Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 96

سورة يوسف

فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ ۚ ۙ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾

And when the bearer of good tidings arrived, he cast it over his face, and he returned [once again] seeing. He said, "Did I not tell you that I know from Allah that which you do not know?"

جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے منہ پر وہ کرتا ڈالا اسی وقت وہ پھر سے بینا ہوگئے کہا! کیا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News Allah tells: فَلَمَّا أَن جَاء الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا ... Then, when the bearer of the good news arrived, he cast it (the shirt) over his face, and his vision returned. Ibn Abbas and Ad-Dahhak said; الْبَشِيرُ (good news), means information. Mujahid and As-Suddi said that; the bearer of good news was Yahudha, son of Yaqub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya`qub said to his children, ... قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ He said: "Did I not say to you, `I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that, إِنِّي لاََجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ (I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile). Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful This is when Yusuf's brothers said to their father, with humble- ness, قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِيِينَ

کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا ۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے ، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہو جائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہو جائے ۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا ۔ اسی وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بےخبر ہو ۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا ، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے ۔ باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا ۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا ، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا ، یہ سحر کا وقت ہے ، پس تو مجھے بخش دے ، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے یہ آواز آ رہی ہے ۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا ۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی ۔ ابن جریر میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آ جائے ۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے ۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

96۔ 1 یعنی جب وہ خوشخبری دینے والا آگیا اور آکر وہ قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دی تو اس سے معجزانہ طور پر ان کی بینائی بحال ہوگئی۔ 96۔ 2 کیونکہ میرے پاس ایک ذریعہ علم وحی بھی ہے، جو تم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو حالات سے مشیت و مصلحت آگاہ کرتا رہتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٢] یعقوب کی بینائی کی واپسی :۔ یہ خوشخبری دینے والا ان کا بڑا بھائی یہودا تھا۔ یہودا ہی تھا جس نے سیدنا یوسف کو قتل کرنے سے بھائیوں کو روکا تھا اور کہا تھا کہ قتل کے بجائے اسے کسی گمنام کنویں میں ڈال دیا جائے نیز وہ یہودا ہی تھا جس نے کہا تھا کہ میں اب واپس جاکر کیسے اپنا منہ اپنے باپ کو دکھاؤں۔ لہذا میں اب یہاں مصر میں رہوں گا اور یہ یہودا ہی تھا جو قافلہ سے پہلے سیدنا یوسف کی قمیص لے کر اپنے باپ کے پاس پہنچ گیا اور انھیں یوسف اور بن یمین کے مل جانے کی خوشخبری سنائی۔ پھر قمیص آپ کے چہرہ پر ڈالی تو دفعتًا آپ کی بینائی لوٹ آئی، آنکھیں درست ہوگئیں اور سب کچھ نظر آنے لگا۔ پھر اسی نے بتایا کہ میرے باقی بھائی بھی پہنچ رہے ہیں نیز یہ کہ یوسف نے ہم سب کو اور ہمارے سارے خاندان کو اپنے پاس بلایا ہے اور اب ہم اسی غرض سے یہاں آئے ہیں۔ اس وقت سیدنا یعقوب نے سب گھر والوں سے کہا کہ اب تو تم اس حقیقت کو جان ہی گئے ہوگے کہ جو کچھ میں کہتا تھا درست تھا۔ اس لیے کہ میں وہ کچھ جانتا تھا جو تم جان ہی نہیں سکتے تھے اور وہ باتیں یہ تھیں کہ یوسف یقینا زندہ ہے اسی لئے آپ نے بیٹوں کو اس کی تلاش میں بھیجا تھا نیز یہ کہ اس سے ملاقات ضرور ہوگی اور اللہ ہم سب کو کسی وقت اکٹھا کردے گا، اور ان باتوں کا ماخذ علم وحی بھی ہوسکتا ہے جو صرف انبیاء کو عطا ہوتا ہے اور وہ خواب بھی جسے آپ اور سیدنا یوسف کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

” فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ “ اور ” فَلَمَّا جَاءَ الْبَشِیْرُ “ کے ترجمے کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے اسی مترجم قرآن کے عرض مترجم میں سے فائدہ (٨) خوش خبری لانے والے نے آتے ہی چہرے پر قمیص ڈالی اور یوسف (علیہ السلام) کے زندہ ہونے کی خوش خبری دی تو اسی وقت آنکھیں دوبارہ روشن ہوگئیں۔ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : یوسف (علیہ السلام) کی قمیص سے آنکھیں روشن ہونے اور ان کے زندہ ہونے کی خوش خبری آنے پر فرمایا کہ میں نے تمہیں کہا نہ تھا : (اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) یعنی مجھے وحی الٰہی سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو تم نہیں جانتے۔ مراد اپنے بچوں کو ملامت کرنا نہ تھا بلکہ تربیت کرنا تھا، تاکہ وہ نبوت کے مقام کو سمجھیں اور نبی کی بات کو محبت کے غلو پر یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابی عقل پر محمول نہ کریں، مثلاً یہ یقین کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور ملائے گا، یا یہ بات کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Said in verse 96 is: فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِير that is, ` when this man with the good news reached Canaan& and put the shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) over the face of his father, his eyesight returned and he became a sighted man. The man who came with the good news was Yahuda, the same brother of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) who had brought his shirt from Egypt. The last sentence of the verse is: قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (He [ Ya` qub ] said, &Did I not tell you that I know from Allah what you do not know?& - 96) - that Yusuf is alive and we shall meet again.

(آیت) فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ یعنی جب یہ بشارت دینے والا کنعان پہنچا اور قمیص یوسف (علیہ السلام) کو یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا تو فورا ان کی بنیائی عود کر آئی بشارت دینے والا وہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائی یہودا تھا جو ان کا کرتہ مصر سے لایا تھا، قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی کیا میں نہ کہہ رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ علم حاصل ہے جس کی آپ لوگوں کو خبر نہیں کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور وہ پھر ملیں گے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ بشیر ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] والبشیر : المُبَشِّر، قال تعالی: فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96] ( ب ش ر ) البشر اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ البشیر خوشخبری دینے والا ۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ رد والارْتِدَادُ والرِّدَّةُ : الرّجوع في الطّريق الذي جاء منه، لکن الرّدّة تختصّ بالکفر، والارتداد يستعمل فيه وفي غيره، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلى أَدْبارِهِمْ [ محمد/ 25] وقوله عزّ وجلّ : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96] ، أي : عاد إليه البصر، ( رد د ) الرد ( ن ) الارتدادؤالردۃ اس راستہ پر پلٹنے کو کہتے ہیں جس سے کوئی آیا ہو ۔ لیکن ردۃ کا لفظ کفر کی طرف لوٹنے کے ساتھ مختض ہوچکا ہے اور ارتداد عام ہے جو حالت کفر اور دونوں کی طرف لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلى أَدْبارِهِمْ [ محمد/ 25] بیشک جو لوگ اپنی پشتوں پر لوٹ گئے ( اس کے ) بعد کہ ان کے سامنے ہدایت واضح ہوگئی ۔ فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96] پھر جب ( یوسف (علیہ السلام) کے زندہ و سلامت ہونے ) خوشخبری دینے والا ( یعقوب (علیہ السلام) کے پاس ) آپہنچا تو اس نے آنے کے ساتھ ہی یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ ) یعقوب (علیہ السلام) ) کے چہرہ پر ڈال دیا تو وہ فورا بینا ہوگئے ۔ یعنی ان کی بینائی ان کی طرف لوٹ آئی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٦۔ ٩٧) چناچہ جب یہودا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص لے کر انکی سلامتی کی خوشخبری لے کر آیا آپہنچا تو اس نے وہ کرتہ ان کے پر پر لا کر ڈال دیا، فورا ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں تو آپ نے اپنے بیٹوں اور پوتوں سے فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے وہ یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں۔ مرے نہیں تو ان کے بیٹوں اور پوتوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے ہم بیشک گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٦ (فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا) یوسف کی قمیص چہرے پر ڈالتے ہی حضرت یعقوب کی بصارت لوٹ آئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت یعقوب کے سامنے زندگی کا سب سے اندوہناک غم بھی حضرت یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں سامنے آیا تھا جب برادران یوسف نے اس پر خون لگا کر ان کے سامنے پیش کردیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں نمودار ہوگئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

