Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 104

سورة يوسف

وَ مَا تَسۡئَلُہُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾٪  5

And you do not ask of them for it any payment. It is not except a reminder to the worlds.

آپ ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں یہ تو تمام دنیا کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے ،

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ... And no reward you ask of them for it; Allah says, `You, O Muhammad, do not ask them in return for this advice and your call to all that is good and righteous, for any price or compensation for delivering it. Rather, you do so seeking Allah's Face and to deliver good and sincere advice to His creatures, ... إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the `Alamin (men and Jinn). with which they remember, receive guidance and save themselves in this life and the Hereafter.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

104۔ 1 کہ جس سے ان کو یہ شبہ ہو کہ یہ دعوائے نبوت تو صرف پیسے جمع کرنے کا بہانہ ہے۔ 104۔ 2 تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔ اب دنیا کے لوگ اگر اس سے آنکھیں پھیر رکھیں اور اس سے ہدایت حاصل نہ کریں تو لوگوں کا قصور اور ان کی بدقسمتی ہے، قرآن تو فی الواقع اہل دنیا کی ہدایت اور نصیحت ہی کے لئے آیا ہے۔ گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمہ آفتاب را چہ گناہ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٩] کفار کی ہٹ دھرمی :۔ یعنی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ یہ قرآن صرف ان کے لیے نہیں بلکہ تمام اہل عالم کے لیے نصیحت ہے۔ انھیں نہیں تو کوئی دوسروں کو اس سے ایمان نصیب ہوجائے گا پھر اگر یہ نہیں مانتے تو آپ کا اس میں کچھ نقصان بھی نہیں۔ آپ ان سے کچھ معاوضہ تھوڑے مانگ رہے تھے جو یہ بند کردیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے اس تبلیغ پر اجرت مانگ کر ان پر بوجھ بن رہے ہوں، سو یہ بات ہے ہی نہیں۔ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ : اور یہ بھی نہیں کہ یہ نہ مانیں گے تو دین کا کچھ بگاڑ لیں گے، یہ قرآن اور اسلام صرف انھی کے لیے تو نہیں، یہ تو سارے جہانوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اور بندے لے آئے گا جو اس کا علم اٹھا لیں گے، باقی رہ گئے یہ لوگ تو اگر مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے، آپ ان کے رویے سے ہرگز رنجیدہ نہ ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that it was said: وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ لِّلْعَالَمِين ، that is, ` your mission is to tell them the truth and call &them to the straight path. For this you do not ask them to give you something in return - which could have caused them to find it difficult to listen to him or follow him. In fact, what you are telling them is for their own good. It is only an advice to heed to and a lesson to learn from. And it is for everyone. The text here also carries a hint to the effect: When the purpose behind your ef¬fort is no worldly gain, in fact it is nothing but the reward of the Hereaft¬er and the betterment of your people, then, that purpose of yours already stands achieved. Why would you then grieve over it?

(آیت) وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ یعنی آپ جو کچھ ان کو تبلیغ کرنے اور صحیح راستے پر لانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اس پر ان لوگوں سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگتے جس کی وجہ سے ان کو اس کے سننے یا ماننے میں کوئی دشواری ہو بلکہ آپ کا کلام تو خالص خیر خواہی اور نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لئے اس میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب اس کوشش سے آپ کا مقصد کوئی دنیوی منفعت نہیں بلکہ ثواب آخرت اور قوم کی خیرخواہی ہے تو وہ مقصد آپ کا حاصل ہوچکا پھر آپ کیوں غمگین ہوتے ہیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ ١٠٤؀ۧ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ( ا ج ر ) الاجروالاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دینوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا جر تو خدا کے ذمے ہے ۔ علم العالم، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، ( ع ل م ) العلم اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوح اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار وغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٤) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تبلیغ توحید پر ان سے کچھ معاوضہ تو نہیں لیتے یہ قرآن تو تمام جنات اور انسانوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

72. In order to grasp the full significance of the underlying admonition implied in it, we must keep in view the background of the revelation of this story given in the introduction to this Surah. The Quraish themselves had invited the Prophet (peace be upon him) to a meeting that had been arranged for putting him to a test which was to show whether he was a true Prophet or not. When he arrived there, they put this question to him without any previous notice or intimation: why did the Israelites go to Egypt? In answer to this, the Prophet (peace be upon him) recited this Surah then and there. As they themselves knew that this was an abrupt question and there had been no preparation for its answer beforehand, it was expected that they would believe in his Prophethood. But they were so obdurate that they did not believe in him even then. As Allah was aware of their intentions, he informed His Messenger beforehand, as if to say: Though you have come out successful in the test, to which they themselves put to you, yet most of them are not going to believe it because they are not sincere in their quest for the truth. That is why they will not believe even now when the revelation of this Surah has proved conclusively that the Quran is not being forged by you but is being sent down by Allah Himself. As their real aim and intention is to reject your message anyhow, they will now invent another excuse for their denial. This is not meant to remove any misunderstanding the Prophet (peace be upon him) might have cherished, but is merely an indirect warning to the questioners that Allah knew their intentions well. This was meant to warn them like this: O obdurate people, this Surah has been placed before you to serve as a mirror for you. You demanded a proof from Our Messenger that he was not forging the Quran: had you been reasonable and sincere people, you would have accepted the truth that has been established according to your own test, but you are obdurate people and are still denying it. 73. This is another admonition more subtle than the one given above. Though this, too, has been addressed to the Prophet (peace be upon him), it is meant for the unbelievers, as if to say: O people, consider your attitude towards the message from another point of view. Had you noticed anything in the mission and the message of Our Prophet that might have smelt of any self interest whatsoever, you would have been justified in rejecting it as the work of a selfish person. But you yourselves have experienced it that he has absolutely no self interest in his work and demands no recompense for the message, which is nothing but instruction for all the people of the world. Therefore you should listen to it and consider it without prejudice and make your decisions about it on merit and merit alone.

