Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 30

سورة النحل

وَ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا مَاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوۡا خَیۡرًا ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ ؕ وَ لَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾

And it will be said to those who feared Allah , "What did your Lord send down?" They will say, "[That which is] good." For those who do good in this world is good; and the home of the Hereafter is better. And how excellent is the home of the righteous -

اور پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں اچھے سے اچھا جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ، اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے ، اور کیا ہی خوب پرہیزگاروں کا گھر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

What the Pious say about the Revelation, their Reward and their Condition during and after Death Allah tells: وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْاْ ... And (when) it is said to those who had Taqwa (piety and righteousness), Here we are told about the blessed, as opposed to the doomed, who, when they are asked, ... مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ .. What is it that your Lord has revealed! they will reluctantly answer, "He did not reveal anything, these are just the fables of old." But the blessed, on the other hand, will say, .... قَالُواْ خَيْرًا ... They say: "That which is good." meaning - He revealed something good, meaning mercy and blessings for those who followed it and believed in it. Then we are told about Allah's promise to His servants which He revealed to His Messengers. He says: ... لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ... For those who do good in this world, there is good, This is like the Ayah, مَنْ عَمِلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُوْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ Whoever works righteousness - whether male or female - while being a true believer verily, to him We will give a good life, and We shall certainly reward them in proportion to the best of what they used to do. (16:97), which means that whoever does good in this world, Allah will reward him for his good deeds in this world and in the next. Then we are told that the home of the Hereafter will be better, i.e., better than the life of this world, and that the reward in the Hereafter will be more complete than the reward in this life, as Allah says, وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ But those who were given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better. (28:80) and, وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلَبْرَارِ and what is with Allah for the righteous is better. (3:198) and; وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى Although the Hereafter is better and enduring. (87:17) Allah said to His Messenger: وَلَلٌّخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الاٍّولَى And indeed the Hereafter is better for you than the present. (93:4) ... وَلَدَارُ الاخِرَةِ خَيْرٌ ... and the home of the Hereafter will be better. Allah describes the abode of the Hereafter, saying, ... وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ

متقیوں کے لیے بہترین جزا بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں ۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہو جائے ۔ پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی ۔ جیسے فرمان ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے ، خواہ مرد ہو خواہ عورت ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے ، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا ۔ یاد رہے کہ دار آخرت ، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے ۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ ثواب الٰہی بہتر ہے ، الخ قرآن فرماتا ہے آیت ( وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ) 3 ۔ آل عمران:198 ) اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لئے بہت اعلیٰ ہیں ۔ پھر فرماتا ہے دار آخرت متقیوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے ۔ جنات عدن بدل ہے دارا لمتقین کا یعنی ان کے لئے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں ، جو چاہیں گے پائیں گے ۔ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی ۔ حدیث میں ہے اہل جنت بیٹھے ہوں گے ، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہو گا ۔ پرہیز گار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایمان دار ہوں ، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں ۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں ، سلام کرتے ہیں ، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 41 ۔ فصلت:30 ) جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا ، پھر اس پر جمے رہے ، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو ، جنت کی خوشخبری سنو ، جس کا تم سے وعدہ تھا ، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں ، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا ۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو ۔ اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت ( يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ ) 14 ۔ ابراہیم:27 ) کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] قرآن سراسر بھلائی ہے :۔ کفار مکہ سے جب آس پاس کے لوگ یہی سوال کرتے تو وہ کہتے کہ وہ تو بس پہلی قوموں کے قصے کہانیاں ہی ہیں جو ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں لیکن وہی بیرونی لوگ جب یہی سوال کسی ایمان لانے والے اور متقی شخص سے کرتے ہیں تو ان کا جواب کفار مکہ کے جواب کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی پر جو تعلیم نازل ہوئی ہے اس میں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ پھر یہ لوگ صرف زبان سے ہی ان باتوں کا اقرار نہیں کرتے بلکہ اللہ کی اس نازل کردہ تعلیم کو اپنے آپ پر نافذ بھی کرتے ہیں۔ اور جن کاموں کے کرنے کا انھیں حکم ہوتا ہے وہ احسن طور پر بجا لاتے ہیں اور جن کاموں سے منع کیا جائے ان سے رک جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بھلائیاں ہی نصیب ہوتی ہیں اور آخرت میں بھی دائمی خوشیاں اور بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ گویا یہی قرآن کافروں کے لیے مزید گمراہی کا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے مزید ہدایت کا سبب بن جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۔۔ : ” خَيْرًا “ ” خَیْرٌ“ اور ” شَرٌّ“ اصل میں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، یعنی ” أَخْیَرُ “ اور اَشَرّ “ ، تخفیف کے لیے ” خَیْرٌ“ اور ” شَرٌّ“ بنادیا گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ” بہترین بات “ یعنی سب سے اچھی بات۔ یہاں زمخشری نے ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ یہی سوال اس سورت کی آیت (٢٤) میں کفار سے کیا گیا تو ان کا جواب تھا ” اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ “ جو مرفوع ہے اور یہاں متقین سے یہی سوال ہوا تو انھوں نے کہا ” خَيْرًا “ جو منصوب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ” اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ “ مبتدا ” ھِيَ “ کی خبر ہے، اس لیے مرفوع ہے، یعنی کفار نے مانا ہی نہیں کہ رب تعالیٰ نے کچھ نازل فرمایا، ورنہ ” اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ “ منصوب ہوتا، اس کے برعکس متقین کا قول ” خَيْرًا “ ” أَنْزَلَ “ مقدر کا مفعول ہے، یعنی اسی نے خیر نازل فرمائی ہے۔ گویا متقین نے وحی الٰہی کا نزول بھی تسلیم کیا اور اس کے بہترین ہونے کی شہادت بھی دی۔ اس کے برعکس کافروں نے دونوں باتوں کا انکار کیا۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ : ” حَسَـنَةٌ“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ مومن کو دنیا کی زندگی میں بھی وہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے جو کافر کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا۔ صہیب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ ، إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِیْنَ ، إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ ) [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : ٢٩٩٩ ]” مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی بہترین ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ “ قرآن مجید میں مومن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ حیات طیبہ عطا کرنے کا ہے۔ دیکھیے سورة نحل (٩٧) ۔ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۔۔ : اس میں ” دَارٌ“ موصوف اپنی صفت ” الْاٰخِرَةِ “ کی طرف مضاف ہے۔ آخری گھر اس لیے فرمایا کہ اس کے بعد اور کوئی گھر نہیں، ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔ ” وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ “ ” نِعْمَ “ فعل ماضی ہے، یہ مدح کے لیے ہے، مخصوص بالمدح ” ھِيَ “ ہے، اس کی ضد ” بِءْسَ “ ہے جو مذمت کے لیے ہے۔ لام تاکید کا معنی ” تو “ کے ساتھ اور ” خیر “ کا معنی تفضیل کی وجہ سے ” کہیں بہتر “ کے ساتھ کیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر : اور جو لوگ شرک سے بچتے ہیں ان سے (جو قرآن کے بارے میں) کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ بڑی خیر (اور برکت کی چیز) نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک کام کئے ہیں (جس میں یہ قول مذکور اور تمام اعمال صالحہ آگئے) ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے ( وہ بھلائی ثواب کا وعدہ و بشارت ہے) اور عالم آخرت تو (بوجہ اس کے کہ وہاں اس وعدہ کا تحقق و ظہور ہوجائے گا) اور زیادہ بہتر (اور موجب سرور) ہے اور واقعی وہ شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے وہ گھر (کیا ہے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے ان باغوں کے (اشجار وعمارات کے) نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہاں ان کو ملے گی (اور خاص انہی کی کیا تخصیص ہے جن کا قول اس مقام پر مذکور ہے بلکہ) اسی طرح کا عوض اللہ تعالیٰ سب شرک سے بچنے والوں کو دے گا جن کی روح فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (شرک سے) پاک (صاف) ہوتے ہیں (مطلب یہ کہ مرتے دم تک توحید پر قائم رہتے ہیں اور) وہ (فرشتے) کہتے جاتے ہیں السلام علیکم تم (قبض روح کے بعد) جنت میں چلے جانا اپنے اعمال کے سبب یہ لوگ (جو اپنے کفر وعناد و جہالت پر اصرار کر رہے ہیں اور باوجود وضوح دلائل حق کے ایمان نہیں لاتے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف) اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس (موت کے) فرشتے آجائیں یا آپ کے پروردگار کا حکم (یعنی قیامت) آجائے (یعنی کیا موت کے وقت یا قیامت میں ایمان لائیں گے جبکہ ایمان قبول نہ ہوگا گو اس وقت تمام کفار بوجہ انکشاف حقیقت کے توبہ کریں گے جیسا اصرار کفر پر یہ لوگ کر رہے ہیں) ایسا ہی ان سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے بھی (کفر پر اصرار) کیا تھا اور (اصرار کی بدولت سزا یاب ہوئے سو) ان پر اللہ تعالیٰ نے ذرا ظلم نہیں کیا لیکن وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے (کہ سزا کے کام جان جان کے کرتے تھے) آخر ان کے اعمال بد کی ان کو سزائیں ملیں اور جس عذاب (کی خبر پانے) پر وہ ہنستے تھے ان کو اسی (عذاب نے) آگھیرا (پس ایسا ہی تمہارا حال ہوگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْا خَيْرًا ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۭ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ 30؀ۙ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیتکریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ نعم ( مدح) و «نِعْمَ» كلمةٌ تُسْتَعْمَلُ في المَدْحِ بإِزَاءِ بِئْسَ في الذَّمّ ، قال تعالی: نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ [ ص/ 44] ، فَنِعْمَ أَجْرُ الْعامِلِينَ [ الزمر/ 74] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ( ن ع م ) النعمۃ نعم کلمہ مدح ہے جو بئس فعل ذم کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ [ ص/ 44] بہت خوب بندے تھے اور ( خدا کی طرف ) رجوع کرنے والے تھے ۔ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعامِلِينَ [ الزمر/ 74] اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] وہ خوب حمایتی اور خوب مدد گار ہے دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) اور جو حضرات کفر وشرک اور تمام فواحش سے بچتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے سامنے تمہارے پروردگار کا کیا پیغام بیان کیا تو وہ کہتے ہیں کہ توحید اور صلہ رحمی بیان کی اور جو حضرات توحید خداوندی پر کار بند ہیں، ان کو قیامت کے دن جنت ملے گی اور جنت تو پھر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے کئی درجے بہتر ہے، اور واقعی جنت کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے اچھا گھر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ) دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے ؟ (قَالُوْا خَیْرًا) یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہوا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27. In contrast to the disbelievers (Ayat 24), the righteous people spoke highly of the Prophet (peace be upon him) and of the teachings of the Quran to the people coming from the suburbs of Makkah. Unlike the former they did not delude the people nor created misunderstandings in the minds. They were full of praise for them and told the truth about the Prophet (peace be upon him).

