Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 5

سورة يوسف

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡیَاکَ عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ فَیَکِیۡدُوۡا لَکَ کَیۡدًا ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۵﴾

He said, "O my son, do not relate your vision to your brothers or they will contrive against you a plan. Indeed Satan, to man, is a manifest enemy.

یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yaqub orders Yusuf to hide His Vision to avoid Shaytan's Plots Allah tells: قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُوْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ He (the father) said: "O my son! Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you. Verily, Shaytan is to man an open enemy!" Allah narrates the reply Yaqub gave his son Yusuf when he narrated to him the vision that he saw, which indicated that his brothers would be under his authority. They would be subjugated to Yusuf's authority to such an extent that they would prostrate before him in respect, honor and appreciation. Yaqub feared that if Yusuf narrated his vision to any of his brothers, they would envy him and conspire evil plots against him. This is why Yaqub said to Yusuf, لااَ تَقْصُصْ رُوْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا (Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you). This Ayah means, "They might arrange a plot against you that causes your demise." In the Sunnah, there is a confirmed Hadith that states, إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلْيُحَدِّثْ بِهِ وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَحَوَّلْ إِلَى جَنْبِهِ الاْخَرِ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّه If any of you saw a vision that he likes, let him narrate it. If he saw a dream that he dislikes, let him turn on his other side, blow to his left thrice, seek refuge with Allah from its evil and not tell it to anyone. Verily, it will not harm him in this case. In another Hadith that Imam Ahmad and collectors of the Sunan collected, Mu`awiyah bin Haydah Al-Qushayri said that the Messenger of Allah said, الرُّوْيَا عَلَى رِجْلِ طَايِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَت The dream is tied to a bird's leg, as long as it is not interpreted. If it is interpreted, it comes true. Therefore, one should hide the prospects or the coming of a bounty until it comes into existence and becomes known. The Prophet said, اسْتَعِينُوا عَلَى قَضَاءِ الْحَوَايِجِ بِكِتْمَانِهَا فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُود Earn help for fulfilling needs by being discrete, for every owner of a blessing is envied.

یعقوب علیہ السلام کی تعبیر اور ہدایات حضرت یوسف کا یہ خواب سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر حضرت یعقوب علیہ السلام نے تاکید کر دی کہ اسے بھائیوں کے سامنے نہ دہرانا کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اور بھائی آپ کے سامنے پس ہونگے یہاں تک کہ وہ آپ کی عزت و تعظیم کے لیے آپ کے سامنے اپنی بہت ہی لاچاری اور عاجزی ظاہر کریں اس لیے بہت ہی ممکن ہے کہ اس خواب کو سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر شیطان کے بہکاوے میں آکر ابھی سے وہ تمہاری دشمنی میں لگ جائیں ۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نامعقول طریق کار کرنے لگ جائیں اور کسی حیلے سے تجھے پست کرنے کی فکر میں لگ جائیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے ۔ فرماتے ہیں تم لوگ کوئی اچھا خواب دیکھو تو خیر اسے بیان کر دو اور جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو جس کروٹ پر ہو وہ کروٹ بدل دے اور بائیں طرف تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کی برائی سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے ۔ اس صورت میں اسے وہ خواب کوئی نقصان نہ دے گا ۔ مسند احمد وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خواب کی تعبیر جب تک نہ لی جائے وہ گویا پرند کے پاؤں پر ہے ۔ ہاں جب اس کی تعبیر بیان ہو گئی پھر وہ ہوجاتا ہے ۔ اسی سے یہ حکم بھی لیا جا سکتا ہے ۔ کہ نعمت کو چھپانا چاہئے ۔ جب تک کہ وہ ازخود اچھی طرح حاصل نہ ہوجائے اور ظاہر نہ ہوجائے ، جیسے کہ ایک حدیث میں ہے ۔ ضرورتوں کے پورا کرنے پر ان کی چھپانے سے بھی مدد لیا کرو کیونکہ ہر وہ شخص جسے کوئی نعمت ملے لوگ اس کے حسد کے درپے ہو جاتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خواب سے اندازہ لگا لیا کہ ان کا یہ بیٹا عظمت شان کا حامل ہوگا، اس لئے انھیں اندیشہ ہوا کہ یہ خواب سن کر اس کے دوسرے بھائی بھی اس کی عظمت کا اندازہ کر کے کہیں اسے نقصان نہ پہنچائیں، بنا بریں انہوں نے یہ خواب بیان کرنے سے منع فرمایا۔ 5۔ 2 یہ بھائیوں کے مکروفریب کی وجہ بیان فرما دی کہ شیطان چونکہ انسان کا ازلی دشمن ہے اس لئے وہ انسانوں کو بہکانے، گمراہ کرنے اور انھیں حسد و بغض میں مبتلا کرنے میں ہر وقت کوشاں اور تاک میں رہتا ہے۔ چناچہ یہ شیطان کے لئے بڑا اچھا موقع تھا کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھائیوں کے دلوں میں حسد اور بغض کی آگ بھڑکا دے۔ جیسا کہ فی الواقع بعد میں اس نے ایسا ہی کیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اندیشہ درست ثابت ہوا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] سیدنا یعقوب اپنے بیٹوں کے ان منفی قسم کے جذبات سے تو واقف تھے ہی جو وہ سیدنا یوسف کے متعلق رکھتے تھے۔ لہذا آپ نے سیدنا یوسف کو یہ تاکید کردی کہ ایسا واضح خواب وہ اپنے بھائیوں کو نہ بتائیں۔ ورنہ وہ حسد کے مارے جل بھن جائیں گے اور ممکن ہے وہ شیطان کی انگیخت پر سیدنا یوسف کے حق میں بری تدبیر سوچنے لگیں جیسا کہ بعد میں سیدنا یعقوب کا اندیشہ برحق ثابت ہوا اور برادران یوسف نے اس سلسلہ میں جو کرتوتیں کیں ان کا ذکر آگے آرہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ ۔۔ : یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے، سنتے ہی سمجھ لیں گے۔ گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ اور ایک ماں، یہ سب ان کی طرف محتاج ہوں گے، پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) اس وقت ان کی عمر کیا تھی، اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی۔ معالم میں ہے کہ بارہ سال تھی، کچھ لوگ بائبل کے حوالے سے سترہ سال بیان کرتے ہیں، مگر تعیین کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہو بھی تو اسے نہ ہم سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ ویسے سترہ سالہ جواں جو صحرا میں پلا ہو، اس کے متعلق بھیڑیے کے کھا جانے کا خدشہ کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بچے تھے، مگر سمجھ بوجھ رکھتے تھے : ” یَرْتَعْ وَ یَلْعَب “ (چرے، کھائے پیے اور کھیلے) اور ” ھٰذَا غُلَام “ (یہ لڑکا ہے) اور ” اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَداً “ (یا ہم اسے بیٹا بنالیں گے) سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر عمر بتانے کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور بیان فرما دیتا۔ ” یوسف “ عربی زبان کا نام نہیں کہ اس کا اشتقاق عربی میں سے تلاش کیا جائے، بلکہ عبرانی یا اس زبان کا نام ہے جو یعقوب (علیہ السلام) استعمال کرتے تھے۔ اس خواب کی تعبیر کافی عرصہ بعد جا کر پوری ہوئی، بعض چالیس برس بتاتے ہیں، بعض کم و بیش، مگر بچپن سے جوانی کا عرصہ جو عزیز مصر کے گھر گزرا، پھر قید خانے کے سات یا نو سال، پھر خوش حالی کے سات سال، جس کے بعد قحط شروع ہوا اور بھائی مجبور ہو کر آئے اکیس بائیس سال سے کم عرصہ کسی صورت نہیں بنتا، زیادہ ہو تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر ظاہر ہونے میں لمبی مدت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ يٰبُنَيَّ : ” بُنَیَّ “ ” اِبْنِيْ “ کی تصغیر ہے، محبت اور شفقت سے فرمایا، اے میرے چھوٹے سے بیٹے، یا اے میرے پیارے بیٹے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ تعبیر ظاہر تھی اور یعقوب (علیہ السلام) نے مختصراً بیان بھی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں چنے گا اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے گا۔ قدرتی طور پر جس شخص کو نعمت ملتی ہے اس پر حسد ہوتا ہے اور شیطان بھی انسان کی اس کمزوری، یعنی حسد کو استعمال کرکے بھائیوں کے درمیان اور دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ) [ بنی إسرائیل : ٥٣ ] ” بیشک شیطان ان (میرے بندوں) کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ “ اور یہ اس کے نزدیک سب سے زیادہ قرب کا ذریعہ ہوتا ہے، جیسا کہ ایک لمبی حدیث میں ہے کہ شیطان اپنے لشکر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھیجتا ہے : ( ثُمَّ یَجِيْءُ أَحَدُھُمْ فَیَقُوْلُ مَا تَرَکْتُہٗ حَتّٰی فَرَّقْتُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ ) [ مسلم، صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان۔۔ : ٦٧؍٢٨١٣ ] ” پھر ان میں سے ایک شیطان آ کر ( اپنی کار کردگی بیان کرتے ہوئے) کہتا ہے : ” میں نے اس آدمی کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی۔ “ اس لیے بھائیوں کو خواب کا علم ہونے پر یوسف (علیہ السلام) کو ان کی کسی خفیہ تدبیر سے ڈرایا، ساتھ ہی ” اِنَّ “ کے ساتھ اس کی وجہ بیان فرمائی کہ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور یہی بات یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین اور بھائیوں کے مصر آنے کے موقع پر کہی تھی : (مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ ) [ یوسف : ١٠٠ ] ” اس کے بعد کہ شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا تھا۔ “ قرآن کے بیان کا تقاضا یہی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے والد ماجد کے کہنے کے مطابق وہ خواب بیان نہیں کیا، کیونکہ بھائیوں نے قتل کے مشورے کے وقت بھی خواب کا ذکر نہیں کیا اور یوسف (علیہ السلام) کے کمال اطاعت کا تقاضا بھی یہی ہے، مگر اسرائیلی روایات میں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو وہ خواب سنا دیا تھا اور اس پر کئی کہانیوں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس سے اسرائیلی روایات کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے منع فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یعقوب نبی کا فرمان وحی پر مبنی تھا۔ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی فرمان ہے : ( اِسْتَعِیْنُوْا عَلٰی إِنْجَاحِ الْحَوَاءِجِ بالْکِتْمَانِ فَإِنَّ کُلَّ ذِيْ نِعْمَۃٍ مَحْسُوْدٌ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : ٣؍٤٣٦، ح : ١٤٥٣ ]” اپنی حاجتوں کو کامیاب کرنے میں چھپانے سے مدد لو، کیونکہ ہر نعمت والا محسود ہوتا ہے۔ “ یعنی اس پر حسد کیا جاتا ہے۔ اس خواب میں بھی اتمام نعمت کی خوش خبری تھی، اسے کامیاب بنانے کے لیے اسے چھپانے کا حکم دیا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ) [ الضحٰی : ١١ ] ” اور لیکن اپنے رب کی نعمت، پس (اسے) بیان کر۔ “ اس حکم کو اور یعقوب (علیہ السلام) کے منع کرنے کے حکم کو کیسے جمع کریں گے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) پر ابھی نعمت مکمل ہونا باقی تھی، جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نعمت پوری ہوچکی تھی۔ ہمارے لیے بھی دونوں چیزوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے، تاکہ نعمت مکمل ہونے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ دوسرا جواب جو کتب تفسیر میں ہے، وہ یہ ہے کہ یہ آیت دلیل ہے کہ بعض اوقات نعمت کا اظہار نہ کرنا بلکہ اسے چھپانا جائز ہے، جیسا کہ اوپر سلسلہ صحیحہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے، چناچہ جب نعمت کے ظاہر کرنے سے اپنے خلاف حسد وغیرہ کی بنا پر سازش یا نقصان کا خطرہ ہو تو اسے چھپائے اور اگر یہ خطرہ نہ ہو تو رب تعالیٰ کی نعمت بیان کرے۔ 3 اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتا ہے، ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ الاَّ الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَال الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ ) [ بخاری، التعبیر، باب المبشرات : ٦٩٩٠ ] ” نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ “ لوگوں نے پوچھا : ” مبشرات (خوش خبریاں) کیا ہیں ؟ “ فرمایا : ” اچھے خواب۔ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّۃٍ وَّ أَرْبَعِیْنَ جُزْءً ا مِنَ النُّبُوَّۃِ ) [ بخاری، التعبیر، باب رؤیا الصالحین : ٦٩٨٣، عن أنس ]” صالح آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ “ ابو سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں خواب دیکھا کرتا جو (پریشانی پیدا کرکے) مجھے بیمار کردیتے، یہاں تک کہ میں نے ابو قتادہ (رض) سے سنا کہ میں بھی خواب دیکھا کرتا تھا جو مجھے بیمار کردیتے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ( اَلرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ مِنَ اللّٰہِ ، فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مَا یُحِبُّ فَلَا یُحَدِّثْ بِہِ إِلاَّ مَنْ یُّحِبُّ ، وَ إِذَا رَأَی مَا یَکْرَہٗ فَلْیَتَعَوَّذْ باللّٰہِ مِنْ شَرِّھَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَلْیَتْفِلْ ثَلاَثاً وَلَا یُحَدِّثْ بِھَا أحَدًا فَإِنَّھَا لَنْ تَضُرَّہٗ ) ” اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس کے سوا اسے بیان نہ کرے جو محبت رکھتا ہو اور جب ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین دفعہ (بائیں طرف) تھوک دے اور وہ کسی کو بیان نہ کرے، تو وہ خواب اسے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ “ [ بخاری، التعبیر، باب اذا رأی ما یکرہ۔۔ : ٧٠٤٤ ] ایک روایت میں یہ بھی ہے : ( وَلْیَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِہِ الَّذِيْ کَانَ عَلَیْہِ ) کہ وہ اپنی کروٹ بدل لے۔ [ مسلم، الرؤیا، باب في کون الرؤیا من اللّٰہ۔۔ : ٢٢٦٢ ] اور یہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ہر قسم کے ضرر سے سلامتی کا سبب بنا دے، جیسا کہ صدقہ و خیرات مصیبتیں دور کرنے کے سبب بن جاتے ہیں۔ 3 یعقوب (علیہ السلام) کے اپنے دوسرے بیٹوں کے متعلق خیال کے اظہار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔ ابن تیمیہ (رض) کی خاص اس موضوع پر کتاب میں ہے کہ قرآن، لغت اور واقعات کی دلالت یہی ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔ نہ ہی قرآن یا حدیث میں ان کی نبوت کی طرف کوئی اشارہ موجود ہے۔ (سید طنطاوی) البتہ بعد میں ان کی اولاد (اسباط) سے کئی انبیاء و رسل گزرے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The response given by Sayyidna Ya` qub X11 appears in verses 5 and 6 in the following words: قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُ‌ؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ` He said, &My son, do not relate your dream to your brothers lest they [ by finding out your greatness to come ] should devise against you a plan. Surely, Satan is an open enemy for mankind ...& [ for He se¬duces people to take such action for the sake of worldly wealth and pow¬er ]. Worth mentioning here are some religious issues which emerge from these verses: The Nature of Dreams: Status and Kinds First comes the nature of dreams and the status of events and infor¬mation released by them. In Tafsir Mazhari, Qadi Thana&ullah (رح) has said: ` The reality of a dream is that, when the human self - as a re¬sult of sleep or unconsciousness - is freed from the management of the ac¬tive body, it comes to see some shapes through the faculty of imagina-tion. This is what a dream is. Then, it has three kinds, two out of which are totally false, having no substance and base - while one, in terms of its being, is correct and true. But, even in this correct kind, some other contingents may occasionally intermingle and thereby make it defective and unreliable. To explain this in detail, it can be said that the different shapes, im¬ages, situations and events one sees in a dream come in two modes. Sometimes, what one sees while awake returns to him transformed in a dream. And sometimes, it so happens that the Shatian would make his in-put, introducing some forms, situations and events into a person&s mind which would either be pleasing or terrifying. Both these kinds are false. They have no substance or reality, nor can they be interpreted in any ac¬tual sense. Out of these two, the first kind is Self-Suggestion (Hadith An-Nafs) and the other, The Seductive Input of the Shaitan (Taswil Ash-Shaitan). The third kind, correct and true, is a kind of &Ilham الحام (mode of inspir¬ing) which is activated to warn a servant of Allah or to give him glad tid¬ings. In other words, out of His unseen treasures, Allah Ta’ ala would put things in one&s mind and heart. In a Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: ` The dream of a believer is a dialogue in which he has the honour of talking to his Rabb.& This Hadith has been reported by al-Tabarani with a sound chain of authorities. (Mazhari) Explaining this, Sufis say that everything, before it comes to exist in this world, has a particular form in another universe called & alam-al-mi¬thal&,( The world of autonomous images& - Henrv Corbin.) a universe where, not only the substantial objects and physical re¬alities, but also the attributes and non-corporal meanings, have particu¬lar shapes and forms. When the human self is freed from the concerns of body management while dreaming, it sometimes gets connected to the universe of ` alam-al-mithal&. There one would see the representative forms. Then, these forms are shown from the universe of the Unseen. At times, it would so happen that temporary disturbances would cause false imaginings mix up with the real, therefore, it becomes difficult for the interpreters to interpret the dream soundly. However, when free of dis¬cordant elements, they are real. But, even among these, some dreams cannot be interpreted because the actuality of the event is not clear. In such a case too, should the interpretation be wrong, the event itself ends up being different. Therefore, only those dreams will become a true &I1ham (inspiration) from Allah, and a proven reality, which originate from the command of Allah with the condition that no discordant ele¬ments have intermingled with them and that it has been interpreted correctly too. All dreams of the blessed prophets are like that. Therefore, their dreams too have the status of Wahy (revelation). The dreams of common believing Muslims are not free of many a probability. Therefore, they are not a binding argument or proof for anyone. Sometimes, their dreams get mixed up with temperamental or self-oriented elements. On other oc-casions, the after effects of sins overtake a true dream in the form of dark and murky silhouettes making it unreliable. Then, there could be oc¬casions when it becomes difficult to spell out a correct interpretation from given parameters. The three kinds of dreams mentioned here have been reported from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said that there are three kinds of dreams. (1) The Satanic in which the mind sees forms and shapes released by the Shaitan. (2) That which one keeps seeing while awake. These present themselves before one in a dream. (3) The third kind, which is correct and true, is the forty-sixth part of the ingredients of prophethood (Nu¬buwwah), that is, it is an &Ilham (inspiration) from Allah Ta’ ala. The Meaning of Dream being a part of Nubuwwah: An Explanation In this kind, which is true and correct and which has been declared to be a part of prophethood in authentic prophetic Traditions, the narra¬tions of Hadith differ. In some, it has been identified as the fortieth part, while in some others, the forty-sixth. There are other narrations as well in which its being the forty-ninth, fiftieth and seventieth part has been reported. All these narrations have been compiled together in Tafsir al-Qurtubi where, following the investigative judgment of Ibn ` Abd al-Barr, it has been established that there is no contradiction among them, in fact, each narration is correct in its place. As for the numerical variation in determining the parts, it depends upon the different attend¬ing conditions of those seeing the dream. Whoever is armed with the quality of truth, trust, honesty and is perfect of faith shall be the one whose dream will be the fortieth part of Nubuwwah. And whoever ranks somewhat lesser in these qualities, his will be the forty-sixth or fiftieth part of it, and whoever is still lesser, his dream will be the seventieth part of Nubuwwah. Worth pondering here is what does a true dream being a part of pro¬phethood mean? Tafsir Mazhari has explained it by saying that the pro¬cess of revelation to Sayyidna Muhammad al-Mustafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as a Prophet of Allah continued for twenty three years. During the first biannual, this Divine revelation kept coming to him in the form of