Surat un Naas
Surah: 114
Verse: 6
سورة الناس
مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ٪﴿۶﴾ 39
From among the jinn and mankind."
۔ ( خواہ ) وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے ۔
مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ٪﴿۶﴾ 39
From among the jinn and mankind."
۔ ( خواہ ) وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے ۔
٦ Of Jinn and An-Nas. Is this explanatory of Allah's statement, الَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ النَّاسِ Who whispers in the breasts of An-Nas. Then, Allah explains this by saying, مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ Of Jinn and An-Nas. This is supportive of the second view. It has also been said that Allah's saying, مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ Of Jinn and An-Nas, is an explanation of who is it that whispers into the breasts of mankind from the devils of mankind and Jinns. This is similar to Allah's saying, وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِىٍّ عَدُوّاً شَيَـطِينَ الاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً And so We have appointed for every Prophet enemies -- Shayatin among mankind and Jinn, inspiring one another with adorned speech as a delusion. (6:112) Imam Ahmad recorded that Ibn Abbas said, "A man came to the Prophet and said, `O Messenger of Allah! Sometimes I say things to myself that I would rather fall from the sky than say (aloud openly). ' The Prophet said, اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرٌ الْحَمْدُ للهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ Allah is Most Great! Allah is Most Great! All praise is due to Allah Who sent his (Shaytan's) plot back as only a whisper." Abu Dawud and An-Nasa'i also recorded this Hadith. This is the end of the Tafsir. All praise and thanks are due to Allah, the Lord of all that exists. Top
6۔ 1 یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں، شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات فرمائی تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور میرا مطیع ہوگیا ہے مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا (صحیح مسلم) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعتکاف فرما تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے کے لیے آئیں رات کا وقت تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں چھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بلا کر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہوسکتی تھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خوف کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ (صحیح بخاری) دوسرے شیطان، انسانوں میں سے ہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی تر غیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانوں کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں " رجال " کا لفظ بولا گیا ہے (وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا ۙ ) 72 ۔ الجن :6) اس لیے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں۔
[٣] شیطان کا انسان نفس بھی ہوسکتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے :۔ اَلجِنَّۃُ : انسان کے علاوہ دوسری مکلف مخلوق جن ّ ہے۔ جنوں میں سے کچھ نیک اور صالح بھی ہوتے ہیں اور کچھ خبیث، موذی اور بدکردار بھی۔ اس دوسری قسم کو شیطان کہتے ہیں۔ پھر شیطان کے لفظ کا اطلاق ہر موذی چیز، سرکش اور نافرمان پر بھی ہونے لگا خواہ انسان ہو یا جن یا کوئی جانور۔ مثلاً سانپ کو اس کی ایذا دہی کی وجہ سے شیطان اور جن ّاور جانّ (٢٧: ١٠) کہتے ہیں۔ پھر یہ شیطان یا خناس صرف جن اور انسان ہی نہیں ہوتے بلکہ انسان کا اپنا نفس بھی وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ جیسے فرمایا : (وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ښ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ 16) 50 ۔ ق :16) (٥٠: ١٦) چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دفعہ مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھے تھے کہ رات کو آپ کی زوجہ محترمہ صفیہ بنت حیی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ملنے کے لیے آئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں الوداع کرنے کے لیے ساتھ گئے۔ رستہ میں دو انصاری آدمی ملے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ میری بیوی صفیہ بنت حیی ہے۔ وہ کہنے لگے۔ && سبحان اللہ && (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کون شک کرسکتا ہے ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : && انَّ الشَّیْطَانَ یِجْرِیْ مِنْ ابْنِ اٰدَمَ مَجْرَی الدَّمِ && (بخاری، کتاب الاحکام۔ باب الشھادۃ تکون عند الحاکم۔۔ ) یعنی شیطان ہر انسان میں خون کی طرح دوڑتا پھرتا ہے۔ اس حدیث کی رو سے بھی انسان کے اپنے نفس کو بھی شیطان کہا گیا ہے۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبہ مسنونہ کے یہ مشہور و معروف الفاظ ہیں۔ && وَنَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أنْفُسِنَا && یعنی ہم اپنے نفوس کی شرارتوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ معوذات سے دم جھاڑ کرنا مسنون ہے :۔ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ سورة الفلق اور سورة الناس کو معوذتین کہتے ہیں اور اگر ان کے ساتھ سورة اخلاص کو بھی ملا لیا جائے تو انہیں معوذات کہتے ہیں۔ اور آپ کا معمول تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ سورتیں پڑھ کر پہلے اپنے ہاتھوں پر پھونکتے پھر ہاتھوں کو چہرہ اور جسم پر پھیرا کرتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی مرض الموت میں معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری میں شدت ہوئی تو میں معوذات پڑھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پھونکتی اور اپنے ہاتھ کے بجائے برکت کی خاطر آپ ہی کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھراتی۔ معمر نے کہا : میں نے زہری سے پوچھا (یہ دونوں اس حدیث کی سند کے راوی ہیں) کہ کیونکر پھونکتے تھے۔ انہوں نے کہا : دونوں ہاتھوں پر دم کرکے ان کو منہ پر پھیرتے (بخاری۔ کتاب الطب و المرضیٰ ۔ باب الرقی بالقرآن والمعوذات) تعویذ لکھ کر پلانا یا لٹکانا سب ناجائز اور بدعت ہے :۔ واضح رہے کہ دم جھاڑ کے سلسلے میں مسنون طریقہ یہی ہے کہ قرآن کی کوئی آیت یا آیات یا مسنون دعائیں پڑھ کر مریض پر دم کردیا جائے۔ اس کے علاوہ جتنے طریقے آج کل رائج ہیں۔ مثلاً کچھ عبارت لکھ کر یا خانے بناکر اس میں ہند سے لکھ کر اس کا تعویذ بنا کر گلے میں لٹکانا۔ یا گھول کر پانی پلانا یا بازو یا ران پر باندھنا سب ناجائز ہیں۔ بلکہ اگر قرآنی آیات یا مسنون دعائیں بھی لکھی جائیں جن میں شرک کا شائبہ تک نہ ہو تب بھی یہ خلاف سنت، بدعت اور ناجائز ہیں۔ اور ہم انہیں بدعت اور ناجائز اس لیے کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح تعویذ لکھنے لکھوانے کو اچھا سمجھتے تو اس دور میں بھی لکھوا سکتے تھے اور اس میں کوئی امر مانع نہ تھا۔ لہذا ایسے سب طریقے ناجائز اور خلاف سنت ہیں اور بدعت کی تعریف میں آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے چوتھی جلد تمام ہوئی اور قرآن مجید کی یہ تفسیر && && مکمل ہوئی
(من الجنۃ والناس :) لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان جن بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غروراً (الانعام : ١١٢) ” اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جنوں کے شیاطین کو دشمن بنادیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لئے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے ساتھ ایک جن شیطان اور ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، شیطان کا کام برائی کا وسوسہ ڈالنا اور فرشتے کا کام بھلائی کا الہام کرنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ما منکم من احد الا وقد و کل اللہ بہ قرینہ من الجن ، قالوا وایاک یا رسول اللہ ! ؟ قال وایای الا ان اللہ اعاننی علیہ فاسلم فلا یامرنی الا بخیر) (مسلم، صفۃ القیامۃ باب تحریش الشیطان…: ٢٨١٣)” تم میں سے ہر ایک کیساتھ اللہ تعالیٰ نے جنوں میں سے اس کا ایک قرین (ساتھی) مقرر کر رکھا ہے۔ “ صحابہ نے پوچھا :” یا رسول اللہ ! اور آپ کے ساتھ بھی وہ مقرر ہے ؟ “ آپ نے فرمایا :” ہاں ، میرے ساتھ بھی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابیل میں میری مدد کی ہے تو وہ تابع ہوگیا ہے اور وہ مجھے خیر کے علاوہ کوئی حکم نہیں دیتا۔ “ صحیح مسلم کی اسی حدیث میں سفیان سے مروی یہ الفاظ ہیں :(وقد و کل بہ فریتہ من الجن و قرینہ من الملائکۃ) (مسلم صفۃ القیامۃ ، باب تحریش الشیطان …: ٢٨١٣)”(ہر آدمی کے ساتھ) جنوں سے اس کا قرین (ساتھی ) اور فرشتوں سے اس کا قرین (ساتھی) مقرر کیا گیا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو انصار صحابہ سے فرمایا :(ان الشیطان یجزی من الانسان مجری الدام، وانی خثیث ان یفدف فی قلوبکما سوء ا او قال شیئاً ) (بخاری، بدء الخلق ، باب صفۃ ابلیس و جنودہ : ٣٢٨١)” شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں ڈرا کر وہ تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ، یا فرمایا کوئی چیز ڈال دے گا۔ “ شیطان اور اس کا جنی قبیلہ انسانوں کی نگاہوں سے مخفی رہ کر فتنہ انگیزی کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ (دیکھیے انعام : ٢٧) رہے انسانی شیطان تو وہ ہمیشہ چھپ کر تو حملہ آور نہیں ہوس کتے، مگر اپنی باتوں اور طرز عمل سے وسوسہ ڈالتے اور دل میں برائی کا بیج بو دیتے ہیں۔ دوسرے وسوسہ ڈالنے والوں کے علاوہ انسان کا اپنا نفس بھی وسوسہ ڈلاتا ہے۔ اس کی غلط خواہشات اور بد اعمالیوں اسے برائیکے لئے اکساتی اور ابھارتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولقد خلقنا الانسان و نعلم ماتوسوس بہ نفسہ) (ق : ١٦)” اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے :(ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا) (ابن ماجہ، النکاح ، باب خطبۃ النکاح : ١٨٩٢، ترمذی : ١١٠٥، وصححہ الالبانی)” اور ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ “ ان تمام وسوسہ ڈالنے والوں سے، خواہ وہ شیاطین الجن ہوں یا شیاطین الانس یا خود آدمی کا نفس ہو، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے، کیونکہ وہی ان کے شر سے بچا سکتا ہے۔