60: ’’خوشخبری دینے والے‘‘ حضرت یوسف علیہ السلام کے سب سے بڑے بھائی تھے جن کا نام بعض روایات میں یہوداہ اور بعض میں روبن آیا ہے۔ اور خوشخبری دینے سے مراد یہ خوشخبری ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ابھی زندہ ہیں، اور انہوں نے سب گھر والوں کو اپنے پاس بلایا ہے۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص چہرے پر ڈالنے سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آگئی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص سے کئی اہم واقعات ظاہر ہوئے۔ اِنہی کی قمیص کو ان کے بھائی خون لگا کر لائے تھے، اور اس کو صحیح سالم دیکھ کر حضرت یعقوب علیہ السلام یہ سمجھ گئے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیئے نے نہیں کھایا، اور انہی کی قمیص تھی جو زلیخا نے پیچھے سے پھاڑا اور اس سے ان کی بے گناہی ثابت ہوئی، اور اب یہی قمیص تھی جس کی خوشبو حضرت یعقوب علیہ السلام کو دُور سے محسوس ہوئی، بالآخر اسی سے ان کی بینائی واپس آئی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٦۔ ٩٨۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی تھے جن کا نام یہودا تھا پہلے بھی یہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خون کا بھرا ہوا کرتہ لائے تھے اور اب بھی یہی کرتہ لے کر آئے تاکہ پہلی بدنامی کا دھبہ جاتا رہے الغرض جس وقت یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لایا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ مبارک پر ڈالا آپ کی آنکھوں میں روشنی آگئی اور صحیح و تندرست ہوگئے اور بشیر سے پوچھا تو نے یوسف (علیہ السلام) کو کس دین پر چھوڑا ہے کہا اسلام پر آپ نے بہت خوشی ظاہر کی اور خدا کی نعمت کا شکر ادا کیا اور فرمایا الان تمت النعمتہ اور پاس والوں اور بیٹیوں سے فرمایا کہ کہو میں نہ کہتا تھا کہ میں یوسف (علیہ السلام) کی بو پارہا ہوں اور تم مجھے دیوانہ سمجھ رہے تھے مجھے تو خدا کی طرف سے ان ان باتوں کا علم ہے جو تمہیں نہیں معلوم ہیں تمہاری عقل وہاں تک نہیں پہنچ سکتی میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا ظاہر ضرور ہوگا پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے باپ سے معذرت کی اور اپنی خطا کا اقرار کیا کہ بیشک ہم قصور وار ہیں ہم سے آپ کی جناب میں بہت ہی بڑا قصور ہوا آپ ہمیں معاف فرمائیں اور درگاہ الٰہی میں ہمارے واسطے مغفرت کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا کہ عنقریب ہم تمہارے لئے دعائے مفغرت کریں گے۔ آپ صبح کے وقت اٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے اور دعائے صبح زیادہ تر مقبول ہوتی ہے کیونکہ یہ وقت زیادہ مقبولیت کا ہے چناچہ صحیح بخاری مسلم ترمذی وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں اس وقت کے مقبول ہونے کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ پچھلی رات کو ہر رات اللہ تعالیٰ اور آسمان پر نزول فرما کر ہر دعا کرنے والے شخص کی دعا کے قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے ١ ؎ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گنہگاروں کے گناہ معاف کرنے کی صفت اللہ تعالیٰ کو یہاں تک پیاری ہے کہ اگر حال کے موجودہ لوگ گناہ نہ کریں تو ان کی جگہ اللہ تعالیٰ گناہ کرنے والے اور لوگ پیدا کرے اور خالص دل سے توبہ کرنے پر ان کے گناہ معاف فرما وے ٢ ؎ یہ حدیث انہ ھو الغفور الرحیم کی گویا تفسیر ہے۔ ١ ؎ الترغیب ص۔ ٣٠٠ ج ١ الترغیب فی الدعاء فیے السجود الخ۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ٢٠٣ باب الاستغفار۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12: 96) فلما ان جاء البشیر۔ فلما ان میں ان زائدہ ہے اور لما کی تاکید کیلئے استعمال ہوا ہے۔ جب خوشخبری دینے والا آن پہنچا القہ۔ میں ہُ ضمیرواحد مذکر غائب قمیص کے لئے ہے۔ اس نے اس کو ڈالا۔ اس نے قمیص کو (حضرت یعقوب کے چہرہ پر) ڈالا۔ ارتد۔ ارتداد (افتعال) سے جس کے معنی ہیں اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹنا۔ مرتد وہ شخص جو کفر سے اسلام میں داخل ہوکر واپس کفر کی طرف لوٹ جائے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 ۔ مفسرین (رح) کا بیان ہے کہ جب قافلہ کنعان کے قریب پہنچا، تو سب سے بڑے بھائی یہودا نے کہا ” میں ہی ابا جان کے پاس یوسف ( علیہ السلام) کا خون سے بھرا ہوا کرتا لے کر گیا تھا۔ لہٰذا آج تم مجھی کو یہ کرتا لے کر آگے جانے دو ، تاکہ انہیں اسی طرح خوش کروں جس طرح اس دن رنجیدہ کیا تھا۔ (فتح القدیر) موضح میں ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے کرتا بھیجا اپنے غلام کے ہاتھ اس نے آکر کرتا منہ پر ڈالا اور خوشخبیر دی اس وقت آنکھیں کھل گئیں۔ 11 ۔ مثلاً یہ کہ یوسف ( علیہ السلام) زندہ ہے اور اللہ تعالیٰ اسے جرور واپس لائے گا، یا یہ کہ مجھے یوسف ( علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔ آیت نمبر ٩٦ تا ٩٧ یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف ہونے دو اور ذرا سکون کا سانس لے لینے دو ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

