Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 9

سورة إبراهيم

اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَبَؤُا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ۬ ؕ ۛ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ ۛ لَا یَعۡلَمُہُمۡ اِلَّا اللّٰہُ ؕ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَرَدُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ فِیۡۤ اَفۡوَاہِہِمۡ وَ قَالُوۡۤا اِنَّا کَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ وَ اِنَّا لَفِیۡ شَکٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَنَاۤ اِلَیۡہِ مُرِیۡبٍ ﴿۹﴾ الثلٰثۃ

Has there not reached you the news of those before you - the people of Noah and 'Aad and Thamud and those after them? No one knows them but Allah . Their messengers brought them clear proofs, but they returned their hands to their mouths and said, "Indeed, we disbelieve in that with which you have been sent, and indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."

کیا تمہارے پاس تم سے پہلے کے لوگوں کی خبریں نہیں آئیں؟ یعنی قوم نوح کی اور عاد و ثمود کی اور ان کے بعد والوں کی جنہیں سوائے اللہ تعالٰی کے اور کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول معجزے لائے لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دبا لیے اور صاف کہہ دیا کہ جو کچھ تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ہمیں تو اس میں بڑا بھاری شبہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Earlier Nations disbelieved in Their Prophets Allah says: أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِن بَعْدِهِمْ لاَ يَعْلَمُهُمْ إِلاَّ اللّهُ ... Has not the news reached you, of those before you, the people of Nuh, `Ad, and Thamud, and those after them! None knows them but Allah. Allah narrated to this Ummah (followers of Muhammad) the stories of the people of Prophet Nuh, `Ad and Thamud, and other ancient nations that belied their Messengers. Only Allah knows the count of these nations, ... جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ ... To them came their Messengers with clear proofs, they brought them evidences and plain, tremendous proofs and signs. Ibn Ishaq reported that Amr bin Maymun said that Abdullah said about Allah's statement, لااَ يَعْلَمُهُمْ إِلااَّ اللّهُ (None knows them but Allah), "The genealogists utter lies." This is why Urwah bin Az-Zubayr said, "We did not find anyone who knows the forefathers of Ma`dd bin Adnan." Meaning of, "They put Their Hands in Their Mouths" Allah said next, ... فَرَدُّواْ أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ ... but they put their hands in their mouths, It is said that they pointed to the Messengers' mouths asking them to stop calling them to Allah, the Exalted and Most Honored. It is also said that it means, they placed their hands on their mouths in denial of the Messengers. It was also said that it means that they did not answer the call of the Messengers, or they were biting their hands in rage. Mujahid, Muhammad bin Ka`b and Qatadah said that; they belied the Messengers and refuted their call with their mouths. I (Ibn Kathir) say that Mujahid's Tafsir is supported by the completion of the narrative, ... وَقَالُواْ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ and said: "Verily, we disbelieve in that with which you have been sent, and we are really in grave doubt as to that to which you invite us." Al-Awfi reported that Ibn Abbas said, "When they heard Allah's Word, they were amazed and placed their hands on their mouths," ... وَقَالُواْ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ ... and said: "Verily, we disbelieve in that with which you have been sent." They said, We do not believe what you brought us, and have strong doubt in its authenticity.'

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو تم سے پہلے کے لوگوں پر رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسے سخت عذاب آئے ؟ اور کس طرح وہ غارت کئے گئے ؟ یہ قول تو ہے امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا لیکن ذرا غور طلب ہے ۔ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہو چکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے ۔ کہا گیا ہے کہ عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے واللہ اعلم ۔ فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ۔ ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سی امتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ معد بن عدنان کے بعد کا نسب نامہ صحیح طور پر کوئی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے ہاتھ ان کے منہ تک لوٹا لیے گئے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ رسولوں کے منہ بند کرنے لگے ۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے لگے کہ محض جھوٹ ہے جو رسول کہتے ہیں ۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جواب سے لاچار ہو کر انگلیاں منہ پر رکھ لیں ۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنے منہ سے انہیں جھٹلانے لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں پر فی معنی میں بے کے ہو جیسے بعض عرب کہتے ہیں ادخلک اللہ بالجنۃ یعنی فی الجنۃ شعر میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے ۔ اور بقول مجاہد اس کے بعد کا جملہ اسی کی تفسیر ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارے غصے کے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں ڈال لیں ۔ چنانچہ اور آیت میں منافقین کے بارے میں ہے کہ آیت ( وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ١١٩؁ ) 3-آل عمران:119 ) یہ لوگ خلوت میں تمہاری جلن سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں ۔ یہ بھی ہے کہ کلام اللہ سن کر تعجب سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ ہم تو تمہاری رسالت کے منکر ہیں ہم تمہیں سچا نہیں جانتے بلکہ سخت شبہ میں ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

