Commentary Appearing at the beginning of Surah Ibrahim there were subjects re¬lated to the mission of messengers and prophets, and to the states of one&s ultimate return, and to the Hereafter. Mentioned after that was the commendation of the belief in Tauhid, the Oneness of Allah and, along with it, a condemnation of the profession of disbelief and the as¬cription of partners in the divinity of Allah which was clarified through examples. Then, those who adopted the later attitude were censured for the reason that they, rather than being grateful for the blessings of Allah Ta’ ala, chose to take the way of ingratitude and rejection. Out of the verses cited above, the first deplores the behaviour of dis¬believers and polytheists and points out to their evil end. The second verse describes the distinction of believers and tells them to abide by some Divine injunctions in order that they can fulfill the obligation of gratitude. In the third, fourth and fifth verses (32-34), by mentioning the great blessings of Allah Ta` ala, people have been induced that they should not channelize and consume these blessings to promote acts of disobedience to Allah. The Explanation of Verses The word: اَندَاد (andad) is the plural of نِدّ (nidd) which means like and equal. Idols are called &andad& because the disbelievers, through their deeds, used to regard them the like or equal of God. The word: تَمَتُّعَ (ta¬mattu`) appearing in verse 30 means the driving of temporary benefit out of something. The verse censures the erratic view of disbelievers in that they had set up idols as partners with Allah, and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked to warn these people of their coming end. Enjoy the blessings of the mortal world for a while, they were told, but their ultimate abode is the fire of Hell. In the second Verse (31), the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been asked: (Though, the disbelievers of Makkah have turned their backs on the fa¬vour of Allah and have chosen the way of infidelity, a strange exchange indeed, so then) &you tell my believing servants that they should estab¬lish Salah and be particular about it, and spend in the way of Allah from the sustenance We have given to them, spending it both secretly and openly.& This verse carries significant glad tidings for all believing ser¬vants of Allah, and showers on them a great honour indeed. To begin with, Allah Ta’ ala has addressed them as &His servants.& Then, He attrib¬utes the quality of faith to them. And then, He tells them how they can achieve eternal peace and comfort and honour, which is: Be particular and punctual in offering Sal. Avoid being sluggish when the time of Salah becomes due. Do not fall short in observing it as true to its re¬quired etiquette. And spend out of the sustenance given to you in My way as well. Here, both forms of spending have been declared to be per¬missible. This can be done secretly or openly. It means that Sadaqah and Khayrat (charities in the way of Allah) can be given in a way that no one knows about it, or these can be done in a way that others could get to know about it. Some ` Ulama say that the obligatory Zakah and Sadaq¬atul-Fitr should be given openly so that others are prompted to do the same. As for voluntary (Nafl) Sadaqah and Khayrat, it is better to give these secretly, so that there remains no danger of having done it for the sake of recognition and fair name. However, it all depends on one&s intention (Niyyah) and attending conditions. If by doing it openly and publi-cly, there emerges the least likelihood of having done it for the sake of name and fame, the intrinsic merit of the charity (Sadaqah) so given is destroyed, whether obligatory (Fard) or voluntary (Nafl). If the intention is that others may also be induced to do the same, then, open and pro¬nounced giving is permissible both in what is obligatory (Fard) and what is voluntary (Nafl).
