Earlier Nations disbelieved in Their Prophets
Allah says:
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِن بَعْدِهِمْ لاَ يَعْلَمُهُمْ إِلاَّ اللّهُ
...
Has not the news reached you, of those before you, the people of Nuh, `Ad, and Thamud, and those after them! None knows them but Allah.
Allah narrated to this Ummah (followers of Muhammad) the stories of the people of Prophet Nuh, `Ad and Thamud, and other ancient nations that belied their Messengers. Only Allah knows the count of these nations,
...
جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ
...
To them came their Messengers with clear proofs,
they brought them evidences and plain, tremendous proofs and signs.
Ibn Ishaq reported that Amr bin Maymun said that Abdullah said about Allah's statement,
لااَ يَعْلَمُهُمْ إِلااَّ اللّهُ
(None knows them but Allah),
"The genealogists utter lies."
This is why Urwah bin Az-Zubayr said,
"We did not find anyone who knows the forefathers of Ma`dd bin Adnan."
Meaning of, "They put Their Hands in Their Mouths"
Allah said next,
...
فَرَدُّواْ أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ
...
but they put their hands in their mouths,
It is said that they pointed to the Messengers' mouths asking them to stop calling them to Allah, the Exalted and Most Honored.
It is also said that it means, they placed their hands on their mouths in denial of the Messengers.
It was also said that it means that they did not answer the call of the Messengers, or they were biting their hands in rage.
Mujahid, Muhammad bin Ka`b and Qatadah said that;
they belied the Messengers and refuted their call with their mouths.
I (Ibn Kathir) say that Mujahid's Tafsir is supported by the completion of the narrative,
...
وَقَالُواْ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ
and said: "Verily, we disbelieve in that with which you have been sent, and we are really in grave doubt as to that to which you invite us."
Al-Awfi reported that Ibn Abbas said,
"When they heard Allah's Word, they were amazed and placed their hands on their mouths,"
...
وَقَالُواْ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ
...
and said: "Verily, we disbelieve in that with which you have been sent."
They said, We do not believe what you brought us, and have strong doubt in its authenticity.'
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو تم سے پہلے کے لوگوں پر رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسے سخت عذاب آئے ؟ اور کس طرح وہ غارت کئے گئے ؟ یہ قول تو ہے امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا لیکن ذرا غور طلب ہے ۔ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہو چکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے ۔ کہا گیا ہے کہ عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے واللہ اعلم ۔ فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ۔ ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سی امتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ معد بن عدنان کے بعد کا نسب نامہ صحیح طور پر کوئی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے ہاتھ ان کے منہ تک لوٹا لیے گئے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ رسولوں کے منہ بند کرنے لگے ۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے لگے کہ محض جھوٹ ہے جو رسول کہتے ہیں ۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جواب سے لاچار ہو کر انگلیاں منہ پر رکھ لیں ۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنے منہ سے انہیں جھٹلانے لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں پر فی معنی میں بے کے ہو جیسے بعض عرب کہتے ہیں ادخلک اللہ بالجنۃ یعنی فی الجنۃ شعر میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے ۔ اور بقول مجاہد اس کے بعد کا جملہ اسی کی تفسیر ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارے غصے کے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں ڈال لیں ۔ چنانچہ اور آیت میں منافقین کے بارے میں ہے کہ آیت ( وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ١١٩ ) 3-آل عمران:119 ) یہ لوگ خلوت میں تمہاری جلن سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں ۔ یہ بھی ہے کہ کلام اللہ سن کر تعجب سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ ہم تو تمہاری رسالت کے منکر ہیں ہم تمہیں سچا نہیں جانتے بلکہ سخت شبہ میں ہیں ۔