Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 10

سورة النحل

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنۡہُ شَرَابٌ وَّ مِنۡہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ ﴿۱۰﴾

It is He who sends down rain from the sky; from it is drink and from it is foliage in which you pasture [animals].

وہی تمہارے فائدے کے لئے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Blessings of Rain, and explaining how it is one of the Signs Allah says: هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء ... He it is Who sends water down from the sky; When Allah mentions the blessings of cattle and other animals that He has granted mankind, He then mentions how He has blessed them by sending rain down from the sky above, which has been fulfilling the needs and bringing joy to people and their cattle. Allah says: ... لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ ... from it you drink, meaning, He made it fresh and pure so that they can drink it, not salty and undrinkable. ... وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ and from it (grows) the vegetation on which you send your cattle to pasture. meaning, from it He raised plants on which your cattle graze. Ibn Abbas, Ikrimah, Ad-Dahhak, Qatadah and Ibn Zayd, all said that; this refers to grazing animals including camels.

تمہارے فائدوں کے سامان چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنا دے اسی آب باراں سے درخت اگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں ۔ سوم کے معنی چرنے کے ہیں اسی وجہ سے اہل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں ۔ ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا ۔ پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے مختلف مزے کے ، مختلف شکل و صورت کے ، مختلف خوشبو کے طرح طرح کے پھل پھول وہ تمہارے لئے پیدا کرتا ہے پس یہ سب نشانیاں ایک شخص کو اللہ کی وحدانیت جاننے کے لئے کافی ہیں اسی کا بیان اور آیتوں میں اس طرح ہوا ہے کہ آسمان و زمین کا خالق ، بادلوں سے پانی برسانے والا ، ان سے ہرے بھرے باغات پیدا کرنے والا ، جن کے پیدا کرنے سے تم عاجز تھے اللہ ہی ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں پھر بھی لوگ حق سے ادھر ادھر ہو رہے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً : ” السَّمَاۗءِ “ کا لفظی معنی بلند چیز ہے، کیونکہ یہ ” سَمُوٌّ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی بلندی ہے، اس لیے یہ لفظ بادل، بارش، چھت (دیکھیے انبیاء : ٣٢) اور آسمان سب کے لیے بولا جاتا ہے اور ہر جگہ قرینے سے اس کا معنی متعین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت و قدرت کے دلائل میں حیوانات کے بعد اب پانی اور نباتات کا ذکر فرمایا، کیونکہ انسان کی غذا لحمیات، نشاستے، شکر وغیرہ زمین سے پیدا ہونے والی بیشمار چیزوں اور پانی سے مکمل ہوتی ہے۔ زمین کا ستر (٧٠) فیصد حصہ نہایت تلخ سمندر ہے، جس کا پانی انسان کے پینے کے لائق نہیں، مگر زمین اور سمندر کو تعفن سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کا نمکین ہونا نہایت ضروری ہے، ورنہ بدبو اور تعفن سے نہ سمندر میں کوئی چیز زندہ رہتی، نہ زمین پر۔ انھیں بخارات کی صورت میں اڑا کر بادلوں سے میٹھا پانی برسانے والی ایک ہی ذات پاک ہے، اگر وہ پانی نہ برساتا تو انسان، حیوان، نباتات سب کا نام و نشان مٹ جاتا اور اگر وہ سمندر کی طرح شدید کڑوا ہی برسا دیتا تو پھر بھی خشکی کی ہر زندہ چیز انسان، حیوان اور نباتات معدوم ہوجاتے، فرمایا : (لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ ) [ الواقعۃ : ٧٠ ] ” اگر ہم چاہیں تو اسے سخت نمکین بنادیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟ “ لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ ۔۔ : اسی پانی میں سے کچھ حصہ تمہارے پینے کے کام آتا ہے اور کچھ پودے اگانے کے، جن میں تم اپنے جانور چراتے ہو۔ یہ نہ ہو تو نہ تم رہو، نہ تمہارے پودے اور نہ ان میں چرنے والے جانور۔ ” شَجَـرٌ“ اگرچہ تنے والے درخت کو کہتے ہیں مگر یہاں زمین سے اگنے والی ہر چیز مراد ہے، دلیل اس کی ” فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ “ (اس میں تم چراتے ہو) ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The word: شَجَر (shajar) in verse 10: مِنْهُ شَجَرٌ‌ فِيهِ تُسِيمُونَ (from which [ you grow ] plants, on which you pasture cattle) is mostly applied to a tree which stands on a trunk. Sometimes, it is also applied, in an absolute sense, to everything which grows on land. Included therein are grass on stems or tendrils. This is the sense meant in this verse, because the pas¬turing of cattle has been mentioned immediately after which is mostly re¬lated to grass. The last word: (tusimun) is a derivation from isamah which means to leave cattle to graze freely in a pasture.

