Commentary The theme of the exclusive attributes of the perfection of Allah Ta` ala continues. Starting earlier than the verses cited above, this theme is ac¬tually an array of proofs concerning the Oneness of Allah. Onwards from the previous verse (9), it was said in the first verse (1o) here: عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ (- the Knower of the hidden and the manifest, the Great, the High). The word: اَلغَیب (al-ghayb : the hidden, the unseen) means that which is absent from the reach of human senses, that is, which cannot be seen with eyes, nor heard with ears, nor smelt with the nose, nor tasted with the tongue, nor sensed by touching with hands. As for: اَلشَہَادَۃ (ash-shahadah : manifest, present), it stands in contrast to &al-ghayb& or the hidden and denotes what can be found out by using human senses mentioned above. The verse means that it is the very ex¬clusive attribute of Allah Ta` ala that He knows everything hidden (al-ghayb) precisely as He knows the manifest, present and existing. The word: الْكَبِيرُ (al-kabir) means the great and الْمُتَعَالِ (al-muta’ al) means the high, above. The sense conveyed by these two words is that He is great and far above the attributes of what He has created. Though the disbelievers and polytheists did confess to the great and exalted state of the Being of Allah Ta ala, in a general way, but were obviously misguided by a lack of proper perception when they took Allah Ta` ala on the analogy of common human beings and went on to associate such attributes to him as were far too removed from His great majesty. For instance, the Jews and the Christians attributed a son for Allah, while oth¬ers suggested for Allah a body and its parts just like those of human beings, and still others tried to prove direction and orientation for Him. But, the fact is that Allah is far above, absolutely pure and free of all such conditions and attributions. It should be kept in mind that, in order to emphasize His absolvement from all such human attributions, He has repeatedly reminded us in the Qur&an: سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ that is, &Allah is pure and free from what these people attribute to Him.& (23:91; 37:159; ) The perfection of the knowledge of Allah Ta ala was described in عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (the Knower of the hidden and the manifest) appearing in the first sentence (9) as well as in اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ (Allah knows what every woman carries) in the verse previous to it (8). Mentioned in the second sentence here: الْكَبِيرُالْمُتَعَالِ (the great, the high) is the power and greatness of Allah for His power and reach is far beyond any human calculation. Also in the verse which follows, the same perfection in knowledge and power has been pointed to in a particular manner. There it has been said:
خلاصہ تفسیر : وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے سب سے بڑا (اور) عالی شان ہے تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے یہ سب (خدا کے علم میں) برابر ہیں (یعنی سب کو یکساں جانتا ہے اور جیسا تم میں سے ہر شخص کو جانتا ہے اسی طرح ہر ایک کی حفاظت بھی کرتا ہے چناچہ تم میں سے) ہر شخص ( کی حفاظت) کے لئے فرشتے (مقرر) ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکم خدا ( بہت بلاؤں سے) اس کی حفاظت کرتے ہیں (اور اس سے کوئی یوں نہ سمجھ جائے کہ جب فرشتے ہمارے محافظ ہیں پھر جو چاہو کرو معصیت خواہ کفر کسی طرح عذاب نازل ہی نہ ہوگا یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کیونکہ) واقعی اللہ تعالیٰ (ابتدا تو کسی کو عذاب دیتا نہیں چناچہ اس کی عادت ہے کہ وہ) کسی قوم کی (اچھی) حالت میں تغیر نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی (صلاحیت کی) حالت کو نہیں بدل دیتے) مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جب وہ اپنی صلاحیت میں خلل ڈالنے لگتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مصیبت و عقوبت تجویز کی جاتی ہے) اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر مصیبت ڈالنا تجویز کرلیتا ہے تو پھر