Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News
Allah tells:
فَلَمَّا أَن جَاء الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا
...
Then, when the bearer of the good news arrived, he cast it (the shirt) over his face, and his vision returned.
Ibn Abbas and Ad-Dahhak said;
الْبَشِيرُ
(good news),
means information.
Mujahid and As-Suddi said that;
the bearer of good news was Yahudha, son of Yaqub.
As-Suddi added,
"He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him."
Ya`qub said to his children,
...
قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
He said: "Did I not say to you, `I know from Allah that which you know not'),
that I know that Allah will return Yusuf to me and that,
إِنِّي لاََجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile).
Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful
This is when Yusuf's brothers said to their father, with humble- ness,
قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِيِينَ
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا ۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے ، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہو جائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہو جائے ۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا ۔ اسی وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بےخبر ہو ۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا ، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے ۔
باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا ۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا ، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا ، یہ سحر کا وقت ہے ، پس تو مجھے بخش دے ، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے یہ آواز آ رہی ہے ۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا ۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی ۔ ابن جریر میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آ جائے ۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے ۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم ۔