Surat Hood

Surah: 11

Verse: 92

سورة هود

قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَہۡطِیۡۤ اَعَزُّ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡہُ وَرَآءَکُمۡ ظِہۡرِیًّا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۹۲﴾

He said, "O my people, is my family more respected for power by you than Allah ? But you put Him behind your backs [in neglect]. Indeed, my Lord is encompassing of what you do.

انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیادہ ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے یقیناً میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللّهِ ... He said: "O my people! Is then my family of more weight with you than Allah!" He says: You would leave me alone out of respect for my people but not out of respect for the greatness of the Lord, the Most Blessed and Exalted. Does not your awe of Allah prevent you from harming His Prophet! Indeed you have placed the fear of Allah, ... وَاتَّخَذْتُمُوهُ ... And you have cast Him away ... وَرَاءكُمْ ظِهْرِيًّا ... behind your backs. This means that you have thrown it behind you. You do not obey it, nor do you respect it. ... إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ Verily, my Lord is surrounding all that you do. This means that He knows all of your actions and He will reward you according to them.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

92۔ 1 کہ تم مجھے تو میرے قبیلے کی وجہ سے نظر انداز کر رہے ہو۔ لیکن جس اللہ نے مجھے منصب نبوت سے نوازا ہے اس کی کوئی عظمت نہیں اور اس منصب کا کوئی احترام تمہارے دلوں میں نہیں ہے اور اسے تم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اعز علیکم منی (مجھ سے زیادہ ذی عزت) کی بجائے اعز علیکم من اللہ اللہ سے زیادہ ذی عزت کہا جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ نبی کی توہین یہ دراصل اللہ کی توہین ہے۔ اس لیے کہ نبی اللہ کا مبعوث ہوتا ہے۔ اور اسی اعتبار سے اب علمائے حق کی توہین اور ان کو حقیر سمجھنا یہ اللہ کے دین کی توہین اور اس کا استخفاف ہے، اس لیے کہ وہ اللہ کے دین کے نمائندے ہیں۔ واتخذتموہ میں ھا کا مرجع اللہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اس معاملے کو، جسے لے کر اس نے مجھے بھیجا ہے، اسے تم نے پس پشت ڈال دیا ہے اور اس کی کوئی پروا تم نے نہیں کی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٥] گویا تم میری برادری کے دباؤ کے تحت میرا لحاظ کر رہے ہو جو ابھی تک مجھے سنگسار نہیں کیا حالانکہ حقیقت میں اصل دباؤ تو اس اللہ کا سمجھنا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کی ایک ایک چیز ہے اور تم خود بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہو جس کا تمہیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہیں آتا۔ اور اگر تمہیں میری باتیں اتنی ہی ناگوار معلوم ہوتی ہیں تو جو کچھ کر رہے ہو کیے جاؤ بہرحال میں تو اپنا کام جاری رکھوں گا۔ تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی فیصلہ کی ایسی صورت پیدا کردے جس سے ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ ہم میں راہ راست پر کون تھا اور غلط کار کون ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ ۔۔ :” ظِهْرِيًّا “ ” ظَھْرٌ“ کی طرف منسوب ہے، نسبت کی وجہ سے ظاء پر کسرہ آگیا ہے۔ یہاں سے شعیب (علیہ السلام) کا لہجہ کچھ سختی میں بدل جاتا ہے، فرماتے ہیں، کیا میری برادری تمہارے نزدیک اللہ سے بھی زیادہ معزز اور قوی ہے، جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس ہر شے کے مالک کو تو تم نے ایسے سمجھ رکھا ہے جیسے کوئی بےوقعت چیز پیٹھ پیچھے پھینک دی گئی ہوتی ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کی پروا نہ کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی بےوقعتی اور بےقدری کرنا ہے۔ اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ : وہ تمہارے تمام اعمال (جن میں ان کے اقوال، ارادے، سازشیں اور وہ سب کچھ شامل ہے جو وہ شعیب (علیہ السلام) کے خلاف کر رہے تھے) سے پوری طرح واقف ہے، کوئی چیز اس کے احاطے سے باہر نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَہْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ۝ ٠ ۭ وَاتَّخَذْتُمُوْہُ وَرَاۗءَكُمْ ظِہْرِيًّا۝ ٠ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۝ ٩٢ عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عزت تو سب خدا ہی کی ہے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ ظهر الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ( ظ ھ ر ) الظھر کے معنی پیٹھ اور پشت کے ہیں اس کی جمع ظھور آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نام اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا حيط الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين : أحدهما : في الأجسام نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ، والثاني : في العلم نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] ( ح و ط ) الحائط ۔ دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور احاطۃ ( افعال ) کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) اجسام کے متعلق جیسے ۔ احطت بمکان کذا یہ کبھی بمعنی حفاظت کے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ یعنی وہ ہر جانب سے ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ (2) دوم احاطہ بالعلم ہے جیسے فرمایا :۔ أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٢) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا میرا خاندان نعوذ باللہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی کتاب سے بھی زیادہ صاحب توقیر ہے یا یہ کہ کیا میرے خاندان کی سزا تمہارے نزدیک اللہ کی سزا سے زیادہ بڑی ہے۔ اور میں تمہارے پاس جو کتاب لے کر آیا ہوں اسے تم نے بھلا دیا ہے میرا پروردگار تمہارے اعمال کی سزا سے اچھی طرح واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٢ (قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ ) حقیقت میں میرا پشت پناہ تو اللہ ہے۔ تم اللہ سے نہیں ڈرتے لیکن میرے خاندان سے ڈرتے ہو۔ کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ (وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَاۗءَكُمْ ظِهْرِيًّا) یعنی اللہ کو تو تم لوگوں نے بالکل ہی بھلا چھوڑا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگرچہ آج ہم بھی اللہ کو اپنا خالق مالک اور معبود ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ساتھ ہی دنیا اور اس کے جھمیلوں میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اللہ کا تصور مستحضر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کاروبار دنیا میں حقیقی مسبب الاسباب کو بھلا کر اسباب و حقائق (cause and fact) کی منطقی بھول بھلیوں میں گم رہتے ہیں : کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق ! یہاں حضرت شعیب کا اپنے خاندان کے مقابلے میں اللہ کا ذکر کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ لوگ اللہ کو بخوبی جانتے تھے ‘ اسی طرح مشرکین مکہ بھی اللہ کو مانتے تھے۔ گویا اللہ کا معاملہ ایسے لوگوں کے نزدیک آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا ہوتا ہے۔ اسی لیے تو حضرت شعیب نے فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے خاندان سے ڈرتے ہو مگر اللہ سے نہیں ڈرتے ! حضرت شعیب کے اس جواب میں قریش کے لیے یہ پیغام مضمر ہے کہ تمہیں بھی محمد رسول اللہ کی طرف سے یہی جواب ہے۔ (اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ) اللہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے۔ تم اس کی گرفت سے نکل کر کہیں نہیں جاسکتے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:92) اعز۔ عز (بمعنی عزت) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ عزت والا۔ زیادہ طاقت ور۔ علیکم۔ ای عندکم۔ اتخذتموہ۔ اصل میں اتخذتم تھا۔ ضمیر ہ کے اتصال کی بنا پر واؤ لایا گیا ہے تم نے اس کو ٹھہرایا۔ تم نے اس کو ڈال دیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ وراء کم۔ ورائ۔ مصدر ہے جس کا معنی آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ اور سواء کے ہیں۔ فصل اور حد نبوی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ ویکفرون بما وراء ہ (2:91) اور وہ انکار کرتے ہیں اس سے جو اس کے سوا ہے۔ نبذ فریق من الذین اوتوا الکتب کتب اللہ وراء ظھورہم (2:101) اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے کتاب اللہ کو اپنی پشت کے پیچھے ڈال دیا۔ پھینک مارا۔ آیت ہذا می بھی پس پشت ڈالنے۔ ناقابل لحاظ اور ناقابل اعتناء سمجھنے کے معنی میں آیا ہے اور آگے ہونے کے معنی میں قرآن میں آیا ہے۔ وکان وراء ہم ملک یاخذ کل سفینۃ غصبا۔ (18:79) اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ اوٹ اور آڑ کے معنوں میں آیا ہے او من وراء جدر (59:14) یا دیواروں کی اوٹ میں۔ ظھریا۔ بھولا بسرا۔ فراموش شدہ۔ پیٹھ پیچھے ڈالا ہوا۔ علامہ زمخشری لکھتے ہیں کہ ۔ والظھری منسوب الی الظھرو الکسر من تغیرات النسب ونظیرہ فی قولہم فی التسبۃ الی امس۔ امسی۔ ظھری ظھر کی طرف منسوب ہے۔ اور کسرہ نسبت کے تغیرات میں سے ہے۔ جیسے کہ امس (کل گزشتہ) کی نسبت کرتے ہیں تو امسی بولتے ہیں۔ منتہی الارب میں ہے امسی بکسر ہمزہ منسوب است بامس برخلاف قیاس۔ ظھریا منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے یہ مفعول ثانی ہے۔ اتخذتموہ کی ہ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول اول ہے۔ محیط۔ اسم فاعل واحد مذکر احاطۃ مصدر حوط مادہ باب افعال۔ ہر طرف سے گھیرے میں لے لینے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ وہ تمہاری مکاریوں اور حیلہ سازیوں سے واقف ہے۔ اس لئے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ (٩٢ : ١١) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ ” میری برادری تو انسانوں کا فقط ایک مجموعہ ہے۔ جس قدر بھی وہ قوی ہوں بہرحال وہ انسان ہی تو ہیں ، ضعیف مخلوق ہی تو ہیں۔ اللہ کے تو بہرحال وہ بندے اور غلام ہیں ، کیا چند لوگوں سے تم ڈرتے ہو اور اللہ سے نہیں ڈرتے ہو ، کس قدر بودی سوچ ہے تمہاری۔ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا (٩٢ : ١١) “ اور اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔ ” کسی کو چھوڑ دیتے اور کسی سے منہ پھیر دینے کا یہ نہایت ہی مخصوص انداز بیان ہے ، واضع تصویر کے انداز میں۔ چونکہ یہ لوگ اللہ سے منہ پھیرتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اس لیے ان کا یہ فعل نہایت ہی گھناؤنا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ جن اچھے حالات میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں ان کا رازق وہی تو ہے۔ گویا ان کا یہ فعل نہایت متکبرانہ ، ناسیاسی اور سفید چشمی ہے اور شرعی اعتبار سے کفر وتکذیب کا حالم ہے اور نہایت ہی برا اندازہ ہے جو انہوں نے لگایا۔ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (١١ : ٩٢) “ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے ” احاطہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ کیا گیا ہو وہ پوری طرح محیط کے قبضہ اور زیر قدرت ہوتی ہے اس سے مراد قدرت کاملہ ہے۔ ایک مومن کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں یہ بڑی جرات ہے کہ وہ اللہ کی عزت کو ہاتھ ڈالے اور اللہ کے غضب کو دعوت دے۔ اللہ کا عذاب جب جب نازل ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں قوم ، خاندان اور ملازم بےبس ہوجاتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خاندانی اور قوم قبیلے کی قوت کا تو انہوں نے اعتراف بھی کیا لیکن وہ تو مومن باللہ تھے۔ انہوں نے اس معمولی قوت کی کوئی پرواہ نہیں کی نہ اسے قابل ذکر سمجھا کہ قوم کی وجہ سے وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نہ انہوں نے قوم اور قبیلے کی قوت پر اکتفاء کیا اور یہی رویہ ایک سچے مومن کا رویہ ہوتا ہے۔ ایک سچا مومن صرف اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی صرف اللہ سے ڈریں۔ ایک مومن قوم اور قبیلے کی قوت اور عصبیت کو بھی اسلام اور رب کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی قومیت کے درمیان فرق۔ ہر دور اور زمانے میں قوم قبیلے کے بارے میں اسلام اور جاہلیت کا یہی تصور اور فرق رہا ہے۔ یہ جذبہ ایمانی اور جوش ایمان ہے جس کی تہہ میں اللہ پر بھروسے کے سواء اور کچھ نہیں ہے۔ اسی سے حضرت شعیب (علیہ السلام) اب اپنی قوم کے لوگوں کو یہ سخت چیلنج دیتے ہیں اور ان کے درمیان جدائی ہوجاتی ہے اور اب دونوں کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

80:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے جواب میں فرمایا میری قوم ! یہ کس قدر نادانی کی بات ہے کہ میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ معزز و محترم ہے۔ تم میرے قبیلے کا لحاظ کرتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کا لحاظ نہیں کرتے ہو جس کا میں پیغمبر ہوں اور تم نے اللہ کے احکام کو کمال بےاعتنائی سے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ: مگر یاد رکھو تمہارا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں اس لیے وہ تمہیں ہر ہر فعل کی پوری پوری سزا دے گا۔ وَیٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ : اچھا تم اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا نتیجہ دیکھ لو میں بھی اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا نتیجہ دیکھ لو میں بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔ عنقریب دیکھ لو گے کہ کون جھوٹا ہے اور کون رسوا کن عذاب سے ہلاک ہوتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

92 حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا اے میر قوم کیا میرا خاندان تمہاری نظر میں اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزت دار اور صاحب توقیر ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کو ب ھلا کر پس پشت ڈال دیا ہے یقینا تم جو عمل کرتے ہو وہ سب میرے رب کے احاطہ علم میں ہے۔