Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 25

سورة الحجر

وَ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَحۡشُرُہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۵﴾٪  2

And indeed, your Lord will gather them; indeed, He is Wise and Knowing.

آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وہ بڑی حکمتوں والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And verily your Lord will gather them together. Truly, He is Most Wise, (and) Knowing)." Awn bin Abdullah said, "May Allah help you and reward you with good."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦ ١] کافر یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں گے یا ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم دوبارہ کیسے پیدا کیے جائیں گے۔ یہ اعتراض کرنے والے لوگ نہ تو اللہ کی صفت حکمت کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے لامحدود علم کی وسعت کی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب سے کو دوبارہ پیدا کرے پھر انھیں ان کے اچھے یا برے اعمال کی جزا و سزا دے اور اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ ان کی خاک کے منتشر شدہ ذرات تک کو جانتا ہے اور انھیں اکٹھا کرکے انھیں دوبارہ زندگی بخش کر اپنے پاس حاضر کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ ۔۔ : کفار دوبارہ زندہ ہونے کے منکر تھے، توحید کے دلائل کے بعد نہایت تاکید کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا، کیونکہ یہ اللہ کے حکیم وعلیم ہونے کا لازمی نتیجہ ہے اور اس کے بغیر بندہ نہ مومن ہوتا ہے، نہ باز پرس کے یقین کے بغیر کوئی نیکی ہوسکتی ہے اور نہ گناہ سے بچا جاسکتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ ۭ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 25؀ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا بخشنے والا پروردگار ،۔ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥) بیشک آپ کا پروردگار تمام اولین وآخرین کو قیامت کے دن جمع فرمالے گا وہ اس فیصلہ میں حکمت والا ہے اور ان کے حشر اور ثواب و عتاب کو جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16. “He is All-Wise”, therefore His Wisdom demands that He should gather the entire mankind and reward or punish each individual in accordance with his deeds. And “He is All-Knowing”, therefore no individual, whosoever he may be, can escape from Him. As each and every particle of each and every individual is in His knowledge, He is able to bring entire mankind to life in the Hereafter. Thus anyone who denies life in the Hereafter is really ignorant of the Wisdom of Allah; and anyone who considers it impossible that those particles of the human body, which were all scattered about, could again be brought together in the form of the body that was alive, is ignorant of the All Comprehensive knowledge and power of Allah.

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :16 یعنی اس کی حکمت سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ سب کو اکٹھا کرے اور اس کا علم سب پر اس طرح حاوی ہے کہ کوئی متنفس اس سے چھوٹ نہیں سکتا ، بلکہ کسی اگلے پچھلے انسان کی خاک کا کوئی ذرہ بھی اس سے گم نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے جو شخص حیات اخروی کو مستبعد سمجھتا ہے وہ خدا کی صفت حکمت سے بے خبر ہے ، اور جو شخص حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ جب مرنے کے بعد ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم کیسے دوبارہ پیدا کیے جائیں گے ، وہ خدا کی صفت علم کو نہیں جانتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٥۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ پاک نے ہر ایک شئی کو پیدا کیا ہے اور پھر وہی ہر شی کو ناپید بھی کرے گا اور جو لوگ مرچکے ہیں ان کو بھی وہ جانتا ہے اور جو لوگ موجود ہیں یا پیدا ہونے والے ہیں ان کی بھی اس کو خبر ہے۔ اس کے جتلانے کے بعد اب یہ فرمایا کہ اس نے اپنی حکمت اور علم کے موافق حشر کا دن قرار دیا ہے وہ لوگوں کو اس روز اکٹھا کرے گا اور نیک عمل کرنے والوں کو نیک جزا دے گا اور برے عمل کرنے والوں کو برائی کی سزا دے گا وہ بڑا حکمت والا ہے سب کام اس کی حکمت سے ہوا کرتے ہیں اس کا علم ایسا ہے کہ کوئی شئی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سورت القلم میں آوے گا۔ { افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون } [٦٨: ٣٥] جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کی آنکھوں کے سامنے دنیا کے حاکموں نے قصور دار لوگوں کو سزا دینے اور بےقصور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا قانون ٹھہرا رکھا ہے پھر یہ منکرین حشر اللہ تعالیٰ کی شان میں یہ ظلم اور ناانصافی کیوں کر جائز رکھتے ہیں کہ وہ اپنے نافرمان لوگوں کو اور فرمانبرداروں کو یکساں کر دیوے گا یہ ان منکرین حشر کی نادانی ہے جو یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے انصاف کو دنیا کے حاکموں کے انصاف سے بھی گھٹانا چاہتے ہیں ورنہ حشر کے دن جو کچھ ہونے والا ہے ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے دنیا کے حاکم وہی ہر روز کر رہے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورت القلم کی آیت اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی وہ حدیث قدسی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظلم میں نے اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق حشر کا دن جو قرار دیا ہے وہ عین انصاف اور دنیا کے انصاف پسند حاکموں کا بھی یہی شوہ ہے اور جو لوگ حشر کے منکر ہیں وہ بڑے ناداں ہیں کہ اللہ کی شان میں ظلم اور ناانصافی کو جائز رکھتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:25) یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو اکٹھا کرے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ) (اور بلاشبہ آپ کا رب ان سب کو جمع فرمائے گا بیشک وہ حکیم وعلیم ہے) تمام اولین و آخرین اپنے اپنے اعمال لے کر میدان حشر میں حاضر ہوں گے اللہ تعالیٰ کا یہ علم سب کو محیط ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص دوبارہ زندہ ہونے سے رہ جائے یا بچ کر نکل جائے، حشر میں جو دیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے اور جب حشر ہوگا اس وقت سب اس کے علم میں ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

25 ۔ اور یقینا آپ کا پروردگار ہی ان سب کو قیامت میں اکٹھا کرلے گا اور سب کو جمع کرلے گا بیشک آپ کا پروردگار کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی جو سب اگلوں پچھلوں سے واقف ہے وہی ان سب کو میدان حشر میں جمع کرلے گا۔