Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 45

سورة إبراهيم

وَّ سَکَنۡتُمۡ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ تَبَیَّنَ لَکُمۡ کَیۡفَ فَعَلۡنَا بِہِمۡ وَ ضَرَبۡنَا لَکُمُ الۡاَمۡثَالَ ﴿۴۵﴾

And you lived among the dwellings of those who wronged themselves, and it had become clear to you how We dealt with them. And We presented for you [many] examples."

اور کیا تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے سہتے نہ تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کیا تم پر وہ معاملہ کھلا نہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا کچھ کیا ۔ ہم نے ( تو تمہارے سمجھانے کو ) بہت سی مثالیں بیان کر دی تھیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And you dwelt in the dwellings of men who wronged themselves, and it was clear to you how We had dealt with them. And We put forth (many) parables for you. Allah says, `you have witnessed or heard of the news of what happened to the earlier disbelieving nations, but you did not draw a lesson from their end, nor did what We punished them with provide an example for you,' حِكْمَةٌ بَـلِغَةٌ فَمَا تُغْنِـى النُّذُرُ Perfect wisdom but the warners benefit then not. (54:5) وَقَدْ مَكَرُواْ مَكْرَهُمْ وَعِندَ اللّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 یعنی عبرت کے لئے ہم نے تو ان کی پچھلی قوموں کے واقعات بیان کردیئے ہیں، جن کے گھروں میں تم آباد ہو اور ان کے کھنڈرات بھی تمہیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ اگر تم نے ان سے عبرت حاصل نہیں کی اور ان کے انجام سے بچنے کی فکر نہ کرو تو تمہاری مرضی۔ پھر تم بھی اسی انجام کے لئے تیار رہو

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٥] حالانکہ ہم نے سابقہ امتوں کے انجام کی مثالیں دے دے کر تم پر یہ بات واضح کردی تھی کہ ایسا انقلاب آسکتا ہے۔ پہلے بھی آتا رہا ہے اور اب بھی آکے رہے گا اور ان کے قصے تمہارے ہاں زبان زد بھی تھے اور ان کے ہلاک کردہ علاقے تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی رہتے تھے اور انھیں کے علاقوں میں تم میں سے کچھ لوگ آج بھی آباد ہیں۔ لہذا یہ بھی عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں سے ہٹا کر دوسرے لوگوں کو آگے لے آئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ ۔۔ : یعنی تم لوگ اسی عرب، یمن، عراق اور مصر وغیرہ میں رہ رہے ہو جہاں تم سے پہلے عاد، ثمود، قوم نوح و ابراہیم، قوم لوط اور قوم فرعون رہتے تھے اور ان کے گناہوں کی سزا میں ہم نے ان پر جو عذاب نازل کیے وہ سب تمہیں اچھی طرح معلوم ہوچکے، گو تم زبان سے اقرار نہیں کرتے۔ ہم نے تو تمہیں اپنی کتابوں میں اور اپنے پیغمبروں کی زبانی مثالیں دے دے کر بھی سمجھایا، مثلاً مکھی کی مثال (حج : ٧٣) ، عنکبوت یعنی مکڑی کی مثال۔ (عنکبوت : ٤١) ، کتے کی مثال (اعراف : ١٧٦) اور سراب کی مثال (نور : ٣٩) وغیرہ۔ اس کے علاوہ پہلے کفار کے انجام بطور مثال بھی مراد ہوسکتے ہیں، مثلاً عاد وثمود، فرعون، قوم نوح وغیرہم۔ دیکھیے سورة رعد (٦) اور یونس (١٠٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 45: وَسَكَنتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَ‌بْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ And you dwelt in the dwelling of those who wronged themselves, and it became clear to you how We dealt with them and We put forth for you the examples, as obvious, the address is to the Mushriks of Arabia. These were the peo¬ple the Holy Prophet was asked to warn: وَأَنذِرِ‌ النَّاسَ (And warn the people - 44). In this address, they have been asked to take their guard against what could happen to them as a result of their heedlessness. They could learn a lesson from what had happened to past peoples. The conditions they faced and the revolutions that overtook them could be-come their teacher. Yet, it is astonishing that they would still prefer not to learn a lesson - even though, they live in the very homes once occupied by peoples destroyed in punishment and walk around neighbourhoods once walked by them. The truth is that they know by direct observation, and by what some continuing reports have told them that terrible was the punishment which Allah Ta’ ala inflicted on them because of their acts of disobedience. The advice and the examples given here were to bring them to see truth and take the straight path, but it was certainly strange that they would still not listen and learn to act right.

