Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 30

سورة إبراهيم

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِیۡرَکُمۡ اِلَی النَّارِ ﴿۳۰﴾

And they have attributed to Allah equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy yourselves, for indeed, your destination is the Fire."

انہوں نے اللہ کے ہمسر بنا لئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ خیر مزے کر لو تمہاری باز گشت تو آخر جہنم ہی ہے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَجَعَلُواْ لِلّهِ أَندَادًا لِّيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِهِ ... And they set up rivals to Allah, to mislead from His path! meaning, they set up partners to Allah whom they worship besides Him and called the people to worship them. Allah threatened them and warned them by the words of His Prophet, ... قُلْ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ Say: "Enjoy (your brief life)! But certainly, your destination is the (Hell) Fire!" `Whatever you are able to do in this life, then do it, for no matter what will happen, فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ (But certainly, your destination is the (Hell) Fire!), for to Us will be your destination and end.' Allah said in other Ayat, نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ We let them enjoy for a little while, then in the end We shall force them to (enter) a great torment. (31:24) and, مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ (A brief) enjoyment in this world! And then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve. (10:70)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 یہ تہدید و توبیخ ہے کہ دنیا میں تم جو کچھ چاہو کرلو، مگر کب تک ؟ بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا۔۔ : ” اَنْدَادًا “ ” نِدٌّ“ کی جمع ہے۔ راغب نے لکھا ہے : ” نَدِیْدُ الشَّیْءِ مُشَارِکُہُ فِیْ جَوْھَرِہِ “ کہ جو کسی چیز کے اصل میں شریک ہو، جبکہ مثل کا لفظ ہر مشارک پر بولا جاتا ہے، چناچہ ہر ” ند “ مثل ہے مگر ہر مثل ” ند “ نہیں۔ (اس لیے اس کا ترجمہ شریک کیا جاتا ہے) یعنی وہ ان کی پوجا کرنے لگے اور دکھ درد میں انھیں پکارنے لگے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا جرم شرک کا ارتکاب اور لوگوں میں اس کی اشاعت کے ذریعے سے انھیں اسلام سے روکنا اور گمراہ کرنا قرار دیا ہے۔ ” تَمَتُّعٌ“ کچھ وقت تک فائدہ اٹھانے کو کہتے ہیں۔ قرآن میں جہاں بھی یہ لفظ ” تمتع “ یا ” تَمَتَّعُوْا “ (یعنی فائدہ اٹھاؤ) آیا ہے، اس کا مطلب اس کی اجازت دینا نہیں بلکہ اس پر ڈانٹنا اور ڈرانا ہے، یعنی اچھا اگر تم باز نہیں آتے تو چند روز کے مزے اڑا لو، مگر کب تک ؟ آخر کار تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Appearing at the beginning of Surah Ibrahim there were subjects re¬lated to the mission of messengers and prophets, and to the states of one&s ultimate return, and to the Hereafter. Mentioned after that was the commendation of the belief in Tauhid, the Oneness of Allah and, along with it, a condemnation of the profession of disbelief and the as¬cription of partners in the divinity of Allah which was clarified through examples. Then, those who adopted the later attitude were censured for the reason that they, rather than being grateful for the blessings of Allah Ta’ ala, chose to take the way of ingratitude and rejection. Out of the verses cited above, the first deplores the behaviour of dis¬believers and polytheists and points out to their evil end. The second verse describes the distinction of believers and tells them to abide by some Divine injunctions in order that they can fulfill the obligation of gratitude. In the third, fourth and fifth verses (32-34), by mentioning the great blessings of Allah Ta` ala, people