Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 125

سورة النحل

اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾

Invite to the way of your Lord with wisdom and good instruction, and argue with them in a way that is best. Indeed, your Lord is most knowing of who has strayed from His way, and He is most knowing of who is [rightly] guided.

اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے پورا واقف ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to invite people to Allah with Wisdom and Good Preaching Allah says: ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ ... Invite to the way of your Lord with wisdom, Allah commands His Messenger Muhammad to invite the people to Allah with Hikmah (wisdom). Ibn Jarir said: "That is what was revealed to him from the Book and the Sunnah." ... وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ... and fair preaching, meaning, with exhortation and stories of the events that happened to people that are mentioned in the Qur'an, which he is to tell them about in order to warn them of the punishment of Allah. ... وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ... and argue with them with that which is best. meaning, if any of them want to debate and argue, then let that be in the best manner, with kindness, gentleness and good speech, as Allah says elsewhere: وَلاَ تُجَـدِلُواْ أَهْلَ الْكِتَـبِ إِلاَّ بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ And do not argue with the People of the Book, unless it be with that which is best, except for those who purposefully do wrong. (29:46) Allah commanded him to speak gently, as He commanded Musa and Harun to do when he sent them to Pharaoh, as He said: فَقُولاَ لَهُ قَوْلاً لَّيِّناً لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى And speak to him mildly, perhaps he may accept admonition or fear (Allah). (20: 44) ... إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ... Truly, your Lord best knows who has strayed from His path, meaning, Allah already knows who is doomed (destined for Hell) and who is blessed (destined for Paradise). ... وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ and He best knows those who are guided. This has already been written with Him and the matter is finished, so call them to Allah, but do not exhaust yourself with regret over those who go astray, for it is not your task to guide them. You are just a warner, and all you have to do is convey the Message, and it is He Who will bring them to account. إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ You cannot guide whom you love. (28:56) لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَأءُ It is not up to you to guide them, but Allah guides whom He wills. (2:72)

حکمت سے مراد کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں ۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں ۔ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰـهُنَا وَاِلٰــهُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 46؀ ) 29- العنكبوت:46 ) اہل کتاب سے مناظرے مجادلے کا بہترین طریقہ ہی برتا کرو الخ ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا ۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے ۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں ۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں ۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہو چکی ہے ۔ آپ تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے ۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں ، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے ۔ حساب ہم آپ لیں گے ۔ ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں ، ہدایت عطا کر دیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

125۔ 1 اس میں تبلیغ ودعوت کے اصول بیان کئے گئے ہیں جو حکمت، اصلاحات کی مناسبت پر مبنی ہیں۔ جدال بالأحسن، درشتی اور تلخی سے بچتے ہوئے نرم ومشفقانہ لب و لہجہ اختیار کرنا ہے۔ 125۔ 2 یعنی آپ کا کام مذکورہ اصولوں کے مطابق وعظ و تبلیغ ہے، ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اور وہ جانتا ہے کہ ہدایت قبول کرنے والا کون ہے اور کون نہیں ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٨] تبلیغ کے لئے داعی کو تین ہدایات :۔ یہاں سے خطاب رسول اللہ کی طرف ہے۔ اور اس آیت میں تبلیغ دین کے متعلق تین ہدایات دی گئی ہیں۔ پہلی ہدایت حکمت ہے && حکمت && کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو موقع محل دیکھ کر دعوت دی جائے۔ یعنی اس وقت دعوت دی جائے جب مخاطب کے دل میں سننے کی خواہش ہو اور وہ سننے کو تیار ہو اور دوسرے جو بات کہی جائے وہ مخاطب کے عقل و فہم کو ملحوظ رکھ کر کی جائے۔ عمدہ نصیحت سے مراد یہ ہے کہ جو بات آپ کہیں میٹھے اور دلنشیں انداز میں کہیں جو مخاطب کے دل میں اتر جائے۔ عقلی دلیل کے ساتھ ترغیب و ترہیب اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائیں آپ کے دل میں اس کے لیے تڑپ ہونی چاہیے۔ حتیٰ کہ مخاطب یہ سمجھے کہ آپ فی الواقع اس کے ہمدرد ہیں۔ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ آپ مخاطب پر اپنی علمی برتری جتلانے اور اسے مرعوب کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپس میں دلائل سے بات کرنے کی نوبت آئے تو اس کی بات غور سے سنیں اور اپنی دلیل بھی شائستہ زبان میں پیش کریں اور اس کا مقصد افہام و تفہیم ہو۔ ایک دوسرے کو مات کرنا مقصود نہ ہو۔ اور اگر کج بحثی تک نوبت پہنچ جائے تو پھر بحث کو بند کردیں۔ کیونکہ اس صورت میں عین ممکن ہے مخاطب ضد میں آکر پہلے سے بھی زیادہ گمراہی میں مبتلا ہوجائے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو تین ہدایات، حکمت، موعظۃ الحسنہ اور جدال بالاحسن فرمائی ہیں۔ تو یہ سب الگ الگ تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں۔ یعنی مخالفین میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو اہل عقل و خرد ہوتے ہیں جو صرف معقول دلائل سے ہی قائل ہوسکتے ہیں۔ انھیں آپ حکیمانہ انداز میں دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کیجئے۔ دوسرے وہ لوگ جو زیادہ ذہین تو نہیں ہوتے مگر عقل سلیم رکھتے ہیں ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ہوتے۔ انھیں پند و نصیحت اور انذار اور تبشیر سے سمجھائیے۔ یہی چیزان کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوگی۔ تیسرے وہ لوگ جو کج بحث، ضدی اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں۔ ان سے آپ کو دلیل بازی سے کام لینا ہوگا۔ الزامی جوابات اور مناظرہ کی صورت بھی پیش آسکتی ہے لیکن ان سے بھی احسن طریقہ سے دلیل بازی کیجئے۔ انھیں صرف حقائق سے آگاہ کرنا آپ کے ذمہ ہے۔ منوا کے چھوڑنا آپ کے ذمہ نہیں۔ اور جب آپ دیکھیں کہ مخاطب کچھ سمجھنے کی بجائے ضد بازی پر اتر آیا ہے تو پھر اس سے اعراض کیجئے۔ اور ایسے لوگوں پر اپنا وقت اور محنت صرف نہ کیجئے۔ اس کے بجائے ان لوگوں کی طرف توجہ فرمائیے جو حق کے متلاشی ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ : ” اُدْعُ “ کا مفعول یہاں مذکور نہیں کہ کسے دعوت دے، اس لیے مراد عام ہوگا، یعنی غیر مسلم اور مسلم سب کو دعوت دے۔ یا اسے فعل لازم کے قائم مقام قرار دیا جائے، اس وقت مراد یہ ہوگی کہ ہمیشہ دعوت دیتا رہ۔ رب کے راستے سے مراد اسلام اور اس کی تفصیلات ہیں۔ ” بِالْحِكْمَةِ “ ” حِکْمَۃٌ“ کا لفظ موقع کے مطابق کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، چناچہ قاموس میں اس کے یہ معانی لکھے ہیں :” اَلْعَدْلُ وَالْعِلْمُ وَالْحِلْمُ وَالنُّبُوَّۃُ وَالْقُرْآنُ وَالإِْنْجِیْلُ “ اور لکھا ہے کہ ” أَحْکَمَہُ “ کا معنی ” أَتْقَنَہُ “ ہے، یعنی اس نے اسے خوب پختہ اور مضبوط کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دو چیزوں سے خالی نہیں ہونی چاہیے، ان میں سے ایک حکمت ہے، یعنی ایسی محکم اور پختہ دلیل جو حقیقت کے عین مطابق ہو، جس میں کوئی غلطی نہ ہو اور مخاطب کے نزدیک بھی مسلم ہو، خواہ وہ عناد کی وجہ سے اسے نہ مانے۔ اسے برہان بھی کہتے ہیں : (قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ) [ البقرۃ : ١١١ ] ” کہہ دے لاؤ اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔ “ اس لیے حکمت کو دلیل برہانی کہتے ہیں۔ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ : ” اچھی نصیحت “ سے مراد ایسی بات ہے جو مخاطب کے دل کو نیکی کے عمل کے لیے نرم کرے، یا بدی کے خلاف ابھار دے، ترغیب کے ذریعے سے یا ترہیب (ڈرانے) کے ساتھ، جیسا کہ فرمایا : (ۤ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا) [ النساء : ٦٣ ] ” سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں وعظ (نصیحت) کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔ “ اسے دلیل خطابی کہتے ہیں۔ دعوت کے اس اسلوب میں حسن و خوبی اور نرمی و ملائمت کو ملحوظ رکھنا اور بدزبانی و سخت کلامی سے پرہیز لازم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو حکم دیا : ( فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى ) [ طٰہٰ : ٤٤ ] ” پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔ “ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ : دعوت کے دوران میں اگر حکمت اور موعظۂ حسنہ کے باوجود مخاطب بحث اور مجادلے (جھگڑے) پر اتر آئیں تو آپ بھی ان سے مجادلہ کریں، کیونکہ پھر اس کے بغیر چارہ نہیں، مگر یہ ہر حال میں احسن (زیادہ اچھا) ہونا چاہیے۔ کس سے احسن ؟ جواب یہ ہے کہ سب سے بہتر یا کم از کم ان کے مجادلے سے بہتر طریقے کے ساتھ ہو، کیونکہ باب مفاعلہ میں دو فریق ہوتے ہیں، یہاں ایک تم ہو اور ایک وہ، اس لیے احسن کا مطلب یہ ہوگا ان کے طریقے سے بہتر، جس میں گالی گلوچ اور ذاتی حملے وغیرہ نہ ہوں، بلکہ ایسی بات ہو جس سے وہ لاجواب ہوجائیں۔ انبیاء اور ان کے حقیقی وارث علماء کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے خاص طور پر نوازتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی والد کو حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ساتھ دعوت (دیکھیے مریم : ٤٢) ، پھر بت توڑ کر بت پرستوں کے ساتھ بحث میں ان کو لاجواب کرنا (دیکھیے انبیاء : ٥١ تا ٦٨) ، پھر سورج، چاند اور ستاروں کے پوجنے والوں کو بحث میں لاجواب کرنا (دیکھیے انعام : ٧٦ تا ٨٣) ، پھر بادشاہ وقت کو رب ہونے کے دعویٰ میں لاجواب کرنا (دیکھیے بقرہ : ٢٥٨) اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا مجادلہ و بحث میں لاجواب ہو کر عذاب لانے کا مطالبہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ (دیکھیے ہود : ٣٢) موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مکالمے بھی اس کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ قرآن مجید مشرکین اور اہل کتاب سے مجادلۂ احسن پر مشتمل آیات سے بھرا پڑا ہے، بلکہ یہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سے ایک ہے۔ دیکھیے ” الفوز الکبیر “ از شاہ ولی اللہ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس قسم کی آیات مکی سورتوں میں ہیں، اس لیے یہ جہاد کے احکام کے ساتھ منسوخ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ احکام اب بھی مؤثر ہیں اور اگر کوئی شخص حکمت، موعظۂ حسنہ اور مجادلۂ احسن کے بعد بھی نہ مانے تو اس کے لیے جہاد کا استثنا مکی سورتوں ہی میں موجود ہے۔ چناچہ سورة عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ ) [ العنکبوت : ٤٦ ] ” اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔ “ ظاہر ہے کہ مجادلۂ احسن کے بعد بھی ظلم پر قائم رہنے والوں کے لیے جہاد کے سوا کیا علاج ہوسکتا ہے ؟ یہ ایک فطری حقیقت ہے جیسا کہ فند زِمّانی نے کہا ہے ؂ فَلَمَّا صَرَّحَ الشَّرُّ وَأَمْسٰی وَھُوَ عُرْیَانُ وَلَمْ یَبْقَ سِوَی الْعُدْوَانِ دِنَاھُمْ کَمَا دَانُوْا ” پھر جب لڑائی بالکل ظاہر ہوگی اور ننگی ہو کر سامنے آگئی اور زیادتی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو ہم نے بھی بدلے میں ان سے وہی کیا جو انھوں نے کیا تھا۔ “ بلکہ اس آیت سے اگلی آیت میں بھی جہاد کا ذکر موجود ہے، صرف غور کی ضرورت ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ ۔۔ : اس آیت کے فوائد میں سے دو فائدے زیادہ ظاہر ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کسی شخص کے ایمان نہ لانے پر اسے دعوت دینا ترک نہ کریں، آپ کو علم نہیں، ہوسکتا ہے وہ ان خوش نصیبوں میں سے ہو جنھیں ہدایت نصیب ہونی ہے، یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا ” اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ “ (بےشک تیرا رب ہی اسے زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے) تو آگے بظاہر اتنا ہی کہنا کافی تھا ” بِالْمُهْتَدِيْنَ “ (اور ہدایت پانے والوں کو بھی) مگر اللہ تعالیٰ نے ” هُوَ اَعْلَمُ “ کو دوبارہ ذکر فرمایا۔ مقصد یہ ہے کہ کافر لوگ بیشک اپنے آپ کو ہدایت یافتہ اور مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے رہیں، مگر اصل گمراہ کون ہے اور اصل ہدایت یافتہ کون ہے، یہ علم تیرے رب ہی کے پاس ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence of Verses In the previous verses, by attesting to the veracity of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as prophet and messenger of Allah, the purpose was to induce his people to follow what he commanded them with and thus do their bounden duty towards their Divinely ordained rasul. In the verses cited above, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself is being taught how to fulfill the rights of his mission as a messenger of Allah and how to observe the related etiquette as due - the generality of which includes and covers all true believers. Commentary Da&wah and Tabligh: Principles and Curriculum Embedded in this verse (125) there lies a whole curriculum of Da&wah and Tabligh, its principles and rules of etiquette, within the frame of a few words. As in Tafsir al-Qurtubi, when Haram ibn Hayyan&s (رح) time of death came near, his relatives asked him for some wasiyyah (order, parting advice, will). In reply, he said, |"Wasiyyah? That people make for مَال mal (wealth, property, inheritance), which I do not have. But, I would still make a wasiyyah, that of the ayat of Allah, particularly that of the last verses of Surah an-Nahl - and I order you to stand firm on them.|" The verses mentioned here are the same as appear above. Literally, دَعوَہ : da&wah, means to call. The first duty of the blessed prophets is to call people towards Allah. After that, what they teach as prophets and messengers are explanations of this Da&wah. The Qur’ an mentioning a special attribute of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has called him: (one who invites people towards Allah): وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَ‌اجًا مُّنِيرً‌ا And one who invites towards Allah with His permission whilst being a lamp, lighted. (al-Ahz, 33:46) يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّـهِ O our people, respond to the Caller of Allah (Prophet Muhammad ). (al-Ahgaf, 46:31) Calling people towards Allah دَعوَۃ اِلی اللہ : da&wah ilal-lah) has been made obligatory on the Muslim Ummah following in the footsteps of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It was said in Surah &Al-` Imran: وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ‌ وَيَأْمُرُ‌ونَ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ‌ And there has to be a group of people from among you who call towards the good... (3:104) And in another verse, it was said: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّـهِ And who is better in utterance than the one who called (people) towards Allah. (Ha Mim as-Sajdah/Fussilat, 41:33) While expressing the general sense, this word may take several forms, such as: دَعوَۃ اِلی اللہ (da&wah ilal-lah: Calling towards Allah), دَعوَۃ اِلی الخَیر (da&wah ila al-khair: Calling toward the good) and دَعوَۃ اِلی سَبِیلِ اللہ (da&wah ila sabilillah: Calling towards the way of Allah). However, the outcome is the same because calling towards Allah is actually calling towards His دین din and the Straight Path. The next phrase:إِلَىٰ سَبِيلِ رَ‌بِّكَ (ila sabili rabbik: to the way of your Lord) carries two nuances of expression. Here, by mentioning the special attrib¬ute of the Most Exalted Allah ۔ رَبّ &Rabb& - and then by annexing it to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، a hint has been given that the work of Da&wah is con¬nected with the attribute of nurture, raising, training and education. Here, it is being suggested to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that the way Allah Ta` ala has nurtured him, he too should invite people using the mores of nurture and education. It should be a Da&wah in which due consideration is given to the nature and attending circumstances of the addressee and the ultimate approach has to be such as would not weigh heavy on the recipient, rather, should be as effective as is possible. The word: adz (da&wah) itself imparts this sense in that the mission of a prophet is not simply limited to conveying the injunctions of Allah and making people hear them. Instead, his mission is to invite people to implement these in their lives. And it is obvious that no one inviting someone to Allah would present his submission in a manner which causes distraction and aver¬sion or in which the addressee has been maligned or mocked at. The expression: بِالْحِكْمَةِ (bil-hikmah: with wisdom) which follows im¬mediately has been used in the Holy Qur&an for several meanings. At this place, some Tafsir authorities have taken: الْحِكْمَةِ (al-hikmah) to mean the Holy Qur’ an, some others explain it as the Qur&an and Sun-nah, still others call it the binding argument while Ruh al-Ma` ani has given the following Tafsir of &al-hikmah& with reference to al-Bahr al-Muhit: انھا الکلام الصواب الواقع من النفس اجمل موقع It is sound speech which goes into one&s heart. (Ru , al-Ma` ani) This Tafsir assimilates all above views. The author of Ruh al-Bayan has also carried almost the same sense in the following words: |"Al-Hikmah means the insight through which one finds out the dictates of circumstances and talks as appropriate relatively, chooses such time and occasion as would not put a burden on the addressee, employs lenience where lenience is called for and firmness where firmness is in order. And where he thinks the addressee would be embarrassed by saying something frank¬ly, there he should use hints to communicate, or employ a change of subject and approach in a way that neither embarrasses the addressee nor feeds him with the thought of sticking by his prejudice.