Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 41

سورة الحجر

قَالَ ہٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسۡتَقِیۡمٌ ﴿۴۱﴾

[ Allah ] said, "This is a path [of return] to Me [that is] straight.

ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ ... (Allah) said, i.e., threatening and warning Iblis. ... هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ This is the way which will lead straight to Me. means, `all of you will return to Me, and I will reward or punish you according to your deeds: if they are good then I will reward you, and if they are bad then I will punish you.' This is like the Ayah: إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ Verily, your Lord is ever watchful. (89:14) وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ And it is up to Allah to show the right way. (16:9)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 یعنی تم سب کو بالآخر میرے پاس ہی لوٹ آنا ہے، جنہوں نے میرا اور میرے رسولوں کا اتباع کیا ہوگا، میں انھیں اچھی جزا دوں گا اور جو شیطان کے پیچھے لگ کر گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ہوگا اسے سخت سزا دوں گا جو جہنم کی صورت میں تیار ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] وہ سیدھا راستہ جو اللہ تک پہنچتا ہے یہ ہے کہ انسان خالصتاً اسی کی عبادت کرے اور اسی پر توکل کرے اور ایمان لانے کے بعد کماحقہ اس کے تقاضوں کو پورا کرے اور اپنے ایمان میں مستقل اور ثابت قدم رہے۔ ایسے لوگ جو اس راہ پر چلتے جائیں کبھی شیطان کے پھندے میں نہیں آسکتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ : یعنی یہی صراط مستقیم اور درست بات ہے جو مجھ پر لازم ہے کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہ کرسکے گا اور جو میرے لیے خالص ہوگا اس کی حفاظت میں خود کروں گا، جیسے بعد میں فرمایا : (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ) [ الحجر : ٤٢ ] اور ایک معنی یہ بھی ہے کہ ” ھَذَا “ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو، یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے اور میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا۔ (روح المعانی) دوسرا معنی واضح ہے۔ (واللہ اعلم)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ 41؀ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] الاستقامۃ ( استفعال ) کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سہدھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان کی استقامت کے معنی سیدھی راہ پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] جس لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا پے پھر وہ اس پر قائم رہے سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١۔ ٤٢) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے یہ یہ کہ جو تیری پیروی کرے اور تیرے ساتھ رہے، اس کو بھی چل کر میرے پاس آنا ہے اور یہ ایک پسندیدہ سیدھا اسلام کا مجھ تک پہنچے کا راستہ ہے، میرے ان مذکورہ مومن بندوں پر تیرا ذرا بھی قابو نہیں چلے گا، البتہ جو کافروں میں سے تیری راہ پر چلنے لگیں

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ) یعنی میرے اور تمہارے درمیان یہ معاملہ طے ہوگیا تمہیں مہلت دے دی گئی۔ مجھ تک پہنچنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ تم اولاد آدم کو اس راستے سے بہکانے کے لیے اپنا زور آزما لو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23. This (verse 41) may have another meaning: This is the right thing: I also will stick to this.

