Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 40

سورة الرعد

وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ ﴿۴۰﴾

And whether We show you part of what We promise them or take you in death, upon you is only the [duty of] notification, and upon Us is the account.

ان سے کیے ہوئے وعدوں میں سے کوئی اگر ہم آپ کو دکھا دیں یا آپ کو ہم فوت کرلیں تو آپ پر تو صرف پہنچا دینا ہی ہے ۔ حساب تو ہمارے ذمہ ہی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Punishment is by Allah, and the Messenger's Job is only to convey the Message Allah said to His Messenger, وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ ... Whether We show you part of what We have promised them, O Muhammad, part of the disgrace and humiliation We have promised your enemies in this life, ... أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ ... or cause you to die, (before that), ... فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَغُ ... your duty is only to convey, We have only sent you to convey to them Allah's Message, and by doing so, you will have fulfilled the mission that was ordained on you, ... وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ and on Us is the reckoning, their reckoning and recompense is on Us.' Allah said in similar Ayat, فَذَكِّرْ إِنَّمَأ أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ إِلاَّ مَن تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيْعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الاٌّكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَأ إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ So remind them - you are only one who reminds. You are not a dictator over them - Save the one who turns away and disbelieves. Then Allah will punish him with the greatest punishment. Verily, to Us will be their return, Then verily, for Us will be their reckoning. (88:21-26) Allah said next,

آپ کے انتقال کے بعد تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا ؟ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا ۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے ۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی جاروغہ اور نگہبان نہیں ۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے ۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں ؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے ؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے ۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہا اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے ۔ عرب شاعر کہتا ہے الارض تحیا اذا ما عاش عالمہا متی یمت عالم منہا یمت طرف کالارض تحیا اذا ما الغیث حل بہا وان ابی عارفی اکنا فہا التلف یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے ۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے ۔ جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے ۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے ، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے ۔ جیسے فرمایا آیت ( ولقد اھلکنا ما حولکم من القری ، ) الخ ، یہی قول امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا بھی پسندیدہ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٢] کفار مکہ پر عذاب آپ کے جیتے بھی اور بعد میں بھی :۔ اس آیت میں بھی کافروں کے اس مطالبہ کا جواب ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اب تک ہم پر عذاب آجانا چاہیے تھا یا کیوں نہیں آتا && اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ کے ذمہ صرف دعوت دین اور اس کی تبلیغ ہے آپ یہی کام کرتے جائیے۔ ان منکرین سے نمٹنا اللہ کا کام ہے اور جس عذاب کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ بھی ان پر آکے رہے گا۔ اس عذاب کا کچھ حصہ تو آپ اپنی زندگی میں جیتے جی دیکھ لیں گے اور کچھ حصہ آپ کی زندگی کے بعد ان کو دیا جائے گا اور اس طرح ان کا یہ مطالبہ بھی پوراکر دیا جائے گا۔ پھر ان منکرین کو آپ کے جیتے جی جو سزائیں ملیں ان کا ذکر قرآن اور حدیث میں وضاحت سے موجود ہے اور جو آپ کی زندگی کے بعد ملیں ان کا ذکر احادیث و آثار و تاریخ میں مل جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ ۔۔ : ” مَا “ شرط کے معنی کی تاکید کے لیے ہے جو ” اِنْ “ کا مفہوم ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا ہے ” اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے دکھا دیں۔ “ یہاں ” نُرِيَنَّكَ “ کا معنی آنکھوں سے دکھانا ہے، دل سے یا گمان اور خیال سے نہیں۔ شرط میں مذکور ” نُرِيَنَّكَ “ اور ” نَتَوَفَّيَنَّكَ “ دونوں کا جواب محذوف ہے، یعنی ضروری نہیں کہ دنیا میں انھیں دی جانے والی سزا ہم آپ کی زندگی ہی میں آپ کو دکھا کردیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ان کی سزا کا وقت آئے، اگر ہم آپ کو آنکھوں سے ان کی کچھ دنیوی سزا دکھا دیں تو یہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سینوں اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوگا اور اگر پہلے فوت کرلیں تب بھی آپ فکر نہ کریں، کیونکہ آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ رہا ان کے اعمال پر محاسبہ اور مؤاخذہ تو وہ ہمارے ذمے ہے۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ کچھ وعدے تو آپ کی زندگی میں پورے ہوں گے اور کچھ آپ کی وفات کے بعد۔ باغبان پودے لگاتا ہے، کچھ اس کی زندگی میں پھل دے دیتے ہیں اور کچھ کئی سالوں کے بعد آنے والی نسل کو پھل دیتے ہیں، لہٰذا آپ کو اس کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے اور انھیں بےفکر اور غافل نہیں رہنا چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse وَإِن مَّا نُرِ‌يَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (And if We show you some of what We promise them, or We take you back to Us), it is to comfort and assure the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he has been given the good news that the promises Allah has made to him that Islam will have the final victory and disbelief and disbelievers will be disgraced shall come to pass definitely. But, he is told, &you should not concern yourself as to when this victory will finally come.& May be, this happens within his life time, and it is also possible that it comes after his departure from this mortal world. ` For your peace of heart, even this much is enough that you are continuously witnessing that We are causing the lands of the dis-believers to keep being sliced off their sides,& that is, these sides pass on under Muslim control whereby the land occupied by them keeps reduc¬ing in area. This causes well-being for Muslims and a day will come when the final phase of their victory shall stand completed. The com¬mand is in the very hands of Allah Ta` ala. There is no one who can avert this command. And He is the One swift at reckoning.

