Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 23

سورة الرعد

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ۲۳﴾

Gardens of perpetual residence; they will enter them with whoever were righteous among their fathers, their spouses and their descendants. And the angels will enter upon them from every gate, [saying],

ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اولادوں میں سے بھی جو نیکوکار ہونگے ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

جَنَّاتُ عَدْنٍ ... `Adn Gardens, where, `Adn, indicates continuous residence; they will reside in the gardens of everlasting life. ... يَدْخُلُونَهَا ... which they shall enter, Allah said next, ... وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ابَايِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ... and (also) those who acted righteously from among their fathers, and their wives, and their offspring. Allah will gather them with their loved ones, from among their fathers, family members and offspring, those who are righteous and deserve to enter Paradise, so that their eyes are comforted by seeing them. He will also elevate the grade of those who are lower, to the grades of those who are higher, a favor from Him out of His kindness, without decreasing the grade of those who are higher up (in Paradise). Allah said in another Ayah, وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَـنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ And those who believe and whose offspring follow them in faith: to them shall We join their offspring. (52:21) Allah said next, ... وَالمَلَيِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ And angels shall enter unto them from every gate (saying): "Salamun `Alaykum (peace be upon you) for you persevered in patience! Excellent indeed is the final home!" The angels will enter on them from every direction congratulating them for entering Paradise. The angels will welcome them with the Islamic greeting and commend them for earning Allah's closeness and rewards, as well as, being admitted into the Dwelling of Peace, neighbors to the honorable Messengers, the Prophets and the truthful believers. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Amr bin Al-`As, may Allah be pleased with them both, narrated that the Messenger of Allah said, هَلْ تَدْرُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللهِ Do you know who among Allah's creation will enter Paradise first? They said, "Allah and His Messenger have more knowledge." He said, أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللهِ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ تُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ The first among Allah's creation to enter Paradise are the poor emigrants (in Allah's cause) with whom the outposts (of the land) are secured and the various afflictions are warded off. وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لاَ يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَيِكَتِهِ ايْتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ One of them would die while his need is still in his chest, because he was unable to satisfy it himself. Allah will say to whom He will among His angels, "Go to them and welcome them with the Salam." فَتَقُولُ الْمَلَيِكَةُ نَحْنُ سُكَّانُ سَمَايِكَ وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِي هوُلاَءِ وَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ The angels will say, "We are the residence of Your heaven and the best of Your creation, do You command us to go to them and welcome them with the Salam!" فَيَقُولُ إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونَنِي لاَ يُشْرِكُونَ بِي شَيْيًا وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لاَ يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً Allah will say, "They are My servants who worshipped Me and did not associate anyone or anything with Me in worship. With them, the outposts were secured and the afflictions were warded off. One of them would die while his need is in his chest, unable to satisfy it." قَالَ فَتَأْتِيهِمُ الْمَلَايِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَاب So the angels will go to them from every gate (of Paradise), saying, سَلَمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 عدن کے معنی ہیں اقامت۔ یعنی ہمیشہ رہنے والے باغات۔ 23۔ 2 یعنی اس طرح نیک قرابت داروں کو آپس میں جمع کر دے گا تاکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں حتٰی کہ ادنٰی درجے کے جنتی کو اعلٰی درجہ عطا فرما دے گا تاکہ وہ اپنے قرابت دار کے ساتھ جمع ہوجائے۔ فرمایا (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21؀) 52 ۔ الطور :21) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو اور ان کے عملوں سے ہم کچھ گھٹائیں گے نہیں، اس سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ نیک رشتے داروں کو اللہ تعالیٰ جنت میں جمع فرما دے گا، وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی کے پاس ایمان اور عمل صالح کی پونجی نہیں ہوگی، تو وہ جنت میں نہیں جائے گا، چاہے اس کے دوسرے نہایت قریبی رشتے دار جنت میں چلے گئے ہوں۔ کیونکہ جنت میں داخلہ حسب نسب کی بنیاد پر نہیں، ایمان و عمل کی بنیاد پر ہوگا۔ (من بطاء بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ) صحیح مسلم۔ جسے اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٣] اس مقام پر مومنوں کی مندرجہ بالا نو صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ایسے ہی لوگ جنت کے مستحق ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کے آباء ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے جو لوگ نیک ہونگے۔ اگرچہ ان کے اعمال اس درجہ پر نہ پہنچے ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ انھیں ان کے ساتھ ملا کر جنت میں اکٹھا کردے گا اور فرشتے جس دروازے سے بھی ان پر داخل ہوں گے انھیں سلامتی کی دعائیں دیا کریں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا ۔۔ : یہ ” عُقْبَى الدَّارِ “ سے بدل الکل ہے، یعنی وہ اچھا انجام ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور جنت میں داخل ہونے کے لائق ان کے باپ دادا، بیویاں اور اولادیں بھی ان کے ساتھ جنت عدن میں داخل ہوں گی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ” عدن “ جنت میں ایک مقام ہے، اس صورت میں ترجمہ ہوگا ” عدن کے باغات “ اور اس صورت میں یہ ” عُقْبَى الدَّارِ “ سے بدل البعض ہوگا۔ امام ابن کثیر (رض) نے اس آیت پر فرمایا، یعنی انھیں اور ان کے پیاروں کو جنت میں اکٹھا کردیا جائے گا، خواہ باپ ہوں یا گھر والے یا اولاد جو مومن ہونے کی وجہ سے جنت میں داخلے کے لائق ہوں گے، تاکہ ان کی آنکھیں ان کے ساتھ ٹھنڈی ہوں، یہاں تک کہ نیچے درجے والے کو اونچے درجے والے کی طرف بلند کردیا جائے گا، بغیر اس کے کہ اونچے درجے والے کا درجہ کم کیا جائے، محض اللہ تعالیٰ کے امتنان اور احسان کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ) [ الطور : ٢١ ] ” اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے۔ “ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ ۔۔ : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آکر انھیں مبارک باد اور خوش خبریاں دیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Onwards from this point there comes the description of the same &ul¬timate abode& when it is said that these shall be eternal gardens they shall enter. The word: عَدن (&Adn) means to abide, settle down permanent¬ly. The sense is that no one shall ever be expelled from these gardens, instead, they shall be there eternally. Some commentators have said that ` Adn is the name of the midmost of the Paradise which is also the most superior of its many stations. After that, mentioned there is yet another reward for these people and this reward shall not remain restricted to those people in person. In fact, even their fathers, wives and children shall get their share in it - subject to the condition that they be good in deeds, the lowest degree of which is that they be Muslims. It means that the personal conduct of their fathers and wives was, though not good enough to have enabled them to arrive at this level of success, yet it would be because of the con¬sideration and barakah of the accepted servants of Allah that they too shall be admitted to that high station.