9۔ 1 مفسرین نے اس کے مختلف معانی بیان کئے ہیں مثلاً انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے من ہوں میں رکھ لئے اور کہا ہمارا تو صرف ایک ہی جواب ہے کہ ہم تمہاری رسالت کے منکر ہیں، 2۔ انہوں نے اپنی انگلیوں سے اپنے مونہوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ خاموش رہو اور یہ جو پیغام لے کر آئے ہیں ان کی طرف توجہ مت کرو، 3۔ انہوں نے اپنے ہاتھ رسولوں کے مونہوں پر استہزاءً اور تعجب کے طور پر رکھ لیے جس طرح کوئی شخص ہنسی ضبط کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ 4۔ انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے رسولوں کے مونہوں پر رکھ کر کہا خاموش رہو،۔ 5۔ بطور غیظ وغضب کے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لے لیے جس طرح منافقین کی بابت دوسرے مقام پر آتا ہے عضوا علیکم الانامل من الغیظ۔ ال عمران۔ وہ تم پر اپنی انگلیاں غیظ وغضب سے کاٹتے ہیں۔ امام شوکانی اور امام طبری نے اسی آخری معنی کو ترجیح دی ہے۔ 9۔ 2 مریب یعنی ایسا شک، کہ جس سے نفس سخت قلق اور اضطراب میں مبتلا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] پچھلی آیت پر موسیٰ (علیہ السلام) کا خطاب ختم ہوا اور اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مشرکین مکہ کو خطاب شروع ہوتا ہے۔ سابقہ مقامات پر اقوام اور انبیاء کا الگ الگ ذکر ہوتا رہا۔ یہاں بحیثیت مجموعی ذکر ہو رہا ہے اور قریش مکہ سے صرف ان اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جو ان کے آس پاس تھیں یا جن کے حالات کسی نہ کسی ذریعہ سے ان تک پہنچ سکتے تھے۔ مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود، قوم فرعون، اصحاب مدین وغیرہ وغیرہ لیکن بہت سی ایسی اقوام بھی تھیں جن کے حالات کا علم ان کی دسترس سے باہر تھا اور ان سے کہیں دور کے علاقوں میں آباد تھیں اور ان پر بھی انکار حق کی بنا پر عذاب آیا تھا۔ لہذا قرآن نے ان کا تفصیل سے ذکر نہیں کیا محض اشارہ کردیا ہے۔ [ ١٢] یہ محاورہ ہے۔ اور اس سے مراد ایسا انکار ہوتا ہے جس میں تعجب بھی شامل ہو جیسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ اس نے اپنی انگلی منہ میں دبا لی یا اپنا ہاتھ کانوں پر رکھ لیا اور مجاہد کہتے ہیں کہ && یہ محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا جو حکم ہوا تھا، اس سے وہ باز رہے && (بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورة ابراہیم) [ ١٣] انبیاء کی دعوت سے مشرکوں کی بےچینی :۔ تمام انبیاء کے مخالفین کا یہی حال رہا ہے اگرچہ وہ بظاہر حق کی مخالفت کرتے اور اس مخالفت میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں مگر حق کے دلائل کے سامنے وہ بےبس ہوجاتے ہیں۔ نیز جوں جوں حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے ان کا قلبی سکون رخصت ہوتا جاتا ہے اور شک، اضطراب اور بےچینی بڑھتی جاتی ہے۔ اس طرح داعیان حق کو بےچین کرنے والے خود بھی چین سے محروم ہوجاتے ہیں اور اگر اس کے لفظی معنی کا اعتبار کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ رسولوں کو بات بھی نہیں کرنے دیتے تھے اور بات کرتے وقت ان کے منہ کے آگے اپنے ہاتھ رکھ دیتے تھے اور کہتے کہ ہم تمہیں رسول ہی نہیں سمجھتے تو بات کرنے اور سننے کا فائدہ کیا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعداد اور تمام حالات سے واقف ہے اور ان کے نسب کو بھی صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ : یعنی غصے کے مارے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے، جیسا کہ دوسری آیت میں منافقین کے متعلق فرمایا : (وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ) [ آل عمران : ١١٩ ] ” اور (یہ منافقین) جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیوں کی پوریں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ “ یا ہنسی اور تعجب کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ لیے، یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہو۔ پہلے معنی کو اکثر مفسرین نے ترجیح دی ہے، ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھ رسولوں کے منہ پر رکھ دیے کہ وہ خاموش رہیں۔ وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ ۔۔ : ” بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ “ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی نشانیاں دیکھ کر وہ یہ ضرور جان چکے تھے کہ ان رسولوں کو یہ معجزے دے کر بھیجا گیا ہے، یہ رسول خود یہ معجزے نہیں لے آئے۔ اس لیے اگرچہ انھوں نے توحید کی دعوت ماننے سے انکار کردیا، مگر اپنے کفر پر بھی ان کا یقین متزلزل ہوگیا اور انھوں نے کہا کہ ہم تمہاری دعوت کے بارے میں ایک بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر : (اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان) ہم ان کے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو (یعنی وہی توحید و ایمان) ہم تو اس کی جانب سے بہت بڑے شبہ میں ہیں جو (ہم کو) تردد میں ڈالے ہوئے ہے (مقصود اس سے توحید و رسالت دونوں کا انکار ہے توحید کا تو ظاہر ہے اور رسالت کا تدعونا میں جس کا حاصل یہ ہے کہ تم خود اپنی رائے سے دعوت توحید کر رہے ہو مامور ومرسل من اللہ نہیں ہو) ان کے پیغمبروں نے (اس بات کے جواب میں) کہا کیا (تم کو) اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں) شک (و انکار) ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (یعنی اس کا ان چیزوں کو پیدا کرنا خود دلیل اس کی ہستی اور وحدانیت کی ہے پھر اس دلیل کے ہوتے ہوئے شک کرنا بڑی تعجب کی بات ہے اور تم جو دعوت الی