|" The next word: الْمَوْعِظَةِ (al-maw` izah) or: وَعظ (wa’ z) literally means to say something in the spirit of wishing well in a manner that would make the heart of the addressee softened and arable, all tuned to accept it. Once this is done, it will be useful to talk about the reward and benefit of such acceptance, as well as, about the punishment and ill-effects of not accepting it. (Al-Qamus and a1-Mufradat of Raghib al-Isfahan) Later, by saying: الْحَسَنَةِ (al-hasanah: good), the sense conveyed is that the subject and treatment of this counsel should be such as would satisfy the heart of the addressee, removing doubts and apprehensions whereby the addressee comes to realize that you have no personal motive behind your approach and that you are addressing him only in the interest of the addressee and for his or her good. We may stay with the word: الْمَوْعِظَةِ (al-maw’ izah: counsel) for a while and say that it had already made it clear that this wishing well has to be in an effective manner. But, experience bears out that sometimes while wishing well for someone, the approach could become hurtful or insult¬ing for the addressee. (Ruh al-Ma’ ani). In order that people would leave this kind of approach, the word: الْحَسَنَةِ (al-hasanah: good) was added. The word: جَادِلْ (jadil: argue) in the subsequent sentence: وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (And are with them in the best of manners) has been derived from: مُجَادِلہ (mujadala). At this place, it means argumentation and debate and: بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (And argue with them in the best of manners) means that should there be, in the process of Da&wah, the need to engage in debate or exchange of arguments, then, that discussion should also be in the best of manners. It appears in Ruh al-Ma` ani that good manners require a gentle and soft approach in mutual submissions, arguments have to be such as would be easily understood by the addressee, argu¬ments have to be supported by known premises so that they help remove the doubts of the addressee and shields him against falling into dogma¬tism. And there are other verses of the Qur’ an which bear witness to the fact that this approach of showing good manners in debate (al-ilhsan fi al-mujadalah) is not restricted to Muslims alone. About the people of the Book (Jews and Christians), the Qur’ an particularly says: وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ And do not are with the People of the Book except in a man¬ner which is the best. (al ` Ankabut, 29:46) And in another verse, by giving the instruction of: قُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا (speak to him in gentle words (&Ta-Ha, 20:44) to Sayyidna Musa and Harun (علیہما السلام) ، it was also stressed that this was how they have to deal even with as rebellious an infidel as the Pharaoh. Da&wah: Principles and Etiquette To sum up, three things have been mentioned in verse 125 as neces¬sary for Da&wah: 1. Al-Hikmah (Wisdom) 2. Al-Maw` izah al-Hasanah (Good Counsel) 3. Al-Mujadalah - &billati hiya alhsan& (Debate in the Best of Manners) Some commentators have said that these things are there because of three kinds of addressees. Inviting with wisdom is for people of knowl¬edge and understanding. Inviting with good counsel is for common peo¬ple. Argument and debate are for those who nurse doubts in their hearts, or simply refuse to accept anything said to them because of hostil¬ity and obstinacy. My mentor and master, Maulana Ashraf Thanavi (رح) has said in his Tafsir Bayan al-Qur’ an that it is far out to deduce from the context of the verse that the addressees of these three things are groups of three different kinds, separate from each other. In the light of the above what seems to be obvious here is that these rules of etiquette in Da&wah are to be used for everyone. The first thing to do in Da&wah is to wisely assess conditions surrounding the addressee and pick out the most appropriate thing to say in those terms. Then, what has to be said will certainly be said as a well-wisher, however, this empathy has to be strengthened by such evidences and proof as would satisfy the addressee. And the subject matter and the manner of presen¬tation has to be kept soft and affectionate so that the addressee becomes certain about whatever is being said and starts feeling that this person is saying it in his interest and for his benefit, and that the speaker&s pur¬pose is not to embarrass him or belittle his status. However, the author of Ruh al-Ma&ani has made a subtle point at this place. According to him, the arrangement of the verse shows that there are really no more than two things in Da&wah: (1) Al-Hikmah (Wis¬dom) and (2) Al-Maw` izah (Good Counsel). The third thing: Al-Mujadalah (Argument, Debate) is just not included under the Principles of Da&wah. But, it can be conceded that it does come out handy once in a while in the path of Da&wah. The author of Ruh al-Ma` ani proves his point by saying: If these three things were to be the Principles of Da&wah, the exigency of the situ¬ation required that all three should have been enumerated with the help of conjunctions as: بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَالجِدَال الاَحسَن But, the Holy Qu&ran has elected to say al-Hikmah (Wisdom) and al-Maw` izah (Good Counsel) with conjunctive words in one single arrangement while, for al-Mujadalah, it has chosen to have a separate sentence: جَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (And argue with them in the best of manners). This tells us that argument in matters of knowledge is not a basic element or condition of the Call to Allah (da&wah ilal-lah). Instead, it is an instruction concerning matters that come up in the path of Da&wah - an example of which appears in the next verse where patience has been enjoined because it is inevitable to observe patience over pains inflicted by people while in the path of Da&wah. In short, there are two principles of Da&wah - (1) Al-Hikmah (Wis¬dom) and (2) Al-Maw&izah (Good Counsel). No Da&wah - whether to the learned and the classes or to the masses of people - should remain with-out these two factors. However, one has to face the kind of people who are neck-deep into doubts and superstitions and more than ready to start a debate with the دَاعِی Da` i (the man of Da&wah), it is to meet such situations that a go ahead signal to engage in the exercise of Al-Mujadalah (argument, debate) has been given. But, by imposing the restriction of: بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (in the best of manners) along with it, it was made very clear that the Mujadalah devoid of this condition has no place and status in the Shari’ ah. The Prophetic Etiquette of Da&wah Inviting people towards Allah is, in fact, the mission and station of the blessed prophets, may peace be upon them all. The rightly-guided ` Ulama& of the Muslim community carry out this mission in their capac¬ity of being their deputies. So, it is incumbent on them that they should learn its etiquette and methodology from them alone. A da&wah that does not follow those methods faithfully does not remain what da` wah re¬ally is. Instead, it turns into عَداوۃ ` adawah (enmity) and becomes the cause of subsequent confrontations and wars. An instruction of the Holy Qur&an given to Sayyidna Musa and Harun (علیہما السلام) in Surah Ta-Ha illustrates the principle observed by prophets in their Call: فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ‌ أَوْ يَخْشَىٰ (Speak to him in gentle words, maybe he takes to the advice or fears - 20:44). This is a principle no Caller to Truth دَاعِی الی الحق (da i ila al-Haqq) should ever lose sight of. Let him al-ways bear in mind that the Pharaoh was an infidel (kafir) known for his rebellion, one whose death was to come, as in ultimate Divine knowl¬edge, while he was still a kafir. Now, when Allah Ta’ ala sends his man of the Call even to a disbelieving tyrant like the Pharaoh, He sends him with the instruction of talking to him gently. Today, the people we invite to Allah, to His Faith, they are not more astray than the Pharaoh. Then, none of us can claim to match Sayyidna Musa and Harun (علیہما السلام) as great guides and callers to the way of Allah. So, the right that Allah did not give to the two of his prophets - that they hurl hard talk on the ad¬dressee, throw taunts at him and insult him - where in the world did we get that right from? The Holy Qur’ an is full of the Da&wah and Tabligh of the noble proph¬ets (علیہم السلام) and the contestations of disbelievers. Nowhere in there, we find that any messenger of Allah has ever responded with a single un¬pleasant word against those who threw taunts at them despite their being on the side of the Truth. Let us have a look at some relevant exam¬ples. The words spoken by two prophets, Sayyidna Nuh and Sayyidna Hud (علیہما السلام) in response to the confrontation and sharp accusations of their people are worth noticing. These can be seen in the seventh section of Surah al-A& raf from verses 59 to 67. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) is the great prophet known for his high determi¬nation and long blessed years in this world. For nine hundred and fifty years he devoted his life to Da&wah, Tabligh, Reform and Enlightenment among his people. But, with the exception of a few, no one from among his people listened to him. Leave the rest, even his son and wife re¬mained on the side of disbelievers. Had a modern day Reformer been in his place, imagine how he would have talked to such a people! Just ima¬gine and then see what those people said in response to his Call in their interest and for their benefit. They said: إِنَّا لَنَرَ‌اكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ |"Indeed we see you in an obvious error|" - al-A` raf, 7:60. On the other side, there is a prophet of Allah. He skips the option of chastizing his evil and contumacious people and this is what he elects to say: يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَـٰكِنِّي رَ‌سُولٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ |"O my people, there is no error in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds|" [ telling you what is good for you ] - al-A` raf, 7:61. The other messenger of Allah who came after him was Sayyidna Hud (علیہ السلام) . His people, despite having seen the messenger&s miracles, chose to remain hostile. They said, |"you have yet to come up with a proof for your claim and we are not the kind of people who would abandon their objects of worship (idols) just because you say so. The fact is that you have been irreverent in respect of our idols and that is why you have gone crazy.|" Having heard all this, Sayyidna Hud (علیہ السلام) responded by saying: قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِ‌يءٌ مِّمَّا تُشْرِ‌كُونَ |"I make Allah my witness, and you witness that I have nothing to do with what you take as gods besides Him|" - Hud, 11:54. And as in Surah al-A` raf, to him his people said: إِنَّا لَنَرَ‌اكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ |"Indeed, we see you in foolishness, and we certainly believe you to be one of the liars|" - 7:66. In response to these heart-rending words used against him by his people, the messenger of Allah, Sayyidna Hud, blessings and peace on him, does not even think of some sharp repartee, some derogatory counter comment, or say anything which would bring into focus their waywardness and their ugly penchant for attributing lies to Allah. He does nothing of that sort. Yet, he gives the answer and what an answer! He simply said: قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَـٰكِنِّي رَ‌سُولٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ |"0 my people, there is no foolishness in me, but I am a messen¬ger from the Lord of the worlds|" - al-A` raf, 7:67. Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) ` invited his people to Allah in accordance with customary practice of prophets. They were addicted to the evil practice of weighing less and measuring short. When Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) asked them to refrain from it, his people made fun of him and asked him in bit¬ing contempt: قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُ‌كَ أَن نَّتْرُ‌كَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ الْحَلِيمُ الرَّ‌شِيدُ They said, |"0 Shu&aib, does your salah (prayer) command you that we should give up what our fathers used to worship or give up our free will in (spending) our wealth? You are proven¬ly the man of wisdom and guidance|" - Ind, 11:87. Here, they have said three things. They open with a taunt: This pray¬er that you make teaches you to do all those foolish things. Then they talk about their مَال mal - wealth, property, commercial interests: This is ours. We buy. We sell. at do you have to do with our financial mat¬ters? And for that matter, how does your God come into this? All this belongs to us and we have the right of spending it as we wish. The last sen¬tence they say is loaded with black humour and angry sarcasm - you are certainly wise, guided-right! It seems as if the contemporary votaries of secular economy did not rise only in our time. They do have their forbears in the past whose theoretical assumptions were the same as is being dished out today by some Muslims carrying nothing but Muslim names. So, they would say that they were Muslims, they believed in Islam but when it comes to an eco¬nomic order, they adopt socialism (or capitalism) for, as they would like to believe, this area is out of bounds for Islam. Returning to what his people said to Sayyidna Shu` aib (علیہ السلام) let us now see how the messenger of Allah responds to the sarcastic remarks made by his unjust people: قَالَ يَا قَوْمِ أَرَ‌أَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّ‌بِّي وَرَ‌زَقَنِي مِنْهُ رِ‌زْقًا حَسَنًا ۚ وَمَا أُرِ‌يدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِ‌يدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ He said, |"0 my people, tell me, if I am on a clear path from my Lord and He has provided me from Himself with a good provi¬sion, (should I still leave you unguided?) And I do not want to do in your absence what I prohibit for you. I want nothing but to set things right as far as I can. And what I am enabled to do is only with the help of Allah. In Him alone I have placed my trust and to Him alone I turn in humbleness|" - Hud, 11:88 Despite that Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، when sent to the Pharaoh, had fully complied with the Divine instruction of talking to him gently, the response of the Pharaoh to Sayyidna Musa (علیہ السلام) came in the following words: قَالَ أَلَمْ نُرَ‌بِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِ‌كَ سِنِينَ ﴿١٨﴾ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ الْكَافِرِ‌ينَ He said, |" (You! ) Did we not raise you among us as a child, and you stayed among us for years of your life? And you did your deed which you did, and you were of the infidels |" - ash-Shu` ara, 26:18, 19. Here, the Pharaoh has reminded Sayyidna Musa (علیہ السلام) of two favours done to him - that he raised him as a child and that he stayed with him for a number of years while older. Then he showed his displeasure over the incident in which a Copt got killed at the hands of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، though he had no intention of killing him. In his anger, he also said that he had become an infidel. At this place, the expression: اَنتَ مِنَ الکَافِرِینَ (anta min al-kafirin) could be taken in the literal sense, that is, one who is ungrateful, which would mean: we did favours to you and you killed one of our men, a demonstra¬tion of ungratefulness to favours done.