اس کے ہٹنے کی کوئی صورت ہی نہیں (وہ واقع ہوجاتی ہے) اور (ایسے وقت میں) کوئی خدا کے سوا ( جن کی حفاظت کا ان کو زعم ہے) ان کا مددگار نہیں رہتا ہے (حتی کہ فرشتے بھی ان کی حفاظت نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی تو حفاظت ان کے کام نہ آسکتی) وہ ایسا ( عظیم الشان) ہے کہ تم کو (بارش کے وقت) بجلی ( چمکتی ہوئی) دکھلاتا ہے جس سے (اس کے گرنے کا) ڈر بھی ہوتا ہے اور (اس سے بارش کی) امید بھی ہوتی ہے اور وہ بادلوں کو (بھی) بلند کرتا ہے جو پانی سے بھرے ہوتے ہیں اور رعد (فرشتہ) اس کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور (دوسرے) فرشتے بھی اس کے خوف سے ( اس کی تحمید و تسبیح کرتے ہیں) اور وہ (زمین کی طرف) بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہے گرا دیتا ہے اور وہ لوگ اللہ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں باوجود اس کے ایسے عظیم الشان ہونے کے) جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑا شدید القوت ہے (جس سے ڈرنا چاہئے مگر یہ لوگ ڈرتے نہیں اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور وہ ایسا مجیب الدعوات ہے) کہ سچا پکارنا اسی کے لئے خاص ہے (کیونکہ اس کو قبول کرنے کی قدرت ہے) اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ ( اپنے حوائج و مصائب میں) پکارتے ہیں وہ (بوجہ عدم قدرت کے) ان کی درخواست کو اس سے زیادہ منظور نہیں کرسکتے جتنا پانی اس شخص کی درخواست کو منظور کرتا ہے جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوتا ہو (اور اس کو اشارہ سے اپنی طرف بلا رہا ہو) تاکہ وہ (پانی) اس کے منہ تک (اڑ کر) آجاوے اور وہ ( از خود) اس کے منہ تک ( کسی طرح) آنیوالا نہیں (پس جس طرح پانی ان کی درخواست قبول کرنے سے عاجز ہے اسی طرح ان کے معبود عاجز ہیں اس لئے) کافروں کی (ان سے) درخواست کرنا محض بےاثر ہے اور اللہ ہی (ایسا قادر مطلق ہے کہ اسی) کے سامنے سب سرخم کئے ہوئے ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (بعضے) خوشی سے اور (بعضے) مجبوری سے (خوشی سے یہ کہ باختیار خود عبادت کرتے ہیں اور مجبوری کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس مخلوق میں جو تصرف کرنا چاہتے ہیں وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا) اور ان (زمین والوں) کے سائے بھی ( سرخم کئے ہیں) صبح اور شام کے وقتوں میں (یعنی سایہ کو جتنا چاہیں بڑھائیں جتنا چاہیں گھٹائیں اور صبح وشام کے وقت چونکہ دراز ہونے اور گھٹنے کا زیادہ ظہور ہوتا ہے اس لئے تخصیص کی گئی ورنہ سایہ بھی بایں معنی ہر طرح مطیع ہے) معارف و مسائل : آیات مذکورہ سے پہلے اللہ جل شانہ کی مخصوص صفات کمال کا سلسلہ چل رہا ہے جو در حقیقت توحید کے دلائل ہیں اس آیت میں فرمایا، عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَال غیب سے مراد وہ چیز ہے جو انسانی حواس سے غائب ہو یعنی نہ آنکھوں سے اس کو دیکھا جاسکے نہ کانوں سے سنا جاسکے نہ ناک سے سونگھا جاسکے نہ زبان سے چکھا جاسکے نہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کیا جاسکے شہادت اس کے بالمقابل وہ چیزیں ہیں جن کو انسانی حواس مذکورہ کے ذریعہ معلوم کیا جاسکے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص صفت کمال یہ ہے کہ وہ ہر غیب کو اس طرح جانتا ہے جس طرح حاضر و موجود کو جانتا ہے الکبیر کے معنی بڑا اور متعال کے معنی بالا و بلند مراد ان دونوں لفظوں سے یہ ہے وہ مخلوقات کی صفات سے بالا وبلند اور اکبر ہے کفار و مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے اجمالی طور بڑائی اور کبریائی کا تو اقرار کرتے تھے مگر اپنے قصور فہم سے اللہ تعالیٰ کو بھی عام انسانوں پر قیاس کر کے اللہ کے لئے ایسی صفات ثابت کرتے تھے جو اس کی شان سے بہت بعید ہیں جیسے یہود و نصارٰی نے اللہ کے لئے بیٹا ثابت کیا کسی نے اللہ کے لئے انسان کی طرح جسم اور اعضاء ثابت کئے کسی نے جہت اور سمت کو ثابت کیا حالانکہ وہ ان تمام حالات وصفات سے بالا و بلند اور منزہ ہے قرآن کریم نے ان کی بیان کردہ صفات سے برات کے لئے بار بار فرمایا سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْن یعنی پاک ہے اللہ ان صفات سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں پہلے جملہ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ میں نیز اس سے پہلی آیت اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ میں اللہ جل شانہ کے کمال علمی کا بیان تھا اس دوسرے جملے الْكَبِيْرُ الْمُتَعَال میں کمال قدرت و عظمت کا ذکر ہے کہ ان کی طاقت وقدرت انسانی تصورات سے بالاتر ہے اس کے بعد کی آیت میں بھی اسی کمال علمی اور کمال قدرت کو ایک خاص انداز سے بیان فرمایا ہے :