التوحید کو استقلالا ہماری طرف منسوب کرتے ہو یہ بھی محض غلط ہے گو توحید بوجہ حق ہونے کے اس قابل ہے کہ اگر کوئی اپنی رائے سے بھی اس کی دعوت کرے تو بھی زیبا ہے لیکن محل متنازع فیہ میں تو ہماری دعوت بحکم خداوند تعالیٰ ہے پس) وہ (ہی) تم کو (توحید کی طرف) بلارہا ہے تاکہ (اس کے قبول کرنے کی برکت سے) تمہارے (گذشتہ) گناہ معاف کردے اور (تمہاری عمر کی) معین مدت تک تم کو (خیر و خوبی کے ساتھ) حیات دے (مطلب یہ کہ توحید علاوہ اس کے کہ فی نفسہ حق ہے تمہارے لئے دونوں جہان میں نافع بھی ہے اور اس جواب میں دونوں امر کے متعلق جواب ہوگیا توحید کے متعلق بھی اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ الخ اور رسالت کے متعلق بھی يَدْعُوْكُمْ میں جیسا تقریر ترجمہ سے ظاہر ہے) پھر انہوں نے (پھر دونوں امر کے متعلق گفتگو شروع کی اور) کہا کہ تم (پیغمبر نہیں ہو بلکہ) محض ایک آدمی ہو جیسے ہم ہیں (اور بشریت منافی رسالت ہے تم جو کہتے ہو وہ من اللہ نہیں ہے بلکہ) تم (اپنی رائے ہی سے) یوں چاہتے ہو کہ ہمارے آباء و اجداد جس چیز کی عبادت کرتے تھے (یعنی بت) اس سے ہم کو روک دو سو (اگر رسالت کے مدعی ہو تو علاوہ ان دلائل وبینات مذکورہ کے اور) کوئی صاف معجزہ دکھلاؤ (جو ان سب سے واضح تر ہو اس میں نبوت پر تو کلام ظاہر ہے اور يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَا میں توحید پر کلام کی طرف اشارہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شرک کے حق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے بزرگ اس کو کرتے تھے) ان کے رسولوں نے (اس کے جواب میں) کہا کہ (تمھاری تقریر کے کئی جزو ہیں انکار توحید دلیل فعل آباء انکار نبوت مطالبہ سلطان مبین علاوہ بینات سابقہ، سو امر اول کے متعلق فاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں جواب ہوگیا کیونکہ دلیل عقلی کے روبرو رسم وعرف کوئی چیز نہیں امر دوم کے متعلق ہم اپنی بشریت کو تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی) ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں لیکن (بشریت اور نبوت میں تنافی نہیں کیونکہ نبوت ایک اعلی درجہ کا احسان خداوندی ہے اور) اللہ (کو اختیار ہے کہ) اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے (وہ) احسان فرما دے (اور احسان کے غیر بشر کے ساتھ مختص ہونے کی کوئی دلیل نہیں) اور (امر سوم کے متعلق یہ ہے کہ دعوی کے لئے جس میں دعوی نبوت بھی داخل ہے نفس دلیل اور مطلق بینہ جو دعوی نبوت کی صورت میں معجزہ ہوگا ضرور ہے جو کہ پیش کی جا چکی ہے رہا دلیل و معجزہ خاص جس کو سلطان مبین یعنی صاف دلیل سے تعبیر کر رہے ہو سو اولا حسب قواعد مناظرہ ضروری نہیں ثانیا) یہ بات ہمارے قبضہ کی نہیں کہ ہم تم کو کوئی معجزہ دکھلا سکیں بغیر خدا کے حکم کے (پس تمہارے تمام تر شبہات کا جواب ہوگیا پھر اگر اس پر بھی تم نہ مانو اور مخالفت کئے جاؤ تو خیر ہم تمہاری مخالفت سے نہیں ڈرتے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں) اور اللہ ہی پر سب ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے (چونکہ ہم بھی باایمان ہیں اور ایمان مقتضی ہے توکل کو اس لئے ہم بھی اس کو اختیار کرتے ہیں) اور ہم کو اللہ پر بھروسہ نہ کرنے کا کون امر باعث ہوسکتا ہے حالانکہ اس نے (ہمارے حال پر بڑا فضل کیا کہ) ہم کو ہمارے (منافع دارین کے) راستے بتلادیئے (جس کا اتنا بڑا فضل ہو اس پر تو ضرور بھروسہ کرنا چاہئے) اور (ضرر خارجی سے تو یوں بےفکر ہوگئے رہا ضرر داخلی کہ تمہاری مخالفت کا غم وحزن ہوتا ہو) تم نے (عناد و خلاف کرکے) جو کچھ ہم کو ایذا پہنچائی ہے ہم اس پر صبر کریں گے (پس اس سے بھی ہم کو ضرر رکھنا چاہئے اور (ان تمام تر اتمام حجت کے بعد بھی کفار نرم نہ ہوئے بلکہ) ان کفار نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سر زمین سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ (پھر آنا اس لئے کہا کہ سکوت قبل بعثت سے وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کا اعتقاد بھی ہم ہی جیسا ہوگا) پس ان رسولوں پر ان کے رب نے (تسلی کے لئے) وحی نازل فرمائی کہ (یہ بیچارے تم کو کیا نکالیں گے) ہم (ہی) ان ظالموں کو ضرور ہلاک کردیں گے اور ان کے (ہلاک کرنے کے) بعد تم کو اس سر زمین میں آباد رکھیں گے (اور) یہ (وعدہ آباد رکھنے کا کچھ تمہارے ساتھ خاص نہیں بلکہ) ہر اس شخص کے لئے (عام) ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے (مراد یہ کہ جو مسلمان ہو جس کی علامت خوف قیامت اور خوف وعید ہے سب کیلئے یہ وعدہ عذاب سے نجات دینے کا عام ہے) اور (پیغمبروں نے جو یہ مضمون کفار کو سنایا کہ تم نے دلائل کے فیصلہ کو نہ مانا اب عذاب سے فیصلہ ہونے والا ہے یعنی عذاب آنے والا ہے تو) کفار (چونکہ جہل مرکب وعناد میں غرقاب تھے اس سے بھی نہ ڈرے بلکہ کمال بیباکی سے وہ) فیصلہ چاہنے لگے (جیسا آیت فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ وامثالھا سے معلوم ہوتا ہے) اور (جب وہ فیصلہ آیا تو) جتنے سرکش (اور) ضدی لوگ تھے وہ سب (اس فیصلہ میں) بےمراد ہوئے (یعنی ہلاک ہوگئے اور جو ان کی مراد تھی کہ اپنے کو اہل حق سمجھ کر فتح و ظفر چاہتے تھے وہ حاصل نہ ہوئی

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ټ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ړ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ ۭ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ ۝ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی تقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله . ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے ۔ نیز مثمود اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جسے سوال کرنے والوں نے مفلس کردیا ہو ۔ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ فوه أَفْوَاهُ جمع فَمٍ ، وأصل فَمٍ فَوَهٌ ، وكلّ موضع علّق اللہ تعالیٰ حکم القول بِالْفَمِ فإشارة إلى الکذب، وتنبيه أنّ الاعتقاد لا يطابقه . نحو : ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] ، وقوله : كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5]. ( ف و ہ ) افواہ فم کی جمع ہے اور فم اصل میں فوہ ہے اور قرآن پاک میں جہاں کہیں بھی قول کی نسبت فم یعنی منہ کی طرف کی گئی ہے وہاں در وغ گوئی کی طرف اشارہ ہے اور اس پر تنبیہ ہے کہ وہ صرف زبان سے ایسا کہتے ہیں ان کے اندرون اس کے خلاف ہیں جیسے فرمایا ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں ۔ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] بات جوان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ شكك الشَّكُّ : اعتدال النّقيضين عند الإنسان وتساويهما، والشَّكُّ : ضرب من الجهل، وهو أخصّ منه، لأنّ الجهل قد يكون عدم العلم بالنّقيضين رأسا، فكلّ شَكٍّ جهل، ولیس کلّ جهل شكّا، قال اللہ تعالی: وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] ( ش ک ک ) الشک کے معنی دونقیضوں کے ذہن میں برابر اور مساوی ہونے کے ہیں ۔ الشک : شک جہالت ہی کی ایک قسم ہے لیکن اس سے اخص ہے کیونکہ جہل میں کبھی سرے سے نقیضیں کا علم ہی نہیں ہوتا ۔ پس ہر شک جھل ہے مگر ہر جہل شک نہیں ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] وہ تو اس سے قوی شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ريب فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ، ( ر ی ب ) اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہوا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩) کفار مکہ کیا تم لوگوں کو قوم نوح، قوم ہود، اور قوم صالح اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی خبر نہیں پہنچی کہ تکذیب کرنے پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کیسے ہلاک کیا جن کی تفصیلی طور پر تعداد اور کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ان کے پیغمبر ان کے پاساوامر و نواہی اور معجزات لے کر آئے تو ان کفار نے جو احکام انبیاء کرام لے کر آئے تھے ان کو رد کردیا یا یہ کہ اپنے ہاتھ ان کے منہ کے سامنے کردیے اور کہنے لگے خاموش ہوجاؤ ورنہ ہم خاموش کردیں گے اور رسولوں سے کہنے لگے کہ جو کتاب اور توحید دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور جس کتاب اور توحید کی طرف تم بلا رہے ہو، ہم تو اس کی جانب سے بہت بڑے شبہ میں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ ) یہاں تمام رسولوں کو ایک جماعت فرض کر کے ان کا ذکر اکٹھے کیا جا رہا ہے کیونکہ سب نے اپنی اپنی قوم کو ایک جیسی دعوت دی اور اس دعوت کے جواب میں سب رسولوں کی قوموں کا رد عمل بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ ان سب اقوام نے اپنے رسولوں کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو ان باتوں کے متعلق بہت سے شکوک و شبہات لاحق ہیں جن کی وجہ سے ہم سخت الجھن میں پڑگئے ہیں ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14. The speech of Prophet Moses (peace be upon him) ended with( Ayat 8). From here begins a direct address to the disbelievers of Makkah. 15. There has been a great deal of difference of opinion in regard to the meaning of the Arabic words of the text and different commentators have assigned different meanings to them. But we arc of the opinion that these express merely the intolerance and perplexity and a bit of anger that was being shown by the disbelievers towards the message and this is confirmed by the subsequent sentence. 16. They had a “grave doubt” about the message because it had taken away their peace of mind. This was because invitation to the message always makes the minds uneasy, for it becomes hard even for its opponents to reject it outright or oppose it with peace of mind. Howsoever they might give vent to their doubts about it and oppose it tooth and nail the force of its truth and its sound arguments, its frankness and candor and its winning manners of exposition produce a great agitation in the minds of its bitterest opponents. Then the pure and spotless character of the Messenger and the marked change for the better brought about in his followers produce such an accumulative effect on their minds that even their most bitter antagonists begin to feel uneasy about their own stand. Thus, those who try to disturb the peace of mind of the upholders of the truth are themselves deprived of their own peace of mind.

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :15 ان الفاظ کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف پیش آیا ہے اور مختلف لوگوں نے مختلف معنی بیان کیے ہیں ۔ ہمارے نزدیک ان کا قریب ترین مفہوم وہ ہے جسے ادا کرنے کے لیے ہم اردو میں کہتے ہیں کانوں پر ہاتھ رکھے ، یا دانتوں میں انگلی دبائی ۔ اس لیے کہ بعد کا فقرہ صاف طور پر انکار اور اچنبھے ، دونوں مضامین پر مشتمل ہے اور کچھ اس میں غصے کا انداز بھی ہے ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :16 ”یعنی ایسا شک جس کی وجہ سے اطمینان رخصت ہو گیا ہے ۔ یہ دعوت حق کا خاصہ ہے کہ جب وہ اٹھتی ہے تو اس کی وجہ سے ایک کھلبلی ضرور مچ جاتی ہے اور انکار و مخالفت کر نے والے بھی اطمینان کے ساتھ نہ اس کا انکار کر سکتے ہیں نہ اس کی مخالفت ۔ وہ چاہے کتنی ہی شدت کے ساتھ اسے رد کریں اور کتنا ہی زور اس کی مخالفت میں لگائیں ، دعوت کی سچائی ، اس کی معقول دلیلیں ، اس کی کھر کھری اور بے لاگ باتیں ، اس کی دل موہ لینے والی زبان ، اس کے داعی کی بے داغ سیرت ، اس پر ایمان لانے والوں کی زندگیوں کا صریح انقلاب ، اور اپنے صدق مقال کے عین مطابق ان کے پاکیزہ اعمال ، یہ ساری چیزیں مل جل کر کٹے سے کٹے مخالف کے دل میں بھی ایک اضطراب پیدا کر دیتی ہیں ۔ داعیان حق کو بے چین کرنے والا خود بھی چین سے محروم ہو جاتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: اس سے مراد وہ قومیں بھی ہوسکتی ہیں جن کی تاریخ محفوظ نہیں رہ سکی اور وہ بھی جن کا اجامعلی حال تو معلوم ہے لیکن ان کی تعداد اور ان کے تفصیلی حالات کا کسی کو پتہ نہیں۔ 