خلاصہ تفسیر : اور (اوپر جو کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے شکر نعمت کی جگہ کفر کیا اور اپنی قوم کو جہنم میں پہنچایا اس کفر اور پہنچانے کا بیان یہ ہے کہ) ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی قرار دیئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اس کے دین سے گمراہ کریں (پس ساجھی قرار دینا کفر ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنا جہنم میں پہچانا ہے) آپ (ان سب سے) کہہ دیجئے کہ چندے عیش کرلو کیونکہ آخر انجام تمہارا دوزخ میں جانا ہے (عیش سے مراد حالت کفر میں رہنا ہے کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب میں لذت ہوتی ہے یعنی اور چندے کفر کرلو یہ تہدید ہے اور مطلب کیونکہ کا یہ ہے کہ چونکہ جہنم میں جانا تو تمہارا ضروری ہے اس واسطے کفر سے باز آنا تمہارا مشکل ہے خیر اور چندے گذار لو پھر تو اس مصیبت کا سامنا ہوگا ہی اور) جو میرے خاص ایمان والے بندے ہیں (ان کو اس کفر نعمت کے وبال پر متنبہ کر کے اس سے محفوظ رکھنے کے لئے) ان سے کہہ دیجئے کہ وہ (نعمت الہی کے اس طرح شکر گذار رہیں کہ) نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے (حسب قواعد شرعیہ) پوشیدہ اور آشکارا (جیسا موقع ہو) خرچ کیا کریں ایسے دن کے آنے سے پہلے پہلے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوستی ہوگی (مطلب یہ کہ عبادات بدنیہ ومالیہ کو ادا کرتے رہیں کہ یہی شکر ہے نعمت کا) اللہ ایسا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی سے پھلوں کی قسم سے تمہارے لئے رزق پیدا کیا اور تمہارے نفع کے واسطے کشتی (اور جہاز) کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا تاکہ وہ خدا کے حکم (وقدرت) سے دریا میں چلے (اور تمہاری تجارت اور سفر کی غرض حاصل ہو) اور تمہارے نفع کے واسطے نہروں کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا (تاکہ اسی سے پانی پیو اور آب پاشی کرو اور اس میں کشتی چلاؤ) اور تمہارے نفع کے واسطے سورج اور چاند کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا جو ہمیشہ چلنے ہی میں رہتے ہیں (تاکہ تم کو روشنی اور گرمی وغیرہ کا فائدہ ہو) اور تمہارے نفع کے واسطے رات اور دن کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا (تاکہ تم کو معیشت اور آسائش کا نفع حاصل ہو) اور جو جو چیز تم نے مانگی (اور وہ تمہارے مناسب حال ہوئی) تم کو ہر چیز دی اور (اشیائے مذکورہ ہی پر کیا منحصر ہے) اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (تو اس قدر بیشمار ہیں کہ) اگر (ان کو) شمار کرنے لگو تو شمار میں نہیں لا سکتے (مگر) سچ یہ ہے کہ آدمی بہت ہی بےانصاف بڑا ہی ناشکرا ہے (اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر اور شکر نہیں کرتا بلکہ اور بالعکس کفر و معصیت کرنے لگتا ہے جیسا اوپر آیا ہے (آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا معارف و مسائل : سورة ابراہیم کے شروع میں رسالت ونبوت اور میعاد وآخرت کے متعلق مضامین تھے اس کے بعد توحید کی فضیلت اور کلمہ کفرو شرک کی مذمت کا بیان مثالوں کے ذریعہ کیا گیا پھر مشرکین کی مذمت اس بات پر کی گئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری اور کفر کا راستہ اختیار کیا۔ مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں کفار و مشرکین کی مذمت اور ان کے انجام بد کا ذکر ہے دوسری آیت میں مؤمنین کی فضیلت اور ان کو ادائے شکر کے لئے کچھ احکام الہیہ کی تاکید کی گئی ہے تیسری چوتھی اور پانچویں آیات میں اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر فرما کر اس پر آمادہ کیا گیا کہ وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں صرف نہ کریں۔ تفسیر و تشریح : انداد، ند کی جمع ہے جس کے معنی مثل اور برابر کے ہیں بتوں کو انداد اس لئے کہا جاتا ہے کہ مشرکین نے ان کو اپنے عمل میں خدا کی مثل یا برابر قرار دے رکھا تھا تمتع کے معنی کس چیز سے چند روزہ عارضی فائدہ حاصل کرنے کے ہیں اس آیت میں مشرکین کے اس غلط نظریہ پر نکیر ہے کہ انہوں نے بتوں کو خدا کے مثل اور اس کا شریک ٹھہرا دیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں کو جتلا دیں کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے فرمایا کہ چند روزہ دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو مگر تمہارا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے۔ دوسری آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہے کہ (کفار مکہ نے تو اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا اب) آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیں کہ نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کریں پوشیدہ اور علانیہ طور پر اس آیت میں مومن بندوں کے لئے بڑی بشارت اور اعزاز ہے اول تو اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ کہہ کر پکارا پھر صفت ایمان کے ساتھ موصوف کیا پھر ان کو دائمی راحت اور اعزاز دینے کی ترکیب بتلائی کہ نماز کی پابندی کریں نہ ان کے اوقات میں سستی کریں نہ آداب میں کوتاہی اور اللہ تعالیٰ ہی کے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ اس کی راہ میں بھی کرچ کیا کریں خرچ کرنے کی دونوں صورتوں کو جائز قرار دیا کہ پوشیدہ طور پر صدقہ خیرات کریں یا اعلان و اظہار کے ساتھ کریں بعض علماء نے فرمایا کہ زکوٰۃ فرض صدقہ الفطر وغیرہ علانیہ ہونے چاہیں تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور نفلی صدقہ خیرات کو پوشیدہ دنیا بہتر ہے کہ نام ونمود کا خطرہ نہ رہے اور اصل مدار نیت اور حالات پر ہے اگر اعلان و اظہار میں نام و نمود کا شائبہ آجائے تو صدقہ کی فضیلت ختم ہوجاتی ہے خواہ فرض ہو یا نفل اور اگر نیت یہ ہو کہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو تو فرض اور نفل دونوں میں اعلان و اظہار جائز ہے۔