Punishment is by Allah, and the Messenger's Job is only to convey the Message
Allah said to His Messenger,
وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ
...
Whether We show you part of what We have promised them,
O Muhammad, part of the disgrace and humiliation We have promised your enemies in this life,
...
أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ
...
or cause you to die, (before that),
...
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَغُ
...
your duty is only to convey,
We have only sent you to convey to them Allah's Message, and by doing so, you will have fulfilled the mission that was ordained on you,
...
وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
and on Us is the reckoning,
their reckoning and recompense is on Us.'
Allah said in similar Ayat,
فَذَكِّرْ إِنَّمَأ أَنتَ مُذَكِّرٌ
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ
إِلاَّ مَن تَوَلَّى وَكَفَرَ
فَيْعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الاٌّكْبَرَ
إِنَّ إِلَيْنَأ إِيَابَهُمْ
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ
So remind them - you are only one who reminds. You are not a dictator over them - Save the one who turns away and disbelieves. Then Allah will punish him with the greatest punishment. Verily, to Us will be their return, Then verily, for Us will be their reckoning. (88:21-26)
Allah said next,
آپ کے انتقال کے بعد
تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا ؟ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا ۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے ۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی جاروغہ اور نگہبان نہیں ۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے ۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں ؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے ؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے ۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہا اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے ۔ عرب شاعر کہتا ہے
الارض تحیا اذا ما عاش عالمہا متی یمت عالم منہا یمت طرف
کالارض تحیا اذا ما الغیث حل بہا وان ابی عارفی اکنا فہا التلف
یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے ۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے ۔ جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے ۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے ، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے ۔ جیسے فرمایا آیت ( ولقد اھلکنا ما حولکم من القری ، ) الخ ، یہی قول امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا بھی پسندیدہ ہے ۔