6: یہ ایک محاورہ ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ انہیں زبردستی بولنے اور تبلیغ کرنے سے روکا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩۔ یہاں مفسروں نے دو معنے بیان کئے ہیں بعضے یہ کہتے ہیں کہ اوپر کی نصیحت کے سلسلہ میں یہ خطاب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف کیا ہے کہ کیا تم لوگوں کو نہیں معلوم ہے کہ تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود گزری ہیں جن کے پاس رسول معجزے اور نشانیاں لے کر آئے اور ان لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور کہنے لگے کہ تم جو کچھ خدا کی طرف سے لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں ہمیں تو یقین نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور جو تم ہمیں نصیحت کرتے ہو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور بعضے مفسروں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت علیحدہ ہے اوپر کی آیتوں سے اس کو لگاؤ نہیں ہے بلکہ خدا نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو خطاب کیا اور قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کا ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ بیشمار قومیں گزری ہیں جن کی گنتی سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں معلوم ہے ان کے رسول طرح طرح کے معجزے لے کر آئے مگر قوم نے ہاتھوں کو منہ پر رکھ کر انہیں اشارہ کیا کہ چپ رہو اور ان کو جھٹلایا۔ { فردوا ایدیھم فی افواھھم } کی تفسیر یوں بھی بیان کی گئی ہے کہ کفار نے غصہ میں ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹا اور یوں بھی تفسیر کی گئی ہے کہ تعجب اور مسخرا پن سے اس قدر ہنسے کہ ہاتھوں کو منہ پر رکھ لیا بہر حال صاف انکار کردیا کہ ہم تمہاری بات کی تصدیق نہیں کرتے اور ہمیں تو تمہاری رسالت میں بہت ہی شک ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی قوم کو ترجیح دی ہے کہ یہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کا ایک ٹکڑا ہے { فردوآ ایدیھم فی افواھھم } کے یہ معنے حافظ ابو جعفر نے قوی ٹھہرائے ہیں کہ مشرک لوگ رسولوں سے اپنے بتوں کی مذمت سن کر جوش میں آجاتے تھے اور اس جوش کی حالت میں اپنی انگلیاں دانتوں سے کاٹنے لگتے ١ ؎ تھے۔ معتبر سند سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود (رض) کا قول بھی اسی کے موافق ٢ ؎ ہے۔ جس سے یہی معنے صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو طالب کی بیماری کے وقت ابو جہل اور بہت سے مشرک ابو طالب کی بیمار پرسی اور خیر کو آئے تھے اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو شرک کے چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے کی نصیحت کی جس سے وہ لوگ بڑے جوش میں آن کر اس مجلس سے اٹھ کھڑے ٣ ؎ ہوئے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث گزر چکی ٤ ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ کے قابل اور جس حالت کے قابل جو کوئی پیدا ہوا ہے اس کو ویسے ہی کام آسان اور اچھے معلوم ہوتے ہیں ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر قریش کے شرک کی حالت پر مرجانے والے لوگوں تک جو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے دنیا میں ہلاک ہوئے اور عقبیٰ میں دوزخ کے قابل ٹھہرے لوح محفوظ میں ان کی یہ حالت لکھی گئی تھی۔ اس لئے اس حالت کے بر خلاف نصیحت کو سن کر وہ لوگ جوش میں آجاتے تھے اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتے تھے۔ ١ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١٨٩ ج ١٣ و تفسیر ابن کثیر ص ٥٢٤ ج ٢۔ ٢ ؎ تفسیر فتح البیان ص ٦٠٩ ج ٢ و نجمع الزوائد ص ٤٣ ج ٧ صاحب مجمع الزوائد نے اضے ضعیف لکھا ہے۔ ٣ ؎ جامع ترمذی ص ١٥٥ ج ٢ تفسیر سورت ص و تفسیر فتح البیان ص ٦ ج ٤۔ ٤ ؎ جلد ہذا ص ٢٠٢۔ ٢٣٣۔ ٢٣٥۔ ٢٤٠۔ ٢٤٦۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:9) بنؤا۔ بنأ۔ خبر۔ اطلاع۔ قوم نوح۔ یہ والذین من قبلکم کا بدل یا عطف بیان ہے۔ ان لوگوں ان قوموں کی خبر جو تم سے قبل گذر چکی ہیں۔ یعنی قوم نوح ۔۔ اسی طرح عاد کا عطف قوم نوح پر ہے اور ثمود اور والذین من بعدہم کا عطف بھی قوم نوح پر ہے اور لا یعلہم الا اللہ جملہ معترضہ ہے (کیا تم کو اپنے سے پہلے قوموں کی خبر نہیں ملی یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم۔ عاد اور ثمود کی قوم اور وہ قومیں جو ان کے بعد آئیں جن کے صحیح حالات اور تعداد کا علم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) ۔ فردوا ایدیہم فی افواہہم۔ رد یرد۔ (باب نصر) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ انہوں نے لوٹا دیا۔ انہوں نے الٹا دیا۔ انہوں نے پھیر دیا۔ جیسے ردوھا علی ۔ (38:23) ان گھوڑوں کو میرے پاس لوٹا لائو۔ اس جملہ کے مندرجہ ذیل مختلف معانی مفسرین نے لکھے ہیں۔ (1) غصہ سے اپنی پشت ِ دست کاٹنے لگے۔ یہ عضوا علیکم الانامل من الغیظ (3:119) وہ تم پر (شدتِ ) غیظ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں۔ سے ملتا جلتا محاورہ ہے۔ (2) وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھنے لگے۔ خاموش رہنے کے لئے یا تعجب کے اظہار کے لئے یا استہزاء کے طور پر۔ (3) اگر افواہہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع انبیاء کو قرار دیا جائے تو ترجمہ ہوگا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ انبیاء کے منہ پر رکھ دئیے ان کو خاموش کرنے کے لئے گستاخانہ انداز میں۔ (4) وہ ان کی (انبیاء کی) تکذیب کرتے تھے۔ چناچہ کہتے ہیں۔ رددت قول فلان فی فیہ۔ ای کذبتہ۔ میں نے فلاں کی بات قبول نہ کی۔ فلاں کی بات کو جھٹلادیا۔ کفرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے انکار کیا۔ ہم منکر ہوئے۔ مریب۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ارابۃ (باب افعال) متردّد بنا دینے والا۔ بےچین کردینے والا تردّد میں ڈالنے والا۔ یہ شک کے بعد مریب کا اضافہ تاکید مزید کے لئے ہے۔ یعنی شک ایسا نہیں جو نکل جائے بلکہ شبہات اور زیادہ بڑھتے جاتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ وہی ان کی تعداد اور تمام حالات سے واقف ہے اور ان کے نسب کو بھی صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (قرطبی) ۔ 3 ۔ یعنی غصے کے مارے اپنے ہاتھ کاتنے لگے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : عضوا علیکم ولا نابل من الغیظ۔ (آل عمران) ۔ یا ہنسی اور تعجب کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ تھے۔ یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہو۔ مگر پہلے اسناد اور محاورہ کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہیں۔ (از قرطبی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں۔ 4۔ مقصود اس سے توحید و رسالت دونوں کا انکار ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

