Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 35

سورة الحجر

وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ اللَّعۡنَۃَ اِلٰی یَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۳۵﴾

And indeed, upon you is the curse until the Day of Recompense."

اورتجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت کے دن تک ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس آیت سے آیت (٣٩) تک کی مفصل تفسیر کے لیے سورة اعراف ( ١١ تا ١٨) اور سورة بقرہ ( ٣٠ تا ٣٤) تک کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔ وَّاِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ : اس کا ترجمہ ” خاص لعنت “ الف لام کی و جہ سے کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت سورة ص (٧٨) میں آئی ہے، فرمایا : (وَّاِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِی) یعنی تجھ پر میری لعنت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ 35؀ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥۔ ٣٦۔ ٣٧۔ ٣٨) اور قیامت تک تجھ پر میری اور تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت رہے گی، ابلیس نے کہا تو پھر قیامت تک مجھ کو مہلت دیجیے، اس مردود نے چاہا کہ موت کا مزہ بھی نہ چکھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، جا تجھ کو ایک وقت تک مہلت دی گئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

21. That is, you shall remain accursed up to the Resurrection. Then you shall be punished for your disobedience on the Day of Judgment.

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :21 یعنی قیامت تک تو ملعون رہے گا ، ا سکے بعد جب روز جزا قائم ہوگا تو پھر تجھے تیری نافرمانیوں کی سزا دی جائے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی قیامت تک تو میری رحمت سے بعید رہے گا مقبول و مرحوم و موفق للتوبة نہ ہوگا، اور ظاہر ہے کہ قیامت تک جو محل رحمت نہ ہوگا، پھر قیامت میں تو مرحوم ہونے کا احتمال ہی نہیں، پس جس وقت تک احتمال تھا اسی کی نفی کردی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 ۔ اور بیشک تجھ پر انصاف کے دن تک یعنی قیامت کے دن لعنت و پھٹکار ہے۔ یعنی جس پر قیامت کے دن تک لعنت رہے قیامت کے دن اس کو کسی خیر کی کیا امید ہو کستی ہے نہ مقبول ہوگا نہ توبہ کی توفیق ہوگی۔