Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 109

سورة يوسف

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی ؕ اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

And We sent not before you [as messengers] except men to whom We revealed from among the people of cities. So have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? And the home of the Hereafter is best for those who fear Allah ; then will you not reason?

آپ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں جتنے رسول بھیجے ہیں سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے ۔ کیا زمین میں چل پھر کر انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا کچھ انجام ہوا؟ یقیناً آخرت کا گھر پر ہیزگاروں کے لئے بہت ہی بہتر ہے کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

All of the Prophets are Humans and Men Allah says; وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِم ... And We sent not before you (as Messengers) any but men unto whom We revealed, Allah states that He only sent Prophets and Messengers from among men and not from among women, as this Ayah clearly states. Allah did not reveal religious and legislative laws to any woman from among the daughters of Adam. This is the belief of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah. Sheikh Abu Al-Hasan, Ali bin Ismail Al-Ash`ari mentioned that; it is the view of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah, that there were no female Prophets, but there were truthful believers from among women. Allah mentions the most honorable of the truthful female believers, Maryam, the daughter of Imran, when He said, مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَنِ الطَّعَامَ The Messiah ('Isa), son of Maryam (Mary), was no more than a Messenger; many were the Messengers that passed away before him. His mother was a Siddiqah (truthful believer). They both used to eat food. (5:75) Therefore, the best description Allah gave her is Siddiqah. Had she been a Prophet, Allah would have mentioned this fact when He was praising her qualities and honor. Therefore, Mary was a truthful believer according to the words of the Qur'an. All Prophets were Humans not Angels Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas commented on Allah's statement, وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً (And We sent not before you (as Messengers) any but men), "They were not from among the residents of the heaven (angels), as you claimed." This statement of Ibn Abbas is supported by Allah's statements, وَمَأ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ And We never sent before you any of the Messengers, but verily, they ate food and walked in the markets. (25:20) وَمَا جَعَلْنَـهُمْ جَسَداً لاَّ يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَـلِدِينَ ثُمَّ صَدَقْنَـهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَـهُمْ وَمَن نَّشَأءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرفِينَ And We did not create them with bodies that ate not food, nor were they immortals. Then We fulfilled to them the promise. So We saved them and those whom We willed, but We destroyed extravagant, (21:8-9) and, قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ Say: "I am not a new thing among the Messengers." (46:9) Allah said next, ... مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى ... from among the people of townships, meaning, from among the people of cities, not that they were sent among the Bedouins who are some of the harshest and roughest of all people. Drawing Lessons from the Incidents of the Past Allah said next, ... أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِي الاَرْضِ ... Have they not traveled in the land, meaning, `Have not these people who rejected you, O Muhammad, traveled in the land,' ... فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ... and seen what was the end of those who were before them, that is, the earlier nations that rejected the Messengers, and how Allah destroyed them. A similar end is awaiting all disbelievers. Allah said in another Ayah, أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَأ Have they not traveled through the land, and have they hearts wherewith to understand! (22:46) When they hear this statement, they should realize that Allah destroyed the disbelievers and saved the believers, and this is His way with His creation. This is why Allah said, ... وَلَدَارُ الاخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَواْ ... And verily, the home of the Hereafter is the best for those who have Taqwa. Allah says, `Just as We saved the faithful in this life, We also wrote safety for them in the Hereafter, which is far better for them than the life of the present world.' Allah said in other Ayah, إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth (i.e. Day of Resurrection). The Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode (in Hellfire). (40:51-52) ... أَفَلَ تَعْقِلُونَ Do you not then understand!

