TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Root words of Surat Ibrahim 14:21, word 28

The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.

Verse 14:21 word by word

Open the verse
EqualVerbPersonal Pronoun

whether we show intolerance

خواہ ہم جزع و فزع کریں

Tap any part above to see where else it appears

Verb form 1

جزع
جَزِعَ
Perfect
يَجْزَعُ
Imperfect
اِجْزَعْ
Imperative
جَازِع
Active participle
مَجْزُوْع
Passive participle
جَزَع
Verbal noun

Mufradat ul Quran

Imam Raghib Isfahani

اَلْجَزَعُ: بے صبری۔ قرآن پاک میں ہے: (سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا) (۱۴:۲۱) اب ہم گھبرائیں یا صبر کریں۔ ہمارے حق میں برابر ہے۔ یہ حزن سے خاص ہے کیونکہ جَزَعٌ خاص کر اس غم کو کہتے ہییں جو انسان کو جس چیز کے وہ درپے ہو اس سے پھیر دے اور اس سے تعلق قطع کردے۔ اصل میں جَزْعٌ (ف) کے معنی رسی کو نصف سے کاٹ دینے کے ہیں اور اِنْجَزَعَ (انفعال) اس کا مطاوع آتا ہے، جیسے جَزَعْتُہٗ فَانْجَزَع میں نے اسے کاٹا چنانچہ کٹ گیا۔ اور معنی انقطاع کے تصور کی بنا پر وادی کے موڑ کو جَزْعُ الْوَادِیْ کہا جاتا ہے اور تغیر سے بھی چونکہ اصل رنگ کٹ جاتا ہے، اس لیے متلون خر مہرے کو جَزْعٌ کہتے ہیں اسی سے لَحْمٌ مُجَزَّعٌ کا محاورہ مستعار ہے، جس کے معنی دو رنگ کے گوشت کے ہیں اور نیم پختہ کھجور کو مُجَزَّعٌ کہا جاتا ہے۔ اَلْجَازعُ: شہتیر کو کہتے ہیں جو چھت کے وسط میں ڈالا جاتا ہے اور دونوں طرف سے چھوٹے شہتیر آآکر اس پر مل جاتے ہیں تو اسے جَازع یا تو اس لیے کہا جاتا ہے کہ بوجھ اٹھانے کی وجہ سے گویا وہ بے صبر ہورہا ہے اور یا اس لیے کہ کمرے کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے گویا وہ اسے دو حصوں میں قطع کردیتا ہے۔

Lemma / Derivative

1 results

جَزِعْ
14:21
خواہ ہم جزع و فزع کریں
whether we show intolerance
اَجَزِعْنَآ