Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 29

سورة يوسف

یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَ اسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚ ۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾  13

Joseph, ignore this. And, [my wife], ask forgiveness for your sin. Indeed, you were of the sinful."

یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو اور ( اے عورت ) تو اپنے گناہ سے توبہ کر ، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـذَا ... O Yusuf ! Turn away from this! do not mention to anyone what has happened, ... وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ ... And ask forgiveness for your sin, addressing his wife. The Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, `Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,' ... إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِيِينَ verily, you were of the sinful.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 یعنی اس کا چرچا مت کرو۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی واضح ہوگئی تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۔۔ : عزیز مصر نے حقیقت حال جان لینے کے بعد یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ یوسف ! اس معاملے سے در گزر کرو (تاکہ بات نہ پھیلے، بلاشبہ تمہاری سچائی اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے) ۔ ادھر اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر، معافی مانگ، یقیناً تو ہی خطاکاروں سے تھی۔ ” مُخْطِئٌ“ اور ” خَاطِئٌ“ کا یہی فرق ہے، پہلا وہ شخص ہے جس سے بھول کر خطا ہوجائے نہ کہ دانستہ طور پر اور ” خَاطِئٌ“ وہ ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، جیسے فرمایا : (اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ ) [ القصص : ٨ ] ” بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔ “ بظاہر یہ عزیز مصر کا حلم و تحمل ہے، مگر درحقیقت اس سے اس کا بےغیرت اور دیوث ہونا ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اسے معمول کی ایک بات قرار دے کر معاملہ نمٹا دیا۔ نہ بیوی کو کوئی سزا دی اور نہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کوئی اہتمام ضروری سمجھا۔ اس سے اس وقت کے مصر کے اونچے طبقے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے جو اب مسلمانوں کے طبقۂ اشراف کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ (الا ما شاء اللہ) وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے لوگوں میں خواہ نیک ہوں یا بد، گناہ اور نیکی کی پہچان پائی جاتی ہے اور ایسی ہستی پر بھی کسی نہ کسی حد تک ایمان پایا جاتا ہے جس کی نافرمانی کے بعد اس سے بخشش مانگنی چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

So, after having pointed out to Zulaikha her error, the ` Aziz of Misr said to Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) : يُوسُفُ أَعْرِ‌ضْ عَنْ هَـٰذَا :&O Yusuf, ignore this matter& - that is, do not speak about it before others so there be no disgrace because of this. Then he addressed Zulaikha and said: وَاسْتَغْفِرِ‌ي لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِين (and you [ 0 woman ] seek forgiveness for your sin. Surely, you were of the sinners). This obviously means that she should seek forgiveness from her hus-band. And it could also mean that she should seek forgiveness from Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) for it was she who made the error and put the blame on him. Special Note At this point, it is very surprising that a husband, who finds out an open proof of such immodesty and breach of trust on the part of his wife, would not be agitated, rather, go on talking with perfect peace of mind - unusual indeed, given the compulsion of human nature in such circum¬stances. Imam Al-Qurtubi has said that one of the reasons for this may be that the ` Aziz of Misr was someone lacking that kind of a sense of shame. And it is also possible that the way Allah Ta’ ala supernaturally arranged to save Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) first from sin and then from dis¬grace - in the same way, it was also a part of this arrangement that He did not let the ` Aziz of Misr become all agitated in anger. Otherwise, as customary, this would have been an occasion where one is likely to go to physical assault without bothering to investigate first, not to say much about verbal aggression, which would be rather elementary. If the ` Aziz of Misr, affected by common human response, were to be enraged, it is possible that he might have committed something, physically or verbal¬ly, something which would have been against the august status of Sayy¬idna Yusuf (علیہ السلام) . These are the wonders of Divine Power which openly prove how those who stand steadfast in obedience to their most true Lord are protected at every step they take in His way. And the honour of creating what is there at its best goes only to Allah. In the verses which will follow, mentioned there is another event which is connected with the story narrated earlier. There it has been said that this event, despite the effort to keep it concealed, spread around among women in the families of the courtiers. These women started blaming the wife of the ` Aziz of Misr. Some commentators have said that these were five women, all wives of officials close to the |"Aziz of Misr. (Qurtubi, Mazhari) These women were talking among themselves. They were saying: Look, how regrettable it is that the wife of the ` Aziz of Misr, despite enjoy¬ing a status so high, had become enamoured with her young slave and was looking for the fulfillment of what she wanted from him. In this, we think, she is in a grave error. The word used in the verse (30) is: فَتَاھَا (fate ha: translated as ` her youthful slave& ). Fata& denotes someone youthful. In customary usage, a boy slave when small is called a ghulam. If in his youth, the boy is called fata, and the girl, fata. Here, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has been referred to as the slave of Zulaikha either because that which is owned by the husband is also customarily called as that which is owned by the wife; and/or because Zulaikha had taken Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) from her husband as gift. (Qurtubi)