& Then, it could also be given a technical meaning because the Pharaoh claimed to be god. So, whoever denied his godhead turned out to be a kafir (infidel). Now, at this juncture, let us hear the answer given by Sayyidna Musa (علیہ السلام) which is a masterpiece of prophetic manners and morals of Da&wah. Here, first of all, he goes ahead and makes a clean breast of what had happened to him. He had tried to disengage a Copt who was fighting an Israelite man. The punch he had employed to do that caused his death. So, this killing was not intentional. But, it was also not prompted by some religious exigency. In fact, even under the Law of Moses, that man was not deserving of being killed. Therefore, he began by confessing first and said: قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ I did it then, while I was of the astray (ignorant) |" - ash-Shu` ara, 26:20. The sense is that the act had escaped him before he was blessed with the mission of a prophet and at a time when he was not aware of any Di-vine command about it. After that, he said: فَفَرَ‌رْ‌تُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَ‌بِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ |"So I fled from you when I feared you. Then my Lord bestowed wisdom on me and made me of His messengers|" - 26:21. After that, Sayyidna Musa (علیہ السلام) took up the reality of favours the Pharaoh was harping on. He told him that he was not right in doing that because this whole matter of bringing him up was the result of his own cruelty and oppression in that it was he who had a standing order in force, the order to kill Israelite children. His mother was, therefore, com-pelled to put him into the river until came the time when he reached his home. He said: وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ |"And this is the favour you put on me - that you have enslaved the Children of Isra&il! - 26:22. After that, when the Pharaoh asked: وَمَا رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ (|"And what is the Lord of the worlds?|" - 26:23), he replied by saying: رَ‌بُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا (|"The Lord of the heavens and the earth and of whatever there is in between them|" - 26:24). Thereupon, it was by way of mockery that the Pharaoh turned towards the audience and asked: ... أَلَا تَسْتَمِعُونَ (|"Do you not hear?|" - 26:25) [ meaning: You hear him, don&t you? Hasn&t he gone out of his mind?] Thereupon, Sayyidna Musa (علیہ السلام) added: رَ‌بُّكُمْ وَرَ‌بُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ |"Your Lord and the Lord of your first forefathers|" - 26:26 Irritated, the Pharaoh said: إِنَّ رَ‌سُولَكُمُ الَّذِي أُرْ‌سِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ |"Indeed, your messenger (who claims to have been) sent to you is a mad man|" - 26:27. Even such a derogatory title given to Sayyidna Musa (علیہ السلام) did not lure him into a blow for blow response for he could have easily told the Pharaoh as to who was insane and who was sane. He just took no notice of it, in fact, went on to describe another attribute of Allah, the Lord of the worlds: رَ‌بُّ الْمَشْرِ‌قِ وَالْمَغْرِ‌بِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ |"Lord of the East and the West and of whatever there is in between them, if you were to comprehend|" - 26:28. This is a lengthy dialogue taking place in the court of the Pharaoh between him and Sayyidna Musa (علیہ السلام) . It covers three sections of Surah ash-Shu` ara& (26). Look at this dialogue of Sayyidna Musa علیہ السلام from the beginning to the end. No emotions are betrayed here. No reply has been given to his bad words, nor is his hard talk matched by counter hard talk. Instead of all that, there is a continuous flow of statements to the effect of Allah Ta` ala&s attributes of perfection along with the ongoing ef¬forts of Tabligh. This is a brief sample of the confrontations in which the blessed prophets have stood up against their hostile and obstinate people. We can also say that it is a practical demonstration of &arguing with the best of manners.& Besides argumentations, debates and intellectual confrontations when inevitable, models have been set by the blessed prophets in Da&wah and Tabligh on a standing basis. They have established wise principles in human communications as appropriate to different addres¬sees and different occasions with the added considerations as dictated by wisdom or beneficial expediency. In short, the way and method put in practice by the blessed prophets in order to invite people to Allah (da&wah ilal-lah) and make it popular, effective and abiding as well is, in reality, the essence and spirit of Da&wah. As for its details, these are spread all over in the teachings of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Let us have a look at some of these as representative samples. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was very particular about making sure that no burden is placed on the addressee whether in Da&wah and Tabligh or in good counsel and beneficial advice. As for the noble Sahabah, they held the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) very dear to their heart. About them, it could not be imagined that they would, God forbid, ever get bored with what he had to say. Yet, even for them, his customary practice was that he would not hold his teaching, counseling and advising sessions every day, rather lim¬ited it to some days of the week so that their occupation or business is not adversely affected or that it becomes some sort of burden on them. According to a narration of Sayyidna ` Abdullh ibn Masud (رض) reported in the Sahih of al-Bukhari, |"The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had his &wa` z& sessions only on some days of the week lest we get bored - and he in¬structed others to do the same.|" Sayyidna Anas (رض) reports that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: یَسِّرُو ولا تُعَسِّرُوا وَ بَزشِّر ‘ وا ولا تُنَفِّرُوا Make (things) easy and do not make (things) difficult and give (people) the good news (of mercy from Allah) and do not disap¬point or alienate (them) - Sabih al Bukhari, Kitab al-` Ilm. Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) says, &you should become Rabbani, the people of your Rabb, people with wisdom, learning and law.& After reporting this saying in the Sahih al-Bukhari, the word: رَبَّانِی (Rabbani) has been explained as: A person who, keeping in sight the principles of Da&wah, Tabligh, education and training, starts with simple things first. When people get used to it, then he tells them about other imperatives which would have been difficult at the elementary stage. This person is a Divinely guided scholar (عَالِم رَبَّانِی). These days religious sermons and propagation efforts produce very little effect. The main rea¬son is that workers in this field generally do not give due consideration to the principles and etiquette necessary in this area. Lengthy lectures, uncalled for sermonizings and insisting on people to do something without first finding out the conditions faced by the addressee have become their habit. When engaged in the mission of Invitation and Reformation, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made an extra effort to ensure that the addressee is not insulted or disgraced in any way. Therefore, when he would see someone involved with something bad or wrong, he would not address him direct¬ly. Instead, he used to beam his remarks at a public gathering, for exam¬ple, he would say: مَا بَالُ اَقوَامِ یَّفعَلُونِ کَذَا What has happened to people that they do so? This used to be part of a public address. Naturally, the person who was supposed to hear it did hear it, was ashamed in his heart and went about getting rid of that drawback. It was the universal habit of noble prophets that they shielded the addressee from being embarrassed. Therefore, on occasions, they would attribute what was done by the addressee to their own selves and thus tried to set things right with their people. It appears in Surah Ya Sin: وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَ‌نِي (What is the matter with me that I would not worship Him who created me? - 36:22). As for this emissary of the messenger, he was already devoted to his ` ibadah (worship) all the time as was his usual way. The purpose here was to make the addressee who was not so engaged hear the worth and value of turning to Allah in ` ibadah. But, as we see, he has attributed the shortcoming to his own person. And Da&wah means to call or bid someone to come close to the caller - definitely not to enumerate the person&s shortcomings. Then, this act of calling can become effective only when there is some common ground between the caller and the called. For this reason, the Da&wah of the noble prophets علیہم السلام as in the Holy Qur&an mostly begins with the words: یا قومِ (ya qawmi: 0 my people) through which stress is placed first on the common factor of brotherly relations and then things aiming at their betterment are said. It amounts to saying - &we are people of the same brotherhood, so let there be no hatred in between us& - and this is how they start the mission of reforming their society. In the letter of Da&wah sent by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to Hiraql, the By¬zantine emperor, he began by calling the emperor: &The Great Man of By¬zantium.& This tribute of honour given to him was permissible because it contained a confession of the emperor&s being great - though, for the peo¬ple of Byzantine, not for him. After that, the manner in which the invita¬tion to believe was given is being quoted below: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ |"0 people of the Book, come to a word common between us and you that we worship none but Allah|" (as in Surah Al-` Imran, 3:64) Here, a common factor of unity was mentioned first. It was said that the belief in the Oneness of Allah (Tauhid) was the common bond between the two of them. After that came the reminder about the error of Christians. If we were to look into the teachings of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) carefully, we will find similar rules of conduct in every field of Da&wah and public education. Unfortunately, in our time, we suffer from lack of concern for carrying the call to faith, working for the correction and betterment of people, bidding the Fair and forbidding the Unfair. Even those who are engaged in these pursuits have, (with valid exceptions) taken mere dis¬cussions, debates, accusations, name calling, berating and disgracing the adversary to be Da&wah and Tabligh. The truth of the matter is that all this, being contrary to the Sunnah, never turns out to be effective and beneficial - while these gentlemen continue to congratulate themselves for having done a great service to Islam. In reality, they are becoming the cause of making people scared of it. The Harmful Worldly and Other-Worldly Effects of Current Contestations We know from the Tafsir of the present verse (125) that the main ob¬jective of the Shari` ah of Islam is the Call to Allah (da&wah ilal-lah) which has two principles: (1) Al-Hikmah (Wisdom) and (2) Al-Maw` izah Al-Hasanah (Good Counsel). And if the unwelcome need of Al-Mujadalah (argument, debate, confrontation) stands imposed on some stray occa¬sion, then, that too has been allowed with the restriction of being &in the best of manners.& But, in reality, it is not a regular department of Da&wah. Instead, it is a via media to handle its negative aspect. The Holy Qur&an has resolved it by placing the restriction of: بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (in the best of manners). By doing so, it has told us that it should be in the best spirit of politeness, and with the attitude of a sympathizer and well-wisher. Argument should be formulated clearly as appropriate to the state of the addressee. Any approach which belittles or insults the addressee should be totally avoided. Similarly, for it to be the best, it is also necessary to be on guard lest it becomes harmful to the speaker him-self. In other words, it should not affect his morals adversely for there is the danger of his falling into envy, malice, arrogance, love for name, fame and power. These are major inward sins. In short, the kind of dis¬cussions, debates, polemics and confrontations we see today are such that it would take a very rare person, some man of Allah, to remain safe against their harmful effects, otherwise, it is extremely difficult to find refuge from it under normal circumstances. Imam al-Ghazali has said: The way liquor is &the mother of evils& (umm-ul-khabaith) in that it is a grave sin by itself and also becomes the conduit of other grave sins. Similarly, when overpowering the addres¬see and demonstrating one&s intellectual superiority over people becomes the objective, that too becomes &the mother of evils& for one&s inward state. As a result, many spiritual crimes crop up, for example: envy, malice, arrogance, backbiting, spying on the faults of others, being pleased with their discomfort and being unhappy with their gain, haughty rejec¬tion of Truth, the attitude of not considering the position of others with justice and moderation, instead, worrying about a rebuttal, no matter how askance their interpretations from the Qur’ an and Sunnah are. These are dangers. Even serious religious scholars are affected by them. But, the problem is compounded when the thing starts affecting their followers when the intellectual exercise could turn into a physical one in progressive proportions. Inna lillahi wa inna ilaihi rajiun. Imam Shafii, may the mercy of Allah be upon him, said: |"Knowledge is a brotherhood of the learned. How do those who have turned knowledge into enmity could invite others to fol¬low their religion? When their sole objective is to dominate over others, how could they be expected to practice mutual at¬tachment, love and consideration? And for one what evil could be greater than that which drowns him in the morals of the hypocrites and deprives him of the morals of those who truly believe and fear Allah?|" Imam al-Ghazali said that a person who devotes himself to the &ilm of din and the da&wah of haqq revolves between two destinies. Either he, following correct principles and avoiding fatal dangers, achieves the eter¬nal good; or, otherwise, if he falls down from this station, he slides into eternal misfortune. That he would remain hanging in between these two states is too far out to entertain - because, knowledge which is not benefi¬cial is nothing but punishment. The Holy Prophet said: اَشدُّالنَّاسِ عَذَاباً یَّومَ القِیامۃِ عَالِمُ لَّم یَنفَعہُ اللہُ بِعِلمِہٖ On the day of Judgment, the person most severely punished, of all human beings, shall be an ` slim from whose knowledge A11ah has not given him any benefit. And in another Sahih Hadith, he said: فِی النَّارِ لا تَتَعَِلَّمُوا العِلمِ لِتُبَاھُوا بہِ العُلَمَآّء وَلِتُمِرُوا بہِ السُّفَھَآَء وَلِتَصرِفُوا بِہٖ وُجُوہَ النَّاس اِلَیکُم فَمَن فَعَلَ ذٰلِکَ فَھُوَ |"Do not learn the &Um (of din) to compete with the learned in pride and prestige nor to challenge the incompetent with it nor to make the faces of people turn towards you therewith. So whoever will do that, will be in the fire.|" (Ibn Majah, from the Hadith of Sayyidna Jabir with sound chains of authority as in Takhrij al-` Iraqi ` ala al-Ihya& ) Therefore, the standing creed (maslak) of authorities among Muslim jurists and the people on Truth (haqq) in this matter was that they never considered disputation and confrontation in intellectual issues as permissible. In the mission of inviting people to the Truth, it is enough to alert anyone considered to be in error, politely and sympathetically as a well-wisher, presenting one&s submission with necessary arguments. Then, should he accept, it is better. If otherwise, let him observe silence, totally avoiding altercation and adverse criticism. Let us turn to Imam Malik (رح) in this matter: کَانَ مَالِکُ عَّقُولُ المِرآُء وَالجدَالُ فِی العِلمِ یَذھبُ بنُورِ العِلم عَن قَلبِ العَبدِ – وَ قِیلَ لَہ : رَجُلۃ لَّہ عِلمُ بِالسُّنَّۃِ فَھَل یُجَادِلُ عَنھَا ؟ قَالَ : لَا وَلٰکِن یُّخبِرُ بِالسُّنَّۃِ فَاِن قُبِلَ مِنہُ وَ اِلَّا سکَتَ – (اوجچالمسالک شرح مؤطا ص 15) Imam Malik said: |"Altercation and confrontation in al-` ilm (the knowledge of din) drives away the light of knowledge from the heart of a servant.|" Someone submitted: &There is a person. who has the knowledge of Sunnah. Can he enter into debate for the protection of Sunnah?& He said, |"No. But, he should inform the addressee about the Sunnah (as it is). Then, should he ac¬cept it, good - otherwise, let him observe silence.