dreams. During the remaining forty five biannuals, it was communicated to him through the angel, Jibra&il al-Amin (علیہ السلام) . Accounted for in this manner, true dreams turn out to be the fortieth part of the prophetic revelation. As for narrations where numbers vary on the lower or higher side, they either carry ap¬proximative statements, or stand dropped for lack of sound authority. Imam al-Qurtubi explains this by saying that there are occasions when one sees things in dreams which do not lie within his control. For example, one may see that he is flying high in the skies, or he may see things from the Unseen having access to which was not within one&s con¬trol. If so, this cannot become possible through any means other than Divine support and inspiration itself - which, in reality, is an intrinsic attribute of prophethood. Therefore, it was declared to be a part of prophet-hood. Refuting the Deception of the Qadiyani Dajjal [ Imposter ] What has been stated above has led some people to run into a miser-able error because they have taken the survival and continuity of this ` part& of prophethood in the world as the very survival and continuity of prophethood itself! This is against definite, categorical and absolute statements of the Holy Qur&an and against countless sound and authen¬tic Ahadith, and squarely against the collective belief of the entire Mus¬lim Ummah in the finality of prophethood (the ` Aqidah of Khatm Nubuv¬wat). In this exercise in deception, they have failed to realize that the presence of a part of something does not mean the presence of that thing in full. If there is a single nail or strand of hair belonging to a person present anywhere, no sane human being can say that the person is present here. Think of the many parts of a machine. If someone has one part, or a screw of that machine present with him and he goes about declaring that he has such and such machine with him, the whole world would dis¬miss him as a liar or fool. True dreams, as expressly explained in Hadith, are, without any doubt, a part of Nubuwwah - but not Nubuwwah itself. What we know as Nubuwwah or prophethood has already ended with the Last of Prophets, Sayyidna Muhammad al-Mutafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It appears in the Sahih of Al-Bukhari that the Holy Prophet said: لَم یَبقَ مِنَ النَّبُوَّۃِ اِلَّا المُبَشِّرَاتِ That is, (in future) no part of the Nubuwwah will remain ex¬cept Al-Mubashshirat. When the noble Sahabah (رض) asked for the meaning of Al-Mubashshirat, he said: &True dreams.& This proves that there is no Nubuwwah or pro¬phethood of any kind or form for anyone anymore. What remains of it is only a small part which is called Al-Mubashshirat or true dreams. The Dream of a Sinning Disbeliever may also be True at times It stands proved from the Qur&an and Hadith, and from experience, that sinners, even disbelievers, could see dreams which are true. In the Surah Yusuf itself, mentioned there are the dreams of two prison mates of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which were true, and similarly, the dream of the king of Egypt which was true - though, the three of them were not Mus¬lims. This was in the Qur&an. Mentioned in the Hadith is the dream of Kisra (Cyrus) who had dreamt about the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that dream turned out to be true, though Kisra was not a Muslim. The paternal aunt of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ` Atikah, had seen a true dream about the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while she was still a disbeliever. In addition to that, the dream of the disbelieving King of Babylon, Nebuchadnezzar, which was interpreted by Sayyidna Daniyal (Daniel) (علیہ السلام) was a true dream. This tells us that the simple instance of someone seeing a true dream and the event taking place as seen cannot become a proof of the dreamer being pious and righteous, even Muslim. However, it is correct to say that this is how the customary practice of Allah operates - that the dreams seen by true and good people are generally true. The dreams seen by sinners are generally from the category of self-suggestions and Shaitanic inputs - but, occasionally, the opposite could also happen. In short, true dreams, as made clear in Hadith, have no place in the lives of Muslims at large except that they can be either glad tidings, or warning, for them. They are no binding argument in any matter, neither for their own selves, nor for others. Some people, unaware of this truth, fall a victim to all sorts of scruples after having seen such dreams. Some of them would start taking these as a sign of having become a saint or so¬mething like that. Others would tend to give what they get out of these dreams the status of the injunctions of the Shari’ ah. All these ap¬proaches are baseless. Specially so, when we already know that there is every likelihood that both kinds of imaginings, self-suggested or shaitan -induced, can get profusely intermingled with true dreams. Relating Dreams to Everyone is not Correct: Rulings 1. In verse 5:... قَالَ يَا بُنَيَّ (He said, &O my son ...& ), Sayyidna Yaqub (علیہ السلام) has prohibited Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) from relating his dream to his broth¬ers. This tells us that a dream should not be related before a person who is not a well-wisher, nor before a person who is no expert in the interpretation of dreams. According to Jami` al-Tirmidhi, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A true dream is one of the forty parts of Nubuwwah. And a dream stays in suspension until related to someone. When related, and interpreted by the listener, it actualizes as interpreted. Therefore, one should not relate the dream to anyone, except to a person who is knowing and wise, or is, at least, a friend and a well-wisher. As also referred to earlier, it appears in Tirmidhi and Ibn Majah that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A dream is of three kinds: (1) Glad tidings from Allah; (2) self-suggestions; (3) shaitanic inputs. Therefore, should a person see a certain dream about which he feels good, then, he can relate it to others, if he wishes to do so. And, should he see something bad in it, let him not tell anyone about it. Instead, he should rise and offer Salah. The Hadith of Sahih Muslim also says: If one sees a bad dream, he should blow his breath three times towards his left side and seek the pro¬tection of Allah against its evil and tell no one about it. If this is done, the dream will not cause any harm. The reason is that some dreams are composed of shaitanic seductions. They will stand removed with this ac¬tion. And, if the dream is true, the evil part of it - it can be hoped - will also be eliminated through this action. 