Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 111

سورة يوسف

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾٪  6

There was certainly in their stories a lesson for those of understanding. Never was the Qur'an a narration invented, but a confirmation of what was before it and a detailed explanation of all things and guidance and mercy for a people who believe.

ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہےان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے ہرچیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لئے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Lesson for Men Who have Understanding Allah says; لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لاُِّوْلِي الاَلْبَابِ ... Indeed in their stories, there is a lesson for men of understanding. Allah states here that the stories of the Messengers and their nations and how we saved the believers and destroyed the disbelievers are, عِبْرَةٌ لاُِّوْلِي الاَلْبَابِ (a lesson for men of understanding), who have sound minds. ... مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى ... It is not a forged statement. Allah says here that this Qur'an could not have been forged; it truly came from Allah, ... وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ... but a confirmation of that which was before it, in reference to the previously revealed Divine Books, by which this Qur'an testifies to the true parts that remain in them and denies and refutes the forged parts that were added, changed and falsified by people. The Qur'an accepts or abrogates whatever Allah wills of these Books ... وَتَفْصِيلَ كُلَّ شَيْءٍ ... and a detailed explanation of everything, Meaning the allowed, the prohibited, the preferred and the disliked matters. The Qur'an deals with the acts of worship, the obligatory and recommended matters, forbids the unlawful and discourages from the disliked. The Qur'an contains major facts regarding the existence and about matters of the future in general terms or in detail. The Qur'an tells us about the Lord, the Exalted and Most Honored, and about His Names and Attributes and teaches us that Allah is glorified from being similar in any way to the creation. Hence, the Qur'an is, ... وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُوْمِنُونَ a guide and a mercy for the people who believe. with which their hearts are directed from misguidance to guidance and from deviation to conformance, and with which they seek the mercy of the Lord of all creation in this life and on the Day of Return. We ask Allah the Most Great to make us among this group in the life of the present world and in the Hereafter, on the Day when those who are successful will have faces that radiate with light, while those whose faces are dark will end up with the losing deal. This is the end of the Tafsir of Surah Yusuf; and all the thanks and praises are due to Allah, and all our trust and reliance are on Him Alone.

عبرت ونصیحت نبیوں کے واقعات ، مسلمانوں کی نجات ، کافروں کی ہلاکت کے قصے ، عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں ۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے ۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے ۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے ۔ اور جو احکام منسوخ ہو گئے انہیں بیان کرتا ہے ۔ ہر ایک حلال و حرام ، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے ۔ طاعات واجبات ، مستحبات ، محرمات ، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جل وعلا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے ۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں ۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے ، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا آخرت میں ایسے ہی مومنوں کا ساتھ دے اور قیامت کے دن جب کہ بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہو جائیں گے ، ہمیں مومنوں کے ساتھ نورانی چہروں میں شامل رکھے آمین ۔ الحمد للہ سورۃ یوسف کی تفسیر ختم ہو گئی ۔ اللہ کا شکر ہے وہی تعریفوں کے لائق ہے اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