Verse [ 114:6] مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (whether from among the Jinn or Mankind.) This is explicative of the expression waswas occurring in verse [ 4], meaning that the devils from amongst mankind and the Jinn whisper into the breasts of mankind. Thus the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been enjoined to constantly seek protection against the mischief of sneaking devils, whether from amongst the Jinn or from amongst human devils. A question may arise here. It is obvious that the Shaitans can cast a voiceless evil prompting furtively into the hearts of people, but how the human devils can cast evil whisperings? They come forward publicly and use their voice, which is not waswasah [ whisper ]. The answer is that human beings too often cast doubts in the minds of people in an indirect way without uttering them explicitly. Shaikh ` Izzuddin Ibn ` Abdus-Salam states, in his monograph &al-Fawa&id fi Mushkilat-il-Qur&an&, that the &whisperer from mankind& refers to the whispering of one&s own nafs (base faculties of the man himself). Just as the Shaitan casts evil thoughts into man&s mind, likewise the base self of man urges him to do evil works. That is why the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has directed us to seek protection in Allah from the evil of our own self in the following supplication: اللَّھُمَّ اَعُوذُ بِکَ مِن شَرِّ نَفسِی وَ شَرِّ الشَّیطَانِ وَ شِرکِہٖ |"0 Allah! I seek asylum in You from the evil of myself, from the evil of the Shaitan and from the evil of idolatry.|" The Importance of Seeking Protection against Shaitanic Whisperings Ibn Kathir states that Allah invokes three of His attributive names in this Surah, rabb [ Lord ], malik [ King ] and ilah [ God ], and instructs man to seek refuge with Him against diabolical whisperings, because a Shaitanic companion is attached to every man, and at every step of the way, the latter&s attempt is to destroy the former in different ways. First of all, he induces him to commit sins, and paves the way for him to willfully violate the Divine laws and injunctions. If he does not succeed in this, he tries to contaminate and destroy his acts of obedience and worship by casting the thoughts of dissimulation, hypocrisy, pride and arrogance. He attempts to create doubts about authentic beliefs and doctrines of Islam in the minds of the learned scholars. The only one who can be saved from the evil of such Shaitanic pranks is the one whom Allah gives His protection. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: |"There is not a single one of you, but his companion [ a devil ] has been assigned to him.|" The Companions enquired: &Is such a devil companion joined to you also, O Messenger of Allah?& He replied: &Yes. However, Allah has helped me against him and he has become submissive to me. As a result, he only commands me to do good.& It is also confirmed in the two Sahihs from Sayyidna Anas (رض) ، who reported the story of Sayyidah Safiyyah (رض) . Once while the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was performing I&tikaf in the mosque, one of his wives Sayyidah Safiyyah (رض) paid him a visit. When she decided to leave, he gave her company to the boundaries of the mosque. On the way, two men of the Ansar saw them together, The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Wait! This is Safiyyah bint Huyayy [ my wife ]!|" The two Companions exclaimed: سُبحَانَ اللہ |"Pure is Allah, 0 Messenger of Allah, [ how can we have ill thoughts about you?] |" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) replied: |"Indeed, the devil runs through man&s veins like the blood circulates. I feared that he might whisper evil thoughts in your minds. [ That is why I had to call you and clarify that the lady with me was no other than my own wife.] |" Special Note Just as it is necessary for man to avoid evil deeds, it is essential for Muslims to avoid occasions that may cause others to have ill thoughts about them. Should there arise an occasion which may give rise to such bad thoughts, they should immediately clarify the situation, and put an end to it then and there. In sum: This Tradition indicates that Shaitanic pranks are highly dangerous. It is not easy to avoid them unless we seek refuge with Allah. A Clarification There are two types of evil thoughts: [ 1] voluntary; and [ 2] involuntary. Here we are warned against voluntary thoughts that proceed from the will or from one&s own free choice. The involuntary thoughts are thoughts that occur without one&s will or free choice. Such thoughts come to mind involuntarily and pass away. They are not harmful, nor are they sinful as long as they do not act upon them or speak about them. A subtle difference between the two Surahs of Mu&awwadhatain In the present Surah, rabb [ Lord ], malik [ King ] and ilah [ God ], three Divine attributes have been invoked, while the evil from which protection is sought is only one, that is, the whispering. Conversely, in the previous Surah, only one attribute of Allah is mentioned, that is, rabb-il-falaq [ Lord of the daybreak ], but the evils from which protection is sought are many which are mentioned in three verses. This goes to show that the mischief of the Shaitan is the worst type of evil. The hardships and calamities that befall man in this world, affect his body and mundane affairs, unlike the Shaitanic pranks which affect man&s mundane affairs as well his affairs of the Hereafter. The Shaitan is always after destroying man&s after-life, and that is the most dangerous situation. If man suffers from physical injury or harm, he can find cure or remedy for it; but because the Shaitan lurks or lies hidden in ambush in every nook and corner of man&s life to assault him unnoticed and pull him downwards, away from the Divine, it is not possible to resist him except with the protection granted by Allah. (Therefore, protection from him is sought by invoking three attributes of Allah.) Human and Shaitanic Enemies: their differential treatments One may have some enemies from mankind, and some from Shaitanic origin. The Holy Qur&an has directed us to deal with these two kinds of enemies in different ways. Ibn Kathir in the preface of his commentary of the Holy Qur&an has cited three verses of the Holy Qur&an pertaining to this subject. All three of them have two parts. In the first part, Allah has instructed man to treat his human enemy with kindness, politeness, patience, mercy and compassion. If he does not desist from his evil ways, then jihad is prescribed in other verses. We need to wage armed struggle against the devilish elements of human society. But the only way to resist the Shaitanic enemy is to seek refuge with Allah. The first verse to this effect is in Surah Al-A` raf [ 7:199]: خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (Take to forbearance, and bid the Fair and ignore the ignorant.) This pertains to defense against human enemy: In other words we need to grant courteous allowance for his offence, bid him to do good and forego revenge against injustice he might have committed. We must be easy in dealing with him and avoid causing him difficulty. This injunction is defence against human enemy and must be carried out in the first instance. But the next verse [ 7:200] of the same Surah pertains to the Shaitanic enemy as follows: وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ |"And if you are stricken with a strike from the Shaitan, seek refuge with Allah. Surely He is All-hearing, All-knowing.