2. As for the sense of the interpretation of a dream remaining hinged to it, Tafsir Mazhari explains it by saying that some matters of destiny are not absolutely pre-decided, instead, they remain in a state of suspen¬sion, that is, if something was done, the impending misfortune will go away - and if it was not done, it will come. This is known as contingent or conditional destiny. In a situation like that giving a bad interpreta¬tion makes things turn bad while a good interpretation makes it come out good. Therefore, in the Hadith from Tirmidhi mentioned above, relat¬ing a dream to a person who is not wise, or a well-wisher, has been pro¬hibited. And there could also be another reason for this. When someone hears a bad interpretation of the dream seen, one finds himself over¬whelmed by the thought that he is going to be hit by some misfortune. And it appears in Hadith that Allah Ta’ ala said: اَنَا عِندَ ظَنِّ عَبدِی بِی that is, ` I am with the opinion of My servant about Me.& In other words, ` whatever a servant of Mine believes Me to be, just that I become for him.& So, when one ends up believing that misfortune is going to come from Allah Ta’ ala, then, true to the customary practice of Allah, the coming of that misfortune becomes due against him. 3. Regarding the instruction given in the verse that something sug¬gesting pain and misfortune seen in a dream should not be related to anyone, Hadith narrations seem to indicate that this is not a legal prohi¬bition. It is only an advice based on affection and sympathy. This should not be taken as something made unlawful by the Shari` ah. Therefore, if related to someone, this will be no sin - because it appears in authentic Ahadith that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at the time of the Battle of Uhud - said: I have seen in a dream that my sword, Zulfaqar, has broken and I saw some cows being slaughtered, the interpretation of which was the Shahadah of Sayyidna Hamzah (رض) and many other Muslim mujahidin, a grave misfortune indeed. But, he had related this dream before the Sahabah. (Qurtubi) 4. This verse also tells us that it is permissible to disclose the evil trait or intention of a person about to cause harm to a Muslim. Being an effort to offset an evil design, this action is not included under Ghibah or backbiting. For example, if a person finds out that A is planning to com¬mit theft in the house of B, or intends to kill him, then, he should fore-warn B. This does not fall under the purview of Ghibah which is Haram. This is what was done by Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) when he had disclosed to Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) that there was a danger to his life at the hands of his brothers. 5. If a person is blessed by Allah, and he apprehends that his addres¬see will be jealous against him, he should not mention the blessings of wealth, status, and things like that before that person. The Holy Proph¬et (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: To make your objectives succeed, seek help from keeping them secret - because, every holder of blessing is envied in this world. 6. From this verse and from the later in which the plan and execu¬tion of killing or throwing Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) in a well has been men¬tioned, it becomes evident that the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) were no prophets or messengers of Allah, otherwise, they would have not stooped to the act of conspiring to kill him, then to put him out of their way by lowering him down in a desolate well, and ultimately, to disobey their father - because, the blessed prophets (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) have to be free of all sins, and protected from them. Their reference as ` prophets& in the book of al-Tabari is not correct. (Qurtubi)

(آیت) قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ یعنی بیٹا تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا ایسا نہ ہو کہ وہ یہ خواب سن کر تمہاری عظمت شان معلوم کر کے تمہیں ہلاک کرنے کی کوئی تدبیر کریں کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ دنیا کے جاہ ومال کی خاطر انسان کو ایسے کاموں میں مبتلاکر دیتا ہے ان آیات میں چند مسائل قابل ذکر ہیں، خواب کی حقیقت اور درجہ اور اس کی قسمیں : سب سے اول خواب کی حقیقت اور اس سے معلوم ہونے والے واقعات واخبار کا درجہ اور مقام ہے تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ (رح) نے فرمایا کہ حقیقت خواب کی یہ ہے کہ نفس انسان جس وقت نیند یا بیہوشی کے سبب ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوجاتا ہے تو اس کو اس کی قوت خیالیہ کی راہ سے کچھ صورتیں دکھائی دیتی ہیں جن کی کوئی حقیقت اور اصلیت نہیں ہوتی اور ایک اپنی ذات کے اعتبار سے صحیح وصادق ہے مگر اس صحیح قسم میں بھی کبھی کچھ عوراض شامل ہو کر اس کو فاسدو ناقابل اعتبار کردیتے ہیں ، تفصیل اس کی یہ ہے کہ خواب میں جو انسان مختلف صورتیں اور واقعات دیکھتا ہے کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ بیداری کی حالت میں جو صورتیں انسان دیکھتا رہتا ہے وہی خواب میں متشکل ہو کر نظر آجاتی ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شیطان کچھ صورتیں اور واقعات اس کے ذہن میں ڈالتا ہے کبھی خوش کرنے والے اور کبھی ڈرانے والے یہ دونوں قسمیں باطل ہیں جن کی نہ کوئی حقیقت واصلیت ہے نہ اس کی کوئی واقعی تعبیر ہوسکتی ہے ان میں پہلی قسم کو حدیث النفس اور دوسری کو تسویل شیطانی کہا جاتا ہے، تیسری قسم جو صحیح اور حق ہے وہ اللہ تعالیٰکی طرف سے ایک قسم کا الہام ہے جو اپنے بندہ کو متنبہ کرنے یا خوش خبری دینے کے لئے کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے خزانہ غیب سے بعض چیزیں اس کے قلب و دماغ میں ڈال دیتے ہیں ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ مومن کا خواب ایک کلام ہے جس میں وہ اپنے رب سے شرف گفتگو حاصل کرتا ہے یہ حدیث طبرانی نے بسند صحیح روایت کی ہے (مظہری ) اس کی تحقیق صوفیائے کرام کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ عالم میں جتنی چیزیں وجود میں آنے والی ہیں اس وجود سے پہلے ہر چیز کی ایک خاص شکل عالم مثال میں ہوتی ہے اور اس عالم مثال میں جس طرح جواہر اور حقائق ثابتہ کی صورتیں اور شکلیں ہوتی ہیں اسی طرح معانی اور اعراض کی بھی خاص شکلیں ہوتی ہیں خواب میں جب نفس انسانی ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوتا ہے، تو بعض اوقات اس کا تعلق عالم مثال سے ہوجاتا ہے وہاں جو کائنات کی شکلیں ہیں وہ اس کو نظر آجاتی ہیں پھر یہ صورتیں عالم غیب سے دکھائی جاتی ہیں بعض اوقات ان میں بھی کچھ عوارض ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ اصل حقیقت کے ساتھ کچھ تخیلات باطلہ شامل ہوجاتے ہیں اس لئے اہل تعبیر کو بھی اس کی تعبیر سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے اور بعض اوقات وہ تمام عوارض سے پاک صاف رہتی ہیں تو وہ اصل حقیقت ہوتی ہیں مگر ان میں بھی بعض خواب محتاج تعبیر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں حقیقت واقعہ واضح نہیں ہوتی ایسی صورت میں بھی اگر تعبیر غلط ہوجائے تو واقعہ مختلف ہوجاتا ہے اس لئے صرف وہ خواب صحیح طور پر الہام من اللہ اور حقیقت ثابتہ ہوں گے جو اللہ کی طرف سے ہو اور اس میں کچھ عوارض بھی شامل نہ ہوئے ہوں اور تعبیر بھی صحیح دی گئی ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) کے سب خواب ایسے ہی ہوتے ہیں اسی لئے ان کے خواب بھی وحی کا درجہ رکھتے ہیں عام مسلمانوں کے خواب میں ہر طرح کے احتمال رہتے ہیں اس لئے وہ کسی کے لئے حجت اور دلیل نہیں ہوتے ان کے خوابوں میں بعض اوقات طبعی اور نفسانی صورتوں کی آمیزش ہوجاتی ہے اور بعض اوقات گناہوں کی ظلمت و کدورت صحیح خواب پر چھا کر اس کو ناقابل اعتماد بنا دیتی ہے بعض اوقات تعبیر صحیح سمجھ میں نہیں آتی ، خواب کی یہ تین قسمیں ہیں ایک شیطانی ہے جس میں شیطان کی طرف سے کچھ صورتیں ذہن میں آتی ہیں دوسری وہ جو آدمی اپنی بیداری میں دیکھتا رہتا ہے وہی صورتیں خواب میں سامنے آجاتی ہیں تیسری قسم جو صحیح اور حق ہے وہ نبوت کے اجزء میں سے چھیالیسواں جز ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہے، خواب میں جزء نبوت ہونے کے معنی اور اس کی تشریح : یہ قسم جو حق اور صحیح ہے اور صحیح احادیث نبویہ میں نبوت کا ایک جزء قرار دی گئی ہے اس میں روایات حدیث مختلف ہیں بعض میں چالیسواں جزء اور بعض چھیالیسواں جزء بتلایا اور بعض روایات میں اننچاس (49) اور پچاس (50) اور سترواں (70) جزء ہونا بھی منقول ہے یہ سب روایتیں تفسیر قرطبی میں جمع کرکے ابن عبد البر کی تحقیق یہ نقل کی ہے کہ ان میں کوئی تضاد وتخالف نہیں بلکہ ہر ایک روایت اپنی جگہ صحیح و درست ہے اور تعداد اجزاء کا یہ اختلاف خواب دیکھنے والوں کے مختلف حالات کی بناء پر ہے جو شخص سچائی، امانت، دیانت، اور کمال ایمان کے ساتھ متصف ہے اس کا خواب نبوت کا چالیسواں جزء ہوگا اور جو ان اوصاف میں کچھ کم ہے اس کا چھیالیسواں یا پچاسواں جزء ہوگا اور جو اور کم ہے اس کا خواب نبوت کا سترواں جزء ہوگا، یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ سچے خواب کے جزء نبوت ہونے سے کیا مراد ہے تفسیر مظہری میں اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نبوت کا سلسلہ تیئیس سال جاری رہا ان میں سے پہلی ششماہی میں یہ وحی الہی خوابوں کی صورت میں آتی رہی باقی پنیتالیس ششماہیوں میں جبرئیل امین (علیہ السلام) کی پیغام کی صورت میں آئی، اس حساب سے سچی خوابیں وحی نبوت کا چھالیسواں جز ہوا اور جن روایات میں کم وبیش عدد مذکور ہیں ان میں یا تقریبی کلام کیا گیا یا وہ سند کے اعتبار سے ساقط ہیں امام قرطبی (رح) نے فرمایا کہ اس کے جزء نبوت ہونے سے مراد یہ ہے کہ خواب میں بعض اوقات انسان ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو اس کی قدرت میں نہیں مثلاً یہ دیکھے کہ وہ آسمان پر اڑ رہا ہے یا غیب کی ایسی دیکھے جن کا علم حاصل کرنا اس کی قدرت میں نہ تھا تو اس کا ذریعہ بجز امداد والہام خداوندی کے اور کچھ نہیں ہوسکتا جو اصل میں خاصہ نبوت ہے اس لئے اس کو ایک جزء نبوت قرار دیا گیا، قادیانی دجال کے ایک مغالطہ کی تردید : یہاں کچھ لوگوں کو ایک عجیب مغالطہ لگا ہے کہ اس جزء نبوت کے دنیا میں باقی اور جاری رہنے سے نبوت کا باقی اور جاری رہنا سمجھ بیٹھے جو قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور بیشمار احادیث صحیحہ کے خلاف اور پوری امت کے اجماعی عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے اور یہ نہ سمجھے کہ کسی چیز کا ایک جزء موجود ہونے سے اس چیز کا موجود ہونا لازم نہیں آتا اگر کسی شخص کا ایک ناخن یا ایک بال کہیں موجود ہو تو کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں وہ شخص موجود ہے مشین کے بہت سے کل پرزوں میں سے اگر کسی کے پاس ایک پرزہ یا ایک اسکرد موجود ہو اور وہ کہنے لگے کہ میرے پاس فلاں مشین موجود ہے تو دنیا بھر کے انسان اس کو یا جھوٹا سمجھیں گے یا بیوقوف، سچے خواب حسب تصریح حدیث بلاشبہ جزء نبوت ہیں مگر نبوت نہیں نبوت تو خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ختم ہوچکی ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لم یبق من النبوۃ الا المبشرات، یعنی آئندہ نبوت کا کوئی جزء بجز مبشرات کے باقی نہ رہے گا صحابہ کرام نے عرض کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے ؟ تو فرمایا کہ سچے خواب جس میں ثابت ہوا کہ نبوت کسی قسم یا کسی صورت سے باقی نہیں صرف اس کا چھوٹا ساجز باقی ہے جس کو مبشرات یا سچے خواب کہا جاتا ہے کبھی کافر فاسق آدمی کا خواب بھی سچا ہوسکتا ہے : اور یہ بات بھی قرآن و حدیث سے ثابت اور تجربات سے معلوم ہے کہ سچے خواب بعض اوقات فاسق فاجر بلکہ کافر کو بھی آسکتے ہیں سورة یوسف ہی میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جیل کے دوساتھیوں کے خواب اور ان کا سچا ہونا اسی طرح بادشاہ مصر کا خواب اور اس کا سچاہونا قرآن میں مذکور ہے حالانکہ یہ تینوں مسلمان نہ تھے حدیث میں کسریٰ کا خواب مذکور ہے جو اس نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے متعلق دیکھا تھا وہ خواب صحیح ہوا حالانکہ کسریٰ مسلمان نہ تھا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپی عاتکہ نے بحالت کفر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں سچاخواب دیکھا تھا نیز کافر بادشاہ بخت نصر کے جس خواب کی تعبیر حضرت دانیال (علیہ السلام) نے دی وہ خواب سچا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ محض اتنی بات کہ کسی کو کوئی سچاخواب نظر آجائے اور واقعہ اس کے مطابق ہوجائے اس کے نیک صالح بلکہ مسلمان ہونے کی بھی دلیل نہیں ہوسکتی ہاں یہ صحیح ہے کہ عام عادۃ اللہ یہی ہے کہ سچے اور نیک لوگوں کے خواب عموماً سچے ہوتے ہیں فساق و فجار کے عموماً حدیث النفس یا تسویل شیطانی کی قسم باطل سے ہوا کرتے ہیں مگر کبھی اس کے خلاف بھی ہوجاتا ہے، بہرحال سچے خواب عام امت کے لئے حسب تصریح حدیث ایک بشارت یا تنبیہ سے زائد کوئی مقام نہیں رکھتے نہ خود اس کے لئے کسی معاملہ میں حجت ہیں نہ دوسروں کے لئے بعض ناواقف لوگ ایسے خواب دیکھ کر طرح طرح کے وساوس میں مبتلا ہوجاتے ہیں کوئی ان کو اپنی ولایت کی علامت سمجھنے لگتا ہے کوئی ان سے حاصل ہونے والی باتوں کو شرعی احکام کا درجہ دینے لگتا ہے یہ سب چیزیں بےبنیاد ہیں خصوصاً جب کہ یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ سچی خوابوں میں بھی بکثرت نفسانی یا شیطانی یا دونوں قسم کے تصورات کی آمیزش کا احتمال ہے، خواب ہر شخص سے بیان کرنا درست نہیں : مسئلہ : آیت قالَ يٰبُنَيَّ الخ۔ میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان کرنے سے منع فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ خواب ایسے شخص کے سامنے بیان نہ کرنا چاہئے جو اس کا خیر خواہ اور ہمدرد نہ ہو اور نہ ایسے شخص کے سامنے جو تعبیر خواب میں ماہر نہ ہو جامع ترمذی میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سچاخواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے اور خواب معلق رہتا ہے جب تک کسی سے بیان نہ کیا جائے جب بیان کردیا گیا اور سننے والے نے کوئی تعبیر دے دیتو تعبیر کے مطابق واقع ہوجاتا ہے اس لئے چاہئے کہ خواب کسی سے بیان نہ کرے بجز اس شخص کے کہ جو عالم وعاقل ہو یا کم ازکم اس کا دوست اور خیرخواہ ہو، نیز ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خواب تین قسم کا ہوتا ہے ایک اللہ کی طرف سے بشارت، دوسرے نفسانی خیالات، تیسرے شیطانی تصورات، اس لئے جو شخص کوئی خواب دیکھے اور اسے بھلا معلوم ہو تو اس کو اگر چاہے لوگوں سے بیان کر دے اور اگر اس میں کوئی بری بات نظر آئے تو کسی سے نہ کہے بلکہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور صحیح مسلم کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ برا خواب دیکھے تو بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے اور اللہ سے اس کی برائی سے پناہ مانگے اور کسی سے ذکر نہ کرے تو یہ خواب اس کو کوئی نقصان نہ دے گا وجہ یہ ہے کہ بعض خواب تو شیطانی تصورات ہوتے ہیں وہ اس عمل سے دفع ہوجائیں گے اور اگر سچا خواب ہے تو اس عمل کے ذریعہ اس کی برائی دور ہوجانے کی بھی امید ہے، مسئلہ : خواب کی تعبیر خواب پر موقوف رہنے کا مطلب تفسیر مظہری میں یہ بیان فرمایا ہے کہ بعض تقدیری امور مبرم یعنی قطعی نہیں ہوتے بلکہ معلق ہوتے ہیں کہ فلاں کام ہوگیا تو یہ مصیبت ٹل جائے گی اور نہ ہوا تو پڑجائے گی جس کو قضائے معلق کہا جاتا ہے ایسی صورت میں بری تعبیر دینے سے معاملہ برا اور اچھی تعبیر سے اچھا ہوجاتا ہے اسی لئے ترمذی کی حدیث مذکور میں ایسے شخص سے خواب بیان کرنے کی ممانعت کی گئی ہے جو عقلمند نہ ہو یا اس کا خیر خواہ و ہمدرد نہ ہو اور یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ خواب کی کوئی بری تعبیر سن کر انسان کے دل میں یہی خیال جمتا ہے کہ اب مجھ پر مصیبت آنے والی ہے اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انا عند ظن عبدی بی۔ یعنی بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرتا ہے میں اس کے حق میں ویسا ہی ہوجاتا ہوں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصیبت آنے پر یقین کر بیٹھا تو اس تو اس عادۃ اللہ کے مطابق اس پر مصیبت آنا ضروری ہوگیا، مسئلہ : اس آیت سے جو یہ معلوم ہوا کہ جس خواب میں کوئی بات تکلیف و مصیبت کی نظر آئے وہ کسی سے بیان نہ کرے روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت محض شفقت اور ہمدردی کی بناء پر ہے شرعی حرام نہیں اس لئے اگر کسی سے بیان کر دے تو کوئی گناہ نہیں کیونکہ احادیث صحیحہ میں ہے کہ غزوہ احد کے وقت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی اور دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح ہو رہی ہیں جس کی تعبیر حضرت حمزہ کی شہادت اور بہت سے مسلمانوں کی شہادت تھی جو بڑا حادثہ ہے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خواب کو صحابہ سے بیان فرما دیا تھا (قرطبی ) مسئلہ : اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کو دوسرے کے شر سے بچانے کے لئے اس کی کسی بری خصلت یا نیت کا اظہار کردینا جائز ہے یہ غیبت میں داخل نہیں مثلاً کسی شخص کو معلوم ہوجائے کہ فلاں آدمی کسی دوسرے آدمی کے گھر میں چوری کرنے یا اس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو اس کو چاہئے کہ اس شخص کو باخبر کر دے یہ غیبت حرام میں داخل نہیں جیسا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) سے اس کا ا ظہار کردیا کہ بھائیوں سے ان کی جان کا خطرہ ہے، مسئلہ : اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کے متعلق یہ احتمال ہو کہ ہماری خوش حالی اور نعمت کا ذکر سنے گا تو اس کو حسد ہوگا اور نقصان پہنچانے کی فکر کرے گا تو اس کے سامنے اپنی نعمت دولت وعزت وغیرہ کا ذکر نہ کرے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ : اپنے مقاصد کو کامیاب بنانے کے لئے ان کو راز میں رکھنے سے مدد حاصل کرو کیونکہ دنیا میں ہر صاحب نعمت سے حسد کیا جاتا ہے، مسئلہ : اس آیت اور بعد کی آیات سے جن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے یا کنویں میں ڈالنے کا مشورہ اور اس پر عمل مذکور ہے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اللہ کے نبی اور پیغمبر نہ تھے ورنہ قتل یوسف کا مشورہ اور پھر ان کو ضائع کرنے کی تدبیر اور باپ کی نافرمانی کا عمل ان سے نہ ہوتا کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا سب گناہوں سے پاک ہونا اور معصوم ہونا ضروری ہے کتاب طبری میں جو ان کو انبیاء کہا گیا ہے وہ صحیح نہیں (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا۝ ٠ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝ ٥ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ كيد الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] ( ک ی د ) الکید ( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر بھی کبھی اچھے معنوں میں فرمایا : ۔ كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی ۔ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے الا تقصص رو یاک علی اخوتک فیکید والک کیدا ً ۔ اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ معلوم تھا کہ اگر یوسف اپنے بھائیوں سے اس خواب کا تذکرہ کریں گے تو وہ ان سے حسدکریں گے اور ان کے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ یہی بات ان لوگوں سے نعمت کو چھپانے اور ان پر ظاہر نہ کرنے کے جواز کی بنیاد ہے جن کے متعلق یہ خطرہ ہو کہ وہ حسد کریں گے اور درپے آزاد ہوجائیں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے نعمت کے اظہار کا حکم دیا ہے چناچہ ارشاد ہوا واما بنعمۃ ربک فحدث اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کیا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا بیٹا اس خواب کے بعد اگر اور بھی خواب دیکھو تو اپنے بھائیوں کے سامنے مت بیان کرنا کہ کہیں وہ تمہاری موت کی کوئی تدبیر کریں، بلاشبہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے کہ لوگوں کو حسد پر اکساتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ ) حضرت یعقوب نے سمجھ لیا کہ اس خواب میں یوسف کے گیارہ بھائیوں اور ماں باپ کے بارے میں کوئی اشارہ ہے اور شاید اللہ تعالیٰ میرے اس بیٹے کے لیے کوئی خاص فضیلت ظاہر کرنے والا ہے۔ (فَیَکِیْدُوْا لَکَ کَیْدًا) ممکن ہے وہ لوگ خواب سن کر اس میں واضح اشارے کو بھانپ لیں تو ان کے اندر حسد کی آگ بھڑک اٹھے اور پھر وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں ‘ تمہیں گزند پہنچانے کی کوشش کریں ۔ (اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ) وہ دشمنی میں کسی کو بھی کسی بھی وقت کوئی بھی پٹی پڑھا سکتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4. As the meanings of the dream were quite obvious, Prophet Jacob (peace be upon him) had a genuine fear that Joseph’s ten step brothers would become all the more envious of him when they would hear this. So he warned his righteous son not to mention his dream to his brothers, for he knew that those sons of his did not bear the moral character worthy of the sons of a Prophet, and, therefore they were up to any evil design against him out of mere envy. As regards to the dream, the sun in it was Prophet Jacob (peace be upon him), the moon his wife, Prophet Joseph’s step mother, and the eleven stars were his eleven brothers.