111۔ 1 یعنی قرآن، جس میں قصہ یوسف (علیہ السلام) اور دیگر قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں کوئی گھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ یہ پچھلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں دین کے بارے میں ساری ضروری باتوں کی تفصیل ہے اور ایمان داروں کے لئے ہدایت و رحمت۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٥] قرآن کی تین صفات :۔ قرآن کا موضوع، نوع انسان کی ہدایت ہے۔ لہذا جو بات بھی انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل اس کتاب میں آگئی ہے۔ تفصیل کُلِّ شَئْیٍ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس میں سے علم طب یا حساب یا جغرافیہ وغیرہ کی تفصیلات تلاش کرنے لگیں۔ نیز یہ کتاب صرف ان لوگوں کو ہدایت کا کام دیتی ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر ان لوگوں کے لیے رحمت بھی ہے۔ بھلا جس شخص کو بلا کسی معاوضہ اور تکلیف کے زندگی کے ہر پہلو میں بہترین رہنمائی مل جائے اس کے لیے اس سے زیادہ نعمت اور رحمت کیا ہوسکتی ہے ؟ اور اس میں جو اقوام سابقہ کے اور انبیاء و رسل کے قصے بیان ہوئے ہیں وہ اپنے اندر اہل عقل و خرد کے لیے عبرتوں کے بیشمار پہلو سمیٹے ہوئے ہیں اور یہی چیز اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کسی انسان کی تصنیف کردہ کتاب نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو قرون اولیٰ کے صحیح صحیح واقعات بیان کرنے کے ساتھ ان تاریخی واقعات اور قصوں میں بھی ہدایت اور عبرت کے لیے بیشمار اسباق سمو دیتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ ۔۔ : یعنی رسولوں اور گزشتہ قوموں خصوصاً یوسف (علیہ السلام) اور ان سے متعلق تمام لوگوں مثلاً والد، بھائی، قافلے والے، عزیز مصر، اس کی بیوی، زنان مصر، قید کے ساتھی اور شاہ مصر ان سب کے بیان میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانیاں نہیں، بلکہ پہلی آسمانی کتابوں کی صحیح باتوں کی تصدیق، ان کی کمی بیشی کو کھول کر بیان کرنے والی، ان کے صحیح مضامین کی محافظ اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the opening statement of the last verse of the Surah, it was said: لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَ‌ةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ Surely, in the narratives of these, there is lesson for the people of understanding - 111. This statement may be pointing to the stories of all prophets (علیہم السلام) in the Qur&an and also to the particular story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which has been narrated in this Surah - because, through this later event, it has become absolutely clear that the obedient servants of Allah are supported and helped in so many ways when they are taken out from a deep well and made to sit on a high throne and are rescued from the threat of disgrace all the way to the zenith of the finest in grace and honour, not to mention the practitioners of ill-will and deception who ulti¬mately end up in sheer shame. Said next is: مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَ‌ىٰ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ It is not an invented story, rather, a confirmation of what has been before it ..., that is, of the books revealed before it - because, this story of Sayyidna Yusuf (Joseph) (علیہ السلام) has been mentioned in the Torah and the Injil as well. And Hadrat Wahb ibn Munabbih says: There is no Scripture which does not have the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) in it. (Mazhari) And in the last sentence of the verse, it is said: وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَ‌حْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ , that is, this Qur’ an is ` an elaboration of everything& (which means that the Qur’ an has details of everything which human beings need in religion - in fields like ` Ibadat (worship of Allah), dealings, mo¬rals, social living, government, politics and many others, including injunctions and instructions about all individual and collective concerns of human life - they are all there). Then, it was said that this Qur&an is ` guidance and mercy for a peo¬ple who believe.& The restriction of those who have &Iman or Faith has been placed here because its benefit can be enjoyed by only those who be¬lieve. It goes without saying that, though the Qur&an is nothing but mercy and guidance for disbelievers as well, but it is due to their own misconduct and disobedience that this mercy and guidance has become heavy and unwholesome for them. Shaykh Abu al-Mansur has said: The purpose behind the whole Surah Yusuf and the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) narrated therein is to comfort the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) `. All this is to tell him that his sufferings at the hands of his people have been the lot of past prophets too. But, in the end, Allah Ta` ala enabled his prophets to overcome - and in his case too, this is what was going to happen.

لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَاب یعنی ان حضرات کے قصوں میں عقل والوں کے لئے بڑی عبرت ہے، اس سے مراد تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصے جو قرآن میں مذکور ہیں وہ بھی ہو سکتے ہیں اور خاص حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ جو اس سورة میں بیان ہوا ہے وہ بھی کیونکہ اس واقعہ میں یہ بات پوری طرح روشن ہو کر سامنے آگئی کہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی کس کس طرح سے تائید ونصرت ہوتی ہے کہ کنویں سے نکال کر ایک تخت سلطنت پر اور بدنامی سے نکال کر نیک نامی کی انتہا پر پہنچا دیئے جاتے ہیں اور مکرو فریب کرنے والوں کا انجام ذلت و رسوائی ہوتا ہے (آیت) مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ یعنی نہیں ہے یہ قصہ کوئی گھڑی ہوئی بات بلکہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں کیونکہ تورات و انجیل میں بھی یہ قصہ یوسف (علیہ السلام) کا مذکور ہے اور حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ جتنی آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے ہیں یوسف (علیہ السلام) کے قصہ سے کوئی خالی نہیں (مظہری ) وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤ ْمِنُوْنَ یعنی یہ قرآن تفصیل ہے ہر چیز کی مراد یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے جس کی دین میں انسان کو ضرورت ہے عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، حکومت، سیاست وغیرہ انسانی زندگی کے ہر انفرادی یا اجتماعی حال سے متعلق احکام و ہدایات اس میں موجود ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے اس میں ایمان لانے والوں کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ اس کا نفع ایمان والوں ہی کو پہنچ سکتا ہے کافروں کے لئے بھی اگرچہ قرآن رحمت اور ہدایت ہی ہے مگر ان کی اپنی بدعملی اور نافرمانی کے سبب یہ رحمت و ہدایت ان کے لئے وبال بن گئی شیخ ابو منصور نے فرمایا کی پوری سورة یوسف اور اس میں درج شدہ قصہ یوسف کے بیان سے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ کو جو کچھ ایذائیں اپنی قوم کے ہاتھوں پہنچ رہی ہیں پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی پہنچتی ہیں مگر انجام کار اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو غالب فرمایا آپ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١١) حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں سمجھدار لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ قرآن کریم کوئی خود سے بنائی ہوئی بات تو نہیں بلکہ یہ تو ریت انجیل اور تمام آسمانی کتب کی بیان توحید اور بعض دوسرے احکام اور واقعہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تصدیق کرنیو الی ہے اور یہ قرآن کریم حلال و حرام میں سے ہر ایک چیز کو تفصیل سے بیان کرنے والا ہے اور ان حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس قرآن کریم پر جو کہ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ایمان رکھتے ہیں، گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ ) یعنی یہ واقعات تورات میں بھی ہیں اور قرآن انہی واقعات کی تصدیق کررہا ہے۔ حضرت یوسف کے قصے کے سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بہت عمدگی کے ساتھ تورات اور قرآن کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے حسن بیان اور اس کے حکیمانہ انداز کا معیار اس قدر بلند ہے کہ تورات میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل تورات تو گم ہوگئی تھی۔ بعد میں حافظے کی مدد سے جو تحریریں مرتب کی گئیں ان میں ظاہر ہے وہ معیار تو پیدا نہیں ہوسکتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تورات میں تھا۔ (وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ) یعنی وہ علم جو اس دنیا میں انسان کے لیے ضروری ہے اور وہ راہنمائی جو دنیوی زندگی میں اسے درکار ہے سب کچھ اس قرآن میں موجود ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

That is, it gives details of everything that is required for the guidance of man. Some people take details of everything to mean the details of everything in the world. So, when they do not find in it the details of mathematics, physics, medicine etc. etc. they become skeptical. Whereas the Quran claims to give the details of only one subject, “Guidance”, for which it has been sent down, and it does give the details of everything that is essential for it.

۸۰ ۔ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ضروری ہے ، بعض لوگ ہر چیز کی تفصیل سے مراد خواہ مخواہ دنیا بھر کی چیزوں کی تفصیل لے لیتے ہیں ، اور پھر انکو یہ پریشانی پیش آتی ہے کہ قرآن میں جنگلات اور طب اور ریاضی اور دوسرے علوم و فنون کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