رسول اور نبی صرف مرد ہی ہوئے ہیں بیان فرماتا ہے کہ رسول اور نبی مرد ہی بنتے رہے نہ کہ عورتیں ۔ جمہور اہل اسلام کا یہی قول ہے کہ نبوت عورتوں کو کبھی نہیں ملی ۔ اس آیت کریمہ کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے ۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ ، موسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم بھی نبیہ تھیں ۔ ملائیکہ نے حضرت سارہ کو ان کے لڑکے اسحاق اور پوتے یعقوب کی بشارت دی ۔ موسیٰ کی ماں کی طرف انہیں دودھ پلانے کی وحی ہوئی ۔ مریم کو حضرت عیسیٰ کی بشارت فرشتے نے دی ۔ فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اللہ نے تجھے پسندیدہ پاک اور برگزیدہ کر لیا ہے تمام جہان کی عورتوں پر ۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو ، اس کے لئے سجدے کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنا تو ہم مانتے ہیں ، جتنا قرآن نے بیان فرمایا ۔ لیکن اس سے ان کی نبوت ثابت نہیں ہوتی ۔ صرف اتنا فرمان یا اتنی بشارت یا اتنے حکم کسی کی نبوت کے لئے دلیل نہیں ۔ اہل سنت والجماعت کا اور سب کا مذہب یہ کہ عورتوں میں سے کوئی نبوت والی نہیں ۔ ہاں ان میں صدیقات ہیں جیسے کہ سب سے اشرف وافضل عورت حضرت مریم کی نسبت قرآن نے فرمایا ہے آیت ( وامہ صدیقتہ ) پس اگر وہ نبی ہوتیں تو اس مقام میں وہی مرتبہ بیان کیا جاتا ۔ آیت میں آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20؀ۧ ) 25- الفرقان:20 ) یعنی تجھ سے بھلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی رکھتے تھے ۔ وہ ایسے نہ تھے کہ کھانا کھانے سے پاک ہوں ، نہ ایسے تھے کہ کبھی مرنے والے ہی نہ ہوں ، ہم نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے ، انہیں اور ان کے ساتھ جنہیں ہم نے چاہا ، نجات دی اور مسرف لوگوں کو ہلاک کر دیا ۔ اسی طرح اور آیت میں ہے آیت ( قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ Ḍ۝ ) 46- الأحقاف:9 ) یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ؟ الخ یاد رہے کہ اہل قری سے مراد اہل شہر ہیں نہ کہ بادیہ نشین وہ تو بڑے کج طبع اور بداخلاق ہوتے ہیں ۔ مشہور و معروف ہے کہ شہری نرم طبع اور خوض خلق ہوتے ہیں اسی طرح بستیوں سے دور والے ، پرے کنارے رہنے والے بھی عموما ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے ہوتے ہیں ۔ قرآن فرماتا ہے آیت ( اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 97؁ ) 9- التوبہ:97 ) جنگلوں کے رہنے والے بدو کفر ونفاق میں بہت سخت ہیں ۔ قتادہ بھی یہی مطلب بیان فرماتے ہیں کیونکہ شہریوں میں علم وحلم زیادہ ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ بادیہ نشین اعراب میں سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا آپ نے اسے بدلہ دیا لیکن اسے اس نے بہت کم سمجھا ، آپ نے اور دیا اور دیا یہاں تک کہ اسے خوش کر دیا ۔ پھر فرمایا میرا تو جی چاہتا ہے کہ سوائے قریش اور انصاری اور ثقفی اور دوسی لوگوں کے اوروں کا تحفہ قبول ہی نہ کروں ۔ ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ مومن جو لوگوں سے ملے جلے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرے ، وہ اس سے بہتر ہے جو نہ ان سے ملے جلے ہو نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے ۔ یہ جہٹلانے والے کیا ملک میں چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ اپنے سے پہلے کے جھٹلانے والوں کی حالتوں کو دیکھیں اور ان کے انجام پر غور کریں ؟ جیسے فرمان ہے آیت ( اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ 46؀ ) 22- الحج:46 ) یعنی کیا انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی کہ ان کے دل سجھدار ہوتے ، الخ ۔ ان کے کان سن لیتے ، ان کی آنکھیں دیکھ لیتیں کہ ان جیسے گنہگاروں کا کیا حشر ہوتا رہا ہے ؟ وہ نجات سے محروم رہتے ہیں ، عتاب الہٰی انہیں غارت کر دیتا ہے ، عالم آخرت انکے لئے بہت ہی بہتر ہے جو احتیاط سے زندگی گزار دیتے ہیں ۔ یہاں بھی نجات پاتے ہیں اور وہاں بھی اور وہاں کی نجات یہاں کی نجات سے بہت ہی بہتر ہے ۔ وعدہ الہٰی ہے آیت ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ ) 40-غافر:51 ) ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دینا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور قیامت کے دن بھی ان کی امداد کریں گے ، اس دن گواہ کھڑے ہوں گے ، ظالموں کے عذر بےسود رہیں گے ، ان پر لعنت برسے گی اور ان کے لئے برا گھر ہو گا ۔ گھر کی اضافت آخرت کی طرف کی ۔ جیسے صلوۃ اولیٰ اور مسجد جامع اور عام اول اور بارحۃ الاولیٰ اور یوم الخمیس میں ایسے ہی اضافت ہے ، عربی شعروں میں بھی یہ اضافت بکثرت آئی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

109۔ 1 یہ آیت اس بات پر قطعی حکم ہے کہ تمام نبی مرد ہی ہوئے ہیں، عورتوں میں سے کسی کو نبوت کا مقام نہیں ملا، اسی طرح ان کا تعلق قریہ سے تھا، جو قصبہ دیہات اور شہر سب شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اہل بادیہ (صحرا نشینوں) میں سے نہیں تھا کیونکہ اہل بادیہ نسبتاً طبعیت کے سخت اور اخلاق کے کھردرے ہوتے ہیں اور شہری ان کی نسبت نرم، دھیمے اور با اخلاق ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں نبوت کے لئے ضروری ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] رسول کا اسی قوم سے اور بشر ہونا کیوں ضروری ہے ؟:۔ یہ دراصل ہر دور کے منکرین رسالت اور اسی طرح کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے کہ ہم اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی نبوت اور رسالت پر ایمان کیسے لائیں جسے ہماری طرح تمام بشری احتیاجات اور کمزرویاں لاحق ہیں۔ یہ اعتراض ذکر کیے بغیر اس آیت میں اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ یعنی تمام انبیاء نے اپنی قوم کے سامنے اپنا بچپن اور جوانی گزاری، تاکہ ان کی نبوت سے پہلے کی زندگی ان کی دعوت پر گواہی کی حیثیت سے پیش کی جاسکے اور ان کی قوم ان کی دعوت کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اگر ہم باہر سے کوئی اجنبی آدمی نبی بنا کر بھیج دیتے تو کیا وہ ان کی دعوت کو سمجھ سکتے تھے، پھر اگر وہ سمجھ ہی نہ پاتے تو کیا ایمان لاسکتے تھے ؟ پھر جب اس صورت کے علاوہ کوئی دوسری صورت ممکن ہی نہیں تو ان کے لیے ایسے اعتراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسے ہی اعتراض کرکے انبیاء کی دعوت تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا کم از کم ان کا انجام ہی دیکھ لیتے۔ پھر اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا جاسکتا تھا کہ جب دنیا میں ان منکریں حق کا یہ حشر ہوا ہے تو آخرت میں تو اس سے بھی بدتر ہوگا نیز یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی اصلاح کرلی اور اللہ سے ڈرتے رہے وہ صرف دنیا میں ہی اچھے نہ رہے بلکہ آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی بہتر ہوگا۔ کوئی عورت نبیہ نہیں ہوئی :۔ اس آیت میں ضمناً دو باتیں مزید معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ کوئی عورت کسی دور میں نبی نہیں بنائی گئی۔ دوسرے یہ کہ کوئی نبی کسی بدوی یا جنگلی علاقہ میں مبعوث نہیں کیا گیا۔ وہ بڑی بستیوں یا شہروں میں ہی پیدا ہوئے اور وہی ان کا مرکز تبلیغ رہا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ ۔۔ : اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انسان ہونے کی وجہ سے نبی ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترے۔ (دیکھیے فرقان : ٢١) یہ رسول تو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : ٧) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے تمام رسول ” رِجَالٌ“ (مرد) ہی بھیجے۔ دوسرے مردوں سے ان کا فرق یہ تھا کہ ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے جس سے دوسرے لوگ محروم تھے۔ اِلَّا رِجَالًا : اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر (رض) لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتوں کے ذریعے سے وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر اس سے ان کا معروف معنی میں نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ نبی وہ ہے جس پر شرع کے احکام اتریں اور اس قسم کی وحی کسی عورت پر نہیں اتری، یہ شرف رجال (مردوں) ہی کو حاصل رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صراحت فرما دی تھی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، مگر اس آیت میں ان عورتوں کے جھوٹے دعوے کا پیشگی مزید رد ہے جنھوں نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مثلاً سجاح نامی عورت۔ چناچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا، عورتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ رسول نے مردوں کو بھی دعوت دینا ہوتی ہے، الجھنا بھی پڑتا ہے، جنگ بھی ہوتی ہے اور یہ کام عورت کے بس کے نہیں ہیں۔ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى : اکثر اہل علم اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی ہمیشہ شہروں اور بستیوں کے رہنے والوں میں سے آئے ہیں، بادیہ یا صحرا نشینوں سے نہیں آئے، کیونکہ بادیہ نشین قدرتی طور پر غیر سنجیدہ اور سخت طبع ہوتے ہیں۔ مگر ابن عاشور (رض) نے فرمایا :” یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں۔ “ یعنی جو بات تم کہہ رہے ہو کہ آسمان سے فرشتہ اترنا چاہیے، یہ بات درست نہیں، تمام پیغمبر انسان ہی تھے اور زمین کی بستیوں ہی کے رہنے والے تھے، آسمان سے نہیں اترے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) بدو میں رہتے تھے اور پیغمبر تھے، جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ( وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ ) [ یوسف : ١٠٠ ] یا پھر یہ کہا جائے کہ یعقوب (علیہ السلام) بھی بستی ہی میں رہتے تھے، مگر ترقی یافتہ اور متمدن شہر مصر کے مقابلے میں اس بستی کنعان کی حیثیت بھی بدو اور صحرا کی تھی، جیسا کہ پیچھے گزرا۔ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ۔۔ : کفار آخرت کو تو مانتے نہیں تھے، اس لیے انھیں سمجھانے کے لیے دنیا میں گزرنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے شام کو جاتے ہوئے پہاڑوں کو کھود کر بنائے ہوئے قوم ثمود کے مکانات اور قوم لوط کی بستیوں کی جگہ والاخرابہ اور پھر مصر کے اہرام نہیں دیکھیے کہ انھیں عبرت ہوتی۔ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ل۔۔ : اگرچہ پچھلے کلام کا تقاضا تھا کہ کہا جاتا کہ ان کفار سے آخرت میں ہونے والا معاملہ اس سے بھی کہیں برا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا ذکر ہی چھوڑ کر متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا، جس سے ان کا انجام خود بخود ظاہر ہو رہا ہے، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

where it was said: وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِ‌جَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَ‌ىٰ : It means that their thinking that it is an angel who should be the messen¬ger and prophet of Allah and that a human being cannot occupy this sta¬tion is baseless and ineffectual. Quite contrary to this, the case is just the reverse - that is, for human beings, a prophet of Allah has always been a human being. Nevertheless, he is distinct from human beings in general in that the Wahy and message of Allah Ta’ ala comes to him di¬rectly. It is never the outcome of an individual effort or act by anyone. It is always Allah Ta` ala Himself who would choose from among his ser-vants the one who, in His knowledge and judgment, is the fittest for this mission. And this selection is based on particular attributes of personal excellence which are not found among human beings at large. Onwards from here, there is an admonition to those who contravene the instructions given by the maker of the call on behalf of Allah (da` i), and invite the wrath and punishment of Allah upon them. It was said: أَفَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَيَنظُرُ‌وا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ‌ الْآخِرَ‌ةِ خَيْرٌ‌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوْا ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ Have they not travelled in the land where they would have seen how was the fate of those before them? And surely the abode of the Hereafter is better for those who fear Allah. Would you, then, still not understand? - 109 And continue to prefer the short-lived comfort of the present world over the everlasting and perfect blessings and comforts of the &Akhirah. Messengers are from Men 2. From the word: رِجَالِاً (rijalan : men) in verse 109: وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِ‌جَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَ‌ىٰ And We did not send before you [ messengers ] other than men from the people of the towns - 109, We learn that messengers are always men. A woman cannot become a nabiyy (prophet) and rasul (messenger). Imam Ibn Kathir (رح) has reported the consensus of ` Ulama& that Allah Ta` ala has not made any woman a nabiyy or rasul. Some ` Ulama& have identified some women as being a nabiyy or prophet, for example, Sayyidah Sarah, the wife of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Sayyidah Maryam, the mother of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . The reason is that there are particular words in the Holy Qur’ an about these three respected women which give the impression that angels talked to them as Divinely commanded, gave them good news, or they themselves came to know something through the medium of Divine revelation. But the majority of ` Ulama, though they do accept that the words of such verses prove that these respected women had a high spiritual rank in the sight of Allah Ta` ala, but, according to them, these words are not suf¬ficient as proofs of their being prophets and messengers. Messengers are from Towns 3. The expression: أَهْلِ الْقُرَ‌ىٰ (men from the people of the towns) appearing in the verse quoted immediately above tells us that Allah Ta` la sends his messengers generally from among those who live in cities and towns. Messengers are not from among those who reside in the country-side and forest lands - because the dwellers of these habitations are gen¬erally rustic, hard and less perfect in comprehension and understanding. (Ibn Kathir, Qurtubi & others)