|" (Awjaz al-Masalik Sharb al-Muwatta, v. 1, page 15) Ineffectiveness of Contemporary Da&wah Work There are two reasons why the work of Da&wah (invitation) and Islah (reform) is not fully effective. (1) Firstly, because of the increase of cor¬ruption in our time and the abundance of حرام Haram things, hearts of people have become generally hard, and heedless of the Hereafter - and the very ability to accept truth has become weak and low. And there are some who find themselves suffering from the curse the foreboding of which was given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He had said that, by the later times, the hearts of many people will turn upside down, all reversed. The ability to know good from bad, and the distinction of permissible and impermissible will vanish from their heart. (2) Then, negligence towards the duties of bidding the Fair and forbidding the Unfair and inviting people to the true faith has become common. Not to say much about people at large, there is not much realization of its need even among the learned and the righteous. It is assumed that correcting one&s own deed is just about enough whether their children, spouse, brother, friend remain smeared with all sorts of sins. The concern for their reform and betterment is as if no responsibility of theirs - although, the definite textual statements of the Holy Qur&an (nusus) are openly declaring that the betterment of one&s children, family and relatives is his responsibility: قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارً‌ا (Protect yourselves and your families from a Fire... - at-Tabrim, 66/6). As for some people who do pay attention to this duty, they do not know the teachings of the Qur&an and the principles and manners of prophetic Da&wah. They take it easy, go by their impulse and say anything to anybody anytime without ever thinking about it. By doing so, they surmise, they have done their duty - although, this method of action, being contrary to the blessed practice of prophets, further alienates people from the Faith and from following its dictates. Of particular mention is the habit of finding faults with others, mock¬ing at them or making fun of them all in the name of open criticism. Imam Shafi` i رحمۃ اللہ علیہ said: |"When alerting someone to some mistake (the rule is:) If you talked to him privately, explained it politely, then, this is &advice&; and if you disgraced him publicly, this is vice.” The publicizing of mutual defects has become so popular these days that negative advertising is being done as if it was some service rendered to the Faith. May Allah Ta&ala bless all of us the ability to serve our Faith with the best of insight into its Da&wah and its modalities. At this point ends our submission relating to Da&wah and its princi¬ples and etiquette. After that, we can move on to explain the last part of verse 125: إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (Surely, your Lord knows best the one who strays from His way, and He knows best the ones who are on the right path). This statement has been made to comfort those who carry the Call of their Faith because one is naturally shocked when the addres¬see does not accept the truth presented despite that all rules of Da&wah have been observed. And there are occasions when this could produce another effect. When one sees no benefit coming out of Da&wah, he can become disappointed, even leave the work itself. Therefore, in this sen¬tence, it was said:& Your duty is only to invite people to the Truth in ac¬cordance with its correct principles. Beyond that, its acceptance or rejec¬tion is something you have nothing to do with, nor is that one of your responsibilities. That falls in the domain of Allah alone. He knows who will remain astray and who will stand guided. You should not worry about it. Go on doing your duty. Do not lose hope. Do not despair.& This tells us that this sentence too is really a complement of the etiquette of Da&wah.

خلاصہ تفسیر : ربط آیات : سابقہ آیات میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کے اثبات سے مقصود یہ تھا کہ امت آپ کے احکام کی تعمیل کر کے رسالت کے حقوق ادا کریں مذکورہ آیات میں خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادائے رسالت کے حقوق اور آداب کی تعلیم ہے جس کے غموم میں تمام مؤمنین شریک ہیں مختصر تفسیر یہ ہے : آپ اپنے رب کی راہ (یعنی دین اسلام) کی طرف (لوگوں کو) حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ بلائیے (حکمت سے وہ طریقہ دعوت مراد ہے جس میں مخاطب کے احوال کی رعایت سے ایسی تدبیر اختیار کی گئی ہو جو مخاطب کے دل پر اثر انداز ہو سکے اور نصیحت سے مراد یہ ہے کہ خیرخواہی و ہمدردی کے جذبہ سے بات کہی جائے اور اچھی نصیحت سے مراد یہ ہے کہ عنوان بھی نرم ہو دل خراش توہین آمیز نہ ہو) اور ان کے ساتھ اچھے طریقہ سے بحث کیجئے (یعنی اگر بحث مباحثے کی نوبت آجائے تو وہ بھی شدت اور خشونت سے اور مخاطب پر الزام تراشی اور بےانصافی سے خالی ہونا چاہئے بس اتنا کام آپ کا ہے پھر اس تحقیق میں نہ پڑیئے کہ کس نے مانا کس نے نہیں مانا یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے پس) آپ کا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو بھی جو اس کے راستہ سے گم ہوگیا اور وہی راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے اور (اگر کبھی مخاطب علمی بحث و مباحثہ کی حد سے آگے بڑھ کر عملی جدال اور ہاتھ یا زبان سے ایذاء پہنچانے لگیں تو اس میں آپ کو اور آپ کے متبین کو بدلہ لینا بھی جائز ہے اور صبر کرنا بھی پس) اگر (پہلی صورت اختیار کرو یعنی) بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے (اس سے زیادتی نہ کرو) اور اگر (دوسری صورت یعنی ایذاؤں پر) صبر کرو تو وہ (صبر کرنا) صبر کرنے والوں کے حق میں بہت ہی اچھی بات ہے (کہ مخالف پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور دیکھنے والوں پر بھی اور آخرت میں موجب اجر عظیم ہے) اور (صبر کرنا اگرچہ سبھی کے لئے بہتر ہے مگر آپ کی عظمت شان کے لحاظ سے آپ کو خصوصیت کے ساتھ حکم ہے کہ آپ انتقام کی صورت اختیار نہ کریں بلکہ) آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا خدا ہی کی توفیق خاص سے ہے ّیعنی ان کے ایمان نہ لانے پر یا مسلمانوں کو ستانے) پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ تدبیریں کیا کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو جئے (ان کی مخالف تدبیروں سے آپ کا کوئی ضرر نہ ہوگا کیونکہ آپ کا احسان اور تقوی کی صفات حاصل ہیں اور) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے (یعنی ان کا مددگار ہوتا ہے) جو پرہیزگار ہوتے ہیں اور نیک کردار ہوتے ہیں۔ معارف و مسائل : دعوت و تبلیغ کے اصول اور مکمل نصاب : اس آیت میں دعوت و تبلیغ کا مکمل نصاب اس کے اصول اور آداب کی پوری تفصیل چند کلمات میں سموئی ہوئی ہے تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت ہرم ابن حیان کی موت کا وقت آیا تو عزیزوں نے درخواست کی کہ ہمیں کچھ وصیت فرمائیے تو فرمایا کہ وصیت تو لوگ اموال کی کیا کرتے ہیں وہ میرے پاس ہے نہیں لیکن میں تم کو اللہ کی آیات خصوصا سورة نحل کی آخری آیتوں کی وصیت کرتا ہوں کہ ان پر مضبوطی سے قائم رہو۔ وہ آیات یہی ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ دعوۃ کے لفظی معنی بلانے کے ہیں انبیاء (علیہم السلام) کا پہلا فرض منصبی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے پھر تمام تعلیمات نبوت و رسالت اسی دعوت کی تشریحات ہیں قرآن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاص صفت الی اللہ ہونا ہے، (آیت) وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا (احزاب ٤٦) يٰقَوْمَنَآ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ (احقاف ٣١) امت پر بھی آپ کے نقش قدم پر دعوت الی اللہ کو فرض کیا گیا ہے سورة آل عمران میں ارشاد ہے۔ (آیت) وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران ١٠٤) تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیں (یعنی) نیک کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں) اور ایک آیت میں ارشاد ہے : (آیت) وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ۔ گفتار کے اعتبار سے اس شخص سے اچھا کون ہوسکتا ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا : تعبیر میں کبھی اس لفظ کو دعوت الی اللہ کا عنوان دیا جاتا ہے اور کبھی دعوت الی الخیر کا اور کبھی دعوت الی سبیل اللہ کا حاصل سب کا ایک ہے کیونکہ اللہ کی طرف بلانے سے اس کے دین اور صراط مستقیم ہی کی طرف بلانا مقصود ہے۔ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی خاص صفت رب اور پھر اس کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اضافت میں اشارہ ہے کہ دعوت کا کام صفت ربوبیت اور تربیت سے تعلق رکھتا ہے جس طرح حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ کی تربیت فرمائی آپ کو بھی تربیت کے انداز سے دعوت دینا چاہئے جس میں مخاطب کے حالات کی رعایت کر کے وہ طرز اختیار کیا جائے کہ مخاطب پر بار نہ ہو اور اس کی تاثیر زیادہ سے زیادہ ہو خود لفظ دعوت بھی اس مفہوم کو ادا کرتا ہے کہ پیغمبر کا کام صرف اللہ کے احکام پہنچا دینا اور سنا دینا نہیں بلکہ لوگوں کو ان کی تعمیل کی طرف دعوت دینا ہے اور ظاہر ہے کہ کسی کو دعوت دینے والا اس کے ساتھ ایسا خطاب نہیں کیا کرتا جس سے مخاطب کو وحشت ونفرت ہو یا جس میں اس کے ساتھ استہزاء و تمسخر کیا گیا ہو۔ بِالْحِكْمَةِ لفظ حکمت قرآن کریم میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوا ہے اس جگہ بعض ائمہ تفسیر نے حکمت سے مراد قرآن کریم بعض نے قرآن وسنت بعض نے حجت قطیعہ کو قرار دیا ہے اور روح المعانی نے نے بحوالہ بحرمحیط حکمت کی تفسیر یہ کی ہے۔ انھا الکلام الصواب الواقع من اجمل موقع (روح) یعنی حکمت اس درست کلام کا نام ہے جو انسان کے دل میں۔ اس تفسیر میں تمام اقوال جمع ہوجاتے ہیں اور صاحب روح البیان نے بھی تقریبا یہی مطلب ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ حکمت سے مراد وہ بصیرت ہے جس کے ذریعہ انسان مقتضیات احوال کو معلوم کر کے اس کے مناسب کلام کرے وقت اور موقعہ ایسا تلاش کرے کہ مخاطب پر بار نہ ہو نرمی کی جگہ نرمی اور سختی کی جگہ سختی اختیار کرے اور جہاں یہ سمجھے کہ صراحۃ کہنے میں مخاطب کو شرمندگی ہوگی وہاں اشارات سے کلام کرے یا کوئی ایسا عنوان اختیار کرے کہ مخاطب کو نہ شرمندگی ہو اور نہ اس کے دل میں اپنے خیال پر جمنے کا تعصب پیدا ہو۔ وَالْمَوْعِظَةِ موعظۃ اور وعظ کے لغوی معنی یہ ہے کہ کسی خیر خواہی کی بات کو ایسی طرح کہا جائے کہ اس سے مخاطب کا دل قبولیت کے لئے نرم ہوجائے مثلا اس کے ساتھ قبول کرنے کے ثواب و فوائد اور نہ کرنے کے عذاب ومفاسد ذکر کئے جائیں (قاموس ومفردات راغب) الْحَسَنَةِ کے معنی یہ ہیں کہ بیان اور عنوان بھی ایسا ہو جس سے مخاطب کا قلب مطمئن ہو اس کے شکوک و شبہات دور ہوں اور مخاطب یہ محسوس کرے کہ آپ کی اس میں کوئی غرض نہیں صرف اس کی خیرخواہی کے لئے کہہ رہے ہیں، مَوْعِظَةِ کے لفظ سے خیر خواہی کی بات مؤ ثر انداز میں کہنا تو واضح ہوگیا تھا مگر خیر خواہی کی بات بعض اوقات دل خراش عنوان سے یا اس طرح بھی کہی جاتی ہے جس سے مخاطب اپنی اہانت محسوس کرے (روح المعانی اس طریقہ کو چھوڑنے کے لئے حسنہ کا اضافہ کردیا گیا۔ (آیت) وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ لفظ جادل، مجادلہ سے مشتق ہے اس جگہ مجادلہ سے مراد بحث ومناظرہ ہے اور بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ سے مراد یہ ہے کہ اگر دعوت میں کہیں بحث ومناظرہ کی ضرورت پیش آجائے تو وہ مباحثۃ بھی اچھے طریقہ سے ہونا چاہئے روح المعانی میں ہے کہ اچھے طریقہ سے یہ مراد ہے کہ گفتگو میں لطف اور نرمی اختیار کی جائے دلائل ایسے پیش کئے جائیں جو مخاطب آسانی سے سمجھ سے دلیل میں یہ مقدمات پیش کئے جائیں جو مشہور و معروف ہوں تاکہ مخاطب کے شکوک دور ہوں اور وہ ہٹ دھرمی کے راستہ پر نہ جائے اور قرآن کریم کی دوسری آیات اس پر شاہد ہیں کہ یہ احسان فی المجادلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں اہل کتاب کے بارے میں تو خصوصیت کے ساتھ قرآن کا ارشاد ہے (آیت) وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ اور دوسری آیت میں حضرت موسیٰ وھارون (علیہما السلام) کو (آیت) فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا۔ کی ہدایت دے کر یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون جیسے سرکش کافر کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرنا ہے۔ دعوت کے اصول وآداب : آیت مذکورہ میں دعوت کے تین چیزوں کا ذکر ہے۔ اول حکمت۔ دوسرے موعظۃ حسنہ تیسرے مجادلہ بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ تین چیزیں مخاطبین کی تین قسموں کی بنا پر ہیں دعوت بالحکمۃ اہل علم وفہم کے لئے دعوت بالموعظہ عوام کے لئے مجادلہ ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں شکوک و شبہات ہوں یا جو عناد اور ہٹ دھرمی کے سبب بات ماننے سے منکر ہوں۔ سیدی حضرت حکیم الامۃ تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ ان تین چیزوں کے مخاطب الگ الگ تین قسم کی جماعتیں ہونا سیاق آیت کے لحاظ سے بعید معلوم ہوتا ہے انتہی۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آداب دعوت ہر ایک کے لئے استعمال کرنے ہیں کہ دعوت میں سب سے پہلے حکمت سے مخاطب کے حالات کا جائزہ لے کر اس کے مناسب کلام تجویز کرنا ہے پھر اس کلام میں خیر خواہی و ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ ایسے شواہد اور دلائل سامنے لانا ہے جن سے مخاطب مطمئن ہو سکے اور طرز بیان و کلام ایسا مشفقانہ اور نرم رکھنا ہے کہ مخاطب کو اس کا یقین ہوجائے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں میری ہی مصلحت اور خیرخواہی کے لئے کہہ رہے ہیں مجھے شرمندہ کرنا یا میری حیثیت کو مجروح کرنا ان کا مقصد نہیں۔ البتہ صاحب روح المعانی نے اس جگہ ایک نہایت لطیف نکتہ یہ بیان فرمایا کہ آیت کے نسق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصول دعوت اصل میں دو ہی چیزیں ہیں حکمت اور موعظت تیسری چیز مجادلہ، اصول دعوت میں داخل نہیں ہاں طریق دعوت میں کبھی اس کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ صاحب روح المعانی کا استدلال اس پر یہ ہے کہ اگر یہ تینوں چیزیں اصول دعوت ہوتیں تو مقتضائے مقام یہ تھا کہ تینوں چیزوں کو عطف کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاتا بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ والجدال الاحسن مگر قرآن حکیم نے حکمت وموعظت کو تو عطف کے ساتھ ایک ہی نسق میں بیان فرمایا اور مجادلہ کے لئے الگ جملہ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭاختیار کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجادلہ فی العلم دراصل دعوت الی اللہ کا رکن یا شرط نہیں بلکہ طریق دعوت میں پیش آنے والے معاملات کے متعلق ایک ہدایت ہے جیسا کہ اس کے بعد کی آیت میں صبر کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ طریق دعوت میں لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کرنا ناگزیر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصول دعوت دو چیزیں ہیں حکمت اور موعظت جن سے کوئی دعوت خالی نہ ہونا چاہئے خواہ علماء و خواص کو ہو یا عوام الناس کو البتہ دعوت میں کسی وقت ایسے لوگوں سے بھی سابقہ پڑجاتا ہے جو شکوک واوہام میں مبتلا اور داعی کے ساتھ بحث مباحثہ پر آمادہ ہیں تو ایسی حالت میں مجادلہ کی تعلیم دی گئی مگر اس کے ساتھ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭکی قید لگا کر بتلا دیا کہ جو مجادلہ اس شرط سے خالی ہو اس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔ دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ آداب : دعوت الی اللہ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کا منصب ہے امت کے علماء اس منصب کو ان کا نائب ہونے کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں تو لازم یہ ہے کہ اس کے آداب اور طریقے بھی انہی سے سیکھیں جو دعوت ان طریقوں پر نہ رہے وہ دعوت کے بجائے عداوت اور جنگ وجدال کا موجب ہوجاتی ہے۔ دعوت پیغمبرانہ کے اصول میں جو ہدایت قرآن کریم میں حضرت موسیٰ و ہارون کے لئے نقل کی گئی ہے کہ (آیت) فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى یعنی فرعون سے نرم بات کرو شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے یہ ہر داعی حق کو ہر وقت سامنے رکھنا ضروری ہے کہ فرعون جیسا سرکش کافر جس کی موت بھی علم الہی میں کفر ہی پر ہونے والی تھی اس کی طرف بھی جب اللہ تعالیٰ اپنے داعی کو بھیجتے ہیں تو نرم گفتار کی ہدایت کے ساتھ بھیجتے ہیں آج ہم جن لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ فرعون سے زیادہ گمراہ نہیں اور ہم میں سے کوئی موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے برابر ہادی وداعی نہیں تو جو حق تعالیٰ نے اپنے دونوں پیغمبروں کو نہیں دیا کہ مخاطب سے سخت کلامی کریں اس پر فقرے کسیں اس کی توہین کریں وہ حق تعالیٰ ہمیں کہاں سے حاصل ہوگیا۔ قرآن کریم انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت و تبلیغ اور کفار کے مجادلات سے بھرا ہوا ہے اس میں کہیں نظر نہیں آتا کہ کسی اللہ کے رسول نے حق کے خلاف ان پر طعنہ زنی کرنیوالوں کے جواب میں کوئی ثقیل کلمہ بھی بولا ہو اس کی چند مثالیں دیکھئے۔ سورة اعراف کے ساتویں رکوع میں آیات ٥٩ سے ٦٧ تک دو پیغمبر حضرت نوح اور حضرت ہود (علیہما السلام) کے ساتھ ان کی قوم کے مجادلے اور سخت سست الزامات کے جواب میں ان بزرگوں کے کلمات قابل ملاحظہ ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے وہ الوالعزم پیغمبر ہیں جن کی طویل عمر دنیا میں مشہور ہے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کی دعوت و تبلیغ اصلاح و ارشاد میں دن رات مشغول رہے مگر اس بدبخت قوم میں سے معدودے چند کے علاوہ کسی نے ان کی بات نہ مانی اور تو اور خود ان کا ایک لڑکا اور بیوی کافروں کے ساتھ لگے رہے ان کی جگہ آج کا کوئی مدعی دعوت و اصلاح ہوتا تو اس قوم کے ساتھ اس کا لب و لہجہ کیسا ہوتا اندازہ لگائیے پھر دیکھئے کہ ان کی تمام ہمدردی وخیر خواہی کی دعوت کے جواب میں قوم نے کیا کہا۔ (آیت) اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (اعراف) ہم تو آپ کو کھلی ہوئی گمراہی میں پاتے ہیں۔ ادھر سے اللہ کے پیغمبر بجائے اس کے کہ اس سرکش قوم کی گمراہیوں، بدکاریوں کا پردہ چاک کرتے جواب میں کیا فرماتے ہیں۔ (آیت) يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ میرے بھائیو ! