Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 38

سورة إبراهيم

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِیۡ وَ مَا نُعۡلِنُ ؕ وَ مَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ﴿۳۸﴾

Our Lord, indeed You know what we conceal and what we declare, and nothing is hidden from Allah on the earth or in the heaven.

اے ہمارے پروردگار! تو خوب جانتا ہے جو ہم چھپائیں اور جو ظاہر کریں ۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ پر پوشیدہ نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells; رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يَخْفَى عَلَى اللّهِ مِن شَيْءٍ فَي الاَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاء "O our Lord! Certainly, You know what we conceal and what we reveal. Nothing on the earth or in the heaven is hidden from Allah." Ibn Jarir At-Tabari said about the ayah, رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ (O our Lord! Certainly, You know what we conceal and what we reveal), "meaning, `You know the intention behind my supplication for the people of this town, seeking Your pleasure in sincerity to You. You know all things, apparent and hidden, and nothing escapes Your knowledge on the earth or in heaven."' He next praised and thanked his Lord the Exalted and Most Honored for granting him offspring after he became old, الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاء

مناجات خلیل الرحمن صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں ۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے ۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا ۔ اسماعیل بھی ، اسحاق بھی ۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے ۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما ۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے ۔ جب یہ ظاہر ہو گیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہو گئے ۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 مطلب یہ ہے کہ میری دعا کے مقصد کو تو بخوبی جانتا ہے، اس شہر کے لئے دعا سے اصل مقصد تیری رضا ہے تو تو ہر چیز کی حقیقت کو خوب جانتا ہے، آسمان و زمین کی کوئی چیز تجھ سے پوشیدہ نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ ۔۔ : یعنی ہماری چھپی ہوئی دلی خواہشوں کو اور جو کچھ ہم زبان سے مانگ رہے ہیں تو سب جانتا ہے۔ یہ مانگنے کا بہترین طریقہ ہے کہ صرف تعریف پر اکتفا کیا جائے۔ ” کتاب الاغانی (٨؍٣٤٤) “ میں ہے کہ امیہ بن ابی الصلت نے عبداللہ بن جدعان کو مخاطب کر کے کہا تھا ؂ أَ أَذْکُرُ حَاجَتِيْ أَمْ قَدْ کَفَانِيْ حَیَاءُکَ اِنَّ شِیْمَتَکَ الْحَیَاءُ إِذَا أَثْنَی عَلَیْکَ الْمَرْءُ یَومًا کَفَاہُ مِنْ تَعَرُّضِہِ الثَّنَاءُ ” کیا میں اپنی حاجت ذکر کروں یا یقیناً مجھے تیری حیا ہی کافی ہے، کیونکہ تیری عادت ہی حیا ہے، جب آدمی کسی دن تیری تعریف کر دے تو اسے ضرورت پیش کرنے کے بجائے تعریف ہی کافی ہوجاتی ہے۔ “ سفیان بن عیینہ (رض) نے فرمایا : ” جب مخلوق کا یہ حال ہے تو خالق کا کیا حال ہوگا۔ “ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَفْضَلُ الذِّکْرِ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ أَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ ) [ ابن ماجہ، الأدب، باب فضل الحامدین : ٣٨٠٠۔ ترمذی : ٣٣٨٣، عن جابر (رض) ] ” سب سے بہتر ذکر لا الٰہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔ “ مقصد یہ ہے کہ پروردگار ! ہم جو مانگ رہے ہیں اور جو کچھ ہمارے دل میں ہے تو سب کچھ جانتا ہے، بیشک اللہ پر آسمان میں کوئی چیز ہو یا زمین میں، مخفی نہیں رہتی۔ سو ہماری ظاہر درخواستوں کے ساتھ دلی مرادیں بھی پوری کر دے۔ یاد رہے کہ وہ مشہور روایت جس میں ذکر ہے کہ آگ میں پھینکے جانے کے وقت بارش کے فرشتے نے ابراہیم (علیہ السلام) کو مدد کی پیش کش کی تو یہ جاننے کے بعد کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجنے کے بجائے اپنی مرضی سے آیا ہے، تو انھوں نے مدد قبول کرنے سے انکار کردیا اور جب اس نے کہا کہ پھر آپ خود ہی اللہ تعالیٰ سے دعاکریں تو فرمایا : ( حَسْبِيْ عَنْ سُؤَالِيْ عِلْمُہُ بِحَالِيْ ) یا فرمایا : ( عِلْمُہُ بِحَالِيْ یُغْنِيْ عَنْ سُؤَالِہِ ) ” مجھے سوال کرنے کے بجائے یہی کافی ہے کہ وہ میرے حال کو جانتا ہے۔ “ سو یہ محض ایک اسرائیلی روایت ہے جس کی کچھ حقیقت نہیں، بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ لَّمْ یَدْعُ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ غَضِبَ عَلَیْہِ ) ” جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے۔ “ [ ابن ماجہ، الدعاء، باب فضل الدعاء : ٣٨٢٧۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ٦؍٣٢٣، ح : ٢٦٥٤ ] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) [ المؤمن : ٦٠ ] ” اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو (مجھ سے دعا کرو) میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ “ ایسی روایات صوفی لوگ اپنے خودساختہ وظائف و چلہ جات کو رائج کرنے اور دعا سے محروم کرنے کے لیے بیان کیا کرتے ہیں۔ 3 بعض مفسرین نے فرمایا کہ اہل مکہ کے لیے صحیح عقیدے اور امن اور کھانے پینے کی چیزیں عطا کرنے کی دعا کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے ہاجرہ و اسماعیل (علیہ السلام) سے جدائی کے وقت گزرنے والی کیفیت، جو آنکھوں کے آنسوؤں یا دل کی بےقراری کی وجہ سے دونوں میاں بیوی پر گزر رہی تھی، وہ پیش کی ہے، مگر شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لائے، یہ حوصلہ پیغمبروں اور ان کے اہل بیت ہی کا ہوتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ۭ وَمَا يَخْفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ اس آیت میں دعاء کا تکملہ اللہ جل شانہ کے علم محیط کا حوالہ دے کر کیا گیا ہے اور لفظ ربنا کو الحاح وزاری کے لئے مکرر لایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ آپ ہمارے ہر حال سے واقف اور ہماری قلبی باطنی کیفیات اور ظاہری عرض ومعروض سب سے باخبر ہیں۔ باطنی کیفیات سے مراد وہ رنج وغم اور فکر ہے جو شیرخوار بچے اور اس کی والدہ کو ایک کھلے میدان میں بےسروسامان فریاد کرتے ہوئے چھوڑنے اور ان کی جدائی سے فطری طور پر لاحق ہو رہا تھا اور ظاہری عرض ومعروض سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء اور حضرت ہاجرہ کے وہ کلمات مراد ہیں جو انہوں نے امر الہی کی خبر سن کر کہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم کیا ہے تو وہ ہمارے لئے بھی کافی ہے وہ ہمیں بھی ضائع نہیں کرے گا آخر آیت میں علم الہی کی اسی وسعت کا مزید بیان ہے کہ ہمارا ظاہر و باطن ہی کیا تمام زمین و آسمان میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ پر مخفی نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ۭ وَمَا يَخْفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ 38؁ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ علن العَلَانِيَةُ : ضدّ السّرّ ، وأكثر ما يقال ذلک في المعاني دون الأعيان، يقال : عَلَنَ كذا، وأَعْلَنْتُهُ أنا . قال تعالی: أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] ، أي : سرّا وعلانية . وقال : ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] . وعِلْوَانُ الکتابِ يصحّ أن يكون من : عَلَنَ اعتبارا بظهور المعنی الذي فيه لا بظهور ذاته . ( ع ل ن ) العلانیہ ظاہر اور آشکار ایہ سر کی ضد ہے اور عام طور پر اس کا استعمال معانی یعنی کیس بات ظاہر ہونے پر ہوتا ہے اور اجسام کے متعلق بہت کم آتا ہے علن کذا کے معنی میں فلاں بات ظاہر اور آشکار ہوگئی اور اعلنتہ انا میں نے اسے آشکار کردیا قرآن میں ہے : ۔ أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] میں انہیں بر ملا اور پوشیدہ ہر طرح سمجھا تا رہا ۔ ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] جو کچھ ان کے سینوں میں مخفی ہے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں علوان الکتاب جس کے معنی کتاب کے عنوان اور سر نامہ کے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ علن سے مشتق ہو اور عنوان سے چونکہ کتاب کے مشمو لات ظاہر ہوتے ہیں اس لئے اسے علوان کہہ دیا گیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨) اے ہمارے پروردگار تجھے سب معلوم ہے جو ہم اسماعیل (علیہ السلام) کی محبت دل میں رکھیں اور اسحاق (علیہ السلام) کی محبت کا اظہار کریں یا یہ کہ جو اسماعیل (علیہ السلام) کا شوق دل میں رکھیں اور اس کی تکلیف کا اظہار کریں اللہ تعالیٰ سے تو کوئی بھی نیکی اور برائی چھپی نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

51. That is, Lord: You hears what I utter with my tongue and also has full knowledge of my thoughts and feelings. 52. This parenthetical clause has been inserted to confirm the statement of Prophet Abraham (peace be upon him).