(آیت) وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ ۔ ظاہر یہ ہے کہ خطاب مشرکین عرب کو ہے جن کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا ہے انذِرِ النَّاس یعنی ڈراؤ ان لوگوں کو اس خطاب میں ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے حالات و انقلابات تمہارے لئے بہترین واعظ ہیں تعجب ہے کہ تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ تم انھی ہلاک شدہ قوموں کے گھروں میں بستے اور چلتے پھرتے ہو اور تمہیں کچھ حالات کے مشاہدہ سے کچھ متواتر خبروں سے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیسا سخت عذاب نازل کیا اور ہم نے بھی تمہارے راہ پر لانے کے لئے بہت سی مثالیں بیان کیں پھر بھی تم ہوش میں نہیں آتے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ 45 سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ہر طرح مثال بیان کردی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٥) حالانکہ تم پہلے لوگوں کی جگہ میں رہتے تھے جنہوں نے کفر وتکذیب سے اپنی جانوں کا نقصان کیا پھر بھی تم نے ان کی ہلاکت سے نصیحت نہیں حاصل کی اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ اور ہم نے تم سے قرآن کریم میں ہر ایک طریقہ سے وعدے وعید، رحمت و عذاب کی مثالیں بیان کیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ (وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ ) تمہارے آس پاس کے علاقوں میں وہ قومیں آباد تھیں جو ماضی میں اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں۔ قوم عاد بھی اسی جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھی قوم ثمود کے مساکن بھی تمہیں دعوت عبرت دیتے رہے قوم مدین کا علاقہ بھی تم سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا اور قوم لوط کے شہروں کے آثار سے بھی تم لوگ خوب واقف تھے۔ (وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ ) ان کے حالات پوری طرح کھول کر تم لوگوں کو سنا دیے گئے تھے۔ یہ تذکیر بایام اللہ کی تفصیلات کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں حضور سے اسی سورت کی آیت ٥ میں خصوصی طور پر فرمایا گیا : (وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰٹم اللّٰہِ ط) ” کہ آپ اللہ کے دنوں (اقوام گزشتہ کے واقعات عذاب) کے حوالے سے ان لوگوں کو خبردار کریں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:25) سکنتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم بستے رہے۔ تم آباد رہے۔ مساکن۔ مسکن کی جمع اس ظرف مکان ۔ ٹھہرنے اور رہنے کا مقام۔ تبین۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ واضح ہوگیا۔ وہ ظاہر ہوگیا۔ وہ کھل گیا۔ (یعنی ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی روایات بھی تم پہنچی ہوں گی اور ان کے آثار سے تم نے مشاہدہ بھی کرلیا ہوگا) ۔ وضربنا لکم الامثال۔ اور ہم نے تم کو مثالیں بیان کیں۔ یعنی کتب سماویہ میں ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا۔ کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم بھی یہی نیتجہ پائو گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یعنی ان کے گناہوں کی سزا میں ہم نے ان پر جو عذاب نازل کئے وہ سب تم کو معلوم ہوچکے تھے گو تم زبان سے اقرار نہیں کرتے تھے۔ (کذافی الکبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی کتب سماویہ میں ہم نے بھی ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا کہ اگر تم ایساکرو گے تو تم بھی ایسے ہی مغضوب و مستحق عذاب ہوگے پس واقعات کا اولا اخبار سے سننا پھر ہمارا ان کو بیان کرنا پھر مماثلت پر تنبیہ کرنا یہ سب اسباب مقتضی اس کو تھے کہ قیامت کا انکار نہ کرتے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکرین کو خطاب جاری ہے۔ منکرین آخرت کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے ساتھ پہلی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کیا یہ لوگ ان کے انجام پر غور نہیں کرتے کہ جن کی بستیوں اور علاقہ میں یہ لوگ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ جس وجہ سے انہیں ذلت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے کس طرح انہیں آناً فاناً اور شدّت کے ساتھ پکڑا تھا۔ ہم نے کھول کھول کر ان کے حالات اور واقعات لوگوں کے سامنے بیان کردیے ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ مکرو فریب اور سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیرغالب رہی۔ حالانکہ ان کی سازشیں اور مکرو فریب اس قدر گہرے، بڑے اور مضبوط تھے کہ قریب تھا کہ پہاڑ ٹل جائیں۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ مکر کا معنی ہے سازش اور ہر قسم کا فریب۔ یہ لفظ جب منکرین حق کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنی مکر و فریب ہوا کرتا ہے۔ جب مکر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کی تدبیر ہوتی ہے۔ پہاڑ ٹل جانے سے مراد یہ بتانا مقصود ہے کہ کفار نے انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اللہ تعالیٰ نے حق کو غالب فرمایا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ تمہارے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ سخت انتقام لینے والا ہے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم سیلاب کی نذر ہوئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن دریا میں غرقاب ہوئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف سازش کرنے والا اپنوں کے ہاتھوں سولی چڑھ گیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مکر و فریب اور سازشیں کرنے والے ایک ایک کر کے دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے۔ آپ نے ان کی لاشوں کو یوں مخاطب کیا : جو باقی تھے انھیں فتح مکہ کے موقع پر سر عام سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معافی مانگنا پڑی۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَقَفَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَی قَلِیْبِ بَدْرٍ فَقَالَ ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّہُمُ الآنَ یَسْمَعُوْنَ مَا أَقُوْلُ )[ رواہ البخاری : باب قَتْلِ أَبِی جَہْلٍ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے آپ نے مرنے والے سرداروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کیا تم نے اپنے پروردگار کے وعدے کو سچ پایا ہے ؟ آپ نے فرمایا اب جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے وہ سن رہے ہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو نشان عبرت بنادیا۔ ٢۔ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ پہلی قوموں کی مثالیں بیان کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سخت انتقام لینے پر غالب ہے۔ تفسیر بالقرآن مخالفین کا انبیاء (علیہ السلام) اور حق کے خلاف سازشیں کرنا : ١۔ کفار نے نبی اکرم کو قتل کرنے اور ملک بدر کرنے کی سازش کی۔ (الانفال : ٣٠) ٢۔ نبی کریم کو حق سے پھیر دینے کے لیے کافروں نے سازش کی۔ (البقرۃ : ١٠٩) ٣۔ آپ غمزدہ نہ ہوں اور کفار کے مکرو فریب سے تنگی محسوس نہ کریں۔ (النحل : ١٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ جن ظالموں نے ضد وعناد سے توحید کا انکار کیا اور ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا جن کو عذاب سے ہلاک و برباد کیا ان کی بتاہی کے بعد ان کے شہروں اور علاقوں میں تم آباد ہوئے اور تم نے ان کی تباہی کے آثار سے معلوم کرلیا کہ ہم نے ان مکذبین کا کیا حشر کیا اور پھر ہم نے مثالیں دے دے کر مسئلہ توحید کو اچھی طرح سمجھا دیا مگر اس کے باوجود تم نے انکار کیا اور مسئلہ توحید کو ماننے کا جو موقع ہم نے فراہم کیا تھا اس سے تم نے فائدہ نہ اٹھایا اس لیے اب اگر تمہیں دوبارہ مہلت دی گئی تب بھی تم نہیں مانو گے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے معاندین کے قصص و واقعات بیان کر کے تم کو تنبیہ کی کہ دیکھو اگر نہیں مانو گے تو ان ہلاک شدہ قوموں کی طرح تم پر بھی ہولناک عذاب بھیجا جائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

45 ۔ حالانکہ تم ان ہی لوگوں کے رہنے کی جگہ میں آباد تھے جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر و شرک اور قیامت کے انکار سے انہوں نے اپنے کو نقصان پہنچایا تھا اور تم کو یہ بھی معلوم ہوچکا تھا اور تم پر یہ ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان ظالموں کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا اور ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تھا انہی لوگوں کی جائے سکونت میں یا اس کے آس پاس آباد تھے جہاں وہ سابقہ ظالم اور کافر و مشرک رہا کرتے تھے اور جو کچھ ان سابقہ ظالموں کے ساتھ معاملہ کیا گیا تھا وہ بھی تم کو ظاہر ہوچکا تھا اور اگلے لوگوں کا مزید حال تم کو آسمانی کتابوں سے اور پیغمبروں کی زبانی معلوم ہوچکا تھا اور مثالوں اور قصوں سے امم ماضیہ کا انجام تم کو سنا دیا گیا تھا تو اب کیا بات باقی رہ گئی ہے جس کے لئے مہلت مانگ رہے ہو۔