Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 13

سورة إبراهيم

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمۡ لَنُخۡرِجَنَّکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ فَاَوۡحٰۤی اِلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ لَنُہۡلِکَنَّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾

And those who disbelieved said to their messengers, "We will surely drive you out of our land, or you must return to our religion." So their Lord inspired to them, "We will surely destroy the wrongdoers.

کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں ملک بدر کر دیں گے یا تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ ۔ تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہی غارت کر دیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Disbelieving Nations threaten Their Messengers with Expulsion Allah tells; وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّـكُم مِّنْ أَرْضِنَأ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ... And those who disbelieved, said to their Messengers: "Surely, we shall drive you out of our land, or you shall return to our religion." Allah narrates to us how the disbelieving nations threatened their Messengers, that being, expulsion from their land and banishment. For instance, the people of Prophet Shu`ayb, peace be upon him, said to him and to those who believed in him, لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَأ We shall certainly drive you out from our town, O Shu`ayb, and those who have believed with you. (7:88) The people of Prophet Lut, peace be upon him, said, أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ Drive out the family of Lut from your city. (27:56) Allah said about the idolators of Quraysh, وَإِن كَادُواْ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الاٌّرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَإِذًا لاَّ يَلْبَثُونَ خِلَـفَكَ إِلاَّ قَلِيلً And verily, they were about to frighten you so much as to drive you out from the land. But in that case they would not have stayed after you, except for a little while. (17:76) and, وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ And when the disbelievers plotted against you to imprison you, or to kill you, or to expel you out; they were plotting and Allah too was plotting; and Allah is the Best of those who plot. (8:30) Allah gave victory and aid to His Messenger after he emigrated from Makkah and gathered followers, supporters, and soldiers around him, who fought in the cause of Allah, the Exalted. Allah kept granting His Messenger more dominance until He opened for him Makkah, which sought to expel him. Allah gave him dominance over it, even when his enemies from Makkah and the rest of the people of the earth disliked it. Soon after, people began embracing the religion of Allah in large crowds and in a very short time Allah's Word and religion became high over all other religions, from the eastern and western parts of the world. Hence Allah's statement, ... فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ

آل لوط کافر جب تنگ ہوئے ، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے ۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو ۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا ۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکے سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنا دیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کر لیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ان کی آرزویں پامال ہو گئیں ۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہو گیا ، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں ، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا ، کلمہ حق بلند و بالا ہو گیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہو گئی فالحمد للہ ۔ یہاں فرمان ہے کہ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے ۔ جسے فرمان ہے کہ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کر چکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں ہے آیت ( كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21؀ ) 58- المجادلة:21 ) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے ، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے ۔ اور آیت میں ارشاد ہے کہ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی تحریر ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ تم اللہ سے مدد طلب کرو ، صبر و برداشت کرو ، زمین اللہ ہی کی ہے ۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیز گاروں کا ہی ہے ۔ اور جگہ ارشاد ہے ۔ آیت ( وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ١٣٧؁ ) 7- الاعراف:137 ) ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یکمشت خاک میں مل گئیں ۔ نبیوں سے فرما دیا گیا کہ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لئے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں ۔ جیسے فرمان باری ہے آیت ( فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37؀ۙ ) 79- النازعات:37 ) ، یعنی جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ اور آیت میں ہے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں ۔ رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ الہٰی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الہٰی آج سچے کو غا لب کر یہی ہوا بھی ۔ مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آ گئی اب بھی اگر باز آ جاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے الخ نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہو گا کہ ہر ایک کافر سر کش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سر کش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں ۔ الخ اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہو گا جب کہ انبیا تک اللہ کے سا منے گڑگڑا رہے ہوں گے ۔ وراء یہاں پر معنی امام سامنے کے ہیں جیسے آیت ( وکان ورائھم ملک ) میں ہے ابن عباس کی قرأت ہی وکان امامھم ملک ہے غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہو گی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہو گا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر و ہاں اس کے لئے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبو دار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے ۔ جیسے فرما آیت ( ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57؀ۙ ) 38-ص:57 ) پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا ۔ صدید کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہو گا ۔ اسی کو طینۃ الخبال بھی کہا جاتا ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہو گی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گر پڑے گی ۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی ۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کھولتا ہوا گرم پانی پلائے جائیں گے جو چہرہ جھلسا دے الخ ۔ جبرا گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا ، فرشتے لو ہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے ، بدمزگی ، بدبو ، حرارت ، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہو گا ۔ بدن میں ، اعضا میں ، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہو گی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں ۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی ۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہو سکتی ۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آ رہی ہے لیکن آتی نہیں ۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی ۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے ۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لئے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آ گئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے ۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں ۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے ۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا ۔ اللہ کی پناہ ۔ فرمان رب عالیشان ہے آیت ( هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ 43۝ۘ ) 55- الرحمن:43 ) یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے ۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے ۔ اور آیت میں ہے کہ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا ، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو ۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے ۔ سورہ واقعہ میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت دوسری آیت میں ہے سرکشوں کے لئے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا نہ کہ اللہ کا ظلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 جیسے اور بھی کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ 171؀ښ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ 172؀۠ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ 173؁ ) ۔ 37 ۔ الصافات :171) ۔ پہلے ہوچکا ہمارا حکم اپنے ان بندوں کے حق میں جو رسول ہیں کہ بیشک وہ فتح مند اور کامیاب ہونگے اور ہمارا لشکر بھی غالب ہوگا ' (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ) ۔ 58 ۔ المجادلہ :21) ۔ اور اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہونگے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] کافروں کا جواب یا دین میں واپس آؤ یا ہم تمہیں نکال دیں گے :۔ مخالفین حق جب حق کے دلائل کے سامنے عاجز آجاتے ہیں تو ان کے لیے آخری حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی اور اس کے پیروکاروں کو یہ دھمکی دے دیتے ہیں کہ یا تو ہماری بات مان لو اور ہمارے دین میں واپس آجاؤ یا پھر ہم تمہیں یہاں سے جلاوطن کردیں گے اور ان کا یہ اقدام دراصل ان کی ذہنی شکست کا اعتراف ہوتا ہے اور ایسی دھمکی ہر نبی کو دی جاتی رہی ہے چناچہ جب رسول اللہ پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی اور آپ گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو سیدہ خدیجہ انھیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے جب یہ واقعہ سنا تو کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوتا تھا۔ پھر ساتھ ہی کہنے لگا : && کاش ! میں اس وقت تک زندہ رہتا جب تمہاری قوم تمہیں یہاں سے نکال دے گی اور میں اس وقت تمہاری کچھ مدد کرسکتا && آپ نے تعجب سے پوچھا : && کیا میری قوم مجھے یہاں سے نکال دے گی ؟ && اور یہ بات آپ نے اس لیے پوچھی کہ پوری قوم آپ کو صادق اور امین سمجھتی تھی اور آپ کو عزت و تکریم کی نگاہوں سے دیکھتی تھی اور آپ ان سب کے محبوب تھے۔ ورقہ بن نوفل نے کہا : && ہاں ! کیونکہ جس نبی نے بھی ایسی دعوت پیش کی اس کی قوم اسے نکالتی چلی آئی ہے && (بخاری، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ) چناچہ ایک وقت آیا جب آپ کی قوم نے بھی آپ کو وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ [ ١٨] کافروں کی تدبیریں انھیں پر الٹ پڑتی ہیں :۔ جب حق و باطل کا معرکہ اس مرحلہ تک پہنچ جاتا ہے کہ مخالفین حق اپنے نبی کو وطن سے نکالنے یا اس کی جان ہی لینے کے درپے ہوجاتے ہیں تو اس وقت سے ہی مخالفین کی تباہی کے اسباب کا آغاز ہوجاتا ہے اور پیغمبروں کو اس کی اطلاع کردی جاتی ہے اور یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ جس مقام سے یہ تمہیں نکالنے کے درپے ہیں۔ ہم ان کو دفع کرنے کے بعد تمہیں اسی مقام پر لا کر آباد کریں گے اور قبضہ و اختیار عطا کریں گے یہ آیات اسی دور کی نازل شدہ ہیں جب قریش مکہ بھی رسول اللہ کو جلا وطن کرنے یا قتل کرنے کی تدبیریں سوچ رہے تھے اور یہ آیات دراصل ان کے خلاف ایک پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھیں۔ لیکن وہ تو بہرصورت اپنے پیغمبر کی مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔ لہذا اس طرف ان کا دھیان جاتا ہی نہ تھا۔ بالآخر ان کا وہی انجام ہوا جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ فتح مکہ کے بعد اسی جگہ کا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ آگیا، جہاں سے انھیں نکالا گیا تھا اور مخالفین حق میں سے اکثر اسلام لے آئے اور جو نہ لائے وہ اس جگہ سے از خود نکل کھڑے ہوئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ : کفار نے اپنی کثرت اور اہل ایمان کی قلت دیکھ کر اپنے رسولوں کو یہ دھمکی دی کہ تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں یا تو ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا پھر تم اسلام چھوڑ کر واپس آجاؤ گے، جیسا کہ اس وقت ہند کے کافر مسلمانوں کو قتل یا ارتداد یا نکل جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا : ” یا تم ہماری ملت میں واپس آؤ گے “ کفار کا یہ کہنا ان کے اپنے گمان کے مطابق تھا، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ انبیاء ( علیہ السلام) نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے، بلکہ بات یہ تھی کہ نبوت سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) ان کے بتوں کے معاملہ میں خاموش رہتے تھے، جس پر انھوں نے بطور خود یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ان کے مذہب پر ہیں، یا اس ” اَوْ لَتَعُوْدُنَّ “ کا معنی ” لَتَصِیْرُنَّ “ ہے، یعنی تم ہماری ملت میں آجاؤ گے۔ (دیکھیے اعراف : ٨٨) یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو کفر کو چھوڑ کر پیغمبروں پر ایمان لے آئے تھے۔ (رازی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ 13۝ۙ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ ملل المِلَّة کالدّين، وهو اسم لما شرع اللہ تعالیٰ لعباده علی لسان الأنبیاء ليتوصّلوا به إلى جوار الله، والفرق بينها وبین الدّين أنّ الملّة لا تضاف إلّا إلى النّبيّ عليه الصلاة والسلام الذي تسند إليه . نحو : فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 95] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ولا تکاد توجد مضافة إلى الله، ولا إلى آحاد أمّة النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم، ولا تستعمل إلّا في حملة الشّرائع دون آحادها، ( م ل ل ) الملۃ ۔ دین کی طرح ملت بھی اس دستور نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان پر بندوں کے لئے مقرر فرمایا تا کہ اس کے ذریعہ وہ قریب خدا وندی حاصل کرسکیں ۔ دین اور ملت میں فرق یہ ہے کی اضافت صرف اس نبی کی طرف ہوتی ہے جس کا وہ دین ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 95] پس دین ابراہیم میں پیروی کرو ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا کے مذہب پر چلتا ہوں ۔ اور اللہ تعالیٰ یا کسی اذا دامت کی طرف اسکی اضافت جائز نہیں ہے بلکہ اس قوم کی طرف حیثیت مجموعی مضاف ہوتا ہے جو اس کے تابع ہوتی ہے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣) اور ان کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر داخل ہوجاؤ سو ان رسولوں پر ان کے پروردگار نے وحی نازل فرمائی کہ صبر کرو ہم ان سب کفار کو ہلاک کردیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ ) رسولوں کی جماعت اور ان کی قوموں کے درمیان ہونے والے سوالات و جوابات کا تذکرہ جاری ہے۔ یعنی اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے رسولوں سے متعلقہ اقوام کے لوگوں نے کہا :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22. It will be wrong to conclude from this demand of theirs that the Prophets professed the religion of their people before their appointment to the divine office. This only meant that their people thought so because before their appointment they led a quiet life and did not propagate a new religion nor refuted the religion in vogue at that time. That is why their people were under the wrong impression that the Prophets also professed the religion of their forefathers, and, therefore, accused them of apostasy. The fact, however, is that they had never followed the religion of their mushrik forefathers and were not guilty of apostasy.