68: ایک طرف تو قرآن کریم یہ فرما رہا ہے کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کر کے پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کی ہے جن میں یہ واقعہ مجموعی طور پر اسی طرح بیان ہوا ہے۔ مگر دوسری طرف ہر بات کی وضاحت فرما کر شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں ان پچھلی کتابوں میں کچھ کتر بیونت ہوگئی تھی قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرما دی ہے۔ چنانچہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعے کو بائبل کی کتاب پیدائش میں پڑھا جائے۔ تو بعض تفصیلات میں وہ قرآن کریم کے بیان سے مختلف نظر آتا ہے۔ اشارہ غالباً اس طرف ہے کہ قرآن کریم نے ان تفصیلات کی وضاحت فرما دی ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١١۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس بات کا ذکر کیا کہ پہلی امتوں کے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے صاحبزادے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں عقلمندوں کے واسطے یہ ایک بہت ہی بڑی عبرت ہے کہ وہ ان قصوں کو سن کر یہ سمجھتے ہیں کہ پہلی امتوں میں وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور باوجود ظاہر نشانیوں کے خدائے وحدہ لا شریک کی وحدانیت کو نہیں مانا وہ اس کردار بد کی وجہ سے صفحہ دنیا سے ایسے نیست و نابود کئے گئے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں اور جن لوگوں نے رسولوں کی تصدیق کی اور جو احکام خدا کی طرف سے لائے اس کے مان لینے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا اور خدائے وحدہ لا شریک کو ایک جانا خدا نے ان کو اپنی حفظ وامان میں رکھا پھر قرآن مجید کی نسبت یہ ارشاد کیا کہ یہ کتاب کوئی بنائی ہوئی بات نہیں ہے اور نہ خدا پر جھوٹ باندھا گیا ہے بلکہ جس طرح اور کتابیں پہلے رسولوں پر توریت انجیل وغیرہ نازل ہوتی گئیں اسی طرح یہ قرآن مجید بھی خدا کی طرف سے رسول مقبول محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بذریعہ وحی کے نازل ہوا ہے اور ساری پہلی کتابوں کی یہ قرآن مجید تصدیق کرتا ہے اور جو باتیں ان کتابوں کی صحیح ہیں ان کو علیحدہ کر کے بتلاتا ہے اور جو غلطیاں ان میں اہل کتاب نے ڈال دی ہیں ان کو جدا کردیتا ہے اور بہت سی باتیں ان کتابوں کی قائم رکھتا ہے اور بہت سے احکام کو منسوخ ٹھہراتا ہے غرض کہ لیس میں ہر ایک بات کی کامل تفصیل ہے حلال حرام مباح مکروہ سب کو علیحدہ علیحدہ بتلاتا ہے اسی واسطے یہ قرآن پاک ہدایت و رحمت ہے جو لوگ اس کے احکام کے تابع ہیں اور قدم بقدم اس کی نصیحت پر چلتے ہیں ضرور وہ مراد کو پہنچیں گے اور خداوند جل شانہ ان پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے گا اور وہ گمراہی کی راہ سے بالکل علیحدہ رہیں گے اور صراط مستقیم کی طرف متوجہ رہ کر ایمان دار بندوں کو پوری پوری صفت حاصل کریں گے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سوا اور معجزوں کے مجھ کو قرآن کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کی ہدایت کے سبب سے مجھ کو امید ہے کہ قیامت کے دن بہ نسبت اور امتوں کے میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد زیادہ ١ ؎ ہوگی۔ آیت میں قرآن کو ہدایت اور رحمت الٰہی کا سبب جو فرمایا ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اور معجزوں کا اثر تو اپنے وقت پر ہوا لیکن قرآن شریف کی نصیحت کا اثر قیامت تک باقی رہے گا جس اثر کے سبب سے امت محمدیہ کے لوگوں کی تعداد قیامت کے دن اور امتوں کے نیک لوگوں سے زیا دہ ہوگی۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٧٤٤ ج ٢ باب کیف نزل الوحی و مشکوۃ ص ٥١١ باب فضائل سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:111) قصصہم۔ ان کے قصے۔ ان پہلی قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں۔ یا ان پہلے پیغمبروں کے واقعات ۔ یا حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے یہ واقعات (جو بیان ہوئے) ۔ عبرۃ۔ درس ِ نصیحت۔ اولی الالباب۔ اصحاب عقل۔ سمجھ دار لوگ۔ ما کان حدیثا یفتری۔ ای ما کان ھذا القران حدیثا یفتری۔ یہ قرآن کوئی من گھڑت بات نہیں ہے۔ بشری۔ مضارع مجہول ۔ واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) سے۔ خود ساختہ ہو مگر خدا کی طرف منسوب کی گئی ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ یعنی رسولوں اور گذشتہ قوموں کے قصوں سے۔ 9 ۔ یعنی ہر اس چیز کو کھول کر بیان کرنے والا ہے جس کا بیان کرنا انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ضروری ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 111 قصص واقعات عبرۃ نصیحت اولی الالباب عقل و سمجھ رکھنے والے یفتری گھڑ لیا گیا، گھڑ لی گئی تصدیق سچ بتانے والا، بتانے والی بین یدی ہاتھوں کے درمیان سامنے، اپنی طرف سے تفصیل تفصیل ، وضاحت ھدی ہدایت رحمۃ رحمت، فضل و کرم تشریح : آیت نمبر 111 سورة یوسف کو اس مضمون پر مکمل کیا گیا ہے کہ حضرت یوسف کا قصہ یا کوئی بھی واقعہ جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور سمجھ عطا فرمائی ہے وہ ان واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ فرمایا کہ سیدھا راستہ دکھانا انبیاء کرام کا کام ہے۔ اب اگر کوئی نصیحت حاصل کرتا ہے تو اس کے لئے دنیا و آخرت کی نجات کا باعث ہے لیکن اگر وہ نافرمانی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کی دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد ہو کر رہ جائیں گی۔ حضرت یوسف کا یہ واقعہ جس کو بیان کیا گیا ہے اس میں عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو موجود ہیں جن میں سے ایک ایک بات سچائی پر مبنی ہے کوئی قصہ یا کہانی کی طرح گھڑی ہوئی بات نہیں ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ذہن میں ایک قصہ بنایا اور اس کو رنگ آمیزی کے ساتھ بیان کردیا بلکہ جیتی جاگتی زندگی کے واقعات ہیں جن میں حضرت یوسف کو ہر طرح کی اخلاقی فتح و کامرانی حاصل ہوئی۔ اس کے برخلاف ان کے حاسد بھائیوں کو ہر طرح ذلت و رسوائی حاصل ہوئی۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آج مکہ مکرمہ میں سرکار دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا دین پہنچانے کی ہر ممکن جدوجہد فرما رہ ہے ہیں وہ انبیاء کرام کے راستے پر چلنے والے آخری نبی ہیں جو کفار و مشرکین کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی ہر بات بتا رہے ہیں چونکہ یہ آخری نبی اور آخری رسول ہیں اس لئے ان کفار کے لئے یہ آخری موقع ہے کہ وہ سنبھل جائیں ورنہ اب ان کی ہدایت کے لئے قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول آئے گا اگر کفار مکہ بھی اس روش پر چلے اور کفر کرتے رہے جس پر گزشتہ قومیں چلی تھیں تو ان کا انجام بھی ان قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تمام انبیاء کرام اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کے کفر و شرک ، بدعات اور گمراہی کے راستے سے محفوظ فرمائے۔ آمین الحمد للہ سورة یوسف کی تفسیر و تشریح مکمل ہوگئی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اہل مکہ نے اس ذہن کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تھا۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا ٹھیک ٹھیک جواب نہیں دے پائیں گے اور ہماری یہ بات سچ ثابت ہوگی کہ یہ نبی اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے۔ اہل مکہ کے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ فرمادیا گیا کہ جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔ اس کے جواب میں ان کے لیے عبرت کی بہت سی باتیں پائی جاتی ہیں۔ (یوسف : ٧) اس سورة مبارکہ کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جا رہا ہے۔ جس کا اشارہ ابتدا میں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ارشاد ہوتا ہے کہ ان واقعات میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت ساسامان عبرت موجود ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنی عقل استعمال کریں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے بیان میں یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ یہ قرآن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بنائی ہوئی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جسے اس نے اپنے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا یہ بھی واضح ثبوت ہے کہ اس میں جو احکام اور واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ وہ تورات، انجیل اور زبور کے حقیقی احکام اور واقعات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس قرآن میں ہدایت کے مفصل دلائل دیے گئے ہیں جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیکر ہیں۔ سوال کرنے والوں کے لیے عبرت کے دلائل : ١۔ اہل مکہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لاجواب کرنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تھا۔ جس کے جواب میں خود لاجواب ہوئے اور انہیں شرمندگی اٹھانا پڑی۔ ٢۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی طرح اہل مکہ نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناکام کرنے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو مٹانے کی کوشش کی۔ جس میں وہ برادران یوسف کی طرح ناکام رہے۔ ٣۔ بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازش کی۔ جس میں وہ ناکام ہوئے۔ اسی طرح اہل مکہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ہجرت اور دوسرے مواقعوں پر سازشیں کی۔ جس میں وہ ہر بار ناکام ہوئے۔ ٤۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں صبر کیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشیاں نصیب فرمائیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کے جبرو تشدد کے مقابلہ میں صبر سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائیں۔ ٥۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صبر و حوصلہ کے ساتھ مشکلات کا سامنا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کا اقتدار عطا فرمایا۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے مظالم کے مقابلے میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اہل مکہ اور پورے عرب پر غلبہ عطا فرمایا۔ ٦۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان سے معافی مانگنے پر مجبور ہوئے۔ فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ بھی نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی معافی کے خواستگار ہوئے۔ ٧۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کی درخواست پر (لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ) کہتے ہوئے معاف کردیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہی الفاظ کے ساتھ فتح مکہ کے موقعہ پر اہل مکہ کو معاف فرمایا۔ مسائل ١۔ حضرت یوسف کے واقعہ میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ ٢۔ قرآنی واقعات لوگوں کے لیے باعث ہدایت ہیں۔ ٣۔ قرآن مجید پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ ٤۔ قرآن مجید میں انسان کی ہدایت کے متعلق ہر بات کی تفصیل ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١١١ ذرا غور کیجئے ، سورة کا آغاز اور اختتام کس قدر ہم آہنگ ہیں۔ اس طرح قصے کا آغاز و اختتام بھی باہم ۔۔۔۔ ہیں۔ قصے کے آغاز میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے درمیان بھی عبرت آموزی کی گئی ہے اور اس کے آخر میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں اور مضمون اور موضوع باہم پیوست و ہم آہنگ ہے۔ طرز ادا اور فقرے موزوں ، فنی اعتبار سے قصہ نہایت ہی پرکشش ہے۔ لیکن ان سب خصوصیات کے ساتھ واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ یہ قصہ ایک ہی سورة میں پوری طرح بیان ہوجاتا ہے ۔ یک جا پورے کا پورا۔ اس لیے کہ اس قصے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ یکجا ہو۔ کیونکہ واقعات آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں۔ ایک دن کے بعد دوسرا دن آتا ہے۔ ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے ، اس لیے اس سے نتائج صرف اسی صورت میں اخذ کیے جاسکتے تھے کہ قصے کو پوری شکل میں ایک سورة میں دے دیا جائے۔ اگر دوسرے قصص کی طرح اس کے صرف بعض حلقے ہی لائے جاتے تو اس طرح وہ نتائج اخذ نہ ہو سکتے تھے جو مکمل قصہ کی شکل میں سامنے آتے ہیں دوسرے قصص کا انداز قرآن میں مختلف رہا ہے۔ مثلاً بلقیس یا قصہ تخلیق مریم۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا واقعہ ، کیونکہ یہ ان قصوں کے بعض حلقے اپنی جگہ مکمل حصے اور کڑیاں ہیں اور ان سے ایک مستقل سبق ملتا ہے۔ لیکن قصہ یوسف ایسا ہے کہ اس کو مکمل طور پر ایک ہی نشست میں پڑھنا ضروری ہے اور ابتداء سے انجام تک ایک ہی جگہ اس کا بیان بھی ضروری ہے۔ نحن نقص علیک ۔۔۔۔۔ الغفلین (١٢ : ٣) “ ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرائے میں واقعات و حقائق (قصص) تم سے بیان کرتے ہیں ورنہ اس سے پہلے تم بالکل بیخبر تھے ”۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ان حضرات کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے یہ سورة یوسف کی آخری آیت ہے اس میں چار باتیں بتائی ہیں اول یہ کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے جو لوگ اپنی عقل کو کام میں لاتے ہیں غورو فکر کرتے ہیں وہ عبرت حاصل کرلیتے ہیں دوسری بات یہ بتائی کہ یہ قرآن جو پڑھا جاتا ہے اور دوست و دشمن سب کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے تراش لیا ہو ‘ اس میں جو امم سابقہ کے واقعات بیان کئے ہیں وہ بھی تراشے ہوئے نہیں ہیں پھر اس سے دور کیوں بھاگتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ یہ قرآن سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو توحید کی دعوت ان کتابوں میں تھی وہی قرآن مجید میں ہے پھر قرآن کی دعوت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ‘ خاص کر یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب ہیں ان کو تو قرآن سے دور بھاگنے کا کوئی موقع ہی نہیں جب قرآن ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور وہی بیان کرتا ہے جو ان کی کتابوں میں ہے تو سب سے پہلے ان کو قبول کرنا لازم ہے ‘ کما قال تعالیٰ (وَلَا تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہٖ ) چوتھی بات یہ بتائی کہ قرآن میں ہر بات کی تفصیل ہے یعنی واضح طور پر تمام عقائد اور اصولی طور پر تمام احکام بتا دئیے۔ نیز یہ قرآن ایمان والوں کے لیے ہدایت بھی ہے رحمت بھی ‘ کیونکہ یہی حضرات اس کے احکام قبول کرتے ہیں اور اس کی آیات کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ وقد تم تفسیر سورة یوسف (علیہ السلام) والحمد للہ علی الاتمام والصلاۃ علی رسولہ البدر التمام وعلی الہ وصحبہ البررۃ الکرام