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :23 ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک معنی وہ ہیں جو ہم نے ترجمہ میں بیان کیے ہیں اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ ھٰذَا طَرِیْقٌ حَقٌّ عَلَیَّ اَنْ اُرَاعِیْہ ، یعنی یہ بات درست ہے ، میں بھی اس کا پابند رہوں گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: اللہ تعالیٰ نے اسی وقت واضح فرمادیا کہ جو لوگ اخلاص اور بندگی کا راستہ اختیار کریں گے وہ سیدھا مجھ تک پہنچے گا اور ایسے لوگوں پر شیطان کے بہکاوے کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤١۔ ٤٤۔ جب شیطان نے قیامت تک مہلت چاہی اور اس کو مہلت مل گئی اور اس نے بنی آدم کے بہکانے کا اور راہ حق سے پھیرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور یہ کہا کہ تیرے خالص بندوں کو نہیں بہکا سکتا ہوں تو اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ یہی نیت کا خالص ہونا ہی تو سیدھا رستہ ہے جو مجھ تک ان لوگوں کو پہنچائے گا اور جو میرے چنے ہوئے بندے ہیں ان پر تیرا ایسا زور نہیں چلتا جو وہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم کے ہیں جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے اور اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ بعض مفسروں نے ان ساتوں طبقوں کے یہ نام بتلائے ہیں اول کا نام جہنم دوسرے کا نام لظی۔ تیسرے کا نام حطمہ چوتھے کا نام سعید پانچویں کا نام سقر چھٹے کا نام جحیم ساتویں کا نام ہاویہ ہے ہر طبقہ میں ایک سے بڑھ کر ایک میں سخت عذاب کا ٹھکانا ہے۔ صحیح مسلم میں سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دوزخ کی آگ کسی کے ٹخنوں تک ہوگی اور کسی کی کمر تک اور کسی کے گلے تک ١ ؎۔ آخری آیت اور اس حدیث کے ملا نے سے ہر ایک فرقے کے عمل کے موافق دوزخ کے عذاب کی تقسیم اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے معتبر سند سے ترمذی نسائی مستدرک حاکم میں حارث بن اشعری (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یاد الٰہی میں لگا رہتا ہے شیطان کا کچھ قابو اس پر نہیں چل سکتا۔ ٢ ؎۔ مسند امام احمد صحیح بخاری مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص میری یاد کرتا رہے میں بھی اس کو اپنی رحمت کی یاد رکھتا ہوں ٣ ؎۔ ان حدیثوں کو اور صحیح حدیثوں کو { ان عبادی لیس لک علیھم سلطان } کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تلاوت قرآن نفل نماز یا اور کلمہ کلام شرعی سے جو شخص اکثر خدا کی یاد میں لگا رہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی یاد میں رہتا ہے اس لئے شیطان کو ایسے شخص پر قابو پانے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٠٢ باب صفۃ النرد اھلہا۔ ٢ ؎ الترغیب ص ٢٧١ ج ١ الترغیب فی الاکثار من ذکر اللہ الخ۔ ٣ ؎ الترغیب ص ٢٧٠ ج ١١ الترغیب فی الاکثار من ذکر اللہ الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:41) ھذا۔ اس کا مشار الیہ اخلاص ہے۔ صراط علی مستقیم۔ صراط مستقیم موصوف صفت۔ علی بمعنی الی۔ ھذا (الاخلاص) صراط علی (ای طریق فی الوصول الی من غیر ضلال، مستقیم لا عوج فیہ اصلا (مظہری۔ یہی اخلاص (ریاء تکلف اور تصنع سے کلیۃً اجتناب) میری طرف پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے۔ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ (بحوالہ ضیاء القرآن) تفسیر خازن میں ہے۔ قال الحسن معناہ ھذا صراط الی مستقیم یعنی میری طرف آنے کا سیدھا راستہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ یعنی یہی کہ میرے مخلص بندوں کو تو گمراہ نہ کرسکے گا درست بات ہے جیسے بعد میں فرمایا : ان عبادی لیس لک علیھم سلطان۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھذا سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے۔ (کذافی الروح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس کے جواب میں رب ذوالجلال کا فرمان۔ اخلاص ہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گامزن رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور اسی راستے پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی منشا اور رضا کو پاسکتا ہے۔ جو لوگ اس راستے کو اپنائیں گے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرے بندے ہیں۔ اے ابلیس ! ان پر تیرا کبھی غلبہ نہ ہو پائے گا۔ ہاں ! تیرا غلبہ ان لوگوں پر ہوگا جو صراط مستقیم سے بھٹک کر تیری اطاعت کریں گے۔ ان سب کے لیے میرا وعدہ ہے کہ میں ضرور انہیں جہنم میں داخل کروں گا۔ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے میں مقررہ تقسیم کے مطابق مجرموں کو داخل کیا جائے گا۔ اہل علم نے مقررہ تقسیم سے یہ مراد لی ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف جرائم اور ان کی سنگینی کے مطابق مجرموں کو جہنم کے مختلف طبقات میں داخل کرے گا۔ (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ )[ الانعام : ١٥٣] ” یہی میرا راستہ ہے اس کی پیروی کرو، متفرق راستوں کو مت اپناؤ اس بات کی تمہیں وصیت کی جاتی ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ “ جنت اور جہنم کے دروازے : (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ (رض) قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَمِینِہِ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَسَارِہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ فِی الْخَطِّ الأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللَّہِ ثُمَّ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ (وَأَنَّ ہَذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ ) ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب اتِّبَاعِ سُنَّۃِ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے آپ نے ایک سیدھا خط کھینچا اور اس کی دائیں جانب دو خط اور بائیں دو خط کھینچے پھر اپنے ہاتھ کو درمیانے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی (بےشک یہی میرا سیدھا راستہ ہے اس کو اپنالو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو وگرنہ تم سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے۔ ) “ صراط مستقیم کے سنگ میل : ١۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ٢۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔ ٣۔ اولاد کو غربت کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے۔ ٤۔ ظاہری اور باطنی فحاشی کے قریب نہ جائیں۔ ٥۔ کسی کو ناحق قتل نہ کریں۔ ٦۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جائیں۔ ٧۔ ماپ تول کو پورا کریں۔ ٨۔ عد ل و انصاف کی گواہی دیں۔ ٩۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کریں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا۔ ٢۔ شیطان کے پیرو کار جہنم میں جائیں گے۔ ٣۔ جہنم کے سات دروازے ہیں۔ ٤۔ ہر دروازہ کے لیے مجرموں کا مقرر حصہ ہے۔ تفسیر بالقرآن صراط مستقیم کے نشانات : ١۔ اللہ نے فرمایا ہے سیدھا راستہ مجھ تک پہنچتا ہے۔ (الحجر : ٤١) ٢۔ اللہ کی عبادت کرنے والا صراط مستقیم پر ہے۔ (یٰس : ٦١) ٣۔ اللہ کی خالص عبادت کرنا صراط مستقیم پر گامزن ہونا ہے۔ (آل عمران : ٥١) ٤۔ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے اس میں شک نہیں کرنا چاہیے یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : ٦٨) ٥۔ یقیناً اللہ میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤١ تا ٤٢ یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ بھی استثناء منقطع ہے کیونکہ اللہ کے صالح بندے گمراہوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ شیطان تو صرف ان لوگوں کو شکار کرتا ہے جو بھٹک چکے ہوں جیسا کہ بھیڑیا بھٹکی ہوئی بکری کو بسہولت شکار کرلیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے نفوس خالص ہیں اور اللہ کے لئے خالص ہوچکے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ ضائع ہونے نہیں دیتا۔ اس کی رحمتیں وسیع ہوتی ہیں۔ اگر وہ ایک لمحہ کے لئے پیچھے بھی رہ جائیں تو بھی وہ راہ پالیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو گمراہ ہوچکے ہیں تو ان کا انجام آغاز کائنات ہی سے معلوم ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے) جو اس راہ پر چلے گا وہ مجھ تک پہنچے گا یعنی اس راہ پر چلنے والے کو میری رضا حاصل ہوگی، ھٰذَا کا اشارہ مومن بندوں کے منتخب ہونے اور شیطان کے بہکانے سے بچ جانے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اختیار کرنے کی طرف ہے جو (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) سے مفہوم ہو رہا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” ھٰذَا “ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہے جو المخلصین بصیہ اسم فاعل کے ضمن میں مذکور ہے یعنی عبادت اور عمل میں اخلاص اور شرک و ریاکاری سے تبری ہی وہ سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچا سکتی ہے اور جو ابلیس اور اس کی ذریت کے اغواء واضلال سے میرے بندوں کو حفظ و اماں میں رکھ سکتی ہے۔ اس صورت میں علی بمعنی الی ہوگا وقال الحسن معنی علی الی (بحر ج 5 ص 454) قال الحسن معناہ ھذا صراط الی مستقیم (خازن ج 4 ص 67) والمعنی ان الاخلاص طریق ویؤدی الی کر امتی و رضوانی (ایضا) ۔ ہذا سے مضمون مذکور کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ میرا دستور ہے جس کی میں رعایت کروں گا کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکے گا اور تجھے ان پر گلبہ نصیب نہیں ہوگا۔ یہ معنی پہلی قراءت یعنی المخلصین بصیگہ اسم مفعول کی صورت میں ہوں گے۔ والاشارۃ الی ما تضمنہ الاستثناء وھو تخلیص المخلصین من اغوائہ (ابو السعود ج 5 س 401) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

41 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ اخلاص اور مخلصانہ عبادت مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے۔ یعنی کسی کا منتخب ہوجانا اور خلوص کے ساتھ بندگی کرنا یہ ہی سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندگی اللہ کی سیدھی راہ ہے اور اس پر شیطان قابو نہیں رکھتا۔ 12