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :22 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیاء علیہم السلام منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوموں کی ملت میں شامل ہوا کرتے تھے ، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نبوت سے پہلے چونکہ وہ ایک طرح کی خاموش زندگی بسر کرتے تھے ، کسی دین کی تبلیغ اور کسی رائج الوقت دین کی تردید نہیں کرتے تھے ، اس لیے ان کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ وہ ہماری ہی ملت میں ہیں ، اور نبوت کا کام شروع کر دینے کے بعد ان پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ملت آبائی سے نکل گئے ہیں ۔ حالانکہ وہ نبوت سے پہلے بھی کبھی مشرکین کی ملت میں شامل نہ ہوئے تھے کہ اس سے خروج کا الزام ان پر لگ سکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣۔ ١٤۔ یہ سلسلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس وعظ کا چلا آتا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا پہلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود بنی اسرائیل کو طرح طرح کی نصیحت وعظ کے طور پر کی پھر اس وعظ میں سب سے اول صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب (علیہ السلام) تک کے انبیاء نے اپنی امتوں کو جو جو نصیحتیں کی تھیں ان سب کا ذکر کیا اور ان سب نصیحتوں کو سن کر ان پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنے اپنے رسولوں کو جو جوابات دئیے ہیں ان جوابوں کا یہ ذکر ہے کہ یا انہوں نے یہ کہا کہ ہم اور تم ایک سے انسان ہیں پھر ہم تم کو اللہ کا رسول کیوں کر جان لیویں یا یہ کہا کہ تم نصیحت سے باز نہ آؤگے اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے جاؤگے تو ہم تم کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم کو زبردستی ہمارا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ منکر امتوں کے جہاں تک قرآن شریف میں قصے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر قریش تک یہی دو تین باتیں اللہ کے رسولوں سے کہتے رہے اسی واسطے سورت والذاریات میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک مرنے والا دوسرے کو اور دوسرا تیسرے کو وصیت کرجاتا ہے اور سب آپس کی وصیت پر چلتے اور عمل کرتے رہتے ہیں یہی حال ان پہلی امتوں کا ہے کہ ایک سی ہی باتیں یہ سب انبیاء سے کرتے چلے آتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان سب کا بہکانے والا شیطان ابتداء دنیا سے آخر تک ایک ہی ہے ایک سے ہی وسوسے اس نے سب کے دلوں میں ڈالے ہیں اس لئے ان سب نے ایک سی باتیں کی ہیں اس سارے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورت والذاریات کے ان مختصر لفظوں میں ادا فرمایا ہے۔ { اتواصوا بہ بل ھو قوم طاغون } [٥١: ٣] حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جس نصیحت کا ذکر ہے یہ ایسی ایک فائدہ مند صاحب تاثیر اور مختصر نصیحت ہے کہ عمل کرنے والے شخص کو نجات عقبیٰ کے لئے یہ ہی ایک نصیحت لکھ کر بھیج دو کہ اس نصیحت کے بعد پھر مجھ کو کسی نصیحت کی ضرورت باقی نہ رہے حضرت عائشہ (رض) نے اس خط کے جواب میں جو خط لکھا اس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کی رضا مندی کا خیال اپنے دل میں رکھا اور دنیا کے لوگوں کی رضا مندی کی کچھ پروا نہ کی خدا تعالیٰ ایسے شخص کے لئے ایسے سبب کھڑے کر دیوے گا کہ دنیا کے سب لوگ خود بخود اس شخص سے راضی اور خوشی رہویں گے۔ اور جس شخص نے دنیا کے لوگوں کی رضا مندی کو مقدم رکھا اور اللہ کی رضا مندی کا خیال اپنے دل میں نہ رکھا اس سے نہ دنیا کے لوگ خوش رہ سکتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ خوش رہتا ہے اس خط میں حضرت عائشہ (رض) نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ سنا تھا وہی لکھا ہے۔ اس قصے کو ترمذی نے مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے روایت کیا ١ ؎ ہے۔ جس سے ایک روایت کو دوسری سے تقویت ہوجاتی ہے۔ جو حدیث آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ جاوے اس کو مرفوع کہتے ہیں اور جس حدیث کی روایت کسی صحابی پر ٹھہر جاوے اس کو موقوف کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) کے خط کا مضمون ایک غیب کی بات ہے عقل کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے۔ اس لئے ایسے موقع پر صحابی کا قول حدیث نبوی کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے۔ نبوت کے زمانہ سے پہلے اللہ کے رسول بتوں کی مذمت جو نہیں کرتے تھے اس سے امت کے بت پرستوں نے یہ سمجھا کہ اللہ کے نبی بھی پہلے ہمارے طریقہ پر تھے اس خیال سے ان لوگوں نے { او لتعودن فی ملتنا } کہا ورنہ حقیقت میں اللہ کے نبی شرک سے معصوم ہیں۔ اور ” بساویں گے تم کو اس زمین میں “۔ سورت اعراف میں اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا ظہور گزر چکا ہے کہ نافرمانی لوگوں کو برباد کر کے رسولوں کے فرمانبردار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں بسایا۔ آخر آیت میں فرمایا کہ ان فرمانبردار لوگوں کو اس زمین میں اس لئے بسایا کہ یہ لوگ اللہ سے ڈرتے تھے اور حساب و کتاب کے لئے ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا ان لوگوں کے دل میں اندیشہ تھا۔ معتبر سند سے ترمذی میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا اس کو عقبیٰ کے نجات کی منزل طے کرنے کا ایسا اندیشہ لگا رہے گا جس طرح بعضے چست مسافر کچھ رات سے راستہ طے کرنا شروع کردیتے ہیں اور سویرے سے مقام پر پہنچ جاتے ٢ ؎ ہیں۔ معتبر سند سے طبرانی میں عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے دل میں عقبیٰ کی درستی کا خیال ہوگا اس کی دنیا بھی اچھی گزرے ٣ ؎ گی۔ ان حدیثوں کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلی امتوں میں سے جن لوگوں کے دل میں خدا کا خوف تھا ان کی عقبیٰ تو یوں درست ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسولوں کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور دنیا یوں درست ہوئی کہ نافرمانوں کو برباد کر کے ان کی جگہ ان فرمانبرداروں کو بسایا گیا۔ آگے بھی جو شخص ایسا ہوگا کہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہوگا تو دین و دنیا میں اس کا یہی انجام ہوگا۔ ١ ؎ الترغیب ص ٨٩ ج ٢ باب ترغیب الحاکم وغیرہ من ارضاع الناس الخ ٢ ؎ الترغیب ص ٢٦٠ ج ٢ باب الترغیب فی الخوف الخ۔ ٣ ؎ مجمع الزوائد ٢٤٩ ج ١٠ باب فیمن احب الدنیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:13) لتعودن۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بالام تاکیدونون ثقیلہ ۔ تم کو ضرور بالضرور لوٹ آنا ہوگا (ہمارے مذہب میں) عود (باب نصر) سے جس کے معنی کسی شے سے پلٹنے کے بعد (خواہ پلٹنا بذات خود ہو یا بذریعہ قول یا بذریعہ عزم و ارادہ ) اس کی طرف پھرنے اور لوٹنے کے ہیں۔ اوحی۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے وحی بھیجی۔ اس نے حکم دیا۔ اس نے اشارہ دیا۔ ایحاء (افعال) سے۔ لنھلکن الظالمین۔ لنھلکن۔ مضارع جمع متکلم۔ بالام تاکیدونون ثقیلہ ۔ ہم ضرور تباہ کردیں گے ہلاک کردیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ ان کا یہ کہنا ان کے اپنے زعم کے مطابق ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہا انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے۔ بلکہ انہوں نے نبوت سے قبل انبیاء کے ان کے بتوں کی تردید سے خاموش رہنے کی بنا پر بطور خود یہ سمجھ لیا تھا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دین میں داخل ہوجائو۔ (دیکھئے اعراف آیات 88) ۔ یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (رازی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٣) اسرارومعارف واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔ (نبی کی ولایت) حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے چھلکتی نظر آتی ہے ، مگر ان جاہلوں نے سمجھا کہ انہوں نے اب یہ نیا مذہب ایجاد کرلیا ہے لہذا بہتر ہے کہ پہلے والے اور ہمارے والے ہی پہ واپس آجاؤ ورنہ تمہیں ملک سے نکال باہر کریں گے ، ان کے اس جرم میں انہیں مہلت نہ دی گئی ، اور یہ بات تاریخی اعتبار سے بھی ثابت ہے کہ قوموں کی نافرمانیاں برداشت ہوتی رہیں ، مگر جب انہوں نے انبیاء کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا تو یہ گستاخی برداشت نہ کی گئی اور وہ تباہ کردیئے گئے ، اسی طرح اللہ جل جلالہ نے اپنے رسولوں کو اطلاع دی کہ یہ کس حیثیت کے مالک ہیں جو آپ لوگوں کو نکال سکیں گے ان کے اس جرم کی پاداش میں ہم ہی ان کو تباہ وبرباد کردیں گے اور تمہیں ماننے والوں کو اسی زمین پر آباد رہنے کا موقع عطا فرمائیں گے اور ہمارا یہ وعدہ نہ صرف تمہارے لیے ہے بلکہ ہر وہ شخص جو انبیاء پر ایمان لایا اور جسے قیامت اور آخرت کے خوف نے ہماری نافرمانی سے روک دیا ان سب کو اسی طرح زمین پر آباد رکھیں گے تو ایک طرح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نام نہاد نیکی سے حکومت واختیار کے لیے اقتدار نصیب نہیں ہوتا ، بلکہ اعلی کردار کا ہونا شرط ہے اور اگر ملک میں کردار کی شرط اور ایسے افراد کی کثرت ہو تو اقتدار انہیں نصیب ہوتا ہے ورنہ پھر نام نہاد پارسا اور بدکردار دونوں ہی اسباب دنیا کے اسیر ہوجاتے ہیں وہ جیسے مہیا آگئے وہ اوپر چلا گیا اور اپنے لیے مزید گناہ کرنے کا موقع حاصل کرلیا یہ سب بات سن کر وہ لوگ بھی فیصلہ کے طالب ہوئے کہ اچھی بات ہے اگر ہمیں عذاب سے ڈراتے ہی ہو تو وہ عذاب لے ہی آؤ چناچہ عذاب الہی آیا اور ہر سرکش اور ضدی تباہ وبرباد ہوگیا ، اور یہ تباہی صرف دنیاوی ہلاکت پر بس نہ ہوجائے گی بلکہ اس کے بعد انہیں دوزخ میں جانا ہوگا جو اس قدر درد ناک جگہ ہے کہ جہاں پینے کو جو پانی دیا جائے گا وہ ایسا ہوگا جیسے خون اور پیپ مل کر سخت غلیظ آمیزہ سا بن گیا ہو اور دوزخیوں کو ان کی پیاس گھونٹ گھونٹ پینے پر مجبور کر دے گی جبکہ وہ سیال گلے سے اتارنا مشکل ہوجائے گا اور ہر سمت سے ایسے سخت اور درد ناک عذاب مسلسل آتے رہیں گے جو موت سے بھی بھیانک اور تباہ کرنے کے لیے کافی ہوں گے مگر دوزخ کے رہنے والے مر بھی نہ سکیں گے اور ایک کے بعد دوسرا عذاب پہلے سے شدید ترین ہوتا چلا جائے گا ، رہی یہ بات کہ اگرچہ ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا مگر کچھ نہ کچھ بھلائی اور نیکی بھی تو کرتے رہے ہوں گے اور نیکی تو بہرحال نیکی ہے اس کا صلہ ہونا چاہئے تھا تو اے مخاطب سن کہ ان کی نیکیوں کے تنکوں کو ان کے کفر کی آندھیاں اڑا کرلے گئیں اور میدان حشر میں ان کے ہاتھ کچھ بھی نہ تھا سوائے کفر اور گناہوں کے کہ نیکی کی بنیاد ایمان پر ہے جب آخرت پر