Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 30

سورة الرعد

کَذٰلِکَ اَرۡسَلۡنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتۡلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ ؕ قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾

Thus have We sent you to a community before which [other] communities have passed on so you might recite to them that which We revealed to you, while they disbelieve in the Most Merciful. Say, "He is my Lord; there is no deity except Him. Upon Him I rely, and to Him is my return."

اسی طرح ہم نے آپ کو اس امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں کہ آپ انہیں ہماری طرف سے جو وحی آپ پر اتری ہے پڑھ کر سنائیے یہ اللہ رحمان کے منکر ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میرا پالنے والا تو وہی ہے اس کے سوا درحقیقت کوئی بھی لائق عبادت نہیں اسی کے اوپر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب میرا رجوع ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Our Prophet was sent to recite and call to Allah's Revelation Allah says, كَذَلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَا أُمَمٌ ... Thus have We sent you to a community before whom other communities have passed away, Allah says, `Just as We sent you, O Muhammad, to your Ummah, ... لِّتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِيَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ... ...in order that you might recite unto them what We have revealed to you, so that you deliver to them Allah's Message. Likewise, We sent others to earlier nations that disbelieved in Allah. The Messengers whom We sent before you, were also denied and rejected, so you have an example in what they faced. And since We sent Our torment and revenge on those people, then let these people fear what will strike them, for their denial of you is harsher than the denial that the previous Messengers faced,' تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَأ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ By Allah, We indeed sent (Messengers) to the nations before you. (16-63) Allah said in another Ayah, وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَـهُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِ اللَّهِ وَلَقدْ جَأءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ Verily, many Messengers were denied before you, with patience they bore the denial and suffering until; till Our help reached them, and none can alter the Words (decree) of Allah. Surely, there has reached you the information (news) about the Messengers (before you). (6-34), meaning, `How We gave them victory and granted the best end for them and their followers in this life and the Hereafter. ' Allah said next, ... وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَـنِ ... while they disbelieve in the Most Gracious (Allah). Allah says, `These people, that We sent you to, disbelieve in the Most Gracious and deny Him, because they dislike describing Allah by Ar-Rahman,Ar-Rahim (the Most Gracious, Most Merciful).' This is why on the day of Al-Hudaybiyyah, as Al-Bukhari narrated, they refused to write, "In the Name of Allah, Ar-Rahman Ar-Rahim," saying, "We do not know Ar-Rahman,Ar-Rahim!" Qatadah narrated this words. Allah the Exalted said, قُلِ ادْعُواْ اللَّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَيًّا مَّا تَدْعُواْ فَلَهُ الاٌّسْمَأءَ الْحُسْنَى Say: "Invoke Allah or invoke the Most Gracious (Allah), by whatever name you invoke Him, for to Him belong the Best Names. (17:110) In his Sahih, Imam Muslim recorded that Abdullah bin Umar said that the Messenger of Allah said, إِنَّ أَحَبَّ الاَْسْمَاءِ إِلَى اللهِ تَعَالَى عَبْدُاللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَن The most beloved names to Allah the Exalted are: Abdullah and Abdur-Rahman. Allah said next, ... قُلْ هُوَ رَبِّي لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ ... Say: "He is my Lord! None has the right to be worshipped but He!" meaning: for I believe in Allah in Whom you disbelieve and affirm His Divinity and Lordship. He is my Lord, there is no deity worthy of worship except Him, ... عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ... In Him is my trust, in all of my affairs, ... وَإِلَيْهِ مَتَابِ and to Him I turn. meaning: to Him I return and repent, for He alone is worthy of all this and none else besides Him.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے اس امت کی طرف ہم نے تجھے بھیجا کہ تو انہیں کلام الہٰی پڑھ کر سنائے ، اسی طرح تجھ سے پہلے اور رسولوں کو ان اگلی امتوں کی طرف بھیجا تھا انہوں نے بھی پیغام الہٰی اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا مگر انہوں نے جھٹلایا اسی طرح تو بھی جھٹلایا گیا تو تجھے تنگ دل نہ ہونا چاہئے ۔ ہاں ان جھٹلانے والوں کو ان کا انجام دیکھنا چاہئے جو ان سے پہلے تھے کہ عذاب الہٰی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا پس تیری تکذیب تو ان کی تکذیب سے بھی ہمارے نزدیک زیادہ ناپسند ہے ۔ اب یہ دیکھ لیں کہ ان پر کیسے عذاب برستے ہیں؟ یہی فرمان آیت ( تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀ ) 16- النحل:63 ) میں اور آیت ( وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34؀ ) 6- الانعام:34 ) میں ہے کہ دیکھ لے ہم نے اپنے والوں کی کس طرح امداد فرمائی ؟ اور انہیں کیسے غالب کیا ؟ تیری قوم کو دیکھ کر رحمن سے کفر کر رہی ہے ۔ وہ اللہ کے وصف اور نام کو مانتی ہی نہیں ۔ حدیبیہ کا صلح نامہ لکھتے وقت اس پر بضد ہو گئے کہ ہم آیت ( بسم اللہ الرحمن الرحیم ) نہیں لکھنے دیں گے ۔ ہم نہیں جانتے کہ رحمن اور رحیم کیا ہے ؟ پوری حدیث بخاری میں موجود ہے ۔ قرآن میں ہے آیت ( قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا ١١٠؁ ) 17- الإسراء:110 ) ، اللہ کہہ کر اسے پکارو یا رحمن کہہ کر جس نام سے پکارو وہ تمام بہترین ناموں والا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن نہایت پیارے نام ہیں ۔ فرمایا جس سے تم کفر کر رہے ہو میں تو اسے مانتا ہوں وہی میرا پروردگار ہے میرے بھروسے اسی کے ساتھ ہیں اسی کی جانب میری تمام تر توجہ اور رجوع اور دل کا میل اس کے سوا کوئی ان باتوں کا مستحق نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 جس طرح ہم نے آپ کو تبلیغ رسالت کے لئے بھیجا ہے، اسی طرح آپ سے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے، ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی جس طرح آپ کی کی گئی اور جس طرح تکذیب کے نتیجے میں وہ قومیں عذاب الٰہی سے دو چار ہوئیں، انھیں بھی اس انجام سے بےفکر نہیں رہنا چاہیے۔ 30۔ 2 مشرکین مکہ رحمٰن کے لفظ سے بڑا بدکتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی جب بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے الفاظ لکھے گئے تو انہوں نے کہا یہ رحمٰن رحیم کیا ہے ؟ ہم نہیں جانتے۔ (ابن کثیر) 30۔ 3 یعنی رحمٰن، میرا وہ رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩] رحمن سے کافروں کا چڑنا :۔ رحمن اللہ تعالیٰ کا دوسرے درجہ پر ذاتی نام ہے جیسے فرمایا ( قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا ١١٠۔ ) 17 ۔ الإسراء :110) اسی لیے یہ لفظ بھی اللہ کی طرح کسی مخلوق کے لیے استعمال نہیں ہوتا قریش مکہ کو اس لفظ سے خاص چڑ تھی۔ جیسے یہود کو جبریل اور مکائیل فرشتوں سے چڑ تھی۔ چناچہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب آپ نے صلح نامہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو اس پر قریش کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض کردیا کہ یہ رحمن کون ہے ہم اسے نہیں جانتے جب یہ جھگڑا بڑھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ جملہ مٹا کر قریش کے دستور کے مطابق باسمک اللہ لکھ دیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد و المصالحۃ مع اھل الحرب۔۔ ) [٤٠] اس جواب سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ رحمن اللہ تعالیٰ ہی کا دوسرا ذاتی نام ہے اور رحمن رحم سے مشتق ہے اور اسم مبالغہ ہے۔ جس میں بہت زیادہ بلاغت پائی جاتی ہے یعنی بےانتہا رحم کرنے والا اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا تھا کہ اللہ نے سابقہ امتوں کی طرح اس امت میں آپ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا تاکہ ان کی ہدایت کے لیے آپ انھیں قرآن پڑھ کر سنائیں۔ مگر ان لوگوں کو قرآن سے چڑ ہوگئی اور اپنے معبودوں کو چھوڑنے پر قطعاً تیار نہ ہوئے اور آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ انھیں کہہ دیجئے کہ تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو کرتے جاؤ۔ میں اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتا ہوں۔ وہ خود ہی ان باتوں کا فیصلہ کردے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ : امت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ لوگ جن کی طرف رسول بھیجا جائے، وہ مسلمان ہوں یا کافر، جیسے قوم ثمود کا ہر مسلم و کافر صالح (علیہ السلام) کی امت تھا اور عاد کا ہر فرد ہود (علیہ السلام) کی امت میں سے تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے بعد قیامت تک ہر مسلم و کافر، یہودی، نصرانی، ہندو اور دہریہ، غرض ہر شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں سے ہے، اسے امت دعوت کہا جاتا ہے، پھر جو لوگ رسول کی دعوت کو قبول کرلیں وہ امت اجابت کہلاتے ہیں، اس آیت میں امت دعوت مراد ہے۔ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ : یعنی نہ آپ پہلے رسول ہیں نہ آپ کی امت دعوت کوئی پہلی امت ہے۔ اس سے مقصود آپ کی امت کو پہلی جھٹلانے والی امتوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے۔ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ : یعنی آپ کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ انھیں وہ آیات و احکام پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیے۔ ” عَلَيْهِمُ “ سے اولین مراد قریش مکہ ہیں اور پھر بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ بھی، جیسا کہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ۝ ۙوَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) [ الجمعۃ : ٢، ٣ ] ” وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں تھے۔ اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ ” جو ابھی تک ان سے نہیں ملے “ سے مراد قیامت تک کے لوگ ہیں۔ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ : یعنی اللہ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں پر کرم فرمایا کہ آپ کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا، مگر ان کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ اس کا حق پہچاننے سے منکر ہوگئے ہیں۔ کفار مکہ اللہ کے خالق ہونے کا تو اقرار کرتے تھے، مگر اس کے ” رحمان “ ہونے کے منکر تھے، بلکہ جب اللہ تعالیٰ کے رحمٰن ہونے اور اسے اس نام سے پکارنے کی دعوت دی جاتی تو اس سے چڑتے اور کہتے : (وَمَا الرَّحْمٰنُ ۤ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا) [ الفرقان : ٦٠ ] ” رحمان کیا چیز ہے ؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔ “ نیز حدیبیہ کے صلح نامہ پر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ لکھوانا چاہا تو کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے کہا : ” اللہ کی قسم ! میں رحمٰن کو نہیں جانتا کہ وہ کون ہے، آپ ” بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ “ لکھوائیے۔ “ [ بخاری، الشروط، باب الشروط في الجہاد ۔۔ : ٢٧٣١، ٢٧٣٢ ] ” الرَّحْمٰنُ “ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسم اللہ کے بعد سب سے محترم نام ہے۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَاءِکُمْ إِلَی اللّٰہِ عَبْدُ اللّٰہِ وَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ) ” اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پیارے نام عبداللہ اور عبد الرحمان ہیں۔ “ [ مسلم، الآداب، باب النھي عن التکني بأبی القاسم۔۔ : ٢١٣٢ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ 30؁ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں خلا الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] ( خ ل و ) الخلاء ۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے اہل لغت خلاالزفان کے معنی زمانہ گزر گیا کرلیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تو صرف ( خدا کے ) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوگزرے ہیں ۔ تلو ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ، أراد به هاهنا الاتباع علی سبیل الاقتداء والمرتبة،. والتلاوة تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور وفکر کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اس معنی کے لئے اس کا مصدر تلاوۃ آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] اور چاند کی قسم جب وہ سورج کا اتباع کرتا ہے ۔ التلاوۃ ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع تلاوۃ کہا جاتا ہے کبھی یہ اتباع ان کی قراءت پڑھنے ) کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی ان کے ادا مرد نواحی ( احکام ) ترغیب وترہیب اور جو کچھ ان سے سمجھا جا سکتا ہے ان کی اتباع کی صورت ہیں ، مگر یہ لفظ قرآت ( پڑھنے ) سے خاص ہے یعنی تلاوۃ کے اندر قراۃ کا مفہوم تو پایا جاتا ہے مگر تلاوۃ کا مفہوم قراء ۃ کے اندر نہیں آتا چناچہ کسی کا خط پڑھنے کے لئے تلوت رقعتک نہیں بالتے بلکہ یہ صرف قرآن پاک سے کچھ پڑھنے پر بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پڑھنے سے اس پر عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص اپنے ( اپنے ) اعمال کی ) جو اس نے آگے بھجیے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت تتلوا بھی ہے یعنی وہاں ہر شخص اپنے عمل نامے کو پڑھ کر اس کے پیچھے چلے گا وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اس سے پہلے اور امتیں گزر چکی ہیں۔ آپ ان کو وہ قرآن حکیم پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ پر بذریعہ جبریل امین نازل کیا ہے۔ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو مسیلمہ کذاب کے علاوہ (جو رحمن کے ساتھ مشہور ہے) کسی اور رحمن کو نہیں جانتے۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیجیے کہ رحمن تو میرا پروردگار ہے، اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں میں نے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرلیا اور آخرت میں اسی کے پاس مجھے جانا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ ) اگرچہ اللہ تعالیٰ کا نام ” الرحمن “ عرب میں پہلے سے متعارف تھا مگر مشرکین مکہ ” اللہ “ ہی کو جانتے اور مانتے تھے اس لیے وہ اس نام سے بدکتے تھے اور عجیب انداز میں پوچھتے تھے کہ یہ رحمن کون ہے ؟ ( الفرقان : ٦٠ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

45. That is, in this way that We have not given you a sign they demanded. 46. That is, instead of serving that most Compassionate Lord, they are discarding His service and setting up other partners in His attributes, powers, rights and giving thanks to others for His blessings.

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :45 یعنی کسی ایسی نشانی کے بغیر جس کا یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں ۔ سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :46 یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں ، اس کی صفات اور اختیارات اور حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک بنا رہے ہیں ، اور اس کی نعمتوں کے شکریے دوسروں کو ادا کر رہے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٠۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جس طرح ہم نے پہلی امتوں میں رسول بھیجے اسی طرح اس امت کے لئے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو باتیں ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہیں وہ سب تم ان لوگوں کو سنادو اور ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انکار کرتے ہو کہ خدا کا نام رحمن نہیں لیکن اس کا نام رحمن ہے اور وہ میرا اور سب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے میرا تو اسی پر بھروسہ ہے اور سب کا وہی ٹھکانا ہے، ایک روز سب کے سب اسی کی طرف پھر کر جانے والے ہو۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کا نام رحمن کہتے تھے تو کفار مکہ آپس میں کہنے لگتے تھے کہ انہوں نے خدا کے سوا ایک معبود اور مقرر کرلیا جس کا نام رحمن رکھ چھوڑا ہے چناچہ قتادہ (رض) کہتے ہیں کہ جب تک حدیبیہ میں سہل بن عمرو حضرت کے ضامن صلح کا پیغام لے کر آئے اور صلح نامہ لکھا جانے لگا تو حضرت نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پہلے لکھنے کو کہا سہل بن عمرو نے کہا ہم نہیں جانتے رحمن کیا شے ہے۔ رحمن تو مسیلمہ کذاب کا نام ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اسی وقت یہ آیت اتری اس لئے قتادہ (رض) اس آیت کو مدنی کہتے ہیں کیونکہ صلح حدیبیہ ہجرت کے بعد ہوئی ہے قتادہ (رض) کے قول کے موافق صلح حدیبیہ کے وقت یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے نہ لکھنے کا قصہ صحیح بخاری میں بھی مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم (رض) کی حدیث ١ ؎ میں ہے۔ لیکن اس میں آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے بعضے مفسروں کا قول ہے کہ ابو جہل نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا اللہ یا رحمن کہتے سنا تو اور مشرکوں کے پاس جا کر یہ بیان کیا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو خدا کا نام لے کر پکارتا ہے اور ایک اور نام بھی لیتا ہے رحمن اور ہم نہیں جانتے کہ رحمن کیا چیز ہے ہم تو مسیلمہ کذاب کو رحمن سمجھتے ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ آیت بھی اتری۔ { قل ادعو اللہ او ادعوا الرحمن } اور حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے ضحاک یہ نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کی شان میں اتری ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کہا { اسجدوا للرحمن } تم خدا کو سجدہ کرو جس کا نام رحمن ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ رحمن کیا شے ہے تو اللہ جل شانہ نے حکم کیا کہ کہہ دو رحمن وہ ہے جو رب ہے میرا اور کل جہان کا اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب مسور بن مخرمہ (رض) اور مروان بن الحکم (رض) کی صحیح بخاری کی روایت میں حدیبیہ کے قصہ کے وقت آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے تو آیت کی شان نزول کا اختلاف یوں رفع ہوسکتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق آیت کو مکی قرار دیا جا کر یہ کہا جاوے کہ قریش کو ہجرت سے پہلے رحمن کے اسم الٰہی ہونے کا جس طرح انکار تھا وہی انکار ان لوگوں نے حدیبیہ کی صلح کے وقت بھی پیش کیا لیکن اس وقت کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انجانی کا عذر اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہے اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے تاکہ کسی کو انجانی کا عذر باقی نہ رہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٦٠٠۔ ٦٠١ ج ٢ باب غزوۃ الحدیبیہ

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13: 30) کذلک ارسلنک فی امم قد خلت من قبلھا امم۔ ای کما ارسلنک یا محمد الی ھذہ الامۃ کذلک ارسلنا انبیاء قبلک الی امم قد خلت ومضت۔ یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح ہم نے تجھے اس امت کی طرف بھیجا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے ہم نے نبیوں کو ان امتوں کی طرف بھیجا جو (پہلے) گذر چکی ہیں۔ لقتلوا (تاکہ) ۔ لام تعلیل کا ہے۔ (یعنی تمہیں بھیجنے کی علت وغایت کیا تھی) (تاکہ) تو تلاوت کرے تو پڑھے۔ مضارع واحد مذکر ۔ تلاوۃ مصدر تلا یتلو ۔ (باب نصر) تلو وتلاوۃ جس کے معنی پڑھنے کے ہیں۔ لیکن یہ لفظ آسمانی کتابون کے اتباع اور پیروی کے لئے مخصوص ہے تلاوت قرأت سے خاص ہے ہر تلاوت قرأت ہوسکتی ہے لیکن ہر قرات تلاوت نہیں۔ مثلاً تلوت القران وقعات القران (میں نے قرآن مجید پڑھا) درست ہے۔ لیکن تلوت رقعتک میں نے تیرے رقعہ کی تلاوت کی۔ درست نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تلوت القران کہا جائے گا تو پڑھ کر اس کا اتباع واجب بھی ہے۔ لیکن رقعہ پڑھ کر اس کا اتباع ضروری نہیں ہے ۔ لہٰذا یہاں قرات رقعتک کہیں گے۔ آیت شریفہ واتبعوا ما تتلوا الشیاطین (2:102) (اور وہ پیچھے لگ لئے اس (علم) کے جو پڑھتے تھے شیاطین) میں جو شیطانوں کے پڑھنے کو تلاوت کہا گیا ہے وہ اس وجہ سے کہ ان کو یہ زعم تھا کہ وہ (شیاطین) کتب الہٰیہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ تلاوت کا فعل جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے معنی نازل کرنے کے ہوں گے جیسے ذلک نتلوہ علیک من الایت والذکر الحکیم ۔ (3: 58) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تم پر آیتیں اور حکمت والی نصیحت اتارتے ہیں۔ اور آیت شریفہ یتلونہ حق تلاوتہ (2:121) (وہ اس کو ایسا پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے) میں علم وعمل دونوں کا اتباع کامل مراد ہے لتتلوا علیہم ۔ تاکہ تو ان کو پڑھ کر سنائے۔ وہم یکفرون بالرحمن۔ حال یہ ہے کہ وہ رحمن کا انکار کر رہے ہیں یہ جملہ حال ہے ارسلنا کا یعنی آپ کی رسالت اور نزول ِ قرآن کی شکل میں ہم نے ان پر دینی اور دنیوی نعمتوں کی فراوانی کردی ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس بلیغ الرحمۃ رحمن (اللہ تعالیٰ ) کا انکار کررہے ہیں۔ ھو ۔ ای الرحمن الذی کفرتم بہ۔ یعنی وہی رحمن جس کا تم انکار کر رہے ہو (میرا پروردگار ہے) متاب۔ اصل میں متابی تھا ۔ متاب مضاف یاء متکلم مضاف الیہ۔ یاء کو حذف کردیا گیا۔ میری واپسی ۔ میرا رجوع۔ متاب۔ تاب یتوب سے مصدر ہے (باب نصر) توبۃ۔ توب ۔ تابۃ۔ سب مصدر ہیں۔ لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ یعنی اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ یعنی اللہ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں پر کرم فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی طرف رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنا کر بھیجا مگر ان کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ اس کا حق پہچاننے سے منکر ہوگئے ہیں۔ کفار مکہ اللہ کے خالق ہونے کا تو اقرار کرتے تھے مگر اس کے ” رحمان “ ہونے کے منکر تھے بلکہ جب اللہ تعالیٰ کے ” رحمن “ ہونے اور اسے اس نام سے پکارنے کی دعوت دی جاتی تو اس سے چڑتے اور کہتے۔۔۔ رحمن کیا چیر ہے ؟ اور اس سے ان کی نفرت بڑھ جاتی۔۔۔ یہ حدیبیہ کے صلح نامہ پر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے۔۔۔ لکھوانا چاہا تو وہ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ رحمن ورحیم کیا ہیں ؟ بروایت بکاری۔ (ابن کثیر) ۔۔۔” الرحمن “ اسما حسنیٰ میں سے ہے۔ حدیث میں ہے اللہ کے نزدیک سب سے پیارے نام ” عبداللہ “ اور ” عبدالرحمن “ ہیں۔ (مسلم)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اور قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ہر دور کے منکرین حق کا ایک جیسا انداز اور سوچ۔ اس فرمان کی ابتداء ” کذ لک “ کے الفاظ سے کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے ” مانند “ اور ” اس جیسا “۔ یعنی جس طرح کا وطیرہ اہل مکہ اور قرآن کے منکروں نے اختیار کیا ہے۔ اس جیسا پہلے زمانے کے کفار بھی اختیار کیے ہوئے تھے انہوں نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) سے معجزات کا مطالبہ کیا۔ جب ان کے مطالبہ پر انبیاء کرام (علیہ السلام) نے انہیں من جانب اللہ معجزے دکھائے تو منکرین حق نے تسلیم ورضا کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے انکار اور مخالفت کا رویہ اختیار کیا۔ یہ لوگ بالآخر دنیا میں ذلیل ہوئے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو ہم نے ایسی امت کی طرف بھیجا ہے جس جیسی پہلے امتیں گزر چکی ہیں۔ آپ کو بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں آپ من وعن پڑھ کر انہیں سناتے اور سمجھاتے جائیں۔ جس طرح پہلی امتوں کے لوگ انکار کرتے رہے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث کیے گئے ان میں بھی لوگ ” الرحمان “ کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ان کے انکار پر شکست خور دہ اور دل گرفتہ ہونے کی بجائے انہیں صاف صاف فرمائیں۔ کہ تم بیشک ” ا لرحمٰن “ کا انکار کرو۔ میرا اسی پر بھروسہ ہے اور اس کے سوا کوئی معبودِ حق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہے۔ بالآخر اسی کی طرف سب نے پلٹ کر جانا ہے۔ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو معبود، مشکل کشا اور حاجت روا مانتے تھے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات اپنے سوا دوسروں کو بھی دے رکھے ہیں۔ جس بنا پر وہ بتوں کو خدا کا اوتار اور شریک سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے مبارک نام ” ا لرحمٰن “ کا بالکل انکار کرتے تھے۔ جب انہیں کہا جاتا۔ اللہ ہی اور ” رحمٰن “ ہے اس ” الرحمٰن “ کو سجدہ کرو تو وہ کہتے، رحمن کون ہے کہ جسے ہم سجدہ کریں۔ (وَإِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَہُمْ نُفُوْرًا) [ الفرقان : ٦٠] ” اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ رحمن کے لیے سجدہ کرو۔ وہ کہتے ہیں الرحمن کون ہے ؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جسے آپ سجدہ کرنے کا حکم دیتے ہیں اور ان کی نفرت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ “ وہ یہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ اگر ہم، اللہ کے ساتھ اپنے معبودوں کو شریک کرتے ہیں تو آپ بھی ” رحمان “ کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی وضاحت کی گئی کہ اللہ کا دوسرا نام ” الرحمن “ ہے۔ اس لیے اللہ کو پکارو یا الرحمن کو، اسی کے بہترین نام ہیں۔ (بنی اسرائیل : ١١٠) مسائل ١۔ پہلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے گئے تھے۔ ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام لوگوں کے سامنے کتاب اللہ پڑھنا اور اس کی تفسیر کرنا تھا۔ ٣۔ کافر ” الرحمن “ کا انکار کرتے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ تفسیر بالقرآن توکل علی اللہ کے فائدے : ١۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی الٰہ نہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور مجھے اسی کی طرف پلٹنا ہے۔ (الرعد : ٣٠) ٢۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : ١٥٩) ٣۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے۔ (الطلاق : ٣) ٤۔ عمل کرنے والوں کے لیے بہتر اجر ہے جو صبر کرتے ہیں اور اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (العنکبوت : ٥٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (قُلْ ھُوَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (آپ فرما دیجئے کہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) تم نے اگر میری بات نہ مانی تو میرا کچھ بگڑنے والا نہیں (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہَ مَتَابُ ) (میں نے صرف اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میرا رجوع کرنا ہے) جو اس کی حفاظت میں ہے بس وہی محفوظ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30:۔ یہ ” مَنْ اَنَابَ “ کی صفت ہے۔ ” اَلَا بِذِکْرِ اللہِ “ ادخال الٰہی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ بشارت اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 ۔ اور جس طرح ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے تھے اسی طرح ہم نے آپ کو بھی ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس امت سے پہلے اور امتیں گزر چکی ہیں تا کہ آپ ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنائیں جو کتاب ہم نے آپ کو وحی کے ذریعہ بھیجی ہے اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ رحمن کے ساتھ کفر و انکار کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ۔ آپ فرما دیجئے وہ رحمن میرا رب اور میرا مربی ہے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود اور عبادت کے لائق نہیں میں نے اسی پر بھروسہ اور توکل کر رکھا ہے اور میرا مرجع اسی کی ذات ہے اور اسی کی پاس مجھ کو جانا ہے۔ یعنی آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں جس طرح پچھلی امتیں گزر چکی ہیں اور ان میں ہادی آتے رہے ہیں ۔ اسی طرح تم کو اس امت کا رسو ل بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ تم ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنائو یہ لوگ قرآن میں رحمن کا نام سن کر انکار کرتے ہیں آپ رحمن کا تعارف کرا دیجئے اور ان کو بتا دیجئے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی گناہوں سے چھوٹ کر دے منکر ہوتے ہیں رحمان سے عرب کے لوگ اللہ تعالیٰ کا نام رحمان نہ بولتے تھے جب قرآن کریم میں یہ نام سنا کہنے لگے تو نے اپنا ایک معبود چھوڑ کر دوسرا پکڑا فرمایا کہ کہہ وہی میرا ایک رب ہے جس نام سے پکاروں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ ایا ما تدعوا فلہ الاسماء الحسنیٰ یعنی وہ ای ہی ہے اس کے صفاتی نام بہت سے ہیں چاہے جس نام سے اس کو پکارو۔