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :51 یعنی خدایا جو کچھ میں زبان سے کہہ رہا ہوں وہ بھی تو سن رہا ہے اور جو جذبات میرے دل میں چھپے ہوئے ہیں ان سے بھی تو واقف ہے ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :52 یہ جملہ معتر ضہ ہے جو اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قول کی تصدیق میں فرمایا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨۔ ٤١۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کرنے کے بعد یہ بات کہی کہ اے رب تو خوب جانتا ہے کہ میری غرض اس دعا سے کیا ہے میرا مقصد یہی ہے کہ تیری خوشنودی اور رضا مندی ہو تجھ پر کوئی بات ظاہر اور پوشیدہ چھپی نہیں رہتی تجھے سب باتوں کا علم ہے تجھ پر زمین و آسمان کہیں کی کوئی شی پوشیدہ نہیں ہے اس کے بعد خدا کا شکر کیا کہ بڑہاپے میں جب کہ اولاد ہونے کی کوئی امید نہیں ہوتی تو نے اسماعیل و اسحاق دو صاحبزادے مجھ کو عطا کئے اور میری دعا کو قبول کرلیا پھر اپنے واسطے اور اولاد کے واسطے دعا کی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو نماز پر قائم رکھنا اور اپنے لئے اور ماں باپ کے لئے اور سارے مومنوں کے لئے قیامت کے روز مغفرت ہونے کی دعا کی بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کی تھی جب تک یہ اپنے ماں باپ کے کفر کے حال پر مر نے سے واقف نہ تھے۔ مکہ کے بسنے اور بیت اللہ کے بنانے سے پہلے کی اس دعاء کو ابراہیم نے { ربنا انک تعلم ما نخفی و ما نعلن } کہہ کر مختصر کردیا لیکن بیت اللہ کے بنانے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے دل کی اس چھپی ہوئی بات کو ظاہر کیا اور بنی اسماعیل میں نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کی وہ دعا کی جس کا ذکر سورت بقرہ میں گزر چکا ہے اور مسند امام احمد ابن ماجہ اور بیہقی کے حوالہ سے عرباض بن ساریہ (رض) کی معتبر حدیث بھی گزر چکی ١ ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اگرچہ میرا نام لوح محفوظ میں خاتم النبین لکھا ہوا تھا لیکن انبیاء کے گروہ میں سے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں پہلے پہل ابراہیم (علیہ السلام) کو آخری زمانہ میں میرے پیدا ہونے کا حال معلوم ہوا حاصل کلام یہ ہے کہ سورت بقرہ کی آیت { ربنا وابعث فیہم رسولا } [٢: ١٢٩] اور عرباض بن ساریہ (رض) کی یہ حدیث { ربنا انک تعلم ما نخفی } کی گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے بسنے سے پہلے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) کو جنگل میں چھوڑا تو ان کے دل پر اس کا صدمہ تھا اور اس رنج اور صدمہ کی ادھیڑ پن میں ان کے دل میں یہ بات تھی کہ جس جنگل میں حضرت ہاجرہ اور دودھ پیتے بچے اسماعیل (علیہ السلام) کو چھوڑ رہے ہیں یہاں ایک شہر آباد ہوجاوے اور اسماعیل (علیہ السلام) کی جدائی کا جو رنج ہے اس کا بدلہ ہوجاوے۔ { یوم یقوم الحساب } سے قیامت کا دن مقصود ہے کہ اس دن ساری خلقت حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑی ہوگی۔ ترمذی مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے ابی برزہ (رض) اور معاذ بن جبل (رض) کی معتبر روایتیں ایک جگہ گزر چکی ٢ ؎ ہیں۔ کہ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا (١) تمام عمر کن کاموں میں گزاری (٢) جوانی میں کیا کیا (٣) روپیہ پیسہ کیوں کر کمایا اور کہاں خرچ کیا (٤) دین کی کوئی بات سیکھی تو اس پر کیا عمل کیا یہ حدیثیں { یوم یقوم الحساب } کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کے دن حساب کیوں کر ہوگا۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٢٥٩