(آیت) وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے اور مطمئن رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر و کافر ذلیل و خوار ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وفات کے بعد ہو اور آپ کے اطمینان کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں یعنی یہ اطراف مسلمانوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں اس طرح ان کی مقبوضہ زمین گھٹتی جاتی ہے اور مسلمانوں کے لئے کشایش ہوتی جاتی ہے اس طرح ایک دن اس فتح کی تکمیل بھی ہوجائے گی حکم اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور بہت جلد حساب لینے والا ہے سورة رعد تمام شد :

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40؁ وفی وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] ( و ف ی) الوافی اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ نقص النَّقْصُ : الخُسْرَانُ في الحَظِّ ، والنُّقْصَانُ المَصْدَرُ ، ونَقَصْتُهُ فهو مَنْقُوصٌ. قال تعالی: وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] ، وقال : وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] ، ( ن ق ص ) النقص ( اسم ) حق تلفی اور یہ نقصتہ ( ن ) فھو منقو ص کا مصدر بھی ہے جس کے معنی گھٹانے اور حق تلفی کر نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] اور جانوں اور مالوں ۔۔۔۔ کے نقصان سے وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پوارا کم وکاست دینے والے ہیں ۔ طرف طَرَفُ الشیءِ : جانبُهُ ، ويستعمل في الأجسام والأوقات وغیرهما . قال تعالی: فَسَبِّحْ وَأَطْرافَ النَّهارِ [ طه/ 130] ، أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهارِ [هود/ 114] ( ط رف ) الطرف کے معنی کسی چیز کا کنارہ اور سرا کے ہیں اور یہ اجسام اور اوقات دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَسَبِّحْ وَأَطْرافَ النَّهارِ [ طه/ 130] اور اس کی بیان کرو اور دن کے اطراف میں ۔ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهارِ [هود/ 114] اور دن ۔ کے دونوں سروں ( یعنی صبح اور شام کے اوقات میں ) نماز پڑھا کرو ۔ تَّعْقيبُ : أن يأتي بشیء بعد آخر، يقال : عَقَّبَ الفرسُ في عدوه . قال : لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ، أي : ملائكة يتعاقبون عليه حافظین له . وقوله : لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ [ الرعد/ 41] ، أي : لا أحد يتعقّبه ويبحث عن فعله ( ع ق ب ) العقب والعقیب التعقیب ایک چیز کے بعد دوسری لانا ۔ عقب الفرس فی عدوہ گھوڑے نے ایک دوڑ کے بعد دوسری دوڑ لگائی قرآن میں ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں اور آیت کریمہ :۔ لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ [ الرعد/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا اور نہ اس پر بحث کرسکتا ہے ۔ سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس کے بالمقابل ایلد وا کے معنی سست ہونا آتے ہیں ۔ سارعوا وتسارعو ایک دوسرے سے سبقت کرنا چناچہ قرآن میں ہے : وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] اور اپنے پروردگار کی بخشش ( اور بہشت کی ) طرف لپکو ۔ وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] اور نیکیوں پر لپکتے ہیں ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور جھٹ جھٹ نکل کھڑے ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠) اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کررہے اس میں اگر کچھ آپ کی زندگی دکھا دیں یا اس عذاب کے دکھانے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں تو کسی بھی صورت میں آپ فکر نہ کریں کیوں کہ آپ کے ذمہ تو صرف احکام الہی کا پہنچا دینا ہے اور ثواب و عذاب دینا تو ہمارا کام ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ (وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ ) یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی ہی میں ان کو عذاب الٰہی میں سے کچھ حصہ مل جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی میں ان پر ایسا وقت نہ آئے بلکہ عذاب کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں۔ (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ ) آپ پر ہمارا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری تھی سو آپ نے یہ ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کردی۔ اب ان کو ہدایت دینا یا نہ دینا ان پر عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اور ان کا حساب لینا یہ سب کچھ ہمارے ذمے ہے اور ہم یہ فیصلے اپنی مشیت کے مطابق کریں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

