Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 15

سورة الرعد

وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ ظِلٰلُہُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ ﴿ٛ۱۵﴾

And to Allah prostrates whoever is within the heavens and the earth, willingly or by compulsion, and their shadows [as well] in the mornings and the afternoons.

اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح شام ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Everything prostrates unto Allah Allah tells: وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا ... And unto Allah falls in prostration whoever is in the heavens and the earth, willingly or unwillingly, Allah affirms His might and power, for He has full control over everything, and everything is subservient to Him. Therefore, everything, including the believers, prostrate to Allah willingly, while the disbelievers do so unwillingly, ... وَظِللُهُم بِالْغُدُوِّ ... and so do their shadows in the mornings, in the beginning of the days, ... وَالاصَالِ and in the afternoons. towards the end of the days. Allah said in another Ayah, أَوَ لَمْيَرَوْاْ إِلَىخَلَقَ اللَّهُ مِن شَىْءٍ يَتَفَيَّأُ Have they not observed things that Allah has created: (how) their shadows incline. (16:48)

عظمت وسطوت الہٰی اللہ تعالیٰ اپنی عظمت وسلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے ۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے ۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے ۔ اصال جمع ہے اصیل کی ۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے ۔ فرمان ہے آیت ( اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48؀ ) 16- النحل:48 ) یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت کا بیان ہے کہ ہر چیز پر اس کا غلبہ ہے اور ہر چیز اس کے ما تحت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے، چاہے مومنوں کی طرح خوشی سے کریں یا مشرکوں کی طرح ناخوشی سے۔ اور ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ ) 16 ۔ النحل :48) سورة النحل کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے ان کے سائے داہنے اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں اور وہ عاجزی کرتے ہیں اس سجدے کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے یا دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ کافر سمیت تمام مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے کسی میں اسی سے سرتابی کی مجال نہیں اللہ تعالیٰ کسی کو صحت دے بیمار کرے غنی کر دے یا فقیر بنا دے زندگی دے یا موت سے ہمکنار کرے ان تکوینی احکام میں کسی کافر کو بھی مجال انکار نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] کائنات کی چیزوں کا اللہ کو سجدہ کرنے کے مطلب :۔ یعنی کائنات کی ہر چیز ان طبعی قوانین کی پابند اور ان کے آگے بےبس اور مجبور ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بنا دیئے ہیں۔ مثلاً پانی کے لیے یہ قانون ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہے اور یہ ناممکن ہے کہ پانی اس قانون کے خلاف بلندی کی طرف بہنا شروع کردے۔ اسی طرح پانی کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنی سطح ہموار نہ رکھے۔ بس یہی چیز اس کا اللہ کے حضور سجدہ ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ حتیٰ کہ ان قوانین کا انسان بھی پابند اور ان کے آگے مجبور اور بےبس ہے۔ مثلاً اگر وہ چاہے کہ کھانے پینے کے بغیر زندہ رہے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا، یا اگر وہ چاہے کہ موت کو اپنے آپ سے روک دے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا اس کا اختیار صرف ان باتوں میں ہے جن میں اسے قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے اور انہی میں اس کا امتحان ہے۔ [٢٣] یعنی سایوں کے لیے جو قانون مقرر ہے وہ اس کے پابند ہیں اور وہ یہ ہے کہ روشنی ہمیشہ صراط مستقیم میں سفر کرتی ہے اور صبح و شام کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ان اوقات میں سائے بہت زیادہ لمبے اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور سایوں کے گھٹنے بڑھنے میں تدریج اسی نسبت سے ہوتی ہے۔ جس نسبت سے سورج کسی جانب سفر کرتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔۔ : سجدے کا معنی ہے جسم کے سب سے اونچے اور باعزت حصے کو کسی کے سامنے نیچے سے نیچا لے جا کر اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا۔ تو کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح اپنی عاجزی اور بےبسی کا اظہار کر رہی ہے۔ اس میں مسلمان اور کافر کا کوئی فرق نہیں، ہاں انسان کو تھوڑا سا اختیار جنت یا جہنم کے راستے پر چلنے کا دیا ہے، اس کے علاوہ اللہ کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی ہر طرح سجدہ ریز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار کے مقابلے میں اپنے آپ پر اس کا اختیار ایک فی صد کیا ایک فی ہزار بھی نہیں، اگر کسی کو شک ہے تو ذرا اپنا سانس روک کر دکھائے، بھوک پیاس روک لے، پیشاب یا پاخانہ روک لے، بیماری آئے تو ڈٹ جائے کہ میں بیمار نہیں ہوتا، بڑھاپے کو آنے سے اور بالوں کو سفید ہونے سے روک دے، حرکت قلب بند ہوجائے تو اسے چلا کر دکھائے، گردے فیل ہوجائیں تو چالو کرکے دکھائے، ایک ٹانگ اٹھا سکتا ہے دوسری بھی اٹھا کر دکھائے، موت کے فرشتے کے سامنے اکڑ جائے، غرض ہر عاقل و غیر عاقل اور ان کے سائے خوشی و ناخوشی سے اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ پھر ایسے بےبس سے فریاد کرنا، کسی کو داتا، کسی کو دستگیر، کسی کو غریب نواز، کسی کو مشکل کشا کہنا کتنی بڑی حماقت ہے۔ یہاں سورة حج کی آیت (١٨) کا ترجمہ و تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔ وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ : یعنی ان کے سایوں کا گھٹنا اور بڑھنا بھی اسی کے ارادہ و مشیت سے ہے۔ پہلے اور پچھلے پہر کا ذکر اس لیے کیا کہ ان وقتوں میں زمین پر ہر چیز کا سایہ نمایاں ہوتا ہے اور عبادت کے لحاظ سے یہ دونوں عمدہ وقت ہیں۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اور پرچھائیاں صبح و شام کے وقت زمین پر پسر (پھیل) جاتی ہیں، یہی ان کا سجدہ ہے۔ “ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ 15۝۞ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ غدا الْغُدْوَةُ والغَدَاةُ من أول النهار، وقوبل في القرآن الغُدُوُّ بالآصال، نحو قوله : بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] ، وقوبل الغَدَاةُ بالعشيّ ، قال : بِالْغَداةِ وَالْعَشِيِ [ الأنعام/ 52] ، غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] ( غ د و ) الغدوۃ والغراۃ کے معنی دن کا ابتدائی حصہ کے ہیں قرآن میں غدو ( غدوۃ کی جمع ) کے مقابلہ میں اصال استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : ۔ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] صبح وشام ( یا د کرتے رہو ) ( غدو ( مصدر ) رواح کے مقابلہ میں ) جیسے فرمایا : ۔ غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] اس کا صبح کا جانا ایک مہینہ کی راہ ہوتی ہے اور شام کا جانا بھی ایک مہینے کی ۔ أصل بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] أي : العشایا، يقال للعشية : أَصِيل وأَصِيلَة، فجمع الأصيل أُصُل وآصَال، وجمع الأصيلة : أَصَائِل، وقال تعالی: بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفتح/ 9] . ( ا ص ل ) اصل الشئی ( جڑ ) کسی چیز کی اس بنیاد کو کہتے ہیں کہ اگر اس کا ارتفاع فرض کیا جائے تو اس شئے کا باقی حصہ بھی معلوم ہوجائے قرآن میں ہے : { أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاء } [إبراهيم : 24] (14 ۔ 25) اس کی جڑ زمین میں ) پختگی سے جمی ہے اور شاخیں آسمان میں ۔ اور تاصل کذا کے معنی کسی چیز کے جڑ پکڑنا ہیں اس سے اصل اور خاندانی بزرگی مجد اصیل کہا جاتا ہے ۔ محاورہ ہے ۔ فلان لااصل لہ ولا فصل یعنی نیست اور احسب ونہ زبان ۔ الاصیل والاصیلۃ کے معنی ( عشیۃ ) عصر اور مغرب کے درمیانی وقت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ { وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا } [ الأحزاب : 42] اور صبح و شام کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ اصیل کی جمع اصل واٰصال اور اصیلۃ کی جمع اصائل ہے قرآن میں ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥) اور اللہ ہی کے سامنے سب سرجھکائے ہوئے ہیں کہ اس کی عبادت اور نماز میں مصروف ہیں جو کہ آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں مومن لوگ ہیں، آسمان والے خوشی سے جھکائے ہوئے ہیں، کیوں کہ انکو عبادت میں ناگواری نہیں ہوتی، اور زمین والے مجبورا جھکائے ہوئے ہیں کیوں کہ ان کو عبادت میں ناگواری ہوتی ہے یا یہ کہ مخلصین خوشی سے اور منافقین مجبوری سے جھکائے ہوئے ہیں اور اہل زمین سے جو لوگ سرجھکائے ہوئے ہیں، ان کے سائے بھی صبح وشام سرخم کیے ہوئے ہیں کہ صبح کو دائیں جانب اور شام کو بائیں جانب۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥ (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ) صبح کے وقت جب سورج نکلتا ہے اور سائے زمین پر لمبے ہو کر پڑے ہوتے ہیں وہ اس حالت میں اللہ کو سجدہ کر رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح شام کو غروب آفتاب کے وقت بھی یہ سائے حالت سجدہ میں ہوتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24. “And to Allah falls in prostration whoever is in the heavens and the earth” in the same sense that every creation of His has to obey and submit to His Physical law in every detail. The only difference between the submission of a believer and an unbeliever is that the former submits to it with a willing heart while the latter is forced to do so against his will, for it is absolutely beyond his power to oppose it. 25. “Their shadows” in the sense that they fall to the west in the morning and to the cast in the evening and so on. This shows that they, too, have to submit to some law.

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :24 سجدے سے مراد اطاعت میں جھکنا ، حکم بجا لانا اور سرتسلیم خم کرنا ہے ۔ زمین و آسمان کی ہر مخلوق اس معنی میں اللہ کو سجدہ کر رہی ہے کہ وہ اس کے قانون کی مطیع ہے اور اس کی مشیت سے بال برابر بھی سرتابی نہیں کر سکتی ۔ مومن اس کے آگے برضا و رغبت جھکتا ہے تو کافر کو مجبورا جھکنا پڑتا ہے ، کیونکہ خدا کے قانون فطرت سے ہٹنا اس کی مقدرت سے باہر ہے ۔ سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :25 سایوں کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اشیاء کے سایوں کا صبح و شام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ سب چیزیں کسی کے امر کی مطیع اور کسی کے قانون سے مسخر ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: سجدہ کرنے سے یہاں مراد اﷲ تعالیٰ کے احکام کے آگے جھک جانا ہے۔ مومن خوشی خوشی ان اَحکام کے آگے جھکتا ہے، اور اﷲ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی رہتا ہے، اور کافر اﷲ تعالیٰ کے تکوینی فیصلوں کے آگے مجبور ہے، اس لئے وہ چاہے یا نہ چاہے، اﷲ تعالیٰ کائنات میں جو فیصلے فرماتا ہے، مجبوراً اُن کے آگے سرجھکانے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ واضح رہے کہ یہ سجدے کی آیت ہے۔ اس کی تلاوت یا سننے سے سجدہ واجب ہوتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٥۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی خبر دیتا ہے کہ زمین و آسمان کے سارے جن انسان فرشتے سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوتے ہی جب آفتاب پورب سے پچھم کو جانے لگتا ہے اور شام کو جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو سب چیزوں کے سائے خدا کے سجدہ میں گرتے ہیں طوعا و کرہا کا مطلب مفسروں نے یہ بیان کیا کہ ہر ایمان دار شخص صحت کی حالت میں خوشی خوشی اس کی عبادت کرتا ہے اور بیماری اور تکلیف کے وقت کسی قدر تکلیف برداشت کر کے عبادت کو کھڑا ہوتا ہے بعضے مفسروں نے سجدہ کے معنے فرمانبرداری کے لئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک امر میں ہر شحص کافر ہو یا مومن خدا ہی کے حکم کا تابع ہے جیسے صحت مرض موت حیات فقیر ہونا تونگر ہونا تو جو لوگ مومن ہیں وہ خدا کے حکم کے ہر حال میں بخوشی مطیع ہیں اور کفار بھی ان سب باتوں میں خدا ہی کے تابع ہیں مگر ان کا تابع ہونا نا خوشی کے ساتھ ہے کیوں کہ ان کو چارہ کب ہے کہ خدا کے حکم کی نافرمانی کریں وہ جب چاہتا ہے ان کو بیمار ڈال دیتا ہے جب چاہتا ہے تندرست کردیتا ہے وہی جس کو چاہتا ہے مال و دولت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فقیر بنا دیتا ہے۔ بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ مومن اور ان کے سائے ہر حال میں خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور کفار خود تو بتوں کو سجدہ نہیں کرتے ہیں مگر ان کے سائے خدا کو سجدہ کرتے ہیں بعضے مفسروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس آیت کو کفار سے کوئی علاقہ نہیں مسلمانوں اور منافقوں کی شان میں یہ آیت اتری ہے مومن تو اپنی خوشی سے سجدہ کرتے ہیں اور جو منافق ہیں وہ تلوار کے خوف سے سجدہ کرتے ہیں اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے دونوں کو سجدہ کرنا چاہیے یہاں سجدہ مسنون ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جنات اور انسان پرہیزگار بن جاویں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جاوے گا اسی طرح یہ سب اگر اللہ کی عبادت چھوڑ دیویں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کچھ گھٹ نہ جاوے ١ ؎ گا۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں جو دخل ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ان مشرکوں کو خاص عبادت الٰہی کی جو ہدایت کی جاتی ہے وہ ان ہی کی بہتری اور ان ہی کو شیطان کے دھوکے سے بچانے کے لئے ہے ورنہ اللہ کی شان تو وہ ہے کہ تمام دنیا کے جنات اور انسان ان جیسے ہوجاویں جب بھی اس کو کچھ پروا نہیں۔ ١ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٢٠٠۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13:15) طوعا۔ فرمانبرداری۔ مصدر ہے یہ کرہ کی ضد ہے۔ الطوع کے معنی ہیں بطیب خاطر تابعدار ہوجانا۔ کرھا۔ مصدر۔ اسم مصدر ۔ ناگوار ہونا۔ ناخوشی ۔ مجبوری۔ زبردستی ۔ خوف کے جذبہ کے تحت ناگواری اور دل کی کراہت سے کسی کام کو سر انجام دینا۔ وظللھم معطوف ہے من پر ای یسجد ظللھم اور ان کے سائے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ بالغدو۔ الغدوۃ والغداۃ کے معنی دن کے ابتدائی حصہ کے ہیں۔ اس آیہ میں غدو۔ (غدوۃ کی جمع) اصال کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے جس کے معنی عصر اور مغرب کا وقت جسے عرف عام میں شام کہتے ہیں۔ اور اصال اور اصل جمع اصیل کی۔ بالغدو والاصال۔ صبح اور شام کے وقت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ مومن خوشی سے اور کافر و منافق زور سے یعنی مجبوراً ۔ 9 ۔ یعنی ان کے سایوں کو گھٹنا بڑھنا بھی اسی کے ارادہ اور مشیت سے ہے۔ صبح و شامل کا ذکر اس لئے کیا ان وقتوں میں زمین پر ہر چیز کا سایہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور عبادت کے لحاظ سے یہ دونوں عمدہ وقت ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : صبح اور شام کے وقت پر چھائیں زمین پر پسر جاتی ہیں یہی ان کا سجدہ ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ خوشی سے یہ کہ باختیار خود عبادت کرتے ہیں اور مجبوری کے یہ معنی ہیں کہ اللہ جس مخلوق میں جو تصرف کرنا چاہتے ہیں وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے مشرک کے شرک کی بےحیثیتی بیان کی گئی اور اب کافر کے کفر کو بےحیثیت قرار دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کا انکار کرنے والا شخص اس قدر نافرمان اور باغی طبیعت کا ہوتا ہے۔ کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کے مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی بات کو یہاں سمجھایا گیا ہے کہ اللہ وہ ذات کبریا ہے۔ جس کے سامنے زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً ، کرھاً سجدہ ریز ہوتی ہے یہاں تک کہ ان کے سائے بھی صبح وشام اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔ سجدہ سے مراد حقیقی سجدہ بھی ہوسکتا ہے جو ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے مقرر کردہ اصول کے مطابق اپنے اپنے مقام پر سجدہ کر رہی ہے جسے انسان کے لیے دیکھنا اور سمجھنا مشکل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زمین و آسماں کی ہر چیز اس کی حمد وثنا کرتی ہے مگر انسان ان کی حمد کو نہیں سمجھ سکتے۔ (بنی اسرائیل : ٤٤) یہاں سجدہ سے مراد اکثر مفسرین نے جھکنا اور تابعداری لی ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک ہر چیز کے سایہ کا سجدہ کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا سایہ صبح کے وقت مغرب کی جانب اور مغرب کے وقت مشرق کی جانب اوپر سے نیچے کی طرف آتا اور زمین پر پھیلتا ہے۔ جو درحقیقت اپنے رب کے حضور سجدہ کرنا ہے۔ ہر چیز کے سجدہ کے بارے میں طوعًا، کرھًا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔” طوعًا “ کا معنی ہے خوشی اور رغبت کے ساتھ جھکنا اور سجدہ کرنا۔ کافر کے سوا کائنات کی ہر چیز دل کی اتھاہ گہرائیوں اور اپنی فطرت کے مطابق اپنے خالق ومالک کو سجدہ کرنے کے ساتھ اس کی اطاعت میں لگی ہوئی ہے۔ صرف انسان ہی اس قدر باغی اور سرکش ہوجاتا ہے جو اپنے رب کی فرمانبرداری اور اس کے سامنے سجدہ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ کر بھی اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں مانتا اور اس کے حضور پانچ وقت نماز ادا نہیں کرتا تو اس کے بارے میں اہل علم متفق ہیں کہ ایسے شخص کا رویہ کفر کرنے کے متراوف سمجھا جائے گا۔ لیکن کافر کفر کرنے کے باوجود پوری زندگی بیشمار کاموں میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنے پر مجبور رہتا ہے۔ جس میں مرنا، جینا، سونا، جاگنا، بیماری اور مشکل میں مبتلا ہونا۔ یہاں تک کہ صحت، زندگی اور رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے بےبس ہے۔ اس طرح مجبوراً کافر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر مجبور ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ” کرھًا “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَوَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَآ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہٗ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا اس کو اجازت نہ ملے بلکہ اسے حکم ہو جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “ انسان کو ” اللہ “ کی عبادت کا حکم : ” اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ “ (البقرۃ : ٢١) ” نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ “ (٤٣) ” اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔ “ (الحجر : ٩٩) مسائل ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔ ٢۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز تسبیح کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے : ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الر عد : ١٥) ٢۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (الخل : ٤٩) ٣۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (الحج : ١٨) ٤۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن انسان اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ (بنی اسرائیل : ٤٤) ٥۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یَسْجُدُ کا معنی : بعض حضرات نے یَسْجُدُ کا معروف معنی لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو فرشتے ہیں اور مومنین ہیں یہ سب اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں فرشتے اور مومنین جنات اور انسان تو خوشی سے سجدہ کرتے ہیں اور جو لوگ منکرین ہیں اور منافقین ہیں وہ بھی تلوار کے ڈر سے یا ماحول کے دباؤ سے سجدہ کرتے ہیں اس کو مجبوری کے سجدہ سے تعبیر فرمایا وَظِلٰلُھُمْ ان کے سائے بھی سجدہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں جس طرح چاہتا ہے وہ اس کو گھٹاتا اور بڑھاتا ہے ‘ صبح وشام کے وقت ان کے گھٹنے اور بڑھنے کا مظاہرہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے ان وقتوں کی تخصیص کی گئی۔ بعض حضرات نے علیٰ سبیل عموم المجاز اس کا معنی لیا ہے کہ سجدہ کرنے والے جب سجدہ کرتے ہیں تو دھوپ یا روشنی میں ان کا سایہ بھی ان کے تابع ہو کر سجدہ کرتا ہے یعنی سائے کی پشت دیکھنے میں آجاتی ہے ‘ بعض حضرات نے فرمایا کہ خوشی کا سجدہ ان لوگوں کا ہے جن پر سجدہ کرنا شاق نہیں گزرتا اور زبردستی کا سجدہ ان لوگوں کا ہے جو سجدہ تو کرتے ہیں لیکن سجدہ کرنا ان کی طبیعتوں پر شاق گزرتا ہے۔ اور بعض حضرات نے یَسْجُدُ کا معنی یخضع اور ینقاد کا لیا ہے ان حضرات کے نزدیک آیت کا معنی یہ ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو مخلوق ہے وہ سب اللہ کے لیے سرخم کئے ہوئے ہے۔ یعنی اللہ کی مشیت اور ارادے کے مطابق چلتے ہیں ان میں ایسے بھی ہیں جو با اختیار خود اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو مجبور ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تکوینی طور پر تو سبھی اس کی قضاء اور قدر کے تابع ہیں ‘ اور ان چیزوں کے جو سائے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں صبح و شام جو بھی سایہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے موافق ہی چلتا ہے اور گھٹتا بڑھتا ہے۔ اس کو سورة فرقان میں یوں بیان فرمایا (اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا) ۔ (کیا تو نے نہیں دیکھا تیرے رب نے سایہ کو کیونکر پھیلایا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا پھر ہم نے آفتاب کو اس پر علامت مقرر کیا پھر ہم نے اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا) ۔ (طَوْعًا وَّکَرْھًا) کے بارے میں سورة آل عمران کی آیت (اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا) کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے ‘ پھر فرمایا (قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) (الایۃ) یعنی آپ مشرکین سے سوال کیجئے کہ بتاؤ آسمانوں کا اور زمین کا رب کون ہے پھر آپ خود ہی جواب دے دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے وہ جہل یا عناد کی وجہ سے جواب نہ دے سکیں تو آپ انہیں بتادیں اور سمجھا دیں ‘ اس کے بعد فرمایا کہ آپ زجرو توبیخ اور سر زنش کے طور پر ان سے سوال فرمائیں کہ یہ جو تم نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے اولیاء بنا رکھے ہیں اور یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہماری مدد کرنے والے ہیں یہ تو اپنی جانوں تک کے لیے کسی بھی نفع اور ضرر کے مالک نہیں ہیں نہ کوئی نفع اپنی طرف لاسکتے ہیں اور نہ اپنے سے کوئی ضرر رفع کرسکتے ہیں جبکہ ان کا اپنی جان کے بارے میں یہ حال ہے جسے تم جانتے ہو تو تمہیں کیا نفع دے سکتے ہیں اور تم سے کیا کسی ضرر کو رفع کرسکتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ (رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ جن کو تم نے اولیاء بنایا ہے عاجز محض ہیں پھر بھی تم نے ان کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے تف ہے اس سفاہت اور ضلالت پر۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے جو پہلے دعوے سے متعلق فرشتے اور جن و انس سب اللہ تعالیٰ ہی کے آگے جھکتے ہیں اور سب اسی کو سجدہ کرتے ہیں فرشتے اور مومنین رضا مندی اور رغبت سے اور کفار و مشرکین مجبورًا جب مصائب و شدائد میں گھر جائیں ” طوعا یعنی الملائکۃ والمومنین وکرھا یعنی المنافقین والکافرین فی حال اشدۃ والضیق “ (مدارک ج 2 ص 189) اور ان کے سائے بھی صبح و شام اسی کے سامنے سر بسجود ہوتے ہیں۔ جب ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد رہے اور سب اسی کے زیر تصرف و اقتدار ہیں تو معلوم ہوا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کا کارساز بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15 ۔ اور جو مخلوق بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب خوشی سے یا نا خوشی سے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے اپنا سر خم کئے ہوئے ہیں اور صبح و شام کے اوقات میں ان چیزوں کے سائے بھی سر خم کئے ہوئے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر چلتا ہے اور سب اس کے مطیع و منقاد ہیں کچھ وہ ہیں جو اپنی خوشی سے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اس کے زیر تصرف ہیں اور اس کے حکم کے اثر و نفاذ کو اپنے پر سے ہٹا نہیں سکتے یہی مطلب ہے سجدے کا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اللہ پر یقین لایاخوشی سے سررکھتا ہے اس کے حکم پر اور جو نہ یقین لایا آخر اس پر بھی اسی کا حکم جاری ہے اور پر چھائیاں صبح و شام زمین پر پسر جاتی ہیں یہی ہے ان کا سجدہ ۔ 12