|" In other words, if an evil suggestion comes to us from the Shaitanic enemy, then we need to seek refuge in Allah. The second verse is in Surah Al-Mu&minun [ 23:96-98]: ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ |"Repel evil with that which is best. وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ And say: &0 my Lord, I seek Your refuge from the strokes of the Shaitans, and I seek Your refuge from that they come to me|". In the first sentence of these verses, the direction is given to repel the evil caused by human beings with good behavior. But, when it comes to repel the evil caused by Shaitan, the direction given is to seek refuge in Allah. The third verse dealing with the same subject is:[ 41:34] ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ Repel (evi) with what is best, and you will see that the one you had mutual enmity with him will turn as if he were a close friend.|" [ 34] |" This part of the verse directs how to repel the evil caused by human enemy. If we repel evil deed with a better deed, it would be possible for us to win over our human enemies and they would become our most devoted friends. As opposed to a human enemy, the other part of the situation is contained in the next verse [ 36]. It deals with the slinking devil who is invisible, but effective in his attack. The verse reads: وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ |"And should a stroke from Shaitan (Shaitan) strikes you, seek refuge with Allah. Surely, He is the All-Hearing, the All-Knowing.|" [ 41:36] The wordings of this verse are more or less the same as they occur in Surah Al-A` raf. In other words, if an evil suggestion comes to us from the Shaitan, we are required to seek refuge in Allah, because that is the only defensive weapon against the invisible slinking, sly and cunning enemy. [ Ibn Kathir ] In sum, all three sets of verses discussed above enjoin that a human enemy needs to be treated at first kindly, politely, patiently and compassionately, because human nature was in the primordial state created uncorrupted, and as such kindness, politeness, mercy and pardon could subdue him. However, human beings who have lost their primordial state of innocence, and are deeply sunk in the ocean of ignorance, the passions and the vices of the lower self or base self drag man downwards away from Allah. Some have become infidels, unbelievers and tyrants. They have thus become frontal enemies and come out armed with weapons of war to wage a frontal combat against the believers. The Qur&an prescribes in other verses that such human enemies should be repelled by force of arms. Unlike the accursed Shaitan, he is evil in his primal nature, and as such kindness, compassion and pardon does not bring a good effect on him. It is also impossible to have an armed conflict with him. So, the only defence against such an enemy is the celestial weapon of dhikrullah [ Allah&s Remembrance ] and ta&awwudh [ seeking refuge with Allah ], with which the entire Qur&an is replete and the Qur&an appropriately ends with it. Moreover, while dealing with a human enemy, a believer is never a loser. If he overcomes the enemy and prevails upon him, his victory is obvious. If the enemy overcomes him or even kills him, then too he will attain high rewards, and a high degree of martyrdom in the Hereafter which is far better than any worldly attainments. In other words, if a believer is defeated by a human enemy he has not lost anything nor is he harmed in anyway. But the case of the Shaitanic enemy is totally different. It is sinful to flatter him or please him; and if someone is defeated by him, it is to destroy his entire future in the Hereafter. This is the reason why the best defensive weapon against him is to seek refuge in Allah. This celestial weapon is so powerful and potent that all Shaitanic guile and treacherous cunning or craft are rendered weak and ineffective. The Guile of Shaitan is Feeble On account of the reasons given above, it may not be misunderstood that fighting the Shaitan is difficult. To dispel this misunderstanding, Allah has said: إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا |"...No doubt, the guile of the Shaitan is feeble.|" (4:76) It is further clarified in Surah An-Nahl: فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿٩٨﴾ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿٩٩﴾ إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ ﴿١٠٠﴾ |"So, when you recite the Qur&an, seek the protection of Allah against Shaitan, the accursed. He is such that he has no power over those who believe in Allah and place trust in their Lord. His power is only over those who befriend him and those who associate partners with Him. [ 16:98-1001|" Please see Ma’ ariful Qur&an, Vol. 5/pp 412-415 for concise commentary and fuller details of related rulings. Relationship between the Prologue and the Epilogue of the Qur’ an Allah prefaced the Qur&an with Surah Al-Fatihah which began with His Personal name. It further described His predominant attributes as being Rabb or Maintainer of the universe; as being the All-Merciful and Very Merciful and the Sole Judge of rights and wrongs. It defined religion as being His worship alone and imploring Him alone for help - all else being powerless in comparison. It further taught man to pray for true guidance so that he is able to find the right path, and be established in it. He is taught to pray to be saved from being among those who are condemned and those who have lost the right path after having received it. These factors serve the purpose of man&s success and prosperity in this world and in the next world that is the Hereafter. However, in the process of achieving this purpose man is obstructed by the accursed Shaitan. He lays various traps inconspicuously utilizing people&s different weak points, their sensual and unhealthy desires which he detects and exploits. The Shaitanic traps or snares need to be shattered or broken to pieces. Seeking refuge in Allah is the only effective protection against these evil powers. That is why the Qur&an most fittingly ends on this. Conclusion All Thanks are due to Allah that the tafsir of the noble Qur&an has ended with the grace of Allah, and His kindness and help. Praise be to Allah from the beginning to the end, outwardly and inwardly non-manifestly and manifestly. We would not have found the way, had Allah not guided us. May Allah shower His blessings upon the best of creation, Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، His chosen Messenger, the Seal and the leader of the Prophets and Messengers (علیہم السلام) . Upon him and the other Messengers be His blessings and peace, upon his family and his Companions, all of them. 0 &Our Lord, accept from us! Indeed, You - and You alone - are the All-Hearing, the All-Knowing! This work completed on Saturday morning 21st of Sha` ban 1392 AH. Co-incidentally, this is the day I was born. I completed 77th year of my life and turned 78 years old. I pray to Allah and hope that the last days of my life would be the best part of my life, doing the best deeds; and that the best days of my life would be the day when I meet my Lord with the blessing of His clear Book and His trustworthy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and that the efforts of this humble servant would be accepted, whose soul was exhausted by ailments, grief, distress and anxieties, and lack of strength; and that He would pardon my errors and shortcomings if the obligations toward His noble Book were not fulfilled; and that the Muslims would benefit by it for aeons of time; and that He makes this work a treasure-trove for the Day when there will be no trading and no friendship, when neither wealth nor family will be of any help. My ability and help to do things come from Him. Pure is Allah; praise be to Him; Pure is Allah, the Great! The 8th volume of Tafsir of Ma’ ariful Qur&an was revised between 3rd of Ramadan 1392 AH and Friday 10th of Shawwal 1392 AH, taking about forty days. Praise be to Allah! Alhamdulillah, the revision of the English version is completed on the night of 29 Ramadan 1424 A.H. corresponding to 25 November, 2003. May Allah bless this humble effort with His approval and pleasure, and make it beneficial for the readers. &Amin صَدَقَ اللہ العَظِیم Sadaq Allah-u1-` Azim وَ صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّینَا ، مُحَمَّدِ وَ عَلَیٰ آلِہٖ وَ صَحبِہٖ وَ سَلَّم Wa sallallahu ` ala nabiyyina Muhammadin wa ` ala ` Alihi wa sahbihi wa sallam. Alhamdulillahil-ladhi Ibni&matihi tatimmussalihat The translation of the text of the Holy Qur&an completed on 16 Rabi` ul-Awwal 1424 A.H. corresponding to 19 May 2003 at Karachi on 11:25 forenoon. Muhammad Taqi Usmani, May Allah forgive him, and accept this humble effort in the service of the Holy Qur&an, His eternal book of guidance. May Allah give us tawfiq to recite it, understand. Alhamdulillah The Commentary on Surah An-Nas Ends he
