Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 68

سورة الحجر

قَالَ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ ضَیۡفِیۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ ﴿ۙ۶۸﴾

[Lot] said, "Indeed, these are my guests, so do not shame me.

۔ ( لوط علیہ السلام نے ) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَاتَّقُوا اللّهَ وَلاَ تُخْزُونِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

68۔ 1 حضرت لوط (علیہ السلام) نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مہمان ہیں انھیں میں کس طرح تمہارے سپرد کرسکتا ہوں، اس میں میری رسوائی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ ضَيْفِيْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ ۔۔ : ” ضَیْفٌ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (٥١) ” فَلَا تَفْضَحُوْنِ “ اور ” لَاتُخْزُوْنِ “ دونوں ” فَلاَ تَفْضَحُوْنِیْ “ اور ” لاَ تُخْزُوْنِیْ “ تھے، آیات کے آخر کی مناسبت کے لیے یاء حذف کرکے نون وقایہ مکسور رکھا گیا، یعنی مہمان پر زیادتی اور اس کی بےعزتی درحقیقت میزبان کی ذلت و رسوائی ہوتی ہے، تو لوط (علیہ السلام) نے دو طریقوں سے انھیں اس فعل بد سے ہٹانے کی کوشش کی، پہلی کوشش ان کی مہمانی کا حق ذکر کرکے اور آخری کوشش ” وَاتَّقُوْاللّٰه “ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے ذریعے سے، مگر بےسود۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ ضَيْفِيْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ 68؀ۙ ضيف والضَّيْفُ : من مال إليك نازلا بك، وصارت الضِّيَافَةُ متعارفة في القری، وأصل الضَّيْفِ مصدرٌ ، ولذلک استوی فيه الواحد والجمع في عامّة کلامهم، وقد يجمع فيقال : أَضْيَافٌ ، وضُيُوفٌ ، وضِيفَانٌ. قال تعالی: ضَيْفِ إِبْراهِيمَ [ الحجر/ 51] ( ض ی ف ) الضیف الضیف ۔ اصل میں اسے کہتے ہیں کو تمہارے پاس ٹھہرنے کے لئے تمہاری طرف مائل ہو مگر عرف مین ضیافت مہمان نوازی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اصل میں چونکہ یہ مصدر ہے اس لئے عام طور پر واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی اس کی جمع اضیاف وضیوف وضیفاف بھی آجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ [ الحجر/ 51] بھلا تمہارے اس ابراھیم کے مہمانوں کی خبر پہنچتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٨۔ ٦٩۔ ٧٠) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ یہ میرے مہمان ہیں، سو مجھ کو ان کے سامنے شرمندہ مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس حرام کام کے ارتکاب سے ڈرو اور ان مہمانوں کی نظر میں مجھ کو رسوا مت کرو وہ بولے اے حضرت لوط (علیہ السلام) کیا ہم آپ کے مسافروں کی صیافت سے بارہا منع نہیں کرچکے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:68) ضیفی۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرے مہمان۔ ضیف اصل میں ضاف یضیف کا مصدر ہے جس کے معنی کسی شخص کے پاس مہمان بن کر آنے کے ہیں۔ پھر مہمان ہی کو یہ نام دیا گیا۔ یہ واحد۔ تثنیہ جمع کے لئے یکساں آتا ہے۔ اگرچہ کبھی اس کی جمع ضیوف اور اضیاف بھی آئی ہے۔ جیسے شعر ہے :۔ یا ضیفنا لو زرتنا لوجدتنا نحن الضیوف وانت رب المنزل لا تفضحون۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر متکلم کی محذوف ہے فضح یفضح (فتح) سے تم مجھے رسوا مت کرو “ میری فضیحت مت کرو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٦٨ تا ٦٩ حضرت لوط (علیہ السلام) کی یہ دلدوز اپیل ، بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں انسانی جذبات کو ابھارے اور یہ کہ وہ شرم محسوس کریں ، اس کے جواب میں انہوں نے مزید دیدہ دلیری شروع کردی۔ انہوں نے خود حضرت لوط (علیہ السلام) کو ڈانٹ پلانا شروع کردی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کو اپنا مہمان بناتے ہیں جو ہمارے کام کے ہیں۔ گویا مجرم وہ نہیں ہیں بلکہ اصل مجرم حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں کہ وہ ان کے سامنے ایک ایسا شکار لاتے ہیں جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ پر کوئی ضبط نہیں کرسکے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

68 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیونکہ ان کے اعمال سے واقف تھے یہ لوگ میرے مہمان ہیں ان کی توہین کر کے میری فضیحت اور بےآبروئی اور میری بد نامی نہ کرو۔ یعنی میرے مہمانوں کی توہین کرو گے تو میں عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گا۔