ہم اس کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا ہیں۔ چہروں پر ہاتھ رکھنے کا مقصد انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت سے نفرت کا اظہار کرنا تھا۔ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے منفی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بیان ہوا ہے کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے اور سمجھاتے کہ اے میری قوم اگر تم شرک و خرافات کو چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سابقہ گناہ معاف کرے گا۔ لیکن قوم نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اپنے چہروں کو کپڑوں سے ڈھانپ لیا۔ ( نوح : ٧) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ ٢۔ ساری کائنات مل کر بھی اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات سے بےپروا ہے۔ ٤۔ سابقہ امم کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اقوام کے پاس رسول بھیجے۔ تفسیر بالقرآن شکر کے فائدے اور ناشکری کے نقصانات : ١۔ اگر تم اس کی ناشکری کرو تو اللہ بےپروا ہے اور تعریف والا ہے۔ (ابراہیم : ٨) ٢۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اگر ناشکری کرو تو اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (ابراہیم : ٧) ٣۔ جو شخص شکر کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو ناشکری کرتا ہے میرا رب اس سے بےپروا ہے۔ (النمل : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٩ تا ١١ یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔ الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (١٤ : ٩) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔ جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (١٤ : ٩) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔ فردوا ایدیھم (١٤ : ٩) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔ رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔ قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (١٤ : ١٠) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ وہ دعوت ہدایت پر سوچ سکیں۔ یدعوکم لیغفر لکم من ذنوبکم (١٤ : ١٠) ” وہ تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے “۔ حقیقی دعوت تو ایمان کی دعوت ہے جس کے نتیجے میں مغفرت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہاں دعوت و مغفرت کو ایک ساتھ لایا گیا ہے تا کہ اللہ کا احسان اچھی طرح واضح ہو کہ ایمان لاتے ہیں مغفرت ہوجاتی ہے اور پھر ان لوگوں کا رویہ اور سخت انکار مزید قابل تعجب ہے اور قابل مذمت ہوجاتا ہے کہ مغفرت کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور یہ لوگ ہیں کہ منہ میں ہاتھ ڈال کر انکار کرتے ہیں۔ ویؤخرکم الی اجل مسمی (١٤ : ١٠) ” اور تم کو ایک مدت مقررہ تک مہلت دے “۔ اللہ تعالیٰ ایمان و مغفرت کی دعوت دینے کے ساتھ ہی ان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ فوراً قبول کریں اور نہ ان کی تکذیب کے بعد فوراً ان کو ہلاک کرتا ہے ، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ یہ مہلت اس دنیا میں بھی ایک وقت تک ہوتی ہے ۔ اور قیامت تک بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس عرصے میں تم اچھی طرح اس دعوت پر غور کرسکتے ہو اور اللہ کی عزت اور رسولوں کے بیان پر بھی غور کرسکتے ہو۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہے اور یہ بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک نعمت ہے۔ تو کیا ایسے انعامات الہٰیہ کا وہی جواب ہے جو تم دے رہے ہو۔ لیکن یہ لوگ بہت ہی جاہل ہیں اور وہ اسی پرانے جاہلانہ اعتراض کا سہارا لیتے ہیں۔ قالوا ان انتم ۔۔۔۔۔ یعبد اباؤنا (١٤ : ١٠) ” انہوں نے جواب دیا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں ان ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے “۔ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ یہ تو انسانوں کے لئے اعزاز تھا لیکن یہ وہ نہ صرف یہ کہ اسے سمجھتے نہیں بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اس میں نہ صرف شک کرتے ہیں ، بلکہ وہ الٹا رسولوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف یہ سازش کی ہے کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دیں جس پر ہمارے باپ دادا چلے آئے ہیں۔ لیکن سوچتے نہیں کہ رسول کیوں نہیں اس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ تمام بت پرست ہمیشہ عقلی جمود میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کے پاس یہی دلیل ہوتی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد یہی کام کرتے رہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آباء کے مذہب کی حیثیت کیا ہے ؟ اگر غورو فکر سے کام لیا جائے تو ان الہٰوں کی حیثیت کیا ہے ؟ بجائے اس کے کہ وہ کوئی عقل و فکر سے کام لیں اور اس جدید معقول دعوت کو قبول کرلیں یہ لوگ الٹا پیغمبروں سے ثبوت مانگتے ہیں۔ فاتونا بسلطن مبین (١٤ : ١٠) ” اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند “ ۔ رسول اپنی بشریت کا انکار نہیں بلکہ اقرار کرتے ہیں بلکہ وہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ انہیں بار رسالت کے اٹھانے کے اہل بنایا ۔ قالت لھم ۔۔۔۔۔ من عبادہ (١٤ : ١١) ” ان کے رسولوں نے ان سے کہا ” واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جو کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کے احسان کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس پوری سورة میں فضا اللہ کے احسانات کی ہے۔ ہر جگہ اللہ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چناچہ یہاں بھی لکھا گیا کہ اللہ کے احسانات ہیں جس پر ہوجائیں۔ یہ احسان صرف رسولوں کی ذات پر ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ پوری بشریت پر احسان ہے کہ اس میں سے بعض افراد کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ دوسروں کی ہدایت اور راہنمائی کا کام کریں۔ یہ ڈیوٹی ہے کیا ؟ یہ کہ عالم بالا سے ان کا رابطہ ہو اور پھر لوگوں تک پیغام پہنچائیں اور پھر پوری انسانیت پر احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کی فطرت کو جگائیں اور اس کے اوپر سے زنگ دور کردیں تا کہ فطرت انسانی میں وہ قوتیں تازہ ہوجائیں جو ہدایت کو قبول کریں اور جمود کی موت سے نکل کر قبولت حق کی زندگی میں داخل ہوں۔ پھر انسانیت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کو مختلف الہٰوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کریں اور ان کی عزت نفس ، اور ان کی قوتوں کو لوگوں کی غلامی میں صرف ہونے سے بچائیں۔ کیونکہ غلامی میں جب ایک انسان اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکتا ہے تو اس کی عزت نفس ختم ہوجاتی ہے۔ انسانی قوت اپنے جیسے انسانوں کو الٰہ بنا کر بکھر جاتی ہے۔ رہی یہ بات کہ رسول کوئی واضح معجزہ پیش کریں یا کسی فوق الفطرت قوت کا مظاہرہ کریں تو تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ معجزات کا صدور تو اللہ کے ہاتھ میں ہے تا کہ عوام الناس کے تاریک ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ذات الٰہی اور ذات بشر میں فرق کیا ہے تا کہ لوگوں کے ذہنوں میں توحید کا ایسا صاف تصور بیٹھ جائے کہ اللہ کی ذات صفات میں کوئی شریک نہ ہو۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر پہنچ کر تمام بت پرستوں نے راستہ گم کردیا اور عیسائیوں نے بھی توحید کا راستہ اس وقت گم کردیا جب انہوں نے اپنے دین کو یونانی ، رومی ، مصری اور ہندی فلسفوں کے ساتھ مکس کرلیا۔ عیسائیوں کی گمراہی کا آغاز ہی اس عقیدے سے ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر خوارق عادت معجزات کا صدور ہوا۔ چناچہ خود عیسائیوں نے بعد میں ان کو الٰہ مان لیا۔ وما کان لنا۔۔۔۔۔۔ المومنون ( ١٤ : ١١) ” اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے “۔ رسولوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ کی قوت کے سوا کسی اور قوت پر کبھی کوئی بھروسہ نہیں کرتے اور یہ ان کا دائمی اصول ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کا بھروسہ صرف اللہ ہی پر ہوتا ہے۔ ایک مومن کا دل صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور وہ اس کے اوپر بھروسہ کرتا ہے۔ رسولوں کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے تمام زیادتیوں کا مقابلہ ایمان سے کرتے ہیں۔ اور ان کی اذیتوں کا مقابلے ثابت قدمی سے کرتے ہیں۔ رسول سو الیہ انداز میں ان جاہلوں سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سابقہ امتوں کا عناد ‘ رسولوں کو تبلیغ سے روکنا اور جاہلانہ سوال جواب کرنا : قریش مکہ کفر و شرک سے باز نہیں آتے تھے جب اس کے سامنے حق بات پیش کی جاتی تھی تو الٹے الٹے جواب دیتے تھے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ تم سے پہلے جو قومیں گزری ہیں مثلاً نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد جو بہت سی اقوام آئیں جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کیا ان کے احوال تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ کچھ اجمالاً اور کچھ تفصیلاً ان لوگوں کے حالات تمہیں معلوم ہیں قرآن مجید میں بھی ان کے احوال بتائے ہیں اور تم اپنے اسفار میں ہلاک شدہ قوموں کے نشانات دیکھ چکے ہو کچھ نہ کچھ یہود اور نصاریٰ سے بھی سنا ہے ان لوگوں کی بربادی سے تم سبق کیوں نہیں لیتے ان کی وہی حرکتیں تھیں جو تمہاری حرکتیں ہیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے کہ تم جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اور جو کچھ ہمیں دعوت دیتے ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ہم اسے نہیں مانتے ہمیں تمہاری باتوں میں شک ہے اور شک بھی معمولی نہیں ہے اس نے ہمارے دلوں کو تردد میں ڈال دیا ہے ‘ ان لوگوں نے صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جب انہیں حق کی دعوت دیتے تھے تو ان کے مونہوں میں اپنے ہاتھ دے دیتے تھے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی پہلی دعوت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مانو اس کی توحید کا اقرار کرو اسے خالق اور مالک جانو اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو جب یہ دعوت ان حضرات نے اپنی اپنی اقوام کے سامنے رکھی تو ان لوگوں نے جھٹلا دیا اس پر ان حضرات نے فرمایا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں کا اور زمینوں کا پیدا فرمانے والا ہے اس کی اتنی بڑی نشانیاں آسمان و زمین تمہارے سامنے ہیں اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اس پر ایمان لاؤ اور اس کی عبادت کرو ہم اس کے پیغمبر ہیں دعوت دینے والا وہی ہے تم اس کی دعوت قبول کرو ایسا کرو گے تو وہ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور مقررہ وقت تک (جو اس کے علم میں ہے) تمہیں ڈھیل دے گا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی یہ باتیں سن کر ان کی قومیں جب دلیل سے لا جواب ہوگئیں اور اللہ تعالیٰ کی خالقیت و مالکیت کا انکار نہ ہوسکا تو کٹ حجتی پر اتر آئیں اور کہنے لگیں کہ ہم کیسے مان لیں کہ تم اللہ کے رسول ہو تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو تم نے جو معبود بنا رکھا ہے اس میں ہم اپنے باپ دادوں کی اقتدا کرتے ہیں اور ان کی راہ پر چلتے ہیں اور اپنے خیال میں ہم ان کے طریقہ کو صحیح سمجھتے ہیں اب تم ہمیں باپ دادوں کے راستے سے روکنا چاہتے ہو لہٰذا کوئی واضح کھلی ہوئی دلیل