عزیز مصر نے زلیخا کو اس کی خطا بتلانے کے بعد یوسف (علیہ السلام) سے کہايُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا یعنی اے یوسف تم اس واقعہ کو نظرانداز کرو اور کسی سے نہ کہو تاکہ رسوائی نہ ہو، پھر زلیخا کو خطاب کر کہا۫وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ یعنی خطا سراسر تمہاری ہے تم اپنی غلطی کی معافی مانگو اس سے بظاہر یہ مراد ہے کہ وہ اپنے شوہر سے معافی مانگے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) سے معافی مانگے کہ خود خطاء کی اور تہمت ان کے سر ڈالی، فائدہ : یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ شوہر کے سامنے اپنی بیوی کی ایسی خیانت اور بےحیائی ثابت ہوجانے پر اس کا مشتعل نہ ہونا اور پورے سکون و اطمینان سے باتیں کرنا انسانی فطرت سے بہت قابل تعجب ہے امام قرطبی (رح) نے فرمایا کہ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ عزیز مصر کوئی بےغیرت آدمی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ حق تعالیٰ نے جس طرح یوسف (علیہ السلام) کو گناہ سے پھر رسوائی سے بچانے کو فوق العادت انتظام فرمایا اسی انتظام کا ایک جزو یہ بھی تھا کہ عزیز مصر کو غصہ سے مشتعل نہیں ہونے دیا ورنہ عام عادت کے مطابق ایسے موقع پر انسان تحقیق وتفتیش کے بغیر ہی ہاتھ چھوڑ بیٹھتا ہے اور زبان سے گالی گلوچ تو معمولی بات ہے اگر عام انسانی عادت کے مطابق عزیز مصر کو اشتعال ہوجاتا تو ممکن ہے کہ اس کے ہاتھ سے یا زبان سے یوسف (علیہ السلام) کی شان کے خلاف کوئی بات سرزد ہوجاتی یہ قدرت حق کے کرشمے ہیں کہ اطاعت حق پر قائم رہنے والے کی قدم قدم پر کس طرح حفاظت کی جاتی ہے فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ بعد کی آیتوں میں اور واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو پچھلے قصہ سے ہی وابستہ ہے، وہ یہ کہ واقعہ چھپانے کے باوجود درباری لوگوں کی عورتوں میں پھیل گیا ان عورتوں نے عزیز کی بیوی کو لعن طعن کرنا شروع کیا بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ پانچ عورتیں عزیز مصر کے قریبی افسروں کی بیویاں تھیں (قرطبی مظہری) یہ عورتیں آپس میں کہنے لگیں کہ دیکھو کیسی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ عزیز مصر کی بیوی اتنے بڑے مرتبہ پر ہوتے ہوئے اپنے نوجوان غلام پر فریفتہ ہو کر اس سے اپنی مطلب برآری چاہتی ہے ہم تو اس کو بڑی گمراہی پر سمجھتے ہیں آیت میں لفظ فَتَاھا فرمایا ہے فتا کے معنی نوجوان کے ہیں، عرف میں مملوک غلام جب چھوٹا ہو تو اس کو غلام کہتے ہیں، جوان ہو تو لڑکے کو فتا اور لڑکی کو فتاۃ کہا جاتا ہے اس میں یوسف (علیہ السلام) کو زلیخا کا غلام یا تو اس وجہ سے کہا گیا کہ شوہر کی چیز کو بھی عادۃ بیوی کی چیز کہا جاتا ہے، اور یا اس لئے کہ زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے شوہر سے بطور ہبہ اور تحفہ لے لیا تھا (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۝ ٠۫ وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ۝ ٠ۚۖ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ۝ ٢٩ۧ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩) پھر اس کے بھائی نے کہا اے یوسف ! اس بات کو جانے دو اور اس کا سرعام چرچا نہ کرتا پھر اس کے بھائی نے عورت کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اے عورت ! تو اپنے قصور کی معافی مانگ اور اپنے خاوند سے اپنے برے ارادہ کی معذارت کرواقعی تو اپنے خاوند کی خائن ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ (يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا) اس کے بعد وہ اپنی بیوی سے مخاطب ہوا اور بولا :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :25A بائیبل میں اس قصے کو جس بھونڈے طریقہ سے بیان کیا گیا ہے ، وہ ملاحظہ ہو ، تب اس عورت نے اس کا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو ، وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا ۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا تو اس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبری کو ہم سے مذاق کرنے کے لیے ہمارے پاس لے آیا ہے ۔ یہ مجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گھس آیا اور میں بلند آواز سے چلانے لگی ۔ جب اس نے دیکھا کہ میں زور زور سے چلا رہی ہوں تو اپنا پیراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا ۔ اور وہ اس کا پیراہن اس کے آقا کے گھر لوٹنے تک اپنے پاس رکھے رہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب اس کے آقا نے اپنی بیوی کی وہ باتیں جو اس نے اس سے کہیں سن لیں کہ تیرے غلام نے مجھ سے ایسا ایسا کیا تو اس کا غضب بھڑکا اور یوسف کے آقا نے اس کو لے کر قید خانے میں جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے ڈال دیا ( پیدائش39: 12 -20 ) خلاصہ اس عجیب وغریب روایت کا یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے جسم پر لباس کچھ اس قسم کا تھا کہ ادھر زلیخا نے اس پر ہاتھ ڈالا اور ادھر وہ پورا لباس خود بخود اتر کر اس کے ہاتھ میں آگیا ! پھر لطف یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام وہ لباس اس کے پاس چھوڑ کر یونہی برہنہ بھاگ نکلے اور ان کا لباس یعنی ان کے قصور کا ناقابل انکار ثبوت اس عورت کے پاس ہی رہ گیا ۔ اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کے مجرم ہونے میں آخر کون شک کر سکتا تھا یہ تو ہے بائیبل کی روایت ۔ رہی تلمود تو اس کا بیان ہے کہ فوطیفار نے جب اپنی بیوی سے یہ شکایت سنی تو اس نے یوسف علیہ السلام کو خوب پٹوایا ، پھر ان کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا اور حکام عدالت نے حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ قصور عورت کا ہے ، کیونکہ قمیص پیچھے سے پھٹا ہے نہ کہ آگے سے ۔ لیکن یہ بات ہر صاحب عقل آدمی تھوڑے سے غور و تامل سے بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کی روایت تلمود کی روایت سے زیادہ قرین قیاس ہے ۔ آخر کس طرح یہ باور کر لیا جائے کہ ایسا بڑا ایک ذی وجاہت آدمی اپنی بیوی پر اپنے غلام کی دست درازی کا معاملہ خود عدالت میں لے گیا ہوگا ۔ یہ ایک نمایاں ترین مثال ہے قرآن اور اسرائیلی روایات کے فرق کی جس سے مغربی مستشرقین کے اس الزام کی لغویت صاف واضح ہو جاتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کر لیے ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ قرآن نے تو ان کی اصلاح کی اور اصل واقعات دنیا کو بتائے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: عزیز مصر کو یقین ہوگیا تھا کہ شرارت اس کی بیوی ہی کی تھی۔ لیکن شاید بدنامی کے خوف سے اس نے بات کو پوشیدہ رکھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ یعنی حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے کہا کہ اس معاملہ سے درگزر کرو تاکہ بات نہ پھیلے بلاشبہ تمہاری صداقت اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 7 ۔ اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ (موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یوسف کی طرف متوجہ ہو کر بھی یہی کہا گیا۔ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا : " درگزر کر۔ یعنی اس بات کو یہیں چھوڑ دے ، اس کا تذکرہ نہ کر ، حالات کو جوں کا توں رکھو۔ اس قسم کے معاشرے میں یہ اہم بات ہے۔ اور عورت جو رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی اس کے لیے یہی تبصرہ کہ تم خطا کار ہو لہذا اپنے گناہوں پر معافی مانگو۔ یہ ہیں اس وقت کے سرکردہ بیوروکریٹ اور بڑوں کے حاشیہ نشین۔ ہر جاہلیت میں یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اب پردہ گرتا ہے اور یہ منظر ختم ہوتا ہے۔ سیاق کلام میں اس مرحلے کو اپنے تام حالات ، تاثرات اور اشارات کے ساتھ پیش کردیا گیا ، لیکن اس نازک مرحلے کو حیوانی لذتیت سے پاک رکھا گیا اور نہایت ہی انسانی اور شریفانہ انداز اختیار کیا گیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