59. This is to console the Prophet (peace be upon him), as if to say: O Prophet, you need not concern yourself as to the end of these disbelievers who have rejected the truth. You should go on performing with peace of mind the mission that has been entrusted to you and leave it to Us to give them suitable punishment. Though this has been addressed to the Prophet (peace be upon him), it is obvious that it is really meant to warn the opponents of the truth, who were demanding definitely from the Prophet (peace be upon him) by way of a challenge to bring about the scourge about which threats were being held out to them.

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :59 مطلب یہ ہے کہ تم اس فکر میں نہ پڑو کہ جن لوگوں نے تمہاری اس دعوت حق کو جھٹلا دیا ہے ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور کب وہ ظہور میں آتا ہے ۔ تمہارے سپرد جو کام کیا گیا ہے اسے پوری یکسوئی کے ساتھ کیے چلے جاؤ اور فیصلہ ہم پر چھوڑ دو ۔ یہاں بظاہر خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ، مگر دراصل بات ان مخالفین کو سنانی مقصود ہے جو چیلنج کے انداز میں بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ ہماری جس شامت کی دھمکیاں تم ہمیں دیا کرتے ہو آخر وہ آکیوں نہیں جاتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

39: بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ان کافروں کی سرکشی کے باوجود ان پر کوئی عذاب کیوں نہیں آرہا ہے ؟ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ عذاب کا صحیح وقت اللہ تعالیٰ ہی نے اپنی حکمت کے تحت مقرر فرمایا ہوا ہے، وہ کسی وقت بھی آئے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا ذہن فارغ رکھنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری تبلیغ کی ہے، ان کافروں کا محاسبہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو وہ اپنی حکمت کے تحت مناسب وقت پر انجام دے گا۔ (توضیح القرآن)

