Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 128

سورة النحل

اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾٪  22

Indeed, Allah is with those who fear Him and those who are doers of good.

یقین مانو کہ اللہ تعالٰی پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Truly, Allah is with those who have Taqwa, and the doers of good. meaning; He is with them in the sense of supporting them, helping them and guiding them. This is a special kind of "being with", as Allah says elsewhere: إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَـيِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ (Remember) when your Lord revealed to the angels, "Verily, I am with you, so support those who believe." (8:12) And Allah said to Musa and Harun: لااَ تَخَافَأ إِنَّنِى مَعَكُمَأ أَسْمَعُ وَأَرَى Fear not, verily I am with you both, hearing and seeing. (20:46) The Prophet said to (Abu Bakr) As-Siddiq when they were in the cave: لاَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا Do not worry, Allah is with us." The general kind of "being with" some one, or something is by means of seeing, hearing and knowing, as Allah says: وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ And He is with you wherever you may be. And Allah sees whatever you do. (57:4) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ Have you not seen that Allah knows whatever is in the heavens and whatever is on the earth There is no secret counsel of three but He is their fourth, - nor of five but He is their sixth, - nor of less than that or more, but He is with them wherever they may be. (58:7) وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا You will not be in any circumstance, nor recite any portion of the Qur'an, nor having done any deeds, but We are witnessing you. (10:61) ... الَّذِينَ اتَّقَواْ ... those who have Taqwa, means, they keep away from that which is forbidden. ... وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ and the doers of good. meaning they do deeds of obedience to Allah. These are the ones whom Allah takes care of, He gives them support, and helps them to prevail over their enemies and opponents. This is end of the Tafsir of Surah Al-Nahl. To Allah be praise and blessings, and peace and blessings be upon Muhammad and his family and Companions.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣١] اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو بھی وہ نیکی کے کام کرتے ہیں۔ اسے بہتر سے بہتر طریقہ سے سرانجام دیتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۔۔ : یعنی دل تنگ وہ ہو جس کا کوئی ساتھی و مددگار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر متقی اور محسن کا ساتھی اور مددگار ہے اور آپ اللہ کے فضل سے تمام متقی اور محسن لوگوں کے سردار ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة بني إسرائیل : ٣١٤٨، و صححہ الألباني ] ” میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔ “ پھر آپ دل تنگ کیوں ہوں ؟ احسان کی تفصیل کے دیکھیے سورة نحل کی آیت (٩٠) ، احسان کا مقام تقویٰ سے اونچا ہے۔ معیت (ساتھ) دو قسم کی ہے، ایک معیت عامہ، یہ ہر شخص بلکہ ہر مخلوق کو حاصل ہے اور اس کے بغیر کوئی چیز باقی نہیں رہ سکتی، فرمایا : (وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ) [ الحدید : ٤ ] ” اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔ “ ایک معیت خاصہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ) [ التوبۃ : ٤٠ ] ” غم نہ کر بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ اور جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : ( كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ ) [ الشعراء : ٦٢ ] ” ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔ “ یہ خاص معیت ہے، یعنی ہمارا مددگار ہے۔ اس آیت میں معیت خاصہ مراد ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that, once again in the last verse (128), a universal formula of having the help of Allah Ta’ ala by one&s side was announced. It is: إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ Surely, Allah is with those who fear Him and those who are good in deeds. The essence of this formula is that the help of Allah Ta’ ala is with people who have two virtues: Taqwa and Ihsan. The essence of Taqwa is acting righteously or being good in deed while the sense of Ihsan at this place is to be good to those created by Allah Ta’ ala, that is, those who are duty-bound to do righteous deeds and are particular in dealing with others nicely - Allah Tais with them. And it is obvious, if someone is-blessed with the &company& (help) of Allah Ta’ ala, who can touch him!