من الجنتہ والناس :۔ یہ بیان ہے وسو اس کا یعنی وسوسہ ڈالنے والے جنات میں سے بھی ہوتے ہیں، اور انسانوں میں سے بھی، تو حاصل اس کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی تلقین فرمائی کہ اللہ سے پناہ مانگیں جنات شیطاطین کے شر سے بھی اور انسانی شیاطین کے شر سے بھی۔ اگر یہ شبہ ہو کہ وسوسہ جناتی شیاطین کی رف سے ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ مخفی طور پر انسان کے قلب میں کوئی مخفی کام ڈال دلیں، مگر انسانی شیاطین تو کھلم کھلا سامنے آ کر بات کرتے ہیں ان کا وسوسہ سے کیا تعلق ہے تو جواب یہ ہے کہ انسانی شیاطین بھی اکثر ایسی باتیں کسی کے سامنے کرتے ہیں جن سے اس کے دل میں کسی معاملے کے متعلق ایسے شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں جن کو وہ صراحتہ نہیں کہتے اور شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے اپنی کتاب (الفوائد فی مشکلات القرآن) میں فرمایا کہ انسانی شیطان کے شر سے مراد خود اپنے نفس کا وسوسہ ہے کیونکہ جس طرح شیطان جن انسان کے دل میں برے کاموں کی طرف رغبت ڈالتا ہے اسی طرح خود انسان کا اپنا نفس بھی برے ہی کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنے نفس کے شر سے بھی پناہ مانگنا سکھلایا ہے حدیث میں ہے اللھم اعوذ بک من شر نفسی و شرالشیطان وشرکہ، یعنی یا اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے بھی اور شیطان کے شر اور شرک سے بھی۔ شیطانی وساوس سے پناہ مانگنے کی بڑی اہمیت :۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں انسان کو اس کی تلقین فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تین صفتیں (ب، ملک، الہ ذکر کر کے اس سے شیطانی وساوس اور وسائس سے پناہ مانگنا چاہئے کیونکہ ہر انسان کے ساتھ ایک قرین (ساتھی) شیطان لگا ہوا ہے جو ہر قدم پر اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ انسان کو تباہ و برباد کر دے، اول تو اس کو گناہوں کی رغبت دیتا ہے اور طرح طرح سے اس کو بہلا کر گناہوں کی طرف لیجاتا ہے، اگر اس میں کامیاب نہ ہوا تو انسان جو طاعات و عبادت کرتا ہے اس کو خراب اور ضائع کرنے کے لئے ریاء و نمود اور غرور وتکبر کے وسوسے سے دل میں ڈالتا ہے علم والوں کے دلوں میں عقائد حقہ کے متعلق شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے شر سے وہی بچ سکتا ہے جس کو اللہ ہی بچائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی ایسا نہیں جس پر اس کا قرین (ساتھی) شیطان مسلط نہ ہو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا آپ کے ساتھ بھی یہ قرین ہے۔ فرمایا، ہاں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری اعانت فرمائی اور اس کو ایسا کردیا کہ وہ بھی مجھے بجز خیز کے کسی بات کو نہیں کہتا۔ صحیحین میں حضرت انس کی حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں معتکف تھے ایک رات میں ام المومنین حضرت صفیہ آپ کی زیارت کے لئے مسجد میں گئیں واپسی کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ ہوئے، گلی میں دو انصاری صحابی سامنے آگئے تو آپ نے آواز دے کر فرمایا، ٹھہرو میرے ساتھ صفیہ بنت حیی ہیں، ان دونوں نے بکمال ادب عرض کیا سبحان اللہ یا رسول اللہ (یعنی کیا آپ نے ہمارے بارے میں یہ خیال کیا کہ ہم کوئی بدگمانی کریں گے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک کیونکہ شیطان انسان کے خون کے ساتھ اس کی رگ و پے میں اثر انداز ہوتا ہے، مجھے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ بدگمانی کا پیدا کر دے (اس لئے میں نے بتلا دیا کہ کوئی غیر عورت میرے ساتھ نہیں) فائدہ :۔ جیسا کہ خود برے کاموں سے بچنا انسان کے لئے ضروری ہے اسی طرح مسلمانوں کو اپنے بارے میں بدگمانی کا موقع دینا بھی درست نہیں، ایسے مواقع سے بچنا چاہئے جس سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہو اور کوئی ایسا موقع آجائے تو بات واضح کر کے تہمت کے مواقع کو ختم کردینا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث نے شیطانی وسوسہ کا بڑا خطرناک ہونا ثابت کیا ہے جس سے بچنا آسان نہیں۔ بجز خدا کی پناہ کے۔ تنبیہ :۔ یہاں جس وسوسہ سے ڈرایا گیا ہے اس سے مراد وہ خیال ہے جس میں انسان با اختیار خود مشغول ہو اور غیر اختیاری وسوسہ و خیال جو دل میں آیا اور گزر گیا وہ کچھ مضر نہیں، نہ اس پر کوئی گناہ ہے۔ لطیفہ، سورة فلق اور ناس کے تعوذات میں ایک فرق :۔ سورة فلق میں تو اللہ تعالیٰ ، جس کی پناہ مانگی گئی ہے اس کی صرف ایک صفت پر اکتفا کیا گیا یعنی رب الفلق، اور جن چیزوں سے پناہ مانگی گئی وہ بہت ہیں جن کو اولا من شرما خلق میں اجمالا ذکر کیا، پھر ان میں سے خاص تین آفات کو الگ بیان فرمایا اور سورة ناس میں جس چیز سے پناہ مانگی گئی ہے وہ تو صرف ایک ہی ہے یعنی وسواس اور جس کی پناہ مانگی ہے اس کی اس جگہ تین صفات بیان کر کے پناہ کی دعا کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا شر سب شرور و آفات سے بڑھا ہوا ہے، اول تو اس لئے کہ اور آفات و مصائب کا اثر تو انسان کے جسم اور دنیاوی امور پر پڑتا ہے بخلاف شیطان کے کہ یہ انسان کی دنیا کی آفات کا تو کچھ نہ کچھ علاج مادی بھی انسان کے قبضہ میں ہے اور وہ کرتا رہتا ہے بخلاف شیطان کے کہ اس کے ماقبلے کی کوئی مادی تدبیر انسان کے بس کی نہیں، وہ تو انسان کو دیکھتا ہے انسان اس کو نہیں دیکھتا وہ انسان کے باطن میں غیر معلوم طریقہ پر تصرف کرنے کی قدرت رکھتا ہے اس کا علاج صرف اللہ کا ذکر اور اس کی پناہ لینا ہے۔ انسان کے دو دشمن، انسان اور شیطان اور دونوں دشمنوں کا الگ الگ علاج :۔ انسان کا دشمن انسان بھی ہوتا ہے اور شیطان بھی اس کا دشمن ہی حق تعالیٰ نے انسانی دشمن کو اول تو حسن خلوق اور مدارات اور ترک انتقام و صبر کے ذریعہ رام کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور جواں تدبیروں سے باز نہ آئے اس کے ساتھ جہاد و قتال کا حکم دیا ہے۔ بخلاف دشمن شیطانی کے اس کا مقابلہ صرف استعاذہ اور اللہ کی پناہ لینے سے تلقین کیا گیا ہے۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں قرآن کریم کی تین آیتیں اس مضمون کی لکھی ہیں جن میں ان دونوں دشمنوں کا ذکر کر کے انسانی دشمن کا دفاع حسن خلق ترک انتقام اور اس کے ساتھ احسان کا سلوک کرنا بتلایا اور اس کے مقابلے میں شیطان کا دفاع استعاذہ تلقین فرمایا، ابن کثیر نے فرمایا کہ پورے قرآن میں یہ تین ہی آیتیں اس مضمون کی آئی ہیں۔ ایک آیت سرہ اعراب میں ہے کہ اول فرمایا، خذ العفو وا امر بالعرف و اعرض عن الجھلین یہ تو انسانی دشمن کے مقابلے کی تدبیر ارشاد فرمائی جس کا حاصل عفو و درگزر اور اس کو نیک کام کی تلقین اور اس کی برائی سے چشم پوشی بتلائی۔ اسی آیت میں آگے فرمایا واما ینزعنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ ان سمیع علیم یہ تلقین دشمن شیطانی کے مقابلے میں فرمائی جس کا حاصل اللہ سے پناہ مانگنا ہے۔ دوسری آیت سورة قد افلح المومنون میں اول دشمن انسانی کے مقابلے کے علاج میں فرمایا ادفع بالتھی احسن السئتہ یعنی برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرو پھر دشمن شیطانی کے مقابلے کے لئے فرمایا وقل رب اعوذ بک من ھمزت الشیطین واعوذ بک رب ان یحضرون یعنی اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کی چھیڑ سے اور اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں اور تیسری آیت سورة حم سجدہ کی ہے جس میں اول دشمن انسانی کی مدافعت کے لئے ارشاد فرمایا ادفع بالتی ھی احسن فاذ الذین بینک وبینہ عداوة کانہ ولی حمیم یعنی تم برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرو اگر ایسا کرلو گے تو مشاہدہ ہوگا کہ تمہارا دشمن تمہارا مخلص دوست بن جائیگا۔ اسی آیت میں دوسرا جز دشمن شیطانی کے مقابلے میں یہ فرمایا واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ انہ ھو السمیع العلیم یہ تقریباً وہی الفاظ ہیں جو سورة اعراف میں شیطان کے مقابلے کے لئے ارشاد فرمائے ہیں اور حاصل اس کا یہ ہے کہ اس کا مقابلہ بجز استعاذہ کے کچھ نہیں (ابن کثیر) ان تینوں آیتوں میں انسانی دشمن کا علاج عفو و درگزر اور حسن سلوک سے بتلایا گیا ہے کیونکہا نسانی فطرت یہی ہے کہ حسن خلق اور احسان سے مغلوب ہوجاتا ہے اور جو شریر النفس فطری انسانی صلاحیت کھو بیٹھے ہوں ان کا علاج دوسری آیات میں جہاد و قتال بتلایا گیا ہے کیونکہ وہ کھلے دشمن ہیں، کھلے ساز و سامان کے ساتھ سامنے آتے ہیں انکی قوت کا مقابلہ قوت سے کیا جاسکتا ہے۔ بخلاف شیطان العین کے کہ وہ اپنی فطرت میں شریر ہے احسان اور عفور و درگزر اس پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈالتا ہے جس سے یہ اپنی شرارت سے باز آجائے اور نہ ظاہری مقابلہ اس کا جہاد و قتال سے ہوسکتا ہے یہ دونوں قسم کی نرم و گرم تدبیریں صرف انسانی دشمن کے مقابلے میں چلتی ہیں شیطان کے مقابلے میں نہیں چلتی اس لئے اس کا علاج صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا اور ذکر اللہ میں مشغول ہوجانا ہے جو پورے قرآن میں تلقین کیا گیا ہے اور اسی پر قرآن کو ختم کیا گیا ہے۔ انسانی اور شیطانی دشمن کے مقابلے میں انجام کے اعتبار سے بڑا فرق :۔ اوپر قرآنی تعلیمات میں انسانی دشمن کا دفاع اول احسان اور صبر جمیل سے بتلایا گیا ہے اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو جہاد و قتال سے اور دونوں صورتوں میں مقابلہ کرنے والا مومن کامیاب ہی کامیاب ہے بالکل ناکامی مومن کے لئے ممکن ہی نہیں کیونکہ دشمن سے مقابلہ میں یہ غالب آ گیا تب تو اس کی کامیابی کھلی ہوئی ہے اور اگر شکست کھا گیا یا مقبول بھی ہوگیا تو آخرت کا اجر وثواب اور شہادت کے فضائل اس کو اتنے بڑے ملیں گے جو دنیا کی کامیابی سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ غرض انسانی دشمن کے مقابلے میں ہار جانا بھی مومن کے لئے کوئی مضرت نہیں، بخلاف شیطان کے کہ اس کی خوشامد اور اس کو راضی کرنا بھی گناہ ہے اور اس کے مقابلے میں ہار جانا تو آخرت کو تباہ کرلینا ہے یہی وجہ ہے جس کے لئے دشمن شیطانی کی مدافعت کے واسطے حق تعالیٰ ہی کی پناہ لینا علاج ہے اس کی پناہ کے سامنے شیطان کی ہر تدبیر ضعیف و بےاثر ہے۔ کید شیطانی ضعیف ہے :۔ مذکورہ وجود سے کسی کہ یہ خیال نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کی طاقت بڑی ہے اس کا مقابلہ مشکل ہے اسی خیال کو دفع کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ان کید الشیطن کان ضعیفاً اور والوں اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں پر یعنی اللہ کی پناہ لینے والوں پر شیطان کا کوئی تسلط نہیں ہوتا ارشاد ہے فاذا قرات القران فاسعذ باللہ من الشیطن الرجیم، انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون، انما سلطنہ علی الذین یتولونہ والذین ھم بہ مشرکون، یعنی جب تو قرآن پڑھنے لگے تو پناہ لے اللہ کی شیطان مردود سے اس کا زور نہیں چلتا ان پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا زور تو انہی پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اس کو شریک مانتے ہیں۔ سورة نحل کی تفسیر معارف القرآن جلد پنجم ص 387 میں اس آیت کی پوری تشریح اور استعاذہ کے مسائل اور شرعی احکام کی تفصیل گزر چکی ہے اس کو دیکھ لیا جاوے۔ قرآن کریم کے فاتحہ اور خاتمہ میں مناسبت :۔ قرآن کریم کو حق تعالیٰ نے سورة فاتحہ سے شروع فرمایا ہے جس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد اس کی مدد حاصل کرنا اور اس سے صراط مستقیم کی توفیق مانگنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور صراط مستقیم یہی دو چیزیں ہیں جن میں انسان کی دنیا و دین کے سب مقاصد کی کامیابی مضمر ہے۔ لیکن ان دونوں چیزوں کے حصول میں اور حصول کے بعد اس کے استعمال میں ہر قدم پر شیطان لعین کے مکرو فریب اور وسوسوں کا جال بچھا رہتا ہے اس لئے اس جال کو پاش پاش کرنے کی مؤ ثر تدبیر استعاذہ پر قرآن کو ختم کیا گیا۔ وباختتامہ تم بحمد اللہ وفضلہ وکرمہ وعونہ تفسیر القرآن الکریم واللہ الحمد اولہ، واخرہ وظاہر و باطنہ، فما کنا لنھتدی الیہ لولا ان ھدنا اللہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ خیر خلقہ و صفوة رسلہ و امام انبیاء محمد خاتم النبین وسید المرسلین علیہ وعلیھم صلوات اللہ وسلامہ وعلی الہ و اصحابہ اجمعین ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و ذلک فی الحادی والعشرین من شعبان 1392 ھ ضحوة یوم السبت و من غریب الاتفاق ان ھذا الیوم ھوالیوم الذی ولدت فیہ فی ھذا الیوم تمت من عمر ھذا العبد الضعیف الجانی علی نفسہ سبعة وسبعون سنتہ واخذت فی الثامن والسبعین واللہ سبحانہ، وتعالیٰ ادعو وارجو ان یجعل خیر عمری اخرہ وخیر عملی خواتیمہ، وخیر ایامی یوم القاہ فیہ ببرکتہ المبین ونبیہ الامین وان یتقل منی جھد المقل الذی اتعبت فیہ نفسی فی امراض و ھموم و ضعیف القوی وما ھوالا بتوفیقہ وعونہ وان یغفرلی خطیاتی وتقصیراتی فی حقوق کتابہ الکریم وان ینفع بدرالمسلمین الی امد بعید وان یجعلہ ذخراً الیوم لابیع فیہ ولا خلال ولایجدی فیہ مال ولا ال فسبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم وتم النظر الثانی علی المجلد الثامن من تفسیر معارف القران یوم الجمعتہ عاشر شوال 1392 بعد ما اخذت فیہ لثالث رمضان 1392 ھ فکان فی نحواربعین یوما واللہ الحمد
مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ٦ ۧ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنة جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو ) یا انسانوں میں سے وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا ۔
آیت ٦{ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ۔ } ” خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ “ انسان کے دل و دماغ پر شیطانی وساوس کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کی وضاحت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے ملتی ہے۔ اُمّ المومنین حضرت صفیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (اِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ) (١) ” شیطان انسان کے وجود میں خون کی مانند گردش کرتا ہے “۔ گویا شیطان نفس انسانی کے اندر موجود حیوانی شہوات اور سفلی داعیات (فرائیڈ اسے id یا libido کا نام دیتا ہے) کو بھڑکاتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ شیطان اپنی تھوتھنی انسان کے دل پر رکھ کر پھونکیں مارتا ہے اور اس طرح اس کے جذبات و شہوات میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو انسان کے دل میں وسوسے پیدا کرنے اور اس کے جذبات کو انگیخت دینے کی حد تک اختیار دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسان سے زبردستی کوئی عمل کرانے کا اختیار اسے نہیں دیا گیا۔ بہرحال نفس انسانی بعض اوقات شیطان کے بہکاوے میں آکر متعلقہ انسان کے لیے شیطان کا نمائندہ بن جاتا ہے اور پھر بالکل شیطان ہی کی طرح اس کے دل میں وسوسہ اندازی شروع کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة قٓ میں ارشاد فرمایا ہے : { وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ } (آیت ١٦) ” اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے “۔ ایسے نفس انسانی کو سورة یوسف (علیہ السلام) کی آیت ٥٣ میں ” نفس امارہ “ کا نام دیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے اہم اور بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ شیطان اسی دل پر اپنی تھوتھنی رکھ کر پھونکیں مارتا ہے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے جو دل اللہ کی یاد سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو دل اللہ کی یاد میں مشغول اور اس کے ذکر سے معمور ہوتا ہے شیطان اس سے دور رہتا ہے۔ بہرحال شیطان کے تمام وسوسے اور حربے انسان کے اپنے نفس کے ذریعے سے ہی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ سورت خصوصی طور پر شیطانی وساوس کے توڑ کے لیے نازل ہوئی ہے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایّاکم بالآیات والذّکر الحکیم oo
3 According to some scholars, these words mean that the whisperer whispers evil into the hearts of two kinds of people: the jinn and the men. If this meaning is admitted, the word nas would apply to both jinn and men. They say that this can be so, for when the word rijali (men) in the Qur'an has been used for the jinn, as in Al-Jinn: 6, and when nafar can be used for the group of jinn, as in A1-Ahqaf: 29, men and jinn both can be included metaphorically in the word nas also. But this view is wrong because the words nas, ins and ihsan are even lexically contrary in meaning to the word jinn. The actual meanutg of jinn is hidden creation and jinn is called jinn because he is hidden from man's eye. On the contrary, the words nas and ins are spoken for insan (man) only on the basis that he is manifest and visible and perceptible. In Surah Al-Qasas: 29, the word anasa has been used in the meaning of ra a, i.e. "the Prophet Moses saw a fire in the direction of Tur. " In Surah An-Nisa': 6, the word anastum has been used in the meaning of ahsastum or ra aytum (i.e. if you perceive or see that the orphans have become capable) . Therefore, nas canot apply to jinn lexically, and the correct meaning of the verse is: "from the evil of the whisperer who whispers evil into the hearts of men, whether he be from among the jinn or from the men themselves." In other words, whispering of evil is done by devils from among jinn as well as by devils from among rnen and the prayer in this Surah has been taught to seek refuge from the evil of both. This meaning is supported by the Qur'an as well as by the Hadith. The Qur'an says: "And so it has always been that We set against every Prophet enemies from among devils of men and devils of jinn, who have been inspiring one another with charming things to delude the minds." (Al-An'am :112) And in the Hadith, lmam Ahmad, Nasa'i, and Ibn Hibban have related on the authority of Hadrat Abu Dharr a tradition, saying: "I sat before the Holy Prophet (upon whom be peace) , who was in the Mosque. He said: Abu Dharr, have you performed the Prayer? I replied in the negative. He said: Arise and perform the Prayer. So, I performed the Prayer. The Holy Prophet said: O Abu Dharr, seek Allah's refuge from the devils of men and the devils of jinn. I asked. are there devils among rnen also? O Messenger of Allah! He replied: Yes."