80:۔ ” اَلْبَشِیْرُ “ خوشخبری دینے والا۔ مراد یہودا ہے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص انہی کے پاس تھی۔ اس نے کہا تھا یوسف کی خون آلود قمیص بھی میں ہی لے کر والد کے پا گیا تھا لہذا آج بشارت کی قمیص بھی میں ہی لے کر جاؤں گا تاکہ پہلی غلطی کی تلافی ہوجائے۔ قال یہودا انا احمل قمیص الشفاء کما ذھبت بقمیص الجفاء (مدارک ج 2 ص 182) ۔ جب قمیص آپ کے چہرہ مبارک پر ڈالی گئی تو آپ کی بینائی بحال ہوگئی اور آپ نے فرمایا دیکھا تم نے میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تمہیں حاصل نہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خوشخبری لانے سے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ تو نے یوسف کو کس دین پر چھوڑا ؟ اس نے جواب دیا اسلام پر، فرمایا اب اللہ کی رحمت تام ہوگئی۔ عن سفیان لما جاء البشیر الی یعقوب قال لہ علی ای دین ترکت یوسف ؟ قال علی الاسلام، قال الان تمت النعمۃ (قرطبی ج 9 ص 261) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

96 ۔ پھر جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب سے بشارت دینے والا آپہنچا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ یعقوب (علیہ السلام) کے منہ پر ڈالا تو اسی وقت بینا ہوگیا اور اس کی آنکھیں روشن ہوگئیں اور اس نے اس وقت بیٹوں سے کہا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی طرف سے جو باتیں میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ یعنی اگر بالکل نابینا ہوگئے تھے تو بینائی واپس آگئی اور اگر بینائی کمزور ہوگئی تھی تو بینائی درست ہوگئی اور آنکھیں روشن ہوتے ہی بیٹوں سے فرمایا میں نے تلاش کرنے کا حکم اسی لئے دیا کہ جو کچھ مجھے خدا کی طرف سے معلوم تھا اس سے تم واقف نہ تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کرتہ، سواری اور خرچ بھیجا اپنے غلام کے ہاتھ اس نے آ کر کرتہ منہ پر ڈالا اور خوشخبری دی اسی وقت آنکھیں کھل گئیں۔