Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 11

سورة إبراهيم

قَالَتۡ لَہُمۡ رُسُلُہُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾

Their messengers said to them, "We are only men like you, but Allah confers favor upon whom He wills of His servants. It has never been for us to bring you evidence except by permission of Allah . And upon Allah let the believers rely.

ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزہ تمہیں لا دکھائیں اور ایمان والوں کو صرف اللہ تعالٰی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ... Their Messengers said to them: "We are no more than human beings like you..." affirming that truly, they were only human being like their nations, ... وَلَـكِنَّ اللّهَ يَمُنُّ عَلَى مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ ... but Allah bestows His grace to whom He wills of His servants, with Prophethood and Messengership which is His choice, ... وَمَا كَانَ لَنَا أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَانٍ ... It is not ours to bring you an authority, according to your choice, ... إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ ... except by the permission of Allah, after we beg Him and He provides us with a miracle, ... وَعلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُوْمِنُونَ And in Allah (alone) let the believers put their trust. in all their affairs. Their Messengers said to them next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 رسولوں نے پہلے اشکال کا جواب دیا کہ یقینا ہم تمہارے جیسے بشر ہیں۔ لیکن تمہارا یہ سمجھنا غلط ہے کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسانوں میں سے ہی بعض انسانوں کو وحی و رسالت کے لئے چن لیتا ہے اور تم سب میں سے یہ احسان اللہ نے ہم پر فرمایا ہے۔ 11۔ 2 ان کے حسب منشاء معجزے کے سلسلے میں رسولوں نے جواب دیا کہ معجزے کا صدور ہمارے اختیار میں نہیں، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ 11۔ 3 یہاں مومنیں سے مراد اولا خود انبیاء ہیں یعنی ہمیں سارا بھروسہ اللہ پر ہی رکھنا چاہیے جیسا کہ آگے فرمایا آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] مشرکوں کے ان اعتراضات و مطالبات کا جواب بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) یہی دیتے رہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ ہم بشر نہیں۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر مزید احسان کیا ہے کہ ہمیں علم حق اور بصیرت کاملہ عطا فرمائی ہے۔ اور یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے یہ احسان کرے اور اسی علم حق کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں ہمارے اپنے اختیار میں کچھ نہیں۔ نہ ہی ہم اپنی مرضی سے تمہیں کوئی معجزہ دکھانے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسا دعویٰ کیا ہے بلکہ ہم اپنے سب کاموں میں اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ ۔۔ : معلوم ہوا دلیل دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے آتا ہے۔ (موضح) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی، یعنی اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ اس کے لائق افراد کا انتخاب وہ خود کرتا ہے، فرمایا : (وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِھٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ) [ آل عمران : ١٧٩ ] ” اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ “ نبوت کسی کو محنت اور ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے، جن میں قادیانی دجال بھی شامل ہے۔ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ ۔۔ : یعنی معجزات ہمارے اختیار میں نہیں، وہ اللہ کے حکم کے بغیر ظاہر نہیں ہوتے، اس لیے ہمارا بھروسا اللہ ہی پر ہے اور تمام اہل ایمان کو اسی پر بھروسا لازم ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 11 ؀ منن والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164] والثاني : أن يكون ذلک بالقول، وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن ذكرها عند الکفران قيل : إذا کفرت النّعمة حسنت المنّة . وقوله : يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] فالمنّة منهم بالقول، ومنّة اللہ عليهم بالفعل، وهو هدایته إيّاهم كما ذكر، ( م ن ن ) المن المن کے معنی بھاری احسان کے ہیں اور یہ دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ایک منت بالفعل جیسے من فلان علیٰ فلان یعنی فلاں نے اس پر گرا انبار احسان کیا ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164] خدا نے مومنوں پر بڑا احسان گیا ہے ۔ اور دوسرے معنی منۃ بالقول یعنی احسان جتلانا گو انسانی معاشرہ میں معیوب سمجھا جاتا ہے مگر جب کفران نعمت ہو رہا ہو تو اس کے اظہار میں کچھ قباحت نہیں ہے اور چونکہ ( بلاوجہ اس کا اظہار معیوب ہے اس لئے مشہور ہے ، المنۃ تھدم الصنیعۃ منت یعنی احسان رکھنا احسان کو بر باد کردیتا ہے اور کفران نعمت کے وقت چونکہ اس کا تذکرہ مستحن ہوتا ہے اس لئے کسی نے کہا ہے : جب نعمت کی ناشکری ہو تو احسان رکھنا ہیں مستحن ہے اور آیت کریمہ : ۔ يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] یہ لوگ تم احسان رکھتے ہیں ۔ کہ مسلمان ہوگئے ہیں ، کہدو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو ۔ بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا رستہ دکھایا ۔ میں ان کی طرف سے منت بالقول یعنی احسان جتلانا مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منت بالفعل یعنی انہیں ایمان کی نعمت سے نواز نامراد ہے۔ وكيل التَّوْكِيلُ : أن تعتمد علی غيرک وتجعله نائبا عنك، والوَكِيلُ فعیلٌ بمعنی المفعول . قال تعالی: وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] أي : اکتف به أن يتولّى أمرك، ( و ک ل) التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کر کے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں اور وکیل فعیل بمعنی مفعول کے وزن پر ہے ۔ قرآن میں : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] اور خدا ہی کافی کار ساز ہے ۔ یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١) ان کے رسولوں نے کہا کہ واقعی ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہی طرح پیدا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے نبوت اور اسلام کی دولت عطا فرمادے۔ اور یہ بات ہمارے بس کی نہیں کہ ہم تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق کوئی کتاب اور معجزہ دکھا سکیں، بغیر اللہ کے حکم کے، ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے تو ان لوگوں نے رسولوں سے کہا، سو تم بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو تاکہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا اس کو دیکھ لو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١ (قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ) یہ اللہ کی مرضی کا معاملہ ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ اس نے ہمیں اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے ‘ ہماری طرف وحی بھیجی ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ ہم آپ لوگوں کو خبردار کریں اور اس کے احکام آپ تک پہنچائیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20. That is, if you still insist that you are a Prophet, bring a tangible proof of your appointment so as to convince us that you have really been sent by God and your message is from Him. 21. That is, "No doubt we are human beings like you but it is Allah's will that He has chosen us from among you and blessed us with the knowledge of the Truth and keen discernment. And this is Allah's will and He has full powers to bestow anything on anyone He wills. We are not in a position to ask Him to send that blessing to you or to anyone else:nor can we deny the realities which have been shown to us."

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :21 یعنی بلا شبہہ ہم ہیں تو انسان ہی مگر اللہ نے تمہارے درمیان ہم کو ہی علم حق اور بصیرت کاملہ عطا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے ۔ اس میں ہمارے بس کی کوئی بات نہیں ۔ یہ تو اللہ کے اختیارات کا معاملہ ہے ۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو جو کچھ چاہے دے ۔ ہم نہ یہ کر سکتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس آیا ہے وہ تمہارے پاس بھجوادیں اور نہ یہی کر سکتے ہیں کہ جو حقیقتیں ہم پر منکشف ہوئی ہیں ان سے آنکھیں بند کرلیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: یعنی اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور ایمان لانے والوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہو تو مومن کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ اس کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١۔ ١٢۔ یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے جو انہوں نے رسولوں سے اعتراض کے طور پر یہ کہا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہو کوئی فضیلت ہم پر نہیں رکھتے ہو اس کا رسولوں نے یہ جواب دیا کہ بیشک ہم تمہاری طرح انسان ہیں اور انسانیت کا جو تقاضا ہے تمہاری طرح وہ ہم میں بھی ہے مگر اللہ پاک جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور اسے پیغمبر بناتا ہے اور جس رسول کو جیسا چاہتا معجزہ عطا کرتا ہے جیسے وہ کر دکھاتا ہے اگر تم چاہو کہ تمہاری خواہش کے موافق کوئی معجزہ دکھایا جائے تو یہ کسی رسول سے بھی اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک خدا کا حکم نہ ہو اور ایمان لا نے والے کا بھروسا تو خدا پر ہونا چاہیے ایسے لوگوں کو یہ بات واجب نہیں ہے کہ جب اپنی فرمائش کے مطابق معجزہ دیکھ لیں تو ایمان لائیں اور ہم تو اس پر بھروسہ کرتے ہیں کیوں کہ ہم کو تو اس نے اپنے راہ حق کی ہدایت کی ہے اور تمہاری ایذا رسانی اور تکلیف دہی پر ہم کیوں نہ صبر کریں کہ ہم کو تو اس صبر کے اجر کا اللہ پر بھروسہ ہے۔ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک روز کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے اپنی چادر آپ کے گلے میں ڈال کر پھانسی دے دی۔ اس قسم کی اور صحیح روایتیں ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو بہت تکلیفیں دیا کرتے تھے حاصل کلام یہ ہے کہ پہلے رسولوں کے قصہ میں امت کے لوگوں کی ایذا رسانی اور رسولوں کے صبر کا ذکر اس واسطے فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کی یہ تسلی ہوجاوے کہ مخالف لوگوں کا ہمیشہ سے اللہ کے رسولوں کے ساتھ یہی سلوک رہا ہے لیکن آخر کو اللہ کے رسولوں اور ان کے ساتھ کے نیک لوگوں کا انجام اچھا ہوا ہے اب بھی وہی انجام ہونے والا ہے۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود (رض) اور ابوہریرہ (رض) کی روایتیں گزر چکی ہیں۔ ٢ ؎ کہ جن بتوں کی حمایت میں مشرکین مکہ کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخالفت تھی فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول نے ان بتوں کو لکڑیاں مار مار گرادیا اور کسی مشرک کے کچھ حمایت نہ ہوسکی۔ سب کام اللہ کو سونپ دینے کو توکل کہتے ہیں اور آدمی کی جب تک یہ حالت نہ ہو تو اس سے تکلیف کے وقت صبر نہیں ہوسکتا اسی واسطے قرآن شریف میں اکثر جگہ صبر اور توکل کا ذکر ساتھ آیا ہے۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٢٣٤۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:11) یمن۔ مضارع واحد مذکر غائب من۔ مصدر (باب نصر) وہ احسان کرتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ یعنی سند دیکھے سے ایمان نہیں آتا اللہ کے دئیے سے آتا ہے۔ (موضح) ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی (اللہ کی دین) ہے کسی آدمی کی ریاضت اور محنت سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ بعض فلاسفہ اور ان سے متاثر لوگوں کا خیال ہے، یا ” احسان کرنے “ کے یہ معنی ہیں کہ وہ تلاوتِ قرآں اور اس کے فہم کے جسے چاہے تو فیق دیتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ساعت اپنے بندوں پر احسان کرتا رہتا ہے۔ اور سب سے بڑا احسان اس کا یہ ہے کہ بندے کے دل میں اپنا ذکر الہام کردے۔ (قرطبی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آ

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی بشریت کا جواب، انبیاء ( علیہ السلام) کی زبان اطہر سے۔ مشرکین کی عجب حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کامل صفات کے ساتھ ماننے کی بجائے دوسروں کو اس کی صفات میں بلادلیل شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔ تمام پیغمبر اس شرک سے لوگوں کو منع کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ لیکن جب بھی اپنے اپنے دور میں پیغمبروں نے لوگوں کو توحید خالص کی دعوت دی تو لوگوں نے اس پر ایمان لانے کی بجائے پیغمبروں کی دعوت کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔ قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق ہر پیغمبر نے اس بات کا یہی جواب دیا کہ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر خصوصی احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے کام اور پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ یہ اسی کا اختیار ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اپنے کام اور پیغام کے لیے منتخب کرلے۔ کیونکہ ہم اس کے بندے اور اس کے پیغام رساں ہیں۔ اس لیے ہمارے اختیار میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ تمہارے سامنے پیش کرسکیں۔ ایمان لانے والوں کو متزلزل ہونے کی بجائے اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ اس آیت مبارکہ میں دو ٹوک الفاظ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی زبان اطہر سے واضح کیا ہے کہ تمام کے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) ” بشر “ تھے اور ان کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ جب چاہیں، جس طرح چاہیں کوئی معجزہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں۔ اس آیت کے آخری الفاظ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) کا جواب صرف کفار کے لیے ہی نہیں تھا۔ بلکہ وہ اپنے ماننے والوں کو بھی یہی بتلایا کرتے تھے کہ ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہیں۔ لہٰذا کفار کے بار بارمطالبات کی بنیاد پر ہم سے ایسی توقع نہ رکھو جو ہمارے بس کی بات نہیں۔ بس اللہ تعالیٰ پر ایمان پختہ رکھو اور اسی کی ذات پر توکل کرو۔ جب وہ چاہے گا ہمارے ہاتھ پر کوئی معجزہ سرزد فرما کر کفار کو لاجواب کردے گا۔ یاد رہے کہ ہر دور کے کافر یہ بات کہہ کر پیغمبروں کی بشریت کا انکار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیغام کے لیے انسان کی بجائے کسی فرشتے کو مقرر کرنا چاہیے تھا۔ جس کا جواب قرآن مجید نے یہ دیا ہے کہ اگر زمین میں بسنے والے فرشتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ انہی میں سے ایک فرشتے کو رسول منتخب کرتا۔ چونکہ زمین میں انسان بستے ہیں اس لیے ان کی سہولت اور رہنمائی کے لیے بشر ہی کو رسول بنایا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٩٥) افسوس اس بات کا ہے کہ اتنی واضح حقیقت کے باوجود مسلمانوں کا ایک گروہ یہ کہہ کر بشریت کا انکار کرتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انسانوں جیسا انسان کہنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرنا ہے، حالانکہ دنیا میں کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جو رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمال و کمال، اخلاق اور اعمال مرتبہ اور شان کے حوالے سے اپنے جیسا سمجھتا ہو۔ ایسا سمجھنے والا شخص صرف گستاخ نہیں بلکہ پر لے درجے کا مرتد اور واجب القتل ہوگا۔ قرآن مجید کے فرمان اور انبیاء ( علیہ السلام) کے اعتراف کے مطابق انبیاء ( علیہ السلام) کی بشریت کا صرف یہ معنی ہے کہ تمام انبیاء ( علیہ السلام) بنی نوع انسانوں میں سے تھے اور وہ بھی کھانے پینے، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے اور موت وحیات کے انہی ضابطوں کے پابند تھے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ مسائل ١۔ تمام رسول بشر ہی ہوا کرتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ ٣۔ انبیاء ( علیہ السلام) اپنی طرف سے کوئی معجزہ نہیں لاسکتے تھے۔ ٤۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے : ١۔ انبیاء نے فرمایا کہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں لیکن اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم : ١١) ٢۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : ٢٤) ٣۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : ١٥٤) ٤۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : ٣٣) ٥۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشر تھے۔ (النحل : ٤٣) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعلان فرمائیں کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ (الکہف : ١١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں کے مذکورہ بالا طعن کے جواب میں فرمایا اس میں شک نہیں کہ ہم بشر ہیں اور بشریت اور لوازم بشریت میں تمہاری مانند ہیں مگر بشریت رسالت و نبوت کے منافی نہیں ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس بشر کو چاہے رسالت و نبوت کے شرف سے سرفراز فرما دے۔ رسالت و نبوت محض ایک وہبی عطیہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرما دیا ہے۔ باقی رہا معجزہ دکھانے کا مطالبہ تو یہ ہم پورا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ معجزہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر ہم کوئی معجزہ نہیں لاسکتے۔ ” والمعنی انا الاتیان بالایۃ التی قد اقترحوھا لیس الینا ولا فی استطاعتنا وانما ھو امر یتعلق بمشیئۃ اللہ تعالیٰ “ (مدارک ج 2 ص 168) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 1 ۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو جواب دیا ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بیشک ہم بھی تم جیسے بشر ہیں لیکن نبوت اور بشریت میں کوئی منافات نہیں بلکہ نبوت اللہ تعالیٰ کا ایک افضل و احسان ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور نبوت عطا کردیتا ہے اور یہ بات ہمارے قبضے اور اختیار میں نہیں کہ ہم بغیر اذن الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ تمہارے سامنے پیش کرسکیں اور سب ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ یعنی نبوت بشریت کے منافی نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے ہم کو بنی اور داعی الی اللہ بنادیا۔ رہامعجزہ تو وہ ہمارے بس میں نہیں اس کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر ہم کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے اہل ایمان کو خدا ہی پر توکل کرنا چاہئے اس لئے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سند دیکھے سے ایمان نہیں آتا اللہ کے دیئے سے آتا ہے۔ 12