Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 28

سورة إبراهيم

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ کُفۡرًا وَّ اَحَلُّوۡا قَوۡمَہُمۡ دَارَ الۡبَوَارِ ﴿ۙ۲۸﴾

Have you not considered those who exchanged the favor of Allah for disbelief and settled their people [in] the home of ruin?

کیا آپ نے ان کی طرف نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Recompense of Those Who have changed the Blessings of Allah into Disbelief Allah says; أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief (by denying Prophet Muhammad and his Message of Islam), and caused their people to dwell in the house of destruction! Al-Bukhari said, "Allah's statement, أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا (Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief...), means, do you have knowledge in. Allah said in other Ayat, أَلَمْ تَرَ كَيْفَ Saw you not how. and, أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُواْ Did you not think of those who went forth. قَوْماً بُوراً A lost people. (25:18) Ali bin Abdullah narrated that Sufyan said that Amr said that Ata said that he heard Ibn Abbas saying that, أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا "(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief), is in reference to the people of Makkah." Ibn Abi Hatim recorded that Abu At-Tufayl said that Ibn Al-Kawwa' asked Ali about Allah's statement, إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ (those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction) and Ali said that; it refers to the disbelievers of Quraysh on the day of Badr. He also said that; the blessing of Allah was faith that came to the polytheists of Quraysh, and they changed this blessing into disbelief and led their people to utter destruction. This includes all disbelievers, for Allah sent Muhammad as a mercy and a blessing to all mankind. Those who accepted this blessing and were thankful for it, will enter Paradise, while those who denied it and disbelieved in it, will enter the Fire. جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِيْسَ الْقَرَارُ

منافقین قریش صحیح بخاری میں ہے الم تر معنی میں الم تعلم کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا بوار کے معنی ہلاکت کے ہیں باریبوربورا سے بورا کے معنی ہلکین کے ہیں مراد ان لوگوں سے بقول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے لیکن مشہور اور صحیح قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اول ہی ہے ۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لئے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ایک قول حضرت ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کوا کے جواب میں آپ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں ۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ نے فرمایا مراد اس سے منافقین قریش ہیں ۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا ؟ واللہ میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا ۔ یہ سن کر عبداللہ بن کوا کھڑا ہو گیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الہٰی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا آپ نے فرمایا یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا ۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ ۔ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا ۔ بدر میں ابو جہل تھا اور احد میں ابو سفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے ۔ اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں ۔ میرے ماموں اور تیرے چچا ، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہو گئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے ۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے ۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ دینا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے ۔ جیسے فرمان ہے ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بےبس کر دیں گے دنیاوی نفع اگرچہ ہو گا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 اس کی تفسیر صحیح بخاری میں ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ ہیں، جنہوں نت رسالت محمدیہ کا انکار کر کے اور جنگ بدر میں مسلمانوں سے لڑ کر اپنے لوگوں کو ہلاک کروایا، تاہم اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے رحمتہ للعالمین اور لوگوں کے لئے نعمت الٰہیہ بنا کر بھیجا، پس جس نے اس نعمت کی قدر کی، اسے قبول کیا، اس نے شکر ادا کیا، وہ جنتی ہوگیا اور جس نے اس نعمت کو رد کردیا اور کفر اختیار کیے رکھا، وہ جہنمی قرار پایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] ان لوگوں سے مراد قریشی مشرک سردار ہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت سارے عرب کی باگ ڈور تھی۔ یہ لوگ بیت اللہ کے پاسبان تھے اور اسی پاسبانی کی وجہ سے ان کی عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا اور قرآن نازل فرمایا۔ یہ اللہ کی ان پر دوسری بڑی مہربانی تھی۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا جواب ضد اور عناد سے دیا۔ حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ پھر اس مخالفت میں بڑھتے ہی گئے تاآنکہ خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی تباہ کرکے چھوڑا اور مرنے کے بعد خود بھی جہنم واصل ہوں گے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا ۔۔ :” الْبَوَارِ “ یہ ” بَارَ یَبُوْرُ “ (ن) کا مصدر ہے، معنی ہے :” فَرْطُ الْکَسَادِ “ یعنی انتہائی بےقدر و قیمت ہونا، پھر ہلاکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ (راغب) 3 انسان کو اپنے وجود کی نعمت سب سے پہلے مفت ملی، اس نے اس کا شکر اپنے خالق کی اطاعت کے بجائے کفر، یعنی ناشکری اور اس کے وجود یا اطاعت و عبادت سے انکار کے ساتھ کیا اور جو شخص جس قدر سرداری اور نعمت سے بہرہ ور تھا اس نے اتنا ہی اپنی قوم کو غلط راستے پر لگا کر جہنم میں پہنچایا۔ اس لحاظ سے آیت عام ہے مگر سیاق وسباق اور مفسرین کے مطابق یہاں مراد کفار قریش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں پیدا فرما کر اپنے مقدس گھر کا متولی بنادیا۔ امن و اطمینان اور دنیا کا ہر پھل اور نعمت مہیا فرمائی، انھوں نے اس کا بدلہ توحید اور اطاعتِ الٰہی کے بجائے عین کعبہ میں اور اس کے اردگرد تین سو ساٹھ بت رکھ کر اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار کردیا، فرمایا : ( ۭ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ ) [ القصص : ٥٧ ] ” اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔ “ اور دیکھیے سورة قریش۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان میں مبعوث فرما کر دنیا اور آخرت میں سرداری کی نعمت حاصل کرنے کا موقع دیا، مگر انھوں نے آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کے بجائے کفر کو اختیار کیا اور آپ کو ہر ایذا دی، حتیٰ کہ آپ کو حرم میں قتل کردینے کا منصوبہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں کو دنیا میں جنگوں، خصوصاً بدر وغیرہ اور آخر میں فتح مکہ کی صورت میں رسوائی اور بربادی ملی، شدید قحط اور مکہ میں قافلوں کی آمد رک جانے کی صورت میں آمدنی ختم ہونے سے انھیں بھوک اور خوف نے گھیر لیا اور آخرت میں جہنم میں جانے کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ چناچہ فرمایا : (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ١١٢؁ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ ) [ النحل : ١١٢، ١١٣ ] ” اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے اور بلاشبہ یقیناً ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔ “ اَلَمْ تَرَ : اس کے اولین مخاطب اگرچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں مگر ہر وہ شخص اس کا مخاطب ہے جو مخاطب ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے ساتھ انسان خصوصاً کفار قریش کی نعمت کے مقابلے میں ناشکری اور کفر پر تعجب کا اظہار فرمایا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Finally, said in verses 28 and 29 was: أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرً‌ا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ‌ الْبَوَارِ‌ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ الْقَرَ‌ارُ‌ Have you not seen those who changed the favour of Allah with disbelief and landed their people in the house of destruction, the Jahannam? They shall enter it. And it is an evil abode. Here, نِعمَۃ اللہ (the favour of Allah) could mean the common physical blessings of Allah Ta’ ala. These are tangible and perceptible and relate to outward benefits of human beings such as food, drink, land, home and things like that. Then it could also mean spiritual blessings and favours as well which have come from Allah Ta’ ala for the guidance of human be¬ings, for example, the prophets, the scriptures, and the signs of Divine power and wisdom which have been placed in every inch of the human existence, and in its countless creations, and in the heavens and its un¬fathomable and incomprehensible universe. All these serve as logistics for the guidance of human beings. These two kinds of blessings and favours demanded that human be¬ings should have recognized the greatness and the power of Allah Ta’ ala, been grateful to His gifts and devoted to His command. But, the disbe¬lievers and the polytheists elected to shun gratitude and obedience and opted for ingratitude and disobedience. The result was that they led their people to their mutual abode of destruction, that is, in Hell. The Lesson given by these verses Described in these verses is the greatness, virtues, blissfulness and fruitfulness of the belief in the Oneness of Allah and in the Kalimah Taiyyibah: لا إله إلا اللہ (la ilaha illallah). Also identified there are the ill ef¬fect and evil outcome of refusing to believe in them. It goes without say¬ing that Tauhid, the belief in the Oneness of Allah, is an everlasting treasure which is full of barakah in many ways. In the present world of our experience, it brings Divine support with it, and which continues after that too, in the &Akhirah and the grave. And the act of rejecting them amounts to changing what was the blessing and favour of Allah into what is punishment.

(آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ۔ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ ۔ یعنی کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بدلہ میں کفر اختیار کرلیا اور اپنی قوم کو جو ان کے کہنے پر چلتی تھی ہلاکت و بربادی کے مقام میں اتار دیا وہ جہنم میں چلیں گے اور جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے ، یہاں نعمۃ اللہ سے اللہ تعالیٰ کی عام نعمتیں بھی مراد ہو سکتی ہیں جو محسوس و مشاہد ہیں اور جن کا تعلق انسان کے ظاہری منافع سے ہے جیسا کھانے پینے پہننے کی اشیاء زمین اور مکان وغیرہ اور وہ مخصوص معنوی نعمتیں بھی ہو سکتی ہیں جو انسان کے رشد و ہدایت کے لئے حق تعالیٰ کی طرف سے آئی ہیں مثلا انبیاء اور آسمانی کتابیں اور جو نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی اپنے وجود کے ہر جوڑ میں پھر زمین اور اس کی بیشمار مخلوقات میں آسمان اور اس کی ناقابل ادراک کائنات میں انسان کی ہدایات کا سامان ہیں۔ ان دونوں قسم کی نعمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت کو پہچانتا اس کی نعمتوں کا شکر گذار ہو کر اس کی فرمانبرداری میں لگ جاتا مگر کفار و مشرکین نے نعمتوں کا مقابلہ شکر کے بجائے کفران نعمت اور سرکشی و نافرمانی سے کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت و بربادی کے مقام میں ڈال دیا اور خود بھی ہلاک ہوئے، احکام و ہدایات : ان تینوں آیتوں میں توحید اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی عظمت و فضیلت اور اس کی برکات وثمرات اور اس سے انکار کی نحوست اور انجام بد کا بیان ہوا ہے کہ توحید ایسی لازوال دولت ہے جس کی برکت سے دنیا میں تائید ایزدی ساتھ ہوتی ہے اور آخرت اور قبر میں بھی اور اس سے انکار اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو عذاب سے بدل ڈالنے کے مرادف ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ 28؀ۙ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ حلَ أصل الحَلّ : حلّ العقدة، ومنه قوله عزّ وجلّ : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي[ طه/ 27] ، وحَللْتُ : نزلت، أصله من حلّ الأحمال عند النزول، ثم جرّد استعماله للنزول، فقیل : حَلَّ حُلُولًا، وأَحَلَّهُ غيره، قال عزّ وجلّ : أَوْ تَحُلُّ قَرِيباً مِنْ دارِهِمْ [ الرعد/ 31] ، ( ح ل ل ) الحل اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي[ طه/ 27] اور میری زبان کی گرہ کھول دے ۔ میں یہی معنی مراد ہیں اور حللت کے معنی کسی جگہ پر اترنا اور فردکش ہونا بھی آتے ہیں ۔ اصل میں یہ سے ہے جس کے معنی کسی جگہ اترنے کے لئے سامان کی رسیوں کی گر ہیں کھول دینا کے ہیں پھر محض اترنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ لہذا کے معنی کسی جگہ پر اترنا ہیں اور احلۃ کے معنی اتارنے کے قرآن میں ہے : ۔ أَوْ تَحُلُّ قَرِيباً مِنْ دارِهِمْ [ الرعد/ 31] یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] بور البَوَار : فرط الکساد، ولمّا کان فرط الکساد يؤدّي إلى الفساد۔ كما قيل : كسد حتی فسد۔ عبّر بالبوار عن الهلاك، يقال : بَارَ الشیء يَبُورُ بَوَاراً وبَوْراً ، قال عزّ وجل : تِجارَةً لَنْ تَبُورَ [ فاطر/ 29] ، وَمَكْرُ أُولئِكَ هُوَ يَبُورُ [ فاطر/ 10] ، وروي : «نعوذ بالله من بوار الأيّم» ، وقال عزّ وجل : وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دارَ الْبَوارِ [إبراهيم/ 28] ، ويقال : رجل حائر بَائِر، وقوم حور بُور . وقال عزّ وجل : حَتَّى نَسُوا الذِّكْرَ وَكانُوا قَوْماً بُوراً [ الفرقان/ 18] ، أي : هلكى، جمع : بَائِر . البوار ( ن ) اصل میں بارالشئ بیور ( ، بورا وبورا کے معنی کسی چیز کے بہت زیادہ مندا پڑنے کے ہیں اور چونکہ کسی چیز کی کساد بازاری اس کے فساد کا باعث ہوتی ہے جیسا کہ کہا جانا ہے کسد حتیٰ فسد اس لئے بوار بمعنی ہلاکت استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ تِجارَةً لَنْ تَبُورَ [ فاطر/ 29] اس تجارت ( کے فائدے ) کے جو کبھی تباہ نہیں ہوگی ۔ وَمَكْرُ أُولئِكَ هُوَ يَبُورُ [ فاطر/ 10] اور ان کا مکرنا بود ہوجائیگا ۔ ایک روایت میں ہے (43) نعوذ باللہ من بوارالایم کہ ہم بیوہ کے مندا پن سے پناہ مانگتے ہیں یعنی یہ کہ اس کے لیے کہیں سے پیغام نکاح نہ آئے ۔ وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دارَ الْبَوارِ [إبراهيم/ 28] اور اپنی قوم کو تباہی کے گھرا تارا ۔ رجل جائر بائر مرد سر گشتہ خود رائے ۔ جمع کے لئے حور بور کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ ؛۔ حَتَّى نَسُوا الذِّكْرَ وَكانُوا قَوْماً بُوراً [ الفرقان/ 18] یہاں تک کہ وہ تیری یا د کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے ۔ میں بوبائر کے جمع ہے بعض نے کہا ہے کہ بور مصدر ہے اور واحد و جمع دونوں کی صفت واقع ہوتا ہے جیسے ۔ رجل بورو قوم بور

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨۔ ٢٩) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ کو ان کی خبر نہیں جنہوں نے نعمت خداوندی یعنی کتاب اور رسول کا انکار کیا مراد اس سے بنوامیہ اور بنو مغیرہ ہیں جو بدر کے دن مارے گئے کہ انہوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن اکرم کا انکار کیا اور ان مکہ والوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی بدر میں یا یہ کہ جہنم میں پہنچا دیا، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے دن اس جہنم میں داخل ہوں گے اور وہ بہت بری اترنے اور رہنے کی جگہ ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ الم ترالی الذین بدلوا “۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطا بن یسار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ ”۔ الم تر الی الذین بدلوا “۔ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بدر کے دن مارے گئے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا) اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی نعمت سے نوازا تھا مگر انہوں نے ہدایت ہاتھ سے دے کر ضلالت اور گمراہی خرید لی۔ اللہ اس کے رسول اور اس کی کتاب سے کفر کر کے انہوں نے اللہ کی نعمت سے خود کو محروم کرلیا۔ (وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) جیسے سورة ہود آیت ٩٨ میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ روز محشر وہ اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا آئے گا اور اس پورے جلوس کو لا کر جہنم کے گھاٹ اتار دے گا۔ اسی طرح تمام قوموں اور تمام معاشروں کے گمراہ لیڈر اپنے اپنے پیروکاروں کو جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٨۔ ٣٠۔ صحیح بخاری، نسائی مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق، ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) اور حضرت علی (رض) کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاوے دنیا میں رسول کی برکت سے غیر قوموں پر فتح پاویں دین میں رسول سے راہ نجات سیکھ کر جس کے دائمی عیش میں رہیں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبر دار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس لئے وقت مقررہ تک ان کو مہلت دی گئی پھر آخر نتیجہ یہ ہوا کہ بدر کی لڑائی میں اللہ تعالیٰ نے قریش کے اکثر ان بڑے بڑے سرداروں کو جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کی ناشکری کی تھی مسلمانوں کے ہاتھ سے غارت کرا دیا اسی باب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ١ ؎ ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ بنی امیہ میں سے بعضے لوگ تو وہ تھے کہ بدر اور احد میں مخالفت رسول کے سبب سے دنیا میں کتے کی موت مارے گئے اور آخرت میں فی النار ہوئے اور بعضے وہ جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کی قدر کی اسلام لائے رسول کی اطاعت کی انہوں نے دنیا میں بھی عیش کئے حکومت پائی خلافت پائی دین میں بھی عیش دائمی کا وعدہ اللہ نے ان سے اور ہر سچے مسلمان سے کیا ہے۔ اسی واسطے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے جو دو فرض نماز اور زکوٰۃ تھے ان کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں اللہ کے وعدہ کا ظہور ہوا ہے مرتے دم تک جو اللہ کے رسول کی اطاعت میں رہے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت تک جو چیز فرض ٹھہرائی ہے اس کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کرے گا اس سے آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ایسا ہی پورا کرے گا جس طرح اس نے دنیا میں اپنا وعدہ سب کی آنکھوں کے سامنے پورا کیا ہے۔ صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ٢ ؎ ہے کہ پہلے پہل ایک شخص عمرو بن لحی نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی پھر اس کے بعد قریش کے سرداروں میں ابو جہل وغیرہ ایسے لوگ تھے جو خود بھی عمرو بن لحی کی رسموں کے پابند تھے اور دوسروں کو بھی اسی کی رغبت دلاتے تھے۔ مثلاً مستدرک حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی صحیح روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ولید بن مغیرہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر کچھ نرم دل ہوگیا تھا مگر ابو جہل نے پھر اس کو ٣ ؎ بہکادیا حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں ایسے ہی لوگوں کو قوم کے بہکانے والے اور قوم کے تباہ کرنے والے فرمایا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا خود بہکنے کا جدا اور دوسروں کے بہکانے کا ٤ ؎ جدا اس واسطے ایسے لوگوں کو برے ٹھکانے کے لوگ فرمایا۔ بعضے مفسروں نے اس آیت اور آیت { الا خلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین } (٤٣: ٦٧) کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ایک آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مطلق دوستی نہ ہوگی اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا کہ کچھ متقی لوگوں میں دوستی ہوگی جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ قیامت کے حالات کئی طرح کے ہوں گے چناچہ نامہ اعمال تقسیم ہونے اور حساب و کتاب کے ہوجانے سے پہلے تو لوگ اس طرح کے بد حواس ہوں گے کہ آپس میں میل جول اور دوستی تو درکنار ایک کو دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا موقع بھی نہ رہے گا چناچہ بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ میں حضرت عائشہ (رض) کی اور طبرانی میں حضرت ام سلمہ (رض) کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے ننگے قبروں سے اٹھنے کا ذکر کیا تو حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ام سلمہ (رض) نے کہا کہ بڑا افسوس ہے سب مرد ننگی عورتوں کو دیکھیں گے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت مردوں کو عورتوں کے اور عورتوں کے مردوں کے دیکھنے کا ہوش نامہ اعمال اور حساب کے خوف سے کہاں ٥ ؎ ہوگا پھر حضرت ابوسعید خدری (رض) کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت میں آپ نے فرمایا ہے کہ متقی لوگ جب جنت میں داخل ہونے کی اجازت حساب و کتاب سے فارغ ہوجانے کے بعد پاویں گے تو اپنے بھائی گنہگار مسلمانوں کی نجات کے لئے اللہ تعالیٰ سے ایسے جھگڑیں گے کہ وہ جھگڑا دیکھنے کے قابل ہوگا اس لئے دونوں آیتوں میں مختلف وقتوں کا حال ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اہل مکہ میں سے جو لوگ راہ راست پر نہیں آتے ان کو تم ان کی حالت پر چھوڑ دو اللہ کے علم ازلی میں جو انجام ان کا ٹھہرا ہے وقت مقررہ پر وہ خود ظہور میں آجاوے گا لیکن جو لوگ تم کو سچا رسول اور قرآن کو اللہ کا کلام مان چکے ہیں ان کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کر دو اور ان کو یہ سمجھا دو کہ یہاں دنیا میں تو فرض اور نفل صدقہ خیرات میں تھوڑا سا مال خرچ کرنے سے ایک کے بدلہ میں سات سو تک کمانے کی تجارت کا موقع حاصل ہے جس سے نیکی کا پلڑا بھاری ہو کر آدمی کی نجات قیامت کے دن ہوسکتی ہے لیکن خاص اس دن عذاب الٰہی سے چھٹکارہ ہوجانے کے بدلہ میں کوئی شخص تمام دنیا کا مال و متاع بھی دینا چاہے گا تو چھٹکارہ نہ ہو سکے گا اور اس دن کوئی دوست بھی ایسا نظر نہیں آنے کا جو اللہ کی مرضی کے برخلاف سفارش کر کے کسی کو چھٹکارہ کرا دیوے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کے موافق جو باتیں انسان پر فرض ٹھہرا دی ہیں خالص دل سے ان کو پورے طور پر ادا کرنے کی کوشش ہر ایمان دار شخص پر لازم ہے کہ قیامت کے دن یہی نجات کی صورت ہے صحیح قول حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کا یہی ہے کہ انہوں نے { ینفقوا مما رزقنھم } کی تفسیر زکوٰۃ کے لفظ سے کی ہے۔ اس لئے اس قول سے ان مفسروں کے مذہب کی بڑی تائید ہوتی ہے جو زکوٰۃ کے مکہ میں فرض ہونے کے قائل ہیں۔ ١ ؎ تفسیر ابن جریرص ٢١٩۔ ٢٢٠ ج ١٢ و تیر ل ابن کثیر ص ٥٣٨ ج ٢ و تفسیر الدرالمنثور ص ٨٤ ج ٤۔ ٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٤٣ ج ٤ تفسیر سورت المدثر ٣ ؎ جلد ہذا ص ٢٦۔ ٤ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٧ ج ٢ باب قول اللہ وجوہ یو مئذ ناضرۃ الی ربہا فاظرۃ۔ ٥ ؎ تفسیر ابن جریر ص ٢٢٤ ج ١٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:28) بدلوا نعمت اللہ کفرا۔ ای بدلوا شکر نعمت اللہ کفرا۔ انہوں نے اللہ کی نعمت کا حق ِ شکر کفرانِ نعمت سے بدل ڈالا۔ احلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ احلال سے۔ انہوں نے لا اتارا۔ اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں۔ اور حللت کے معنی کسی جگہ پر اترنے کے ہیں۔ اور فروکش ہونا کے بھی آتے ہیں۔ اصل میں یہ ہے۔ حل الاحمال عند النزول سے۔ جس کے معنی کسی جگہ اترنے کے لئے سامان کی رسیوں کی گرہیں کھول دینا کے ہیں۔ پھر محض اترنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ لہٰذا حل (باب نصر) حلول کے معنی کسی جگہ اترنا کے ہیں۔ اسی سے ہے محلۃ اترنے کی جگہ۔ حل (باب ضرب) سے کسی چیز کا حلال ہونا (حرام کی ضد) کے ہیں۔ دار البوار۔ تباہی و بربادی کا گھر۔ البوار۔ بار یبور بورا وبوارا۔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے بہت مندا پڑنے کے ہیں۔ اور چونکہ کسی چیز کی کساد بازاری اس کے فساد کا باعث ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کسد حتی فسد اس لئے بوار۔ بمعنی ہلاکت استعمال ہونے لگا۔ احلوا قومہم دار البوار۔ انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں (یعنی دوزخ میں اپنی ناشکری کی وجہ سے) لا اتارا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ ان سے مراد کفار و مشرکین کے سردار ہیں۔ خصوصاً رؤسائے قریش، جن پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ ان کی رہنمائی کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا، قرآن اتارا اور انہیں سارے عرب میں سرداری عطا کی مگر انہوں نے اس احسان کا بدلہ یہ دیا کہ ناشکری پر کمربستہ ہوگئے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اس طرح دوسروں کے لئے بھی رکاوٹ بن گئے اور ان کو ہلاکت کے گڑھے میں لاڈالا۔ من جملہ اس کہے یوم بدر کا عذاب بھی ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٥) اسرارومعارف ذرا ان لوگوں کا حال ملاحظہ ہو کہ قانون قدرت اور تقاضائے ربوبیت کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو تو پایا مگر بجائے شکر ادا کرنے کے کفر کی راہ اختیار کرلی ، نعمائے الہی میں ظاہرا تو خود وجود انسانی اور اس کی بیشمار صلاحیتیں ہیں پھر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب وذرائع اور اس کے استعمال کے لیے بیشمار نعمتیں ، یہ سب کچھ از خود عظمت باری پہ بہت بڑی دلیل ہے ، جبکہ اللہ جل جلالہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتابیں نازل فرما کر انعامات کی حد کردی انسان ایک باشعور اور باصلاحیت مخلوق تھی اسے چاہئے تو یہ تھا کہ ان سب نعمتوں پر غور وفکر کرتا اور اس کا سربارگاہ الہی میں جھک جاتا مگر جاہلوں نے کفر کی راہ اپنائی اور قوم کو بھی جس نے ان کی بات قبول کی اسی راستے پر لگا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے ساتھ قوم بھی لے ڈوبے اور سب کو بربادیوں کی نذر کردیا ، یعنی جہنم میں جا پھینکا جو بدترین اور مشکل ترین جگہ ہے اور جہاں انہیں رہنا ہوگا ۔ ان ظالموں نے اللہ جل جلالہ کے اوصاف کو اپنے ایجاد کردہ معبودوں اور بتوں میں مان کر انہیں اللہ جل جلالہ کا شریک ٹھہرا لیا اور یوں دوسروں کو گمراہ کرنے سبب بن گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کہہ دیجئے کہ دنیا کا نظام اپنے مقررہ طریق پر رواں ہے لہذا تمہیں بھی مہلت اور فرصت کے ساتھ زندگی صحت ، رزق وغیرہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع میسر ہے لہذا اٹھا لو ، مگر یاد رکھو انجام کار اپنے کافرانہ اور مشرکانہ عقائد کے سبب تمہیں جہنم میں جانا پڑے گا ۔ (رضائے باری کی دلیل) یعنی دولت دنیا یا اقتدار وغیرہ کا ملنا اللہ جل جلالہ کی رضا مندی کی سند نہیں بلکہ اللہ کریم کی رضا کی دلیل صحت عقیدہ کے ساتھ عمل صالح کی توفیق ہے ورنہ انجام بہت برا ہوگا ۔ میرے ان بندوں سے جنہیں دولت ایمان نصیب ہے فرما دیجئے کہ نماز کو قائم کریں ، صلوۃ کا ترجمہ اردو میں نماز لکھا ہے مگر اس سے مراد عبادات ہیں اور عبادات کا مقصد اللہ کریم سے وہ خاص کیفیت حاصل کرنے کی کوشش ہے جو اس کے قرب کی تمنا اتنی شدید کر دے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرنے کو جی نہ چاہے اور اگر کبھی سرزد ہوجائے تو توبہ کی تمنا جاگ اٹھے اور یوں انسان ہمیشہ قرب الہی میں آگے ہی آگے ترقی کرتا رہے اس امر میں انسان کی دولت ، اقتدار یا اس کے کمالات بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں اور وہ اپنے کمالات پر اترانے لگتا ہے اللہ کریم نے اس کا علاج تجویز فرما دیا کہ عبادات کے ساتھ یہ اہتمام بھی رہے کہ اللہ جل جلالہ نے جو نعمتیں عطا کی ہیں وہ اس کے حکم کے مطابق صرف ہوتی رہیں ، کبھی ظاہر جہاں اللہ جل جلالہ نے علی الاعلان صرف کرنے کا حکم دیا ہو جیسے میدان جہاد میں یا دوسرے نیک کاموں میں اور کبھی پوشیدہ جہاں اللہ جل جلالہ نے پوشیدہ طور پر کرنے کا ارشاد فرمایا ہو ، جیسے نفلی صدقات اور بعض اوقات صلہ رحمی میں مدد کرنا وغیرہ اس طرح ان نعمتوں یا کمالات پر تکبر پیدا نہ ہوگا بلکہ جذبہ شکر ترقی کرے گا یہ احساس زندہ ہوگا کہ یہ میری ذاتی کمالات نہیں ہیں بلکہ مجھ پر اللہ جل جلالہ کا احسان ہیں اور میرے پاس اس کی امانت ہیں تاکہ اس کے حکم کے مطابق ان میں تصرف کروں کہ آخر ایک روز آرہا ہے جہاں نہ سودا بازی ہو سکے گی اور نہ کسی کی دوستی کام آئے گی یعنی موت کے وقت یا میدان حشر میں یہ احساس ہو کہ میں نے یہ دولت یا طاقت وغیرہ غلط جگہ پر خرچ کردی تو کوئی سودا بازی نہ ہو سکے گی کہ صورت حال بدل سکے اور اگر کسی کی دوستی میں ایسا کیا ہوگا تو وہ دوست یا اس کی دوستی بھی کام نہ آئے گی ، ان آیات سے شفاعت انبیاء کرام (علیہ السلام) یا صلحا کا انکار مراد نہیں وہ تو الگ ثابت ہے کہ وہ لوگ نیکی کی دعوت دیتے ہیں یہ اس دوستی کی بات ہے جو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہو ۔ اگر تمہیں یہ خیال ہو کہ یہ کمالات تمہارے ذاتی ہیں تو اپنے گرد نگاہ کرو ، یہ زمین اور آسمان اور ان میں طرح طرح کی خوبیاں اور کمالات کس نے بنائے صرف اللہ جل جلالہ نے اسی نے بادل سے پانی برسا کر اسے روئیدگی کا سبب بنا دیا اور طرح طرح کے پھل پیدا فرمائے جو تمہاری غذا بنے جب تمہارا وجود ہی اس غذا پر قائم ہے تمہارے اوصاف تو پھر آگے تمہارے وجود پہ انحصار رکھتے ہیں ، اس نے تمہیں عقل عطا فرمائی کہ تم مختلف طرح کے جہاز بنا کر سمندروں پہ بھی رواں دواں ہو اور دریاؤں کو تمہاری خدمت پر لگا دیا کہیں زمین سیراب کرتے ہو تو کہیں ان سے مشین چلا رہے ہو نہ صرف یہ بلکہ اس نے سورج چاند اور دیگر سیاروں کو تمہاری خدمت پر لگا دیا شب وروز کو تمہاری ضروریات کی تکمیل پر مقرر کردیا کہ پورے جہان کی ہر حرکت اور سکون اے انسانو محض تمہاری خدمت اور تربیت کے لیے وقف ہے یقینا تمہارا خالق بھی وہی ہے اور ان جہانوں کا اور اس نظام کا بھی تمہارے کمالات اسی نظام کے محتاج ہیں تو پھر سوچو بھلا وہ تمہاری ذاتی کیسے ہو سکتے ہیں ۔ وہ ایسا کریم ہے کہ تمہاری ہر ضرورت پوری فرما دی یعنی ” جو تم نے مانگا “ سے مراد ہے کہ جو بھی تمہارے وجود کا تقاضا تھا وہ موسم تھا یا رات دن وہ لباس تھا کہ غذا وہ وقت تھا یا دوا غرض ہر شے تمہارے گرد مہیا کردی اور اس قدر بیشمار نعمتیں عطا فرمائیں کہ اگر تم شمار کرنا چاہو تو بھی ممکن نہیں تم گن ہی نہیں سکتے ، پھر ایسے کریم کی ناشکری اور نافرمانی کتنی بڑی بات ہے بیشک انسان بڑا ہی بےانصاف بھی ہے اور ناشکر گذار بھی ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 31 بدلوا انہوں نے بدل دیا۔ نعمت اللہ اللہ کی نعمت احلوا اتارا دار البوار تباہی کا گھر (جہنم) اندادا (ند) شرکاء شریک تمتعوا تم فائدہ اٹھا لو۔ حاصل کرلو۔ مصیر ٹھکانا۔ عبادی میرے بندے یقیموا الصلوۃ وہ نماز قائم کرتے ہیں ینفقون وہ خرچ کرتے ہیں رزقنا ہم نے دیا ۔ سر چھپ کر۔ علانیۃ کھلم کھلا ۔ بیع تجارت، لین دین۔ خلل دوستی ، دوستانہ تعلقات تشریح : آیت نمبر 28 تا 31 گزشتہ آیات میں اس بات کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ کی برکتیں اور رحمتیں کیا ہیں ؟ اور کلمہ خبیثہ کی نحوستیں کیا کیا ہیں ؟ مکہ کے مغرور اور امتکبر سرداروں سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں تو اس بات پر ناز ہے کہ تم اللہ کے گھر والے اور بیت اللہ کے رکھوا لے ہو۔ اس کے گھر کے قریب رہتے ہو لیکن تم نے کلمہ طیبہ کی برکتوں کے بجائے کلمہ خبیثہ کی نفرتوں کے گلے ڈال رکھا ہے۔ اللہ نے تمہیں ایسے عظیم پیغمبر پر ایمان لانے کا موقع عطا فرمایا ہے جو تمام نبیوں کے سردار اور آخری نیب اور آخری رسول ہیں ان پر ایک ایسی کتاب ہدایت کو نازل کیا ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے انسانوں کے لئے مشعل راہ اور ہدایت کی روشنی ہے۔ فرمایا کہ تمہیں تو اللہ کی ان عظیم نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہئے تھا ۔ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر اپنی آخرت کو سنوارنا تھا مگر تم نے کلمہ خبیثہ یعنی کفر و شرک اختیار کرنے کے جہنم کو اپنا ٹھکانا بنا لیا جو ایک بدترین ٹھکانا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم نے جس راستہ کا انتخاب کیا ہے تم چند روزہ زندگی کے مزے اڑا لو پھر تمہیں ایک ایک بات کا حساب دینا ہوگا۔ اور نجات کا ہر راستہ بند کردیا جائے گا۔ فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ لوگ جنہوں نے کلمہ طیبہ یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی کو اختیار کرلیا ہے ان صاحبان ایمان سے کہہ دیجیے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کی قدرت کرتے ہوئے ناشکری کے ہر طریقے کو چھوڑ کر اللہ کا شکر ادا کریں اور اس خلوص سے نمازوں کو قائم کریں کہ شکر کا حق ادا ہوجائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے اس کو اپنی ذات اور اپنی اولاد تک محدود نہ کرلیں بلکہ کھل کر یا چھپ کر جس طرح ممکن ہو اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ یہی وقت ہے جس میں اپنی دولت اور محنت کی کمائی سے آخرت کی راحتیں خریدی جاسکتی ہیں لیکن موت کے بعد نہ کاروبار اور تجارت ہوگی نہ دوستیاں کام آئیں گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ” ال دنیا مزرعت الاخرۃ “ دنیا آخرت کی کھیتی ہے یعنی تمہیں اپنی نیکیوں کو کاشت کرنے کا موسم عطا کردیا گیا ہے۔ یہاں جو کچھ تم کاشت کرو گے وہ آخرت میں تمہارے کام آئے گا۔ یہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ اس مختصر عارضی زندگی میں کلمہ طیبہ یعنی ایمان اور عمل صالح کے بیج بوتا ہے یا کلمہ خبیثہ کی کاشت کرتا ہے۔ انجام دونوں کا واضح ہے ۔ دنیا کی زندگی کا موسم کاشت کرنے کا موسم ہے اور آخرت اس سے نتیجہ حاصل کرنے کا موسم ہے۔ کاٹنے بونے والا پھلولوں کی سیج کی امید نہ رکھے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ مراد اس سے کفار مکہ ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید کو چھوڑنے والا نہ صرف گمراہ اور ظالم ہوتا ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کو بدلنے کا جرم بھی کرتا ہے۔ عقیدۂ توحید اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس عقیدہ کے ذریعے انسان کو اپنے سوا سب کی محتاجی اور در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچالیتا ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کو دینی اور دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ انسان کی خودی اور غیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو شخص اس عظیم عقیدہ کو چھوڑ کر شرک اختیار کرتا ہے۔ وہ دردر کی ٹھوکریں کھانے کے ساتھ اپنی خودی بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اس شخص کے کردار اور زیادتی کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا آپ نے ایسے لوگوں کے بارے میں غور نہیں کیا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت یعنی عقیدۂ توحید کو کفر میں بدل ڈالا۔ نہ صرف خود گمراہ ہوئے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان اور قوم کو بھی ہلاکت کے گھر اتار دیا۔ ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے، ان کا ظلم یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنایا۔ ذاتی اور گروہی فائدے کی خاطر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے گمراہ کیا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے فرمائیں دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھا لو، لیکن یاد رکھو آخر میں تمہیں جہنم میں جانا ہے۔ ند کی جمع انداد ہے جس سے مراد ہر وہ ذات یا چیز جسے اللہ تعالیٰ کا ساجھی یا اسے اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک سمجھا جائے۔ عقیدۂ توحید اختیار کرنا اور شرک کو چھوڑ دینا اللہ کا فضل ہے : ( إِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لاَّ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کَافِرُوْنَ وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِ یْٓ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ مَا کَانَ لَنَا أَنْ نُّشْرِکَ باللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ )[ یوسف : ٣٧۔ ٣٨] ” جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت کا انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں اور اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں ہمیں زیب نہیں دیتا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک بنائیں یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَلِمَۃً وَقُلْتُ أُخْرٰی قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ مَّاتَ وَہْوَ یَدْعُوْ مِنْ دُون اللّٰہِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ وَہْوَ لاَ یَدْعُو لِلَّہِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہٖ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُون اللَّہِ أَنْدَادًا )] ” حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بات ارشاد فرمائی اور میں نے دوسری بات کہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو فوت ہوگیا اس حال میں کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا رہاوہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں نے کہا جو بندہ اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ “ مسائل ١۔ عقیدۂ توحید سب سے بڑی نعمت ہے۔ ٢۔ عقیدۂ توحید میں شرک کی آمیزش کرنا اس عظیم نعمت کو بدلنے کے مترادف ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو عیش پرستی کے لیے ڈھیل دیتا ہے۔ ٥۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک کی سزا : ١۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : ٦٥) ٢۔ اللہ مشرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا۔ (النساء : ٤٨) ٣۔ شرک کرنے والا راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ (النساء : ١١٦) ٤۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : ٣١) ٥۔ شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : ٧٢) ٦۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (ابراہیم : ٣٠) ٧۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الزمہ ہے۔ (التوبۃ : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١١٥ تشریح آیات ٢٨ ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ ٥٢ سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔ رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔ اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔ سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔ آیت نمبر ٢٨ تا ٣٠ کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔ کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی تاریخ کو پڑھا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تھا اور پڑھا تھا تو قرآن نے یہ انجام ان کے سامنے کس قدر موثر ، ڈرامائی انداز میں اسٹیج کیا ہے۔ ابھی ابھی اس کے مناظر نظروں سے گزرے ہیں ، اور یہ مناظر اس قدر دلچسپ تھے کہ گویا (Living) تھے اور عنقریب وہ ان کو عملاً اسی طرح دیکھیں گے ۔ کیونکہ نصوص قرآن وہی مناظر پیش کرتی ہیں جو ہونے والے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ قرآن ان کو اس قدر موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا واقع ہوگئے ہیں۔ غرض ان لوگوں کے طرز عمل میں تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نعمت کے بدلے وہ کفر خرید رہے ہیں اور جس توحید کی دعوت ان کو دی جا رہی ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔ وجعلوا ۔۔۔۔۔۔ عن سبیلہ (١٤ : ٣٠) “ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کئے ہیں تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے بھٹکا دیں ”۔ یعنی یہ اللہ کے ساتھ دوسری شخصیات کو برابر کرتے ہیں اور ان کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی حاکمت کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان دوسری شخصیات میں اس طرح خصیوصیات تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی خصوصیات ہیں حالانکہ اللہ کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ یہ شریک اس لیے ٹھہرائے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ وحدہ اور صراط مستقیم سے بد راہ کردیں ، کیونکہ اللہ کی راہ کے سوا وہ اور جن راہوں پر چلیں گے وہ شیطانی راہیں ہوں گی۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم کے کبراء اور لیڈروں نے عمداً اس قوم کو اللہ کی راہ سے بدراہ کیا اور اللہ کو الٰہ واحد قرار دینے کے بجائے لوگوں کو دوسرے الہٰوں کی قیادت میں دے دیا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ان دوسرے الہٰوں کے روپ میں یہ لوگ اپنی قیادت اور سیادت بھی چمکاتے تھے جبکہ عقیدۂ توحید ہر سرکش ڈکٹیٹر کی قیادت کے لئے اور اس کے مفادات کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر سوسائٹی میں طاغوتی قوتوں کا یہی رویہ ہوتا ہے جس طرح زمانہ سابقہ کی جاہلیتوں میں یہی صورت رہی اسی طرح دور جدید کی جاہلیت میں بھی یہی صورت ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر اپنی قیادت کسی طاغوتی قوت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ دور جدید میں لوگ اپنی حریت اور آزادی ایسے ہی طاغوتی الہٰوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ ان کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں ، ان سے قانون اور شریعت اخذ کرتے ہیں ، اور اللہ کے قانون کے بجائے ان کبراء سے قوانین اور ہدایات اخذ کرتے ہیں۔ اللہ کی توحید کے نظریہ کو جب اس مفہوم تک وسعت دی جاتی ہے کہ حاکم بھی اللہ ہے ، اور قانون ساز بھی اللہ تو دور جدید کے لیڈر بھی جاہلیت اولیٰ کی طاغوتی قوتوں کی طرح تحریک اسلامی کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ تحریک اسلامی کو اپنی خدائی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے پھر ہر طریقے سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح لوگ آج پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعہ غیر اللہ سے قانون اخذ کرتے ہیں ، جو اللہ کے احکام کے خلاف ہوتے ہیں ، بلکہ اللہ کے حرام کو حلال کرتے ہیں اور اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی دراصل شرک کرتے ہیں اور ایسے لیڈر اور قانون ساز اللہ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور یوں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیں کہ مزے کرلو ، تمہارے چند دن ہیں ، جب یہ مہلت ختم ہوگی تو تم اور تمہاری ایسی قیادت سب واصل جہنم ہوگی۔ اے پیغمبران کو اپنے اس حال پر چھوڑ دے اور اب میرے بندوں کو وعظ دیں جو ایمان لا چکے ہیں ، جو اللہ کی اس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمت کو کفر کے بدلے نہیں بیچتے ، کہ وہ میرا شکر ادا کریں ، میری عبادت کریں اور اطاعت کریں۔ ان کفار کو چھوڑ کر آپ اپنی پوری توجہ اہل اسلام کو دیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کی بدحالی ان آیات میں اول تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کو اختیار کیا، لیکن مفسرین نے فرمایا کہ ان سے مشرکین مکہ مراد ہیں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مکہ معظمہ میں امن وامان کے ساتھ ٹھہرا دیا دنیوی اعتبار سے بھی ان پر انعام فرما دیا دنیا بھر سے ان کے پاس ضرورت کی چیزیں پہنچتی تھیں۔ (اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا) نیز ان پر یہ احسان فرمایا کہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انہیں میں سے مبعوث فرمایا اور انہیں کی زبان میں کتاب نازل فرمائی لیکن ان لوگوں نے نعمتوں کی قدر دانی نہ کی شکر کے بجائے ناشکری کو اختیار کیا اور ناشکری میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے بھی منکر ہوئے اور اللہ کی کتاب کے بھی، ان میں جو برے لوگ تھے انہوں نے خود بھی اپنے لیے (دَارَ الْبَوَارِ ) یعنی جہنم کو ختیار کیا اور اپنی قوم کو بھی جو ان سرداروں کے ماننے والے تھے دوزخ میں داخل کردیا۔ (یَصْلَوْنَھَا وَبِءْسَ الْقَرَارُ ) (وہ دوزخ میں داخل ہوں گے جو ٹھہرنے والوں کے لیے برا ٹھکانہ ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ پانچویں بار وقائع کا ذکر ہے۔ یہ تخویف اخروی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت توحید اور دیگر بیشمار مادی انعامات کی ناشکری کی، خود شرک کیا اور اپنی قوموں کو شرک کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو جھٹلایا اس طرح اپنی قوموں کو جہنم کا ایندھن بنایا۔ ” اَلَّذِیْنَ بَدَّلُوْ “ سے اقوام گذشتہ کے کفار و مشرکین اور ان کے پیشوا مراد ہیں اس صورت میں ” اَلَمْ تَرَ “ سے رویت قلبی مراد ہوگی اور اگر اس سے کفار مکہ مراد ہوں جیسا کہ حضرت علی اور ابن عباس سے منقول ہے تو رویت سے رویت بصری مراد ہوگی ” والمراد مشرکوا قریش وان الایۃ نزلت فیھم عن ابن عباس و علی (رض) “ (قرطبی ج 9 ص 364) ۔ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی مادی آسائش مہیا فرمائی اور بعثت محمدی کا ان کو شرف عطا فرمایا مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ناشکری اور کفر و عصیان سے مقابلہ کیا۔ ” اسکنھم اللہ حرمہ وجعلھم قام بیتہ واکرمہم بمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فکفروا نعمۃ اللہ الخ “ (بحر ج 5 ص 424) ۔ 30:۔ یہ زجر ہے اور ” لِیُضِلُّوْا “ میں لام عاقبت کا ہے اور یہ ” وَ اَحَلُّوْا “ پر معطوف ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک بنائے جن کو اللہ کے سوا عبادت اور پکار کا مستحق سمجھا۔ اچھا چند روزہ دنیوی زندگی سے فائدہ اٹھا لو آخرت تمہارا ٹھکانا جہنم ہے آخرت میں تمہارے یہ خد ساختہ معبود تمہیں جہنم سے ہرگز نہیں چھڑا سکیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28 ۔ اے پیغمبر ! کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے انعامات الٰہی کا بدلہ سپاسی اور کفران نعمت سے دیا اور اپنی قوم کو انہوں نے تباہی اور ہلاکت کے گھر اتارا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر بجا لانے کی بجائے نا شکری اور کفران نعمت کیا پھر اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ذاتی اثر و دبائو سے گمراہ کیا اور شرک و کفر پر ان کو آمادہ کیا اور جہنم کے دورازے پر پہنچا دیا ۔