Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 28

سورة النحل

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾

The ones whom the angels take in death [while] wronging themselves, and [who] then offer submission, [saying], "We were not doing any evil." But, yes! Indeed, Allah is Knowing of what you used to do.

وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وہ جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے کیوں نہیں؟ اللہ تعالٰی خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Condition of the Disbeliever during and after Death Allah tells: الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَليِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ ... Those whose lives the angels take while they are doing wrong to themselves. Allah informs us of the state of the idolators who are doing wrong to themselves when death approaches and the angels come to seize their evil souls. ... فَأَلْقَوُاْ السَّلَمَ ... Then, they will (falsely) submit, meaning, they will make it appear as if they used to listen and obey by saying, ... مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ ... We did not do any evil. Similarly, on the Day of Resurrection, they will say, وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ By Allah, our Lord, we were not idolators. (6:23) يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ On the Day when Allah will resurrect them all together; then they will swear to Him as they swear to you. (58:18) Allah says, rejecting what they say, ... بَلَى إِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ فَادْخُلُواْ أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَلَبِيْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ

مشرکین کی جان کنی کا عالم مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لئے آتے ہیں ، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بےگناہی بیان کرتے ہیں ۔ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے ۔ جس طرح دنیا میں اپنی بےگناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے ۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو ، بد اعمالیاں جی کھول کر کہ چکے ہو ، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آ جائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے ۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیا زہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو ۔ مقام برا ، مکان برا ، ذلت اور سوائی والا ، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے ۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہو جائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی ۔ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف ۔ جیسے فرمان باری ہے آیت ( وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ ) 40 ۔ غافر:46 ) یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں ۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 یہ مشرک ظالموں کی موت کے وقت کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ صلح کی بات ڈالتے ہیں یعنی سمع وطاعت اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی نہیں کرتے تھے۔ جس طرح میدان محشر میں اللہ کے روبرو بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے ' اللہ کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے ' دوسرے مقام پر فرمایا ' جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کر اپنے پاس جمع کرے گا تو اللہ کے سامنے بھی یہ اسی طرح (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔ 28۔ 2 فرشتے جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ یعنی تم جھوٹ بولتے ہو، تمہاری تو ساری عمر ہی برائیوں میں گزری ہے اور اللہ کے پاس تمہارے اعمال کا ریکارڈ محفوظ ہے تمہارے اس انکار سے اب کیا بنے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] عذاب قبر اور اس کی کیفیت :۔ جن فرشتوں کے آنے کا اپنے نبی سے تقاضا کرتے رہے جب وہ آجاتے ہیں تو ان کی سب شیخیاں کر کری ہوجاتی ہیں اور جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں پھر اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنی نافرمانیوں اور حق کے خلاف سرگرمیوں سے یکسر انکار کردیں گے اور اپنے ہتھیار ڈال دیں گے تاکہ انھیں فرشتوں کی طرف سے امن نصیب ہو۔ جس کا جواب انھیں یہ دیا جائے گا کہ کیا اب تم جھوٹ بول کر اللہ کو فریب دینا چاہتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہاری ایک ایک حرکت سے باخبر ہے کہ کس طرح تم نبیوں کے دشمن بنے رہے اور حق کو ٹھکراتے رہے اور اپنے کفر و شرک پر ڈٹے رہے۔ تمہاری اس سرکشی کی سزا یہ ہے کہ اب تم ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کردیئے جاؤ۔ فرشتوں کی یہ دھمکی مجرموں کو اسی دنیا میں مل جاتی ہے یعنی موت کی آخری ہچکی کے ساتھ ہی ہر شخص کو اپنا انجام نظر آنے لگتا ہے بلکہ فرشتے اسے واضح طور پر بتادیتے ہیں۔ موت کی آخری ہچکی سے لے کر دوبارہ روز آخرت کو جی اٹھنے تک کے عرصہ کا نام برزخ ہے اور اسی عرصہ کو حدیث میں && قبر اور جدث && کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے خواہ میت فی الواقع مکمل ہو یا نہ ہو یا کسی دوسرے طریقے سے ٹھکانے لگا دی گئی ہو۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو یا پانی میں غرق ہوگئی ہو۔ منکرین حدیث جو عذاب قبر کے منکر ہیں ان آیات میں ان کی تردید موجود ہے۔ جب روح بدن سے نکل جاتی ہے جسے موت کہا جاتا ہے تو اس وقت بھی روح نہ مرتی ہے نہ فنا ہوتی ہے بلکہ اپنی شخصیت کے ساتھ قائم رہتی ہے اور یہی روح دوبارہ حشر و نشر کے دن اپنے جسم میں داخل کی جائے گی جو اسے اس دن مہیا کیا جائے گا۔ اسی کا نام دوسری زندگی ہے اور عالم برزخ میں جو عذاب یا ثواب ہوتا ہے جس کا مذکورہ آیات میں ذکر ہے وہ صرف روح کو ہوتا ہے جیسے کہ انسان کو خواب میں بسا اوقات دکھ پہنچتا ہے اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پٹائی ہو رہی ہے اور اس پٹائی کی اسے تکلیف بھی ہوتی ہے حالانکہ یہ سب واردات روح سے پیش آتی ہے اور جسم اپنے بستر پر پڑا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ جاگتا ہے تو خواب میں پٹائی کے اثرات صرف اس کے ذہن میں ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ جسم پر بھی پائے جاتے ہیں اور وہ خوفزدہ معلوم ہوتا ہے۔ بالکل ایسی ہی کیفیت عذاب قبر کی بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح خواب میں انسان کو راحت و مسرت کے واقعات بھی پیش آتے ہیں اور جب وہ اٹھتا ہے۔ تو وہ خود ہشاش بشاش ہوتا ہے اور سب کو اس کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا نظر آتا ہے۔ ثواب قبر کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ گویا عالم برزخ ایسی نیم زندگی کی کیفیت ہوتی ہے جس میں موت کے اثرات چونکہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لیے برزخ کی اس نیم زندگی کی حالت کو موت ہی سے تعبیر کیا گیا ہے (مزید تفصیل کے لیے میری تصنیف && روح، عذاب قبر اور سماع موتی && ملاحظہ فرمائیے &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ۔۔ : ”۠فَاَلْقَوُا “ ” أَلْقٰی یُلْقِیْ “ (افعال) سے ماضی معلوم کا جمع مذکر غائب ہے۔ مراد مستقبل ہے، کیونکہ وہ ماضی کی طرح یقینی ہے۔ ” اِلْقَاءٌ“ کا لفظ اجسام کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ” فُلاَنٌ أَلْقَی السَّلَاحَ “ کہ فلاں نے ہتھیار پھینک دیے، یعنی اپنے آپ کو حوالے کردیا۔ ” السَّلَمَ “ کا معنی ” اِسْتِسْلَامٌ“ ہے، یعنی مکمل طور پر تابع اور مطیع ہونا۔ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : اس سے مراد کفار ہیں، کیونکہ ” الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ “ پچھلی آیت میں مذکور ” اَلْکٰفِرِیْنَ “ کی صفت ہے اور اپنی جان پر سب سے بڑا ظلم کفر و شرک ہی ہے۔ (دیکھیے انعام : ٢٢) ظالم ہونے کی حالت میں انھیں فرشتوں کے فوت کرنے میں اس سختی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اس وقت ان ظالموں پر گزرتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (٩٣) اور سورة انفال (٥٠) براء بن عازب (رض) کی طویل حدیث میں مومن اور کافر کی موت کے وقت فرشتوں کا ان سے سلوک تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ [ مسند أحمد : ٤؍٢٨٧، ٢٨٨، ح : ١٨٥٦١۔ أبوداوٗد : ٤٧٥٣ ] مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ : یعنی ساری عمر تو اہل ایمان سے مخالفت اور لڑنے میں گزار دی، اب حقیقت واضح ہونے پر اپنی فرماں برداری کا اظہار کریں گے کہ ہم تو کوئی برا کام کیا ہی نہ کرتے تھے۔ وہاں صاف جھوٹ بول کر سمجھیں گے کہ دنیا کی طرح یہاں بھی ہمارا جھوٹ چل جائے گا، بلکہ اس پر قسمیں بھی اٹھائیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (٢٢، ٢٣) اور سورة مجادلہ (١٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀ وفی وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] ( و ف ی) الوافی اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ ( الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ) ایسے لوگ جنہیں اپنی زندگی میں اللہ یاد ہے نہ آخرت نیکی کی رغبت ہے نہ برائی سے نفرت بس اپنی عیش کوشی اور نفس پرستی میں مگن ہیں۔ اسی حالت میں جب فرشتے ان کے پاس پروانۂ موت لے کر آ دھمکیں گے : (بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) موت کے فرشتوں کے سامنے وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے اسلام اور اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس طرح ان کے سامنے بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24. This is Allah’s addition to the previous assertion, and not its continuation. Those commentators, who have wrongly considered this as continuation of the preceding sentence, are unable to offer any satisfactory explanation for their opinion. 25. That is, when the angels take possession of their souls at the time of death.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :25 یعنی جب موت کے وقت ملائکہ ان کی روحیں ان کے جسم سے نکال کر اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: اس سے معلوم ہوا کہ عذاب میں صرف ان لوگوں کو ہوگا جو کفر کی حالت میں مرے ہوں۔ اگر کوئی مرنے سے پہلے پہلے سچی توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے اور اسے معاف کردیا جاتا ہے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٨۔ اس آیت کے ٹکڑے میں بد لوگوں کی اور اس سے آگے جو ٹکڑا ہے اس میں نیک لوگوں کی قبض کا حال ہے۔ دونوں طرح کی روحوں کے قبض ہونے کے حال میں معتبر سند سے ابوداؤد و نسائی ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں براء بن عازب (رض) وغیرہ سے جو روایتیں آئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے لئے خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں اور عذاب قبر اور عذاب قیامت کا حال اس قریب المرگ شخص کی روح کو سناتے ہیں۔ اس حال کو سن کر وہ روح ڈرتی ہے اور جگہ جگہ بدن میں چھپتی ہے وہ فرشتے روح کو بدن سے نکالنے کی غرض سے اس بد شخص کے منہ اور اس کی پیٹھ پر بری طرح سے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خبیث اب بدن سے نکل اللہ کا غضب اور عذاب تیرے لئے تیار ہے آخری قبض روح کے وقت کی سختی کی مثال حدیث میں یہ ہے کہ جس طرح بھیگی ہوئی اون میں گرم سینچا چلا کر نکالا جاوے اور نمی کے سبب سے ان کے سب بال سینچہ کو لپٹ جاتے ہیں اور سومھی اون کے بالوں کی طرح اڑ کر کوئی بال جلنے سے نہیں بچ سکتا اسی طرح بدن کے رونگٹے رونگٹے کو تکلیف پہنچ کر بد آدمی کی روح نکلتی ہے روح کے نکلتے ہی زمین پر ایک طرح کی بدبو پھیلتی ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بدبو کا ذکر فرماتے وقت ناک کو کپڑا لگا لیا تھا کہ گویا بدبو آہی رہی ہے۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) جب اس حدیث میں بدبو کے ذکر کی روایت کرتے تھے تو ناک کو کپڑا لگا لیا کرتے تھے اسی طرح اس بدبو کے پھیلنے سے آسمان کے فرشتوں کو ایک طرح کی اذیت ہوتی ہے اور آسمان کے فرشتے اس روح کو بہت برا کہتے ہیں اور یہ قبض روح والے فرشتے اس روح کو ایک ٹاٹ کے ٹکڑے میں لپیٹ کر خدا تعالیٰ کے روبرو لے جانا چاہتے ہیں مگر آسمان کے دروازے کھلنے کا حکم نہیں ہوتا اور اس روح کو پھر جسم میں لایا جا کر منکر نکیر کا سوال ہوتا ہے اور جواب پورا نہ ہونے سے سجنا مقام میں جو ساتوں زمین کے نیچے ہے اس روح کا نام لکھ لیا جاتا اور طرح طرح کا عذاب قبر شروع ہوجاتا ہے جس سے اللہ ہر ایک مسلمان کو محفوظ رکھے ایک بد صورت شخص قبر میں آن کر مردے سے کہتا ہے کہ آج وعدے کا دن ہے مردہ کہتا ہے۔ تجھ کو خدا کی مار تو کون ہے وہ کہتا ہے میں تیرا بد عمل ہوں۔ غرض یہ مردہ ہمیشہ عذاب قبر میں مبتلا رہتا ہے اور دعا مانگتا رہتا کہ قیامت دیر میں قائم ہو تاکہ اس سے زیادہ عذاب میں نہ پھنسوں نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت خوبصورت فرشتے آتے ہیں اور جنت کی خوشبو کا بسا ہوا ایک ریشمی کپڑے کا ٹکڑا لاتے ہیں اور روح کو اللہ کی رضا مندی اور جنت کی نعمتوں کی خوشخبری سناتے ہیں مثال کے طور پر حدیث میں فرمایا ہے کہ جس طرح پانی کی بھری ہوئی مشک میں سے پانی کے قطرے جلدی جلدی مشک کے دہانے سے ٹپک کر نکل جاتے ہیں اللہ کی رضامندی اور جنت کی نعمتوں کا حال سن کر اس طرح پھرتی اور آسانی سے تمام جسم کی نیک روح اکٹھی ہو کر جھٹ بدن سے نکل جاتی ہے اور اس کے نکلتے ہی ایک خوشبو آسمان کے فرشتے تک پہنچتی ہے جس کو سونگھ کر آسمان کے فرشتے آپس میں کہتے ہیں آج کوئی نیک روح بدن سے الگ ہوئی ہے اسی کی یہ خوشبو ہے اور آسمان کے ہر دروازے کے فرشتے یہ آروز کرتے ہیں کہ ہماری طرف سے یہ روح آوے تو اچھا ہے قبض روح کرنے والے فرشتے اس روح کو اس ریشمی خوشبو دار کپڑے میں لپیٹ کر جب آسمان پر لے جاتے ہیں تو ہر ایک آسمان کے فرشتے اپنے علاقے تک اس روح کے ساتھ جاتے ہیں بڑی عزت سے اس شخص کا نام لیتے ہیں جس کی یہ روح ہے یہاں تک کہ اللہ کے روبرو اس روح کو لے جاتے ہیں وہ روح اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس روح کو علیین میں لکھ لو علیین ساتویں آسمان پر ایک مقام ہے پھر وہ روح جسم میں لائی جاتی ہے اور منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت وہ ثابت قدمی اللہ کی طرح سے عنایت ہوتی ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اور منکر نکیر کا جواب پورا ادا ہوجاتا ہے تو بڑا خوب صورت ایک شخص قبر میں اس نیک مردہ کے پاس آتا ہے یہ نیک مردہ اس شخص سے پوچھتا ہے تو کون ہے وہ کہتا ہے میں تیرا نیک عمل ہوں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ تمام اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ آدمی کے مرجانے کے بعد روح فنا نہیں ہوتی بلکہ اچھی روحیں طرح طرح کے جانوروں کی شکل میں جنت میں چرتی پھرتی ہیں اور بری روحیں عذاب میں گرفتار رہتی ہیں لیکن اچھی روحیں قیامت کے قائم ہونے کی دعا مانگتی رہتی ہیں کیونکہ آدمی کے بھیس میں آن کر خاص مکان اور ہر طرح کا عیش تو ان کو قیامت کے قائم ہونے کے بعد ملے گا بالفعل تو وہ جنت میں اس طرح ہیں جس طرح کوئی اوپری جانور کسی باغ میں ہوتا ہے اگرچہ بعضے علماء نے یہ کہا ہے کہ قیامت سے پہلے سوا شہیدوں کے اور کوئی روح جنت میں نہ جاوے گی لیکن حدیث شریف میں عام مسلمانوں کی روحوں کے جنت میں رہنے کا ذکر قیامت سے پہلے آچکا ہے۔ چناچہ معتبر سند سے نسائی، مؤطا اور بیہقی کی کتاب بعث و نشور میں کعب بن مالک (رض) کی روایت ١ ؎ میں اس کا ذکر صراحت سے ہے۔ شہیدوں کی روحوں اور عام ایمانداروں کی روحوں میں فرق اسی قدرے ہے کہ عام ایمانداروں کی روحیں پیدل شخص کی طرح جانوروں کی شکل سے جنت میں جاویں گی اور شہیدوں کی روحیں سوار شخص کی طرح سبز جانوروں کے پوٹے میں ہوں گی جس کا ذکر مسند امام احمد وغیرہ کی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی صحیح روایت میں ہے۔ فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت وقت پر عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو فرمانبردار ٹھہرا کر نافرمانی کا انکار کریں گے مگر اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کے اس انکار کو جھٹلاوے گا۔ ١ ؎ شرح الصدور (از سیوطی) ص ٩٦۔ ٩٧۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:28) تتوفہم الملئکۃ ۔ وہ فرشتوں کی جماعت ان کی جان قبض کرتی ہے۔ توفی (باب تفعل) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ظالمی انفسہم۔ حال ہے تتوفہم کی ضمیر ہم سے۔ ظالمی اصل میں ظالمین تھا نون بوجہ اضافت کے ساقط ہوگیا۔ درآں حالیکہ وہ اپنے اوپر ستم کر رہے تھے (بوجہ کفر کے) ۔ فالقوا السلم۔ القوا۔ القاء (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ڈالا۔ سلم (اسم ہے) صلح۔ انقیاد۔ فرماں برداری۔ اطاعت۔ عاجزی۔ تسلیم سے جس کے معنی سپرد کرنے کے ہیں۔ القوا السلم۔ وہ اطاعت و عاجزی کا اظہار کریں گے۔ ما کنا نعمل من سوئ۔ سے قبل وقالوا محذوف ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 تم تو سب سے برا کام یعنی شرک کیا کرتے تھے۔ (وحیدی) 4 اب انکار کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ ساری عمر تو ایمان والوں سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ اب عاجز آگئے تو لگے صلح کی پیشکش کرنے (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آخرت میں کفار اور مشرکین کی ذلت کی ابتداء۔ کفار اور مشرکین کے بارے میں بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی موت ذلت کے ساتھ ہوگی اور قیامت کے دن بھی ذلیل ہوں گے۔ اس سے قبل دو آیات میں یہ بتلایا ہے کہ کفار دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں۔ بالخصوص انبیاء کرام کا براہ راست مقابلہ کرنے والے کفار اور مشرک بالآخر دنیا میں ذلیل ہوئے۔ اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان کی ذلت کی ابتدا اسی وقت ہوجاتی ہے جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں۔ ملائکہ پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ خوف کے مارے کہتے ہیں ہم کوئی برے کام نہیں کررہے تھے۔ ملائکہ انہیں جھڑکیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کیوں نہیں ! تم اپنے رب کے نافرمان اور باغی تھے۔ تم مانو یا نہ مانو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔ بعض مفسرین نے ” فَاَلْقَوُاالسَّلَمَ “ کا یہ مفہوم لیا ہے کہ مرنے کے وقت یہ لوگ موت کے ملائکہ کو دیکھ کر ہتھیار ڈال دیں گے یعنی بےبس ہوجائیں گے یہاں تک کہ آہ وزاری کرنا چاہیں بھی تو نہیں کرسکیں گے۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر یہ بھی بیان کیا ہے کہ موت کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی روح ہمارے حوالے کرو جب روح ان کے جسد عنصری سے باہر نہیں نکلتی تو وہ ان کے چہروں پر تھپڑ مارتے اور جھڑکیاں دیتے ہیں۔ اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کی روح قبض کی جاتی ہے۔ مرنے کے بعد ان کی قبر کو جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا بنا دیا جاتا ہے۔ محشر کے دن حکم ہوگا کہ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔ جو تکبر کرنے والوں کے لیے بد ترین جگہ ہے۔ یہاں جہنم کے ایک دروازے کا ذکر کرنے کی بجائے جمع کا لفظ لا کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایسے مجرم ہیں کہ جہنم کے تمام دروازے اور اس کی بلائیں ان کا انتظار کر رہی ہوں گی۔ (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ مِنَ السَّمَآءِ مَلَآءِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمُ الْمُسُوْحُ فَیَجْلِسُوْنَ مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَجِیْٓءُ مَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَیَقُولُ أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ اخْرُجِیْٓ إِلَی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ ) [ رواہ أحمد ] ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کافر کا دنیا سے رخصت ہونے کا اور موت کا وقت آجاتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں۔ ان کے پاس کھردرا لباس ہوتا ہے۔ وہ فرشتے فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ ہوجاتی ہے۔ پھر اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے۔ “ مسائل ١۔ ظالم اپنے برے اعمال کو درست سمجھتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل سے باخبر ہے۔ ٣۔ کفار جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ٤۔ تکبر کرنے والوں کا بہت برا ٹھکانا ہے۔ تفسیر بالقرآن جہنم بدترین جگہ ہے : ١۔ جہنم کے دروازوں سے ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ تکبر کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانہ ہے۔ (النحل : ٢٩) ٢۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ (النساء : ٩٧) ٣۔ رسول کی مخالفت کرنے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ (النساء : ١١٥) ٤۔ اللہ نے کفار کے لیے جہنم تیار کی ہے، وہ برا ٹھکانہ ہے۔ (الفتح : ٦) ٥۔ بیشک جہنم برا ٹھکانہ اور برا مقام ہے۔ (الفرقان : ٦٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کی جانیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کیں کہ یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے) کفر ہی پر جئے اور کفر ہی پر مرے لہٰذا آج کفر کی سزا ملے گی۔ (فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ ) (پھر کافر لوگ صلح کا پیغام ڈالیں گے کہ ہم کوئی برا کام نہ کرتے تھے) جب وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اس کے چھٹکارے کے لیے تدبیریں سوچیں گے، ان تدبیروں میں سے ایک تدبیر یہ ہوگی کہ سفارشی تلاش کریں گے اور یوں کہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کردیتا، کبھی کہیں گے کہ یہاں سے نکال دئیے جاتے تو دوبارہ دنیا میں جاکر اچھے عمل کرتے، اور کبھی اس بات کے منکر ہوجائیں گے کہ ہم مشرک یا کافر تھے، اس آیت میں ان کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ ہم تو کوئی بھی برا کام نہ کرتے تھے، اس میں کفر سے بھی انکاری ہوگئے اور شرک سے بھی اور ہر قسم کی معصیت سے اس انکار کو وہ اپنی نجات کا ذریعہ بنائیں گے چونکہ صلح کرنے سے بعض مرتبہ مصیبت ٹل جاتی ہے اس لیے اسے صلح سے تعبیر فرمایا، ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا۔ کہ بلیٰ ہاں تم نے برے کام کیے ہیں اور بہت بڑے جرم کیے ہیں کفر کیا شرک کیا پھر کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی بھی برا کام نہیں کیا (یہ انکار اور دھاندلی قیامت کے دن چلنے والی نہیں) (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کاموں کو جانتا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ یہ الکافرین کی صفت ہے اور یہاں سے لے کر ” فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ “ تک ادخال الٰہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے بیان فرمایا ہے کہ ظالموں یعنی مشرکوں کا یہ حال ہوگا۔ ” ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ “ یہ ” تَتَوَفّٰهُمْ “ کی ضمیر منصوب سے حال ہے یعنی یہ مشرکین شرک کی وجہ سے اپنے اوپر طلم کرتے رہے اور مرتے دم تک شرک پر ڈٹے رہے۔ ” تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰئِکَةُ “ سے معلوم ہوا کہ جان قبض کرنے پر صرف ایک فرشتہ (عزرائیل) ہی مقرر نہیں بلکہ اس کام پر بہت سے فرشتے مامور ہیں جو عزرائیل کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اس سے اہل بدعت کا یہ استدلال باطل ہوگیا کہ اگر ایک عزرائیل فرشتہ ایک وقت میں ہزاروں جگہوں میں حاضر ہو کر لوگوں کی جانیں قبض کرسکتا ہے تو پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہر جگہ حاضر و ناظر ہوسکتے ہیں۔ ” فَادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ الخ “ تخویف اخروی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28 ۔ جن کی جان فرشتوں نے اس حالت میں قبض کی تھی کہ وہ اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے یعنی جن کا خاتمہ کفر پر ہوا تھا تب وہ دین حق کے منکر صلح کا پیغام اور اطاعت و فرماں برداری کا پیغام ڈالتے ہوئے کہیں گے ہم تو دنیا میں کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے ان کو جواب دیا جائے گا بیشک تم برے کام کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی ان منکروں کے ساتھ دنیا میں جو سلوک ہوا وہ تو ہوا قیامت کے دن ان کی اور بھی زیادہ رسوائی اور ذلت ہوگی اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا کہ وہ میرے شریک جن کو تم شرکاء کہتے تھے اور میرے پیغمبروں سے اور اہل علم سے جھگڑا کرتے تھے وہ کہاں ہیں اس پر واقف کار صاحبان علم کہیں گے آج ہر قسم کی ذلت کے حق دار وہی لوگ ہیں جن کا شیوہ کفر و انکار پر اصرار تھا اور وہ مرتے دم تک کفر پر قائم رہے یہاں تک کہ اسی کفر و ظلم کی حالت میں انہوں نے اپنی جان ان فرشتوں کے سپرد کی جو قابض ارواح تھے تب وہ اللہ تعالیٰ کے سوال این شرکائی کے جواب میں صلح اور اطاعت و فرماں برداری کا پیغام پیش کریں گے اور صلح و صفائی کے ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ ہم تو کوئی براکام نہیں کیا کرتے تھے حضرت حق تعالیٰ فرمائیں گے تم نے تو شرک کیا ہے اور رسولوں کی مخالفت کی ہے اور جن جرائم کا تم ارتکاب کرتے رہے ہو ان سب کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