Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 63

سورة الحجر

قَالُوۡا بَلۡ جِئۡنٰکَ بِمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَمۡتَرُوۡنَ ﴿۶۳﴾

They said, "But we have come to you with that about which they were disputing,

ا نہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He said: "Verily, you are people unknown to me." They said: "Nay, we have come to you with that (torment) which they have been doubting." meaning that they were bringing the punishment and destruction that the people doubted they would ever suffer from.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

63۔ 1 یعنی عذاب الٰہی، جس میں تیری قوم کو شک ہے کہ وہ آ بھی سکتا ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ ۔۔ : ” اِمْتِرَاءٌ“ سے مضارع معلوم ہے، ایسا شک جو انسان کو ایسی بات پر جھگڑنے کے لیے آمادہ کرے جس کی حقیقت کچھ نہ ہو، بلکہ وہ صرف وہم و گمان پر مبنی ہو۔ (طنطاوی) اس لیے اس میں جھگڑے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو تسلی دینے کے لیے یہ بات کہی کہ ہم تمہیں پریشان کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے اور جھگڑتے رہے ہیں اور واقعی ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ” بِالْحَقِّ “ سے مراد عذاب ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ ) [ الحجر : ٨ ] ” ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (یعنی عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ 63؀ مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] ( م ر ی) المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد ہوتا ہے ۔ کے ہیں اور یہ شک سے خاص قرآن میں ہے : وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے۔ الامتراء والمماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنا کے ہیں ۔ جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٣۔ ٦٤) ہم تم اور تمہارے سلام کو نہیں پہنچانتے (پریشان ہوئے کہ قوم ان کے ساتھ کیا کرے کیوں کہ یہ صورت آدمی تھے) اس لیے فرمایا کہ تم اجنبی معلوم ہوتے ہو، فرشتے بولے ہم آپ کے پاس عذاب لے کر آئے ہیں، جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے اور ہم آپ کے پاس عذاب کی خبر لائے ہیں، اور ہم اپنی اس بات میں بالکل سچے ہیں کہ عذاب ان پر نازل ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٣ (قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ ) حضرت لوط جب اپنی قوم کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ شرک سے اور اس فعل خبیث سے باز نہیں آؤ گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا ‘ تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے تھے ‘ کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان پر واقعی عذاب آجائے گا۔ فرشتوں نے کہا کہ آج ہم وہی عذاب لے کر آگئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٣۔ ٦٤۔ اب یہاں سے لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا فرشتے خدا کے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر یک بیک لوط (علیہ السلام) کے یہاں پہنچے وہ ان کو خوبصورت نو عمر لڑکے دیکھ کر ڈرے کہ یہ لوگ کسی اور شہر کے رہنے والے ہیں یہاں جو اس طرح آگئے ہیں بڑی قباحت کی بات ہے میری قوم کو لڑکوں سے بد فعلی کرنے کی عادت ہے جس وقت ان لوگوں کو ان نو عمر لڑکوں کے آنے کی خبر معلوم ہوگی تو فوراً یہاں آجائیں گے اور مجھ سے سخت جھگڑا ہوگا دیکھئے کیوں کر ان سے پیچھا چھوٹتا ہے اسی خیال سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان آنے والوں سے کہا کہ تم کون لوگ ہو ہم تمہیں نہیں پہچانتے ان فرشتوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں آپ کچھ خوف نہ کریں ہم اس قوت کی سرکوبی کے لئے آئے ہیں اب ان لوگوں کو عذاب کے آنے کا پورا یقین ہوجائے گا اور ہم جو کچھ کہتے ہیں اس میں ذرا بھر فرق نہیں ہے۔ ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ ہلاک ہوں گے۔ سورت اعراف میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی قوم کے لوگ حضرت لوط کو بستی سے نکال دینے کی دھمکی دیا کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ دینے کا حکم دیا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کو جس بستی سے نکال دینے کی دھ کی دیتے تھے اس بستی کا نام بھی دنیا میں باقی نہ رہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث گزر چکی ١ ؎ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے اس طرح کے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو ان کو بالکل غارت کردیتا ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک مہلت کا زمانہ رہا قوم لوط (علیہ السلام) کے لوگ طرح طرح سے جھگڑتے اور اللہ کے رسول کو بستی سے نکال دینے کی دھمکی دیتے رہے جب عذاب کا وقت آگیا تو خود ہی بستی سے ایسے نکلے کہ سیدھے جہنم کو گئے اور بستی بھی اوندھی ہوگئی۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٢٠٥، ٢١٥، ٢٢٤، ٢٣٥۔ ٢٧٦۔ ٢٨٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:63) بل۔ بلکہ۔ بل یہ لفظ اضراب کے لئے آتا ہے یعنی پہلی بات کی تکذیب اور اگلی بات کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ قالوا بل ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں (یعنی ہم اجنبی نہیں یا کسی شر سے نہیں آئے) بلکہ۔۔ یمترون۔ مضارع جمع مذکر غائب امتراء (افتعال) وہ شک کرتے ہیں وہ متردّد ہیں۔ مری مادہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی عذاب۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

63 ۔ ان فرستادوں نے کہا یہ بات نہیں بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ عذاب لیکر آتے ہیں جس عذاب میں یہ آپ کی قوم کے لوگ شک کیا کرتے تھے اور آپ سے جھگڑا کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم اوپر آدمی نہیں فرشتے ہیں قوم پر عذاب لائے ہیں ۔ 12