یعنی معجزہ دکھاؤ تاکہ ہم اسے دیکھ کر تمہاری بات مان لیں اور اپنے باپ دادوں کا طریقہ چھوڑ دیں، ان کے جواب میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بلاشبہ ہم تمہارے ہی جیسے انسان ہیں لیکن انسان ہونا نبی ہونے کے منافی نہیں ہے اللہ تعالیٰ شانہ جسے چاہے نبوت سے سرفراز فرما دیتا ہے اور اپنے اس احسان کے لیے منتخب فرما لیتا ہے وہ انسان ہی میں سے نبی بھیجتا ہے لہٰذا انسان ہوتے ہوئے ہم نبی ہوئے اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں جہاں تک دلیل کا تعلق ہے وہ تو ہم نے پیش کردی ہے لیکن اب جو تم یہ کہتے ہو کہ تمہیں ایسا خاص معجزہ دکھایا جائے جو تمہاری فرمائش کے مطابق ہو تو یہ ہمارے بس میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہم کوئی معجزہ تمہارے سامنے نہیں لاسکتے ہم اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں اور مومن بندوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی اور زندگی کے جو طریقے اسے محبوب ہیں وہ ہمیں بتائے جب اس نے ہم پر یہ کرم فرمایا تو ہم اس پر بھروسہ کیوں نہ کریں ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمیں تکلیفیں دے رہے ہو اور آئندہ بھی تمہاری طرف سے تکلیفیں پہنچ سکتی ہیں، ہمیں ان تکلیفوں پر صبر ہی کرنا ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں جس پر بھروسہ کیا جائے (معلوم ہوا کہ دعوت حق کا کام کرنے والوں کو مخاطبین سے تکلیفیں پہنچیں تو صبر سے کام لیں اور اللہ پر بھروسہ کرکے کام کرتے رہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ یہ واقعہ اولیٰ ہے جو تخویف دنیوی پر مشتمل ہے یہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کے واقعات ہیں۔ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے مگر ان قوموں نے ان کا انکار کیا، پیغام توحید کو ٹھکرایا پیغمبروں پر بےجا اعتراضات کیے اور انہیں مختلف قسم کے طعنوں سے مطعون کیا۔ آخر یہ قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئیں۔ اقوام ماضیہ کے واقعات بیان کرنے سے مقصد موجودہ مشرکین کو عبرت دلانا ہے تاکہ وہ مومن و کافر کے دنیوی اناجم سے عبرت حاصل کر کے راہ راست پر آجائیں۔ ” و المقصود منہ انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) یذکرھم بامر القرون الماضیۃ والامم الخالیۃ والمقصود منہ حصول العبرۃ باحوال من تقدم وھلاکھم “ (خازن ج 4 ص 34) 9:۔ ” رَدُّوْا “ کی ضمیر مرفوع اور اس کے بعد دونوں مجرور ضمیریں کفار کی طرف عائد ہیں یعنی جب رسل (علیہم السلام) نے واضح دلائل وبراہین کے ساتھ مسئلہ توحید ان کے سامنے پیش کیا تو یہ مسئلہ چونکہ ان کے آبائی دین کے خلاف تھا اس لیے ان کی طبائع نے اسے قبول نہ کیا اور وہ غصے سے آگ بگولا ہوگئے اور شدت غیظ سے اپنی انگلیاں کاٹنے لگے۔ یہ حضرت ابن مسعود سے منقول ہے۔ ” عن ابی الاحوص عن عبداللہ فی قولہ تعالیٰ فَرَدُّوْا اَیْدِیَھُمْ فِیْ اَفْوَاھِھِمْ قال عضو علیھا غیظا “ (قرطبی ج 9 ص 345) ۔ یا رَدُّوْا کا فاعل کفار ہیں اور اَیْدِیَھُمْ کی ضمیر مجرور بھی کفار کے لیے ہے لیکن اَفْوَاھِھِمْ کی ضمیر مجرور رسل کے لیے ہے یعنی کفار اپنے ہاتھ رسل (علیہم السلام) کے مونہوں پر رکھ دیتے تاکہ وہ توحید بیان نہ کریں۔ ” انہم وضعوا ایدیھم علی افواہ الرسل (علیہ السلام) منعا لھم من الکلام “ (روح ج 13 ص 193) ۔ 10:۔ مَا سے مسئلہ توحید مراد ہے یعنی جس مسئلہ توحید کے لیے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ اس کی تبلیغ کے لیے اللہ نے تمہیں بھیجا ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ ” مِمَّا تَدْعُوْنَنَا “ یہاں بھی مَا سے مسئلہ توحید مراد ہے ” من الایمان باللہ والتوحید “ (مدارک ج 2 ص 197) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

9 ۔ اے مکہ کے منکرو ! کیا تم کو ان لوگوں کے واقعات جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں نہیں پہنچے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد جو حضرت صالح کی قوم تھی اور وہ لوگ جو ان لوگوں کے بعد ہوئے جن کی تفصیل اور مفصل حالت سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ان گزشتہ لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے مگر انہوں نے بجائے سننے اور ماننے کے اپنے ہاتھ ان کے منہ میں دے دیئے اور ان کو بولنے نہ دیا اور کہنے لگے جو احکام تم دیکر بھیجے گئے ہو ہم ان کے منکر ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے اور ہم ان باتوں کے متعلق ایک بڑے تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔ گزشتہ لوگوں میں چند کے نام لئے جن کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور ان کے بعد کے لوگوں کو فرمایا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ان کے مفصل حالات کوئی نہیں جانتا کیوں کہ ان کے حالات مفصلا ً منضبط نہیں ہوئے۔ تم کو خبریں ی نہیں پہنچیں یعنی اجما لا ً بھی کیا تم کو ان کے حالات معلوم نہیں ہوئے ان کے واقعات کو بتایا کہ ان قوموں میں بھی انبیاء (علیہم السلام) ایمان و توحید کی دعوت لے کر پہنچے مگر وہ نہایت ہی گستاخ ثابت ہوئے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ تم جو چیز لیکر بھیجے گئے ہو ہم اس سے انکار کرتے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ پیغمبروں کو بولنے نہیں دیا اپنے ہاتھ ان کے منہ میں گھسا دیئے یا ان کے ہی ہاتھ پکڑ کر ان کے منہ میں ٹھونس دیئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تعجب سے نئی بات سن کر اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لئے یا غصے میں اپنے ہاتھ کاٹ لئے یا یہ کہ منہ پر ہاتھ اپنے ہی رکھا اور اشارہ کیا کہ چپ رہو اور جس توحید اور ایمان کی تو ہم کو دعوت دیتے ہو ہم اس سے ایک ایسے شک میں مبتلا ہیں جس نے ہم کو خلجان اور تردد میں ڈال رکھا ہے۔ فردوا ایدیھم میں بڑی گنجائش ہے اس لئے ہم نے مفسرین کے تقریبا ً سب اقوال کی طرف اشارہ کردیا ہے ۔ بعض حضرات نے ایدی سے نعمتیں مراد لی ہیں کہ توحید و ایمان کی جو نعمت انہوں نے پیش کی انہوں نے اس نعمت سے انکار کردیا اور انہی پیغمبروں کے منہ پر اس نعمت کو واپس کردیا ۔