آخری آیت میں پھر ایک عام قاعدہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد حاصل ہونے کے کا یہ بتلادیا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو دو صفتوں کے حامل ہوں ایک تقوی دوسرے احسان تقوی کا حاصل نیک عمل کرنا اور احسان کا مفہوم اس جگہ خلق خدا تعالیٰ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے یعنی جو لوگ شریعت کے تابع اعمال صالحہ کے پابند ہوں اور دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہوں حق تعالیٰ ان کے ساتھ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت (نصرت) حاصل ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وللہ الحمد اولا اخرا وظاھرا و باطنا۔ سورة نحل تمام شد

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ١٢٨؀ۧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٨) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والے ہوتے ہیں اور جو کہ قول و عمل ہر ایک اعتبار سے موحد ہوتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٨ (اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ) جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے درجۂ احسان پر فائز ہوگئے ہیں اللہ کی معیت نصرت اور تائید ان کے شامل حال رہے گی۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہوگا تو یہ مشرکین آپ کو کچھ گزند نہیں پہنچا سکتے۔ کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہے مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے ! بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالایات والذِّکر الحکیم

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

124. “Allah is with those who fear Him” because they scrupulously refrain from evil ways and always adopt the righteous attitude, for they know that their actions and deeds are not determined by the evils others do to them but by their own sense of righteousness; so they return good for evil.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :124 یعنی جو خدا سے ڈر کر ہر قسم کے برے طریقوں سے پرہیز کرتے ہیں اور ہمیشہ نیک رویہ پر قائم رہتے ہیں ۔ دوسرے ان کے ساتھ خواہ کتنی ہی برائی کریں ، وہ ان کا جواب برائی سے نہیں بلکہ بھلائی ہی سے دیے جاتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

53: ’’ احسان‘‘ بڑا عام لفظ ہے جس میں ہر طرح کے نیک کام داخل ہیں۔ اور ایک حدیث میں اس کی یہ تشریح فرمائی گئی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ جیسے وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو، یا کم از کم اس تصور کے ساتھ کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ اللہم اجعلنا من المحسنین۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:128) محسنون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ محسن واحد۔ نیکو کار۔ بھلائی کرنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 خلق خدا کے ساتھ نیکی کرتے ہیں دوسرے خواہ ان سے کتنا ہی برا رویہ اختیار کریں وہ جواب ہمیشہ بھلائی سے دیتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون (٦١ : ٨٢١) ” بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں “۔ جس کے ساتھ اللہ ہو ، تو اسے کوئی ڈر نہیں ہے۔ جو چاہے اس کے خلاف سازش کرے اور اس کے خلاف تدابیر کرے ، اللہ بہرحال اپنے نیک بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ ہے دعوت اسلامی کا دستور العمل اسے خود باری تعالیٰ نے وضع کیا ہے۔ اگر داعی اس پر چلے تو کامیابی یقینی ہے۔ یہ اللہ کا فرمان ہے اور اللہ سے زیادہ سچی بات کون کرسکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اچھے کام کرتے ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو تقویٰ اور احسان کی صفت سے نواز دیا تو اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہوگی دشمن اپنی تدبیر میں کامیاب نہ ہوں گے چناچہ الحمد للہ ایسا ہی ہوا کہ کافر اپنی تدبیریں کرتے رہے اور اسلام آگے بڑھتا گیا۔ فالحمد للّٰہ علی انعامہ واحسانہ ولقدتم تفسیر سورة النحل بفضل اللّٰہ تعالیٰ وحولہ وقوتہ فی اللیلۃ العشرین من جمادی الاولی سنۃ ١٤١٤ ھ والحمد للّٰہ اولاً وآخرًا وظاھرًا و باطنًا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

128 ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی معیت ، حمایت اور مدد ان کو میسر ہوتی ہے جو پرہیز گار اور تقوے کے پابند ہوتے ہیں اور جو لوگ نیک کردار اور نیکی کرنے والے ہوتے ہیں ۔ یعنی اہل تقویٰ جو برائی کا بدلہ لینے سے بچتے ہیں اور اہل احسان کو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور معیت حاصل ہوتی ہے۔ الحمد للہ ! سورة نحل کی تیسیر آج 10 ربیع الثانی 1372؁ھ بمطابق 28 دسمبر 1952؁ء اتوار کے دن عشاء اور صبح کے مابین پوری ہوئی۔.