Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 69

سورة يوسف

وَ لَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّیۡۤ اَنَا اَخُوۡکَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۹﴾

And when they entered upon Joseph, he took his brother to himself; he said, "Indeed, I am your brother, so do not despair over what they used to do [to me]."

یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا کہ میں تیرا بھائی ( یوسف ) ہوں پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yusuf comforts Binyamin Allah tells: وَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَى يُوسُفَ اوَى إِلَيْهِ أَخَاهُ قَالَ إِنِّي أَنَاْ أَخُوكَ فَلَ تَبْتَيِسْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ And when they went in before Yusuf, he took his brother (Binyamin) to himself and said: "Verily, I am your brother, so grieve not for what they used to do." Allah states that when Yusuf's brothers went in before him along with his full brother Binyamin, he invited them to a place of honor as privileged guests. He granted them gifts and generous hospitality and kindness. He met his brother in confidence and told him the story of what happened to him and that he was in fact his brother. He said to him, لااَ تَبْتَيِسْ `(grieve not) nor feel sad for what they did to me.' He ordered Binyamin to hide the news from them and to refrain from telling them that the Aziz is his brother Yusuf. He plotted with him to keep him in Egypt enjoying honor and great hospitality.

بنیامین جو حضرت یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی تھے انہیں لے کر آپ کے اور بھائی جب مصر پہنچے آپ نے أپ نے سرکاری مہمان خانے میں ٹھیرایا ، بڑی عزت تکریم کی اور صلہ اور انعام واکرام دیا ، اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں ، اللہ نے مجھ پر یہ انعام واکرام فرمایا ہے ، اب تمہیں چاہئے کہ بھائیوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے ، اس کا رنج نہ کرو اور اس حقیقت کو بھی ان پر نہ کھولو میں کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 بعض مفسرین کہتے ہیں دو دو آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں ٹھرایا گیا، یوں بنیامین جو اکیلے رہ گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انھیں تنہا الگ ایک کمرے میں رکھا اور پھر خلوت میں ان سے باتیں کیں اور انھیں پچھلی باتیں بتلا کر کہا کہ ان بھائیوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا، اس پر رنج نہ کر اور بعض کہتے ہیں کہ بنیامین کو روکنے کے لئے جو حیلہ اختیار کرنا تھا، اس سے بھی انھیں آگاہ کردیا تھا تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔ (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٨] دو بچھڑے ہوئے بھائیوں کی اتفاقی ملاقات :۔ برادران یوسف جیسے سیدنا یوسف (علیہ السلام) سے حسد رکھتے تھے۔ ویسے ہی بن یمین سے بھی رکھتے تھے کیونکہ سیدنا یوسف سے جدائی کے بعد بن یمین باپ کی توجہ کا مرکز و محور بن گئے تھے۔ چناچہ روانگی کے بعد راستہ میں اسے طعن وتشنیع سے کو ستے رہے اور طرح طرح سے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتے رہے تھے جب یہ لوگ مصر میں داخل ہوئے تو سیدنا یوسف نے ان کا استقبال کیا اور شاہی مہمان خانہ میں ٹھہرایا۔ دو دو بھائیوں کو الگ الگ کمرہ رہنے کو دیا۔ بن یمین اکیلا رہ گیا تو آپ نے اسے کہا میں تمہارے پاس رہوں گا۔ چناچہ جب تنہائی میسر آئی تو سیدنا یوسف نے بن یمین کو بتایا کہ میں ہی تمہارا گم شدہ بھائی ہوں۔ طویل مدت کے فراق اور مایوسی کے بعد دو حقیقی بھائیوں کی اس طرح ہنگامی ملاقات کے دوران طرفین کے جذبات میں جو تلاطم برپا ہوتا ہے اسے عموماً سب لوگ جانتے ہیں۔ وہی سب کچھ یہاں بھی ہوا۔ سیدنا یوسف نے کنویں میں پھینکے جانے کے وقت سے لے کر موجودہ وقت تک کے سب حالات سنا دیئے اور چھوٹے بھائی بن یمین نے اپنے گھر کے حالات، بیٹے کے فراق میں سیدنا یعقوب کی داستان غم کی تفصیلات اور اپنی ذات پر بھائیوں کے ناروا سلوک کے حالات سنائے تو سیدنا یوسف نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا جو ہوچکا سو ہوچکا۔ اب تمہارے بھائی تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچا سکیں گے میں کوئی ایسی تدبیر کروں گا کہ تمہیں ان کے ساتھ روانہ ہی نہ کروں گا۔ مگر ہماری اس مجلس کی باتوں کا ان سے قطعاً ذکر نہ کرنا اور نہ ہی میرے متعلق ابھی انھیں کچھ بتانا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ ۔۔ : اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنی حسن تدبیر سے دوسرے بھائیوں کو اس طرح ٹھہرایا کہ چھوٹا بھائی اکیلا رہ گیا تو اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا۔ مفسرین نے عام طور پر لکھا ہے کہ بھائیوں کو دو ، دو کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرایا، مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھیں پانچ پانچ کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا ہو یا کوئی اور ترتیب بنائی ہو۔ (واللہ اعلم) کیونکہ دو ، دو والی ترتیب قرآن و حدیث میں نہیں آئی۔ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ ۔۔ : ظاہر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کے ساتھ علیحدہ ہوئے اور اسے بتایا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں تو اس نے اپنے سوتیلے بھائیوں کی بدسلوکی کے قصے بیان کیے ہوں گے اور یقیناً یوسف (علیہ السلام) کے فراق میں اپنا اور والد کا حال بھی بیان کیا ہوگا۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے انھیں تسلی دی کہ اب تم اپنے بھائی کے پاس پہنچ گئے ہو، لہٰذا ان بھائیوں کی بدسلوکی کا رنج نہ کرو، اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تمام غم غلط ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیں راحت و عزت عطا فرمائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Onwards from here, it was said in verse 69: وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّي أَنَا أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ And when they came to Yusuf, he lodged his brother [ Benya¬min ] with himself. He said, |"Behold, I am your [ lost ] brother! So do not grieve for what they have been doing.