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٠۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار کے لئے ہم نے جو وعدہ کیا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں بھی ہم چاہیں تو کچھ عذاب تمہاری حیات میں ان پر نازل کردیں یا تمہیں اپنے پاس بلا لیں یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر تمہارا کام صرف پیغام الٰہی کا پہنچانا ہے۔ کوئی ایمان لائے یا نہ لائے تم سے اس بارے میں کچھ سوال نہ ہوگا تم اپنا کام کئے جاؤ باقی رہی جزا سزا وہ اللہ کے اختیار میں ہے ہم اچھی طرح ان کا حساب کتاب کر کے فیصلہ کردیں گے پھر اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسکین خاطر کے لئے فرمایا کہ اس وعدہ کی یہ علامت ظاہر بھی ہو رہی ہے کہ ملک ان کے ہاتھوں سے رفتہ رفتہ نکلے جارہے ہیں اور مسلمان اس پر قابض ہوتے جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) وغیرہ کا یہی قول ہے اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ خدا کے حکم کا کوئی پھیر نے والا نہیں ہے وہ جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے اس کے حکم سے اسلام کا قبول عروج پر ہوگا اور کفر کو ادبار نصیب ہوگا یہ حکم ہو کے رہے گا کسی طرح بدل نہیں سکتا۔ سورت القمر میں جب یہ مکی آیت { سیھزم الجمع ویولون الدبر } [٥٤: ٤٥] نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین مکہ کی جماعت اور گروہ کو قریب ہے کہ شکست ہوجاوے اور یہ لوگ بھاگ جاویں تو حضرت عمر (رض) کو شبہ تھا کہ یہ کن لوگوں کی شکست کا ذکر ہے لیکن جب بدر کی لڑائی کے حملہ کے وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی اس وقت حضرت عمر (رض) کہتے ہیں مجھ کو یہ معلوم ہوا کہ اس مکی آیت میں مشرکین مکہ کی شکست کا وعدہ تھا جس کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ صحیح بخاری نسائی، طبرانی اور بیہقی کی الاسماء والصفات میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) اور طبرانی تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے جو روایتیں ١ ؎ ہیں ان میں یہ قصہ تفصیل سے ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسائی میں براء بن عازب (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ احزاب کی لڑائی کے وقت مدینہ کے گرد جب خندق کھودی جاتی تھی تو اس میں ایک گھنگرو سخت نکل آیا جس کو پھاوڑے کی تین ضربوں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود توڑا اور پھاوڑے کی پہلی ضرب پر ملک شام اور دوسری ضرب پر ملک فارس اور تیسری ضرب پر ملک یمن فتح ہوجانے کی خوشخبری دی جس کا ظہور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد صحابہ کے زمانہ میں ٢ ؎ ہوا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں دو طرح پر اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا پیشین گوئی کے طور پر جو ذکر تھا ان روایتوں سے ان کے ظہور کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے اور اس سچی پیشن گوئی سے قرآن شریف کا کلام الٰہی اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سچا رسول ہونا اچھی طرح ثابت ہوسکتا ہے۔ اس آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں زمین کے گھٹانے کا جو ذکر ہے اگرچہ بعضے مفسرین نے اس کا مطلب اور بھی بیان کیا ہے مگر صحیح مطلب یہی ہے جو شاہ صاحب نے اپنے اردو فائدہ میں بیان کیا ہے کہ کفر دن بدن زمین پر گھٹتا جاتا ہے اور اسلام ظہور پکڑتا جاتا ہے اس مطلب پر بعضے مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ جب اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سورت مکی ہے تو ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تھے اس وقت تک کفر کون سی بستیوں میں گھٹتا تھا کہ جن بستیوں کے حال پر اس آیت کے مطلب کو صادق کیا جائے اگرچہ بعضے مفسروں نے اس اعتراض سے بچنے کے لئے اس آیت کو مدنی کہا ہے لیکن صحیح جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو شاہ ولی اللہ علیہ الرحمتہ نے اپنے فارسی فائدہ میں دیا ہے کہ ابوذر غفاری (رض) کا قبیلہ اور چار قبیلے ہجرت سے پہلے اطراف مکہ میں اسلام قبول کرچکے تھے جن کا تفصیلی ذکر صحیح بخاری ٣ ؎ اور حدیث کی کتابوں میں ہے ان قبائل کے حال سے ہی اللہ تعالیٰ نے قریش کو اس آیت میں قائل کیا ہے کہ قریش دیکھتے نہیں کہ اطراف مکہ کے لوگ اسلام قبول کرتے جاتے ہیں اور ان کی بستیوں میں کفر گھٹتا جاتا ہے لیکن اہل مکہ نے اللہ کے گھر میں وہی قدیمی کفر پھیلا رکھا ہے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن سب نیک و بد کا اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب ہونے والا ہے۔ صحیح مسلم میں ابوذر (رض) کی بڑی حدیث ہے جس میں ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میرے اسلام لانے کے وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو یہ نصیحت کی تھی کہ اپنی قوم کو بھی اسلام لانے کی رغبت دلانا اس لئے مکہ سے اسلام لا نے کے بعد جب میں اپنی قوم میں آیا اور میں نے ان کو اسلام کی رغبت دلائی تو آدھی قوم ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگئی اور آدھی ہجرت کے بعد ٤ ؎۔ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ ابوذر غفاری (رض) کے قبیلہ بنی غفار میں اور اس قبیلہ کے پڑوسی قبائل مزینہ جہینہ اور اشجع میں عرب کے اور قبائل سے پہلے اسلام کیوں کر پھیلا، بنی غفار مزینہ جہنیہ اور اشجع قبیلہ مضر کی شاخیں ہیں لیکن قبیلہ مضر کی اور شاخوں ہوازن وغیرہ سے ان لوگوں کا اسلام پہلے ہے اسی طرح کے لوگوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحیح بخاری ٥ ؎ کی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت میں ( غیر خزایا ولا ندانی) فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر لڑائی کے اپنی خوشی سے یہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٥٦٤ ج ٢ باب قصۃ بدر و فتح الباری ص ٦ ج ٤ و تفسیر مظہری ص ١٤٢ ج ٩۔ ٢ ؎ مجمع الزوائد ص ؎ ١٣ ج ٦ باب غزوۃ الخندق وانفرلیظتہ۔ ٣ ؎ صحیح بخاری ص ٤٩٨ ج ١ باب ذکر اسلم و غفار دمزینہ الخ۔ ٤ ؎ صحیح مسلم ص ٢٩٥۔ ٢٩٦ ج ٢ باب من فضائل ابی ذر۔ ٥ ؎ ص ١٣ ج اول باب اواء الخمس من الایمان