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :4 اس سے مراد حضرت یوسف علیہ السلام کے وہ دس بھائی ہیں جو دوسری ماؤں سے تھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو معلوم تھا کہ یہ سوتیلے بھائی یوسف علیہ السلام سے حسد رکھتے ہیں اور اخلاق کے لحاظ سے بھی ایسے صالح نہیں ہیں کہ اپنا مطلب نکالنے کے لیے کوئی ناروا کارروائی کرنے میں انہیں کوئی تأمل ہو ، اس لیے انہوں نے اپنے صالح بیٹے کو متنبہ فرما دیا کہ ان سے ہوشیار رہنا ۔ خواب کا صاف مطلب یہ تھا کہ سورج سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام ، چاند سے مراد ان کی بیوی ( حضرت یوسف علیہ السلام کی سوتیلی والدہ ) اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اتنا اونچا مقام ملنے والا ہے کہ ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ کسی وقت ان کے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے، دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے کل بارہ بیٹے تھے، ان میں سے دوبیٹے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین ایک والدہ سے تھے اور باقی صاحب زادے ان کی دوسری اہلیہ سے تھے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کی وجہ سے حسد نہ ہو، اور شیطان کے بہکائے میں آکر یوسف (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

مسنگ

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:5) یبنی۔ یا حرف ندا۔ بنی۔ ابن سے اسم تصغیر ہے۔ مضاف ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ اضافت کے باعث ی کو ی میں مدغم کیا گیا۔ بنی میں تصغیر تحقیر کے لئے نہیں بلکہ شفقت اور محبت کے لئے ہے اور نحوی اسے تصغیر الحبیب کہتے ہیں اے میرے پیارے بیٹے۔ فیکیدوا۔ ف سببیہ ہے فعل مضارع کو نصب دیتا ہے۔ یکیدوا مضارع منصوب بوجہ فاء سببیہ یا جواب نہی میں جو بہ اضمار ان (اضمار مضمر۔ پوشیدہ محذوف) مثال لایقضی علیہم فیموتوا۔ کاد یکید کیدا (باب ضرب) خفیہ تدبیر کرنا۔ فیکیدوا لک کیدا۔ ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی چال ضرور چلیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ یعنی اس کی تعبیر سنتے ہی سمجھ لیں گے گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ، ایک ماں، ان کی طرف محتاج ہوں گے۔ پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) ۔ تعبیر حضرت یعقوب ( علیہ السلام) تو سمجھ گئے تھے اس لئے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں سے ہوشیار رہنے اور انہیں اپنا خواب نہ بتانے کی تلقین فرمائی۔ ایسا نہ ہو کہ وہ خواب کی تعبیر سمجھ جائیں اور ازراہِ حسد انہیں کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی جیسا کہ روایت میں ہے ہر خواب بیان کرنے میں احتیاط کی تعلیم دی ہے۔ فرمایا : لاتحدث بہ الاحبیبا اولبیبا (مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی) ۔ یعنی خواب کسی خیز اندیش یا سمجھ دار کے سامنے ہی بیان کرو۔ دوسری حدیث میں فرمایا : اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطانی وسوسہ۔ اگر کوئی شخص اچھا خواب دیکھئے تو صرف اس کو بتائے جو اس کا اپن ادوست اور خیر خواہ ہو اور جب برا خواب نظر آئے تو تین دفعہ اعوذ باللہ من شرھا پڑھتے اور بائیں طرف تھوک دے انشاء اللہ اس کا کچھ نقصان نہ پہنچے گا۔ ایک روایت میں یہ بھی فرمایا کہ کروٹ بھی بدل دے۔ (بخاری) ۔ اور یہ کچھ مستعبد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہر قسم کے ضرر سے سلامتی کا سبب بنادے جیسا کہ صدقہ و خیرات مصائب دور کرنے سبب بن جاتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت یعقوب نے خواب کو راز میں رکھنے کا سبب یہ بتایا کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اور بعض لوگوں کے دلوں کو دوسرے کے خلاف حسد اور بغض سے بھر دیتا ہے اور وہ لوگوں کو آمادہ کرتا رہتا ہے کہ وہ غلطی کریں ، شر کریں اور بڑی بڑی غلطیوں کو وہ لوگوں کے سامنے معمولی کرکے اور خوشنما کرکے پیش کرتا ہے۔ حضرت یعقوب ابن حضرت اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) تھے نبوت کا خاندان تھا۔ انہوں نے خوب سنتے ہی محسوس کرلیا تھا کہ یہ بیٹا ایک تابناک مستقبل کا مالک ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ تابناک مستقبل دین ، اصلاح اور علم و معرفت کے میدان میں ہوگا۔ پھر ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں اس شمع نے روشن رہنا تھا ، لہذا وہ یہ توقع رکھتے تھے کہ وارث نبوت یقینا حضرت یوسف ہیں ہیں۔ اس لیے انہوں نے ان کو اس کی بشارت دے دی :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹے کے خواب سے اندازہ لگا لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے حکمت و نبوت سے سرفراز فرمائے گا اور اسے دنیا و آخرت میں شرف و فضیلت کے مقام بلند پر فائز کرے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بعض قرائن سے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ ان کے بڑے بیٹے یوسف اور بنیامین سے حسد رکھتے ہیں اس لیے یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں کے سامنے اپنا خواب بیان کرنے سے منع فرما دیا جس کی تعبیر یہ تھی کہ سب بھائی ان کے سامنے جھکیں گے کیونکہ وہ اس کی تعبیر سمجھ جائیں گے اور مبادا تمہارے ہلاک کرنے کے منصوبے بنانے لگیں۔ ان یعقوب (علیہ السلام) کان شدیدا الحب لیوسف و اخیہ فحسدہ اخوتہ لھذا السبب و ظھر ذلک المعنی لیعقوب (علیہ السلام) بالامارات الکثیرۃ فلما ذکر یوسف (علیہ السلام) ہذہ الرؤیا وکان تاویلھا ان اخوتہ وابویہ یخضعون لہ فقال لا تخبرھم برؤیاک فانھم یعرفون تاویلھا فیکیدوا لک کیداً (کبیر ج 18 ص 89) وانما قال لہ ذلک لما انہ (علیہ السلام) عرف من رؤیاہ ان سیبلغہ اللہ تعالیٰ مبلغا جلیلا من الحکمۃ ویصطفیہ للنبوۃ وینعم علیہ بشرف الدارین فخاف علیہ حسدا لاخوۃ الخ (روح ج 12 ص 181) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 انہوں نے کہا اے میریے پیارے بیٹے تو اس خواب کو اپنے بھائیوں سے ذکر نہ کی جو اور ان کے روبرو بیان نہ کیجئو ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی فریب آمیز تدبیر کریں گے بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے یعنی اس خواب کو سن کر وہ تیری ایذا رسانی اور تجھ کو نیچا دکھانے کی تدبیر اور دائوں کی گھات میں لگ جائیں گے اور گوبن یامین سے یہ خطرہ نہ ہو کیونکہ وہ حقیقی بھائی ہے اور باقی علاقی لیکن اتنا خدشہ ضرور ہے کہ وہ دوسرے بھائیوں کو سنادے اس لئے تم اس خواب کا کسی سے بھی ذکر نہ کرو اور کسی بھائی کے آگے مت بیان کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے سنتے ہی سمجھ جائیں گے گیارہ بھائی تھے ایک باپ اور ایک ماں ان کی طرف محتاج ہوں گے پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا 12 خلاصہ ! یہ کہ یہ بات خواب سنتے ہی سمجھ میں آجائے گی کہ تم کو اپنے خاندان پر برتری ملنے والی ہے اور یہ بات ایسی ہے جس سے ہم عصروں میں حسد پیدا ہوسکتا ہے اور جبکہ شیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے وہ بھی پیچھے پڑا ہوا ہو۔