Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 9

سورة الرعد

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡکَبِیۡرُ الۡمُتَعَالِ ﴿۹﴾

[He is] Knower of the unseen and the witnessed, the Grand, the Exalted.

ظاہر و پوشیدہ کا وہ عالم ہے ( سب سے ) بڑا اور ( سب سے ) بلند وبالا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ... All-Knower of the Ghayb (the unseen) and the Shahadah (the witness able), Who knows everything that the servants see and all what they cannot see, and none of it ever escapes His knowledge, ... الْكَبِيرُ ... the Most Great, greater than everything, ... الْمُتَعَالِ the Most High. above everything, قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمَا (Allah) surrounds all things in (His) knowledge. (65:12), and has full power over all things, the necks are under His control and the servants are subservient to Him, willingly or unwillingly.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] علم غیب اور شہادت کی صورتیں :۔ یعنی ماضی، حال اور مستقبل اللہ کی نگاہوں میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں، وہ پیش آنے والے حالات کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح گزرے ہوئے واقعات اور موجودہ حالات کو جانتا ہے یا وہ ان قوانین فطرت کو بھی اسی طرح جانتا ہے جنہیں ابھی تک انسان دریافت نہیں کرسکا یا وہ اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ جس طرح ان قوانین کو جانتا ہے جنہیں انسان دریافت کرچکا ہے یا کر رہا ہے۔ غرض غیب اور شہادت اتنے وسیع المفہوم الفاظ ہیں کہ ان میں بہت سے معانی کی گنجائش موجود ہے اور اس کے علم کی یہ لامحدود وسعت ہی اس کے سب سے بڑا اور عالی شان ہونے کی دلیل ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۔۔ :” الْكَبِيْرُ “ میں بھی مبالغہ ہے اور ” الْمُتَعَالِ “ (جو اصل میں ” عَلَا یَعْلُوْ “ کے باب تفاعل سے ” مُتَعَالِوٌ“ تھا) میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ مراد ہے۔ ” مُتَعَالِوٌ“ کی ” واؤ “ کو ” یاء “ سے بدلا تو ” مُتَعَالِیٌ“ ہوا، پھر ” یاء “ کو آیات کے آخری الفاظ (جنھیں اصطلاح میں فاصلہ، فواصل کہتے ہیں) کی موافقت اور تخفیف کے لیے حذف کردیا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی کبریائی اور بلندی کا بیحد و حساب ہونا بیان ہوا ہے، جو درحقیقت پچھلی بات ہی کی تاکید ہے۔ ” الْغَيْبِ “ مصدر ہے، بمعنی اسم فاعل، یعنی غائب جو حواس اور بدیہ عقل سے غائب ہو۔ ” وَالشَّهَادَةِ “ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی جو شاہد و حاضر ہے۔ اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لانے سے مبالغہ مقصود ہے، جیسے ” زَیْدٌ عَادِلٌ“ کے بجائے ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ کہتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The theme of the exclusive attributes of the perfection of Allah Ta` ala continues. Starting earlier than the verses cited above, this theme is ac¬tually an array of proofs concerning the Oneness of Allah. Onwards from the previous verse (9), it was said in the first verse (1o) here: عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ‌ الْمُتَعَالِ (- the Knower of the hidden and the manifest, the Great, the High). The word: اَلغَیب (al-ghayb : the hidden, the unseen) means that which is absent from the reach of human senses, that is, which cannot be seen with eyes, nor heard with ears, nor smelt with the nose, nor tasted with the tongue, nor sensed by touching with hands. As for: اَلشَہَادَۃ (ash-shahadah : manifest, present), it stands in contrast to &al-ghayb& or the hidden and denotes what can be found out by using human senses mentioned above. The verse means that it is the very ex¬clusive attribute of Allah Ta` ala that He knows everything hidden (al-ghayb) precisely as He knows the manifest, present and existing. The word: الْكَبِيرُ (al-kabir) means the great and الْمُتَعَالِ (al-muta’ al) means the high, above. The sense conveyed by these two words is that He is great and far above the attributes of what He has created. Though the disbelievers and polytheists did confess to the great and exalted state of the Being of Allah Ta ala, in a general way, but were obviously misguided by a lack of proper perception when they took Allah Ta` ala on the analogy of common human beings and went on to associate such attributes to him as were far too removed from His great majesty. For instance, the Jews and the Christians attributed a son for Allah, while oth¬ers suggested for Allah a body and its parts just like those of human beings, and still others tried to prove direction and orientation for Him. But, the fact is that Allah is far above, absolutely pure and free of all such conditions and attributions. It should be kept in mind that, in order to emphasize His absolvement from all such human attributions, He has repeatedly reminded us in the Qur&an: سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ that is, &Allah is pure and free from what these people attribute to Him.& (23:91; 37:159; ) The perfection of the knowledge of Allah Ta ala was described in عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (the Knower of the hidden and the manifest) appearing in the first sentence (9) as well as in اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ (Allah knows what every woman carries) in the verse previous to it (8). Mentioned in the second sentence here: الْكَبِيرُالْمُتَعَالِ (the great, the high) is the power and greatness of Allah for His power and reach is far beyond any human calculation. Also in the verse which follows, the same perfection in knowledge and power has been pointed to in a particular manner. There it has been said:

