قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ ضَيْفِيْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ ۔۔ : ” ضَیْفٌ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (٥١) ” فَلَا تَفْضَحُوْنِ “ اور ” لَاتُخْزُوْنِ “ دونوں ” فَلاَ تَفْضَحُوْنِیْ “ اور ” لاَ تُخْزُوْنِیْ “ تھے، آیات کے آخر کی مناسبت کے لیے یاء حذف کرکے نون وقایہ مکسور رکھا گیا، یعنی مہمان پر زیادتی اور اس کی بےعزتی درحقیقت میزبان کی ذلت و رسوائی ہوتی ہے، تو لوط (علیہ السلام) نے دو طریقوں سے انھیں اس فعل بد سے ہٹانے کی کوشش کی، پہلی کوشش ان کی مہمانی کا حق ذکر کرکے اور آخری کوشش ” وَاتَّقُوْاللّٰه “ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے ذریعے سے، مگر بےسود۔