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں میں تو رب العلمین کا رسول اور قاصد ہوں (تمہارے فائدہ کی باتیں بتلاتا ہوں) ان کے بعد آنے والے دوسرے اللہ کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے معجزات دیکھنے کے باوجود از راہ عناد کہا کہ آپ نے اپنے دعوے پر کوئی دلیل پیش نہیں کی اور ہم آپ کے کہنے سے اپنے معبودوں (بتوں) کو چھوڑنے والے نہیں ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے معبودوں کی شان میں بےادبی کی ہے اس کی وجہ سے تم جنون میں مبتلا ہوگئے ہو حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ سب کچھ سن کر جواب دیا۔ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ یعنی میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان بتوں سے بری اور بیزار ہوں جن کو تو اللہ کا شریک مانتے ہو ( سورة ہود) اور سورة اعراف میں ہے کہ ان کی قوم نے ان کو کہا : اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ (اعراف) ہم تو آپ کو بیوقوفی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ قوم کے اس دل آزار خطاب کے جواب میں اللہ کے رسول ہود (علیہ السلام) نہ ان پر کوئی فقرہ کستے ہیں نہ ان کی بےراہی اور کذب وافترا علی اللہ کی کوئی بات کہتے ہیں جواب کیا ہے صرف یہ کہ (آیت) يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ سَفَاهَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ (اعراف) اے میری برادری کے لوگو مجھ میں بےوقوفی یا کم عقلی نہیں میں تو رب العلمین کا رسول ہوں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو حسب دستور انبیاء اللہ کی طرف دعوت دی اور ان میں جو بڑا عیب ناپ تول میں کمی کرنے کا تھا اس سے باز آنے کی ہدایت فرمائی تو ان کی قوم نے تمسخر کیا اور توہین آمیز خطاب کیا) (آیت) يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤ ُ ا ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور یہ کہ جن اموال کے ہم مالک ہیں ان میں اپنی مرضی کے موافق جو چاہیں نہ کریں واقعی آپ ہیں بڑے عقلمند دین پر چلنے والے۔ انہوں نے ایک تو یہ طعنہ دیا کہ تم جو نماز پڑھتے ہو یہی تمہیں بےوقوفی کے کام سکھاتی ہے دوسرے یہ کہ مال ہمارے ہیں ان کی خریدو فروخت کے معاملات میں تمہارا یا خدا کا کیا دخل ہے ہم جس طرح چاہیں ان میں تصرف کا حق رکھتے ہیں تیسرا جملہ تمسخر و استہزاء کا یہ کہا کہ آپ ہیں بڑی عقلمند بہت دین پر چلنے والے۔ معلوم ہوا کہ یہ لا دینی معاشیات کے پجاری صرف آج نہیں پیدا ہوئے ان کے بھی کچھ اسلاف ہیں جن کا نظریہ وہی تھا جو آج کے بعض نام کے مسلمان کہہ رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اسلام مانتے ہیں مگر معاشیات میں ہم سوشل ازم کو اختیار کرتے ہیں اس میں اسلام کا کیا دخل ہے بہرحال اس ظالم قوم کے اس مسخرے پن اور دل آزار گتفگو کا جواب اللہ کا رسول کیا دیتا ہے دیکھئے : (آیت) قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا ۭ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ۭ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ ( سورة ھود آیت ٨٨) اے میری قوم ! بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے عمدہ دولت یعنی نبوت دی ہو تو پھر میں کیسے اس کی تبلیغ نہ کروں اور میں خود بھی تو اس کے خلاف کوئی عمل نہیں کرتا جو تمہیں بتلاتا ہوں میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میری قدرت میں ہے اور مجھ کو جو کچھ اصلاح اور عمل کی توفیق ہوجاتی ہے وہ صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور تمام امور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنے کے وقت جو نرم گفتار کی ہدایت منجانب اللہ دی گئی تھی اس کی پوری تعمیل کرنے کے باوجود فرعون کا خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ تھا۔ (آیت) قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِـنِيْنَ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِيْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ ( سورة شعراء) فرعون کہنے لگا (اہا تم ہو) کیا ہم نے تم کو بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تم اس عمر میں برسوں ہمارے پاس رہا سہا کئے اور تم نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی (یعنی قبطی کو قتل کیا تھا) اور تم بڑی ناشکرے ہو۔ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنا یہ احسان بھی جتلایا کہ بچپن میں ہم نے تجھے پالا ہے پھر یہ احسان بھی جتلایا کہ بڑے ہونے کے بعد بھی کافی مدت تک تم ہمارے پاس رہے پھر یہ عتاب کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جو ایک قبطی بغیر ارادہ قتل کے مارا گیا تھا اس پر غصہ وناراضی کا اظہار کر کے یہ بھی کہا کہ تم کافروں میں سے ہوگئے۔ یہاں کافروں میں سے ہونے کے لغوی معنی بھی ہو سکتے ہیں یعنی ناشکری کرنے والا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تم پر احسانات کئے اور تم نے ہمارے ایک آدمی کو مار ڈالا جو احسان کی ناشکری تھی اور اصطلاحی معنی بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ فرعون خود خدائی کا دعویدار تھا تو جو اس کی خدائی کا منکر ہوا وہ کافر ہوا۔ اب اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سنئے جو پیغمبرانہ آداب دعوت اور پیغمبرانہ اخلاق کا شاہکار ہے کہ اس میں سب سے پہلے تو اس کمزوری اور کوتاہی کا اعتراف کرلیا جو ان سے سرزد ہوگئی تھی یعنی اسرائیلی آدمی سے لڑنے والے قبطی کو ہٹانے کے لئے ایک مکا اس کے مارا تھا جس سے وہ مرگیا تو گو یہ قتل عمدا ارادۃ نہیں تھا مگر کوئی دینی تقاضا بھی نہیں تھا بلکہ شریعت موسوی کے لحاظ سے بھی وہ شخص قتل کا مستحق نہیں تھا اس لئے پہلے یہ اعتراف فرمایا۔ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ ( سورة شعراء) یعنی میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ میں ناواقف تھا۔ مراد یہ ہے کہ یہ فعل عطاء نبوت سے پہلے سرزد ہوگیا تھا جب کہ مجھے اس بارے میں اللہ کا کوئی حکم معلوم نہیں تھا اس کے بعد فرمایا۔ فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِيْ رَبِّيْ حُكْمًا وَّجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ( سورة شعراء) پھر مجھ کو ڈر لگا تو میں تمہارے یہاں سے مفرور ہوگیا پھر مجھ کو میرے رب نے دانشمندی عطا فرمائی اور مجھ کو اپنی پیغمبروں میں شامل کردیا۔ پھر اس کے احسان جتلانے کا جواب یہ دیا کہ تمہارا یہ احسان جتانا صحیح نہیں کیونکہ میری پرورش کا معاملہ تمہارے ہی ظلم وعدوان کا نتیجہ تھا کہ تم نے اسرائیلی بچوں کے قتل کا حکم دے رکھا تھا اس لئے والدہ نے مجبور ہو کر مجھے دریا میں ڈالا اور تمہارے گھر تک پہنچنے کی نوبت آئی فرمایا۔ وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ( سورة شعراء) (رہا احسان جتلانا پرورش کا) وہ نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت میں ڈال رکھا تھا۔ اس کے بعد فرعون نے جب سوال کیا وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی رب العالمین کون ہے اور کیا ہے ؟ تو جواب میں فرمایا کہ وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سب کا اس پر فرعون نے بطور استہزاء کے حاضرین سے کہا اَلَا تَسْمَعُوْنَ یعنی تم سن رہے ہو کہ یہ کیسی بےعقلی کی باتیں کہہ رہے ہیں اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ (آیت) رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ (یعنی تمہارا اور تمہارے باپ دادوں کا بھی وہی رب پروردگار ہے۔ اس پر فرعون نے جھنجھلا کر کہا : (آیت) اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ یعنی یہ جو تمہاری طرف اللہ کے رسول ہونے کا مدعی ہے وہ دیوانہ ہے۔ مجنون دیوانہ کا خطاب دینے پر بھی موسیٰ (علیہ السلام) بجائے اس کے کہ ان کا دیوانہ ہونا اور اپنا عاقل ہونا ثابت کرتے اس طرف کوئی التفات ہی نہیں کیا بلکہ اللہ رب العلمین کی ایک اور صفت بیان فرما دی۔ (آیت) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭاِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ( سورة شعراء) وہ رب ہے مشرق و مغرب کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تم کو کچھ عقل ہو۔ یہ ایک طویل مکالمہ ہے جو فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہو رہا ہے جو سورة شعراء کے تین رکوع میں بیان ہوا ہے اللہ کے مقبول رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس مکالمہ کو اول سے آخر تک دیکھئے نہ کہیں جذبات کا اظہار ہے نہ اس کی بدگوئی کا جواب ہے نہ اس کی سخت کلامی کے جواب میں کوئی سخت کلمہ ہے بلکہ مسلسل اللہ جل شانہ کی صفات کمال کا بیان ہے اور تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ مختصر سا نمونہ ہے انبیاء (علیہم السلام) کے مجادلات کا جو اپنے معاند اور ضدی قوم کے مقابلہ میں کئے گئے ہیں اور مجادلہ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ جو قرآن کی تعلیم ہے اس کی عملی تشریح ہے۔ مجادلات کے علاوہ دعوت و تبلیغ میں ہر مخاطب اور ہر موقع کے مناسب کلام کرنے میں حکیمانہ اصول اور عنوان و تعبیر میں حکمت و مصلحت کی رعایتیں بھی جو انبیاء (علیہم السلام) نے اختیار فرمائی ہیں اور دعوت الی اللہ کو مقبول ومؤ ثر اور پائیدار بنانے کے لئے جو طرز عمل اختیار فرمایا ہے وہی دراصل دعوت کی روح ہے اس کی تفصیلات تو تمام تعلیمات نبوی (علیہ السلام) میں پھیلی ہوئی ہیں نمونے کے طور پر چند چیزیں دیکھئے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت میں اس کا بڑا لحاظ رہتا تھا کہ مخاطب پر بار نہونے پائے صحابہ کرام (رض) اجمعین جیسے عشاق رسول جن سے کسی وقت بھی اس کا احتمال نہ تھا کہ وہ آپ کی باتیں سننے سے اکتا جائیں گے ان کے لئے بھی آپ کی عادت یہ تھی کہ وعظ و نصیحت روزانہ نہیں بلکہ ہفتہ کے بعض دنوں میں فرماتے تھے تاکہ لوگوں کے کاروبار کا حرج اور ان کی طبیعت پر بار نہ ہو۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہفتہ کے بعض ایام ہی میں وعظ فرماتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں اور دوسروں کو بھی آپ کی طرف سے یہی ہدایت تھی حضرت انس (رض) کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یسروا ولا تعسروا وبشروا ولا تنفروا (صحیح بخاری کتاب العلم) لوگوں پر آسانی کرو دشواری نہ پیدا کرو اور ان کو اللہ کی رحمت کی خوشخبری سناؤ مایوس یا متنفر نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں تمہیں چاہئے کہ ربانی حکماء علماء اور فقہاء بنو۔ صحیح بخاری میں یہ قول نقل کر کے لفظ ربانی کی یہ تفسیر فرمائی کہ جو شخص دعوت و تبلیغ اور تعلیم میں تربیت کے اصول کو ملحوظ رکھ کر پہلے احکام بتلائے جو ابتدائی مرحلے میں مشکل ہوتے وہ عالم ربانی ہے آج کل جو وعظ و تبلیغ کا اثر بہت کم ہوتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عموما اس کام کرنے والے ان اصول و اداب کی رعایت نہیں کرتے لمبی تقریریں وقت بےوقت نصحیت مخاطب کے حالات کو معلوم کئے بغیر اس کو کسی کام پر مجبور کرنا ان کی عادت بن گئی ہے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت و اصلاح کے کام میں اس کا بھی بڑا اہتمام تھا کہ مخاطب کی سبکی یا رسوائی نہ ہو اسی لئے جب کسی شخص کو دیکھتے کہ کسی غلط اور برے کام میں مبتلا ہے تو اس کو براہ راست خطاب کرنے کے بجائے مجمع عام کو مخاطب کر کے فرماتے تھے۔ مابال اقوام یفعلون کذا : لوگوں کو کیا ہوگیا کہ فلاں کام کرتے ہیں۔ اس عام خطاب میں جس کو سنانا اصل مقصود ہوتا وہ بھی سن لیتا اور دل میں شرمندہ ہو کر اس کے چھوڑنے کی فکر میں لگ جاتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی عام عادت یہی تھی کہ مخاطب کو شرمندگی سے بچاتے تھے اسی لئے بعض اوقات جو کام مخاطب سے سرزد ہوا ہے اسی کو اپنی طرف منسوب کر کے اصلاح کی کوشش فرماتے۔ سورة یسین میں ہے وَمَالِيَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ یعنی مجھے کیا ہوگیا کہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت نہ کروں ظاہر ہے کہ یہ قاصد رسول تو ہر وقت عبادت میں مشغول تھے سنانا اس مخاطب کو تھا جو مشغول عبادت نہیں ہے مگر اس کام کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ اور دعوت کے معنی دوسرے کو اپنے پاس بلانا ہے محض اس کے عیب بیان کرنا نہیں اور یہ بلانا اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ متکلم اور مخاطب میں کوئی اشتراک ہو اسی لئے قرآن عزیز میں انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کا عنوان اکثر یا قوم سے شروع ہوتا ہے جس میں برادرانہ رشتہ کا اشتراک پہلے جتلا کر اگے اصلاحی کلام کیا جاتا ہے کہ ہم تم تو ایک ہی برادری کے آدمی ہیں کوئی منافرت نہیں ہونی چاہئے یہ کہہ کر ان کی اصلاح کا کام شروع فرماتے ہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دعوت کا خط ہرقل شاہ روم کے نام بھیجا اس میں اول تو شاہ روم کو عظیم الروم کے لقب سے یاد فرمایا جس میں اس کا جائز اکرام ہے کیونکہ اس میں اس کے عظیم ہونے کا اقرار بھی ہے مگر رومیوں کے لئے اپنے لئے نہیں اس کے بعد ایمان کی دعوت اس عنوان سے دی گئی۔ (آیت) تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ ( سورة آل عمران) جس میں پہلے آپس کا ایک مشترک نقطہ و حدت ذکر کیا کہ توحید کا عقیدہ ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اس کے بعد عیسائیوں کی غلطی پر متنبہ فرمایا۔ تعلیمات رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دھیان دیا جائے تو ہر تعلیم دعوت میں اسی طرح کہ آداب و اصول ملیں گے آج کل اول تو دعوت و اصلاح اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی طرف دھیان ہی نہ رہا اور جو اس میں مشغول بھی ہیں انہوں نے صرف بحث و مباحثہ اور مخالف پر الزام تراشی فقرے کسنے اور اس کی تحقیر و توہین کرنے کو دعوت و تبلیغ سمجھ لیا ہے جو خلاف سنت ہونے کی وجہ سے کبھی مؤ ثر ومفید نہیں ہوتا وہ سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی بڑی خدمت کی اور حقیقت میں وہ لوگوں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ مروجہ مجادلات کی دینی اور دنیوی مضرتیں : آیت مذکورہ کی تفسیر میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اصل مقصود شرع دعوت الی اللہ ہے۔ جس کے دو اصول ہیں حکمت موعظت حسنہ مجادلہ کی صورت کبھی سر آپڑے تو اس کے لئے بھی احسن کی قید لگا کر اجازت دے دیگئی ہے مگر وہ حقیقۃ دعوت کا کوئی شعبہ نہیں بلکہ اس کے منفی پہلو کی ایک تدبیر ہے جس میں قرآن کریم میں بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ کی قید لگا کر جس طرح یہ بتلا دیا ہے کہ وہ نرمی خیر خواہی اور ہمدری کے جذبے سے ہونا چاہئے اور اس میں دلائل واضحہ مخاطب کے مناسب حال بیان کرنا چاہئے مخاطب کی توہین و تحقیر سے کلی اجتناب کرنا چاہئے اسی طرح اس کے احسن ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود متکلم کے لئے مضر نہ ہوجائے کہ اس میں اخلاق رذیلہ حسد بغض تکبر جاہ پسندی وغیرہ پیدا نہ ہوجائے جو باطنی گناہ کبیرہ ہیں اور آج کل کے بحث و مباحثہ مناضرہ مجادلہ میں شاذو نادر ہی کوئی اللہ کا بندہ ان سے نجات پائے تو ممکن ہے ورنہ عادۃ ان سے بچنا سخت دشوار ہے۔ امام غزالی نے فرمایا کہ جس طرح شراب ام الخبائث ہے کہ خود بھی بڑا گناہ ہے اور دوسرے بڑے بڑے جسمانی گناہوں کا ذریعہ بھی ہے اسی طرح بحث و مباحثہ میں جب مقصود مخاطب پر غلبہ پانا اور اپنا علمی تفوق لوگوں پر ظاہر کرنا ہوجائے تو وہ بھی باطن کے لئے ام الخبائث ہے جس کے نتیجہ میں بہت سی روحانی جرائم پیدا ہوتے ہیں مثلا حسد بغض تکبر غیبت دوسرے کے عیوب کا تجسس اس کی برائی سے خوش اور بھلائی سے رنجیدہ ہونا قبول حق سے استکبار دوسرے کے قول پر انصاف اعتدال کے ساتھ غور کرنے کے بجائے جواب دہی کی فکر خواہ اس میں قرآن وسنت میں کیسی ہی تاویلات کرنا پڑیں یہ تو وہ مہلکات ہیں جن میں باوقار علماء ہی مبتلاء ہوتے ہیں اور معاملہ جب ان کے متبعین میں پہنچتا ہے تو دست و گریبان اور جنگ وجدال کے معرکے گرم ہوجاتے ہیں انا للہ حضرت امام شافعی نے فرمایا : علم تو اہل علم وفضل کے مابین ایک رحم متصل (رشتہ اخوت و برادری) ہے تو وہ لوگ جنہوں نے علم ہی کو عداوت بنا لیا ہے وہ دوسروں کو اپنے مذہب کی اقتداء کی دعوت کس طرح دیتے ہیں ان کے پیش نظر دوسرے پر غلبہ پانا ہی ہے تو پھر ان سے باہمی انس ومودت اور مروت کا تصور کیسے کیا جاسکتا ہے اور ایک انسان کے لئے اس سے بڑھ کر شر اور برائی اور کیا ہوگی کہ وہ اس کو منافقین کے اخلاق میں مبتلا کردے اور مؤمنین ومتقین کے اخلاق سے محروم کر دے۔ امام عزالی نے فرمایا کہ علم دین اور دعوت حق میں اشتغال رکھنے والا یا تو اصول صحیحہ کے تابع اور مہلک خطرات سے متجنب رہ کر سعادت ابدی حاصل کرلیتا ہے یا پھر اس مقام سے گرتا ہے تو شقاوت ابدی کی طرف جاتا ہے اس کا درمیان میں رہنا بہت مستبعد ہے کیونکہ جو علم نافع نہ ہو وہ عذاب ہی ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ اشد الناس عذابا یوم القیمۃ عالم لم ینفعہ اللہ بعلمہ۔ سب سے سخت عذاب میں قیامت کے دن وہ عالم ہوگا جس کے علم سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع نہ بخشا ہو۔ ایک دوسری حدیث صحیح میں ہے : لاتتعلموا العلم لتباھوا بہ العلمآء ولتماروابہ السفھآء ولتصرفوا بہ وجوہ الناس الیکم فمن فعل ذلک فھو فی النار (ابن حدیث جابر باسناد صحیح کذا فی تخریج العراقی علی الاحیاء) علم دین کو اس غرض سے نہ سیکھو کہ اس کے ذریعہ دوسرے علماء کے مقابلہ میں فخر و عزت حاصل کرو یا کم علم لوگوں سے جھگڑے کرو یا اس کے ذریعہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرلو اور جو ایسا کرے گا وہ آگ میں ہے۔ اسی لئے ائمہ فقہاء اور اہل حق کا مسلک اس معاملے میں یہ تھا کہ علمی مسائل میں جھگڑا اور جدال ہرگز جائز نہیں سمجھتے تھے دعوت حق کے لئے اتنا کافی ہے کہ جس کو خطاء پر سمجھے اس کو نرمی اور خیر خواہی کے عنوان سے دلائل کے ساتھ اس کی خطاء پر متنبہ کر دے پھر وہ قبول کرلے تو بہتر ورنہ سکوت اختیار کرے جھگڑے اور بدگوئی سے کلی احتراز کرے حضرت امام مالک کا ارشاد ہے۔ کان مالک یقول المرآء و الجدال فی العلم یذھب بنور العلم عن قلب العبد وقیل لہ رجل لہ علم بالسنۃ فہل یجادل عنہا قال لا ولکن یخبر بالسنۃ فان قبل منہ والا سکت (او جزالمسالک شرح مؤ طا ص ١٥ ج ١) امام مالک نے فرمایا کہ علم میں جھگڑا اور جدال نور علم کو انسان کے قلب سے نکال دیتا ہے کسی نے عرض کیا کہ ایک شخص جس کو سنت کا علم ہو کیا وہ حفاظت سنت کیلئے جدال کرسکتا ہے فرمایا نہیں بلکہ اس کو چاہئے کہ مخاطب کو صحیح بات سے آگاہ کر دے پھر وہ قبول کرلے تو بہتر ورنہ سکوت اختیار کرے اس زمانے میں دعوت و اصلاح کا کام پوری طرح مؤ ثر نہ ہونے کے دو سبب ہیں۔ ایک تو یہ کہ فساد زمانہ اور حرام چیزوں کی کثرت کے سبب عام طور پر لوگوں کے قلوب سخت اور آخرت سے غافل ہوگئے ہیں اور قبول حق کی توفیق کم ہوگئی ہے اور بعض تو اس قہر میں مبتلا ہیں جس کی خبر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی تھی کہ آخر زمانے میں بہت سے لوگوں کے قلوب اوندھے ہوجائیں گے بھلے برے کی پہچان اور جائز و ناجائز کا امتیاز ان کے دل سے اٹھ جائے گا۔ اور دوسرے سبب یہ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور دعوت حق کے فرائض سے غفلت عام ہوگئی ہے عوام کا تو کیا ذکر خواص علماء وصلحاء میں اس ضرورت کا احساس بہت کم ہے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اپنے اعمال درست کر لئے جائیں تو یہ کافی ہے خواہ ان کی اولاد بیوی بھائی دوست احباب کیسے ہی گناہوں میں مبتلا رہیں ان کی اصلاح کی فکر گویا ان کے ذمہ ہی نہیں حالانکہ قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ ہر شخص کے ذمہ اپنے اہل و عیال اور متعلقین کی اصلاح کو فرض قرار دے رہی ہیں قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا اور پھر اگر کچھ لوگ دعوت و اصلاح کے فریضہ کی طرف توجہ دیتے بھی ہیں تو وہ قرآنی تعلیمات اور دعوت پیغمبرانہ کے اصول وآداب سے ناآشنا ہیں بےسوچے سمجھے جس کو جس وقت جو چاہا کہہ ڈالا اور یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے حالانکہ یہ طرز عمل سنت انبیاء کے خلاف ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دین اور احکام دین پر عمل کرنے سے اور زیادہ دور پھینک دیتا ہے۔ خصوصا جہاں کسی دوسرے پر تنقید کا نام لے کر تنقیص اور استہزاء و تمسخر تک پہنچ جاتے ہیں حضرت امام شافعی نے فرمایا : جس شخص کو کسی غلطی پر متنبہ کرنا ہے اگر تم نے اس کو تنہائی میں نرمی کے ساتھ سمجھایا تو یہ نصیحت ہے اور اگر علانیہ لوگوں کے سامنے اس کو رسوا کیا تو یہ فضیحت ہے۔ آج کل تو ایک دوسرے کے عیوب کو اخباروں اشتہاروں کے ذریعے منظر عام پر لانے کو دین کی خدمت سمجھ لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین اور اس کی دعوت کی صحیح بصیرت اور آداب کے مطابق اس کی توفیق عطا فرمائیں۔ یہاں تک دعوت کے اصول اور آداب کا بیان ہوا اس کے بعد فرمایا (آیت) اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ يَّضِلُّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۚ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ یہ جملہ داعیان دین کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا ہے کیونکہ مذکور الصدر آداب دعوت کو استعمال کرنے باوجود جب مخاطب حق بات کو قبول نہ کرے تو طبعی طور پر انسان کو سخت صدمہ پہنچتا ہے اور بعض اوقات اس کا یہ اثر بھی ہوسکتا ہے کے کہ دعوت کا فائدہ نہ دیکھ کر آدمی پر مایوسی طاری ہوجائے اور کام ہی چھوڑ بیٹھے اس لئے اس جملے میں یہ فرمایا کہ آپ کا کام صرف دعوت حق کو اصول صحیحہ کے مطابق ادا کردینا ہے آگے اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا اس میں نہ آپ کا کوئی دخل ہے نہ آپ کی ذمہ داری وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے وہی جانتا ہے کہ کون گمراہ رہے گا اور کون ہدایت پائے گا آپ اس فکر میں نہ پڑیں اپنا کام کرتے رہیں اس میں ہمت نہ ہاریں مایوس نہ ہوں اس سے معلوم ہوا کہ یہ جملہ بھی آداب دعوت ہی کا تکملہ ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ١٢٥؁ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کاموں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لہزا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ وعظ الوَعْظُ : زجر مقترن بتخویف . قال الخلیل . هو التّذكير بالخیر فيما يرقّ له القلب، والعِظَةُ والمَوْعِظَةُ : الاسم . قال تعالی: يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] ( و ع ظ ) الوعظ کے معنی ایسی زجر تو بیخ کے ہیں جس میں خوف کی آمیزش ہو خلیل نے اس کے معنی کئے ہیں خیر کا اس طرح تذکرہ کرنا جس سے دل میں رقت پیدا ہوا عظۃ وموعضۃ دونوں اسم ہیں قرآن میں ہے : ۔ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو ۔ جدل الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] ( ج د ل ) الجدال ( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٥) اور آپ اپنے پروردگار کے دین کی طرف قرآن حکیم اور قرآن حکیم کی نصیحت آمیز آیتوں کے ذریعے سے لوگوں کو بلائیے اور ان کے ساتھ قرآن کریم اور کلمہ لا الہ الا اللہ “۔ کے طریقہ سے بحث کیجیے آپ کا رب اس شخص کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو اس کے دین سے گمراہ ہوا اور وہی اپنے دین پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٥ (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ) یہ دعوت الی الحق کا طریقہ اور اس کے آداب کا ذکر ہے جیسا کہ سورة یوسف ‘ آیت ١٠٨ میں فرمایا گیا : (قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِقف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ) ” ( اے نبی ! ) آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں خود بھی اور میرے پیروکار بھی (اس راستے پر گامزن ہیں) ۔ “ (اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ ) اپنے موضوع کے حوالے سے یہ بہت عظیم آیت ہے۔ اس میں انسانی معاشرے کے اندر انسانوں کی تین بنیادی اقسام کے حوالے سے دعوت دین کے تین مدارج بیان کیے گئے ہیں ‘ مگر عام طور پر اس آیت کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی معاشرے میں علم و دانش کی بلند ترین سطح پر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اس معاشرے کا دانشور طبقہ (intelligentsia) یا ذہین اقلیت (intellectual minority) کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کی حیثیت اس معاشرے یا قوم کے دماغ کی سی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے بہت چھوٹی اقلیت پر مشتمل ہوتے ہیں مگر کسی معاشرے کی مجموعی سوچ اور اس کے مزاج کا رخ متعین کرنے میں ان کا کردار یا حصہ فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جذباتی تقاریر اور خوش کن وعظ متاثر نہیں کرسکتے ‘ بلکہ ایسے لوگ کسی سوچ یا نظر یے کو قبول کرتے ہیں تو مصدقہ علمی و منطقی دلیل سے قبول کرتے ہیں اور اگر رد کرتے ہیں تو ایسی ہی ٹھوس دلیل سے رد کرتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں بیان کردہ پہلا درجہ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے اور وہ ہے ” حکمت “۔ یہ علم و عقل کی پختگی کی بہت اعلیٰ سطح ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت ٢٦٩ میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کو ’ خیر کثیر ‘ قرار دیا ہے : (وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا) ۔ قرآن میں تین مقامات (البقرۃ ١٢٩ ‘ آل عمران : ١٦٤ اور الجمعہ : ٢) پر ان مراحل اور درجات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے تحت حضور نے اپنے صحابہ کی تربیت فرمائی۔ ان میں بلند ترین مرحلہ یا درجہ حکمت کا ہے۔ حکمت کے سبب کسی انسان کی سوچ اور علم میں پختگی آتی ہے ‘ اس کی گفتگو میں جامعیت پیدا ہوتی ہے اور اس کی تجزیاتی اہلیت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ کسی سے بات کرتے ہوئے یا کسی کو دین کی دعوت دیتے ہوئے معروضی صورت حال ‘ مخاطب کے ذہنی رجحان اور ترجیحات کا درست تجزیہ کرنے کے بعد اپنی گفتگو کے نکات اور دلائل کو ترتیب دیتا ہے۔ اسے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت اسے کیا پیش کرنا ہے اور کس انداز میں پیش کرنا ہے۔ کون سا نکتہ بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے اور کون سی دلیل ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ بہر حال کسی بھی معاشرے کے وہ لوگ جو علم ‘ عقل اور شعور میں غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوں ‘ ان کو دعوت دینے کے لیے بھی کسی ایسے داعی کی ضرورت ہے جو خود بھی علم و حکمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو اور ان سے برابری کی سطح پر کھڑے ہو کر بات کرسکے۔ کیونکہ جب قرآن اپنے مخالفین کو چیلنج کرتا ہے : (ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (البقرۃ) ” اپنی دلیل لاؤ اگر تم واقعی سچے ہو “۔ تو ایسی صورت میں ہمارے مخالفین کو بھی حق ہے کہ وہ بھی ہم سے دلیل مانگیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم عقل اور منطق کی اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر ان کی تسلی و تشفی کا سامان فراہم کریں۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں دعوت و تبلیغ کا پہلا درجہ حکمت بیان کیا گیا ہے جس کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کا صاحب حکمت اور حکیم ہونا لازمی ہے۔ حکمت کے بعد دوسرا درجہ ” موعظہ حسنہ “ کا ہے ‘ یعنی اچھا خوبصورت وعظ۔ یہ درجہ عوام الناس کے لیے ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کے ذہنوں میں عقل اور منطق کی چھلنیاں نہیں لگی ہوتیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کے لیے منطقی مباحث اور فلسفیانہ تقاریر ” تکلیف مالا یطاق “ کے مترادف ہیں۔ ان کے دل کھلی کتاب اور ذہن صاف سلیٹ کی مانند ہوتے ہیں ‘ آپ ان پر جو لکھنا چاہیں لکھ لیں۔ ایسے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے ان کے جذبات کو اپیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پر تاثیر وعظ اور خلوص و ہمدردی سے کی گئی بات سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ داعی ہم پر اپنے علم کا رعب نہیں ڈالنا چاہتا ‘ ہم پر دھونس نہیں جمانا چاہتا ‘ وہ ہم سے اظہار نفرت نہیں کر رہا ‘ ہماری تحقیر نہیں کر رہا ‘ بلکہ اس کے پیش نظر ہماری خیر خواہی ہے۔ چناچہ داعی کے دل سے نکلی ہوئی بات ” از دل خیزد ‘ بردل ریزد “ کے مصداق سیدھی ان کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ دعوت حق کا تیسرا درجہ (جَادِلْہُمْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ) ان عناصر کے لیے ہے جو کسی معاشرے میں خلق خدا کو گمراہ کرنے کے مشن کے علمبردار ہوتے ہیں۔ آج کل بہت سی تنظیموں کی طرف سے باقاعدہ پیشہ وارانہ تربیت سے ایسے لوگ تیار کر کے میدان میں اتارے جاتے ہیں۔ یہ لوگ خلوص و اخلاص سے کی گئی بات کو کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہر حال میں اپنے نظریے اور موقف کی طرف داری کرنا ان لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے ‘ چاہے وہ کسی علمی و عقلی دلیل سے ہو یا ہٹ دھرمی سے۔ ایسے لوگوں کو مسکت جواب دے کر لاجواب کرنا ضروری ہوتا ہے ‘ ورنہ بعض اوقات عوامی سطح کے اجتماعات میں ان کی بحث برائے بحث کی پالیسی بہت خطرناک ہوسکتی ہے ‘ جس سے عوام الناس کے ذہن منفی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بحث و مباحثہ کے عمل کو ہمارے ہاں ” مناظرہ “ کہا جاتا ہے ‘ جبکہ قرآن نے اسے ” مجادلہ “ کہا ہے۔ بہرحال قرآن نے اپنے پیروکاروں کے لیے اس میں بھی اعلیٰ معیار مقرر کردیا ہے کہ مخالفین سے مجادلہ بھی ہو تو احسن انداز میں ہو۔ اگر آپ کا مخالف کسی طور سے گھٹیا پن کا مظاہرہ بھی کرے تب بھی آپ کو جواب میں اچھے اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں ‘ جیسا کہ سورة الانعام کی آیت ١٠٨ میں حکم دیا گیا : (وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ) ” اور جن کو یہ (مشرک) اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو کہ کہیں یہ بھی بغیر سوچے سمجھے مخالفت میں اللہ کو برا بھلا کہنے لگ جائیں “۔ آج کل مختلف مذاہب کی تنظی میں مثلاً عیسائی مشنریز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام کو ہدف بنانے کے لیے کچھ خاص موضوعات اور مسائل کو ایک مخصوص انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہ لوگ ایسے موضوعات و مسائل پر مناظرے کرنے کے لیے باقاعدہ ٹریننگ کے ذریعے سپیشلسٹ (specialist) تیار کرتے ہیں۔ ایسے پیشہ وارانہ لوگوں کے مقابلے اور مجادلے کے لیے داعیانِ حق کو خصوصی تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

122. This instruction is very important for those who are engaged in the propagation of Islam. They should always keep in view two things, wisdom and excellent admonition. Wisdom implies that one should use discretion in the work of propagation and should not do this blindly like foolish people. Wisdom demands that one should keep in view the intelligence, capability and circumstances of the addressees and convey the message in accordance with the requirements of the occasion. Moreover, one should refrain from applying one and the same method to each and every person or group but should first diagnose the real disease of the addressee and then cure it by appealing to his mind and intellect. Excellent admonition implies two things: (1) One should not be content with convincing the addressee with arguments alone but should also appeal to his feelings. Likewise one should not confine himself merely to arguments in condemning evils and deviations but should try to convince the other of their repugnance that lies embedded in the human nature. One should also warn of the worst consequences of those evils. Besides, one should not only try to convince the addressee rationally of the soundness and excellence of guidance and righteous deeds but should also create in him interest and love for them. (2) Admonition should be administered in such a manner as to show sincere concern for and the welfare of the addressee. Nothing should be said or done to create the impression that the admonisher is looking down upon him and taking pleasure in his own feeling of superiority. On the contrary, he should feel that the admonisher is filled with the strong desire for his reform and welfare. 123. “In a way that is better” implies that one should have a sweet tongue, show noble character and give reasonable and appealing arguments, and refrain from indulging in polemics, argumentation and controversies. The one who discusses things with people in the best manner, does not resort to accusations, crooked arguments, taunts, nor makes fun of the opponent in order to defeat him and to win applause for his own superiority in argument. For these things will produce obduracy and obstinacy. In contrast to this, he will try to convince the other in a simple and humble way, and when he feels that the other person has come down to crooked arguments, he will leave him alone lest the other should go further and further astray in his deviation.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :122 یعنی دعوت میں دو چیزیں ملحوظ رہنی چاہیں ۔ ایک حکمت ۔ دوسرے عمدہ نصیحت ۔ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ بے وقوفوں کی طرح اندھا دھند تبلیغ نہ کی جائے ، بلکہ دانائی کے ساتھ مخاطب کی ذہنیت استعداد اور حالات کو سمجھ کر ، نیز موقع و محل کو دیکھ کر بات کی جائے ۔ ہر طرح کے لوگوں کو ایک ہی لکڑی سے ہانکا جائے ، جس شخص یا گروہ سے سابقہ پیش آئے ، پہلے اس کے مرض کی تشخیص کی جائے ، پھر ایسے دلائل سے اس کا علاج کیا جائے جو اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں سے اس کے مرض کی جڑ نکال سکتے ہوں ۔ عمدہ نصیحت کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ مخاطب کو صرف دلائل ہی سے مطمئن کرنے پر اکتفاء کیا جائے بلکہ اس کے جذبات کو بھی اپیل کی ا جائے ۔ برائیوں اور گمراہیوں کا محض عقلی حیثیت ہی سے ابطال نہ کیا جائے بلکہ انسان کی فطرت میں ان کے لیے جو پیدائشی نفرت پائی جاتی ہے اسے بھی ابھارا جائے اور ان کے برے نتائج کا خوف دلایا جائے ۔ ہدایت اور عمل صالح کی محض صحت اور خوبی ہی عقلا ثابت نہ کی جائے بلکہ ان کی طرف رغبت اور شوق بھی پیدا کیا جائے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ نصیحت ایسے طریقہ سے کی جائے جس سے دل سوزی اور خیر خواہی ٹپکتی ہو ۔ مخاطب یہ نہ سمجھے کہ ناصح اسے حقیر سمجھ رہا ہے اور اپنی بلندی کے احساس سے لذت لے رہا ہے ۔ بلکہ اسے یہ محسوس ہو کہ ناصح کے دل میں اس کی اصلاح کے لیے ایک تڑپ موجود ہے اور وہ حقیقت میں اس کی بھلائی چاہتا ہے ۔ سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :123 یعنی اس کی نوعیت محض مناظرہ بازی اور عقلی کشتی اور ذہنی دنگل کی نہ ہو ۔ اس میں کج بحثیاں اور الزام تراشیاں اور چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوں ۔ اس کا مقصود حریف مقابل کو چپ کر دینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجا دینا نہ ہو ۔ بلکہ اس میں شیریں کلامی ہو ۔ اعلی درجہ کا شریفانہ اخلاق ہو ۔ معقول اور دل لگتے دلائل ہوں ۔ مخاطب کے اندر ضد اور بات کی پچ اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہونے دی جائے ۔ سیدھے سیدھے طریقے سے اس کو بات سمجھانے کی کوشش کی جائے اور جب محسوس ہو کہ وہ کج بحثی پر اتر آیا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ گمراہی میں اور زیادہ دور نہ نکل جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٢٥۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کو حکم فرمایا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی نصیحت کریں تو نہایت ہی نرمی سے گفتگو کریں۔ اس طرح اللہ پاک نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے پاس جانے کا ارشاد فرمایا تو یہ بھی حکم دے دیا تھا کہ فقولا لہ قولا لینا جس کا مطلب یہ ہے کہ سختی سے اس کے ساتھ کلام نہ کیا جائے۔ اس واسطے اہل اسلام کو بھی زیبا ہے کہ جب کسی مخالف فرقہ سے مناظرہ کریں تو یہی شیوہ اختیار کریں خواہ وہ راہ راست پر آویں یا نہ آویں چناچہ اسی بات کا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی حکم ہوا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب آپ کی نصیحت سے راہ راست ہی پر آجاویں کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے وہ جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے نہ دے وہ ہدایت پانے والے کو خوب جانتا ہے اور جو لوگ ہدایت نہیں پانے والے ہیں انہیں بھی وہ جان چکا ہے مگر جزا و سزا کا دارو مدار اس نے اپنے علم پر نہیں رکھا ہے اس لئے اتمام حجت کے طور پر اس نے اپنے رسول مخلوق میں بھیج دئیے تاکہ کسی کو اس بات کے کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمیں کوئی راہ بتلانے والا نہیں ملا یا کوئی رسول و پیغمبر خدا کا ہمارے پاس پیغام لے کر نہیں آیا۔ معتبر سند سے ترمذی نسائی مصنف ابن ابی شیبہ اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو طالب کی بیماری کے وقت ابو جہل اور چند مشرک ابو طالب کی خبر کو آئے اور انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شکایت کی کہ یہ ہمارے بتوں کو برا کہتے ہیں اتنے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس مجلس میں تشریف لائے اور اس شکایت کا حال سن کر آپ نے فرمایا میں تو ان لوگوں کو ایسا کلمہ کہنے کی نصیحت کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ وہ کلمہ کہہ لیویں گے کہ ان کو تمام عرب کی بادشاہت مل جاوے گی ان لوگوں نے پوچھا وہ کیا کلمہ ہے تو آپ نے بت پرستی کے چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے مان لینے کی نصیحت کی اس پر وہ مشرک لوگ خفا ہو کر اس مجلس سے اٹھ گئے۔ سورت آل عمران میں گزر چکا ہے کہ نجران کے پادری جب زبانی بحث سے قائل نہیں ہوئے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھوٹے گروہ پر بددعا کرنے کا طریقہ اختیار کیا جس پر وہ پادری ڈر گئے اور انہوں نے سالانہ کچھ رقم ادا کرنے کے وعدہ پر صلح کرلی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ١ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں۔ آیت میں حکمت اور تدبیر سے نصیحت کرنے کا اور مخالف لوگوں کو اچھے طریقے سے الزام دینے کا اور پھر نصیحت کے بعد راہ راست پر آنے والوں اور نہ آنے والوں کا حال اللہ تعالیٰ کو معلوم ہونے کا جو حکم ہے یہ روایتیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ مشرکین مکہ کو اللہ کے رسول نے کس حکمت اور تدبیر سے شرک سے باز آنے کی نصیحت کی اور نجران کے پادریوں کو کیسے اچھے طریقہ سے الزام دیا اور اس نصیحت اور الزام کے بعد علم الٰہی کے موافق آخر نتیجہ کیا ہوا۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٢٠٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:125) ادع۔ دعا یدعوا دعاء ودعوۃ (ناقص وادی) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر (باب نصر) تو دعوت دے۔ تو پلا۔ تو دعا کر جادلہم۔ جادل امر واحد مذکر حاضر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ جادل یجادل مجادلۃ (مفاعلۃ) باہم مناظرہ کرنا۔ باہم جھگڑنا۔ تو ان سے مناظرہ و مباحثہ کر۔ ان عاقبتم۔ اگر تم (انہیں) سزا دینا چاہو۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ عاقب یعاقب معاقبۃ بمعنی عقوبت کرنا۔ سزا دینا۔ العقب والعقب پائوں کا پچھلا حصہ یعنی ایڑی۔ اس کی جمع اعقاب ہے بطور استعارہ عقب کا لفظ بیٹے پوتے پر بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ وجعلھا کلمۃ بافیۃ فی عقبہ (43:28) اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے۔ عاقبۃ بمعنی انجام کار جیسا کہ قرآن پاک میں ہے فکان عاقبتھما انھما فی النار (59:17) دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں داخل ہوئے اس میں عاقبۃ کا لفظ استعارۃ عذاب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اور دوسری جگہ عاقبۃ کا لفظ بطور ثواب کے بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً والعاقبۃ للمتقین (28:38) اور انجام نیک (ثواب) تو پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی دعوت میں صرف ان چیزوں کا خیال رکھا جائے ایک حکمت اور دوسری اچھی نصیحت حکمت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت سنجیدہ طریقہ سے مخاطب کی ذہنیت کا لحاظ کرتے ہوئے بات پیش کی جائے اور اچھی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت نرمی اور دلسوزی سے کی جائے تاکہ مخاطب سن کر متاثر ہو اور سمجھے کہ میری ہی فائدہ کی خاطر یہ بات کہی جا رہی ہے۔ 5 یعنی نہایت نرمی اور محبت سے اخلاق و تہذیب کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے نہ کہ جھڑک کر اور آرام سے باتیں بنا کر۔ 6 یعنی دعوت و تبلیغ میں اصل چیز اپنے دین کے اصولوں اور اس کی تعلیمات پر کار بند ر ہنا ہے نہ کہ سچ یا جھوٹ، یا جس طر بھی ممکن ہو اپنی بات کا قائل کرلینا۔ لہٰذا یہ فکر نہیں کرنی چاہیے کہ کون ہماری بات مانتا ہے اور کوئی نہیں مانتا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 125 تا 128 ادع بلا، پکارا۔ سبیل راستہ۔ الحکمۃ سمجھ، دانئای۔ الموعظۃ نصیحت۔ جادل بحث کرو۔ احسن زیادہ بہتر ہے ۔ اعلم بہت زیادہ جانتا ہے ۔ ضل بھٹک گیا۔ عاقبتم تم نے بدلہ لیا۔ غو قبتم تمہیں تکلیف دی گئی۔ لاتخزن رنجیدہ نہ ہو۔ ضیق دل میں تنگی محسوس کرنا۔ یمکرون وہ مکرو فریب کر رہے ہیں۔ محسنون نیکی کرنے والے۔ تشریح آیت نمبر 125 تا 128 سورۃ النحل میں بہت سے بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گی ہے۔ اس سورت کو جن آیات پر ختم فرمایا گیا ہے اس میں اس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے کہ کائنات کی سچائیاں وہی ہیں جو اس سورت میں اور اس سے پہلی سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کو سمجھانا اور ہر شخص کے دل میں اتارنے کا طریقہ کیا ہے اس کی تفصیل ارشاد فرمائی جا رہی ہے۔ کسی بھی نصیحت کے لئے چند بنیادی باتوں کو سمجھنا ضروری ہے ورنہ ہر نصیحت بےکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ 1) نصیحت کے لئے حکمت و دانئیا بہت ضروری چیز ہے۔ حکمت کیا ہے ؟ حکمت یہ ہے کہ جس کو نصیحت کی جا رہی ہے وہ کس عمر رتبہ اور مقام کا آدمی ہے اگر ایک عقل و فکر والے کو دیہاتی انداز سے سمجھایا جائے گا تو اس پر نصیحت کا اثر ہونے کے بجائے الٹا اثر ہوگا ۔ اسی طرح ایک کم سمجھ اور کم علم اور کم عمر والے کو اگر ایسی باتیں بتائی جائیں گی جو اس کی عقل و فکر سے بہت اونچی تھی تو اس کے سر سے گذر جائیں گی اور نصیحت کرنے والے کی نصیحتیں بےکار ہوجائیں گی۔ اس لئے بات کہنے سے پہلے اس بات کا پوری طرح لحاظ کیا جائے گا کہ ہم کس سے بات کر رہے ہیں۔ 2) پھر یہ کہ جس سے بات کی جا رہی ہے اس کا اصل مرض اور خرابی کیا ہے دنیا میں وہی ڈاکٹر اور طبیب کامیاب سمجھا جاتا ہے جو مرض کی تشخیص کرنے کے بعد اس کا مناسب علاج کرسکتا ہو۔ نصیحت کرنے والا بھی ایک ڈاکٹر کی طرح ہوتا ہے۔ اگر اس کو یہی نہیں معلوم کہ میں جس نصیحت کر رہا ہوں وہ کس بات میں الجھا ہوا ہے اس کا مضر اور کمزوری کیا ہے تو یقینا اس کی نصیحت کارگر نہ ہوگی۔ 3) نصیحت کرنے والے کو خوش اخلاق ہونا چاہئے تاکہ سننے والا یا جس کو خاص طور پر نصیحت کی جا رہی ہے وہ یہ محسوس نہ کرے کہ مجھ پر زبردستی ایسی بات کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر اس کا دل آمادہ نہیں ہے۔ غرضیکہ حکمت و دانئای بڑی بنیادی چیز ہے۔ اگر ایک آدمی نے نہایت خلوص سے نصیحت کی لیکن دوسرا آدمی بجائے سننے کے مرنے مارنے پر اترتا ہے تو فرمایا کہ اگر وہ جاہل و نادان ہے تو یہ کہہ کر اٹھ جاؤ کہ اللہ تجھے سلامت رکھے یہی اس کی کج بختی کا بہترین جواب ہے۔ لیکن خود اس کو اس طرح اپنے مقابل نہیں لے کر آنا چاہئے کہ اس کی رہنمائی کے بجائے وہ خود کسی گمراہی میں مبتلا ہوجائے۔ نصیحت کرنا انسان کا کام ہے لیکن دلوں کا پھیردینا ہدایت دینا یا گمراہ کرنا یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کا کام صرف سیدھی راہ دکھانا ہے۔ اس میں نہایت خلوص احترام اور محنت کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص زیادتی کرتا ہے تو فرمایا کہ اس کو اسی طرح جواب دینا جائز ہے لیکن اگر صبر کر کے اللہ پر چھوڑ دیا جائے تو پھر یہ بات صبر و برداشت کرنے والوں کے حق میں بہت ہی بہتر ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان ہی آیات کی روشنی میں لوگوں کو اللہ کی راہ کی طرف نہایت حکمت و دانئای سے بہترین نصیحتوں سے اور نرمی سے بلاتے تھے اور ان کی خیر خواہی میں کسر نہ اٹھا رکھتے تھے۔ صحابہ کرام بھی آپ کے طریقے پر چلتے ہوئے اللہ کا دین پہنچانے میں ہر طرح کی محنتیں فرماتے تھے مگر کفار و مشرکین اور اسلام اور سچائی کے دشمن ایسا دل شکن رویہ اختیار کرتے تھے کہ جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سخت اذیت اور تکلیف پہنچتی تھی اور آپ رنجیدہ ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا دین پہنچاتے رہیں اگر وہ ظلم اور زیادتی کرتے ہیں تو اس پر صبر کیجیے نہ آپ رنجیدہ ہوں اور نہ اپنے دل میں کوئی تنگی پیدا کریں ۔ اللہ ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرتے ہیں اور ہر حال میں دوسروں کی بھلائیا ور خیر خواہی کے متمنی رہتے ہیں۔ الحمد للہ ان آیات پر سورة النحل تکمیل تک پہنچ گئی ہے۔ میں اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ اللہ قبول و منظور فرمائے۔ (آمین) واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی دین۔ 2۔ بس اتنا کام آپ کا ہے پھر آپ اس تحقیق میں نہ پڑئیے کہ کس نے مانا کس نے نہیں مانا کیونکہ یہ کام خدا کا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بیشک کسی کا دعویٰ اور موقف کتنا ہی جھوٹا ہو اس کے باوجود اسے دین کی دعوت حکمت کے اور خیر خواہی کے ساتھ دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو طبعًا اور فطرتًا نرم خو اور ہمدرد پیدا فرمایا تھا۔ آپ مشکلات پر صبر کرنے والے، مخالفوں کی مخالفت کا جواب خندہ روئی کے ساتھ دینے والے، اور بدترین دشمن کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زندگی بھر کسی کو برائی کا جواب برائی سے نہیں دیا آپ کے اعلیٰ اخلاق کی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یوں تعریف کی گئی ہے : ” لوگو ! تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا ہے تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اسے نہایت ہی گراں گزرتی ہے وہ تمہاری کامیابی کی بہت ہی چاہت رکھتا ہے۔ مومنوں کے ساتھ نہایت مہربان اور شفقت کرنے والا ہے۔ “ (التوبۃ : ١٢٨) اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو اعلیٰ اخلاق اور بےحساب صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا لیکن اس کے باوجود آپ کو حکم ہوا کہ آپ حکمت، دانائی اور بصیرت کے ساتھ لوگوں کو دین حنیف کی طرف دعوت دیں اگر کسی وقت بحث و تکرار کی نوبت آئے تو اس میں بھی حسن اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں۔ آخر میں فرمایا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کون اس کے راستے سے بھٹک چکا اور کون ہدایت پانے والوں میں شامل ہے۔ حکمت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ موقعہ محل اور لوگوں کی فکری استعداد کے مطابق بات کی جائے۔ اس کے ساتھ اس بات کا خیال بھی رکھا جائے کہ لوگ کس حد تک سننے میں آمادگی رکھتے ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وعظ و نصیحت میں یہ بات بھی لازم ہے کہ خطیب کے لب و لہجہ اور انداز میں سنجیدگی، خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ غالب ہو کیونکہ موعظت ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو سامع کے دل پر اثر انداز ہو سکے۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ (رض) قَالَ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَتَخَوَّلُنَا بالْمَوْعِظَۃِ فِی الأَیَّامِ ، کَرَاہَۃَ السَّآمَۃِ عَلَیْنَا) [ رواہ البخاری : باب الموعظۃ ساعۃ بعد ساعۃ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دن ہمیں وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیتے کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔ “ (عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ (رض) قَالَ مَآ أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِیْثًا لاَ تَبْلُغُہٗ عُقُولُہُمْ إِلاَّ کَانَ لِبَعْضِہِمْ فِتْنَۃً ) [ رواہ مسلم فی المقدمۃ، باب النَّہْیِ عَنِ الْحَدِیثِ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ] ” حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم کسی قوم کو ایسی بات نہ کہو جو ان کی سمجھ سے بالا تر ہے جو لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بن جائے۔ “ (قَالَ عَلِیٌّ حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ ، أَتُحِبُّوْنَ أَنْ یُّکَذَّبَ اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلمِ ، باب مَنْ خَصَّ بالْعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ ] ” حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو وہ بات کہو جو وہ سمجھتے ہوں کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت حکمت سے دینی چاہیے۔ ٢۔ دین کی دعوت دیتے ہوئے نہایت اچھا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن داعی کے لیے ضابطۂ اخلاق : ١۔ اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت سے بلانا چاہیے۔ (النحل : ١٢٥) ٢۔ فرما دیجیے یہ میرا راستہ ہے میں اس کی طرف بصیرت کے ساتھ بلاتا ہوں۔ (یوسف : ١٠٨) ٣۔ انہیں آپ کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا چاہیے حالانکہ آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے ہیں۔ (الحج : ٦٧) ٤۔ جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوں تو آپ ان کی طرف لوگوں کو بلائیں۔ (القصص : ٨٧) ٥۔ آپ انہیں دین حق کی طرف بلائیں اور اللہ کے حکم پر قائم رہیں۔ (الشوریٰ : ١٥) ٦۔ حضرت ابراہیم نے دعا کی کہ اے رب ان میں نبی بھیج جو ان کو علم اور عقل کی باتیں سکھلائے۔ ( البقرۃ : ١٢٩) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت اور حکمت عنایت فرمائی۔ ( الجمعہ : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ہیں دعوت اسلامی کی بنیادیں اور یہ ہیں تحریک اسلام کے کام کے اصول و قواعد اور یہ طریقہ کار خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آنے والے تمام اور داعیان حق کے لئے یہی دستور العمل ہے اور یہی منہاج دعوت ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ اللہ کے راستے اور اللہ کے نظام کی طرف دعوت کسی شخصیت یا کسی قوم کی طرف نہیں ہے۔ اس میں داعی کا کردار صرف یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ اس لئے دعوت دینا اس کا کوئی احسان نہیں ہے کہ وہ جتلاتا پھرے نہ دعوت اسلامی پر احسان ہے اور ان لوگوں پر احسان ہے جو داعی کے پیروکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کا اجر بھی اللہ پر ہے۔ دعوت حکمت اور حسن تدبیر کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔ مخاطب کے ظروف و احوال کو اس میں مد نظر رکھنا چاہیے اور یہ متعین کرنا چاہیے کہ بیک وقت مخاطب کو کس قدر دعوت دینا چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ لوگوں کو اس قدر احکام اور نواہی مختصر وقت میں سنادئیے جائیں اور وہ ذہنا ان کے لئے تیار نہ ہوں۔ یوں وہ اسے بوجھ اور ناقابل برداشت بوجھ سمجھ لیں۔ طریقہ دعوت مناسب ہو۔ ظروف و احوال کے مطابق ہو اور اس میں تبدیلی ہوتی رہے۔ داعی جوش و خروش میں آکر سختی نہ کرے نہ حکمت سے زیادہ جوش و غیرت پیدا کرے۔ ہر معاملے میں اعتدال سے کام لے۔ اس کا اندازوعظ نرم اور نہایت ہی دلکش ہو۔ بات اس اندا میں ہو کہ دل و دماغ میں بیٹھ جائے۔ صرف کو سنے اور شرمندہ کرنے کے اندز ہی کو نہ اپنائیں۔ نیز داعی لوگوں کی ان غلطیوں کو نہ کھولے جو جہالت اور نادانی کی وجہ سے کسی سے سر زد ہوجائیں۔ بعض اوقات ایسی غلطیاں نیک نیتی سے ہوجاتی ہیں۔ وعظم میں نرمی سے بعض اوقات نہایت ہی سرکش اور اخلاق سے گرے ہوئے لوگ بھی ہدایت پا لیتے ہیں۔ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر ، لیکن زجر و توجیح اور لعنت و ملامت کا اثر بعض اوقات الٹا ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ اگر مجادلہ کا موقع پیش آئے تو وہ بھی احسن طریق سے ہو۔ یہ مناسب نہ ہوگا کہ مخالف پر داعی حملہ آور ہوجائے اور اس کو ذلیل کرے یا اس کی قباحتیں بیان کرے۔ دعت میں مباحثے کا انداز یہ ہو کہ مخاطب کو یقین ہوجائے کہ دعوت دینے والا محض غلبہ اور کلام میں برتری کا حصول نہیں چاہتا بلکہ داعی محض ایک حقیقت ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ عناد کا مادہ ہوتا ہے اور ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے۔ وہ آخر دم تک اپنی رائے کی مدافعت چاہتا ہے تاکہ ہر ہزیمت اور شکست سے بچے۔ اعتقاد و نظریہ دراصل رائے ہوتی ہے اور لوگ رائے کی قدر قیمت اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ اگر کسی کو رائے بدلنے کا کہا جائے تو سمھتے ہیں کہ ان کے رعب ، ان کے احترام اور ان کی شخصیت میں فرق آجائے گا۔ اگر داعی اچھے انداز میں مباحثہ اور مکالمے کرے تو اس سے کسی شخص کے ذاتی احساس کو ٹھیس نہ پہنچے گی اور مخاطب یہ سمجھے گا کہ اس کی عزت نفس ، اس کی شخصیت اور عزت و کرامت محفوظ ہے اور داعی صرف دعوت پہنچانا چاہتا ہے۔ محض اللہ کے لئے اسے ایک اچھی راہ کی طرف بلا رہا ہے۔ اس کام سے اس کی کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہے ، نہ وہ اپنی فتح اور مخاطب کی شکست چاہتا ہے۔ داعی کے زیادہ جوش اور جذبے کو ذرا کم کرنے کی خاطر نص قرآنی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ دراصل اللہ ہی زیادہ علیم ہے وہی جانتا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون ہدایت پانے والا ہے۔ لہٰذا بحث و مباحثے کے اندر بہت زیادہ جوش اور جدال کی ضرورت نہیں ہے بلکہ شستہ انداز میں دعوت دے دی جائے اور اس کے بعد اس کے نتائج اللہ پر چھوڑ دئیے جائیں۔ جب تک دعوت اسلامی میں کارکردگی صرف لسانی دعوت اور دلیل کے ساتھ بحث و مباحثے تک محدود ہے ، دعوت اسلامی کا اسلامی دستور العمل یہی ہے۔ لیکن اگر مخالف دست درازی پر اتر آئے تو پھر یہ پالیسی نہ رہے گی کیونکہ دست درازی ایک محسوس اور مادی فعل ہے۔ سچائی کی عزت اور سچائی کے مقام کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ باطل کی طرف سے دست درازی کا مناسب جواب دیا جائے۔ یہ نہ ہو کہ باطل ماحول پر پوری طرح غالب آجائے۔ ہاں باطل کی دست درازی کا جواب بھی حدودو قیود کے اندر ہو۔ یہ نہ ہو کہ مخالف کو ذلیل کرکے عبرت آموز سزا دی جائے ۔ کیونکہ اسلام ایک عادلانہ دین ہے۔ یہ امن و سلامتی کو بہت پسند کرتا ہے۔ اسلام صرف اپنی ذات اور اہل اسلام کا دفاع چاہتا ہے۔ وہ کسی صورت میں زیادتی اور دست درازی کا قائل نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دعوت و ارشاد اور اس کے آداب اس آیت میں دعوت الی اللہ کا طریقہ بتایا ارشاد فرمایا (اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ ) (آپ اپنے رب کی طرف حکمت کے ذریعہ بلائیے) (وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ ) (اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ) (وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (اور ان سے ایسے طریقہ پر بحث کیجیے جو بہت اچھا طریقہ ہو) اس میں تین چیزوں کی رعایت رکھنے کا حکم فرمایا اول حکمت دوسرے موعظہ حسنہ تیسرے اچھے طریقے پر بحث کرنا حکم تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے لیکن آپ کے توسط سے ساری امت کو اس کا حکم فرما دیا ہے حکمت، موعظہ حسنہ، مجادلہ بطریق احسن یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے ذریعہ دعوت دی جائے تو عموماً منصف مزاج بات مان لیتے ہیں اور دعوت حق قبول کرلیتے ہیں دعوت الیٰ الایمان ہو یا اعمال صالحہ کی دعوت ہو سب میں مذکورہ بالا چیزیں اختیار کرنا ضروری ہے۔ حکمت سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے بعض حضرات سے نقل کیا ہے انھا الکلام الصواب الواقع من النفس اجمل موقع یعنی حکمت وہ صحیح بات ہے جو نفس انسانی میں خوبصورت طریقہ پر واقع ہوجائے۔ حکمت کی دوسری تعریفیں بھی کی گئی ہیں لیکن ان سب کا مآل یہی ہے کہ ایسے طریقے پر بات کی جائے جسے مخاطب قبول کرلے، یہ طریقے افراد و احوال کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ یہ چاہتا ہو کہ مخاطبین میری بات کو قبول کر ہی لیں وہ اس کے لیے تدبیریں سوچتا ہے، واسطوں کو استعمال کرتا ہے نرمی سے کام لیتا ہے، ثواب بتاتا ہے اور عذاب سے بھی ڈراتا ہے، موقعہ دیکھ کر بات کرتا ہے۔ جو لوگ مشغول ہوں ان سے بات کرنے کے لیے فرصت کا انتظار کرتا ہے اور اتنی دیر بات کرتا ہے جس سے وہ تنگدل اور ملول نہ ہوجائیں، اگر پہلی بار مخاطبین نے اثر نہ لیا تو پھر موقع کا منتظر رہتا ہے، پھر جب موقعہ پاتا ہے پھر بات کہہ دیتا ہے اور اس میں زیادہ تر نرمی ہی کام دیتی ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نے جب حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا تو فرمایا (فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی) (سو تم دونوں اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، ممکن ہے کہ وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے) البتہ اپنے لوگوں کو موقعہ کے مناسب کبھی سختی سے خطاب کرنا بھی مناسب ہوتا ہے، جیسا کہ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ بن جبل کو سختی سے مخاطب فرمایا جبکہ انہوں نے عشاء کی نماز میں لمبی قرأت کردی تھی، صاحب حکمت اپنے نفس کے ابھار اور کسی بغض و حسد کی وجہ سے مخاطب کو نہیں ڈانٹتا داعی کے لیے ضروری ہے کہ ناصح یعنی خیر خواہ بھی ہو اور امین یعنی امانت دار ہو جیسا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا (وَ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ) (اور میں تمہارے لیے خیر خواہ ہوں امین ہوں) حکمت کا یہ بھی تقاضا ہے جو بہت ہی اہم ہے کہ دین کو آسان کرکے پیش کرے اور نفرت پیدا ہونے کا سبب نہ بنے، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یَسِّرُوْا وَلاَ تُعَسِّرُوْا وَ بَشِّرُوْا وَلاَ تُنَفِّرُوْا (آسانی کے ساتھ بات کرو اور سختی سے پیش نہ آؤ اور بشارت دو ، نفرت نہ لاؤ) (صحیح بخاری ص ١٢ ج ١) بہت سے لوگوں میں حق کہنے کا جذبہ تو ہوتا ہے لیکن وہ موقع نہیں دیکھتے، ہتھوڑا مار کر یا الاہنا اتار کر مطمئن ہوجاتے ہیں، کہ ہم نے تو بات کہہ دی اپنا کام کردیا لیکن اس سے مخاطب کو فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ بعض مرتبہ ضد وعناد پیدا ہوجاتا ہے، ہاں جہاں پر حق دب رہا ہو وہاں زبان سے کہہ دینا بھی بڑی بات ہے ایسے موقع پر حکمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ حق کلمہ کہہ دیا جائے اسی کو فرمایا ہے۔ اَفْضَلُ الْجِھَادِ مَنْ قَالَ کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَاءِرٍ (رواہ البغوی فی شرح السنۃ) (سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد اس شخص کا جہاد ہے جس نے ظالم بادشاہ کے سامنے حق کلمہ کہہ دیا۔ ) حکمت کی باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ بات کہنے میں اس کا لحاظ رکھا جائے کہ سننے والے ملول اور تنگ دل نہ ہوں، حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) ہر جمعرات کو لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے ایک شخص نے کہا کہ اگر آپ روزانہ بیان فرمایا کرتے تو اچھا ہوتا حضرت عبد اللہ مسوہد (رض) نے فرمایا کہ میں روزانہ اس لیے بیان نہیں کرتا کہ تمہیں ملول اور تنگ دل کرنا گوارا نہیں ہے، میں تمہیں رغبت کے ساتھ موقع دیتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے لیے موقع کا دھیان رکھتے تھے تاکہ ہم تنگدل نہ ہوجائیں۔ (صحیح بخاری ص ١٢ ج ١) حکمت کے تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ لوگوں کے سامنے ایسی باتیں نہ کرے، جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہوں اور ایسی باتیں بھی نہ کرے جو لوگوں کے لیے عجوبہ بن جائیں، اگرچہ باتیں صحیح ہوں لوگوں کو قریب کرتے رہیں تھوڑا تھوڑا علم ان کے دلوں میں داخل کرتے رہیں لوگ جب بات کو سمجھنے کے قابل ہوجائیں اس وقت وہ بات کہیں حضرت علی (رض) نے بیان فرمایا حدثوا الناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اللّٰہ ورسولہ (صحیح بخاری ص ٢٤ ج ١) یعنی لوگوں کے سامنے وہ باتیں بیان کرو جنہیں وہ پہچانتے ہوں کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے (مطلب یہ ہے کہ بات تم صحیح پیش کرو گے لیکن مخاطبین کی سمجھ سے بالاتر ہوگی تو وہ کہیں گے ایسا نہیں ہے یا یوں کہیں گے ایسا نہیں ہوسکتا) اسی وجہ سے حضرات علماء کرام نے فرمایا کہ جس علاقہ میں جو قرأت اور جو روایت رائج ہو عوام کے مجمع میں اسی کو پڑھا جائے جیسے ہمارے ملکوں میں حضرت امام عاصم (رح) کی قرأت اور حضرت حفص (رح) کی روایت رواج پذیر ہے کوئی کلمہ کسی دوسری قرأت کا پڑھ دیا جائے تو حاضرین کہیں گے کہ اس نے قرآن کو غلط پڑھ دیا اور اس تکذیب کا سبب وہ قاری ہی بنے گا جس نے کسی دوسری قرأت کے مطابق تلاوت کردی۔ نیز حکم کے تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اجتماعی خطاب میں سختی ہو اور انفرادی گفتگو میں نرمی اور حکمت کے طریقوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو کسی غیر شرعی کاموں میں مبتلا دیکھے تو بجائے اس سے خطاب کرنے کے محفل عام میں یوں کہہ دے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں، فلاں فلاں گناہ کی یہ وعید ہے اس طرح سے ہر وہ شخص متنبہ ہوجائے گا جو اس گناہ میں مبتلا ہوگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض مرتبہ یوں بھی خطاب فرماتے تھے کہ ما بال اقوام یفعلون کذا کما قال ما بال اقوام یصلون معنا لا یحسنون الطھور وانما یلبس علینا القرآن اولٰءِکَ ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٩) لفظ حکمت بہت جامع لفظ ہے اس کی جتنی بھی تشریح کی جائے کم ہے، اجمالی طور پر یہ سمجھ لیا جائے، کہ جس فرد یا جس جماعت سے خطاب کرنا ہے ان سے اس طرح بات کی جائے کہ بات قبول کرلینا اقرب ہو اور ایسا انداز اختیار کیا جائے، جس سے وہ متوحش نہ ہوں، داعی کے طریقہ کار کی وجہ سے نہ چڑ جائیں نہ عناد پر کمر باندھ لیں مقصود حق قبول کرانا ہو نفرت دلانا نہ ہو، جب کوئی شخص نیک نیتی سے اس مقصود کو لے کر آگے بڑھے گا تو خیر پہنچانے کے وہ طریقے اس کے ذہن میں آئیں گے جو اسے کسی نے نہیں بتائے اور جو اس نے کتابوں میں نہیں پائے، انشاء اللہ تعالیٰ اور واضح رہے کہ کسی فرد یا جماعت کو راہ حق پر لانے کے لیے خود گناہ کرنا حلال نہیں بعض لوگ دوسروں کو ہدایت دینے کے لیے بدعتوں میں شریک ہوجاتے ہیں یا جانتے بوجھتے ہوئے مال حرام سے دعوت کھالیتے ہیں یہ طریقہ شریعت کے خلاف ہے، ہمیں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ دوسرے کو خیر پر لگانے کے لیے خود گنہگار ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے دعوت دینے کا ارشاد فرماتے ہوئے مزید فرمایا (اَلْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ ) کہ موعظہ حسنہ کے ذریعہ دعوت دو یہ لفظ بھی بہت جامع ہے ترغیب وترہیب والی آیات اور احادیث بیان کرنا اور ایسی روایات سنانا جن سے دل نرم ہو اور ایسے واقعات سامنے لانا جن سے آخرت کی فکر ذہنوں میں بیٹھ جائے اور گناہ چھوڑنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کے جذبات قلوب میں بیدار ہوجائیں یہ سب چیزیں موعظہ حسنہ میں آجاتی ہیں۔ مخاطبین کو ایسے انداز سے خطاب نہ کرے، جس سے وہ اپنی اہانت محسوس کریں اور دل خراش طریقہ اختیار نہ کرے۔ جب اللہ کی راہ پر لگانا ہے تو پھر ایسے طریقہ اختیار کرنا جس سے کہ لوگ مزید دور ہوجائیں اس کی گنجائش کہاں ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کا عمل موعظہ حسنہ کے خلاف ہوگا۔ تیسری بات یوں فرمائی (وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (کہ ان سے اچھے طریقے سے جدال کرو) جدال سے جھگڑا کرنا مراد نہیں ہے بلکہ سوال جواب مراد ہے جس کا ترجمہ مباحثہ سے کیا گیا ہے، جن لوگوں سے خطاب ہو ان میں بہت سے لوگ باوجود باطل پر ہونے اور اسلاف کی تقلید جامد ہونے کی وجہ سے حق کو دبانے کے لیے الٹے الٹے سوال کرتے ہیں ان کا جواب دینے کے لیے ایسا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس سے ان کا منہ بند ہوجائے اور ان کے لاجواب ہونے کو دیکھ کر ان کے ماننے والے گمراہی سے منحرف ہوجائیں اور حق کو قبول کرلیں، جب کسی شخص میں اخلاص ہوتا ہے اور اللہ کے بندوں کی ہمدردی پیش نظر ہوتی ہے تو اللہ کی توفیق سے سوال جواب اور مباحثہ میں عمدگی اور نرمی اور موثر طریقے سے گفتگو کی توفیق ہوجاتی ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو دیوانہ، جادوگر، گمراہ، احمق کہا گیا اور بےت کے سوالات کیے گئے ان حضرات نے صبر و تحمل سے کام لیا جس کے واقعات سورة اعراف اور سورة ہود اور سورة شعراء میں مذکور ہیں، اگر کوئی شخص برے طریقے پر پیش آئے تو اس سے اچھے طریقے پر پیش آنا لازمی ہے، سورة حٰمٓ سجدہ میں فرمایا۔ (وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلا السَّیّْءَۃُ اِدْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ وَمَا یُلَقَّاھَا اِِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقَّاھَا اِِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ) اور اس سے اچھی کس کی بات ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور یوں کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں اور نہیں برابر ہوتی، اچھی خصلت اور بری خصلت، تو اس طریقے پر دفع کر جو طریقہ اچھا ہو، پھر اچانک وہ شخص جس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا خالص دوست ہوتا ہے اور یہ خصلت انہیں لوگوں کو دی جاتی ہے جنہوں نے صبر کیا اور انہی کو دی جاتی ہے جو بڑے نصیب والے ہیں۔ سورة قصص میں فرمایا (وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَ قَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ ) اور وہ لوگ جو لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں تم پر سلام ہو ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔ جاہلوں اور معاندوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹنا پڑتا ہے، اگر داعی حق نے بھی جاہل اور معاند کے مقابلہ میں آستینیں چڑھالیں، آنکھیں سرخ کرلیں، لہجہ تیز کردیا، ناشائستہ الفاظ زبان سے نکال دئیے تو پھر داعی اور مدعو اور صاحب حق اور صاحب باطل میں فرق کیا رہا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ایک بادشاہ نے (جس کا نام نمرود بتایا جاتا ہے) اللہ تعالیٰ کے بارے میں بحث کی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ) (کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے) اس پر اس نے جیل خانے سے دو قیدی بلائے ان میں سے ایک کو قتل کردیا اور ایک کو رہا کردیا اور کہنے لگا کہ (میں بھی زندہ کرتا ہوں اور موت دیتا ہوں) اس نے اپنی جہالت سے یا عناد سے ایسا کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے زندہ کرنے اور موت دینے کے بارے میں بحث کرنے کے بجائے بات کا انداز بدل دیا اور فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج کو پورب سے لے کر آتا ہے تو اسے مغرب سے لے آ، یہ سن کر وہ کافر حیران رہ گیا، اور کوئی جواب بن نہ پڑا، اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) زندہ کرنے اور موت دینے کا مفہوم متعین کرنے اور سمجھانے اور منوانے میں لگتے تو ممکن تھا کہ وہ جاہل کافر غلط مفہوم پر ہی اڑا رہتا، اور خواہ مخواہ جھک جھک کرتا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بات کا انداز ایسا اختیار فرمالیا جس سے وہ کافر جلد ہی خاموش ہوگیا۔ یہ واقعہ سورة بقرہ رکوع (٣٥) میں مذکور ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک اور واقعہ بھی ہے جو سورة انبیاء میں مذکور ہے، ان کی قوم بت پرست تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک دن ان بتوں کو توڑ ڈالا۔ وہ لوگ کہیں گئے ہوئے تھے واپس آئے تو دیکھا کہ بت ٹوٹے ہوئے ہیں۔ کہنے لگے کہ ابراہیم کیا تم نے یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہے اور اگر بولتے ہیں تو انہیں سے پوچھ لو اس پر وہ لوگ کہنے لگے یہ تو تمہیں معلوم ہے کہ یہ تو بولتے نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گفتگو کرتے کرتے انہیں یہاں تک لے آئے اور ان سے کہلوا دیا کہ یہ بولتے نہیں، تو اب تبلیغ فرمائی اور توحید کی دعوت دی۔ (قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکُمْ شَیْءًا وَّ لَا یَضُرُّکُمْ اُفٍّ لَّکُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) سو تم ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع دے سکے اور نہ ضرر پہنچا سکے۔ تم پر افسوس کیا تم سمجھ نہیں رکھتے۔ یہ ترکیب سے بات کرنا اور تدبیر سوچنا سب موعظہ حسنہ میں داخل ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اصلاح کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ کسی کی غلطی پر متنبہ فرمانے کے لیے بعض مرتبہ سلام کا جواب نہیں دیا، حضرت عمار بن یاسر (رض) نے بیان فرمایا کہ میں ایک مرتبہ سفر سے آیا، میرے ہاتھ پھٹے ہوئے تھے میرے گھر والوں نے ان پر زعفران لگا دیا، ان کے بعد میں صبح کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا جاؤ اس کو دھو ڈالو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٨١ از ابو داؤد) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ کسی کے پیچھے کوئی کلمہ فرما دیا، وہ اسے پہنچ گیا اس پر اس نے اپنی اصلاح کرلی۔ حضرت خریم اسدی ایک صحابی تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خریم اچھے آدمی ہیں اگر ان کے بال بہت لمبے نہ ہوتے اور تہبند لٹکا ہوا نہ ہوتا۔ حضرت خریم کو یہ بات پہنچ گئی تو انہوں نے اپنے بال کاٹ لیے جو کانوں تک رہ گئے اور اپنے تہبند کو آدھی پنڈلی تک کرلیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٨٢ از ابی داؤد) ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لے گئے وہاں دیکھا ایک اونچا قبہ بنا ہوا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ یہ فلاں انصاری کا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھا جب قبہ والے صاحب حاضر خدمت ہوئے تو انہوں نے سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہیں دیا کئی بار ایسا ہوا جس کی وجہ سے قبہ والے صاحب نے یہ سمجھ لیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہیں۔ حاضرین سے انہوں نے دریافت کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رخ بدلا ہوا دیکھ رہا ہوں، صحابہ (رض) نے بتایا کہ آپ ایک دن باہر تشریف لے گئے تھے اور تمہارے قبہ کو دیکھ لیا تھا۔ یہ معلوم کرکے وہ صاحب واپس لوٹے اور اپنے قبہ کو گرا کر زمین کے برابر کردیا، اب حضرات صحابہ (رض) کا ادب دیکھو کہ واپس آکر یوں نہیں کہا کہ میں گرا آیا ہوں، پھر آپ کسی دن اس طرف تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ قبہ نہیں ہے دریافت فرمایا کہ وہ قبہ کیا ہوا ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ قبہ والے صاحب نے آپ کی بےرخی کی شکایت کی تو ہم نے یہ بتادیا کہ تمہارے قبے پر آپ کی نظر پڑگئی تھی لہٰذا انہوں نے اس کو گرا دیا تو آپ نے فرمایا کہ خبردار ہر عمارت صاحب عمارت کے لیے وبال ہے۔ سوائے اس عمارت کے جس کی ضرورت ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٤١) ان روایات سے معلوم ہوا کہ ڈانٹنا ڈپٹنا جھڑکنا سختی کرنا ہی تعلیم و تبلیغ نہیں ہے۔ زیادہ تر نرمی سے اور حکمت و تدبیر سے کام چلانا چاہیے، کہیں ضرورت پڑگئی تو سختی بھی کرلینی چاہیے لیکن ہمیشہ نہیں، بہت سے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے تو نرمی و تواضع سے پیش آتے ہیں، لیکن اپنے آل اولاد کے ساتھ صرف سختی اور مارپٹائی ہی کا معاملہ کرتے ہیں جس سے بعض بچوں کو ضد ہوجاتی ہے جب تک کم عمر رہتے ہیں پٹتے رہتے ہیں پھر جب بڑے ہوجاتے تو بڑھ چڑھ کر نافرمانی کرتے ہیں، اس وقت ان کو دین پر ڈالنا مشکل ہوجاتا ہے، ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا علیک بالرفق وایاک العنف، ان الرفق لا یکون فی شئ الا زانہ ولا ینزع من شئ الاشانہ (اے عائشہ نرمی کو لازم پکڑلو اور سختی سے اور بدکلامی سے بچو بلاشبہ جس کسی چیز میں نرمی ہوگی وہ اسے زینت دے دے گی اور جس چیز سے نرمی ہٹالی جائے گی وہ اسے عیب دار بنا دے گی) نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (من یحرم الرفق یحرم الخیر) جو شخص نرمی سے محروم کردیا گیا خیر سے محروم کردیا گیا۔ اصلاح کا طریقہ یہ بھی ہے کہ گناہ کرنے والوں سے قطع تعلق کرلیا جائے، لیکن یہ اسی وقت مفید ہے جب وہ شخص اثر لے جس سے تعلق قطع کیا گیا ہے، آج کل تو یہ زمانہ ہے کہ گناہوں میں جو لوگ مبتلا ہیں اگر ان سے تعلق توڑ لیا جائے تو وہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا ہوا تم روٹھے اور ہم چھوٹے، لہٰذا کسی نیک آدمی کے ناراض ہونے کا کچھ اثر نہیں لیتے، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ معاشرہ میں شر اور معاصی کا اٹھان زیادہ ہے، دینداروں کو حاجت ہے کہ اہل معاصی سے ملیں جلیں ان سے مال خریدیں، گنہگاروں کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ دینداروں کے پاس آئیں، اسی لیے قطع تعلق اور بائیکاٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اصل مقصود اصلاح ہونی چاہیے، داعی اور مبلغ ہمدردانہ طور پر سوچے کہ فلاں فرد اور فلاں جماعت میں کیا طریقہ کار مناسب ہوگا، پھر اس کے مطابق عمل کرے، بعض بزرگوں نے فرمایا کہ دعوت و اصلاح کے کام میں اگر مردم شناسی اور موقعہ شناسی کو پیش نظر رکھا جائے تو بات ضائع نہیں جاتی۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جہاں دعوت و تبلیغ میں اخلاص ہوگا، اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوگی وہاں نفس اور نفسانیت کا دخل نہ ہوگا، بعض لوگ کسی کو گناہ پر ٹوکتے ہیں تو اصلاح مقصود نہیں ہوتی، دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے ٹوکتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں جس شخص سے ان بن ہوگئی اسے ذلیل کرنے کے لیے مجمع میں ٹوک دیا، مقصود اصلاح نہیں ہوتی بلکہ بدلہ لینا اور ذلیل کرنا مقصود ہوتا ہے جب بات کرنے والے ہی کی نیت اصلاح کی نہیں ہے تو مخاطب پر کیا اثر ہوگا، بہرحال مبلغ و داعی کو خیر خواہ ہونا لازم ہے۔ آخر میں فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بالْمُھْتَدِیْنَ ) (بلاشبہ آپ کا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گئے اور وہ ہدایت والوں کو خوب زیادہ جاننے والا ہے) آپ اپنی محنت کرتے رہیں ہدایت قبول کرنے والوں اور گمراہی پر جمنے والوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، وہ اپنے علم کے مطابق جزا سزا دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

102:۔ نفی شرک فی التصرف اور نفی شرک فعلی کو عقل و نقل اور وحی کے دلائل سے مدلل و مفصل کرنے کے بعد طریق تبلیغ بیان کیا گیا۔ الحکمۃ دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ و محکمہ جن سے دعوی خوب واضح ہوجائے اور تمام شبہات دور ہوجائیں۔ ” الموعظۃ الحسنۃ “ خیر خواہی اور شفقت کے جذبہ کے ساتھ یا مطلب یہ ہے کہ تخویف و انذار کے ساتھ ترغیب وتبشیر بھی ہو۔ ” التیھی احسن “ یعنی گفتگو کرنے کا سب سے اچھا طریقہ اختیار کریں جس میں نرمی بھی ہو متانت اور شائستگی بھی (روح و مدارک) آپ دلائل وبراہین کے ساتھ نصح و شفقت کے جذبہ کے تحت، نرم لہجہ، شائستہ انداز گفتگو سے دعوت توحید پیش کرتے رہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس کی آپ پرواہ نہ کریں اور ان کے کفر و انکار اور ضد و اصرار کی وجہ سے غمگین نہ ہوں۔ ” ان ربک ھو اعلم الخ “ ماننے والے اور نہ ماننے والے سب اللہ کو معلوم ہیں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔ یعنی انما علیک یا محمد تبلیغ ما ارسلت بہ الیھم و دعائھم بھذہ الطرق الثلاثۃ وھو اعلم بالفریقین الضال والمھتدی فیجازی کل عامل بعملہ (خازن ج 4 ص 125) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

125 ۔ اے پیغمبر آپ اپنے پروردگار کے راستے کی طرف لوگوں کو علم و حکمت کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعہ سے دعوت دیجئے اور بلایئے اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آجائے تو ان سے بہتر طریقہ کے ساتھ بحث کیجئے۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی ان کو بھی جانتا ہے جو راہ پر چلنے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ۔ حرام و حلال کی بحث کے بعد حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو تبلیغ کا حکم فرمایا ، علم کی باتیں یا پکی باتیں یعنی جن سے مدغا ثابت کیا جاسکے اور دلائل وبراہین کے ذریعہ دین حق کی حقانیت کو ثابت کیا جائے یہ طریقہ خواص کو دعوت دینے اور دین کی طرف بلانے کا ہے ۔ مواعظہ حسنہ یعنی ترغیب و ترہیب اور رقت انگیز مضامین کے ذریعہ لوگوں کو دعوت دی جائے یہ طریقہ عوام کو دعوت دینے کا ہے۔ جادلھم بالتی حی احسن ان کج بحث معاند اور جھگڑا لو لوگوں کو دعوت دینے کا طریقہ ہے ، جو بات بات پر کٹ حجتی اور مناظرہ و مباحثہ کرنے اور بلا وجہ الجھنے کو آمادہ رہتے ہیں اگر ایسی نوبت آجائے تو بدوں کسی سختی کے تہذیب و شائستگی کے ساتھ بحث کی جائے اور دل آزاد طریقہ اختیار کرنے سے پرہیز کیا جائے اس سلسلہ میں جو طریقہ بھی اچھا ہو اس کو اختیار کرنا التیھی احسن ہے ۔ بہر حال ! طریقہ دعوت و تبلیغ بتانے کے بعد فرمایا کہ اے پیغمبر جو طریقہ تم کو بتایا ہے اس طریقے سے دعوت دیتے رہو اور اس کی فکر نہ کرو کہ کون قبول کرتا ہے اور کون انکار کرتا ہے ۔ کس کو ہدایت نصیب ہوتی ہے اور کون گمراہ رہتا ہے ، یہ سب باتیں اپنے پروردگار پر چھوڑیئے وہی راہ پر آنے والے اور نہ آنے والوں کے حالات کی پوری طرح جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں الزام دے جس طرح بہتر ہو یعنی قضیہ نہ بڑھے۔ 12