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:38) نخفی۔ مضارع جمع متکلم (باب افعال) اخفاء مصدر۔ (جو) ہم چھپاتے ہیں۔ چھپا کر کرتے ہیں۔ چھپا کر رکھتے ہیں۔ نعلن۔ مضارع جمع متکلم۔ (باب افعال) اعلان مصدر ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب۔ ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ وھب۔ ھبۃ۔ مصدر۔ (باب فتح) اس نے بخشا۔ وھاب بہت عطا کرنے والا۔ علی الکبر۔ بڑھاپے میں۔ باوجود بڑھاپے کے۔ من ذریتی۔ ای بعض ذریتی۔ (میری اولاد میں سے بھی بعض کو) بعض اس واسطے کہا کہ ان کو منجانب اللہ علم تھا کہ آئندہ اولاد میں سے کافر بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم کو (حضرت ابراہیم کو) لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ تو حضرت ابراہیم نے کہا قال ومن ذریتی۔ (کیا میری نسل سے بھی) حکم ہوا۔ قال لا ینال عھدی الظلمین (2:124) کہا میرا وعدہ نافرمانوں کو نہیں پہنچتا۔ تقبل۔ امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ تقبل (تفعل) سے (تو قبول کر) ۔ دعائ۔ ای دعایٔ۔ میری دعا۔ (یعنی یہ دعا کہ مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند کردے) ۔ یا دعا سے مراد عبادت بھی ہوسکتا ہے۔ کہ اے رب میں اور میری اولاد میں سے بعض جو عبادت کریں اسے شرف قبولیت عطا فرما۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ یعنی جو کچھ ہم زبان سے ادا کرتے ہیں اسے بھی تو سنتا ہے اور جو خیالات و جذبات ہم زبان سے ادا نہیں کرتے یا نہیں کرسکتے بلکہ ہمارے دل کہ گہرائیوں میں مستور ہیں ان سے بھی تو خوف واقف ہے ہوسکتا ہے کہ ظاہر میں سب اولاد کے لئے دعا کی ہو اور دل میں داعیہ پیغمبر آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے دعا کا ہو۔ (از کذافی الموضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یہ دعائیں محض عبودیت وافتقار کے لیے ہیں آپ کو اپنی حاجات کی اطلاع کے لیے نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شکر ادا کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے، اور اپنے لیے اور آل و اولاد کے لیے نماز قائم کرنے کی دعا کرنا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزید دعاؤں کا تذکرہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا (رَبَّنَآ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ ) (الآیۃ) کہ اے ہمارے رب آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں آپ ہماری نیتوں اور ارادوں سے اور ہمارے عزائم سے باخبر ہیں جیسا کہ آپ ہمارے ظاہری اعمال و احوال اوراقوال و اشغال سے باخبر ہیں اور ایک ہمارے ہی اعمال و احوال کیا اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز زمین میں اور آسمان میں پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے یوں عرض کیا کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق دو بیٹے عطا فرمائے اور ساتھ ہی یوں بھی عرض کیا (اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ ) (بیشک میرا رب دعا قبول فرمانے والا ہے) چونکہ انہوں نے دعا میں (رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) عرض کیا تھا جس میں صالح اولاد طلب کی تھی اور وہ دعا قبول ہوگئی اس لیے اللہ تعالیٰ کا مزید شکر ادا کیا کہ اس نے میری دعا قبول فرمائی اور اولاد عطا فرمائی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ یہ اسم اعظم ہے یعنی تو سب کچھ جاننے والا ہے۔ اسی طرح ” اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَاءِ “ بھی اسم اعطم ہے جیسا کہ سورة بقرہ رکوع 15 میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ہے ” اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ “ یعنی تو ہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ہر پیغمبر جن کلمات سے اپنی دعوت توحید کا اظہار کرتا ہے وہی اسم اعظم ہوتا ہے۔ اس سے کبھی تو مخاطب کو دعوت توحید دینا مقصود ہوتا ہے اور کبھی اپنے علم اور عقیدہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے یہاں دوسرا مقصد پیش نظر ہے ” وَ مَا یَخْفٰی عَلَی اللہِ مِنْ شَیْءٍ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کلام سے متصل ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38 ۔ اے ہمارے پروردگار ! بلا شبہ جو بات ہم چھپا کر کریں اور جو ظاہر کریں تجھ کو وہ سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ۔ یعنی جو کچھ میں تجھ سے دعا کر رہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تجھ کو میری حاجت معلوم نہیں بلکہ محض اپنی احتیاج اور اپنی عبودیت کا اظہار ہے کیونکہ تو تو جو چیز دل میں رکھیں یا زبان سے نکالیں سب جانتا ہے اور اسی پر کیا موقوف ہے تجھ سے تو زمین و آسمان کی کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہم چھپاویں اور کھولیں ظاہر میں دعا کی اولاد کے واسطے اور دل میں دعا منظور تھی نبی آخر الزماں ؐ کو۔ 12