیں۔ ہم آپ سے نمٹ لیتے اگر آپ کی برادری مضبوط نہ ہوتی ورنہ تیری تو ہم میں کوئی حیثیت نہیں۔ ہم تجھے اپنے میں نہایت کمزور سمجھتے ہیں۔ تو کسی طرح بھی ہم پر غالب نہیں آسکتا۔ حضرت نے اپنی قوم کو جواب دیتے ہوئے فرمایا۔ کیا تمہارے لیے میری برادری اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ جس اللہ کو تم نے میری برادری کے مقابلے میں پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اگر تم باز نہیں آئے تو تم اپنا کام کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو ۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور کس پر ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یقین جانو کہ میرا رب تمہاری تمام حرکات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس فرمان میں یہ کھلا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے غلط فائدہ نہ اٹھاؤ اور نہ یہ سمجھو تم اس کے احاطہ قدرت سے باہر ہو۔ یہ تو اس کا اصول ہے کہ وہ ظالموں کو ایک مدت معینہ تک مہلت دیتا ہے۔ تاکہ انہیں گناہ کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا پرست لوگوں کی ہمیشہ سے یہ سوچ رہی ہے کہ وہ رب ذوالجلال سے ڈرنے کی بجائے دنیا کے نقصان اور لوگوں کی طاقت سے ڈرتے ہیں۔ ورنہ کتنے لوگ ہیں جو حقیقت سمجھ جاتے ہیں۔ مگر منفی رائے عامہ کے خوف سے اسے قبول نہیں کرتے۔ اس خوف کو دور کرنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ بددیانتی چھوڑ کر دیانت اختیار کرو اور شرک سے اجتناب کرتے ہوئے توحید خالص کا عقیدہ اختیار کرو۔ میری برادری سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ لوگوں سے ڈرنے کی بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے : (فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِی وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِی عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ )[ البقرۃ : ١٥٠] ” تم ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا تاکہ تم پر اپنی نعمتوں کو پورا کروں اور تم راہ راست پر چلو۔ “ مسائل ١۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے انہیں کمزور جانا۔ ٢۔ کافر دنیا والوں کا لحاظ کرتے ہیں عرش والے کا نہیں۔ ٣۔ انبیاء (علیہ السلام) کی دنیاوی وسائل پر نہیں اللہ پر نظر ہوتی ہے۔ ٤۔ کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت میں ہے : ١۔ بیشک میرا پروردگار جو تم عمل کرتے ہو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (ھود : ٩٢) ٢۔ ہر چیز اللہ کے احاطہ علم میں ہے۔ (الطلاق : ١٢) ٣۔ ہمارے رب نے علم کے ذریعے ہر چیز کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ (الاعراف : ٨٩) ٤۔ بیشک اللہ لوگوں کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے۔ (آل عمران : ١٢٠) ٥۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔ (حٰم السجدۃ : ٥٤) ٦۔ اللہ ہر چیزکا احاطہ کرنے والا ہے۔ (النساء : ١٢٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حق بالکل واضح ہے لیکن ان کا سینہ اس کے لیے تنگ ہے ، وہ چاہتے ہی نہیں کہ حق کا ادراک کرسکیں۔ قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ (٩١ : ١١) “ انہوں نے جواب دیا “ اے شعیب تیزی بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ ” یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اقدار حیات کا تعین صرف مادی مفادات کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اور ہر معاملے کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں۔ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا (٩١ : ١١) “ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بےزور آدمی ہے۔ ” یہ لوگ مادی قوت ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس حقیقت اور قوت کا کوئی وزن نہیں ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (٩١ : ١١) “ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے۔ ” ان کے نزدیک گویا نظریاتی قوت کے مقابلے میں خاندان کی قوت زیادہ اہم ہے۔ دلی جوڑ کے مقابلے میں نسب کا جوڑ زیادہ مضبوط ہے لیکن یہ لوگ دراصل اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ اپنے دوستوں پر ، ایک بھائی کے حق میں بھائی کی غیرت سے زیادہ غیور ہے۔ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ (١١ : ٩١) “ تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔ ” یعنی تم ایک بھائی اور معزز آدمی کی حیثیت سے بھی ہم پر غالب نہیں ہو اور نہ ایک طاقتور شخص کی حیثیت سے تمہارا پلہ بھاری ہے ، ہم اگر مجبور ہیں تو خاندانی روابط کی وجہ سے تجھ پر ہاتھ ڈالنے سے مجبور ہیں۔ جب انسان ایک پختہ نظریہ سے محروم ہوجاتا ہے ، اس کے پیش نظر اعلیٰ قدریں اور اعلیٰ روایات نہیں ہوتیں تو وہ زمین پر گر پڑتا ہے ، اس کے ذہن میں اس دنیا کے مفادات ہی اعلیٰ وارفع ہوجاتے ہیں اور وہ دنیاوی قدروں کا گرویدہ ہوجاتا ہے لہذا وہ اس جیسی قیمتی اور بلند دعوت کی قدر نہیں کرتا۔ وہ اعلیٰ حقائق کے ادراک سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ایسی بلند دعوت پر اگر ہاتھ نہیں اٹھاتے تو بھی محض دنیاوی قوت کے ڈر سے نہیں اٹھاتے۔ ایسے لوگ محض مادی قوت کو خاطر میں لاتے ہیں۔ رہے بلند عقائد ، اعلی خیالات اور بلند اقدار تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی کسی مادہ پرست شخص کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گرے ہوئے پست لوگوں کی ذہینت ہمیشہ کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی غیری ایمانی جوش میں آتی ہے ، ان سے اللہ رب العالمین کی یہ توہین برداشت نہیں ہوتی وہ اپنی قوم اور کنبے کی مادی قوت سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ وہ ان کو اس برے انجام کے حوالے کردیتے ہیں جو اس کائنات میں ایسے لوگوں کے لیے مقدر ہوتا ہے اور اللہ کے بارے میں ان کے توہین آمیز رویے کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایک آخری اور فیصلہ کن دعوت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں میرا عمل میرا ہے اور تمہارا عمل تمہارا ہے۔ اب وہ ان کو خدائی قوتوں کے حوالے کرتے ہیں اور ان کو صاف صاف بتاتے ہیں کہ تم جیسے لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہت بڑا عذاب ہر وقت تیار رہتا ہے لہذا لو اپنا وہ انجام جو تم نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہے۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (٩٢) وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (٩٣) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری براداری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور ) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ اے میری قوم کے لوگو ، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدڈی ہی تمہیں معلوم ہو جاؤے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل مدین کا بری طرح جواب دینا اور ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت برابر جاری رہی ‘ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو جو جواب دئیے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض باتیں نہ سمجھتے ہوں کیونکہ توجہ کے ساتھ سنتے ہی نہ تھے۔ اپنی اس بےہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کی پاس داری ہے اگر ان کا پاس نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے گو کہ تمہاری کچھ عزت اور وقعت ہمارے نزدیک نہیں ہے تمہارے خاندان کا خیال ہے جس کی وجہ سے ہم حملہ کرنے سے رکے ہوئے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں جو تمہیں تبلیغ کرتا ہوں یہ اس بناء پر ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جو میری نسبت ہے (کہ میں اس کا نبی ہوں) اس کا تمہیں کچھ خیال نہیں اور میرے خاندان کا تمہیں خیال ہے اگر میرا خاندان نہ ہوتا تو تم مجھے ہلاک کردیتے کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزت والا ہے تم نے میرے خاندان کا تو خیال کیا اور اللہ تعالیٰ کو تم نے پس پشت ڈال دیا اسے راضی رکھنے کا تمہیں بالکل خیال نہ آیا بلاشبہ میرا رب تمہارے سب اعمال کو جانتا ہے تم عذاب کے مستحق ہوچکے ہو جب تم ایمان نہیں لاتے تو اب عذاب آنے ہی کو ہے وہ ایسا عذاب ہوگا جو رسوا کر دے گا اور بتادے گا کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا تم مجھے دعوائے نبوت میں جھوٹا بتا رہے ہو عذاب آنے سے واضح ہوجائے گا کہ میں جھوٹا نہیں ہوں بلکہ تم جھوٹے ہو۔ تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو میں اپنی جگہ اعمال میں مشغول ہوں تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں کہ دیکھیں عذاب کب آتا ہے اور کس پر آتا ہے ؟ ان لوگوں کے لیے عذاب کا فیصلہ ہوچکا تھا اللہ کا عذاب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے اپنی مہربانی سے بچا لیا اور ظالموں کو چیخ نے پکڑ لیا اس چیخ کی وجہ سے سب ہلاک ہوگئے یہ لوگ بھی اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے منہ پڑے رہ گئے کہ گویا وہ ان میں رہے ہی نہ تھے یہ لوگ بھی اللہ کی رحم سے دور ہوئے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ناپ تول میں کمی کرنے سے منع فرمانا اور انہیں دیگر نصیحتیں فرمانا پھر ان لوگوں کے سوال و جواب اور بالآخر ان کی ہلاکت اور بربادی کا مفصل واقعہ سورة اعراف (ع ١١) میں گزر چکا ہے وہاں بعض باتیں زائد ہیں جو یہاں مذکور نہیں اس کو بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ ایک یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ وہاں فرمایا ہے (اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ ) (انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا) اور یہاں فرمایا ہے (وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ ) (ظالموں کو چیخ نے پکڑ لیا) لیکن اس میں کوئی تعارض کی بات نہیں ہے کیونکہ ان پر دونوں طرح کا عذاب آیا تھا زبردست چیخ آئی اور زلزلہ بھی آیا ناپ تول میں کمی کے بارے میں جو بعض احادیث مروی ہیں وہ سورة اعراف کی تفسیر میں ذکر کردی گئی ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

79:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس حکیمانہ اور ناصحانہ تبلیغ کا قوم پر کوئی اثر نہ ہوا اور ازراہ عناد کہنے لگے اے شعیب تیری باتیں بالکل بےمعنی ہیں ہم انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں اور یاد رکھو تم ہم میں کمزور ہو اور تنہا ہمارے مقابلے کی تاب نہیں لاسکتے ہو اگر ہمیں تمہارے قبیلے کا پاس ولحاط نہ ہوتا تو ہم تمہیں کبھی کا قتل کرچکے ہوتے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ مشرکین کے ہم مسلک تھے اس لیے ان کا لحاظ کیا۔ وَکَانَ رَھْطُہٗ مِن اھل املتھم فلذلک اظھروا المیل الیھم والاکرام لھم (مدارک ج 2 ص 100) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

91 قوم کے لوگوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) تو جو کچھ کہتا ہے تیری کہی ہوئی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور ہم تجھ کو اپنی قوم میں بہت کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے خاندان والوں کا لحاظ اور پاس نہ ہوتا تو ہم تجھ کو کبھی کا سنگسار کرچکے ہوتے اور تو ہم پر کسی طرح بھی غالب اور ذی اقتدار نہیں ہے یعنی تمہاری باتیں جب سمجھ میں نہیں آتیں اس لئے قابل توجہ نہیں تیرے خاندان کا خیال ہے ورنہ اب تک تجھ کو ہم قتل کر ڈالتے اور تیرا سر پتھروں سے کچل دیتے کیونکہ تیری توقیر اور کچھ عزت تو قوم میں ہے نہیں نہ تیرے پاس کوئی حکومت اور اقتدار ہے۔