خلاصہ تفسیر : وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے سب سے بڑا (اور) عالی شان ہے تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے یہ سب (خدا کے علم میں) برابر ہیں (یعنی سب کو یکساں جانتا ہے اور جیسا تم میں سے ہر شخص کو جانتا ہے اسی طرح ہر ایک کی حفاظت بھی کرتا ہے چناچہ تم میں سے) ہر شخص ( کی حفاظت) کے لئے فرشتے (مقرر) ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکم خدا ( بہت بلاؤں سے) اس کی حفاظت کرتے ہیں (اور اس سے کوئی یوں نہ سمجھ جائے کہ جب فرشتے ہمارے محافظ ہیں پھر جو چاہو کرو معصیت خواہ کفر کسی طرح عذاب نازل ہی نہ ہوگا یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کیونکہ) واقعی اللہ تعالیٰ (ابتدا تو کسی کو عذاب دیتا نہیں چناچہ اس کی عادت ہے کہ وہ) کسی قوم کی (اچھی) حالت میں تغیر نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی (صلاحیت کی) حالت کو نہیں بدل دیتے) مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جب وہ اپنی صلاحیت میں خلل ڈالنے لگتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مصیبت و عقوبت تجویز کی جاتی ہے) اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر مصیبت ڈالنا تجویز کرلیتا ہے تو پھر اس کے ہٹنے کی کوئی صورت ہی نہیں (وہ واقع ہوجاتی ہے) اور (ایسے وقت میں) کوئی خدا کے سوا ( جن کی حفاظت کا ان کو زعم ہے) ان کا مددگار نہیں رہتا ہے (حتی کہ فرشتے بھی ان کی حفاظت نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی تو حفاظت ان کے کام نہ آسکتی) وہ ایسا ( عظیم الشان) ہے کہ تم کو (بارش کے وقت) بجلی ( چمکتی ہوئی) دکھلاتا ہے جس سے (اس کے گرنے کا) ڈر بھی ہوتا ہے اور (اس سے بارش کی) امید بھی ہوتی ہے اور وہ بادلوں کو (بھی) بلند کرتا ہے جو پانی سے بھرے ہوتے ہیں اور رعد (فرشتہ) اس کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور (دوسرے) فرشتے بھی اس کے خوف سے ( اس کی تحمید و تسبیح کرتے ہیں) اور وہ (زمین کی طرف) بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہے گرا دیتا ہے اور وہ لوگ اللہ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں باوجود اس کے ایسے عظیم الشان ہونے کے) جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑا شدید القوت ہے (جس سے ڈرنا چاہئے مگر یہ لوگ ڈرتے نہیں اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور وہ ایسا مجیب الدعوات ہے) کہ سچا پکارنا اسی کے لئے خاص ہے (کیونکہ اس کو قبول کرنے کی قدرت ہے) اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ ( اپنے حوائج و مصائب میں) پکارتے ہیں وہ (بوجہ عدم قدرت کے) ان کی درخواست کو اس سے زیادہ منظور نہیں کرسکتے جتنا پانی اس شخص کی درخواست کو منظور کرتا ہے جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوتا ہو (اور اس کو اشارہ سے اپنی طرف بلا رہا ہو) تاکہ وہ (پانی) اس کے منہ تک (اڑ کر) آجاوے اور وہ ( از خود) اس کے منہ تک ( کسی طرح) آنیوالا نہیں (پس جس طرح پانی ان کی درخواست قبول کرنے سے عاجز ہے اسی طرح ان کے معبود عاجز ہیں اس لئے) کافروں کی (ان سے) درخواست کرنا محض بےاثر ہے اور اللہ ہی (ایسا قادر مطلق ہے کہ اسی) کے سامنے سب سرخم کئے ہوئے ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (بعضے) خوشی سے اور (بعضے) مجبوری سے (خوشی سے یہ کہ باختیار خود عبادت کرتے ہیں اور مجبوری کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس مخلوق میں جو تصرف کرنا چاہتے ہیں وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا) اور ان (زمین والوں) کے سائے بھی ( سرخم کئے ہیں) صبح اور شام کے وقتوں میں (یعنی سایہ کو جتنا چاہیں بڑھائیں جتنا چاہیں گھٹائیں اور صبح وشام کے وقت چونکہ دراز ہونے اور گھٹنے کا زیادہ ظہور ہوتا ہے اس لئے تخصیص کی گئی ورنہ سایہ بھی بایں معنی ہر طرح مطیع ہے) معارف و مسائل : آیات مذکورہ سے پہلے اللہ جل شانہ کی مخصوص صفات کمال کا سلسلہ چل رہا ہے جو در حقیقت توحید کے دلائل ہیں اس آیت میں فرمایا، عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَال غیب سے مراد وہ چیز ہے جو انسانی حواس سے غائب ہو یعنی نہ آنکھوں سے اس کو دیکھا جاسکے نہ کانوں سے سنا جاسکے نہ ناک سے سونگھا جاسکے نہ زبان سے چکھا جاسکے نہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کیا جاسکے شہادت اس کے بالمقابل وہ چیزیں ہیں جن کو انسانی حواس مذکورہ کے ذریعہ معلوم کیا جاسکے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص صفت کمال یہ ہے کہ وہ ہر غیب کو اس طرح جانتا ہے جس طرح حاضر و موجود کو جانتا ہے الکبیر کے معنی بڑا اور متعال کے معنی بالا و بلند مراد ان دونوں لفظوں سے یہ ہے وہ مخلوقات کی صفات سے بالا وبلند اور اکبر ہے کفار و مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے اجمالی طور بڑائی اور کبریائی کا تو اقرار کرتے تھے مگر اپنے قصور فہم سے اللہ تعالیٰ کو بھی عام انسانوں پر قیاس کر کے اللہ کے لئے ایسی صفات ثابت کرتے تھے جو اس کی شان سے بہت بعید ہیں جیسے یہود و نصارٰی نے اللہ کے لئے بیٹا ثابت کیا کسی نے اللہ کے لئے انسان کی طرح جسم اور اعضاء ثابت کئے کسی نے جہت اور سمت کو ثابت کیا حالانکہ وہ ان تمام حالات وصفات سے بالا و بلند اور منزہ ہے قرآن کریم نے ان کی بیان کردہ صفات سے برات کے لئے بار بار فرمایا سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْن یعنی پاک ہے اللہ ان صفات سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں پہلے جملہ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ میں نیز اس سے پہلی آیت اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ میں اللہ جل شانہ کے کمال علمی کا بیان تھا اس دوسرے جملے الْكَبِيْرُ الْمُتَعَال میں کمال قدرت و عظمت کا ذکر ہے کہ ان کی طاقت وقدرت انسانی تصورات سے بالاتر ہے اس کے بعد کی آیت میں بھی اسی کمال علمی اور کمال قدرت کو ایک خاص انداز سے بیان فرمایا ہے :

