Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 36

سورة الحجر

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۳۶﴾

He said,"My Lord, then reprieve me until the Day they are resurrected."

کہنے لگا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوبارہ اٹھا کھڑے کیئے جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِيْٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ 36؀ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا بخشنے والا پروردگار ،۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:36) فانظرنی۔ فا محذوف پر دلالت کرتا ہے۔ تقدیر کلاں یوں ہے۔ اذا جعلتنی رجیما ملعونا الی یوم الدین فانظرنی۔ جب تو نے مجھے روز قیامت تک مردود و ملعون قرار دے ہی دیا ہے تو مجھے مہلت دے دے (یعنی مجھے زندہ رہنے دے) الظرنی۔ امر واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تو مجھ کو مہلت دے۔ انظار (افعال) مصدر۔ یبعثون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر غائب بعث سے۔ وہ اٹھائے جائیں گے۔ یوم یبعثون وہ دن جب آدم اور اس کی ذریت قبروں سے اٹھائی جائے گی۔ بعث کے معنی بھیجنے کے بھی آتے ہیں۔ مثلاً ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا۔ (16:36) اور ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا۔ یوم الدین۔ یوم تبعثون۔ یوم الوقت المعلوم۔ سب سے مراد یوم قیامت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ یعنی دنیا کے خاتمے تک مہلت دے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ابلیس کی درخواست کہ مجھے مہلت دیں میں ابن آدم کو گمراہ کروں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ ہمیش محروم ہونے کے باوجود ابلیس نے ربِّ کریم کی بارگاہ میں درخواست پیش کی کہ اے میرے رب ! مجھے قیامت تک زندہ رکھ اور مہلت دے کہ میں ابن آدم کو گمراہ کرتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا تجھے اس دن تک مہلت دی جاتی ہے جس کا علم میرے سوا کسی کو نہیں ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ رب کریم کی شفقت و مہربانی کو پیش نظر رکھتے ہوے ابلیس اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا۔ مگر ابلیس معافی کا خواستگار ہونے کے بجائے مزید سر کشی اور گستاخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے آدم کی وجہ سے رسوا کیا ہے۔ اس لیے میں زمین پر جا کر آدم اور اس کی اولاد کو خوش فہمیوں اور فریب کاریوں کے ذریعے گمراہ کروں گا۔ البتہ تیرے مخلص بندے میرے چنگل سے بچ جائیں گے۔ میں ان کو گمراہ نہیں کرسکوں گا۔ یعنی مستقل طور پر شیطان اللہ کے مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ مخلص کا معنی ہے جو اللہ تعالیٰ پر بلا شرکت غیر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کی اخلاص کے ساتھ عبادت کرے اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرے۔ ابلیس کو مہلت دینے کی حکمت یہ ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعَیْدٍ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ الشَّیْطَانَ قَالَ وَعِزَّتِکَ یَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أَغْوِیْ عِبَادَکَ مَا دَامَتْ أَ رْوَاحُہُمْ فِیْ أَجْسَادِہِمْ ، فَقَال الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَعِزَّتِیْ وَجَلاَلِیْ لاَ أَزَالُ أَغْفِرُ لَہُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِیْ )[ رواہ الحاکم فی المستدرک : کتاب التوبۃ والانابۃ ] ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان نے کہا اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم میں ہمیشہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسموں میں روحیں موجود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ! میں ہمیشہ انہیں معاف کرتا رہوں گا جب تک یہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے۔ “ (عَنْ أَنَسٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ مَعَ إِحْدٰی نِسَآءِہٖ فَمَرَّ بِہٖ رَجُلٌ فَدَعَاہُ فَجَآءَ فَقَالَ یَا فُلاَنُ ہٰذِہٖ زَوْجَتِیْ فُلاَنَۃُ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ کُنْتُ أَظُنُّ بِہٖ فَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّ بِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْخَلْوَۃِ بالأَجْنَبِیَّۃِ وَالدُّخُولِ عَلَیْہَا ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی کسی بیوی کے ساتھ کھڑے تھے ایک آدمی آپ کے قریب سے گزرا، آپ نے اسے آواز دے کر کہا اے فلاں یہ میری بیوی ہے۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے بارے میں کس طرح شک کرسکتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یقیناً شیطان انسان کے جسم میں اس طرح گردش کرتا ہے جس طرح خون گرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو قیامت تک کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ ٢۔ شیطان نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ ٣۔ اللہ کے مخلص بندے شیطان کے جال سے محفوظ رہیں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣٦ تا ٣٨ یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ابلیس کا مہلت مانگنا بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے تھا کعب احبار کا بیان ہم نے مختصر کرکے لکھا ہے جس کی حیثیت اسرائیلیات سے زیادہ نہیں ہے البتہ قرآن مجید کی یہ تصریح کہ اسے وقت معلوم تک مہلت دی گئی اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ ابلیس کے سوال پر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت زیادہ عمر دے دی جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ابلیس کا مہلت مانگنا توبہ اور انابت اور طاعت اور عبادت کے لیے نہیں تھا بلکہ شرارت کے لیے اور اولاد آدم سے بدلہ لینے کے لیے تھا جب اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی تو وہ اب کھلے طور پر کہنے لگا کہ اے رب اس وجہ سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے میں اس شخص کی اولاد کو تیرے راستہ سے ہٹاؤں گا اور گمراہ کروں گا اور گمراہ کرنے کے طریقے بھی اس نے بتا دئیے ان میں سے ایک طریقہ یہاں سورة حجر میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ (لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ ) کہ ان لوگوں کے لیے میں ان کاموں کو اچھا کرکے دکھاؤں گا جن سے آپ ناراض ہوں گے (لَاُزَیِّنَنَّ ) کا مفعول محذوف ہے یعنی لازینن لھم المعاصی اور (فِی الْاَرْضِ ) اس لیے کہا کہ یہ نئی مخلوق زمین میں رہنے کے لیے پیدا کی گئی ہے گمراہ کرنے کی بعض صورتیں سورة نساء کی آیت (اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰثًا) میں اور سورة اعراف کی آیت (قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ) میں بیان کی گئی ہے مراجعت کرلی جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

36 ۔ شیطان نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! مجھ کو اس دن کے لئے مہلت دے جس دن مردے قبروں سے اٹھائے جائیں ۔ یعنی قیامت کے دن تک ۔