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

95:۔ کَانَ کا اسم قرآن ہے۔ ” تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیءٍ “ : اہل بدعت اس آیت سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں لفظ کُلّ استغراق حقیقی کے لیے ہے جب قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کے سب سے بڑے عالم ہیں تو معلوم ہوا کہ آپ کو علم غیب کلی حاصل ہے۔ مگر یہ استدلال باطل ہے کیونکہ اس آیت میں (ل) استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ اضافی کے لیے ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں دین سے متعلق تمام امور مذکور ہیں خواہ صراحۃً خواہ بحوالہ لسان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” وَ مَااٰتٰکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا “ اس کی تفسیر میں امام نسفی فرماتے ہیں۔ ” کہ شیء یحتاج الیہ فی الدین “ (مدارک ج 2 ص 185) ۔ علامہ قرطبی رقمطراز ہیں۔” مما یحتاج العباد الیہ من الحلال والحرام والشرائع والاحکام “ (قرطبی ج 9 ص 277) ۔ امام بغوی فرماتے ہیں ” مما یحتاج العباد الیہ من الحلال والحرام والامر والنھی “ (معالم ج 3 ص 324) ۔ اور سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں ” ای مما یحتاج الیہ فی الدین “ (روح ج 13 ص 73) ۔ ” وَھُدًی وَّرحْمَۃٌ الخ “۔ یہ قرآن انابت کرنے والوں کے لیے گمراہی سے نکال کر ھدایت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر عمل کرنا رحمت الٰہی کے استحقاق کا موجب ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة یوسف میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” وَاللّہُ الْمُسْتَعَانُ عَلیٰ مَا تَصِفُوْنَ “ (رکوع 2) ۔ نفی استعانت از غیرا للہ۔ 2 ۔ ” اِنِّیْ َتَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ “۔ تا۔ ” وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ “ (رکوع 5) ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل میں بھی توحید کی تبلیغ کی۔ 3 ۔ ” فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ “۔ تا۔ ” اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ “۔ سب کچھ سننے اور جاننے والا سب کا حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ 4 ۔ ” وَ مَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ شَیءٍ “۔ تا۔” وَ عَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمتَوَکِّلُوْنَ “ (رکوع 8) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ نفع اور نقصان صرف اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور کسی کے اختیار میں نہیں۔ 5 ۔ ” رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکَ “۔ تا۔ ” وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ “ (رکوع 11) ۔ اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور عالم الغیب ہے اس کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں۔ 6 ۔ ” وَ مَا یُوْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللہِ اِلَّا وَ ھُمْ مُّشْرِکُوْنَ “ (رکوع 12) ۔ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کو ماننے اور زبان سے اس کی توحید کا اقرار کرنے کے باوجود مشرک ہوتے ہیں۔ 7 ۔ ” قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ “۔ تا۔ ” وَ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ “ (رکوع 12) ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید ہی میری اور میرے متبعین کی راہ ہے۔ میں اور میرے متبعین ہر قسم کے شرک سے بیزار ہیں۔ سورة یوسف ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 1 1 ۔ بلا شبہ پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے واقعات میں اہل دانش اور سمجھدار لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے یہ قرآن کریم جس میں یہ واقعات مذکور ہیں کوئی من گھڑت اور بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ جو کتب سماوی اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں یہ قرآن کریم ان کی تصدیق کرنیوالا ہے اور ہر ضروری چیز کی تفصیل بیان کرنے والا اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ۔ یعنی مومن جو قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے مزید ہدایت حاصل کرنے اور رحمت سے مستفید ہونے کا ذریعہ ہے واقعات میں ارباب دانش اور اصحاب غور و فکر کے لئے عبرت ہے ، اسلامی احکام ضروریہ کی تفصیل ہے۔