خلاصہ تفسیر : وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) واسطے آسمان سے پانی برسایا جس سے تم کو پینے کو ملتا ہے اور جس (کے سبب) سے درخت (پیدا ہوتے) ہیں جن میں تم (اپنے مواشی کو) چرنے دیتے ہو (اور) اس (پانی) سے تمہارے (فائدے کے) لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (زمین سے) اگاتا ہے بیشک اس (مذکور) میں سوچنے والوں کے لئے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے اور اس (اللہ) نے تمہارے (فائدہ کے) لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو (اپنا) مسخر (قدرت) بنایا اور (اسی طرح اور) ستارے (بھی) اس کے حکم سے مسخر (قدرت) ہیں بیشک اس (مذکور) میں (بھی) عقلمند لوگوں کے لئے (توحید کی) چند دلیلیں (موجود) ہیں اور (اسی طرح) ان چیزوں کو بھی مسخر (قدرت) بنایا جن کو تمہارے (فائدہ کیلئے) اس طور پر پیدا کیا ہے کہ ان کے اقسام (یعنی اجناس و انواع واصناف) مختلف ہیں (اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات مفردات ومرکبات داخل ہوگئے) بیشک اس (مذکور) میں (بھی) سمجھدار لوگوں کے لئے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے اور وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اس نے دریا کو (بھی) مسخر (قدرت) بنایا تاکہ اس میں سے تازہ تازہ گوشت (یعنی مچھلی نکال نکال کر) کھاؤ اور (تاکہ) اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جس کو تم (مرد و عورت سب) پہنتے ہو اور (اے مخاطب اس دریا کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ) تو کشتیوں کو (خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی جیسے بڑے جہاز تو ان کو) دیکھتا ہے کہ اس (دریا) میں (اس کا) پانی چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں اور (نیز اس لئے دریا کو مسخر قدرت بنایا) تاکہ تم (اس میں مال تجارت لے کر سفر کرو اور اس کے ذریعہ سے) خدا کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (ان سب فائدوں کو دیکھ کر اس کا) شکر (ادا) کرو اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ (زمین) تم کو لے کر ڈگمگانے (اور ہلنے) نہ لگے اور اس نے (چھوٹی چھوٹی) نہریں اور رستے بنائے تاکہ (ان رستوں کے ذریعہ سے اپنی) منزل مقصود تک پہنچ سکو اور (ان رستوں کی پہچان کے لئے) بہت سی نشانیاں بنائیں (جیسے پہاڑ درخت تعمیرات وغیرہ جن سے رستہ پہچانا جاتا ہے ورنہ اگر تمام زمین کی سطح یکساں حالت پر ہوتی تو رستہ ہرگز نہ پہچانا جاتا) اور ستاروں سے بھی لوگ رستہ معلوم کرتے ہیں (چنانچہ ظاہر و معلوم ہے) معارف و مسائل : مِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ لفظ شجر اکثر درخت کے لئے بولا جاتا ہے جو ساق یعنی تنے پر کھڑا ہوتا ہے اور کبھی مطلق زمین سے اگنے والی ہر چیز کو بھی شجر کہتے ہیں گھاس اور بیل وغیرہ بھی اس میں داخل ہوتی ہیں اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں کیونکہ آگے جانوروں کے چرانے کا ذکر ہے اس کا تعلق زیادہ تر گھاس ہی سے ہے۔ تُسِيْمُوْنَ اسامت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں جانور کو چراگاہ میں چرنے کیلئے چھوڑنا