کہ وہ ہوں گی جنت میں داخل ہوں گے عدن کے معنی قیام وقرار کے ہیں مراد یہ ہے کہ ان جنتوں سے کسی وقت ان کو نکالا نہ جائے گا بلکہ ان میں ان کا اقرار و قیام دائمی ہوگا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ عدن وسط جنت کا نام ہے جو جنت کے مقامات میں بھی اعلیٰ مقام ہے، اس کے بعد ان حضرات کے لئے ایک اور انعام یہ ذکر فرمایا گیا کہ یہ انعام ربانی صرف ان لوگوں کی ذات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں اور اولاد کو بھی اس میں حصہ ملے گا شرط یہ ہے کہ وہ صالح ہوں جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ مسلمان ہوں اور مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں کا اپنا عمل اگرچہ اس مقام پر پہنچنے کے قابل نہ تھا مگر اللہ کے مقبول بندوں کی رعایت اور برکت سے ان کو بھی اسی مقام بلند پر پہنچا دیا جائے گا۔ اس کے بعد دار آخرت میں ان کی فلاح و کامیابی کا مزید بیان یہ ہے کہ فرشتے ہر دروازے سے ان کو سلام کرتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارے صبر کی وجہ سے تمام تکلیفوں سے سلامتی ہے اور یہ کیسا اچھا انجام ہے دار آخرت کا۔ (آیت) جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے مقبول اور نیک بندوں کو خود بھی جنت میں مقام ملے گا اور ان کی رعایت سے ان کے ماں باپ بیوی اور اولاد کو بھی شرط یہ ہے کہ یہ لوگ صالح یعنی مومن اور مسلمان ہوں کافر نہ ہوں اگرچہ اعمال صالحہ میں اپنے بزرگ کے برابر نہ ہوں مگر اللہ تعالیٰ اس بزرگ کی برکت سے ان لوگوں کو بھی اسی مقام جنت میں پہنچا دیں گے جو اس بزرگ کا مقام ہے جیسے دوسری آیت میں مذکور ہے اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ یعنی اپنے نیک بندوں کی ذریت اور اولاد کو بھی انہی کے ساتھ کردیں گے اس سے معلوم ہو کہ بزرگوں کے ساتھ تعلق خواہ نسب اور قرابت کا ہو یا دوستی کا وہ آخرت میں بھی بشرط ایمان نفع دے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ 23؀ۚ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ دباغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ عدن قال تعالی: جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] ، أي : استقرار وثبات، وعَدَنَ بمکان کذا : استقرّ ، ومنه المَعْدِنُ : لمستقرّ الجواهر، وقال عليه الصلاة والسلام : «المَعْدِنُ جُبَارٌ» «2» . ( ع د ن ) عدن ( ن ض ) کے معنی کسی جگہ قرار پکڑنے اور ٹہر نے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ عدن بمکان کذا یعنی اس نے فلاں جگہ قیام کیا قرآن میں ہے : ۔ جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات ۔ اسی سے المعدن ( کان ) ہے کیونکہ کا ن بھی جواہرات کے ٹھہر نے اور پائے جانے کی جگہ ہوتی ہے حدیث میں ہے ۔ المعدن جبار کہ اگر کوئی شخص کان میں گر کر مرجائیں تو کان کن پر اس کی دیت نہیں ہے ۔ صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٣۔ ٢٤) کہ وہ جنت عدن ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا مقام ہے اور وہی انبیاء کرام صدیقین اور شہداء وصالحین کا ٹھکانہ ہے اور ان کے ماں، باپ، بیویاں اور اولاد جو مومن اور وحدانیت کے قائل ہوں گے اور اس جنت میں داخل ہونے لائق ہوں گے وہ اسی جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان میں سے ہر ایک کیلیے ایک موتیوں کا خیمہ ہوگا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور ہر ایک دروازے میں چوکھٹ ہوگا ان کے پاس ہر ایک دروازے سے فرشتے آئیں گے اور کہیں گے کہ تم ہر ایک مصیبت سے بچے رہو گے اور جنت اس صلہ میں ملی ہے کہہ تم احکام خداوندی پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تو جنت تمہارے لیے بہت اچھا انعام ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :41 اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ملائکہ ہر طرف سے آ آ کر ان کو سلام کریں گے ، بلکہ یہ بھی ہے کہ ملائکہ ان کو اس بات کی خوشخبری دیں گے کہ اب تم ایسی جگہ آگئے ہو جہاں تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے ۔ اب یہاں تم ہر آفت سے ، ہر تکلیف سے ہر مشقت سے ، اور ہر خطرے سے اور اندیشے سے محفوظ ہو ۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ حِجر ، حاشیہ نمبر ۲۹ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13:23) جنت عدن مضاف مضاف الیہ اور عقبی الدار (آیۃ سابقہ ) کا بدل ہے۔ عدن کے باغات ۔ عدن کے معنی رہنا۔ بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ مصدر ہے اور باب نصروضرب سے آتا ہے۔ جنت عدن کے معنی رہنے بسنے کے باغات۔ جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں کہ جنتوں میں سے ایک خاص جنت کا نام ہے اور اس کی دلیل میں یہ آیت لاتے ہیں جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب ۔ (19:61) وہ عن کے باغات جن کا وعدہ غائبانہ خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔ اور جو حضرات عدن کو علم نہیں بلکہ جنت کی صفت بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عدن کے معنی اصل میں استقرار اور ثبات کے ہیں۔ محاورہ ہے عدن بالمکاف۔ یعنی اس نے اس جگہ قیام کیا اور عدن سے مراد اقامتہ علی وجہ الخلود ہے یعنی دائمی طور پر رہنا۔ بسنا۔ امام قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ جنتیں سات ہیں۔ (1) دارالخلد (2) دارالجلال (3) دارالسلام (4) جنت عدن (5) جنت الماویٰ ۔ (6) جنت النعیم۔ (7) جنت الفردوس۔ جنت عدن کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جنت میں ایک محل ہے جس کے 25 ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازہ پر حوریں بیٹھی ہیں۔ اس میں نبی صدیق اور شہید داخل ہوں گے۔ صلح۔ (باب نصر۔ فتح۔ کرم) صلاح۔ صلوح۔ سے جس کے معنی نیک ہونا اور نیکی کرنا کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ صاحب کشاف لکھتے ہیں کہ صلح بفتح اللام زیادہ فصیح ہے۔ یدخلونہا۔ میں یدخلون سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی صفۃ آیۃ سابقہ نمبر 22 میں کی گئی ہے اور ھا ضمیر کا مرجع جنت عدن ہے وائو حرف عطف اور من صلح من ابائہم وازواجہم و ذریتہم کا عطف ضمیر یدخلونہا پر ہے۔ یعنی ان جنت عدن میں وہ لوگ (جو آیۃ سابقہ میں بیان ہوئے ہیں) داخل ہوں گے۔ اور ان کے آبائو اجداد ان کے زوج اور ان کی اولاد میں سے وہ لوگ جو صاحب ایمان ہوں گے وہ بھی داخل ہوں گے (یعنی جنت میں داخلہ تو بشرط ایمان ہے لیکن اعلیٰ مراتب کی عطاء ودہش رب کریم اپنے ان بندوں کی نسبت سے فرمائیں گے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں) ۔ والملئکۃ سے جملہ شروع ہوتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ بدل کل من عقبہ الدار یہ ترجمہ اس لحاظ سے ہے کہ ” عدن “ کے معنی رہنے کے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ عدن جنت میں ایک مقام کا آنا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق ” جنات عدن “ کا ترجمہ ” عدن کے باغ “ ہوگا۔ اس صورت میں یہ عقبی الدار سے بدل البعض ہوگا۔ (از روح) ۔ 6 ۔ وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے نیک ہونا بہرحال شرط ہے صرف رشتہ داری کا تعلق کافی نہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ مقربین کی برکت سے ان کے ماں باپ اور بیویاں اور اولاد بھی اسی درجہ میں بالتبع داخل ہوں گے چناچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ مومن جنت میں داخل ہوکرک ہے گا کہ میری ماں کہاں ہے میرا بیٹا کہاں ہے میری بیوی کہاں ہے اس سے کہا جائے گا کہ ان کے اعمال تمہارے عملوں کی مانند نہیں تھے جنتی کہے گا کہ میں جو کرتا رہا ہوں وہ اپنے لیے بھی تھے اور ان کے کے لیے بھی اور مراد آباء واولاد سے وہ میں جو بلاواسطہ ہوں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کا اجر اور ان کے لیے تیار کیے گئے گھر کی خوبیاں۔ ” عقبی الدار “ سے مراد مومنوں کے لیے جنت کا گھر ہے۔ جس میں تروتازہ اور ہمیشہ رہنے والے انواع و اقسام کے پھلوں کے باغات ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں مومنوں کو داخل کرکے ان کے نیکو کار آباء و اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کے بیٹے، بیٹیوں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ جنتی جب جنت کے قریب پہنچیں گے تو ملائکہ آگے بڑھ کر انہیں جنت کے ہر دروازے پر سلام عرض کریں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات اور پریشانیوں کے وقت صبر کیا اور دنیا میں رہتے ہوئے شریعت کی حدود وقیود کی پابندی کرتے رہے۔ انہیں ملائکہ موت کے وقت ہی خوشخبری سنائیں گے کہ تمہارے لیے جنت میں بہترین محل تیار کیے گئے ہیں لہٰذا تم ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (إِنَّ الَّذِ یْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَآءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَبْشِرُوْا بالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ نَحْنُ أَوْلِیَآؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَحِیْمٍ )[ حم السجدۃ : ٣٠۔ ٣٢] ” یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر استقامت اختیار کی ایسے لوگوں پر فرشتے اتریں گے کہ تم ڈر اور غم محسوس نہ کروتمھارے لیے جنت کی خوش خبری ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا رہا ہے ہم تمہارے دنیا اور آخرت میں رفیق رہیں گے اور تمہارے لیے جنت میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے وہ کچھ موجود ہے جو تم مانگو یہ غفور الرحیم کی طرف سے مہمان نوازی ہے۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاھَا مَلَکَانِ یُصْعِدَانِھَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَمِنْ طِےْبِ رِےْحِھَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَےَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ طَےِّبَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَےْکِ وَعَلٰی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِےْنَہٗ فَےُنْطَلَقُ بِہٖ اِلٰی رَبِّہٖ ثُمَّ ےَقُوْلُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلٰی اٰخِرِ الْاَجَلِ ۔۔ ) [ رواہ مسلم : باب عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَیِّتِ مِنَ الْجَنَّۃِ أَوِ النَّارِ عَلَیْہِ وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْہُ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مومن کی روح اس کے جسم سے نکلتی ہے تو دو فرشتے اس کو ہاتھوں ہاتھ لے کر آسمان کی طرف لے جاتے ہیں۔ راوی حماد (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے بہترین خوشبو اور مشک کا ذکر کیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آسمان کے فرشتے کہتے ہیں اے زمین سے آنے والی پاک باز روح ! تجھ پر اور تیرے جسم پر جس کا تو نے خیال رکھا اللہ کی رحمتیں ہوں۔ چناچہ اس روح کو اس کے رب کی بارگاہ میں لے جایا جاتا ہے۔ حکم ہوتا ہے اس کو برزخ کے آخری کنارے تک لے جاؤ۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو ہمیشگی کی جنت میں داخل فرمائے گا۔ ٢۔ نیک لوگوں کو جنت میں فرشتے سلام عرض کریں گے۔ ٣۔ نیکو کاروں کے ماں، باپ اور بیوی بچوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی جنت میں داخل ہوں گے۔ ٤۔ صبر کرنے والوں کا بہت ہی اچھا انجام ہوگا۔ تفسیر بالقرآن ملائکہ کا جنتیوں کو سلام : ١۔ ملائکہ جنتیوں کو سلام کہتے ہوئے کہیں گے کہ جنت کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔ (الرعد : ٢٣۔ ٢٤) ٢۔ فرشتے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (النحل : ٣٢) ٣۔ جنت کے دربان کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو مزے سے رہو اور ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (الزمر : ٧٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٢٣ تا ٢٤ ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر ہے۔ یہ آخرت میں عالی مقام ہوں گے۔ ایسے باغات ہوں گے جو ان کے قیام کے لئے ابدی اور دائمی ہوں گے۔ ایسے ہی باغات میں ان کے اقارب و رشتہ دار ، آباء و اولاد ان کے ساتھ ہوں گے ، یعنی ان میں سے وہ جو صالح ہوں گے اور یہ لوگ ان باغات میں اپنی نیکی اور صلاح کی بنیاد پر داخل ہوں لیکن ان کے ساتھ ان کے اکرام کے طور پر ان کے رشتہ دار بھی داخل ہوں گے۔ دوست اور یار بھی وہاں ہوں گے۔ دوست و احباب اور آباء واولاد کا اجتماع ایک محبوب اور لذیذ چیز ہے جس سے جنت کے مزے دو چند ہوں گے۔ اس اجتماع میں جہاں دوست و احباب ہوں گے اور جہاں اعزہ و اقارب ہوں گے ملائکہ کی طرف سے اھلاً و سھلاً اور مبارکباد کے پیغامات ہوں گے اور بیشمار لوگ وہاں آجا رہے ہوں گے۔ یدخلون علیھم من کل باب (١٣ : ٢٣) ” ہر طرف سے ان پر داخل ہوں گے “ یہاں آکر انداز گفتگو اس طرح ہوجاتا کہ گویا ہم اس منظر کو دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف سے ملائکہ گروہ در گروہ آ رہے ہیں اور مبارک و سلامت ہو رہی ہے۔ سلم علیکم۔۔۔۔۔ الدار (١٣ : ٢٤) ” تم پر سلامتی ہے ، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو “۔ گویا ایک محفل مسرت ہوگی اور ہر طرف سے خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اور سلامت و مبارک اور جشن مسرت کی ہلچل برپا ہوگی۔ اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کی عقل کام نہ کر رہی تھی اس لیے وہ نصیحت نہ پکڑ سکے ، نہ ان میں بصیرت تھی کہ وہ مشکلات راہ حق پر صبر کرتے۔ ان لوگوں کی حالت ہر لحاظ سے عقلمند اور دانشور لوگوں کے برخلاف اور علی العکس ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

23 ۔ وہ آخرت کا گھر یہ کہ دائمی رہنے کے باغات ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو جنت کی صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہوں گے وہ بھی ان باغوں میں داخل ہوں گے اور فرشتے ہر ایک دروازے سے ان کے پاس یوں کہتے ہوئے آئیں گے ۔ یعنی دار آخرت کی بھلائی یہ کہ لوگ نہ صرف تنہا جنتوں میں داخل ہوں گے بلکہ ان کے ماں باپ ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے بھی جو لوگ اہل اور قابل ہوں گے وہ بھی ان کے ہمراہ ہی داخل کردیئے جائیں گے تا کہ سب ساتھ رہیں ۔ ان ساتھیوں میں سے جو ان کا ہم مرتبہ ہوگا اس کے ساتھ رہنے میں تو کوئی اشکال نہیں اگر کوئی کم مرتبہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنی نوازشات بےکراں سے اس کے مرتبے کو بلند فرما کر اس کو ان لوگوں کے ہمراہ کر دے گا تا کہ یہ سب ساتھ رہیں ۔ آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مقربین بارگاہ کی برکت سے ان کے متعلقین بھی مستفید ہوں گے بشرطیکہ ان متعلقین میں صلاحیت ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے بعض مخلصین جنت میں داخل ہو کر دریافت کریں گے میری ماں کہاں ہے میرا باپ کہاں ہے میرا بیٹا کہاں ہے میری بیوی کہاں ہے ، کہا جائے گا انہوں نے ایسے عمل نہیں کئے جیسے تو نے عمل کئے ہیں وہ عرض کرے گا میں جو عمل کیا کرتا تھا وہ اپنے لئے اور ان سب کے لئے کیا کرتا تھا۔ اسی بنا پر من صلح کی تفسیر بعض مفسرین نے ایمان سے کی ہے یعنی جو مومن ہیں ان کو درجات سے سرفراز فرما کر مخلصوں کے ساتھ کردیا جائیگا۔