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13: 40) ان ما نرینک۔ اصل میں ان نریک۔ ہے ما زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے اور نون ثقیلہ تاکید کے لئے۔ ان شرطیہ۔ اگر ہم تجھ کو کھلادیں۔ نعدہم۔ مضارع جمع متکلم وعد مصدر (باب ضرب) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں (یعنی جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ یا وعدہ کیا ہوا ہے۔ نتوفینک۔ نتوفین۔ مضارع بانون ثقیلہ برائے تاکید۔ جمع متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم تیری زندگی پوری کردیں۔ ہم تیری روح قبض کرلیں۔ مطلب کہ جس عذاب کا وعدہ ہم نے ان کافروں سے کیا ہوا ہے ان میں سے کوئی عذاب ہم آپ کی زندگی میں ان پر نازل کر کے آپ کو دکھا دیں یا عذاب آنے سے قبل ہم آپ کو اٹھا لیں (یہ ہماری مرضی ہے) کیونکہ آپ کے ذمہ تبلیغ ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ یعنی ان کے اعمال پر محاسبہ اور مواخذہ ہمارے ذمہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ کچھ وعدے وعید تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں پورے ہوں گے اور کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے لئے جلدی نہیں کرنی چاہیے اور ان کو چاہے کہ بےفکر اور غافل نہ ہوں۔ (از رازی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب : منکرین حق کا سینکڑوں دلائل سننے اور درجنوں معجزات دیکھنے کے باوجود اس بات پر مصر رہنا اور تکرار کرنا کہ رسول ہمیں مزید معجزات کیوں نہیں دکھاتا یا ہمارے مطالبہ پر ہم پر سخت ترین عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ اس کا بھی قرآن مجید نے متعدد مقامات پر جامع اور تفصیلی جواب دیا ہے۔ جس کے ثبوت حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امتوں کے حوالے سے پیش کیے ہیں۔ مگر پھر بھی منکرین حق آپ سے اس قسم کے مطالبات کرتے ہی رہتے تھے۔ جن کا اس مقام پر فقط اتنا ہی جواب دیا ہے کہ اے رسول ! جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اور ہم نے آپ سے وعدہ کیا ہے۔ اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات مبارکہ میں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد انہیں ضرور دکھا اور چکھا دیا جائے گا۔ ان کی حماقتوں کی طرف توجہ دینے کی بجائے جو کچھ آپ پر نازل کیا جا رہا ہے ان تک پہنچاتے جائیں۔ آپ کے ذمہ ان کو حق بات پہنچانا ہے اور ہمارے ذمہ ان سے حساب لینا ہے۔ یہ عذاب کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے تمام اطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں خبر ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ جس کے فیصلے پر کوئی نظرثانی اور تعاقب کرنے والا نہیں۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ زمین کے چاروں اطراف کی طرف تنگ ہونے کا اس زمانے کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ اہل مکہ اور دیگر مخالفین کی ہزار کوششوں کے باوجود اسلام کا پھریرہ دور دور تک پھیلتا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ صحابہ کرام (رض) کے دور میں ہی وہ وقت آیا کہ جب مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرے اور مسلمان تقریباً آٹھ سو سال دنیا میں واحد سپر پاور کے طور پر حکومت کرتے رہے۔ اس طرح اللہ کا حکم اور اس کا فیصلہ دنیا میں پورا ہوا۔ جس کا قرآن مجید نے ان الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ کفار چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ خواہ یہ بات مشرکوں کے لیے کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔ (التوبۃ : ٣٢، ٣٣) اللہ تعالیٰ نے یہ بات لکھ چھوڑی ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت اور غلبہ والا ہے۔ (المجادلۃ : ٢١) (عَنْ أَبِیْ سُکَیْنَۃَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُحَرَّرِیْنَ عَنْ رَّجُلٍ مِّنْ أَصْحَاب النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَہُمْ صَخْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَآءَ ہٗ نَاحِیَۃَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہٖ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ......[ رواہ النسائی : باب غزوۃ الترک والحبشۃ ] حضرت ابو سکینہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحا بی سے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو خندق کھودتے ہوئے ایک چٹان درمیان میں حائل ہوگئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کدال پکڑا اور اپنی چادر کو خندق کے کنارے رکھا اور کہا (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہٖ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) تو پتھر کا تہائی حصہ ٹوٹ گیا ......... مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے عذاب لے آئے۔ ٢۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام تبلیغ کرنا تھا۔ ٣۔ حساب لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) کا کام حق بات پہنچانا ہے : ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام حق پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : ٤٠) ٢۔ نہیں ہے رسولوں پر مگر حق بات پہنچانا۔ (النحل : ٣٥) ٣۔ اگر وہ منہ موڑلیں تو آپ کی ذمہ داری پہنچانا ہے۔ (آل عمران : ٢٠) ٤۔ نہیں ہے رسول پر مگر واضح طور پر پیغام پہنچانا۔ (النور : ٥٤) ٥۔ آپ نصیحت کرتے رہیں آپ کا کام نصیحت کرنا۔ (الغاشیہ : ٢١) ٦۔ اگر تم اعراض کرو تو جان لو ہمارے رسولوں پر فقط پہنچا نا ہے۔ (المائدۃ : ٩٢) ٧۔ رسولوں نے کہا ہمارا کام تو تبلیغ کرنا ہے۔ (یٰس : ١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ ) (الایۃ) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے مخاطبین جو آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اور ہماری طرف سے جو ان پر عذاب آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس میں آپ کو کسی طرح پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر آپ کی موجودگی میں ہم نے کوئی عذاب بھیج دیا جسے آپ نے اپنی نظروں سے دیکھ لیا تو یہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا ذریعہ ہوگا اور اگر ہم نے آپ کو ان پر عذاب آنے سے پہلے اٹھا لیا تو یہ بھی کوئی فکر کی بات نہیں ہے ‘ چونکہ آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اس لیے ان کے قبول نہ کرنے پر آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے اور ایمان قبول نہ کرنے پر آپ پر عذاب لانے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے پہنچانا آپ کا کام ہے اور حساب لینا ہم سے متعلق ہے ‘ آپ اپنا کام کرتے رہیں قال صاحب الروح ناقلا عن الحوفی فیقال واللہ تعالیٰ اعلم واما نرینک بعض الذی نعدھم فذلک شافیک من اعدائک و دلیل صدقک واما نتوفینک قبل حلولہ بھم فلا لوم علیک ولا عتب ویکون قولہ تعالیٰ (فانما) الخ دلیلا علیھا۔ علمائے تفسیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت شریف میں دو چیزوں کا ذکر ہے اول آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں مشرکین پر عذاب آجانا ‘ ان میں سے پہلی بات کا ظہور ہوا اور وہ اس طرح کہ غزوہ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور انہوں نے ذلت اٹھائی پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں مکہ معظمہ فتح ہوگیا اور اس وقت کے موجودہ مشرکین میں سے کچھ مقتول ہوئے اور اکثر نے اسلام قبول کیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