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى یعنی ان کا یہ خیال بےبنیاد اور لغو ہے کہ اللہ کا رسول اور پیغمبر فرشتہ ہونا چاہئے انسان نہیں ہوسکتا بلکہ معاملہ برعکس ہے کہ انسانوں کے لئے اللہ کا رسول ہمیشہ انسان ہی ہوتا چلا آیا ہے البتہ عام انسانوں سے اس کو یہ امتیاز حاصل ہوتا ہے کہ اس کی طرف براہ راست حق تعالیٰ کی وحی اور پیغام آتا ہے اور وہ کسی کی سعی و عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ خود ہی اپنے بندوں میں سے جس کو مناسب سمجھتے ہیں اس کام کے لئے انتخاب فرما لیتے ہیں اور یہ انتخاب ایسی خاص صفات کمال کی بناء پر ہوتا ہے جو عام انسانوں میں نہیں ہوتیں آگے ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اللہ کی طرف داعی اور رسول کی ہدایات کی خلاف ورزی کر کے عذاب الہی کو دعوت دیتے ہیں فرمایا اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ یعنی کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان کو پچھلی قوموں کے حالات کا مشاہدہ ہو کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انکار نے ان کو کس انجام بد میں مبتلا کیا مگر یہ لوگ دنیا کی ظاہری زینت و راحت میں مست ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں حالانکہ پرہیزگاروں کے لئے آخرت اس دنیا سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا ان لوگوں کو اتنی عقل نہیں کہ دنیا کی چند روزہ راحت کو آخرت کی دائمی اور مکمل نعمتوں اور راحتوں پر ترجیح دیتے ہیں (آیت) وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے متعلق لفظ رجالا سے معلوم ہوا کہ رسول ہمیشہ مرد ہی ہوتے ہیں عورت نبی یا رسول نہیں ہوسکتی امام ابن کثیر نے جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کو نبی یا رسول نہیں بنایا بعض علماء نے چند عورتوں کے متعلق نبی ہونے کا اقرار کیا ہے مثلا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بی بی سارہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اور حضرت مریم ام عیسیٰ (علیہ السلام) کیونکہ ان تینوں خواتین کے بارے میں قرآن کریم میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن سے سمجھا جاتا ہے کہ بحکم خداوندی فرشتوں نے ان سے کلام کیا اور بشارت سنائی یا خود ان کو وحی الہی سے کوئی بات معلوم ہوئی مگر جمہور علماء کے نزدیک ان آیتوں سے ان تینوں خواتین کی بزرگی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا بڑا درجہ ہونا تو ثابت ہوتا ہے مگر وہ فرماتے ہیں کہ صرف یہ الفاظ ان کی نبوت و رسالت کے ثبوت کے لئے کافی نہیں اور اسی آیت میں لفظ اَهْلِ الْقُرٰى سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول عموما شہروں اور قصبوں کے رہنے والوں میں سے بھیجتے ہیں دیہات اور جنگل کے باشندوں میں سے رسول نہیں ہوتے کیونکہ عموما دیہات اور جنگل کے باشندے سخت مزاج اور عقل و فہم میں کامل نہیں ہوتے (ابن کثیر و قرطبی وغیرہ)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى ۭ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۭاَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ١٠٩؁ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٩) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ نے آپ سے پہلے مختلف بستی والوں میں جتنے رسول بنا کر بھیجے سب آدمی ہی تھے جس طرح اب ہم آپ کے پاس بذریعہ جبریل امین وحی بھیجتے ہیں اسی طرح ان کے پاس وحی بھیجتے تھے کیا مکہ والے کہیں چلے پھرے نہیں کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر غور کرلیتے کہ ان سے پہلے جو کافر تھے ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ البتہ جنت ان حضرات کے لیے جو کفر وشرک اور فواحش سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں نہایت بھلائی کی چیز ہے۔ کیا تمہارے پاس انسانوں والا دماغ نہیں کہ سوچو آخرت دنیا سے بہتر ہے یا یہ کی دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی ہے یا یہ کہ کیا اس بات کو نہیں مانتے کہ گزشتہ قوموں پر جب انہوں نے رسولوں کو جھوٹا قرار دیا کیا کیا عذاب نازل ہوئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٩ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) یعنی آپ سے پہلے مختلف ادوار میں اور مختلف علاقوں میں جو انبیاء و رسل آئے وہ سب آدمی ہی تھے اور ان ہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے۔ (اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) یہ انہی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر انباء الرسل کے تحت قرآن میں بار بار آیا ہے۔ (وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۭاَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سی آراء ہیں۔ میرے نزدیک جو رائے صحیح تر ہے صرف وہ یہاں بیان کی جا رہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

79. A very comprehensive subject has been condensed here into a couple of sentences, which may be expanded like this: “O Muhammad! these people do not listen to you because it is not an easy thing for them to believe you to be a Messenger of Allah just because you are a mere human being who was born in their own city among them and brought up like other people. But there is nothing strange in this. For this is not the first instance of its kind. All the Prophets, whom We sent before you, were also human beings and lived in the same habitations to which they were sent. It never happened that a stranger came to a town and declared, “I have been sent as a Messenger to you. On the other hand, all the Prophets, Jesus, Moses, Abraham and Noah (peace be upon them all), who were raised for the reform of the people, were human beings who were born and brought up in their own habitations. Then it addresses the disbelievers directly, as if to say: Now it is for you to judge and decide whether you should accept the Messenger or reject him on such flimsy grounds as these. You have traveled abroad and seen the end of those people who rejected the message of their Prophets and followed their own desires. You have seen, on your journeys, the ruined habitations of the people of Aad, Thamud, Midian, Lot, and others. Have you not observed these as object lessons, for these warn you that they would meet with far worse consequences in the Hereafter, and that conversely, those who are pious and God fearing will have a very happy life?