سورة الناس حاشیہ نمبر : 3 بعض اہل علم کے نزدیک ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ ڈالنے والا دو قسم کے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ، ایک جن ، دوسرے انسان ۔ اس بات کو اگر تسلیم کیا جائے تو لفظ ناس کا اطلاق جن اور انسان دونوں پر ہوگا ۔ وہ کہتے ہیں ایسا ہوسکتا ہے ، کیونکہ قرآن میں جب رجال ( مردوں ) کا لفظ جنوں کے لیے استعمال ہوا ہے ، جیسا کہ سورہ جن آیت 6 میں ہم دیکھتے ہیں ، اور جب نَفَر کا استعمال جنوں کے گروہ پر ہوسکتا ہے جیسا کہ سورہ احقاف آیت 29 میں ہوا ہے ، تو مجازا ناس کے لفظ میں بھی انسان اور جن دونوں شامل ہوسکتے ہیں ۔ لیکن یہ رائے اس لیے غلط ہے کہ ناس اور انس اور انسان کے الفاظ لغت ہی کے اعتبار سے لفظ جن کی ضد ہیں ۔ جن کے اصل معنی پوشیدہ مخلوق کے ہیں اور جن کو جن اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی آنکھ سے مخفی ہے ۔ اس کے برعکس ناس اور انس کے الفاظ انسان کے لیے بولے ہی اس بنا پر جاتے ہیں کہ وہ ظاہر اور مرئی اور محسوس ہے ۔ سورہ قصس آیت 29 میں ہے اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ ۔ یہاں آنَسَ کے معنی رَاَی ہیں ، یعنی حضرت موسی نے کوہ طور کے کنارے آگ دیکھی ۔ سورہ نساء آیت 6 میں ہے فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا ۔ اگر تم محسوس کرو کہ یتیم بچے اب ہوشمند ہوگئے ہیں ۔ یہاں انستم کے معنی احسستم یا رایتم ہیں ۔ پس ناس کا اطلاق لغر عرب کی رو سے جنوں پر نہیں ہوسکتا ، اور آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ اس وسوسہ انداز کے شر سے جو انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے ، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا خود انسانوں میں سے ۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وسوسہ اندازی کا کام شیاطین جن بھی کرتے ہیں اور شیاطین انس بھی ، اور دونوں کے شر سے پناہ مانگنے کی اس سورہ میں تلقین کی گئی ہے ۔ اس معنی کی تائید قرآن سے بھی ہوتی ہے اور حدیث سے بھی ۔ قرآن میں فرمایا: وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ( الانعام ، 112 ) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے شیطان جنوں اور شیطان انسانوں کو دشمن بنا دیا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے ہیں ۔ اور حدیث میں امام احمد ، نسائی اور ابن حبان حضرت ابو ذر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ فرمایا ابو ذر تم نے نماز پڑھی؟ میں نے عرض کیا نہیں ۔ فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو ۔ چنانچہ میں نے نماز پڑھی اور پھر آکر بیٹھ گیا ۔ حضور نے فرمایا یا ابا ذر ، تعوذ باللہ من شر شیاطین الانس والجن ، اے ابو ذر شیاطین انس اور شیاطین جن کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ فرمایا ہاں ۔
4: قرآنِ کریم نے سورۂ انعام (۶:۱۱۲) میں بتایا ہے کہ شیطان جِنّات میں سے بھی ہوتے ہیں، اور اِنسانوں میں سے بھی، البتہ شیطان جو جِنّات میں سے ہے، وہ نظر نہیں آ تا، اور دِلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، لیکن اِنسانوں میں سے جو شیطان ہوتے ہیں، وہ نظر آتے ہیں، اور ان کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اُنہیں سن کر اِنسان کے دِل میں طرح طرح کے بُرے خیالات اور وسوسے آ جاتے ہیں۔ اس لئے آیتِ کریمہ میں دونوں قسم کے وسوسے ڈالنے والوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔ ان آیتوں میں اگرچہ شیطان کے وسوسہ ڈالنے کی طاقت کا ذِکر فرمایا گیا ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تلقین کرکے یہ بھی واضح فرمادیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اُس کا ذِکر کرنے سے وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، نیز سورۂ نساء (۴:۷۶) میں فرمایا گیا ہے اُس کی چالیں کمزور ہیں، اور اُس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اِنسان کو گناہ پر مجبور کرسکے۔ (سورۂ ابراہیم (۱۴:۲۲) میں خود اُس کا اعتراف اﷲ تعالیٰ نے نقل فرمایا ہے کہ مجھے اِنسانوں پر کوئی اِقتدار حاصل نہیں۔ یہ تواِنسان کی ایک آزمائش ہے کہ وہ اِنسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جو بندہ اس کے بہکائے میں آنے سے انکار کرکے اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگ لے تو شیطان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ قرآنِ کریم کا آغاز سورۂ فاتحہ سے ہوا تھا جس میں اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد اﷲ تعالیٰ ہی سے سیدھے راستے کی ہدایت کی دعا کی گئی ہے، اور اختتام سورۂ ناس پر ہوا ہے، جس میں شیطان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، کیونکہ سیدھے راستے پر چلنے میں اُس کے شر سے جو رکاوٹ پید اہوسکتی تھی، اُسے دور کرنے کا طریقہ بتا دیا گیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو نفس اور شیطان دونوں کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین، ثم آمین
(114:6) من الجنۃ والناس : اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ جملہ وسواس کا بیان ہے یا الذی کا۔ (مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہوگا) یعنی وسوسہ پیدا کرنا جنات کا فعل بھی ہے اور انسانوں کا بھی۔ اور جگہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن (6:112) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن (بہت سے) شیطان، انسان اور جنات (دونوں) میں سے پیدا کر دئیے تھے۔ خلاصہ یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جن و انس کے سر سے پناہ مانگو۔ (2) یا من الجنۃ والناس کا تعلق یوسوس سے ہے۔ یعنی لوگوں کے سینوں کے اندر جنات اور انسانوں کے معاملات کے متعلق وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ (3) کلبی نے کہا ہے کہ صدور الناس میں جو الناس ہے (جملہ) من الجنۃ والناس اس کا بیان ہے۔ گویا انسان کا لفظ دونوں کو شامل ہے۔ جن کو بھی اور انسان کو بھی۔ جن پر انسان کا اطلاق اسی طرح کیا گیا جس طرح کہ آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن (72:6) اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ ایسے ہوئے ہیں کہ وہ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے۔ میں رجال کا اطلاق جن پر کیا گیا ہے۔ (4) یہ بھی جائز ہے کہ من الجنۃ بیان ہو الوسواس کا۔ اور الناس ہر عطف ہو۔ اس صورت میں مطلب ہوگا :۔ میں پناہ مانگتا ہوں وسوہ ڈالنے والے جن شیطان کے سر سے اور انسانوں کے شر سے۔ اللّٰہ اکبر الحمدللّٰہ بعونہ ومنہ تعالیٰ آج قرآن مجید کی لغوی وضاحت میری استطاعت کے مطابق مکمل ہوئی یا الہ العالمین اس بندہ ناچیز کی یہ حقیر سی محنت قبول فرما۔ (امین)
ف 7 دوسری آیات میں بھی بیان ہوا ہے کہ شیطان جنوں میں سے ہے اور آدمیوں میں سے بھی ( سورة انعام :113) یہ الذی یوموس کا بیان ہے یا یوسوس کے متعلق ہے۔ اس صورت میں ” من “ ابتداء غایت کے لئے ہوگا۔ جنات کے وساوس شیاطین الانس سے کچھ مختلف ہوتے الحمد اللہ کہ آج بروز عید الفظر یہ عظیم الشان اور بابرکت کام بتوفیق الٰہی سرانجام پایا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس خدمت کو درجہ قبولیت بخشے اور اسے میرے لئے میرے والدین اور اساتذہ کے لئے زاد راہ بنائے۔ آمین ختم آمین
آخر میں ﴿ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ (رح) ٠٠٦﴾ فرمایا اور یہ بتادیا کہ یہ وسوسہ ڈالنے والے صرف جنات ہی نہیں ہوتے انسان بھی ہوتے ہیں انسانوں کا وسوسے ڈالنا اندر داخل ہو کر تو نہیں ہوتا البتہ باہر ہی سے زبانی طور پر اقوال کے ذریعہ اور جسمانی حرکات اور اعمال کے ذریعہ وسوسے ڈالتے ہیں یعنی انسان کو راہ حق سے ہٹانے اور کفر و شرک اور معاصی میں فوائد بتانے اور دنیوی منافع سمجھانے اور بتانے کی کو شس کرتے ہیں آج کل تو انسانی وسوسوں اور گمراہی کے آلات کی کثرت ہوگئی ہے زبانی باتیں لیڈروں کی تقریریں، بےشرمی پھیلانے والے اخبار و رسالے ٹیلی ویژن اور اس کے پروگرام، وی سی آر، انٹرنیٹ جیسی چیزیں انسان میں برائی کے جذبات داخل کرتی ہیں جن کے جراثیم و اثرات سے انسان برے اعمال اور بری حرکات میں مبتلا ہوجاتا ہے وسوسہ ڈالنے والے انسان کی شرارتیں اور حرکات بعض مرتبہ جنات کے وسوسوں سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کہ انسان انسان کا ہم جنس ہے اور آپس میں میل جول بھی زیادہ رہتا ہے اور انسان، انسان کو اپنا ہمدرد بھی سمجھتا ہے، شریر انسانوں کے مشورے اور وسوسے انسان کو زیادہ متاثر کردیتے ہیں اور اس اعتبار سے کہ شیطان وسوسے ڈالنے والا نظر نہیں آتا، وسوسہ ڈال کر چپکے سے اپنا کام کرجاتا ہے۔ شیاطین کے وسوسے زیادہ شدید ہوجاتے ہیں۔ سورة الاعراف میں ا رشاد فرمایا : ﴿يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا ١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَآءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ٠٠٢٧﴾ (اے بنی آدم ! تمہیں ہرگز شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے جیسے کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا جو ان سے ان کے لباس کو علیحدہ کر رہا تھا تاکہ انہیں ان کی شرم کی جگہ دکھا دے، بیشک وہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم اسے نہیں دیکھتے بیشک ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے) ۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جنات میں بھی شیاطین ہیں اور انسانوں میں بھی۔ اور یہ دونوں انسانوں کی بدخواہی میں لگے رہتے ہیں۔ سورة الانعام میں فرمایا ﴿وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا﴾ (اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کیے تھے کچھ آدمی اور کچھ جن جن میں سے بعض دوسرے بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں) ۔ اللہ تعالیٰ شانہ ہر طرح کے شیاطین سے محفوظ فرمائے۔ فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو جادو کا اثر ہوا بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں جس سے صحیحین کی روایات کی تکذیب لازم آتی ہے۔ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جادو سے متاثر ہونا شان نبوت کے خلاف ہے۔ ان کا یہ خیال غلط ہے بات یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے اور بشریت کے اثرات ان پر بھی طاری ہوجاتے تھے اور ان کے اجسام تکالیف سے متاثر ہوتے تھے۔ بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تو ان کی قوموں نے قتل کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیز بخار آجاتا تھا۔ آپ ایک مرتبہ سواری سے گرگئے تو آپ کی ایک جانب چھل گئی، اس زمانہ میں آپ نے بیٹھ کر نمازیں پڑھائیں، صاحبزادے کی وفات پر آپ کے آنسو جاری ہوگئے۔ بچھو نے بھی آپ کو ڈس لیا آپ نے اس کا علاج کیا آپ کو بھوک بھی لگتی تھی اور پیاس بھی۔ یہ امور طبعیہ ہیں جن سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مستثنیٰ نہیں تھے اور جادو کا اثر بھی اس قسم کے اثرات میں سے ہے اس سے متاثر ہوجانا شان نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ استعاذہ کی ضرورت : دنیا میں ایسی چیزیں بھی بیشمار ہیں جو انسانوں کے حق میں نافع اور مفید ہیں اور بہت ساری چیزیں ایسی بھی ہیں جو انسان کے لیے ضرر رساں ہیں اور تکلیف دینے والی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سی چیزوں سے پناہ مانگنا ثابت ہے حضرت امام نسائی (رح) نے اپنی کتاب سنن کے ختم کرنے سے چند صفحات پہلے کتاب الاستعاذہ کا عنوان قائم کیا ہے اور اچھی خاصی تعداد میں ضرر دینے والی چیزوں سے پناہ مانگنے کا ذکر کیا ہے مثلاً بخل، بزدلی، سینہ کا فتنہ (کفر اور شرك) قبر کا عذاب سمع وبصر، لسان وقلب، بہت زیادہ بڑھاپا، عاجزی، مرض، سستی، غم زندگی اور موت کا فتنہ، دجال، تنگ دستی، ذلت، کفر، عذاب النار، خیانت بھوک، شقاق، نفاق، سوء الاخلاق، لغزش کھانا، گمراہ ہونا، ظالم ہونا، دشمن کا غالب ہونا، دشمنوں کا خوش ہونا، بدبختی کا پالینا، برے امراض مثلاً جنون، جذام اور برص کا لاحق ہونا، مظلوم کی بد دعا شیاطین الجن والانس، احیاء اور اموات کا فتنہ، زمین میں دھنس جانا، اوپر سے گرپڑنا، کسی چیز کے نیچے دب جانا، غرق ہونا، جل جانا، موت کے وقت شیطان کا پچھاڑنا، جہاد میں پشت پھیر کر بھاگتے ہوئے مرجانا، کسی زہریلے جانور کے ڈسنے سے مرنا، علم کا نفع نہ دینا، دل میں خشوع نہ ہونا، نفس کا پیٹ نہ بھرنا، دعا کا مقبول نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔ جن احادیث میں ان چیزوں سے پناہ مانگنا مذکور ہے ان میں سے انتخاب کر کے استعاذہ کی دعائیں بعض علماء نے علیحدہ بھی لکھ دی ہیں (مناجات مقبول میں بھی مذکور ہے) حضرت ابو سعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنات اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ جب معوذتین یعنی سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٠٠١ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٠٠١ نازل ہوئیں تو آپ نے ان دونوں کو پکڑ لیا اور ان کے سوا (استعاذہ کی) باقی دعاؤں کو چھوڑ دیا۔ بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٠٠١ پڑھتا ہے تو ہر اس چیز کے شر سے اللہ کی پناہ لیتا ہے جو اللہ نے پیدا کی ہے اور رات کے شر سے بھی پناہ لیتا ہے اور گرہوں میں دم کرنے والی عورتوں کے شر سے بھی پناہ لیتا ہے جو جادو کرتی ہیں اور حسد کرنے والے کے شر سے بھی پناہ لیتا ہے اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٠٠١ پڑھنے والا سینوں میں وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ لیتا ہے اتنی چیزوں کے شر سے بچنے کے لیے دعا کی جاتی ہے اسی لیے ان دونوں سورتوں کا پڑھنا ہر طرح کے شر اور بلا مصیبت اور جادو ٹونہ ٹوٹ کہ سے محفوظ رہنے کے لیے مفید اور مجرب ہیں ان کو سورة ٴ اخلاص کو صبح شام تین تین بار پڑھے اور دیگر اوقات میں بھی ورد رکھے کسی بچے کو تکلیف ہو، نظر لگ جائے تو ان دونوں کو پڑھ کر دم کرے بچوں کو یاد کرا دیں۔ دکھ تکلیف میں ان سے بھی پڑھوائیں۔ پریشانی کے وقت : حضرت عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ میں سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سفر میں تھا کہ اچانک آندھی آئی اور سخت اندھیرا ہوگیا۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٠٠١ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٠٠١ کے ذریعہ اس مصیبت سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے یعنی ان کو پڑھنے لگے اور فرمایا کہ عقبہ ان سورتوں کے ذریعہ اللہ کی پناہ حاصل کرو کیونکہ ان جیسی اور کوئی چیز نہیں ہے جس کے ذریعہ کوئی پناہ لینے والا پناہ حاصل کرے۔ (رواہ ابو داؤد) حضرت عبداللہ بن خبیب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ایسی رات میں جس میں بارش ہو رہی تھی اور سخت اندھیری بھی تھی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کرنے کے لیے نکلے چناچہ ہم نے آپ کو پا لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہو میں نے عرض کیا، کیا کہوں، فرمایا جب صبح ہو اور شام ہو سورة ٴ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ٠٠١ اور سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٠٠١ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٠٠١ تین بار پڑھ لو۔ یہ عمل کرلو گے تو ہر ایسی چیز سے تمہاری حفاظت ہوجائے گی جس سے پناہ لی جاتی ہے (یعنی ہر موذی سے اور ہر بلا سے محفوظ ہو جاو گے) ۔ (ترمذی) فرض نمازوں کے بعد : حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اے عقبہ، کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ بتادوں جو پناہ مانگنے کے لیے سب سے بہتر سورتیں ہیں، پھر آپ نے مجھے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٠٠١ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٠٠١ دونوں سورتیں سکھائیں، آپ کو اندازہ ہوا کہ مجھے زیادہ خوشی نہیں ہوئی جب فجر کی نماز کے لیے اترے تو آپ نے ان دونوں سورتوں کی نماز میں تلاوت فرمائی اور نماز سے فارع ہو کر فرمایا بولو اے عقبہ، تم نے کیسا دیکھا ؟ (یہ فرما کر آپ نے ان دونوں کی فضیلت جتائی) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں کی تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا اے عقبہ کیسا دیکھا ؟ ان دونوں کو پڑھا کرو جب سونے لگو اور سو کر اٹھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح) رات کو سوتے وقت کرنے کا ایک عمل : ام المومنین عائشہ (رض) کا بیان ہے کہ روزانہ رات کو جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بستر پر تشریف لاتے تو سورة ٴ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدۚو ٠٠١ اور سورة قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٠٠١ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٠٠١ پڑھ کر ہاتھ کی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں اس طرح پھونک مارتے تھے کہ کچھ تھوک بھی پھونک کے ساتھ نکل جاتا تھا۔ پھر دونوں ہتھیلیوں کو پورے بدن پر جہاں تک ممکن ہوتا پھیر لیتے تھے یہ ہاتھ پھیرنا سر اور چہرے سے اور سامنے کے حصہ سے شروع فرماتے تھے اور یہ عمل تین بار فرماتے تھے۔ (بخاری صفحہ ٧٥٠ ج ٢) بیماری کا ایک عمل : نیز حضرت عائشہ (رض) یہ بھی فرماتی ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی تکلیف ہوتی تھی تو اپنے جسم پر سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٠٠١ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٠٠١ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (جس کا طریقہ ابھی اوپر گزرا ہے) پھر جس مرض میں آپ کی وفات ہوئی اس میں میں یہ کرتی تھی کہ دونوں سورتیں پڑھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر دم کردیتی تھی پھر آپ کے ہاتھ کو آپ کے جسم پر پھیر دیتی تھی۔ (بخاری صفحہ ٧٥٠: ج ٢) دم صرف پھونکنے کو نہیں کہتے دم یہ ہے کہ پھونک کے ساتھ تھوک بھی کچھ نکل جائے۔ الحال المرتحل : حضرت امام ترمذی (رح) نے (قبیل ابواب تفسیر القرآن) حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے ؟ فرمایا : (الحال المرتحل) یعنی اس شخص کا عمل جو منزل پر نازل ہو کر پھر سفر شروع کر دے، اس کے بعد امام ترمذی (رض) نے دوسری سند سے حدیث نقل کی ہے اس میں حضرت ابن عباس (رض) کا نام نہیں ہے (اور روایت کرنے والا زرارہ بن اوفی (تابعی کو بتایا ہے) اس اعتبار سے حدیث مرسل ہوئی۔ امام ترمذی (رض) فرماتے ہیں : (وھذا عندی اصح) یعنی یہ حدیث مرسل میرے نزدیک حدیث متصل کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی (رض) کے علاوہ امام بیہقی (رح) نے بھی شعب الایمان صفحہ ٣٤٨: ج ١ میں ذکر کیا ہے اس میں یوں ہے کہ زرارہ بن اوفی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ سب اعمال میں کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا تم حال اور مرتحل والے شخص کا عمل اختیار کرو، صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حال اور مرتحل کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا اس سے صاحب قرآن مراد ہے وہ قرآن کو پڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ جب آخر تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اول پر پہنچ جاتا ہے جب کبھی بھی ٹھہرتا ہے پھر سفر شروع کردیتا ہے۔ امام ابن الجزری (رح) نے النشر میں اس مضمون کی حدیث طبرانی سے بھی نقل کی ہے۔ اور عموماً یہ روایات حضرت ابن عباس (رض) سے ہی مروی ہیں اور النشر میں ایک روایت حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی نقل کی ہے۔ ان روایات کے جمع کرنے سے الحال المرتحل کا مطلب واضح ہوگیا یعنی یہ کہ قرآن پڑھتے پڑھاتے جب ختم کرے تو دوبارہ اول سے پھر شروع کر دے (الحال) نازل ہونے والا یعنی سفر پورا کر کے ٹھہر جانے والا اور (المرتحل) سفر شروع کرنے والا۔ ان روایات کی وجہ سے حضرات قراء کرام کا اور خاص کر قاری ابن کثیر مکی (احد القراء سبعہ) کی قرات پڑھنے والوں اور روایت کرنے والوں کا یہ معمول رہا ہے قرآن کریم آخیر تک ختم کر کے سورة الفاتحہ پڑھتے ہیں۔ پھر ﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ﴾ پڑھ کر سورة البقرہ شروع کرتے ہیں اور ﴿ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ٠٠٥﴾ تک پڑھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید ختم کرتے ہی دوبارہ شروع کردیا ایسا کرنے سے حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کردہ حدیث مذکورہ بالا پر عمل ہوجاتا ہے۔ ایسا کرنا مستحب ہے کوئی فرض واجب نہیں ہے بہرحال قراء کا معمول ہے۔ حافظ ابن الجزری (رح) میں لکھتے ہیں کہ یہاں مضاف محذوف ہے، سائل نے جب سوال کیا : (ای الاعمال افضل) گویا آپ نے فرما دیا : (عمل الحال المرتحل ) ۔ ضروری تنبیہ : بعض علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) معوذتین کو قرآن مجید کی سورتوں میں شمار نہیں کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ دونوں پناہ مانگنے کے لیے تعلیم دی گئی ہیں۔ بعض علماء نے ان کے قول کی تاویل بھی کی ہے لیکن تاویل ایسی نہیں ہے جس سے اطمینان حاصل ہوجائے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس بارے میں جتنی بھی روایات ہیں (گو صحیح السند ہیں) اخبار آحاد ہیں اور اخبارا احاد ظنی ہوتی ہیں تو اتر کے مقابلہ میں ان کا اعتبار نہیں کیا جاتا اسی لیے تحقیق نے ان روایات کو تسلیم نہیں کیا۔ حافظ ابن حزم المحلی میں لکھتے ہیں : وکل ماروی عن ابن مسعود من ان المعوذتین وام القرآن لم تکن فی مصحفہ فکذب موضوع لا یصح وانما صحت عنہ قراء ة عاصم عن زربن حبیش عن ابن مسعود فیھا ام القرآن والمعوذتان۔ (المحلی صفحہ ١٦ ج ١) اور امام نووی (رض) نے شرح مہذب میں فرمایا ہے : اجمع المسلون علی ان المعوذتین والفاتحة من القرآن وان من جحد منھا شیئا کفر وما نقل عن ابن مسعود باطل لیس بصحیح۔ اور مفسر ابن کثیر (رض) لکھتے ہیں : فلعلہ لم یسمعھا من النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ولم یتواتر عندہ ثم قد رجع عن قولہ ذلک الی قول الجماعة فان الصحابة (رض) عنھم اثبتوھما فی المصاحف الائمة ونفذوھا الی سائر الافاق کذلک فللہ الحمد والمنة۔ حضرت امام عاصم (رض) کی قرات جو حضرت ابن مسعود (رض) سے منقول ہے اور حضرت زربن حبیش (رض) کے واسطے سے ماثور ہے۔ اس میں معوذتین تواتر کے ساتھ محفوظ اور مروی ہیں یہ اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) سے جو یہ مروی ہے کہ معوذتین قرآن کریم کی سورتیں نہیں ہیں یہ نقل صحیح نہیں اور یہ روایت ہی غلط ہے اور اگر انہوں نے ایسا کہا تھا تو فوراً رجوع فرما لیا تھا۔ چونکہ قراء سبعہ کی قرات متواتر ہیں اس لیے قرآن مجید کی کسی بھی سورة یا کسی بھی آیت کا انکار کرنا کفر ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : وانت تعلم انہ قد وقع الاجماع علی قرآنیتھما وقالو ان انکار ذلک الیوم کفر ولعل ابن مسعود رجع عن ذلك۔ چونکہ حضرت امام عاصم کی قرات متواتر ہے اور معوذتین ان کی قرات میں مروی ہیں اور تمام مصاحف میں مکتوب اور منقول ہیں اور جو مصاحف حضرات صحابہ نے آفاق میں بھیجے تھے ان سب میں یہ دونوں سورتیں بھی تھیں اس لیے ان کا قرآن ہونے کا انکار کرنا کفر ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے رجوع فرما لیا تھا تو کوئی سوال باقی نہیں رہتا اور بالفرض رجوع نہ کیا ہو تو جو بات ان سے بطور خبر واحد منقول ہے (جو ظنی ہے) اجماع امت اور تواتر کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ صاحب روح المعانی نے شرح المواقف سے نقل کیا ہے۔ ان اختلاف الصحابة فی بعض سور القرآن مروی بالآحاد المفیدة للظن ومجموع القرآن منقول بالتواتر المفید للیقین الذی یضمحل الظن فی مقابلتہ فتلک الآحاد مما لا یلتف الیہ ثم ان سلمنا اختلافھم فیما ذکر قلنا انھم لم یختلفوا فی نزولہ علی النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ولا فی بلوغہ فی ابلاغہ بل فی مجرد کونہ من القرآن وھو لا یضر فیما نحن بصددہ۔ انتھی۔ آج کل بہت سے ملحد اور زندیق ایسے نکلے ہیں جو بہانے بنا بنا کر قرآن کے بارے میں مسلمانوں کے دلوں میں شک ڈالنے کی کو شس کرتے ہیں اور جن روایات کو ائمہ اسلام نے رد کردیا ہے ان کو اپنے کتابچوں میں درج کر کے مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کھرچنا چاہتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کافر کہتے ہو تو ابن مسعود صحابی کو بھی کافر کہو۔ یہ ان لوگوں کی جہالت اور ضلالت ہے۔ مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم نے یہ سطور حوالہ قرطاس کردی ہیں۔ اعاذنا اللہ تعالیٰ من شر اعداء الاسلام الذین یوسوسون فی صدور المسلمین سواء کانوا من الجنة او من الناس
(6) وہ وسوسہ انداز اور وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا آدمیوں میں سے۔ یعنی کبھی شیطان وسوسہ ڈالتا ہے اور کبھی انسان آدمی کو بہکاتا ہے جیسا کہ ہمارا محاورہ ہے کہ آدمی کا شیطان آدمی ہے یعنی انسان انسان کو بہکا کر برائی کی طرف لے جاتا ہے اسی واسطے بزرگوں نے بری صحبت سے بچنے کو کہا ہے۔ آٹھویں پارے میں گزرچکا ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لئے شیاطین اور انسانوں میں سے دشمن بنائے ہیں جو اپنی عداوت کا مظاہر ہ کرتے رہتے ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سورت میں پانچ جگہ لفظ ناس آیا ہے ہرجلہ ناس سے مراد انسان کی مختلف قسم مراد ہے مثلاً پہلے ناس اس سے تربیت اور پرورش کے لحاظ سے چھوٹے بچے مراد ہیں دوسرے ناس سے حضرت حق کی بادشاہت کے اعتبار سے جو ان آدمی مراد ہیں۔ تیسری جگہ الہ الناس کی وجہ سے بوڑھے مراد ہیں چونکہ بڑھاپے میں عبادت الٰہی کا ذوق بڑھ جاتا ہے چوتھی جگہ صالح اور نیک انسان مراد ہیں کیونکہ شیطان کی یورش ہی نیک آدمیوں پر زیادہ ہوتی ہے ، پانچویں ناس سے مراد شریر اور مفسد انسان ہیں جو جرائم میں مبتلا ہونے کے بعد چاہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی جرائی پیشہ بنالیں۔ ان دونوں سورتوں کی تفسیر میں علماء مقتدمین ومتاخرین نے بیشمار نکات و حقائق بیان کیے ہیں جن کو بوجہ تطویل کے ہم نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہمارا مقصد صرف قرآن کو آسان طریقہ پر سمجھانا ہے مسلمانوں کو زیادہ مباحث میں الجھانا نہیں ہے ورنہ یہ کتاب اپنی خبویوں اور اپنے معارف بےکراں کی وجہ سے ایک سمندر ہے جس کی نہ توبۃ کا کوئی پتہ لگا سکا اور نہ آخری کنارے تک کوئی انسان پہنچ سکا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بمرادہ واسرارہ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شیطان گناہ سر سنکارے اور آپ نظرنہ آوے۔ پھر فرماتے ہیں حدیث میں فرمایا ان سورتوں کے برابر کوئی دعا نہیں پناہ کے واسطے۔ حدیث میں ہے ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔ سرکادوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا الحال والمرتحل پھر کہا گیا کہ حال اور مرتحل کیا ہے سرکار دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص قرآن کو پورا پڑھے تو پڑھ کر پھر شروع کردے یعنی الم سے لے کر مفلحون تک پڑھ لے یہی شروع کرنا ہے قرآن۔ الحمد للہ