Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 66

سورة الحجر

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ ہٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۶۶﴾

And We conveyed to him [the decree] of that matter: that those [sinners] would be eliminated by early morning.

اورہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہو تے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الاَمْرَ ... And We made this decree known to him, meaning - We already told him about that. ... أَنَّ دَابِرَ هَوُلاء مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ that those (sinners) would be rooted out in the early morning. meaning in the morning, as in another Ayah: إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ Indeed, morning is their appointed time. Is not the morning near! (11:81)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

66۔ 1 یعنی لوط (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعے سے اس فیصلے سے آگاہ کردیا کہ صبح ہونے تک ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی، یا دابِرَ سے مراد وہ آخری آدمی ہے جو باقی رہ جائے گا، فرمایا، وہ بھی صبح ہونے تک ہلاک کردیا جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ ۔۔ : ” قَضَيْنَآ “ کی و جہ سے ” دَابِرَ “ کا معنی ” ہم نے وحی کی “ کیا جاتا ہے۔ ” دَابِرَ “ سب سے پیچھے رہ جانے والا، کسی چیز کا وہ حصہ جو سب کے بعد بچ گیا ہو۔ کسی درخت کو اکھاڑتے وقت آخری چیز جڑ ہوتی ہے، اسے بھی ” دَابِر “ کہہ لیتے ہیں۔ یعنی یہ سب لوگ ہلاک کردیے جائیں گے، ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا۔ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ : ” أَصْبَحَ “ کا معنی ہے ” دَخَلَ فِي الصُّبْحِ “ کہ وہ صبح کے وقت آیا۔ قوم لوط کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جیسا کہ سورة ہود میں ہے : ( اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ ) [ ہود : ٨١ ] ” بیشک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ 66؀ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ( ص ب ح) الصبح والصباح دن کا ابتدائی حصہ جبکہ افق طلوع آفتاب کی وجہ سے سرخ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] کیا صبح کچھ دور ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٦ (وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ ) وہاں سے نکلنے سے پہلے حضرت لوط کو بتادیا گیا کہ اس پوری قوم کو تہس نہس کردیا جائے گا اور یہاں کوئی ایک متنفس بھی نہیں بچے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:66) قضینا۔ ماضی جمع متکلم قضاء مصدر۔ ہم نے بذریعہ وحی (اس کو) آگاہ کردیا۔ ذلک الامر۔ اس امر سے۔ ہم نے یہ فیصلہ اس کو بھیج دیا۔ القضاء کے معنی قولاً یا فعلاً کسی کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں۔ قضی الی۔ قطعی طور پر اطلاع دینا۔ دابر۔ جڑ۔ بیخ۔ بنیا۔ پچھاڑی۔ پیچھا۔ دبور سے جس کے معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اس فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ مصبحین اسم فاعل۔ صبح کرنے والے۔ صبح کرتے کرتے۔ صبح ہوتے ہی۔ ھؤلاء سے حال ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 سب بلاک کردیئے جائیں گے۔ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچے گا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

11۔ یہ فرشتوں کی گفتگو جو اوپر مذکور ہوئی وقوع میں موخر ہے اہتمام مقصود کے لئے کہ انجاء و اہلاک کی خبر دینا ہے ذکر میں مقدم فرمادیا، اور آگے جو حصہ آتا ہے وہ وقوع میں مقدم ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

66 ۔ اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کے پاس ان فرشتوں کے ذریعہ یہ حکم بھیجا کہ صبح ہوئے ان سب کی بالکل ہی جڑ کٹ جائے گی ۔ یعنی لوط (علیہ السلام) کو ہم نے اس واقعہ سے با خبر کردیا کہ صبح ہوتے ان سب کی جڑ کاٹ دی جائے گی اور ان کو بالکل ختم کردیا جائے گا ، چناچہ ایسا ہی ہوا۔