43: تخویف دنیوی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا فریضہ تبلیغ ادا کردیا اگر وہ نہیں مانتے اور ضد و انکار پر قائم ہیں تو ہم انہیں سخت عذاب دیں گے خواہ آپ کی زندگی میں خواہ آپ کی وفات کے بعد۔ آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کو عبرت ناک سزا دی اسی طرح آپ کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ باقی ماندہ دشمنانِ اسلام کو مبتلائے عذاب کیا۔ آپ کا کام ہے تبلیغ اور ہمارا کام ہے دنیا وآخرت میں تکذیب و انکار پر ان کا محاسبہ کرنا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

40 ۔ اور جو وعدے ہم ان سے عذاب وغیرہ کے کرتے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع ہم آپ کو دکھادیں یا ان کے وقوع سے پہلے ہم آپ کی عمرپوری کردیں ۔ بہر حال آپ کے ذمے تو صرف ہمارے احکام کا پہنچا دینا ہے اور رہا ان سے باز پرس کرنا اور حساب لینا تو یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہ بھی نبوت کے خلاف اعتراض کا جواب ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو جو وعدے عذاب کے آپ ہم کو دیتے ہیں وہ آتے کیوں نہیں اور جب نہیں آتے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نبی نہیں ہیں۔ اس کا جواب ہے کہ وعدے اپنے وقت پر پورے ہوں گے خواہ ان کی حیات میں ہوں یا وفات کے بعد ہوں دنیا میں ہوں یا آخرت میں آپ اس اعتراض کی فکر نہ کیجئے آپ کا کام ابلاغ و تبلیغ ہے اور وارو گیر اور حساب کتاب ہمارا کام ہے۔