What the Pious say about the Revelation, their Reward and their Condition during and after Death
Allah tells:
وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْاْ
...
And (when) it is said to those who had Taqwa (piety and righteousness),
Here we are told about the blessed, as opposed to the doomed, who, when they are asked,
...
مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ
..
What is it that your Lord has revealed!
they will reluctantly answer, "He did not reveal anything, these are just the fables of old."
But the blessed, on the other hand, will say,
....
قَالُواْ خَيْرًا
...
They say: "That which is good."
meaning - He revealed something good, meaning mercy and blessings for those who followed it and believed in it.
Then we are told about Allah's promise to His servants which He revealed to His Messengers.
He says:
...
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ
...
For those who do good in this world, there is good,
This is like the Ayah,
مَنْ عَمِلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُوْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
Whoever works righteousness - whether male or female - while being a true believer verily, to him We will give a good life, and We shall certainly reward them in proportion to the best of what they used to do. (16:97),
which means that whoever does good in this world, Allah will reward him for his good deeds in this world and in the next.
Then we are told that the home of the Hereafter will be better,
i.e., better than the life of this world, and that the reward in the Hereafter will be more complete than the reward in this life, as Allah says,
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ
But those who were given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better. (28:80)
and,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلَبْرَارِ
and what is with Allah for the righteous is better. (3:198)
and;
وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
Although the Hereafter is better and enduring. (87:17)
Allah said to His Messenger:
وَلَلٌّخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الاٍّولَى
And indeed the Hereafter is better for you than the present. (93:4)
...
وَلَدَارُ الاخِرَةِ خَيْرٌ
...
and the home of the Hereafter will be better.
Allah describes the abode of the Hereafter, saying,
...
وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ
متقیوں کے لیے بہترین جزا
بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں ۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہو جائے ۔ پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی ۔ جیسے فرمان ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے ، خواہ مرد ہو خواہ عورت ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے ، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا ۔ یاد رہے کہ دار آخرت ، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے ۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ ثواب الٰہی بہتر ہے ، الخ قرآن فرماتا ہے آیت ( وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ) 3 ۔ آل عمران:198 ) اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لئے بہت اعلیٰ ہیں ۔ پھر فرماتا ہے دار آخرت متقیوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے ۔
جنات عدن بدل ہے دارا لمتقین کا یعنی ان کے لئے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں ، جو چاہیں گے پائیں گے ۔ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی ۔ حدیث میں ہے اہل جنت بیٹھے ہوں گے ، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہو گا ۔ پرہیز گار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایمان دار ہوں ، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں ۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں ، سلام کرتے ہیں ، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 41 ۔ فصلت:30 ) جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا ، پھر اس پر جمے رہے ، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو ، جنت کی خوشخبری سنو ، جس کا تم سے وعدہ تھا ، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں ، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا ۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو ۔ اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت ( يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ ) 14 ۔ ابراہیم:27 ) کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں ۔