have been induced that they should not channelize and consume these blessings to promote acts of disobedience to Allah. The Explanation of Verses The word: اَندَاد (andad) is the plural of نِدّ (nidd) which means like and equal. Idols are called &andad& because the disbelievers, through their deeds, used to regard them the like or equal of God. The word: تَمَتُّعَ (ta¬mattu`) appearing in verse 30 means the driving of temporary benefit out of something. The verse censures the erratic view of disbelievers in that they had set up idols as partners with Allah, and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked to warn these people of their coming end. Enjoy the blessings of the mortal world for a while, they were told, but their ultimate abode is the fire of Hell. In the second Verse (31), the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been asked: (Though, the disbelievers of Makkah have turned their backs on the fa¬vour of Allah and have chosen the way of infidelity, a strange exchange indeed, so then) &you tell my believing servants that they should estab¬lish Salah and be particular about it, and spend in the way of Allah from the sustenance We have given to them, spending it both secretly and openly.& This verse carries significant glad tidings for all believing ser¬vants of Allah, and showers on them a great honour indeed. To begin with, Allah Ta’ ala has addressed them as &His servants.& Then, He attrib¬utes the quality of faith to them. And then, He tells them how they can achieve eternal peace and comfort and honour, which is: Be particular and punctual in offering Sal. Avoid being sluggish when the time of Salah becomes due. Do not fall short in observing it as true to its re¬quired etiquette. And spend out of the sustenance given to you in My way as well. Here, both forms of spending have been declared to be per¬missible. This can be done secretly or openly. It means that Sadaqah and Khayrat (charities in the way of Allah) can be given in a way that no one knows about it, or these can be done in a way that others could get to know about it. Some ` Ulama say that the obligatory Zakah and Sadaq¬atul-Fitr should be given openly so that others are prompted to do the same. As for voluntary (Nafl) Sadaqah and Khayrat, it is better to give these secretly, so that there remains no danger of having done it for the sake of recognition and fair name. However, it all depends on one&s intention (Niyyah) and attending conditions. If by doing it openly and publi-cly, there emerges the least likelihood of having done it for the sake of name and fame, the intrinsic merit of the charity (Sadaqah) so given is destroyed, whether obligatory (Fard) or voluntary (Nafl). If the intention is that others may also be induced to do the same, then, open and pro¬nounced giving is permissible both in what is obligatory (Fard) and what is voluntary (Nafl).

خلاصہ تفسیر : اور (اوپر جو کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے شکر نعمت کی جگہ کفر کیا اور اپنی قوم کو جہنم میں پہنچایا اس کفر اور پہنچانے کا بیان یہ ہے کہ) ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی قرار دیئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اس کے دین سے گمراہ کریں (پس ساجھی قرار دینا کفر ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنا جہنم میں پہچانا ہے) آپ (ان سب سے) کہہ دیجئے کہ چندے عیش کرلو کیونکہ آخر انجام تمہارا دوزخ میں جانا ہے (عیش سے مراد حالت کفر میں رہنا ہے کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب میں لذت ہوتی ہے یعنی اور چندے کفر کرلو یہ تہدید ہے اور مطلب کیونکہ کا یہ ہے کہ چونکہ جہنم میں