|". According to Tafsir authority, Qatadah, the arrangement made by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was that two brothers were lodged in one room. This left Benyamin alone. He was asked to stay with him. When alone with him, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) disclosed his identity to his younger brother and told him that he was his real brother, Yusuf. He comforted him and asked him not to worry about what their brothers have been doing until that time. Rulings and Points of Guidance Some injunctions and rulings come out from verses 67 and 68. These are given below: 1. The effect of the evil eye is true. To try to stay safe from it is per¬missible in Shari` ah, and is commendable, just as one tries to stay safe from harmful foods and actions. 2. To stay safe from being envied by people, it is correct to conceal from them any special personal blessings and attributes one may have. 3. To employ physical and material means to stay safe from harmful effects is neither against Tawakkul (trust in Allah), nor against the status of prophets. 4. If one person apprehends likely harm or hurt coming to the other person, it is better to let him know about the danger and suggest how to stay safe from it - as done by Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) . 5. When someone finds some personal excellence or blessing enjoyed by another person appear unusual to him and there be the danger that he may be affected by the evil eye, then, it becomes obligatory (wajib) on the beholder that he should, after noticing it, say: بَارکَ اللہ (barakallah: may Allah bless) or: مَا شَاء اللہ (masha&Allah : whatever Allah will), so that the other person remains safe from any possible harm. 6. Employing all possible means to stay safe from the evil eye is per¬missible. One of them is to seek its treatment through a dua& (prayer) or تَعویز ta` widh (spoken or written words seeking the protection of Allah) - as was done by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who, seeing the weakness of the two sons of Sayyidna Ja&far ibn Abi Talib, allowed him to have them be treated through ta` widh etc. 7. The ideal approach of a wise Muslim to whatever he does is that he must place his real trust in Allah Ta’ ala to begin with but, at the same time, he should not ignore physical and material means. Let him not fall short in employing whatever permissible means he can possibly assemble together to achieve his purpose, - as was done by Sayyidna Yaqub (علیہ السلام) . And the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) too has taught us to do so. The Sage Rumi has expressed this prophetic teaching in the following line: بر توکَّل زانوۓ اشتر بہ بند that is, &Tie the leg of your camel and trust in Allah&. This is how prophets place their trust in Allah, and this was the blessed way of our Rasu1 (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . 8. A question arises here that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) made efforts to call his younger brother, even insisted on it. And when he came, he even disclosed his identity before him. But, he neither thought of calling his father, nor took any steps to inform him about his well-being while in Egypt. The reason for this is the same as described earlier. There is no doubt that he did have many opportunities during those forty years when he could have sent a message to his father about himself. But, whatever happened in this matter was Divine decree communicated through the medium of Wahy (revelation). Allah Ta’ ala would have not given him the permission to tell his father about himself - because he was yet to be tested once again through his separation from his son, Ben¬yamin. It was to complete this Divine arrangement that all these situa¬tions were created.

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ یعنی جب شہر مصر پہنچنے کے بعد یہ سب بھائی یوسف (علیہ السلام) کے دربار میں حاضر ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ یہ وعدہ کے مطابق ان کے حقیقی بھائی کو بھی ساتھ لے آئے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو خاص اپنے ساتھ ٹھہرایا امام تفسیر قتادہ (رح) نے فرمایا کہ ان سب بھائیوں کے قیام کا یوسف (علیہ السلام) نے یہ انتظام فرمایا تھا کہ دو دو کو ایک کمرہ میں ٹھرایا تو بنیامین تنہارہ گئے ان کو اپنے ساتھ ٹھہرنے کے لئے فرمایا جب تنہائی کا موقع آیا تو یوسف (علیہ السلام) نے حقیقی بھائی پر راز فاش کردیا اور بتلا دیا کہ میں ہی تمہارا حقیقی بھائی یوسف ہوں اب تم کوئی فکر نہ کرو اور جو کچھ ان بھائیوں نے اب تک کیا ہے اس سے پریشان نہ ہو احکام و مسائل : مذکورہ دو آیتوں سے چند مسائل اور احکام معلوم ہوئے، اول : یہ کہ نظربد کا لگ جانا حق ہے اس سے بچنے کی تدبیر کرنا اسی طرح مشروع اور محمود ہے جس طرح مضر غذاؤں اور مضرافعال سے بچنے کی تدبیر کرنا، دوسرے : یہ کہ لوگوں کے حسد سے بچنے کے لئے اپنی مخصوص نعمتوں اور اوصاف کا لوگوں سے چھپانا درست ہے، تیسرے : یہ کہ مضر آثار سے بچنے کے لئے ظاہری اور مادی تدبیریں کرنا توکل اور شان انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف نہیں، چوتھے : یہ کہ جب ایک شخص کو