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :27 یعنی مکے سے باہر کے لوگ جب خدا سے ڈرنے والے اور راستباز لوگوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، تو ان کا جواب جھوٹے اور بددیانت کافروں کے جواب سے بالکل مختلف ہوتا ہے ۔ وہ جھوٹا پروپیگنڈا نہیں کرتے ۔ وہ عوام کو بہکانے اور غلط فہمیوں میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ وہ حضور کی اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم کی تعریفیں کرتے ہیں اور لوگوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٠۔ ٣٢۔ نافرمان لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی شان میں جو کہتے تھے اس کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ پاک نے متقی اور ایمان والوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو جواب دیتے ہیں کہ نیک باتیں۔ پھر اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا کہ جس نے بھلائی کی اس کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے ایک نیکی کا بدلہ دس دس سے سات سات سو یا اس سے بھی دوگنا جتنا خدا چاہے دے گا پھر فرمایا کہ اس سے بھی بہتر آخرت کا گھر ان کے واسطے تیار ہے پھر فرمایا کہ متقیوں کا انجام کیا ہی اچھا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں آخرت کی پونجی جمع کرتے ہیں اور آخرت کا گھر جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اس میں ہر ہر جگہ موقع و محل سے نہریں جاری ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہوسکتی ہے کہ جنت والے جس چیز کی خواہش کریں گے وہ اندر موجود پائیں گے بخلاف دنیا کے یہاں جس چیز کی خواہش انسان کرتا ہے اور جن جن باتوں کا ارادہ کرتا ہے وہ کل کی کل نہیں پوری ہوتیں اکثر اوقات انسان کی دلی تمنا کے خلاف ظہور میں آتا ہے یہ باتیں وہاں نہیں ہونے کی وہاں تو جس بات کا انسان ارادہ کرے گا وہ فوراً ظہور میں آجاوے گی ذرا بس دیر نہ لگے گی۔ پھر اللہ پاک نے موت کے وقت کو بیان فرمایا کہ جب فرشتے مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو یہ لوگ کفر و شرک کے میل کچیل سے بالکل پاک صاف ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ موت کا کچھ بھی خوف دل میں نہیں لاتے بلکہ خوش ہوتے ہیں اور فرشتے آتے ہیں ان کو سلام کہتے ہیں اور خدا کی طرف سے بھی سلام پہنچاتے ہیں اور جنت کی بشارت دیتے ہیں کہ دنیا میں تم نے جو کچھ اچھے اچھے کام کئے ہیں اس کے عوض میں اب جنت میں تم داخل ہوگے براء بن العازب (رض) کی پوری حدیث کا مطلب جو اوپر ١ ؎ بیان ہوچکا ہے اس میں سے نیک لوگوں کے حال کا ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ ١ ؎ یعنی ص ٣٢٣ پر۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:30) خیرا۔ بہتر ، بھلائی، نیکی، نیک کام۔ پسندیدہ فعل ۔ عقل ۔ عدل۔ فضل۔ جملہ اشیاء نافعہ۔ خیر میں شامل ہیں۔ شر کی ضدّ ہے حسنۃ۔ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کی جان، بدن یا حالات میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنۃ کہلاتی ہے۔ سیئۃ کی ضد ہے۔ ولدار الاخرۃ۔ آخرت کا گھر۔ یعنی آخرت کا ثواب۔ ولنعم۔ اور بہت ہی عمدہ ہے۔ کلمہ مدح ہے بئس کی ضد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی کفار تو قرآن کو ” اساطیر الاولین “ کہ کر اس کی تکذیب کرتے ہیں مگر مومن اس کو سراپا خیر و برکت سمجھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ 6 دنیا میں ان کی زندگی سکھ اور چین سے گزرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کی روزی میں خیر و برکت عطا فرمائے گا، یا آخرت میں انہیں بہتر ثواب ملے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 34 خیر خیر، بھلائی، دارلاخرۃ آخرت کا گھر۔ نعم اچھا ، بہتر۔ عدن ہمیشہ۔ طیبین پاک صاف۔ امر حکم، فیصلہ۔ یظلمون وہ ظلم اور زیادتی کرتے ہیں۔ اصاب پہنچا۔ حاق گھیر لیا، پہنچ گیا۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 34 گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کفار و مشرکین سے کوئی اجنبی آدمی یہ سوال کرتا تھا کہ یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جس قرآن کو وہ سناتے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ جواب دیتے کہ قرآن کیا ہے (نعوذ باللہ) گذرے ہوئے لوگوں کے کچھ قصے کہانیاں ہیں جو اس کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کریم کی حقارت کے ساتھ ساتھ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی ایسی باتیں کرتے تھے جس سے دوسرے آدمی کے دل میں غلط فہمی پیدا ہوجائے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب جائے اور وہ قرآن کریم کی عظمت و شان سے واقف ہو سکے۔ فرمایا کہ ایک تو یہ کفار و مشرکین ہیں جو اللہ کی آیات سن کر اپنی آخرت کو تباہ کرتے ہیں اور اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں اس کے برخلاف دوسری طرف کچھ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آتے ہیں اور انہوں نے تقویٰ و پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرلی ہے ان کو ہر طرح کا اجر وثواب عطا کیا جائے گا ان کا طرز عمل یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اللہ نے ہمارے لئے وہ سچائی نازل کی ہے جس میں خیر ہی خیر ہے۔ اس دنیا کی زندگی کی بہتری بھی ہے اور آخرت کی خیر اور بھلائی تو اس سے بھی زیادہ ہے وہاں ہر شخص کو اس کی محنت اور تقویٰ کا پھل ملے گا۔ کسی کی کوئی نیکی اور بھلا کام ضائع نہ ہوگا۔ اور اس پر تصور سے بھی زیادہ اجر وثواب ملے گا۔ دنیا میں بھلائی اور خیر تو یہ ہے کہ قدم قدم پر کامیابی، نیک نامی، فارغ البالی، اطمینان قلب، حکومت و سلطنت وغیرہ حاصل ہونگی اور آخرت میں نجات اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روحانی مسرت و سکون نصیب ہوگا ۔ فرمایا کہ اہل تقویٰ کے لئے اللہ نے ایسی جنتیں مقدر کی ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی یعنی خوب سرسبزی و شادابی ہوگی اور وہ جو چاہیں گے ان کو عطا کیا جائے گا یہ ان کی نیکی اور تقویٰ کا انعام ہوگا ۔ ان کو موت کے وقت عزت اور آسانی بھی نصیب ہوگی کہ جب موت کے فرشتے ان کے سامنے آئیں گے تو ان پر اللہ کی سلامتی بھیجتے ہوئے آئیں گے اور ان کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے کہیں گے جنت ہی تمہارا مقام ہوگا ۔ اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ان ہٹ دھرم اور ضدی لوگوں کی پرواہ نہ کرو جو اس بات کے منتظر بیٹھے ہیں کہ اللہ کے فرشتے خود آ کر ان سے کہیں گے کہ تم اللہ پر ایمان لے آؤ یا اللہ ہی کا کوئی فیصلہ آجائے۔ فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی جو لوگ گذرے ہیں ان کا یہی حال تھا اور انہوں نے کبھی سچائی کو دل سے قبول نہیں کیا لیکن جنہوں نے انبیاء کرام کی تعلیمات کو مان لیا۔ نیکی اور پرہیز گاری کی زندگی کو اپنا لیا وہ تو سرخ رو ہوئے لیکن جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کیا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پرہیز گاری کی زندگی کو اپنا لیا وہ تو سرخ رو ہوئے لیکن جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کیا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے دین و دنیا کو برباد کرلیا۔ فرمایا کہ ہم کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے بلکہ لوگ خود ہی اپنے آپ پر ظلم و ستم کرتے ہیں جس کی ان کو سزا مل کر رہتی ہے اور جن سچائیوں کا وہ مذاق اڑاتے رہتے ہیں اس کا عذاب ان پر مسلط ہو کر رہے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار، مشرکین اور مجرموں کے انجام کے بعد متقی حضرات کا صلہ اور ان کے انجام اور انعام کا بیان۔ اس خطاب کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ لوگو ! تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ جس کے ردِّ عمل میں کافر اور مشرک یہ کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک سے تائب ہوئے اور اللہ کی توحید کا اقرار کیا ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے رب نے تمہاری ہدایت کے لیے کیا نازل فرمایا ہے وہ بلا تاخیر کہتے ہیں کہ ہمارے رب نے جو کچھ نازل کیا ہے اس میں ہماری بھلائی اور رہنمائی ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت میں ان کے لیے خیر ہی خیر ہی ہوگی متقی حضرات کے لیے کتنا ہی اچھا گھر تیار کیا گیا ہے۔ جس میں یہ داخل کیے جائیں گے اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جو کچھ چاہیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں عنایت ہوگا۔ اس طرح متقی حضرات کو بہترین جزا دی جائے گی۔ (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رض) قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلٰی جِنَازَۃٍ فَجَلَسَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَی الْقَبْرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَہٗ کَأَنَّ عَلٰی رُءُ وسِنَا الطَّیْرَ وَہُوَ یُلْحَدُ لَہٗ فَقَالَ أَعُوْذُ باللَّہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا کَانَ فِیْٓ إِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا تَنَزَّلَتْ إِلَیْہِ الْمَلاَءِکَۃُ کَأَنَّ عَلٰی وُجُوہِہِمُ الشَّمْسَ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمْ کَفَنٌ وَحَنُوْطٌ فَجَلَسُوْا مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ حَتّٰی إِذَا خَرَجَ رُوحُہٗ صَلّٰی عَلَیْہِ کُلُّ مَلَکٍ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالأَرْضِ وَکُلُّ مَلَکٍ فِی السَّمَآءِ ) [ رواہ أحمد ] ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک جنازہ کے لیے نکلے آپ ایک قبر کے قریب بیٹھ گئے اور ہم آپ کے اردگرد اس طرح بیٹھے۔ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ میت کے لیے لحد بنائی جارہی تھی۔ آپ نے فرمایا میں قبر کے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا جب مومن کا دنیا سے رخصت ہونے اور موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے خوبصورت چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں ہر ایک کے پاس کفن اور خوشبو ہوتی ہے۔ فرشتے فوت ہونے والے مومن سے حد نگاہ تک اس سے دور بیٹھ جاتے ہیں۔ جب اس کی روح نکل جاتی ہے تو زمین و آسمان کے درمیان تمام فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ قرآن مجید کو متقین اپنے لیے رہنمائی اور خیر ہی خیر سمجھتے ہیں۔ ٢۔ نیکی کرنے والوں کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے۔ ٣۔ نیکو کاروں کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ ٤۔ متقین کو ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل کیا جائے گا۔ ٥۔ جنت میں وہ کچھ ملے گا جو جنتی خواہش کریں گے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ متقین کو بہترین صلہ عطا فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن متقین کا دنیا اور آخرت میں صلہ : ١۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (النحل : ١٢٨) ٢۔ متقین امن و سلامتی والے گھر میں ہوں گے۔ (الدخان : ٥١) ٣۔ متقین کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ (النحل : ٣٠) ٤۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (آل عمران : ١٩٨) ٥۔ اللہ تعالیٰ متقین کو قیامت کے دن گروہ در گروہ جنت میں داخل کرے گا۔ (الزمر : ٧٣) ٦۔ ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ (یونس : ٦٣۔ ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣٠ تا ٣٢ متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔ للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (١٦ : ٣٠) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔ ولدار الاخرۃ خیر ( ١٦ : ٣٠) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے لئے بہتر ہے ”۔ اس دنیا کی بہتری سے بھی اس کی بہتری برتر ہے۔ ولنعم دار المتقین (١٦ : ٣٠) “ بڑا چھا گھر ہے متقیوں کا ”۔ یہ تو تھی اجمالی بات۔ اب اس اجمال کی تفصیلات یہ ہیں :۔ جنت عدن (١٦ : ٣١) “ دائمی قیام کی جنتیں ”۔ یہ ان کی اقامت گاہیں ہوں گی۔ تجری من تحتھا الانھر (١٦ : ٣١) “ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ”۔ بہت سہولتیں ہوں گی۔ لھم فیھا ما یشاؤن ( ١٦ : ٣١) “ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا ”۔ وہاں نہ کسی چیز سے محرومیت ہوگی اور نہ محنت ہوگی نہ رزق محدود ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے۔ کذلک یجزی اللہ المتقین (١٦ : ٣١) “ اس طرح جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو ”۔ اب متقین کو بھی سیاق کلام ایک قدم پیچھے لے کر چلتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل مستکبرین کو پیچھے کی طرف حالت نزع میں لے جایا گیا تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ہی پرسکون ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ صبیین (١٦ : ٣٢) “ وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ، ملائکہ قبض کرتے ہیں ”۔ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں۔ وہ سکرات الموت اور مشکلات نزع روح سے محفوظ ہوتے ہیں۔ یقولون سلم علیکم (١٦ : ٣٢) “ فرشتے کہتے کہ سلام ہو تم پر ”۔ یہ سلام ان کو اطمینان دلانے کے لئے اور مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لئے ہوگا۔ ادخلوا اجنۃ بما کنتم تعملون (١٦ : ٣٢) “ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ”۔ گویا ان کو جنت کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ، حالانکہ وہ ابھی تک آخرت کے دروازے پر ہی ہیں۔ یہ پوری پوری جزاء ہے ان کے اعمال کے بدلے۔ ٭٭٭ موت کا منظر اور بعث بعد موت کا منظر فضا پر سایہ فگن ہے کہ اسکرین پر ایک سوال آتا ہے۔ یہ سوال اس فضا میں مشرکین قریش سے کیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا وہ فرشتوں کا انتظار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور مذکورہ بالا طریقے پر ان کی روح قبض کرلیں یا وہ اس بات کا انتظار کرنا چاہتے کہ اللہ قیامت برپا کر دے کیونکہ ان دونوں مراحل سے ان کو بہرحال گزرنا ہے۔ موت کے وقت بھی یہی منظر ہوگا اور بعث بعد الموت کے وقت وہی سزا ہوگی ، کیا ان دونوں مناظر میں ان کے لئے کوئی عبرت و نصیحت کا مقام نہیں ہے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل تقویٰ کا اچھا انجام، انہیں جنت کے باغوں میں وہ سب کچھ نصیب ہوگا جو ان کی خواہش ہوگی گزشتہ آیات میں کافروں کے مکر اور آخرت میں جو انہیں عذاب ہوگا اور رسوائی ہوگی اس کا ذکر تھا اور اس بات کا بھی ذکر تھا کہ فرشتے ایسی حالت میں ان کی جانیں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، ان آیات میں اہل ایمان کے اچھے اعمال اور اچھے اقوال کا تذکرہ فرمایا اور انہیں بشارت دی کہ وہ ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور ان باغیچوں میں ان کی خواہش کے مطابق سب کچھ موجود ہوگا جو بھی چاہیں گے وہ سب ملے گا، سورة زخرف میں فرمایا (وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ) (اور وہاں وہ چیزیں موجود ہوں گی جن کی ان کے نفسوں کو خواہش ہوگی اور جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی) ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو اسی طرح بدلہ عطا فرماتا ہے، تقویٰ میں ہر چیز آگئی شرک و کفر سے بچنا اور تمام گناہوں سے بچنا لفظ تقویٰ ان سب کو شامل ہے متقی حضرات کی موت کے وقت کی حالت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ فرشتے ان کی روحیں اس حال میں قبض کریں گے کہ یہ لوگ پاکیزہ ہوں گے جس کا دل کفر و شرک سے پاک ہو اور دل میں ایمان کی نورانیت ہو اور اس کا ظاہر اعمال صالحہ سے مزین ہو ظاہر ہے کہ موت کے وقت بھی اس کی حالت اچھی ہوگی، فرشتے بھی ان سے اچھا معاملہ کرتے ہیں اور انہیں اس وقت سلام پیش کرتے ہیں اور جنت کی بھی بشارت دے دیتے ہیں، دنیا سے ایمان پر رخصت ہونا اور اچھے اعمال لے کر جانا یہ جنت میں جانے کا سبب ہے، جنت کا حقیقی داخلہ تو قیامت کے دن ہوگا لیکن موت کے وقت اس کی خوشخبری بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ فی معالم التنزیل ص ٦٦ ج ٣ طیبین مومنین طاھرین من الشرک، قال مجاھد زکیۃ افعالھم واقوالھم وقیل معناہ ان وفاتھم تقع طیبۃ سھلۃ فائدہ : چند آیات پہلے فرمایا تھا (وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) اور یہاں ان آیات میں فرمایا (وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا خَیْرًا) مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان دونوں آیتوں کا سبب نزول ایک ہی ہے جس کا کچھ تذکرہ آیت (کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ ) کے ذیل میں گزر چکا ہے اور وہ یہ کہ مکہ معظمہ کے مشرکین نے یہ مشورہ کیا کہ اس شہر میں آنے والوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور رکھنے کے لیے مختلف راستوں پر بیٹھ جاؤ جب اس پر عمل کیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ جس کسی قبیلے کا کوئی نمایندہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں پوچھتا تو جھوٹی باتیں کرکے اسے وہیں سے برگشتہ کرتے تھے جب وہ لوگ اپنی قوم میں واپس ہوتے اور ان کی قوم کے لوگ دریافت کرتے کہ کیا معلوم کرکے آئے ہو تو یہ نمائندہ انہیں راستوں پر بیٹھنے والوں کا قول نقل کردیتا تھا اور کہہ دیتا تھا (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) (کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں) اور ان نمائندوں میں سے جو شخص یہ طے کر ہی لیتا کہ مجھے اصل بات کا پتہ چلانا ہی ہے تو وہ ان لوگوں کی باتوں میں نہ آتا تھا اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ ہی جاتا تھا یہ شخص مکہ معظمہ میں داخل ہوجاتا اور مومنین سے ملاقات کرتا اور آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں دریافت کرتا تو اہل ایمان جواب میں کہتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ پر خیر نازل فرمائی ہے مومنین کا جواب سن کر یہ نمائندہ مطمئن ہوجاتا اور پھر واپس جاکر اپنی قوم کو مطمئن کردیتا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ کفار کا حال اور ان کے لیے تخویف اخروی ذکر کرنے کے بعد اب مؤمنین کا حال اور ان کے لیے بشارت دنیوی و اخروی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب مؤمنین سے قرآن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ اسے سراپا خیر و برکت قرار دیتے ہیں۔ ” لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا “ خبر مقدم۔ ” حَسَنَةٌ“ مبتداء مؤخر۔ یہ بشارت دنیوی ہے ” وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” اَّلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمْ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ ” طَیِّبِیْنَ “ یہ ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی در آنحالیکہ وہ شرک کی نجاست سے پاک تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 ۔ اور جو لوگ پرہیز گار اور شرک سے بچنے والے ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل فرمائی تو وہ کہتے ہیں اور جواب دیتے ہیں کہ خیر نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور عالم آخرت اور پچھلا گھر تو یقینا بہت ہی بہتر ہے اور واقعی وہ پرہیز گاروں اور شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے۔