یقین ہو اور وہاں بدلہ پانے کی غرض سے نیک کام کیا جائے تو وہ درست لیکن جو لوگ آخرت کو مانتے ہی نہیں اگر وہ کوئی بھلائی کرتے بھی ہیں تو وہ محض بھلائی کی صورت ہوتی ہے جس سے دنیا کا نفع اقتدار یا شہرت یا دولت وغیرہ مراد ہوتا ہے جو کبھی انہیں مل بھی جاتا ہے اور بعض اوقات اس میں اتنا وزن بھی نہیں ہوتا کہ دنیا ہی کما سکے تو آخرت کے لیے تو وہ کرتا ہی نہیں کہ اس کے کفر نے اسے اس اللہ جل جلالہ سے محروم کردیا ہوتا ہے ، لہذا وہاں وہ خالی ہاتھ ہی کھڑا ہوگا کہ ایسے لوگ بہت سخت گمراہی میں مبتلا تھے ، یہ قانون قدرت تو تمہیں اس کی صنعت میں بھی نظر آئے گا خواہ زمینوں میں خیال کرو یا آسمانوں پر نگاہ ڈالو کہ جو شے جس مقصد کے لیے پیدا فرمائی ہے اس پر وہی پھل لگتا ہے لہذا کافر کا عمل بھی جس نیت سے تھا وہی پھل اس پر لگے گا اور یہ بات کہ آخرت میں دوبارہ زندہ ہونا تمہیں مشکل نظر آئے تو ارض وسما کی صنعت اس پر گواہ ہے کہ وہ ہر چیز پہ قادر ہے جو کچھ پہلے بنایا ہے تمہارے سمیت دوبارہ بنایا اس کی ذات کے لیے کچھ مشکل نہیں بلکہ وہ تو ایسا قادر ہے کہ آخرت سے پہلے بھی تمہیں تباہ کر دے اور تمہاری جگہ کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے اس اس ذات کے لیے یہ سب بہت آسان ہے ۔ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اگر اس بھروسہ پر کی جائے کہ ہمارے پیشوا ہمیں اللہ جل جلالہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے تو یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے اور جو کچھ ہوگا وہ تمہیں اب بتا دیا جاتا ہے کہ بڑے چھوٹے سب بیک وقت میدان حشر میں اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں حاضر کھڑے ہوں گے اور کفار میں سے پیچھے چلنے والے اور کمزور لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ آج ہماری کچھ مشکل تو ضرور آسان کرو کہ ہم نے عمر بھر تمہاری غلامی کی اور تمہاری پیچھے چلتے رہے اب تمہیں چاہیے کہ ہم پر سے کچھ ہی سہی مگر عذاب الہی ہٹاؤ تو وہ کہیں گے تم پر سے کیا ہٹائیں کیا ہم خود گرفتار بلا نہیں ہیں ، ظاہر ہے جب ہم خود گمراہ تھے اور تمہیں بھی گمراہ کیا تو ہم بھی تو مبتلائے عذاب ہیں ، بھلا تمہارے کس کام آسکتے ہیں بلکہ ہمارا تمہارا حال اب یہ ہے کہ چلائیں یا صبر کریں کوئی بھی صورت عذاب ہیں بھلا تمہارے کس کام آسکتے ہیں بلکہ ہمارا تمہارا حال اب یہ ہے کہ چلائیں یا صبر کریں کوئی بھی صورت عذاب سے ذرہ برابر رہائی دلانے کی نہیں اور نہ اب خلاصی کی کوئی صورت ممکن ہے کفر پر خاتمہ ایک ابدی اور نہ ختم ہونے والی مصیبت کا نام ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 17 ارض زمین، سر زمین۔ لتعودن البتہ تمہیں ضرور لوٹنا ہوگا ۔ ملت مذہب، قوم، دین۔ اوحی اس نے وحی کی نھلکن ہم ضرور ہلاک کردیں گے۔ نسکنن ہم ضرور جما دیں گے۔ مقامی میرا مقام۔ وعید تنبیہ، غفلت سے جگانے والی استفتحوا انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔ مانگا۔ خاب ذلیل و خوار ہوا۔ جبار بہت جبر کرنے والا۔ عنید ضدی ۔ وراء پیچھے۔ یسقی پلایا جائے گا۔ ماء صدید پیپ کا پانی، گندہ پانی یتجرع گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ لایکاد قریب نہ ہوگا۔ یسیغ حلق سے اتارے گا۔ میت مرنے والا۔ غلیظ سخت۔ تشریح : آیت نمبر 13 تا 17 قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرام نے جب بھی کفر و شرک، بدعات اور طرح طرح کی بےحقیقت رسموں سے اپنی قوم کو روکنے کی کوشش تو انہوں نے ان کو اپنی ملت اور قوم کا غدار قرار دے کر پہلے تو مذاق اڑایا۔ پھر کچھ اعتراضات کئے اور معجزات کا مطالبہ کیا۔ جب وہ اپنی ان تدبیروں سے تھک گئے اتو اپنے غرور اور تکبر میں ان دھمکیوں پر اتر آئے کہ ہم : 1) تمہیں اپنی بستی اور ملک سے نکال دیں گے۔ 2) اپنی قوم کے طریقوں پر چلنے کے لئے مجبور کردیں گے۔ ان کی دھمکیوں کے جواب میں اللہ کی طرف سے یہی کہا جاتا کہ اے نبیوں اور رسولوں تم صبر اور برداشت سے کام لو ہم خود ان سے انتقام لے کر ان کو بےبس کردیں گے اور ان کو اس قابل نہ چھوڑیں گے کہ وہ اپنے گھروں میں آباد رہ سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ حق و صداقت پر چلنے والوں کو وہ قوت و طاقت عطا فرمائیں گے کہ وہ ان ظالموں کی بستیوں کے مالک بن جائیں گے۔ ان آیات میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ کفار نے اپنے غرور اور تکبر میں اللہ کے رسولوں سے یہ کہا کہ ہم تمہیں اپنی سر زمین سے نکال باہر کریں گے یا ہم تمہیں اپنے طریقوں کی طرف واپس لے ائٓیں گے یعنی اپنے رسم و رواج پر چلنے کے لئے مجبور کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ یہ ارشاد فرمایا کہ اے انبیاء کرام آپ اللہ کا دین پہنچاتے رہئے یہ ظالم آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے فرمایا کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور ان تمام لوگوں کو جو اللہ سے ڈرنے والے اور اس کی ہر تنبیہ کو سامنے رکھنے والے ہیں ان کو ان ظالموں کی جگہ مالک بنا کر اسی سر زمین پر ان کو غلبہ و قوت عطا کردیں گے۔ فرمایا کہ یہ تو دنیا میں ان ظالموں کی سزا ہوگی اور آخرت میں تو ان کے لئے سوائے تکلیفوں اور ذلتوں کے کچھ بھی نہ ہوگا ۔ ان کو پینے کے لئے وہ پانی دیا جائے گا جو لہو پیپ ہوگا۔ وہ اسے گھونٹ گھونٹ پئیں گے لیکن ان کے حلق سے نہ اتر سکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ فرشتے گرز مار مار کر ان کو یہ گندا پانی پینے پر مجبور کردیں گے۔ جس وقت وہ اس گرم گرم پانی کو ان کے منہ کے قریب کریں گے تو اس کی گرمی اور حرارت دماغ تک پہنچ جائیں گی اور ان کیم نہ کی کھال لٹک کر نیچے ڈھلک جائے گی ہر طرف سے موت ہی موت نظر آئے گی۔ اس وقت یہ کفار اور ظالم پچھتاتے ہوئے کہیں گے کہ اے کاش دنیا کی چند روزہ زندگی میں غرور وتکبر اور کفر و شرک نہ کرتے اور حسن عمل کا وہ مظاہر کرتے کہ آج یہ تکلیف اور اذیت نہ دیکھنی پڑتی اور اس طرح عذاب الٰہی کا شکار نہ ہوتے۔ تمام انبیاء کرام کے ساتھ ان کی قوم نے جو معاملہ کیا اس سے بھی سخت معاملہ کفار مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام کے ساتھ کیا۔ ظلم و ستم اور بربریت کی انتہا کردی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ کی سر زمین چھوڑنا پڑی۔ لیکن ہجرت کے چند برسوں ہی میں اللہ نے اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا فرمائی کفار ذلیل و خوار ہوئے اور ان پر مکمل غلبہ عطا فرما دیا گیا۔ اللہ کا یہی فیصلہ ہے جو ہمیشہ باطل پرستوں کے خلاف کیا جاتا ہے اور حق پر چلنے والوں کو غلبہ عطا کیا جاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) اور مومنین کے جواب میں کفار کی دھمکیاں۔ کفار اور مشرکین کی شروع ہی سے یہ عادت رہی ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے خلاف ہرزہ سرائی اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی سر توڑ کوشش ہوتی ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں پر اس قدر جبرو ستم کیا جائے کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے نہ صرف انکار کریں بلکہ اپنی جان کے خوف سے ایمان سے دست کش ہو کر کفر میں پلٹ آئیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے کردار اور ان کی استقامت کے بارے میں کفار کو یقین ہوتا تھا کہ یہ مرجائیں گے مگر اپنے عقیدے اور دعوت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ اس لیے انبیاء (علیہ السلام) کے بارے میں کفار کا عمومی طور پر یہ روّیہ رہا ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے یا اپنے ملک سے نکلنے پر مجبور کردیا جائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو انہوں نے پتھر مار مار کر مار ڈالنے کی دھمکی دی ان کے بعد جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ ان میں سے کچھ انبیاء (علیہ السلام) کو شہید کیا گیا اور چند ایک انبیاء (علیہ السلام) کو چھوڑ کر باقی کو ان کے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا۔ یہی کچھ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جانثار ساتھیوں کے ساتھ کیا گیا۔ جب بھی یہ صورت حال پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ ثابت قدم رہیے اور ہمارے حکم کے مطابق کرتے جائیے۔ ہم ظلم کرنے والوں کو ہر صورت ہلاک کریں گے اور تمہیں ضرور زمین میں تمکنت عطا فرمائیں گے۔ یہ مرتبہ اور مقام ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے سامنے کھڑا ہونے اور اس کی وعید سے ڈرتا رہے گا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہر جابر اور ظالم کو نا کام کردیا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو زمین میں عزت و عظمت اور برکات سے نوازا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب (رض) کی تاریخ اس پر پوری طرح گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو دنیا میں ذلیل و خوار کیا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ : (وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ )[ العنکبوت : ٦٩] ” جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنا راستہ دکھلائیں گے اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ مسائل ١۔ کفار انبیاء ( علیہ السلام) کو راہ راست سے بھٹکانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے دشمنوں کو ہلاک کرنے کا وعدہ پورا فرمایا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) کو زمین میں عزت و تمکنت عطا فرمائی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں اقتدار دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کامیاب اور کفار ذلیل ہوئے : ١۔ ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے اور تمہیں ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرجائے۔ (ابراہیم : ١٣۔ ١٤) ٢۔ کفارنے حضرت نوح کو جھٹلایا ہم نے نوح اور اس کے ماننے والوں کو نجات دی۔ (الاعراف : ٦٤) ٣۔ ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ (الشعرا : ٦٥) ٤۔ ہم نے شعیب اور ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (ہود : ٩٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١٣ تا ١٤ اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں کرتا۔ چناچہ یہاں جاہلیت رسولان کرام سے فقط یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں بند کردیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری ملت اور ہماری پارٹی میں واپس آجاؤ، اور ہماری جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ، بلکہ ہماری کان میں پگھل جاؤ، اس طرح کہ تمہارا کوئی مستقل وجود نہ رہے۔ یہی تو وہ بات ہے جسے اسلامی نظام کا مزاج قبول ہی نہیں کرتا اور نہ اس بات سے رسول۔۔۔۔ دستبردار ہوتے ہیں۔ چناچہ وہ انکار کردیتے ہیں اس لئے کہ ایک مسلم جو جاہلی سوسائٹی سے کٹ کر باہر آتا ہے کس طرح وہ دوبارہ اس سوسائٹی میں گھل مل سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلی سوسائٹی ، ایسے عناصر سے مرکب ہوتی ہے جو اپنے طبعی مزاج کے اعتبار سے کسی اسلامی عنصر کو قبول ہی نہیں کرتی الا یہ کہ کوئی مسلمان اپنی پوری تحریکی اور عملی قوتیں اس جاہلی سوسائٹی کے استحکام ہی کے لئے خرچ کر رہا ہو ، اور جاہلیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ جاہلیت میں گھس کر اور جاہلیت کے نظام کے اندر پگھل کر اور اس کا کل پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ دراصل اسلامی سوسائٹی کے عضویاتی عناصر ترکیبی اور اس کے مزاج ہی سے واقف نہیں ہیں اور نہ جاہلی معاشرے کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہیں۔ ہر معاشرہ دراصل اپنے اندر صرف انہی اجزاء کو قبول کرتا ہے جو اس معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں۔ اس کے مقام اور نظام کو مستحکم کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولان کرام اعلانیہ انکار کردیتے ہیں کہ ہم اب تمہاری ملت اور سوسائٹی میں واپس نہیں آسکتے۔ اس مقام پر اللہ کی قوت قاہرہ پھر جاہلیت پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایسی ضرب ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ ضرب نہایت ہی عظیم قوت کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس ضرب کو پھر بڑے بڑے سرکش اور ڈکٹیٹر بھی نہیں سہہ سکتے۔ یہ بات جان لینا چاہئے کہ اللہ کی عظیم قوت تحریکی معاملات میں تب مداخلت کرتی ہے جب رسول اپنی قوم سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دے دی ہے ، اس لیے اب وہ دوبارہ اس نظام جاہلیت میں واپس نہیں جاسکتے۔ جب تک وہ اپنی امتیازی شان پر اصرار نہیں کرتے۔ جب تک وہ اپنے دینی نظریہ پر مصر نہیں ہوتے اور اپنی قیادت کی ماتحتی میں اپنی الگ سوسائٹی کی تشکیل نہیں کرتے۔ اور جب تک یہ تحریک اور قیادت نظریاتی بنیادوں پر اپنی قوم کو منقسم نہیں کردیتی۔ غرض جب تک یہ صورت نہیں ہوتی کہ ایک قوم دو ملتوں کی شکل میں منقسم ہوجائے ، جن کا نظریہ ، جن کا طریق زندگی ، جن کی سوسائٹی اور جن کی قیادت علیحدہ ہوجائے تو اس وقت تک اللہ کی عظیم قوت مداخلت نہیں کرتی۔ جب اسلامی تحریک یہ پوزیشن اختیار کرلیتی ہے تو پھر اللہ کی عظیم قوت جاہلیت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہے۔ اب پھر کیا ہوتا ہے ، وہ تمام طاغوتی قوتیں پاش پاش کردی جاتی ہیں جو تحریک اسلامی کے لئے خطرہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو اللہ کی عظیم قوت زمین میں مستحکم کر کے بٹھا دیتی ہے اور تب جا کر اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ان کے بعد داعیان حق کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر تحریک اسلامی جاہلی سوسائٹی کا حصہ ہو۔ اس کے اندر پگھل چکی ہو ، اور جاہلی سوسائٹی کے طور طریقوں کے اندر ، جاہلی تنظیم کے اندر کام کر رہی ہو ، اس سے علیحدہ ، ممتاز اور جدا تحریک یا نظام نہ رکھتی ہو اور اس کی اپنی قیادت نہ ہو۔ اس وقت تک یہ مداخلت نہیں ہوتی اور نہ اللہ کی نصرت آتی ہے۔ فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظلمین (١٤ : ١٣) “ تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے ”۔ یہ نون تاکید اور عظمت کے لئے ہے۔ یہ دونوں معانی اس سخت موقعہ پر بہت اہمیت رکھتے ہیں ، یعنی ہم ان جابر مشرکوں ، ظالموں اور سرکشوں کو ہلاک کردیں گے ، ان کی ذاتی خرابیوں کی وجہ سے اور اس سچائی کی خاطر جو عوام کے لئے بھیجی گئی اور اس خوف و ہراس کی وجہ سے جو انہوں نے عوام کے اندر پیدا کردیا تھا۔ ولنسکننکم الارض من بعدھم (١٤ : ١٤) “ اور اس کے بعد تمہیں زمین پر آباد کریں گے ”۔ یہ کام کسی طرف داری یا مزاح کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اللہ کے ہاں فیصلے عدل کے مطابق ہوتے ہیں۔ ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید (١٤ : ١٤) “ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو ”۔ یعنی ایک مقتدر کو بنا کر کسی اور کو اقتدار دینا ، اور زمین کی خلافت دینا ، اس لیے ہوتا ہے کہ سرکشوں کو ہٹا کر ان کی جگہ خدا کا خوف رکھنے والی قیادت لائی جائے۔ پھر وہ دست درازی نہ کرے ، زمین میں غرور اور تکبر نہ کرے ، جباری و قہاری سے حکمرانی نہ کرے ، اللہ کے حدود سے ڈرے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہو اور فساد فی الارض سے بچے ، زمین میں ظلم نہ کرے ، اس لیے کہ اسے یہ اقتدار اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس کے لئے اہل سمجھی گئی ہے۔ جب اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکمل جدائی ہوجاتی ہے تو پھر سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کی اس حقیر دنیاوی قوت کے مقابلے میں اللہ جبار وقہار اور مکمل گھیر لینے والے کی عظیم قوت سامنے آتی ہے۔ کیونکہ رسولوں کی تبلیغ کی مہم ختم ہوجاتی ہے ، حق و باطل ایک دوسرے کے بالمقابل صف آراء ہوجاتے ہیں اور مومن جھوٹوں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اب صورت حالات یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف ایک کیمپ میں دنیا کے سرکشوں کی قوت سامنے آتی ہے اور رسول اور داعیان حق دوسری طرف کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ اللہ کی عظیم قوت ہوتی ہے۔ دونوں فتح و نصرت کے لئے دعا کرتے ہیں ، اور انجام یوں ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سابقہ امتوں کا رسولوں کو دھمکی دینا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے کافروں کے سخت عذاب کا تذکرہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی امتوں کو جو حق کی دعوت دیتے اور توحید کی طرف بلاتے اور اللہ جل شانہ وحدہ لاشریک کی بلاشرکت غیر عبادت کرنے کی دعوت دیتے تھے تو یہ بات ان لوگوں کو کھلتی تھی اور ناگوار ہوتی تھی، طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اور بری طرح پیش آتے تھے ان کی انہیں باتوں میں سے یہ بھی تھا کہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے نہ تمہیں یہاں رہنے دیں گے اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارا دین قبول کیا، ہاں اگر تم لوگ ہمارے دین میں واپس ہوجاؤ تو پھر ہم تم ایک ہوجائیں گے اور اس صورت میں ہماری تمہاری مخالفت ختم ہوجائے گی، چونکہ وطن چھوٹ جانا اور بےگھر ہوجانا بھی انسان کے لیے ایک بڑی تکلیف دہ بات ہے اس لیے کافروں نے انہیں یہ تڑی دی (معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو اہل کفر زمانہ قدیم سے جلا وطن کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور آج بھی اہل ایمان کے ساتھ ایسا ہوتا رہتا ہے) کافروں نے اپنی سرزمین سے نکالنے کی جو دھمکی دی، اس پر اللہ جل شانہ نے اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والے بندوں کو تسلی دی اور یہ وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور تمہیں اس زمین میں آباد رکھیں گے۔ جب خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی تو وہ انہیں بہت بری لگی آپ کو اور آپ کے صحابہ کو بہت تکلیفیں دیں بہت سے صحابہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں مشورہ لے کر بیٹھے کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے۔ سورة انفال رکوع ٣ میں ہے کہ کسی نے کہا کہ آپ کو قید میں ڈال دیں کسی نے کہا آپ کو قتل کردیا جائے کسی نے کہا ان کو یہاں مکہ کی سرزمین سے نکال دیا جائے آپ مکہ معظمہ چھوڑ کر ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے آئے ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر پیش آیا جس میں کفر کے ستر سرغنے مقتول ہوئے اور ستر سرغنے قید ہوئے پھر چھ سال کے بعد مکہ معظمہ فتح ہوگیا کفر مٹا شرک دفع ہوا اور اہل ایمان کو مکہ معظمہ میں امن وامان کے ساتھ رہنا نصیب ہوا پہلی امتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے کفر و ایمان کی جنگ چلتی رہی بالآخر اہل ایمان غالب ہوئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں کے سامنے دعوت توحید پیش کی مگر انہوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی اور اسے نہ مانا اور الٹے معاندانہ سوالات کرنے لگے جب ان کے سوالات کے معقول اور متین جوابات دے دئیے گئے تو لاجواب ہو کر اور اپنی خفت مٹانے کے لیے تشدد پر اتر آئے جیسا کہ باطل پرست دنیا داروں کا دستور ہے کہ وہ ہر جائز و ناجائز حربے سے حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ متمردینِ کفار نے انبیاء (علیہم السلام) کو دھمکی دی اور کہا تم ہمارے دین میں آجاؤ اور ہماری طرح تم بھی ہمارے معبودوں کی عبادت کیا کرو اور انہیں حاجات میں پکارا کرو اور ہماری ہاں میں ہاں ملا لو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہم تمہیں اپنے گاؤں سے نکال دیں گے اور تمہیں شہر بدر کردیں گے۔ 17:۔ تو اللہ تعالیٰ نے رسل (علیہم السلام) کی طرف وحی کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ فکر مت کرو میں ان ظالموں کو ضرور ہلاک کروں گا جو تمہیں ہر طریقہ سے ایذائیں دیتے اور کی زمینوں کا تم کو مالک بناؤں گا۔ کیونکہ ہمارا دستور ہی یہ ہے کہ ہم انبیاء (علیہم السلام) کو بھیج کر لوگوں پر اپنی حجت تام کرتے ہیں جب لوگ توحید کو نہ ماننے پر اڑ جائیں اور ہمارے پیغمبروں کو ایذا پہنچانا بند نہ کریں تو ہم ان کو عذاب سے نیست و نابود کردیتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ” وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا “ (بنی اسرائیل رکوع 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

13 ۔ ان تمام باتوں کو سن کر ان منکروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سر زمین اور اپنے علاقہ سے نکال باہر کریں گے اور تم کو جلا وطن کردیں گے یا تم ہماری ملت اور ہمارے مسلک میں چلے آئو اور ہمارے مذہب میں لوٹ آئو پس ان رسولوں کے پروردگار نے ان رسولوں پر اسی وقت وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو یقیناہلاک کردیں گے۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ یہ پیغمبر اس دعویٰ پیغمبری سے پہلے ہمارے ہی دین میں تھے اس لئے واپس آنے کا مطالبہ کیا کہ جس طرح پہلے خاموش تھے ویسے ہی ہو جائو اور ہوسکتا ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے ان کو یہ دھمکی دی ہو اور انبیاء کو ان کے ساتھ شامل کرلیا ہو۔ بہر حال ! حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو تسلی دی ۔