کسی دوسرے شخص کے بارے میں کسی تکلیف کے پہنچ جانے کا اندیشہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس کو آگاہ کر دے اور اندیشہ سے بچنے کی ممکن تدبیر بتلادے جیسے یعقوب (علیہ السلام) نے کیا، پانچوں : یہ کہ جب کسی شخص کو دوسرے شخص کا کوئی کمال یا نعمت تعجب انگیز معلوم ہو اور خطرہ ہو کہ اس کو نظر بد لگ جائے گی تو اس پر واجب ہے کہ اس کو دیکھ کر بارک اللہ یا ماشاء اللہ کہہ لے تاکہ دوسرے کو کوئی تکلیف نہ پہونچے، چھٹے یہ کہ نظر بد سے بچنے کے لئے ہر ممکن تدبیر کرنا جائز ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی دعاء اور تعویذ وغیرہ سے علاج کیا جائے جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفربن ابی طالب کے دو لڑکوں کو کمزور دیکھ کر اس کی اجازت دی کہ تعویذ وغیرہ کے ذریعہ ان کا علاج کیا جائے، ساتویں : یہ کہ دانشمند مسلمان کا کام یہ ہے کہ ہر کام میں اصل بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر رکھے مگر ظاہری اور مادی اسباب کو بھی نظرانداز نہ کرے جس قدر جائز اسباب اپنے مقصد کے حصول کے لئے اس کے اختیار میں ہوں ان کو بروئے کار لانے میں کوتاہی نہ کرے جیسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کیا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کی تعلیم فرمائی ہے دانائے روم (رح) نے فرمایا بر توکل زانوئے اشتربہ بند یہی پیغمبرانہ توکل اور سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، آٹھویں یہ کہ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے چھوٹے بھائی کو تو بلانے کے لئے بھی کوشش اور تاکید کی اور پھر جب وہ آگئے تو ان پر اپنا راز بھی ظاہر کردیا مگر والد محترم کے نہ بلانے کی فکر فرمائی اور نہ ان کو اپنی خیریت سے مطلع کرنے کا کوئی اقدام کیا اس کی وجہ وہی ہے جو پہلے بیان کی گئی ہے کہ اس پورے چالیس سال کے عرصہ میں بہت سے مواقع تھے کہ والد ماجد کو اپنے حال اور خیریت کی اطلاع دیدیتے لیکن یہ جو کچھ ہوا وہ بحکم قضاء وقدر باشارات وحی ہوا ابھی تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت نہ ملی ہوگی کہ والد محترم کو حالات سے باخبر کیا جائے کیونکہ ابھی ان کا ایک اور امتحان بنیامین کی مفارقت کے ذریعہ بھی ہونے والا تھا اس کی تکمیل ہی کے لئے یہ سب صورتیں پیدا کی گئیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 69؀ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ، وقال تعالی: آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] أي : ضمّه إلى نفسه . ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اور آیت کریمہ :۔ { آوَى إِلَيْهِ أَخَاهُ } ( سورة يوسف 69) کے معنی یہ ہیں کہ ہوسف نے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ملالیا أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ بؤس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ : الشدة والمکروه، إلا أنّ البؤس في الفقر والحرب أكثر، والبأس والبأساء في النکاية، نحو : وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا [ النساء/ 84] ، فَأَخَذْناهُمْ بِالْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ [ الأنعام/ 42] ، وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ [ البقرة/ 177] ، وقال تعالی: بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، وقد بَؤُسَ يَبْؤُسُ ، وبِعَذابٍ بَئِيسٍ [ الأعراف/ 165] ، فعیل من البأس أو من البؤس، فَلا تَبْتَئِسْ [هود/ 36] ، أي : لا تلزم البؤس ولا تحزن، ( ب ء س) البؤس والباس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ ۔ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقرو فاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولاجاتا ہے اور الباس والباساء ۔ بمعنی نکایہ ( یعنی جسمانی زخم اور نقصان کیلئے آتا ہے قرآن میں ہے { وَاللهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا } ( سورة النساء 84) اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے { فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ } ( سورة الأَنعام 42) پھر ( ان کی نافرمانیوں کے سبب ) ہم انہیوں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے { وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ } ( سورة البقرة 177) اور سختی اور تکلیف میں اور ( معرکہ ) کا رزا ر کے وقت ثابت قدم رہیں ۔۔ { بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ } ( سورة الحشر 14) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ بؤس یبوس ( باشا) بہادر اور مضبوط ہونا ۔ اور آیت کریمہ ۔ { بِعَذَابٍ بَئِيسٍ } ( سورة الأَعراف 165) بروزن فعیل ہے اور یہ باس یابوس سے مشتق ہے یعنی سخت عذاب میں اور آیت کریمہ ؛۔ { فَلَا تَبْتَئِسْ } ( سورة هود 36) کے معنی یہ ہیں کہ غمگین اور رنجیدہ رہنے کے عادی نہ بن جاؤ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٩) چناچہ جب یہ سب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اس سگے بھائی بنیامین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور سب کو باہردروازہ پر روک دیا اور ان سے کہہ دیا کہ میں تیرا گم شدہ بھائی ہوں، یہ دوسرے تیسرے بھائی جو کچھ تیرے ساتھ بدسلوکی کرتے رہے ہیں اور برا بھلا کہتے رہے ہیں اس کا غم مت کرنا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٩ (وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ ) آپ نے اپنے چھوٹے بھائی بن یا مین کو علیحدگی میں اپنے پاس بلایا اور ان پر اپنی شناخت ظاہر کردی کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں جو بچپن میں کھو گیا تھا۔ (فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) حضرت یوسف نے اپنے چھوٹے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اللہ نے اس اعلیٰ مقام تک پہنچایا ہے اور ہمیں آپس میں ملا بھی دیا ہے۔ چناچہ اب ان بڑے بھائیوں کے رویے پر تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سختی کے دن ختم ہوگئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

55. The entire story of their reunion after a separation of twenty years or so has been summed up in this brief sentence. In all probability Prophet Joseph might have told him the story of the vicissitudes that ultimately had led to his high rank, and Benjamin in his turn might have related the story of the ill treatment of the heartless step brothers. Then Prophet Joseph might have reassured him that he would not be allowed to go back with them but remain with him. It is also possible that the plan to retain him there, without disclosing the secret of Prophet Joseph’s identity, would have then been thought out and decided upon.

۵۵ ۔ اس فقرے میں وہ ساری داستان سمیٹ دی گئی ہے جو اکیس بائیس برس کے بعد دونوں ماں جائے بھائیوں کے ملنے پر پیش آئی ہوگی ، حضرت یوسف نے بتایا ہوگا کہ وہ کن حالات سے گزتے ہوئے اس مرتبے پر پہنچے ، بن یمین نے سنایا ہوگا کہ ان کے پیچھے سوتیلے بھائیوں نے اس کے ساتھ کیا کیا بدسلوکیاں کیں ۔ پھر حضرت یوسف نے بھائی کو تسلی دی ہوگی کہ اب تم میرے پاس ہی رہو گے ، ان ظالموں کے پنجے میں تم کو دوبارہ نہیں جانے دوں گا ، بعید نہیں کہ اسی موقع پر دونوں بھائیوں میں یہ بھی طے ہوگیا ہو کہ بن یمین کو مصر میں روک رکھنے کے لیے کیا تدبیر کیا جائے جس سے وہ پردہ بھی پڑا رہے جو حضرت یوسف مصلحۃ ابھی ڈالے رکھنا چاہتے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

45: روایات میں مذکور ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک کمرے میں ٹھہرایا تھا اس طرح پانچ کمروں میں دس بھائی مقیم ہوگئے بنیامین رہ گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے ساتھ رہیں گے اس طرح انہیں اپنے سگے بھائی کے ساتھ تنہائی کا موقع مل گیا جس میں ان کو بتا دیا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں۔ بنیامین اس موقع پر کہا کہ اب میں ان بھائیوں کے ساتھ واپس جانا نہیں چاہتا۔ اس کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وہ تدبیر اختیار کی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٩۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اس بات کی خبر دی کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ملک مصر میں جہاں یوسف (علیہ السلام) کا قبضہ و تصرف تھا داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس اتارا کہتے ہیں کہ دو ، دو آدمیوں کو ایک ایک گھر میں جگہ دی دس بھائیوں کو پانچ گھر عطا کئے۔ بنیامین اکیلے رہ گئے ان کو اپنے پاس رکھا اور تنہائی میں ملاقات کر کے کہہ دیا کہ تم دل میں کچھ خوف نہ کرو میں تمہارا بھائی ہوں ان سوتیلے بھائیوں نے جو کچھ میرے اور تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا رنج و غم نہ کرو اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات بنیامین سے نہیں کہی کہ میں یوسف تیرا بھائی ہوں بلکہ یہ کہا کہ ہم تمہارے بھائی کی جگہ ہیں اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو خبر کردی کہ میں یہ تدبیر کرتا ہوں پیمانہ تمہارے نام کے غلہ کی گٹھڑی میں رکھ دیتا ہوں اور چوری کی علت لگا کر تمہیں اپنے پاس رکھ لوں گا انہوں نے کہا کہ اچھا یہی کرو غرض کہ پیمانہ ان کے اونٹ کے کجاوہ میں رکھ دیا یہی مراد سقایتہ سے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ تفسیر سدی اور مغازی ابن اسحاق میں { اذی الیہ اخاہ } کی یہ تفسیر کی ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کو ساتھ لے کر یوسف (علیہ السلام) کے روبرو آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ دو دو آدمیوں کو ایک ایک مکان میں اتار دو اس صورت میں بنیامین اکیلے رہ گئے تو ان کو اپنے پاس اتارا اور پھر تنہائی میں بنیامین سے یہ کہہ دیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں سوتیلے بھائیوں نے میرے اور تمہارے ساتھ جو کچھ بدسلوکی کی ہے اس کو یاد کر کے اب تم کچھ غمگین نہ ہو سوتیلے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو بد سلوکی کی اس کا ذکر تو اوپر گزر چکا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا غم غلط کرنے کے لئے یعقوب (علیہ السلام) بنیامین سے محبت زیادہ کرنے لگے تھے جو سوتیلے بھائیوں کو شاق گزرتی تھی اس لئے وہ موقع پا کر بنیامین کو جھڑکتے اور دہمکاتے رہتے تھے۔ اس کا ذکر بنیامین سے سن کر یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کو یاد کر کے کچھ غمگین نہ ہونا چاہیے کیوں کہ اب اللہ تعالیٰ نے میری اور تمہاری سب سختیوں کو طرح طرح کی راحتوں سے بدل دیا اس کا ہزار ہزار شکر ہے اوسط طبرانی میں عبد اللہ بن معسود (رض) اور انس بن مالک (رض) سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر سختی کے بعد آسانی ہے اگرچہ عبد اللہ بن مسعود (رض) کی حدیث کی سند میں ایک راوی ابو مالک بعد الملک نخعی اور انس بن مالک (رض) کی حدیث کی سند میں مائذبن شریح ضعیف ہیں ١ ؎ لیکن آیت { ان مع العسر یسرا } سے ان روایتوں کی پوری تقویت ہوجاتی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آیت { ان مع العسر یسرا } میں اور طبرانی کی ان روایتوں میں سختی کے بعد راحت کا جو وعدہ ہے یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کی حالت اس وعدہ کے ظہور کی ایک بڑی مثال ہے۔ ١ ؎ تفصیل کے لئے دیکھئے مجمع الزوائد ص ١٣٩ ج ٧ تفسیر سورة الم نشرح و تفسیر ابن کثیر ص ٥٢٥ ج ٤ تفسیر سورة الم نشرح۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:69) ادی۔ اس نے جگہ دی۔ اس نے اتارا۔ ایواء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب الماوی۔ اوی یاوی (ضرب) اوی۔ ماوی۔ جس کے معنی کسی جگہ نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنے کے ہیں۔ اوی یاوی الی۔ کسی کے پاس اترنا ۔ کسی کے ساتھ مل جانا۔ اوہ (افعال) کسی کو جگہ دینا۔ جیسا کہ آیۃ ہذا میں ہے۔ اس کا مضارع یؤوی ہے۔ قرآن مجید میں ہے و تؤوی الیک من تشاء (23:51) اور جسے چاہو اپنے پاس ٹھکانہ دو ۔ اوی الیہ اخاہ۔ اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ لا تبتئس۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ابتئاس (افتعال) سے ۔ تو غمگین نہ ہو۔ تو غم نہ کھا ۔ (ملاحظہ ہو 11 ۔ 36) یؤ س مادہ۔ جھزہم بجہازہم۔ ان کا سامان تیار کردیا۔ (ملاحظہ ہو 12: 59) السقایۃ۔ پانی پینے کا برتن۔ صواع (پینے کا بڑا جام) صاعپیمانہ کو بھی کہتے ہیں۔ رحل۔ شلیتہ۔ خرجن ۔ کجاوہ۔ (ملاحظہ ہو 12: 62)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے دو دو کو ایک ایک جگہ ٹھہرایا۔ اس طرح جب بنیامین اکیلے رہ گئے تو انہیں اپنے پاس ٹھہرایا۔ (فتح القدیر) 3 ۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت یوسف ( علیہ السلام) بنیامین کے ساتھ علیحدہ ہوئے ہوں گے اور اسے بتایا ہوگا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں تو بنیامین نے اپنے سوتلے بھائیوں کی بدسلوکی کے قصے بیان کئے ہوں گے اس پر حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے انہیں تسلی دی کہ اب تم اپنے بھائی کے پاس پنچ گئے ہو لہٰذا ان بھائیوں کی بدسلوکی کا رنج نہ کرو۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تمام غم غلط ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عزت و راحت عطا فرمائے۔ (از وحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٦٩ تا ٧٩ اسرارومعاف جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔ تربیت قلوب اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم اپنے بندوں کے قلوب کی تربیت فرماتے ہیں اور مختلف بھٹیوں سے گزرکر یہی قلوب کندن بنتے ہیں اور یہ معاملہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ اپنی اپنی شان کے مطابق ہوتا رہتا ہے اور اہل اللہ کو بھی غم اسی سلسلے میں نصیب ہوتے ہیں جبکہ دنیا دار کو غم مزید ناشکری کی طرف دھکیلتے اور وہی غم اللہ کے بندوں کے اور قریب تر کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ انسان کی اصل عظمت ہی دلوں کے ٹوٹنے سے بنتی ہے ۔ چناچہ بنیامین کو روکنے کی تدبیریہ کی گئی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خادموں کو حکم دیا تو انھوں نے شاہی پیمارنہ جو بہت قیمتی تھا بنیامین کے غلے میں چھپادیا چونکہ ہر آدمی کو ایک اونٹ غلہ ملتا تھا اور سب لوگ ایک ایک اونٹ اپنے نام سے خود بار کراتے تھے چناچہ ہر آدمی کا اونٹ ازخود مقرر تھا ۔ قافلہ روانہ ہوگیا تو پیچھے آدمی دوڑائے گئے جنہوں نے انھیں راستہ میں جالیا اور کہا اے اہل قافلہ ! تم پر چوری کا شبہ ہے ۔ وہ بہت حیران ہوئے اور یہ بات انھیں بہت ناگوارگزری کہ ہم تو اولا پیمبر ہیں اور یہاں بھی سلطان مصر نے ہماری بہت عزت کی ہے تو کیا ہم اتنے احسان فراموش ہیں کہ ایسا کام کریں گے اور زمین پر فساد پھیلانا تو ہمیں زیب نہیں دیتا ۔ نہ ہی ہم چور ہیں۔ اللہ کی شان کتنی بڑی خطاکرگزرے کہ ایک نبی کو جو سگابھائی بھی تھا ظلم کا نشانہ بنایا اور دوسرے نبی کو جو والد بھی تھا غم میں مبتلا کردیا اور سب کچھ بھول کر کس قدر پاکبازی پہ اصرار ہے یہی مزاج انسانی ہے اور ہم اکثر اس طرح سے دھوکا کھاتے ہیں ۔ کاش ! اللہ کریم اس کا احساس بخش دیں ۔ اگر ایسا ہوجائے تو مقصود حاصل ہوجائے اور بھلا تمہارا کو نسامال چوری ہوگیا جس کا شبہ تمہیں ہم پر ہے تو سرکاری آدمی نے کہا کہ شاہی پیمانہ جو بہت قیمتی تھا چوری ہوا اور آپ لوگوں نے بھی اسی پیمانے سے ماپ کر مال حاصل کیا تھا۔ لہٰذا آپ سے پوچھ گچھ تو ضروری تھی اب اگر وہ غلطی سے بھی آپ کے مال میں آگیا ہے تو لوٹا دیجئے۔ کسی کام پر انعام مقرر کرنا اور مال کے لئے ضمانت دینا جائز ہے اور ہاں ! بادشاہ نے اس کی بازیابی پر ایک اونٹ غلہ دینے کا اعلان فرمایا ہے اور میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ پیمانہ لوٹا نے والے کو ایک اونٹ مزید غلہ دیا جائے گا۔ گویا کسی کام پر انعام مقرر کرنا بھی درست ہے اور مال کے لئے ضمانت دینا بھی جائز ہے ۔ لینے والا ضمانت دینے والے سے اپنا مال حاصل کرسکتا ہے۔ چنانچہ سرکاری آدمیوں نے پوچھا کہ اگر آپ شریف لوگ ہیں اور ہماری بازپرس پہ خفا ہوتے ہیں تو ہم آپ سے اپنے قانون کے مطابق معاملہ نہیں کرتے آپ اپنے ہاں کا دستوربیان کریں کہ اگر آپ میں سے کسی بھائی کے غلے سے وہ پیمانہ برآمد ہوجائے تو اس کو کیا سزادی جائے کیونکہ اب تلاشی تو ہوگی اور برآمدنہ ہواتو ہم آپ سے معذرت کرلیں گے ۔ تو وہ کہنے لگے کہ ہمارے ہاں چور کی سزایہ ہے کہ اگر ثابت ہوجائے تو چورکو اس آدمی کے سپرد کردیا جاتا ہے جس کا مال اس نے چرایا ہو اب وہ اس کا غلام ہے وہ جو سلوک چاہے اس سے کرے اور یہی سزامناسب ہے کہ چوری بہت بڑا ظلم ہے لہٰذا شریعت یعقوب (علیہ السلام) کا یہی قانون ہے حالانکہ مصر کے قانون کے مطابق مارپیٹ کر چھوڑدیا جاتا ۔ مگر اللہ کو اسے روکنا منظور تھا لہٰذا بھائی خود اپنے ہاتھوں اس کا اہتمام کرتے رہے تلاشی لی گئی تو بن یامین کے مال سے پیمانہ برآمدہوگیا پہلے باقی سب کا سامان تلاش کرتے رہے حتی کہ صرف بنیامین کا مال بچامگر جب وہ کھولا تو پیمانہ نکل آیا تو بہت پریشان ہوئے اور بڑی ملامت کرنے لگے کہ بنیامین نے تو ہماری ساری عزت ڈبودی مگر قصور بنیامین کا تھا اور نہ ہی یوسف (علیہ السلام) نے زیادتی کی۔ سب کچھ اللہ کریم کی وحی کے مطابق کیا گیا کہ ارشاد ہوتا ہے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے یہ تدبیر فرمائی ورنہ مصر کے قانون کے مطابق تو وہ بھائی کو روک نہیں سکتے تھے لیکن جب اللہ چاہے تو سب کچھ ہوسکتا ہے اور فرمایا ہم چاہیں جس کے درجات بلند کردیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کیفیات ہجر میں مبتلا ہو کر ترقی کر رہے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) وحی الٰہی کی تعمیل کرکے کہ بوڑھے والد کے حال زار سے واقف ہونے کے باوجودنہ صرف یہ کہ اپنی خیریت کی خبرنہ دے سکے بلکہ بنیامین کا آسراجوانھوں نے ہجریوسف میں اختیار کررکھا تھا اس سے بھی محروم کر رہے ہیں اور عشق الٰہی ایسی ہی چیز ہے جو بجز ذات باری سب کچھ چھڑادیتی ہے اور یہی ترقی درجات کا باعث بنتی ہے نیز علوم کا مصدر بھی اللہ ہے اور ان کی انتہا بھی اسی کی ذات ہے ورنہ مخلوق میں ایک کے علوم دوسرے سے جداگانہ رنگ اور اہمیت لئے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگ بہت سٹپٹائے اور کہنے لگے اگر بنیامین نے چوری کی ہے تو کیا تعجب کہ پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چور تھا اس کی روایت یہ ہے کہ والدہ کی وفات کے باعث یوسف (علیہ السلام) پھوپھی کے پاس رہے ۔ جب ذرابڑے ہوگئے تو والد نے منگوالیا مگر وہ اپنے جدانہ کرسکتی تھیں چناچہ انھوں نے بھی ایک تدبیر کی کہ اسحاق (علیہ السلام) کا ایک پٹکاجوان کے پاس بطور تبرک تھا ۔ یوسف (علیہ السلام) کے لباس کے نیچے کمر سے لپیٹ دیا اور ان کے بعد فرمایا پٹکا چوری ہوگیا اور بالآخران سے برآمد کرلیا ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کی اس حدتک محبت سے بہت متاثر ہوئے اور جب تک وہ زندہ رہیں یوسف (علیہ السلام) کو انہی کے پاس رکھا۔ یہ بات بھائیوں کے علم میں تھی مگر اب ناراض ہوئے تو وہ طعنہ بھی دے ڈالا ۔ یوسف (علیہ السلام) نے سنا تو بہت دکھ ہوا مگر ظاہرنہ ہونے دیا اور فرمایا کاش ! انسان اپنے کردارکودیکھتا یہ بھائی جو مجھے چور کہہ رہے ہیں خود کتنا بڑا جرم کرچکے ہیں بہرحال انسان یادرکھے یا بھلادے اللہ کریم تو سب کچھ جانتا ہے۔ اب وہ لگے حیلے کرنے کہ والد گرامی کا حال بہت خراب ہے ہم انھیں وعدہ دے کر آئے تھے اب کیا منہ لے کرجائیں۔ چناچہ آپس میں طے کرکے عرض گزار ہوئے کہ اے عزیز مصر ! اے نیک دل سلطان ! ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے اور پہلے ایک بیٹے کی جدائی کا صدمہ نہیں بھول سکا یہ دوسرا وار تو شاید وہ سہہ بھی نہ سکے اس بزرگ کے حال پر کرم کیجئے اور ہم میں سے جس ایک کو چاہیں بنیامین کی جگہ روک لیں مگر انھیں ضرورجانے دیں ۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی پناہ ! یہ کیسے ہوسکتا ہے ہم ظالم تھوڑی ہیں کہ مال مسروقہ کسی اور سے برآمد ہو اور سزا کسی اور کو دیں یہ ہرگز نہ ہوگا ۔ غرض انھوں نے بہت کوشش کی مگر ایک بھی پیش نہ گئی اور سلطان کونہ ماننا تھا نہ مانا اگرچہ یہ لمحہ بھائیوں کی نسبت برسوں سے بچھڑے ہوئے یوسف کے لئے ایک بہت ہی مشکل لمحہ تھا کہ والد کی محبت اور ان کے حال سے باخبر بھی تھے اور اپنا پیار بھی بہت زیادہ تھا مگر اللہ کا حکم تھا جس کی تعمیل کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 (اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد پایا گیا) ( نجزی ہم بدلہ دیتے ہیں۔ ہم سزا دیتے ہیں) ( بدا شروع کیا) ( او عیۃ سامان، بوری) ( کدنا ہم نے تدبیر کردی ) (دین الملک بادشاہ کا قانون) تشریح : آیت نمبر 69 تا 76 گزشتہ آیات میں اس کی تفصیل ارشاد فرمائی گئی ہے کہ برادران یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب کو پکی قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ اپنے بھائی بن یا مین کی ہر طرف حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہ وہ سب بھائی ایک دروازے سے داخل نہیں ہوں گے بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے تاکہ ان جوان اور صحتمندوں پر کسی کی نظر نہ بیٹھ جائے یا اتنے بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کچھ لوگ حسد میں مبتلا ہو کر کوئی سازش نہ کر بیٹھیں۔ چناچہ ان سب بھائیوں نے اس پر عمل کیا حضرت یوسف جو اپنے بھائی بن یا میں سے ملنے کے لئے بےچین تھے ان پر جیسے ہی حضرت یوسف کی نظر پڑی تو انہوں نے اپنے بھائی کو گلے لگا لیا، عزت کے مقام پر بٹھایا اور ان کے کان میں چپکے سے کہہ دیا کہ میں تمہارا حقیقی بھائی یوسف ہوں۔ تم بقیہ بھائیوں کی باتوں پر نہ تو دھیان دینا اور نہ کسی طرح گھبرانا کیونکہ ان کو جو کچھ کرنا تھا وہ کرچکے اب تم وہاں آرام سے رہو۔ حضرت یوسف کو بن یا میں سے ملنے کے بعد اس بات کی فکر تھی کہ میرا بھائی مجھ سے جدا نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یا مین کو ورکنے کی ایک تدبیر کی۔ شاہی پیالہ یا وہ پیمانہ جس سے لوگوں کو ناپ کر غلہ دیا جاتا تھا اس کو بن یا مین کے سامان میں رکھوا دیا۔ حضرت یوسفک و معلوم تھا کہ دین ابراہیمی کا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی شخص چوری کرے اور سامان اس کے پاس سے برآمد ہوجائے تو وہ اس شخص کا ایک سال تک غلام بن کر رہے گا جس کی چوری کی ہے۔ حضرت یوسف کو اس بات کا اندازہ تھا کہ مصر کے قانون میں اس کی کوئی گنائش نہیں ہے صرف دین ابراہیمی کا یہ اصول ہے۔ جب برادران یوسف غلہ اور سامان لے کر روانہ ہوگئے اور ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ بادشاہ مصر کے کسی آدمی نے پکار کر کہا کہ اے چورو ! رک جاؤ تم نے چوری کی ہے۔ وہ سب بائی رک گئے اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ اور کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ ان کو بتایا گیا کہ بادشاہ کا قیمتی پایلہ گم ہوگیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جو بھی اس پیالہ کو لے کر آئے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ یعنی غلہ انعام میں دیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اس انعام کے سلسلے میں، میں پوری طرح ذمہ دار ہوں۔ برداران یوسف نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم نہ تو فساد کرنے والے لوگ ہیں اور نہ کسی چوری میں ملوث ہیں۔ بادشاہ کے آمیوں نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ اگر کسی نے چوری کی ہو تو اس کی تمہارے ہاں سزا کیا ہے ؟ انہوں نے دین ابراہیم کا یہ اصول بیان کردیا کہ جس کے پاس بھی چور یکا سامان نکل آئے گا وہ ایک سال تک غلام بنا کر رکھا جائے گا۔ چناچہ بادشاہ کے لوگوں نے سب سے پہلے سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی کسی کے پاس کچھ نہ نکلا جب بن یا مین کے سامان کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے وہ شاہی پیالہ نکل آیا اور اس طرح بن یا مین بظاہر حضرت یوسف کے غلام بنا کر ان کے پاس لے آئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں کے ایک ساتھ رہنے کی بہترین تدبیر فرما دی۔ یقیہ واقعہ کی تفصیل تو اگلی آیات میں آرہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو اپنے سگے بھائی بن یا میں سے ملانے کے تمام اسباب پیدا فرما دیئے اور اس طرح بن یا مین کے درجہ کو بلند کردیا گیا اور فرمایا کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر علم والے پر ایک علم والے کو رکھا ہے لیکن سب جاننے والوں سے بڑا جاننے والا اللہ ہے یعنی اللہ ہی نے اپنے علم اور فضل و کرم سے بنی اسرائیل کے فلسطین سے مصر آنے کے راستے ہموار فرما دیئے۔ و جانتا ہے کہ کس کام کی کیا مصلحت ہے اور نتائج کیا ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ کیونکہ اب تو اللہ نے ہم کو ملادیا ہے اب اس غم بھلادینا چاہیے۔ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی تو ظاہر ہے مشہور ہے رہا بنیامین کے ساتھ سویا تو ان کو بھی کچھ تکلیف دی ہو ورنہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کیا ان کے حق میں کچھ کم تکلیف تھی پھر دونوں بھائیوں نے مشورہ کیا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ بنیامین یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہیں کیونکہ ویسے رہنے میں تو اور بھائیوں کا بوجہ عہد وسوگند کے اصرار ہوگا ناحق جھگڑا ہوگا اور پھر اگر وجہ بھی ظاہر ہوگئی تو راز کھلا اور اگر مخفی رہی تو یعقوب (علیہ السلام) کا رنج بڑھے گا بلاسبب کیوں رکھے گئے یا کیوں رہے بعض علماء نے لکھا ہے کہ بنیامین کو جو حضرت یوسف نے آرزو سے بلایا اوروں کو حسد لگا اس سفر میں اس کو ہر بات پر جھڑکتے اور طعنے دیتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کا مختلف دروازوں کے ذریعے گزر کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاں جمع ہونا۔ مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے ہاں جمع ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ کمرہ میں جگہ دی۔ پھر بنیامین کے پاس تشریف لے جا کر انھیں اپنا تعارف کروایا۔ ظاہر ہے اتنی مدت کے بعد ملنے پر دو بھائیوں کے جو جذبات ہوں گے انکا پوری طرح اندازہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں بتایا ہوگا اور حضرت بنیامین نے اپنے غم، گھریلو حالات اور اپنے والد گرامی کی پریشانیوں کا ذکر کیا ہوگا۔ جس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ پیارے بھائی اب آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے اکٹھا کردیا ہے۔ لہٰذا جو کچھ آپ کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہیں ہیں ان پر دل گرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں، ساتھ انہیں فرمایا کہ میں آپ کو اپنے پاس رکھنے کی کوئی راہ نکالتا ہوں۔ چناچہ صبح کے وقت بھائیوں کا سامان تیار کیا۔ تو چپکے سے پانی پینے والا مخصوص پیالہ بنیامین کے سامان میں رکھوا دیا۔ جب قافلہ غلہ لے کر شہر سے باہر نکل گیا تو حسب منصوبہ پیچھے سے انتظامیہ کے آدمی بھیجے کہ جانے والے قافلہ کی تلاشی لی جائے۔ انتظامیہ کے لوگوں نے قافلہ کا پیچھا کرتے ہوئے آواز دی کہ رک جاؤ تم تو چور معلوم ہوتے ہو۔ قافلے والے پیچھے پلٹ کر پوچھتے ہیں۔ جناب آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے ؟ جس وجہ سے آپ ہمیں چور کہہ رہے ہیں۔ انتظامیہ کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے بادشاہ کا پانی پینے والا پیالہ گم ہوگیا ہے۔ جو شخص ڈھونڈ لائے گا اسے ایک اونٹ غلہ دیا جائے گا۔ میں اس کی ضمانت دیتا ہوں صواع سے مراد ہے پانی پینے کا پیالہ جو سونے یا چاندی کا ہو۔ یا در ہے ہماری شریعت میں سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا حرام ہیں، شریعت یوسفی میں حرام نہ تھے۔ (عن عَبْد اللّٰہِ بْنَ عُکَیْمٍ قَالَ کُنَّا مَعَ حُذَیْفَۃَ (رض) بِالْمَدَآءِنِ فَاسْتَسْقٰی حُذَیْفَۃُ فَجَآ ءَ ہٗ دِہْقَانٌ بِشَرَابٍ فِیْٓ إِنَاءٍ مِّنْ فِضَّۃٍ فَرَمَاہُ بِہٖ وَقَالَ إِنِّیْٓ أُخْبِرُکُمْ أَنِّیْ قَدْ أَمَرْتُہٗ أَنْ لاَّ یَسْقِیَنِیْ فِیْہِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لاَ تَشْرَبُوْا فِیْٓ إِنَآء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَلاَ تَلْبَسُوا الدِّیْبَاجَ وَالْحَرِیْرَ فَإِنَّہٗ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَہُوَ لَکُمْ فِی الآخِرَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )[ رواہ مسلم : کتاب اللباس والزینۃ، باب تَحْرِیمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ عَلَی الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ] ” حضرت عبداللہ بن عکیم (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ (رض) کے ساتھ مدائن میں تھے۔ حذیفہ (رض) نے پانی طلب کیا تو ایک کاشتکار چاندی کے برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا توا نہوں نے اسے پھینک دیا اور فرمانے لگے کہ میں تمہیں آگاہ کرتے ہوئے حکم دیتا ہوں کہ کوئی مجھے ایسے برتن میں مجھے نہ پلائے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو۔ زیور اور ریشمی لباس نہ پہنو (مرد) یقیناً یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔ “ مسائل ١۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ ٢۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے پینے کا برتن بھائی کی بوری میں رکھوا دیا۔ ٣۔ پختہ شک کی بنیاد پر چوری کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔ ٤۔ گمشدہ چیز کے لیے انعام مقرر کیا جاسکتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

مناسب یہ ہے کہ ہم اس وصیت اور اس سفر کو اسی طرح لکھیں جس طرح قرآن کریم نے اسے لیا ہے۔ اب برادران یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اگلے منظر میں ہم یوں ملتے ہیں : آیت نمبر ٦٩ اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے حقیقی بھائی کی ملاقات جلدی سے کرا دی جاتی ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی تمہید کے بغیر بھائی کو اطلاع دے دیتے ہیں کہ میں تمہارا بھائی یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ مشورہ بھی ان کو دیتے ہیں کہ دوسرے بھائیوں نے ان کے ساتھ اس سے قبل جو سلوک کیا اس کو بھول جائیں۔ ماضی کی پریشان کن یادیں بہرحال کسی شخص کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور وہ چونکہ کنعان میں اسی خاندان میں رہتے تھے جن میں یہ واقعات رونما ہوئے تھے تو لازماً یہ ان کے لئے ہر وقت پریشان کن تھے اور تکلیف دہ تھے۔ سیاق کلام نے کیوں اس بات کو پہلے بیان کردیا ؟ حالانکہ قدرتی امر یہ ہے کہ برادران کے درمیان یہ مکالمہ عین اس وقت نہ ہوا ہوگا جب یہ وفد حضرت یوسف (علیہ السلام) حاکم مصر سے ملا ہوگا ، بلکہ یہ اس وقت ہوا ہوگا جب یوسف (علیہ السلام) اور ان کے جھوٹے بھائی تنہا ہوئے ہوں گے۔ ہاں جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ملے ہوں گے اور انہوں نے اس طویل جدائی کے بعد اپنے بھائی کو دیکھا ہوگا تو ان کے دل میں یہ خیال سب سے پہلے آگیا ہوگا کہ میں بھائی کو یہ اطلاع کردوں۔ یہ چونکہ پہلا خیال تھا اس لئے اس منظر میں اسے خیال یوسف (علیہ السلام) کی شکل میں دے دیا گیا اور یہ قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اور خوبصورت اسلوب بیان ہے اور اس سے لطف اندوز وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو کلام کی فنی باریکیوں کو جانتے ہیں۔ اس منظر میں بھی بعض واقعات کے بیان کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے کاٹ دیا جاتا ہے۔ مثلاً برادران یوسف (علیہ السلام) کی مہمانداری اور اس دوران ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ، اور برادران یوسف (علیہ السلام) کی روانگی کا منظر لے لیا جاتا ہے۔ اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اپنے ہاں روکنے کے لئے ایک خاص تدبیر کرتے ہیں تا کہ ان کے بھائیوں کو سبق دیا جائے بلکہ بہت سے سبق دئیے جائیں جو ان کے لئے ضروری تھے اور قیامت تک آنے والے لوگ بھی اس سے عبرت لیتے ہیں۔ چناچہ اس تدبیر کو ابدی کتاب کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

برادران یوسف کا مصر پہنچنا اور ان کا اپنے سگے بھائی کو یہ بتانا کہ رنج نہ کرنا میں تمہارا بھائی ہوں ‘ پھر اس کو روکنے کے لیے کجاوہ میں پیمانہ رکھ دینا ‘ یوسف (علیہ السلام) کے کارندوں کا چوری ہونے کا اعلان کرنا ‘ اور برادران یوسف کا یوں فیصلہ دینا کہ جس کے کجاوہ میں پیمانہ نکلے اسی کو رکھ لیا جائے یہ گیارہ بھائی جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جن میں بنیامین بھی تھے تو بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بنیامین کو پیش کردیا اور کہا کہ لیجئے آپ کی شرط کے مطابق ہم اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے آئے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بنیامین کو پیش کردیا اور کہا کہ لیجئے آپ کی شرط کے مطابق ہم اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے آئے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ہر دو آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں ٹھہرا یا دس آدمی پانچ کمروں میں ٹھہر گئے گیا رہواں بھائی بنیامین بچ گیا اس کو انہوں نے اپنے پاس ٹھہرا لیا ‘ اور بنیامین سے فرمایا کہ میں تمہارا حقیقی بھائی ہوں ‘ یہ لوگ اب تک جو عمل کرتے رہے ہیں جس سے تمہیں تکلیف پہنچی اس کے بارے میں رنجیدہ نہ ہونا۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس سے صرف نظر کرو اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا ہمیں اور تمہیں جمع فرما دیا۔ بھائیوں کو اکرام کے ساتھ ٹھہرایا ان کو سامان دیا لیکن چپکے سے پانی پینے کا ایک برتن جس سے غلہ ناپ کردیتے تھے اپنے بھائی کے کجاوہ میں رکھ دیا جو لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کارندے تھے غلہ ماپ کردیتے تھے انہوں نے دیکھا کہ وہ پیالہ غائب ہے جس سے غلہ ناپا جاتا ہے انہیں پتہ نہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں قافلہ والوں میں سے کسی کے سامان میں رکھ دیا ہے ان لوگوں کو حیرانی ہوئی اور باز پرس کا بھی ڈر ہوا لہٰذا ان میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو تم تو چور ہو ‘ یہ سنتے ہی برادران یوسف حیران رہ گئے انہیں اپنی جماعت کے کسی فرد کے بارے میں بھی چوری کرنے کا گمان نہ تھا لہٰذا وہ کہنے لگے کہ آپ لوگوں کی کیا چیز گم ہے جس کے بارے میں یہ اعلان ہو رہا ہے اور ہمیں مطعون اور متہم کیا جا رہا ہے ‘ ان لوگوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا ہے جس کے ذریعہ غلہ ناپ کردیا جاتا ہے اور جو شخص اس پیمانہ کو لے کر آئے ہم اسے ایک اونٹ بھر کر مزید غلہ دیں گے جو ہماری گمشدہ چیز کے لانے کا اکرامیہ ہوگا۔ جس شخص نے گمشدگی کا اعلان کیا تھا اس نے یہ بھی کہا کہ یہ جھوٹا وعدہ نہیں ہے جو بھی شخص یہ پیمانہ لے کر آئے گا اسے واقعی انعام دیا جائے گا اور میں اس کا ضامن اور ذمہ دار ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا کہ بھلا ہم اور چوری ؟ آپ لوگ خود ہی جانتے ہیں ہمارے طور طریق اور اعمال اور اخلاق کو دیکھ رہے ہیں کہ ہم زمین پر فساد کرنے کے لئے نہیں آئے ہم بھلا چوری کہاں کرسکتے ہیں ؟ نہ ہم پہلے سے چور ہیں اور نہ اب چوری کی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گزاروں نے کہا کہ اگر تفتیش اور تلاش کے بعد تم لوگ اپنی بات میں جھوٹے نکلے اور تمہارے پاس سے ہمارا گمشدہ پیمانہ برآمد ہوگیا تو بتاؤ اس کے چرانے والے کی کیا سزا ہوگی ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے بھی کجا وہ میں وہ پیمانہ آئے اسی کو اس کے بدلہ میں رکھ لیا جائے یعنی اسے غلام بنا لیا جائے اور ساتھ ہی (کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ) کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ ہمارے دین اور شریعت میں چور کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے (کہ چور کو غلام بنا کر رکھ لیا جائے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

60:۔ جب تمام بھائی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے بنیامین کو اپنے پاس ٹھہرایا اور اسے بتا دیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اس لیے بڑے بھائی تمہارے ساتھ جو ناروا سلوک کرتے تھے اب اس کا غم نہ کرنا۔ اس پر بنیامین نے کہا کہ اب مجھے ان کے ساتھ ہرگز نہ بھیجو اور مجھے اپنے پاس ہی رکھو۔ یہی سبب تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو اپنے پاس رکھنے کا حیلہ سوچا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

69 ۔ اور جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی دوبارہ بن یامین کو لے کر یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے بھائی بن یامین کو اپنے پاس ٹھہرایا اور اپنے پاس رکھا اور تنہائی میں اس سے کہا میں تیرا بھائی ہوں یہ علاقی بھائی جو کارروائیاں کرتے رہے ان پر غمگین اور اندو ہگین نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس بھائی کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آرزو سے بلایا تھا اوروں کو حسد ہوا اس سفر میں اس کو ہر بات پر جھڑکتے اور طعنے دیتے اب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تسلی کردی ۔ 12 ۔