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ 10؀ ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان کی آبادی ماء اصل میں موہ ہے کیونکہ اس کی جمع امراۃ اور میاہ آتی ہے ۔ اور تصغیر مویۃ پھر ہا کو حزف کر کے واؤ کو الف سے تبدیل کرلیا گیا ہے سام السَّوْمُ أصله : الذّهاب في ابتغاء الشیء، فهو لفظ لمعنی مركّب من الذّهاب والابتغاء، وأجري مجری الذّهاب في قولهم : سَامَتِ الإبل، فهي سَائِمَةٌ ، ومجری الابتغاء في قولهم : سُمْتُ كذا، قال : يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذابِ [إبراهيم/ 6] ، ومنه قيل : سِيمَ فلان الخسف، فهو يُسَامُ الخسف، ومنه : السَّوْمُ في البیع، فقیل : ( صاحب السّلعة أحقّ بالسّوم) «1» ويقال : سُمْتُ الإبل في المرعی، وأَسَمْتُهَا، وسَوَّمْتُهَا، قال : وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ [ النحل/ 10] ، والسِّيمَاءُ والسِّيمِيَاءُ : العلامة، قال الشاعر : 254- له سيمياء لا تشق علی البصر «2» وقال تعالی: سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ [ الفتح/ 29] ، وقد سَوَّمْتُهُ أي : أعلمته، وقوله عزّ وجلّ في الملائكة : مُسَوِّمِينَ «3» أي : معلّمين ومُسَوِّمِينَ «4» معلّمين لأنفسهم أو لخیولهم، أو مرسلین لها، وروي عنه عليه السلام أنه قال : «تَسَوَّمُوا فإن الملائكة قد تَسَوَّمَتْ» «5» . ( س و م ) السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانیکے ہیں پس اسکا مفہوم دو اجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا پھر کبھی صرف ذہاب یعنی چلے جانا کے معنی ہوتے ہیں ۔ السیماء والسیماء کے معنی علامت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ [ الفتح/ 29] کثرت سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ۔ اور سومتہ کے معنی نشان زدہ کرنے کے ہیں ۔ مُسَوِّمِينَ اور مسومین کے معنی معلمین کے ہیں یعنی نشان زدہ اور مسومین ( بصیغہ فاعل ) کے معنی والے یا ان کو چھوڑ نے والے ۔ آنحضرت سے ایک روایت میں ہے «تَسَوَّمُوا فإن الملائكة قد تَسَوَّمَتْ» کہ تم بھی نشان بنالو کیونکہ فرشتوں نے اپنے لئے نشان بنائے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے اور رسیم فلان الخسف ( فلاں کو خسف کا عذاب دیا گیا ) یا ھو یسام الخسف ۔ کا محاورہ بھی اسی سے ماخوذ ہے اور اسی سے بیع مین السوم ہے جس کے معنی نرخ کرنا کے ہیں چناچہ کہا گیا ہے صاحب السلعۃ احق بالسوم سامان کا مالک نرخ کرنے کا زیادہ حقدار ہے ۔ اور سمت الابل فی المرعی کے معنی چراگاہ میں چرنے کے لئے اونٹ بھیجنے کے ہیں ۔ اور اسی معنی میں اسمت الابل ( افعال) وسوم تھا ( تفعیل آتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ [ النحل/ 10] اور اس سے درخت بھی ( شاداب ) ہوتے ہیں جن میں تم اپنے چار پویاں کو چراتے ہو ۔ السیماء والسیماء کے معنی علامت کے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠) وہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ جس نے تمہارے لیے بارش برسائی کہ جنگلات اور شہروں میں تمہیں کو اس کے ذریعے سے پانی ملتا ہے اور اس کے سبب سے درخت اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ (هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ ) اللہ تعالیٰ ہی بارش اور برف کی صورت میں بادلوں سے پانی برساتا ہے جس پر انسانی زندگی کا براہ راست انحصار ہے اور پھر یہی پانی بیشمار نباتاتی اور حیوانی مخلوقات کو زندگی بخشتا ہے جو انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠۔ ١١۔ اللہ پاک نے انسان اور جانوروں کے پیدا کرنے کا حال بیان کر کے اب ان نعمتوں کا ذکر کیا جو مینہ برسا کر اس نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں اس لئے فرمایا کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے لئے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا یہ بہت ہی بڑا اس کا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا اور زمین کو تر رکھتا ہے جس میں کھیتی ہوتی ہے اور طرح طرح کے درخت اور گھاس اگتے ہیں اور لوگ اپنے اپنے جانوروں کو چراتے ہیں اور کھیتوں میں غلے پیدا ہوتے ہیں جس سے انسان غذا حاصل کرتا اور اپنی زندگی بسر کرتا ہے اور اسی پانی کے سبب سے زیتون کھجوریں انگور اور طرح طرح کے میوے پیدا ہوتے ہیں جس کو لوگ کھاتے ہیں زیتون کا تیل بھی بنتا ہے جس کو آدمی اور کام میں بھی لاتا ہے غرض اس سے بڑی قدرت اور عظمت خدا کی سمجھی جاتی ہے کہ مثلاً جب اناج کا ایک دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو تھوڑے عرصہ میں وہ دانہ پھٹ پڑتا ہے اور ایک باریک شاخ پیدا ہو کر اوپر کو چڑھنے لگتی ہے اور زمین میں اس کی جڑ پھیلنے لگتی ہے پھر رفتہ رفتہ پتے اور ڈالیاں پھیل کر ایک بہت بڑا درخت ہوجاتا ہے اور اناج پیدا ہونے لگتا ہے یہی حال ہر ایک میوے کی گٹھلی اور ہر ایک ترکاری اور پھلوں کے بیج کا ہے پھر ایک درخت کا پھل پھول دوسرے درخت کے پھل پھول سے جدا جدا اپنے اپنے رنگ و بو و ذائقہ میں مختلف ہوتے ہیں جو شخص ان باتوں میں غورو فکر کرتا ہے وہ فوراً سمجھ لیتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا بہت بڑی قدرت والا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کسی کا کچھ دخل نہیں صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ قریش کی سرکشی کے سبب سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بددعا کی اور آپ کی بددعا سے مکہ میں سخت قحط پڑا ١ ؎۔ صحیح بخاری میں زید بن خالد جہنی (رض) اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایتیں ہیں جن میں یہ ہے کہ مشرکین مکہ تاروں کی گردش سے مینہ برسنے کے قائل تھے ٢ ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ مینہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے برستا ہے مستقل طور پر تاروں کی گردش کا اس میں کچھ دخل نہیں کیوں کہ تاروں کی گردش تو آخر مکہ کے قحط کے زمانہ میں بھی تھی پھر اس وقت اس گردش کی تاثیر کہاں گئی۔ اسی طرح قحط کے قصے سے یہ بھی نکلا کہ ان مشرکوں کے بتوں کو بھی خدا کی خدائی میں کچھ اختیار نہیں کس لئے کہ اس قحط کے زمانہ میں ان بت پرستوں نے اپنے بتوں سے رفع قحط کی التجا کی مگر کچھ نہ ہوا آخر اللہ کے رسول نے جب رفع قحط کی دعا کی تو مینہ برسا اور وہ قحط رفع ہوا۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ١٣٧ ج ١ باب دعاء النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجعلہا سنین کسنی یوسف۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ١٤١ جۃ باب قول اللہ عزوجل و تجعلون رزقکم انکم تکذبون۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:10) منہ شراب۔ اس سے پانی پینے کو (ملتا ہے) ومنہ شجر اور اس سے سبزہ پیدا ہوتا ہے۔ تسیمون۔ اسامہ یسیم اسامۃ (افعال) سے جمع مذکر حاضر۔ تم چراتے ہو۔ السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانے کے ہیں۔ پس اس کا مفہوم دو اجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا۔ پھر کبھی صرف ذہاب یعنی چلے جانا کے معنی ہوتے ہیں جیسے سامت الابل۔ (اونٹ چراگاہ میں چرنے کے لئے چلے گئے) اور کبھی صرف طلب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے سمت کذا۔ (میں نے اسے فلاں کو تکلیف دی) ۔ اور اسی سے ہے یسومونکم سوء العذاب۔ (2:49) وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ (باب نصر) باب افعال، تفعیل سے اسمت وسومت الابل میں نے اونٹوں کو چرنے کے لئے بھیجا۔ باب افعال ہی سے ہے تسیمون ۔ تم چراتے ہو یا چرنے کے لئے بھیجتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٢) اسرارومعارف وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس کی قدرت کاملہ کی بہت بڑی دلیل ہے مگر فکر شرط ہے اگر کوئی غور کرے تو پائے گا اسی قادر مطلق نے شب وروز کا نظام تمہاری سہولت آرام اور ضرورت کے لیے تمہاری خدمت پہ لگا دیا اور سورج چاند ستاروں کو اسی کے حکم نے مسخر کردیا ہے کہ نہ صرف شب وروز کے بنانے میں بلکہ موسموں کے تغیر وتبدل اور کھیتیاں اور پھل اگانے اور پکانے میں پکانے میں پوری پوری خدمت بجا لا رہے ہیں ، اگر عقل سلامت ہو تو یہ دلیلیں کم نہیں ، ذرا دیکھو تو صرف زمین سے پیدا ہونے والی اشیا میں کیا رنگا رنگی ہے ذرا سوچنے سے اس کی عظمت سامنے آجاتی ہے کہ کتنا عظیم خالق ہے اس نے تو سمندروں تک کو تمہاری خدمت پہ لگا دیا نہ صرف بارش کا پانی مہیا کرتے ہیں بلکہ تمہیں مچھلی کی صورت میں تازہ گوشت فراہم کرتے ہیں اور اپنی تہ میں قیمتی جواہرات رکھتے ہیں جنہیں حاصل کرکے تم زیور اور سامان زینت بناتے ہو اور ذرا دیکھو جہاز اور کشتیاں کیسے سمندروں ، دریاؤں کا سینہ چیرتی ہوئی رواں دواں تمہیں دور دراز مقامات پر لے جاتی ہیں اور تلاش معاش اور کاروبار کا ذریعہ بنتی ہیں یہ سب انعامات اس لیے ہیں کہ تم اس کا شکر ادا کرو ، صرف زمین کی ساخت ہی دیکھ لو اس نے اسے درست رکھنے کے لیے اس پر بھاری پہاڑ سجا دیئے کہ ڈولنے نہ لگے اور تمہارا جینا دشوار نہ کر دے پھر ان بلندیوں پر برف جما کر اسے چشموں اور ندیوں کا سبب بنایا تھا جو تمہارے لیے دریا بناتے ہیں ان میں تمہاری گذر گاہیں بنا دیں اور عجیب صورتیں بنا دیں کہ جن کو نشان بنا کر تم راستے پہچانتے ہو ، اور ستاروں تک کو سمت بتانے کا ذریعہ بنا دیا ۔ اب غور کرو جو یہ سب کچھ پیدا کرنے والا ہے کوئی بھی اس کی برابری کا دعوی کرسکتا ہے جس کا تخلیق میں کوئی حصہ نہیں بلکہ خود مخلوق ہے بھلا تم اتنی سی بات سمجھ نہیں پاتے اور مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرا لیتے ہو ۔ اگر تم اپنا سارا زور علم صرف کر دو تو اللہ کریم کی نعمتوں کو جو وہ تمہیں دیتا ہے صرف شمار تک نہیں کرسکتے اور پھر وہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے کہ گزشتہ کی توبہ کرکے اس کی بخشش ورحمت کو پالو کہ آئندہ کے لیے بھی سدھر سکو ، پھر یہ بھی جان لو کہ اس کی ذات سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں تمہارے ظاہر و باطن سب سے آگاہ ہے اور جن ہستیوں کو اس کا شریک بنایا جاتا ہے اور نفع کی امید پر اللہ جل جلالہ کی طرف پکارا جاتا ہے یا ان سے اس طرح ڈرتے ہو جیسا اللہ جل جلالہ سے ڈرنا چاہئے تو وہ سب کی سب مخلوق ہیں کسی ذرے کی بھی خالق نہیں ہیں اس کے دست قدرت میں مجبور وبے بس یہ تک نہیں جانتے کہ کب حشر بپا ہوگا اور کس گھڑی اللہ جل جلالہ کے حضور ہونا پڑجائے گا ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 شراب پینے کی چیز۔ شجر درخت۔ تسیمون تم چرتاے ہو۔ ینبت اگاتا ہے۔ الزرع کھیتی۔ النخیل کھجور۔ الاعناب انگور۔ یتفکرون وہ غور و فکر کرتے ہیں۔ سخر اس نے مسخر کردیا۔ حکم کے تابع کردیا۔ الشمس سورج۔ القمر چاند۔ النجوم (النجم) ، ستارے۔ یعقلون جو عقل رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ اس نے اپنے پیغمبروں کو غفلت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ ان کو بتا سکیں کہ اس پوری کائنات کا وہ ایک ہی رب ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ورنہ اللہ کا وہ فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگے گی جو ان نافرمانیوں کے نتیجے میں قوموں پر آتا رہا ہے۔ اب ان آیات میں اس کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے کہ اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ زمین و آسمان کو پیدا کردیا بلکہ انسان کو زندگی گذارنے کے تمام اسباب بھی مہیا کئے۔ اس نے بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین کو دوبارہ زندگی دیدی۔ وہی پانی ہے جس کو انسان پیتے ہیں اس پانی سے وہ اپنے درختوں اور کھیتوں کو سینچتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر طرح کے ثمرات اگ آتے ہیں۔ زیتون کھجور اور انگور کے درخت سر سبز و شاداب ہوجاتے ہیں اس نے دن کام کے لئے رات آرام کے لئے بنائی، چاند، سورج اور ستارے پیدا کئے جو اللہ کے حکم کے تابع ہیں عقل و فکر رکھنے والے لوگوں کے لئے اس میں ہزاروں نشانیاں پوشیدہ ہیں۔ اگر کوئی انسان اللہ کی ان مخلوقات میں غور و فکر کرتا ہے تو خلاق تک پہنچنا بہت آسان ہے۔ لیکن اگر وہ آس پاس کی ہزاروں چیزوں پر سے گذر جائے اور غور و فکر نہ کرے تو یہ اس کی بدنصیبی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حیوانات کے بعد نباتات کے حوالے سے انسان کو غوروفکر کرنے کی دعوت۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے ہر چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔ (الانبیاء : ٣٠) بالخصوص انسان اور حیوانات کی زندگی پانی کے سوا چند گھنٹوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی خوراک، رہائش بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا جس قدر چاہے ترقی کر جائے اس کی تعمیر و ترقی میں پانی کا عنصر ہمیشہ بنیادی حیثیت کے طور پر شامل رہے گا۔ جہاں تک انسان اور حیوانات کی خوراک کا تعلق ہے۔ اس میں پانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے نباتات اور پھلوں کا ذکر کرنے سے پہلے پانی کا ذکر کیا ہے اور پانی کی بڑی مقدار اور اس کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ بارش ہی ہوا کرتی ہے۔ بارش نہ ہو تو زمین کا پانی بھی نیچے چلا جاتا ہے۔ بارش کی نسبت آسمان کی طرف اس لیے کی جاتی ہے کہ یہ بلندی سے زمین کی طرف آتی ہے۔ جس کو ہوائیں سمندر سے اٹھا کر اوپر لے جاتی ہیں اور وہاں ایک خاص نکتۂ انجماد پر پہنچ کر پانی بارش کی صورت میں برستا ہے۔ جس سے نباتات اور فصلیں اگتی ہیں۔ انسان اور حیوانات اپنی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ بالخصوص اللہ تعالیٰ انسان کے لیے پانی سے زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے۔ اس میں غوروفکر کرنے والے انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو پہچاننے اور صراط مستقیم پانے میں بصیرت کے واضح دلائل موجود ہیں۔ جس کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے (وَفِی الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِیلٌ صِنْوَانٌ وَّغَیْرُ صِنْوَانٍ یُسْقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الْأُکُلِ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُوْنَ )[ الرعد : ٤] ” اور زمین کے کئی قطعات ہیں جو آپس میں ملے جلے ہوتے ہیں۔ اس میں انگور کے باغات، مختلف فصلیں اور کھجوریں ہیں۔ جن میں سے کچھ اپنی جڑ سے ملی ہوتی ہیں اور کچھ جڑ سے اوپر ہوتی ہیں۔ ایک ہی پانی سے سیراب ہونے کے باوجود رنگ و نسل اور ذائقے کے اعتبار سے ان کے پھل ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ عقل مندوں کے لیے اس میں سوچنے کی بہت سی باتیں ہیں۔ “ (أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ )[ الانبیاء : ٣٠] ” کیا کافر لوگ غور نہیں کرتے کہ بیشک آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے ہم نے ان کو جدا کیا اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا، کیا وہ ایمان نہیں لاتے ؟ “ مسائل ١۔ آسمان سے پانی نازل کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ پانی تم پیتے ہو اور اسی سے سبزہ اگتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ پانی سے انسانوں کے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور مختلف قسم کے پھل پیدا فرماتا ہے۔ ٤۔ غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سے دلائل ہیں۔ تفسیر بالقرآن نباتات میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں : ١۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : ١١) ٢۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : ١٩) ٣۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : ٣٤) ٤۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : ٩٩) ٥۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : ١٤١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب آیات تخلیق اور انعامات کا دوسرا حصہ۔ آیت نمبر ١٠ تا ١١ یہ پانی آسمانوں سے اترتا ہے ، ان قوانین کے مطابق جو قدرت نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں۔ یہ قوانین اس کائنات کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان حرکات کے نتائج خالق مدبر کے ارادے اور تدبیر کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ یہ بارش جو آسمانوں سے برستی ہے اسے اللہ کے انعامات میں سے ایک انعام کہا گیا ہے۔ منہ شراب (١٦ : ١٠) “ تم اس سے پیتے ہو ”۔ اس کی بڑی خصوصیت تو آبنوشی ہے۔ اس کے بعد اس کی خصوصیت : ومنہ شجر فیہ تسیمون (١٦ : ١٠) “ اس میں درخت پیدا ہوتے ہیں جو تمہارے جانوروں کے لئے چارہ بنتے ہیں ”۔ تمام چراگاہیں اور درختوں کے پتے اس ذیل میں آتے ہیں۔ چراگاہوں اور درختوں کا ذکر جانوروں کی مناسبت سے ہوا ، جن سے جانوروں کے چارے کا انتظام کیا گیا۔ پھر زرعی پیداوار کا ذکر ہوا جو انسان کے لئے خوراک کا کام دیتی ہے۔ مزید انسان کی خوراک کے سلسلے میں زیتون ، کھجور ، انگور وغیرہ پھلوں کی انواع و اقسام وغیرہ کا ذکر ہوا۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون (١٦ : ١١) “ اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرتے ہیں ”۔ کس امر میں غوروفکر ؟ اس میں کہ اللہ اس کائنات کی تدبیر کس عظیم حکمت سے کر رہا ہے۔ اس نے اس کے اندر کس قدر اٹل قوانین فطرت جاری کر دئیے ہیں جو بشر کے لئے ممد حیات ہیں۔ انسان اس کرۂ ارض یا ستارۂ کائنات موسومہ بہ زمین میں ہرگز زندہ نہ رہ سکتا ، اگر اللہ اس کائنات میں ایسے قوانین فطرت وضع نہ کرتا جو اس کے لئے ممد حیات ہیں اور اس کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس کی فطری خواہشات کو پورا کرنے والے ہیں۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسان کو پیدا کردیا گیا ہو اور اس کرۂ ارض کو دوسرے کر ات سماوی کے ساتھ موجودہ نسبت میں رکھ دیا گیا ہو اور فضائی اور کلیاتی حرکات اس نظام کے مطابق محض اتفاقاً متعین ہوگئی ہوں جس طرح کہ آج ہیں اور یہ محض اتفاقاً انسان کے لئے ممد حیات بن گئی ہوں جس طرح کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ غوروفکر کی صلاحیت رکھتے ہیں ، وہ اللہ کے حسن تدبیر اور حکمت تدبیر کو سمجھتے ہیں۔ مدبرین کرۂ ارض کی خصوصیات روئیدگی ، اس کے پھل پھول اور ہواؤں اور بارشوں کے نظام کو اللہ کے نوامیس فطرت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے کہ ایک خالق حکیم ہے جس نے یہ سب کچھ کیا۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اس کا ارادہ ایک ہی جیسا ہے ، اور اس کے قوانین کے اثرات وثمرات یکساں ہیں۔ رہے غافل تو وہ ان چیزوں کو صبح و شام دیکھتے ہیں ، گرمیوں اور سردیوں میں دیکھتے ہیں ، لیکن ان کے مدارک فہم و ادراک سوئے رہتے ہیں۔ ان کے قوائے اخذو ادراک اور ان کا ضمیر و شعور اس حکیم کی تلاش میں نہیں نکلتا جس نے اس کائنات بوقلموں کو پیدا کیا۔ وہ نہیں سوچتے کہ اس عجیب و غریب نظام کا موجد کون ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ دوسری عقلی دلیل :۔ پہلی دلیل میں انسان، زمین و آسمان اور چوپایوں کی پیدائش کا ذکر تھا اب دوسری دلیل میں بارش، زمین سے انواع و اقسام رزق کی پیدائش اور نظام شمسی کی تسخیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مینہ برسایا جو تمہارے پینے کے کام آتا ہے نیز اس سے زمین میں گھاس اور چارہ اگتا ہے جس میں تم اپنے مویشیوں کو چراتے ہو۔ ” یُنْبِتُ لَکُمْ بِهٖ الخ “ علاوہ ازیں بارش سے غلے، میوے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ “ یہ تنبیہ ہے تاکہ سامعین ان امور میں غور و فکر کر کے ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر استدلال کریں۔ یعنی علامۃ دالۃ علی قدرتنا ووحدانیتا (خازن ج 4 ص 82) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

10 ۔ وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا کہ اس پانی میں سے کچھ تو تم پیتے ہو اور اس پانی کے کچھ حصے سے مختلف قسم کے درخت اگتے ہیں اور سبزہ نکلتا ہے جس میں تم اپنے مویشی چرنے کو چھوڑ دیتے ہو۔ یعنی اپنی کچھ تو پینے میں کام آتا ہے اور کچھ نباتات کی روئیدگی کا سبب بنتا ہے ، شجر خواہ تنے والا ہو خواہ بےتنے والا ہو بیلیں ہوں گھاس ہو وغیرہ۔