۷۹ ۔ یہاں ایک بہت بڑے مضمون کو دو تین جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے ، اس کو اگر کسی تفصیلی عبارت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے یہ لوگ تمہاری بات کی طرف اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ جو شخص کل ان کے شہر میں پیدا ہوا اور انہی کے درمیان بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوا اس کے متعلق یہ کیسے مان لیں کہ یکایک ایک روز خدا نے اسے اپنا سفیر مقرر کردیا ، لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے جس سے آج دنیا میں پہلی مرتبہ انہی کو سابقہ پیش آیا ہو ، اس سے پہلے بھی خدا اپنے نبی بھیج چکا ہتے اور وہ سب بھی انسان ہی تھے ، پھر یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اچانک ایک اجنبی شخص کسی شہر میں نمودار ہوگیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ میں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں ، بلکہ جو لوگ بھی انسانوں کی اصلاح کے لیے اٹھائے گئے وہ سب ان کی اپنی ہی بستیوں کے رہنے والے تھے ، مسیح ، موسی ، ابراہیم ، نوح ( علیہم السلام ) آخر کون تھے؟ اب تم خود ہی دیکھ لو کہ جن قوموں نے ان لوگوں کی دعوت اصلاح کو قبول نہ کیا اور اپنے بے بنیاد تخیلات اور بے لگام خواہشات کے پیچھے چلتی رہیں ان کا انجام کیا ہوا ، تم خود اپنے تجارتی سفروں میں عاد ، ثمود ، مدین اور قوم لوط وغیرہ کے تباہ شدہ علاقوں سے گزرتے رہے ہو ، کیا وہاں کوئی سباق تمہیں نہیں ملا ؟ یہ انجام جو انہوں نے دنیا میں دیکھا یہی تو خبر دے رہا ہے کہ عاقبت میں وہ اس سے بد تر انجام دیکھیں گے ۔ اور یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی اصلاح کرلی وہ صرف دنیا ہی میں اچھے نہ رہے آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ بہتر ہوگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٩۔ اس آیت میں اللہ پاک نے ان لوگوں کو قائل کیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا۔ اللہ پاک نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا کہ عادت الٰہی یوں ہی جاری رہی ہے کہ ہمیشہ انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اس میں جو کچھ حکمت ہے وہ اللہ خوب جانتا ہے۔ جمہور علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ جل جلالہ نے جتنے پیغمبر ہدایت عالم کے لئے بھیجے وہ سب کے سب اول سے آخر تک مرد ہی ہوتے آئے کوئی عورت کسی زمانہ میں نبی یارسول نہیں ہوئی بعض لوگوں کا اعتقاد یہ جو ہے کہ چار عورتیں پیغمبر ہوئیں ہیں حضرت آسیہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اور حضرت مریم والدہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہ السلام) وہ لوگ اس کیوجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ان عورتوں کو بعض اوقات خدا نے بذریعہ فرشتوں کے بشارت بھیجی ہے مثلاً اللہ پاک نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی نسبت فرمایا کہ { واوحینا الی ام اموسی ان ارضیعہ } [٢٨: ٧] ۔ اور حضرت مریم کو فرشتے نے آکر یہ بشارت سنائی { واذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللہ اصطفاک۔ الخ } [٣: ٤٢] مگر اس سے یہ نہیں لازم آتا کہ یہ گروہ مستورات نبی تھا کیونکہ نبی مخلوق کی ہدایت کے لئے ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی شریعت لے کر آتا ہے اور یہ برگزیدہ عورتیں نہ تو علیحدہ کسی شریعت کی بانی تھیں اور نہ کسی شریعت سابقہ کی خلیفہ جس طرح حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ تھے اتنی بات البتہ ثابت ہوتی ہے کہ یہ عورتیں صدیقہ ہوئی ہیں جیسا کہ اللہ پاک نے حضرت مریم بنت عمران (علیہ السلام) کی نسبت خبر دی کہ یہ اشرف عورت تھیں گروہ مستورات میں۔ { ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یا کلان الطعام } [٥٥: ٥] ۔ اس جگہ حضرت مریم کا ذکر اشرف مقام میں تھا اگر نبی ہوتیں تو ان کی نبوت کا ذکر یہاں ضرور کیا جاتا صرف صدیقیت کا وصف کافی نہ شمار کیا جاتا حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے جال کی رجال کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مطلب یہ ہے کہ جو منکر نبوت لوگوں کا خیال ہے کہ آسمان کے رہنے والوں فرشتوں میں سے کوئی رسول ہو کر یہاں نہیں آیا اس کا جواب اللہ پاک نے یوں دیا ہے کہ کبھی کوئی فرشتہ رسول نہیں بنایا گیا جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب زمین کے چلنے والے رہنے والے اور اسی سرزمین کے بسنے والے ہوئے ہیں اور وہ سب کے سب آدمی جنس بنی آدم سے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے قول کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے جس میں اللہ پاک نے فرمایا { وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق } [٢٥: ٢٠] کیوں کہ فرشتوں کی شان کھانے پینے اور بازاروں میں پھرنے کی نہیں ہے۔ اور قوی سے مراد یہ ہے کہ وہ رسول شہر کے باشندے ہوئے ہیں جنگل اور گاؤں کے رہنے والے نہیں ہوئے کیوں کہ دیہات والوں کی نسبت شہر کے لوگ زیادہ سمجھ دار اور نرم دل ہوتے ہیں پھر اللہ پاک نے اسی آیت میں ذکر فرمایا کہ لوگ جھٹلانے والے جو ہمارے رسول کو جھٹلاتے ہیں کیا یہ لوگ روئے زمین کی سیر نہیں کرتے یا پہلے لوگوں کا حال انہوں نے سنا نہیں انہیں یہ بات نہیں معلوم ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم یا حضرت ہود (علیہ السلام) یا حضرت صالح (علیہ السلام) وغیرہ کی امتوں کا کیا حال ہوا کس طرح یہ لوگ ہلاک ہوئے اور اسی زمانہ میں جو لوگ مومن تھے اور خدا اور اس کے رسول کے تابع اور فرمانبردار تھے ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوا جو کچھ عذاب آیا انہیں کافروں پر آیا خداوندعالم کا طریقہ اسی طرح برابر جاری رہا ہے کہ وہ ہمیشہ دین کا انکار کرنے والوں کے بنیاد اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے اور اپنے خالص اور متقی بندوں کو سایہ رحمت میں لے لیتا ہے۔ اسی واسطے پھر یہ فرمایا کہ جس طرح یہ متقی بندے دنیا میں خدا کے حفظ وامان میں رہا کئے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ان کے واسطے عمدہ عمدہ مکانات تیار کئے گئے ہیں جو مرنے کے بعد انہیں عطا ہوں گے اور جو نعمتیں وہاں انہیں ملیں گی وہ دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر ہوں گے { افلا تعقلون } اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک موٹی سی بات تھی جو ان لوگوں کے دل کے جواب میں انہیں سمجھا دی گئی ہے کہ فرشتوں کا اصلی صورت میں دیکھنا تو انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لئے کوئی فرشتہ رسول بناکر بھیجا جاتا تو ضرور وہ انسان کی شکل میں بھیجا جاتا۔ وہی شبہ ان لوگوں کو باقی رہتا جو اس وقت ہے۔ اس موٹی سی بات پر ان لوگوں کو غورو فکر کرنا اور یہ جان لینا چاہیے کہ اس نادانی کے شبہ نے پہلی امتوں کو دین و دنیا کی خرابی میں ڈال دیا دنیا میں وہ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور عقبیٰ میں جنت کی نعمتوں کو ہاتھ سے دے کر دوزخ کے عذاب میں پکڑ گئے ان اجڑی ہوئی امتوں کی طرح اس موٹی سی بات پر غور و فکر کرنے میں ان لوگوں نے کوتاہی کی اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اڑے رہے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان سے پہلے لوگوں کا ہوا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اس نادانی کے شبہ پر اڑے رہنے والے بےبڑے قریش کے سرداروں کا دین و دنیا میں جو انجام ہوا وہ صحیح مسلم کی انس بن مالک (رض) کی حدیث کے حوالہ سے گزر چکا ہے ١ ؎ ( ١ ؎ جلد ہذا ص ٣٢) جس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے شروع ہونے سے ایک رات پہلے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش میں ان سرکشوں کے نام بتلا دئیے جو اس لڑائی میں مارے جانے والے تھے، بلکہ مارے جانے کے بعد جہاں جہاں ان لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں وہ مقامات بھی بتلا دئیے تھے۔ انس بن مالک (رض) قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی لاشوں کو لڑائی کے بعد انہی مقامات پر ہم لوگوں نے پایا یہ تو ان سرکشوں کی دنیا کی خرابی کا حال ہوا کہ عقبیٰ میں ان کا یہ حال ہوا کہ مرنے کے ساتھ ہی سخت عذاب نے ان کو آن گھیرا جو عذاب پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کے وعدہ کو سچا پا لیا چناچہ امام احمد صحیح بخاری شریف کی حدیث کے حوالے سے ذکر بھی گزرچکا ہے۔ ٢ ؎ (٢ ؎ صحیح بخاری ص ٥٦٦۔ ج ٢ باب قتل ابی جہل )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:109) وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اہل القری۔ یعنی ہم نے تجھ سے قبل بھی بستیوں کے باسیوں میں سے ہی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا۔ اور انہی کی طرف وحی بھیجتے رہے۔ یعنی یہ سب انسان (بشر) تھے اور شہروں کے بسنے والے تھے جنہیں ہر ایک جانتا تھا۔ افلم یسیروا۔ (کیا وہ چلے پھرے نہیں) میں ضمیر کا مرجع نبوت کے منکر اور کافر لوگ ہیں۔ من قبلہم۔ جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی جو انہی کی طرح اپنے وقت کے نبیوں اور رسولوں کے منکر تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ یعنی شہروں کے رہنے والے مہذب، سنجیدہ اور بااخلاق نہ کہ جنگلی یادیہاتی قسم کے اجڈ، سنگدل۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہا کرتے تھے۔ لولا انزل علیہ ملک۔ اس۔ رسول ( علیہ السلام) ۔ پر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک جتنے لوگ بھیجے ہیں وہ سب شہری لوگ تھے اور وہ بھی مرد۔ اس آیت میں ان لوگوں کا بھی رد ہے۔ جو کہتے ہیں کہ چار عورتیں پیغمبر ہوئی ہیں۔ حوا، آسیہ، ام موسیٰ اور حضرت مریم ( علیہ السلام) ۔ حافظ بن کثیر لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتے کے ذریعہ وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر یہ نبوت کو مستلزم نہیں (عرفا) نبی کی طرف وحی تشریعی کا ہونا لازم ہے اور اس قسم کی وحی (تشریعی) کسی عورت پر نازل نہیں ہوئی۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110 ما ارسلنا ہم نے نہیں بھیجا رجال (رجل) مرد اھل القریٰ بستیوں والے لم یسیروا وہ نہیں چلے پھرے کیف کان کیسے تھے عاقبۃ انجام قبل پہلے الدارالاخرۃ آخرت کا گھر استیئس مایوس ہوگیا۔ ہوگئے الرسل (رسول) رسول ، پیغمبر ظنوا انہوں نے سمجھ لیا۔ گمان کیا قدکذبوا وہ یقینا جھٹلائے گئے نصرنا ہماری مدد فنجی پس ہم نجات دیتے ہیں لا یرد نہیں ہٹتا، نہیں ٹلتا باسنا ہمارا عذاب المجرمین جرم کرنے والے تشریح : آیت نمبر 109 تا 110 قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مشرکین نے آخری بات یہی کی ہے کہ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایک ایسا شخص جو ہماری طرح ہے، ہماری طرح زندگی کے تقاضے رکھتا ہے وہ شادی کرتا ہے، اس کے بچے ہوتے ہیں، وہ کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں بھی آتا اور جاتا ہے وہ اللہ کا نبی کیسے ہو سکتا ہے۔ اللہ کا نبی تو اس کو ہونا چاہئے جو عام انسانوں کی طرح نہ ہو، اس کے ساتھ فرشتے ہوں، اس کے پاس خزانے ہوں اور وہ دنیاوی تقاضوں کا محتاج نہ ہو۔ قرآن کریم میں ہر جگہ اس کا ایک ہی جواب دیا گیا ہے کہ تمام انبیاء اور رسول انسان ہی ہوتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے جو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے سچائی کے اصولوں کو پیش کرتے ہیں۔ جو ان کی بات مان لیتے ہیں ان کو نجات دیدی جاتی ہے اور جو نہیں مانتے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اگر و ہ لوگ ان کھنڈرات کو دیکھیں جو دنیا کی عظیم ترین قوموں کے آثار ہیں کہ جب انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی تب ان پر عذاب نازل کیا گیا اور ان کے مال و دولت اونچی بلڈنگیں اور ترقیات ان کے کام نہ آسکیں۔ فرمایا کہ ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو آج بھی نافرمان قوموں کے ٹوٹے پھوٹے ویران مکانات کھنڈرات کی شکل میں موجود ہیں۔ اللہ نے انسان کو دنیاوی ترقیات سے نہیں روکا بلکہ عقل و فکر اور جسمانی محنتوں کے بدلے میں سب کچھ عطا کیا لیکن جب وہ اپنے خالق ومالک کو بھول گئے اور تکبر اور غرور کا وہ راستہ اختیار کرلیا جس میں اللہ کے رسولوں کا کہنا بھی ان کو گوارہ نہیں ہوا اور ان انبیاء کرام نے اس بات کو محسوس کرلیا کہ ہماری قوم ہماری بات کو مذاق میں اڑا رہی ہے اور اللہ کو اس طرح بھول گئی ہے کہ اس کے نزدیک اللہ کی تعلیمات بےحقیقت بن کر رہ گئی ہیں تو انبیاء کرام اللہ کی بارگاہ میں اپنی مایوسی اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں تب اللہ جس طرح چاہتا ہے اس قوم پر عذاب نازل کرتا ہے اور مجرموں کی ساری قوتیں اور طاقتیں مل کر بھی اس عذاب اور اللہ کے غصے کو ٹالنا بھی چاہیں تو ٹال نہیں سکتیں۔ یہی اللہ کا دستور ہے اور سنت اللہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ خلاصہ یہ ہوا کہ میرا مقصود دعوی نبوت سے اپنا بندہ بنانا ہے لیکن اس کا طریق بذریعہ داعی من اللہ کے بتلایا جاتا ہے اس لیے میرا داعی ماننا جبکہ میرے پاس اس کی دلیل بھی ہے واجب ہے۔ 1۔ کہ فانی کا اختیار کرنا بہتر ہے یا باقی کا اگر تم کو تاخیر عذاب ہے شبہ عدم وقوع کا ہوتا ہے تو تمہاری غلطی ہے اس لیے کفار امم سابقہ کو بھی بڑی بڑی مہلتیں دی گئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین، نہ صرف اللہ کو ایک الٰہ نہیں ماننے تھے بلکہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ نبی انسان ہونے کی بجائے مافوق البشر ہستی ہونا چاہیے۔ جس کا جواب یہ دیا ہے کہ توحید اور بشریت کے بہانے نبوت کا انکار کرنے والوں کا انجام دیکھنا چاہو تو زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ توحید و رسالت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ اگر تم بھی انکار کی روش اختیار کیے رکھو گے تو تمہارا انجام بھی پہلے لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کے سب انسان تھے۔ اور انہی علاقوں اور قوموں سے تعلق رکھتے تھے جن میں انہیں مبعوث کیا گیا تھا۔ کیا لوگ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ دنیوی مفادات کی خاطر انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ کیا لوگ نہیں سوچتے کہ انہیں دنیا کی بجائے آخرت کو ترجیح دینا چاہیے۔ یہ حقیقت قرآن مجید با رہا دفعہ بیان کرتا ہے کہ جتنے رسول دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سب کے سب نہ صرف انسان تھے بلکہ اپنی اپنی قوم سے تعلق رکھتے اور انہی کی زبان میں بات کرنے والے تھے۔ قرآن مجید عربی میں اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عربی النسل تھے۔ اہل مکہ اس بات پر ناز کرنے کی بجائے تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ عجیب معاملہ ہے کہ ہمارے جیسا انسان نبی بنا دیا گیا ہے اور وہ ہماری زبان میں بات کرتا ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس بات کے ٹھوس دلائل دیے ہیں کہ نبی کے انسان ہونے اور اپنی قوم میں مبعوث ہونے کے کیا فوائد ہیں ؟ اگر نبی قومی زبان کی بجائے کوئی اور زبان بولنے والا کسی دوسری جنس سے ہوتا تو نبی اور اس کی امت کو بات سمجھنے سمجھانے اور اس پر عمل کرنے میں جو مشکلات پیش آتیں ان کا یہ لوگ تصور بھی کرسکتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ آدمیوں میں سے جس کو چاہے نبی بنائے اور جس قوم اور بستی میں نبی مبعوث کیا جائے اس کے لیے یہ طرۂ امتیاز ہے جس کا کوئی قوم مقابلہ نہیں کرسکتی قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تمام نبی مرد تھے۔ جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ نبی نہ صرف فرشتوں میں نہیں تھے بلکہ کسی عورت کو بھی نبوت کے مقام پر فائز نہیں کیا گیا۔ مگر لوگ اس حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے احسان عظیم پر غور نہیں کرتے۔ یہاں نبی کی بشریت کے دلائل دینے کی بجائے صرف اتنا فرمایا ہے کہ انہیں عقل سے کام لینا چاہیے کہ جن لوگوں نے نبی کی نبوت اور بشریت کو جھٹلایا ان کا دنیا میں کیا انجام ہوا ہے بلکہ دنیا کے ساتھ ان کی آخرت بھی برباد ہوگئی۔ (عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تَفْرَغُوْا مِنْ ہَمُوْمِ الدُّنِیَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَانَتِ الدُّنِیَا اَکْبَرُ ہَمَّہٗ اَفْشَی اللّٰہُ ضَیِّعَتَہٗ وَجَعْلَ فَقْرَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ہَمَّہٗ جَمَعَ اللّٰہُ لَہٗ اَمُوْرَہٗ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَمَا اَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِہٖ إِلَی اللّٰہِ إِلاَّ جَعَلَ اللّٰہُ قُلُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ تَفِدُّ إِلَیْہِ بالْوَدِّ وَالرَّحْمَۃِ وَکَان اللّٰہُ إِلَیْہِ بِکُلِّ خَیْرٍ اَسْرَعُ )[ معجم الاوسط ] ” حضرت ابو درداء (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہاں تک ہو سکے تم دنیا کے غموں سے چھٹکارا حاصل کرلو جس نے دنیا کی فکر کو بڑ اجان لیا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا تنگ کردیں گے۔ محتاجی اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی۔ جس نے آخرت کو اپنے لیے بڑی فکر سمجھ لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سنوار دے گا۔ اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مومنوں کے دلوں میں محبت اور رحمت پید افرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی میں جلدی کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ تمام رسول مردوں میں سے تھے۔ ٢۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ وحی فرماتے تھے۔ ٣۔ زمین میں سیر و سیاحت کر کے پہلے لوگوں کا انجام دیکھنا چاہیے۔ ٤۔ آخرت کا گھر تمام دنیا سے بہتر ہے۔ ٥۔ آخرت کا گھر متقین کے لیے ہے۔ تفسیر بالقرآن آخرت کا گھر کن لوگوں کے لیے ہے : ١۔ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ (یوسف : ١٠٩ ) ٢۔ مومنوں کے لیے سلامتی والا گھر ہے اور اللہ ان کا دوست ہوگا۔ (الانعام : ١٢٧ ) ٣۔ متقین کے لیے آخرت کا گھربہتر ہے کیا لوگ عقل نہیں کرتے۔ (الاعراف : ١٦٩ ) ٤۔ صبر کرنے والوں کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ (الرعد : ٢٤ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١٠٩ سابقہ اقوام کی تاریخ میں بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ اس لئے بعد میں آنے والوں کو چاہئے کہ وہ سابقین کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اس سے دل نرم ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کے دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ جب اقوام سابقہ کی سرگرمیوں اور ان کی چلت پھرت کو اپنے تخیل میں زندہ کیا جاتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی اپنی شان و شوکت ہے اور پھر پردۂ خیال پر یہ دور آتا ہے کہ وہ دیکھو یہ لوگ تو نیست و نابود ہوگئے اور مرمٹ گئے ، بغیر حس و حرکت پڑے ہیں اور مٹی میں مل گئے ہیں۔ ان کے وہ شہر اور بستیاں کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئیں اور ان کے ساتھ ان کا علم و ثقافت اور ان کی چلت اور پھرت اور ان کا عروج اور ان کے افکار بھی مر مٹ گئے تو ایسے تخیلات اور غوروفکر سے انسانوں کے دل دہل جاتے ہیں اور غافل سے غافل انسان کے بھی مارے خوف کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم لوگوں کو امم سابقہ کے عروج وزوال کی کہانیاں سناتا ہے اور ان کو لے جا کر ان کھنڈرات میں گھماتا ہے جو ان اقوام کی داستانیں سناتے ہیں۔ وما ارسلنا۔۔۔۔۔ القری (١٢ : ١٠٩) ” تم سے پہلے جو ہم نے پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان تھے اور انہی بستیوں کے رہنے والے تھے اور انہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے “۔ یعنی وہ نہ ملائکہ اور فرشتے تھے اور نہ وہ کوئی اور انوکھی مخلوق تھے ، بلکہ اے پیغمبر وہ تو آپ ہی جیسے انسان تھے۔ شہری تھے ، دیہاتی نہ تھے تا کہ وہ سلجھے ہوئے ہوں اور نرمی سے بات سنیں۔ لہٰذا آپ دعوت اسلامی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے کی سعی کریں اور لوگوں کو راہ راست دکھاتے رہیں۔ آپ کی تحریک اور دعوت بھی اسی سنت الٰہی پر قائم ہے جس کے مطابق اللہ نے تمام انبیاء کو بھیجا۔ یہ لوگ بشر تھے اور ان کی طرف خدا کا پیغام وحی کیا گیا تھا ؟ افلم یسیروا ۔۔۔۔۔ من قبلھم (١٢ : ١٠٩) ” پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان قوموں کا انجام نظر نہ آیا ، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں “۔ تا کہ وہ جان سکیں کہ ان کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے جیسا کہ ان کا ہوا۔ الا یہ کہ سنت الٰہیہ انہیں اپنی گرفت میں لینے ہی والی ہے اور تا کہ وہ یہ سمجھتے کہ اس دنیا سے تو جانا ہی ہے۔ ولدارالاخرۃ خیر للذین اتقوا (١٢ : ١٠٩) ” یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جنہوں نے تقوی کی روش اختیار کی “۔ اس لئے کہ اس جہان میں تو قرار نہیں ہے ، یہاں سے تو جانا ہی ہے۔ افلا تعقلون (١٢ : ١٠٩) ” کیا اب بھی تم لوگ نہیں سمجھتے “۔ کیا تم لوگ انسانی تاریخ میں سنت الٰہیہ کے عمل کو سمجھتے نہیں۔ اور کیا تمہاری عقل ایسے معاملے میں بھی معقول فیصلہ نہیں کرسکتی کہ ایک چیز فانی ہے اور ایک باقی ہے اور فانی پر باقی کو ترجیح دینا چاہئے۔ اب رسولوں کی زندگی کی بعض مشکل گھڑیوں کا ذکر کیا جاتا ۔ اور یہ مشکل مقامات آخری فتح سے قبل آیا کرتے ہیں۔ یہ مشکلات اللہ کی سنت کا حصہ ہیں اور یہ داعی کو درپیش آتی ہیں کیونکہ سنت الٰہیہ ٹلنے والی نہیں ہوتی ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آپ سے پہلے جو رسول بھیجے وہ انسان ہی تھے مشرکین مکہ اور دوسرے کفار کے سامنے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دعوت پیش کی اور فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں تو ان لوگوں نے کٹ حجتی کی اور طرح طرح کے بےت کے سوالات کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ آپ تو ہمارے جیسے آدمی ہیں رسول کوئی فرشتہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کا جواب دیا کہ ہم نے جتنے بھی رسول پہلے بھیجے ہیں وہ سب انسان ہی تھے جو مختلف بستیوں کے رہنے والے تھے ‘ یہ حضرات اپنی اپنی امتوں کی طرف بھیجے گئے اور ان کو حق کی دعوت دی اور اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ ہم جنس ہی ہم جنس کو صحیح طریقہ پر ہدایت دے سکتا ہے قولاً بھی اور فعلاً بھی ‘ یعنی زبان سے بھی بتاسکتا ہے اور فعلاً عمل کر کے بھی دکھا سکتا ہے اور یہ بات فرشتوں کے ذریعے حاصل نہیں کیونکہ ان میں انسانی مزاج اور طبیعت نہیں ہے لہٰذا عمل کر کے نہیں دکھا سکتے آیت کریمہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرمایا ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے وہ بھی انسان ہی تھے ‘ ان حضرات کی امتوں نے ایسے ہی بےت کے سوال کئے تھے جو آپ کے مخاطبین اٹھا رہے ہیں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جو آپ کو پیش آیا آپ سے پہلے رسولوں نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں۔ (کما فی سورة الرعد قالُوْا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا) (الی اخر الایتین) (اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) اس میں مخاطبین کو تذکیر فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم توحید پر نہیں آتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر کان نہیں دھرتے کیوں اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ‘ کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے یعنی ان سے پہلے بھی رسولوں کو ان کی امتوں نے جھٹلایا جس کی وجہ سے ماخوذ ہوئے اور ہلاک ہوئے زمین پر چلیں پھریں تو ان کے مکانوں کے کھنڈر اینٹ اور پتھر بےکار پڑے ہوئے کنویں نظر آئیں گے ‘ اگر عبرت حاصل کرنے کا مزاج ہو تو عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ (وَلَدَارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا) یعنی جو بندے تقویٰ اختیار کرتے ہیں کفر و شرک سے بچتے ہیں گناہوں سے دور رہتے ہیں فرائض واجبات کا اہتمام کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے دار آخرت میں بڑی بڑی نعمتیں ہیں اور دار آخرت ان کے لئے ان دنیاوی نفع کی چیزوں سے بہتر ہے جن سے اہل دنیا چپکے ہوئے ہیں اور یہ چیزیں انہیں ایمان سے روک رہی ہیں اور اعمال خیر سے دور رکھ رہی ہیں اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (سو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) فانی کو باقی پر ترجیح دیتے ہو اور یہ خیال نہیں کرتے کہ گرفت میں دیر ہونا دلیل اس بات کی نہیں کہ کبھی بھی دنیا اور آخرت میں عذاب میں مبتلا نہ ہو گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

92:۔ جواب سوال مقدر۔ یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کا پیغمبر ہو اور پھر بشر ہو ؟ فرمایا ہمارا دستور ہی یہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ انسانوں کی طرف انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے بشر پیغمبروں کو جن قوموں نے نہیں مانا ہم نے دنیا میں دردناک عذابوں سے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کیا۔ ان برباد شدہ قوموں کے آثار قدیمہ دیکھ لو اس سے تمہیں ان کے انجام کا علم ہوجائے گا۔ ” اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا الخ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” وَلَدَارُ الْاٰخِرۃِ الخ “ ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

109 ۔ اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستیوں کے رہنے والوں میں سے جس قدر پیغمبر بھیجے وہ سب آدمی ہی ہوتے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو یہ لوگ زمین میں کہیں چلے پھرے نہیں جو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کو جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انجام کیسا ہو اور البتہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بدرجہا بہتر ہے جو پرہیز گار اور صاحب تقویٰ ہیں سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ۔ یہ کفار کے اس اعراض کا جواب ہے کہ بشر کو کیوں رسول بنا کر بھیجا فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا ۔ مطلب یہ ہے کہ تمام بستیوں میں جو نبی اور صاحب وحی ہم نے بھیجے وہ سب کے سب مرد ہوتے تھے اور آدمیوں کی ہدایت کے لئے آدمیوں ہی کا بھیجنا مناسب اور صحیح ہے اگر یہاں فرشتے آباد ہوتے فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا جن لوگوں نے اس قسم کے لغو اور لا یعنی اعتراض کر کے رسولوں کی مخالفت کی تو ملک میں چل پھر کر دیکھ لو ان کا کیسا برا انجام ہوا اور یہ بھی یاد رکھو کہ دنیا کے عیش و آرام پر اترا کر کفر و شرک میں مبتلا نہ ہو آخرت کا گھر اور آخرت کا مقام ان ہی لوگوں کے لئے بہتر اور آرام دہ ہے جو شرک سے بچتے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ اس عالم کے فوائد اور وہاں کے منافع فرمان برداروں ہی کے لئے ہوسکتے ہیں ۔ نافرمانوں کے لئے نہیں ۔