جانا تو تمہارا ضروری ہے اس واسطے کفر سے باز آنا تمہارا مشکل ہے خیر اور چندے گذار لو پھر تو اس مصیبت کا سامنا ہوگا ہی اور) جو میرے خاص ایمان والے بندے ہیں (ان کو اس کفر نعمت کے وبال پر متنبہ کر کے اس سے محفوظ رکھنے کے لئے) ان سے کہہ دیجئے کہ وہ (نعمت الہی کے اس طرح شکر گذار رہیں کہ) نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے (حسب قواعد شرعیہ) پوشیدہ اور آشکارا (جیسا موقع ہو) خرچ کیا کریں ایسے دن کے آنے سے پہلے پہلے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوستی ہوگی (مطلب یہ کہ عبادات بدنیہ ومالیہ کو ادا کرتے رہیں کہ یہی شکر ہے نعمت کا) اللہ ایسا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی سے پھلوں کی قسم سے تمہارے لئے رزق پیدا کیا اور تمہارے نفع کے واسطے کشتی (اور جہاز) کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا تاکہ وہ خدا کے حکم (وقدرت) سے دریا میں چلے (اور تمہاری تجارت اور سفر کی غرض حاصل ہو) اور تمہارے نفع کے واسطے نہروں کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا (تاکہ اسی سے پانی پیو اور آب پاشی کرو اور اس میں کشتی چلاؤ) اور تمہارے نفع کے واسطے سورج اور چاند کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا جو ہمیشہ چلنے ہی میں رہتے ہیں (تاکہ تم کو روشنی اور گرمی وغیرہ کا فائدہ ہو) اور تمہارے نفع کے واسطے رات اور دن کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا (تاکہ تم کو معیشت اور آسائش کا نفع حاصل ہو) اور جو جو چیز تم نے مانگی (اور وہ تمہارے مناسب حال ہوئی) تم کو ہر چیز دی اور (اشیائے مذکورہ ہی پر کیا منحصر ہے) اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (تو اس قدر بیشمار ہیں کہ) اگر (ان کو) شمار کرنے لگو تو شمار میں نہیں لا سکتے (مگر) سچ یہ ہے کہ آدمی بہت ہی بےانصاف بڑا ہی ناشکرا ہے (اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر اور شکر نہیں کرتا بلکہ اور بالعکس کفر و معصیت کرنے لگتا ہے جیسا اوپر آیا ہے (آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا معارف و مسائل : سورة ابراہیم کے شروع میں رسالت ونبوت اور میعاد وآخرت کے متعلق مضامین تھے اس کے بعد توحید کی فضیلت اور کلمہ کفرو شرک کی مذمت کا بیان مثالوں کے ذریعہ کیا گیا پھر مشرکین کی مذمت اس بات پر کی گئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری اور کفر کا راستہ اختیار کیا۔ مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں کفار و مشرکین کی مذمت اور ان کے انجام بد کا ذکر ہے دوسری آیت میں مؤمنین کی فضیلت اور ان کو ادائے شکر کے لئے کچھ احکام الہیہ کی تاکید کی گئی ہے تیسری چوتھی اور پانچویں آیات میں اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر فرما کر اس پر آمادہ کیا گیا کہ وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں صرف نہ کریں۔ تفسیر و تشریح : انداد، ند کی جمع ہے جس کے معنی مثل اور برابر کے ہیں بتوں کو انداد اس لئے کہا جاتا ہے کہ مشرکین نے ان کو اپنے عمل میں خدا کی مثل یا برابر قرار دے رکھا تھا تمتع کے معنی کس چیز سے چند روزہ عارضی فائدہ حاصل کرنے کے ہیں اس آیت میں مشرکین کے اس غلط نظریہ پر نکیر ہے کہ انہوں نے بتوں کو خدا کے مثل اور اس کا شریک ٹھہرا دیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں کو جتلا دیں کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے فرمایا کہ چند روزہ دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو مگر تمہارا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے۔ دوسری آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہے کہ (کفار مکہ نے تو اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا اب) آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیں کہ نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کریں پوشیدہ اور علانیہ طور پر اس آیت میں مومن بندوں کے لئے بڑی بشارت اور اعزاز ہے اول تو اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ کہہ کر پکارا پھر صفت ایمان کے ساتھ موصوف کیا پھر ان کو دائمی راحت اور اعزاز دینے کی ترکیب بتلائی کہ نماز کی پابندی کریں نہ ان کے اوقات میں سستی کریں نہ آداب میں کوتاہی اور اللہ تعالیٰ ہی کے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ اس کی راہ میں بھی کرچ کیا کریں خرچ کرنے کی دونوں صورتوں کو جائز قرار دیا کہ پوشیدہ طور پر صدقہ خیرات کریں یا اعلان و اظہار کے ساتھ کریں بعض علماء نے فرمایا کہ زکوٰۃ فرض صدقہ الفطر وغیرہ علانیہ ہونے چاہیں تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور نفلی صدقہ خیرات کو پوشیدہ دنیا بہتر ہے کہ نام ونمود کا خطرہ نہ رہے اور اصل مدار نیت اور حالات پر ہے اگر اعلان و اظہار میں نام و نمود کا شائبہ آجائے تو صدقہ کی فضیلت ختم ہوجاتی ہے خواہ فرض ہو یا نفل اور اگر نیت یہ ہو کہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو تو فرض اور نفل دونوں میں اعلان و اظہار جائز ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ 30؁ ندد نَدِيدُ الشیءِ : مُشارِكه في جَوْهَره، وذلک ضربٌ من المماثلة، فإنّ المِثْل يقال في أيِّ مشارکةٍ کانتْ ، فكلّ نِدٍّ مثلٌ ، ولیس کلّ مثلٍ نِدّاً ، ويقال : نِدُّهُ ونَدِيدُهُ ونَدِيدَتُهُ ، قال تعالی: فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] ، وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] وقرئ : (يوم التَّنَادِّ ) [ غافر/ 32] «2» أي : يَنِدُّ بعضُهم من بعض . نحو : يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] . ( ن د د ) ندید الشئی ۔ وہ جو کسی چیز کی ذات یا جوہر میں اس کا شریک ہو اور یہ ممانعت کی ایک قسم ہے کیونکہ مثل کا لفظ ہر قسم کی مشارکت پر بولا جاتا ہے ۔ اس بنا پر ہرند کو مثل کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر مثل ند نہیں ہوتا ۔ اور ند ، ندید ندید ۃ تینوں ہم معنی ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ ۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک خدا بناتے ہیں ۔ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] اور بتوں کو اس کا مد مقابل بناتے ہو ۔ اور ایک قرات میں یوم التناد تشدید دال کے ساتھ ہے اور یہ نذ یند سے مشتق ہے جس کے معنی دور بھاگنے کے ہیں اور قیامت کے روز بھی چونکہ لوگ اپنے قرابتدروں سے دور بھاگیں گے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] میں مذکور ہے اس لئے روز قیامت کو یو م التناد بتشدید الدال کہا گیا ہے ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ صير الصِّيرُ : الشِّقُّ ، وهو المصدرُ ، ومنه قرئ : فَصُرْهُنَّ وصَارَ إلى كذا : انتهى إليه، ومنه : صِيرُ البابِ لِمَصِيرِهِ الذي ينتهي إليه في تنقّله وتحرّكه، قال : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] . و «صَارَ» عبارةٌ عن التّنقل من حال إلى حال . ( ص ی ر ) الصیر کے معنی ایک جانب یا طرف کے ہیں دراصل یہ صار ( ض) کا مصدر ہے ۔ اور اسی سے آیت فصوھن ہیں ایک قرآت فصرھن ہے ۔ صار الی کذا کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانا کے ہیں اسی سے صیر الباب ہے جس کے معنی درداڑہ میں شگاف اور جھروکا کے ہیں اور اسے صیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کا منتہی ہوتا ہے اور صار کا لفظ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ اسی سے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل نہ حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) اور ان لوگوں نے بتوں کو اللہ کے شریک قرار دے کر ان کی پوجا شروع کردی تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت سے دوسروں کو بھی گمراہ کریں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیجیے کہ مکہ والو اپنے کفر میں مت رہو پھر قیامت کے دن تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ) یعنی انہوں نے جھوٹے معبودوں کا ڈھونگ اس لیے رچایا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کی بندگی سے ہٹا کر گمراہ کردیں۔ ” اَنداد “ جمع ہے ’ نِد ‘ کی اس کے معنی مدمقابل کے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت ٢٢ میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں : (فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا ) ” تو اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہرایا کرو “۔ اس معاملے کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صحابی نے حضور سے محاورۃً عرض کیا : مَاشَاء اللّٰہُ وَمَا شِءْتَ ” جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں “ تو آپ نے انہیں فوراً ٹوک دیا اور فرمایا : (أَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا ؟ مَا شَاء اللّٰہُ وَحْدَہٗ ) (١) ” کیا تو نے مجھے اللہ کا مد مقابل بنا دیا ؟ (بلکہ وہی ہوگا) جو تنہا اللہ چاہے ! “ یعنی مشیت تو اللہ ہی کی ہے ‘ جو ہوگا اسی کی مشیت اور مرضی سے ہوگا۔ اختیار صرف اسی کا ہے اور کسی کا کوئی اختیار نہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:30) اندادا۔ مقابل ۔ برابر۔ ند کی جمع۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی کی ذات اور جوہر۔ یضلوا۔ ای یضلوا الناس۔ لوگوں کو گمراہ کریں۔ بھٹکائیں۔ سبیلہ۔ میں ہٖ ضمیر واحدمذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ تمتعوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر (باب تفعل) تمتع سے تم فائدہ اٹھالو۔ تم برت لو۔ قرآن مجید میں دنیاوی سازوسامان کے متعلق جہاں کہیں بھی تمتعوا آیا ہے تو اس سے تہدید (ڈرانا دھمکانا) مراد ہے۔ مصیرکم۔ مصیر۔ اسم ظرف مکان۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ تمہارے لوٹنے کی جگہ۔ صار یصیر۔ (ضرب) سے مراد ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا ہے۔ اسی لئے مصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل و حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ ان کو پوجا کرنے لگے اور دکھ درد میں انہیں پکارنے لگے۔ 8 ۔ یعنی اچھا ! اگر تم باز نہیں آتے تو چند روز دنیا کے مزے اڑالو مگر کب تک ؟ آخر کار تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا ہے۔ یہ ڈرانے اور متنبہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ عیش سے مراد حالت کفر میں رہنا ہے کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب میں لذت ہوتی ہے یعنی اور چندرے کفر کرلو یہ تہدید ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر ان لوگوں کے شرک کرنے کا حال بیان فرمایا (وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے انداد یعنی برابر والے تجویز کرلیے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کردیا اور باطل معبودوں کو صفت الوہیت میں اللہ کی طرح مان لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، جو ان کی اقتداء کرتے تھے اور ان کی راہ پر چلتے تھے ان لوگوں کی سزا بیان کرتے ہوئے فرمایا (قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ ) (یعنی تم اس دنیا میں نفع حاصل کرلو دنیا کی چیزوں سے فائدہ اٹھا لو یہ چند دن کا جینا اور نفع اٹھانا ہے کفر پر مرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے جو اہل کفر کے پہنچنے کی جگہ ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31:۔ دفع عذاب کے لیے دو باتوں کا حکم فرمایا کہ اب وقت ہے شرک سے بچ جاؤ اور اللہ کے بندوں پر پوشیدہ اور علانیہ طور پر احسان کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو دنیوی اور اخروی عذاب سے بچ جاؤ گے۔ نماز بھی چونکہ خلاصی مصائب کا ایک ذریعہ اور امر مصلح ہے اس لیے اس کا بھی ذکر کیا گیا۔ جیسا کہ ارشاد ہے ” وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ “ (بقرہ) ۔ ” یُقِیْمُوْا “ اصل میں صیغہ امر غائب ہے لام امر محذوف ہے اصل میں ” لِیُقِیْمُوْا “ تھا بقرینہ قُلْ ۔ کیونکہ پہلے امر کے قرینہ سے دوسرے امر سے حذف لام جائز ہے کما فی الرضی امام کسائی اور زجاج نے بھی لام امر کو مقدر مانا ہے۔ ” ذھب الکسائی و الزجاج و جماعۃ الی انہ مقول القول وھو مجزوم بلام امر مقدرۃ ای لیقیموا او ینفقوا الخ “ (روح ج 13 ص 221) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 ۔ اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساجھی اور ہمسر مقرر کئے ہیں تا کہ اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکائیں آپ ان سے کہئے اچھا چند روز عیش اور مزا اڑا لو اور فائدہ اٹھا لو پھر تم کو آخر کا دوزخ ہی کی طرف واپس ہونا ہے اور تمہاری باز گشت جہنم کی طرف ہے۔