Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 29

سورة الرعد

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾

Those who have believed and done righteous deeds - a good state is theirs and a good return.

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام بھی کئے ان کے لئے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Those who believed, and work righteousness, Tuba is for them and a beautiful place of (final) return. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said that Tuba means, "Happiness and comfort or refreshment of the eye." Ikrimah said that Tuba means, "How excellent is what they earned," while Ad-Dahhak said, "A joy for them." Furthermore, Ibrahim An-Nakh`i said that Tuba means, "Better for them," while Qatadah said that it is an Arabic word that means, `you have earned a good thing.' In another narration, Qatadah said that `Tuba for them' means, "It is excellent for them," وَحُسْنُ مَأبٍ (and a beautiful place of return), and final destination. These meanings for Tuba are all synonymous and they do not contradict one another. Imam Ahmad recorded that Abu Sa'id Al-Khudri said that a man asked, "O Allah's Messenger! Tuba for those who saw you and believed in you!" The Prophet said, طُوبَى لِمَنْ رَانِي وَامَنَ بِي وَطُوبَى ثُمَّ طُوبَى ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ امَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي Tuba is for he who saw me and believed in me. Tuba, and another Tuba, and another Tuba for he who believed in me, but did not see me. A man asked, "What is Tuba?" The Prophet said, شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَتُهَا مِايَةُ عَامٍ ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا A tree in Paradise whose width is a hundred years, and the clothes of the people of Paradise are taken from its bark. Al-Bukhari and Muslim recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah said, إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِايَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا There is a tree in Paradise, if a rider travels in its shade for one hundred years, he would not be able to cross it. An-Nu`man bin Abi Ayyash Az-Zuraqi added, "Abu Sa`id Al-Khudri narrated to me that the Prophet said, إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِايَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا There is a tree in Paradise, if a rider travels in its shade on a fast, sleek horse for one hundred years, he would not be able to cross it." In his Sahih, Imam Muslim recorded that Abu Dharr narrated that the Messenger of Allah said that Allah the Exalted and Most Honored said, يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَاخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْيًا إِلاَّ كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ فِي الْبَحْر O My slaves! If the first and the last among you, mankind and Jinns among you, stood in one spot and asked Me and I gave each person what he asked, it will not decrease from My dominion, except what the needle decreases (or carries) when entered into the sea. Khalid bin Ma`ddan said, "There is a tree in Paradise called Tuba, that has breasts that nurse the children of the people of Paradise. Verily, the miscarriage of a woman will be swimming in one of the rivers of Paradise until the Day of Resurrection commences, when he will be gathered with people while forty years of age." Ibn Abi Hatim collected this statement.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 طُوْبٰی کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں مثلاً خیر، حسنٰی، کرامت، رشک، جنت میں مخصوص درخت یا مخصوص مقام وغیرہ مفہوم سب کا ایک ہی ہے یعنی جنت میں اچھا مقام اور اس کی نعمتیں اور لذتیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] طوبیٰ سے مراد کیا ہے ؟ لفظ طوبٰی کے معنی ایسی خوشی حاصل ہونا ہے جس سے انسان کے دل کے علاوہ اس کے حواس بھی لطف اندوز ہوں (مفردات) اور جنت کی نعمتیں سب ایسی ہی ہوں گی بعض مفسرین نے طوبیٰ سے مراد وہ درخت لیا ہے جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ وہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں ایک سوار اگر سو سال بھی چلتا رہے تو اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة ئواقعہ زیر آیت ( وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ 30 ۝ ۙ ) 56 ۔ الواقعة :30) اہل عرب کے لیے ایسے درخت کا جنت میں موجود ہونا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ کیونکہ عرب کا اکثر علاقہ سنگلاخ اور ریگستانی ہے۔ شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ لوئیں چلتی ہیں مگر درخت یا درختوں کے سائے بہت کم پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے جنت کی نعمتوں کا جہاں ذکر آتا ہے وہاں ٹھنڈے پانی اور گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں کا بالخصوص ذکر ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ : ” طُوْبٰى“ اصل میں ” طَابَ یَطِیْبُ “ (اچھا اور عمدہ ہونا) سے ” طُیْبٰی “ تھا، مصدر بروزن ” بُشْرٰی “ بمعنی خوشی، مبارک باد۔ ” مَاٰبٍ “ ” اٰبَ یَؤُوْبُ أَؤْبًا “ کا معنی ہے لوٹنا اور ” مَاٰب “ کا معنی لوٹ کر جانے کی جگہ، ٹھکانا یعنی ایمان اور عمل صالح کی برکت سے عمدہ ترین زندگی حاصل ہوتی ہے اور آخری ٹھکانا بھی بہترین ملے گا، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) [ النحل : ٩٧ ] ” جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقیناً ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ مسند احمد کی ایک حدیث میں جو عتبہ بن عبد السلمی سے مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کے ایک درخت کا نام بھی طوبیٰ بتایا ہے۔ [ مسند أحمد : ٤؍١٨٣، ح : ١٧٦٦٠، وقال شعیب الأرنؤوط إسنادہ قابل للتحسین ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ 29؁ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ طوبي طَابٌ ، وبالمدینة تمر يقال له : طَابٌ ، وسمّيتِ المدینةُ طَيِّبَةً ، وقوله : طُوبی لَهُمْ [ الرعد/ 29] ، قيل : هو اسم شجرة في الجنّة «1» ، وقیل : بل إشارة إلى كلّ مُسْتَطَابٍ في الجنّة من بقاءٍ بلا فناءٍ ، وعِزٍّ بلا زوالٍ ، وغنی بلا فقرٍ. ( ط ی ب ) طاب ( ض ) اور مدینہ طیبہ میں ایک قسم کی کھجور ہوتی ہے جسے طاب کہا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ طُوبی لَهُمْ [ الرعد/ 29] ان کے لئے خوشحالی ہے میں بعض نے کہا ہے کہ طوبی جنت میں ایک درخت کا نام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے ہر قسم کی خوش گواریاں ہیں جو جنت میں حاصل ہوں گی مثلا بقا ، عزت ، غنا وغیرہ جنکے زوال کا اندیشہ نہین ہوگا ۔ أوب الأَوْبُ : ضرب من الرجوع، وذلک أنّ الأوب لا يقال إلا في الحیوان الذي له إرادة، والرجوع يقال فيه وفي غيره، يقال : آب أَوْباً وإِيَاباً ومَآباً. قال اللہ تعالی: إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ [ الغاشية/ 25] وقال : فَمَنْ شاءَ اتَّخَذَ إِلى رَبِّهِ مَآباً [ النبأ/ 39] ، والمآب : المصدر منه واسم الزمان والمکان . قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ [ آل عمران/ 14] ، ( او ب ) الاوب ۔ گو اس کے معنی رجوع ہونا کے ہیں لیکن رجوع کا لفظ عام ہے جو حیوان اور غیر حیوان دونوں کے لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ مگر اواب کا لفظ خاص کر حیوان کے ارادہ لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ اب اوبا ویابا ومآبا وہ لوٹ آیا قرآن میں ہے ۔ { إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ } ( سورة الغاشية 25) بیشک ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ { فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا } ( سورة النبأ 39) اپس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنائے ۔ المآب۔ یہ مصدر ( میمی ) ہے اور اسم زمان اور مکان بھی ۔ قرآن میں ہے :۔ { وَاللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ } ( سورة آل عمران 14) اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩) جو لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور احکام خداوندی کو بجا لائے ایسے حضرات قابل رشک ہیں اور کہا گیا ہے کہ طوبی نام کا جنت میں ایک درخت ہے اس کا تنا سونے کا ہے اور اس کے پتے ریش میں جوڑے ہیں اور اس پر ہر رنگ کے پھل ہیں اور اس کی شاخیں پوری جنت میں پھیلی ہوئی ہیں اس کے نیچے مشک، زعفران اور عنبر کے ٹیلے ہیں اور ایسے حضرات ہی جنت میں جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ خوشی یا مبارک باد ” طوبیٰ “ کے لفظی معنی ہیں۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ” طوبیٰ “ جنت کے ایک درخت کا نام بھی ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ خلاصہ یہ کہ کفار کے لیے قرآن کے اعجاز کا ناکافی سمجھنا اور ضلال اور اس کے قبل رغبت الی الدنیا اور اس کے حظ کا فنا اور اس کے مقابلہ میں مومنین کے لیے قرآن کو کافی سمجھنا اور ہدایت اور رغبت الی الآخرت اور اس کے ثمرہ کا بقاثابت فرمایا ہے اور اصل مقصود مقام کا بحث رسالت ہے آگے اس بحث کا تتمہ ہے یعنی یہ لوگ جو آپ کی رسالت پر شبہات کرتے ہیں تو آپ کی رسالت کوئی انوکھی چیز تو ہے نہیں پہلے بھی رسول ہوتے آئے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

29 ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند ریہ ان کے لئے خوشحالی ہے اور ان کے لئے اچھا ٹھکانہ اور نیک انجامی ہے۔ یعنی دنیا میں خوشحال اور آخرت میں نیک انجامی اور اچھا ٹھکانہ ، دنیا کی خوشحالی یہ کہ قلب کو اطمینان اور خدا پر بھروسہ ہوسکتا ہے کہ دونوں بشارتیں آخرت کی ہوں اور طوبیٰ سے مراد وہ درخت ہو جو اہل جنت پر سایہ افگن ہوگا اور جس کا ذکر حدیث شریف میں آتا ہے۔