۷۳ ۔ اوپر کی تنبیہ کے بعد یہ دوسری لطیف تر تنبیہ ہے جس میں ملامت کا پہلو کم اور فہمائش کا پہلو زیادہ ہے ، اس ارشاد کا خطاب بھی بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر اصل مخاطب کفار کا مجمع ہے اور اس کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ کے بندو غور کرو ، تمہاری یہ ہٹ دھرمی کس قدر بے جا ہے ، اگھر پیغمبر نے اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے دعوت و تبلیغ کا یہ کام جاری کیا ہوتا یا اس نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی چاہا ہوتا تو بے شک تمہارے لیے یہ کہنے کا موقع تھا کہ ہم اس مطلبی آدمی کی بات کیوں مانی ، مگر تم دیکھ رہے ہو کہ یہ شخص بے غرض ہے ، تمہاری اور دنیا بھر کی بھلائی کے لیے نصیحت کر رہا ہے اور اس میں اس کا اپنا کوئی مفاد پوشیدہ نہیں ہے ، پھر اس کا مقابلہ اس ہٹ دھرمی سے کرنے میں آخر کیا معقولیت ہے؟ جو انسان سب کے بھلے کے لیے ایک بات بے غرضی کے ساتھ پیش کرے اس سے کسی کو خواہ مخواہ ضد کیوں ہو؟ کھلے دل سے اس کی بات سنو ، دل کو لگتی ہو تو مانو ، نہ لگتی ہو نہ مانو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٤۔ جب اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ بیان فرما دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ یہ ساری باتیں غیب کی ہیں جو ہم نے تم کو بذریعہ وحی کے بتلائی ہیں جن سے تم اس سے پہلے بالکل ناواقف تھے تمہیں ذرا بھی یہ حال معلوم نہیں تھا اور جس وقت یہ قصہ گزرا اس وقت تم موجود نہ تھے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ تم کو یہ پہلی باتیں اس لئے بتلائی ہیں کہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں جس سے دین و دنیا میں نجات پائیں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اگرچہ پیغمبر ان کے ایمان کے لئے حرص بھی کرتے ہیں اب فرمایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اور بہتر و بھلائی کی طرف ان کو بلاتے ہیں اس کی کوئی مزدوری خلق سے نہیں چاہتے ہیں بلکہ محض خدا کے لئے یہ کام کرتے ہیں کہ دنیا میں یہ باتیں یادگار رہ جائیں اور لوگ اس سے عبرت و نصیحت پکڑ کر راہ یاب ہوں اور ان کے دونوں جہان دنیا و آخرت سنور جائے اور نجات حاصل کریں۔ اس سے ہر سمجھ دار سمجھ سکتا ہے کہ بغیر کسی لالچ کے جو نصیحت کی جاتی ہے وہ سچی اور عام فائدہ کے لحاظ سے ہوتی ہے لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ علم الٰہی میں جو لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کی سمجھ ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہے اس لئے وہ جس حال پر ہیں اسی حال میں دنیا سے اٹھ جاویں گے حاصل کلام یہ ہے کہ اہل مکہ میں جو لوگ قرآن کی نصیحت سے بھاگتے ہیں وہ اس لئے نہیں بھاگتے کہ ان سے اس نصیحت کے معاوضہ میں کچھ اجرت مانگی جاتی ہے بلکہ وہ اس لئے بھاگتے ہیں کہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ قرآن کی نصیحت ان لوگوں کے حق میں بیکار ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ١ ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ مینہ کے پانی کی طرح قرآن کی نصیحت ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ١٨ ج ١ باب فضل من علم و علم۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:104) علیہ۔ درس ہدایت پر۔ یا قرآن کی تبلیغ پر۔ ان۔ نافیہ ہے۔ ھو۔ ای القرأن۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ یعنی مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے رویہ سے رنجیدہ نہ ہوں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

104 ۔ حالانکہ آپ ان سے اس قرآن کی تبلیغ پر کوئی اجرت بھی طلب نہیں کرتے یہ قرآن تو تمام اقوام عالم کے لئے ایک نصیحت ہے یعنی تم اس تبلیغ پر کوئی مزدوری بھی نہیں لیتے پھر بھی ان کو اس سے عناد ہے یا یہ کہ آپ اجرت تو مانگتے ہی آپ کا کام تو تبلیغ ہے آپ تبلیغ کرتے رہیے یہ نہ مانیں تو اس کی فکر آپ کو نہیں ہونی چاہئے۔