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ ۝ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے علا العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعَليُّ : هو الرّفيع القدر من : عَلِيَ ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به في قوله : أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] ، إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] ، فمعناه : يعلو أن يحيط به وصف الواصفین بل علم العارفین . وعلی ذلك يقال : تَعَالَى، نحو : تَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ النمل/ 63] ( ع ل و ) العلو العلی کے معنی بلند اور بر تر کے ہیں یہ علی ( مکسر اللام سے مشتق ہے جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو جیسے : ۔ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] تو اس کے معنی ہوتے ہیں وہ ذات اس سے بلند وبالا تر ہے کوئی شخص اس کا وصف بیان کرسکے بلکہ عارفین کا علم بھی وہاں تک نہیں پہچ سکتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩) اور وہ تمام ان باتوں کو جو بندوں سے پوشیدہ ہیں اور جو انکو معلوم ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جاننے والا ہے اور کہا گیا ہے کہ غیب سے رماد وہ چیزیں ہیں جو ہونے والی ہیں اور شہادۃ سے مراد وہ ہیں جو ہو چکیں اور کہا گیا ہے کہ غیب سے مراد مادر میں لڑکے وغیرہ کا وجود اور شہادۃ سے اس کا خروج مراد ہے، وہ سب سے بڑا ہے اس سے بڑی اور بلند اور کوئی چیز نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے علم کا حال بیان فرمایا ہے کہ لوگ جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیزیں ان سے غائب ہیں ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہیں ان کو بھی خدا جانتا ہے اس پر ظاہر اور پوشیدہ سب یکساں ہے اس کا عمل ہر شے کو چھوٹی ہو یا بڑی نظر سے غائب ہو یا سامنے سب کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کی ذات ہر ایک شئی سے بڑی اور ہر چیز پر غالب ہے اوپر ذکر تھا کہ بچہ کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی عمر اس کا رزق اس کی نیکی بدی یہ سب ناموجود باتیں اللہ کا فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھ لیتا ہے اس آیت میں اس کی یہ تفصیل فرمائی کہ ناموجود اور موجود سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود ہیں کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اس واسطے بچہ کے پیدا ہونے کے پہلے فرشتہ سے ان ناموجود چیزوں کا لکھوا دینا اللہ تعالیٰ کے علم و غیت کے آگے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ منکرین حشر یہ جو کہتے تھے کہ مر نے کے بعد ان کی خاک رواں دواں ہوجاوے گی پھر وہ خاک کیوں کر جمع ہوگی اور اس کا پتلا کیوں کر بنے گا آیت کے اس ٹکڑے میں ان لوگوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ وہ خاک رواں دواں ہو کر انسان کے علم سے باہر ہوجاتی ہے مگر اللہ کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی اس لئے وقت مقرر پر وہ خاک جمع کی جاوے گی اور اس کا پتلا بنے گا۔ سورة ق میں اس کی تفصیل زیادہ آوے گی۔ صحیح بخاری، مسلم، نسائی اور موطا میں ابوہریرہ (رض) اور ابو سعید خدری (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک گنہگار شخص نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد اس کی وصیت کے موافق عمل کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا کو اس خاک کے حاضر کرنے کا حکم دیا اور فوراً وہ خاک حاضر ہوگئی اور اللہ کے حکم سے اس کا پتلا بنا اور اس پتلے میں روح پھونکی جا کر اس سے پوچھا گیا کہ وہ وصیت تو نے کس نیت سے کی تھی۔ اس نے جواب دیا یا اللہ کوئی چیز تیرے علم سے باہر نہیں ہے میں نے جو کچھ کیا تھا وہ فقط تیرے خوف سے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب سن کر اس کے قصور کو معاف کردیا ١ ؎ حشر کے دن رواں دواں خاک کے جمع ہوجانے کے یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٩٥٩ ج ٢ باب الخوف من اللہ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:9) المتعال۔ اسم فاعل واحد مذکر تعالیٰ مصدر۔ (باب تفاعل) اصل میں المتعالی تھا۔ علو مادہ۔ متعالی عالی سے زیادہ مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی عالی کا معنی بزرگ ۔ عالی مرتبہ۔ برتر۔ غالب۔ وغیرہ۔ اور متعالی کا معنی بہت بزرگ ۔ بہت غالب۔ بہت برتر وغیرہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 ۔ ہر چیز پر اپنے علم سے احاطہ کئے ہوئے ہے (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالَ ) اللہ پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو اور تمام امور کو جانتا ہے وہ بڑا ہے (اور) برتر ہے۔ پھر معلومات الٰہیہ کی مزید جزئیات ذکر فرمائیں اور فرمایا (سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ ) (الایۃ) کہ تم میں جو شخص آہستہ سے بات کرے اور جو زور سے بولے اور جو شخص رات میں کہیں چھپا ہوا ہو یا دن میں کہیں چل پھر رہا ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو یکساں جانتا ہے کوئی شخص کسی حال میں اللہ سے پوشیدہ نہیں اور وہ ہر ایک کی ہر بات کو جانتا ہے ‘ پھر اپنی ایک نعمت کو بیان فرمایا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ جو چیزیں انسانوں پر طاہر ہیں اور جو ان سے پوشیدہ ہیں اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہیں۔ اَلْکَبِیْرُ ایسا عطیم الشان کہ تمام صفات کمال اس میں موجود ہیں۔ ” اَلْمُتَعَالِ “ ہر چیز سے برتر اور صفات مخلوقات سے مبرا اور پاک۔ ” سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ “ جو شخص آہستہ باتیں کرتا ہے اور جو شخص بلند آواز سے گویا ہوتا ہے یا جو شخص رات کی تاریکی میں چھپا بیٹھا ہے اور جو شخص دن کو راستہ میں چل رہا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک یکساں ہیں اور وہ یکساں طور پر سب کو جانتا ہے۔ اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

9 ۔ وہ ہر چھپی کھلی اور پوشیدہ و ظاہر ہر چیز کو جاننے والا سب سے بڑا اور عالی مرتبت ہے۔ یعنی سب سے واقف اور سب زیر نگیں اس کی لا محدود طاقت اور لا محدود علم سے کوئی چیز خارج نہیں ۔