معاملہ کی صورت حال سمجھنے کے بعد عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی اور اس نے درخواست کی کہ (یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا) اے یوسف اس بات سے اعراض کرنا یعنی اسے یہیں تک رہنے دینا اور آگے مت بڑھانا کسی سے نہ کہنا ‘ پھر اپنی بیوی سے کہا واسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ (کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر) (اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِءِیْنَ ) (بلاشبہ تو خطا کرنے والوں میں سے ہے) معاملہ کی صورت حال سے اور گواہ کی گواہی سے ثابت ہوگیا کہ تو ہی گناہ گاروں میں سے ہے ‘ اصل گناہ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بچنے اور پرہیز کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے نہ ہوسکا لیکن گناہ کے لیے جو اس نے پکا اور مضبوط ارادہ کرلیا تھا وہ بھی گناہ ہی تھا پھر وہ پیچھے دوڑی بھی تھی اور پکڑنے کی کوشش بھی کی تھی لہٰذا اپنی نیت اور عمل دونوں کے اعتبار سے گناہ گار ہوئی ‘ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اسے سچایا جھوٹا کردیتی ہے یعنی گناہ کی آخری حد کا موقع لگ گیا تو شرمگاہ سے صادر ہوجاتا ہے مگر اس سے پہلے کی کوششیں گناہ میں شمار ہوجاتی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٠) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ تو مسلمان نہیں تھے پھر استغفار کرنے کے لیے کیوں کہا ؟ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ وہ لوگ اگرچہ بتوں کو پوجتے تھے لیکن خالق کے وجود کا بھی عقیدہ رکھتے تھے کہ بہت سی چیزیں گناہ ہیں اور ان گناہوں کی سزا بھی ملتی ہے صاحب روح المعانی کا یہ فرمانا درست ہے کہ مشرکین خالق کو بھی مانتے ہیں اور بہت سی چیزوں کا گناہ ہونا ان کے ہاں معروف و مشہور ہے ہندوستان کے مشرکین میں یہ سب کچھ پایا جاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

29 اے یوسف (علیہ السلام) تو اس واقعہ کو نظر انداز کردے اور اے عورت تو یوسف (علیہ السلام) سے اپناہ گناہ کی معافی مانگ یقینا سر تا سر تو ہی خطاکاروں میں سے ہے یعنی کرتہ دیکھا گیا اور عزیر کو عورت کے مکروفریب اور اسکی خطا کا یقین آگیا چناچہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو تو یہ سمجھایا کہ درگزر کرو اور اس واقعہ کو شہرت نہ دو خوامخواہ میری بدنامی ہوگی اور زلیخا سے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے یا خدا سے اپنے گناہ کی معای مانگ بلاشبہ تو ہی خطا کار ہے۔